Baaghi TV

Author: +9251

  • اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے

    اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے

    کراچی گرین لائن ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم کے لیے چالیس بسوں کی پہلی کھیپ کراچی کی بندرگاہ پر آنے پر ایک تقریب منعقد ہوئی۔

    اس موقعے پر گورنرسندھ سمیت وفاقی وزراء ، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سندھ انفرا اسٹرکچرڈیولپمنٹ کے سی ای اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے شہر کراچی کا حق آج سے پہلے آنے والی وفاقی اور نہ صوبائی حکومتوں نے ادا کیا ہے ۔‘‘

    کراچی کی محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ کراچی پیکیج گیارہ سو ارب روپے مالیت کا، لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار انتہائی سست ہے ، شہر قائد کی ترقی اور بہتری کے لیے اقدامات ندارد ہیں۔ شہر قائد، اپنی اہمیت کے باوجود، سیاسی طور پر یتیم شہر ہے، کسی زمانے میں روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، اس وقت کراچی وینٹی لینٹر پر ہے اور اپنے پیاروں کی طرف مدد کے لیے دیکھ رہا ہے۔

    کرپشن اور نااہلی کسی بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تاخیر کا ایک سبب ہے جو کراچی ماس ٹرانزٹ سے شروع ہو کر کراچی ایکسپریس وے، کراچی سرکلر ریلوے سے گرین بس پروجیکٹ تک واٹر صاف کرنے کے پلانٹ تک ہر جگہ ہے، اس شہر ناپرساں کے سیاسی اور اقتصادی حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا ہے کہ اس کا صرف نوحہ ہی لکھا جاسکتا ہے۔

    شہر کراچی میں وفاقی حکومت کا کردار محدود ہے، جب کہ شہری حکومت، شہر کے چوتھائی سے بھی کم حصے پر اختیار رکھتی ہے۔ اس کا صاف اور واضح مطلب ہے کہ کراچی کے مسائل سب کے ہیں، لیکن کسی کے نہیں۔ کراچی کے حالات بہتر کرنے کے لیے سیاسی ول کا بھی فقدان ہے۔

    کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہے ، لیکن بدلے میں اسے جو فنڈز ملتے ہیں وہ اس کے مسائل کے مطابق کم ہیں ۔ کراچی کا حلیہ بگاڑنے میں سرکاری اداروں اور سیاسی جماعتوں کا کلیدی کردار رہا ہے، اس شہر کو اجاڑنے میں یہاں کے حکمرانوں اور دعویداروں کا ہاتھ ہے۔

    اہل کراچی نے پیپلز پارٹی کے دعوے اور وعدے بھی دیکھ لیے ہیں، ماضی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومتوں کے مزے بھی چکھ لیے ہیں۔ قومی اسمبلی کی کراچی سے چودہ نشستیں جیتنے والی پی ٹی آئی کی حکومت کا کراچی کے حوالے سے کردار اور انداز بھی دیکھ لیا ہے۔ شہر کراچی کو وفاق اور سندھ حکومتوں اور بلدیاتی اداروں نے اپنی دیدہ دانستہ ناقص حکمت عملی سے ایک پسماندہ اور نظر انداز شہر بنادیا ہے۔ آج اِس صورتِ حال میں شہر کراچی کے باسیوں کے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

    اس شہر کے متعدد علاقوں کو مکمل منصوبہ بندی کے تحت نہیں بسایا گیا۔ پھر غیر قانونی تعمیرات نے پورے شہر کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس کے انفرا اسٹرکچر پر کبھی توجہ نہیں دی گئی، اس لیے کچی آبادیوں کا ایک جنگل اگ گیا ہے۔ یہ کچی اور غیر قانونی آبادیاں کیسے بنیں؟ ان پر قبضے کس نے کروائے؟

    کراچی میں ڈرینج کے نظام اور نکاسی آب کے لیے جو بڑے بڑے نالے اور ندیاں بنائی گئی تھیں، ان میں باقاعدہ آبادیاں قائم ہو گئی ہیں۔ یہ آبادیاں کیسے بنیں؟ ان کی سرپرستی کس نے کیں؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ یہ سارا غیر قانونی کام بتدریج اور بڑی سرعت سے ہوا ہے۔

    یہ بات ٹھیک ہے کہ ماضی کو بھول کر اب مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے لیکن اس بات کا جائزہ تو لے لیں کہ جو کارستانیاں کی گئیں، وہ کیا تھیں اور کیوں کی گئیں کیونکہ قدرت کا قانون ہے جو اٹل ہے کہ جن معاشروں میں مظلوم کو انصاف نہیں ملتا اور ظالم کیفر کردار تک نہیں پہنچتا ان معاشروں کو زمین چاٹ جایا کرتی ہے۔

    کراچی نے سب کو مہربان ماں کی ممتا دی اور شفیق باپ کی طرح پالا جس کے باعث کراچی کو سب نے ’’منی پاکستان‘‘ مانا۔ کراچی سارے پاکستانیوں کا شہر ہے جس نے ہمیشہ کھلے دل اور کھلے ہاتھوں کے ساتھ سب کو خوش آمدید کہا ہے اور اپنی وسیع الجہتی ثقافت میں جذب کر لیا ہے۔ کراچی میں نئے اور مسلسل اضافے کے حامل رہائشیوں کی تعداد انتظامی اصول و ضوابط سے ماوراء رہی ہے۔

    چند سالوں میں لاکھوں کی آبادی کا شہر کروڑوں کی آبادی کا بن گیا اور آبادی کے لحاظ سے وسائل کی کمی نے مسائل کا انبار لگا دیا۔ روشنیوں کا عالمی شہر اپنے ہی حکمرانوں اور منتظمین کے ہاتھوں مٹی، دھول اور کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ کراچی کی اس خستہ حالی میں بڑا ہاتھ اس شہر کو تعصب کی سیاست کی آگ میں دھکیلنا ہے۔

    سیاست، نظریہ ضرورت، کرپشن، دھوکہ بازی، رشوت، منافقت، لوٹ مار، اغواء، قتل، لاشیں، نوٹ کے بدلے ووٹ ، یہاں کا مقدر بنا دیا گیا ، اگر تصور میں کراچی شہر کا نقشہ لایا جائے تو ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بہتے ہوئے گٹر ، بجلی کی ناقابل برداشت لوڈ شیڈنگ ، ظالمانہ اووربلنگ، پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے شہری، تباہ حال پبلک ٹرانسپورٹ اور سرکلر ریلوے کو کرپشن کھا گئی، شہر میں روزگار، انصاف ناپید جب کہ اسٹریٹ کرائمز کا شہر بھر میں راج ہے، شہر مسائل کی دلدل میں پھنس گیا ہے۔

    کراچی والوں کے لیے پینے کا پانی بڑا مسئلہ ہے، نالے، نکاسی آب، بے گھر افراد، سالڈ ویسٹ کے مسائل ہیں، شہر قائد میں ٹرانسپورٹ کے ساتھ سڑکوں کا بھی مسئلہ ہے، این ڈی ایم اے نالوں سے تجاوزات کا خاتمہ کر رہی ہے، کراچی کی سڑکیں اور دیگر انفرااسٹرکچر کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے، کراچی سرکلر ریلوے بھی عملی طور بحال نہیں ہوسکی ہے، چند دن تک نمائشی طور پر فعال رہی ہے ، کراچی کے 42 فیصد مسافر دہائیوں پرانی اور رش سے بھری بسوں کے محتاج ہیں۔ ان بسوں میں مسافروں کو اکثر چھتوں پر بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔

    پی ٹی آئی کی حکومت نے گزرے برس 162ارب روپے کے میگا پروجیکٹس کا اعلان کیا تھا جن میں ٹرانسپورٹ کے منصوبے بھی شامل تھے، لیکن شہر کے حکام کا دعویٰ ہے کہ انھیں کوئی فنڈز نہیں ملے۔ روزانہ 600 ملین لیٹر گندا پانی سمندر میں پھینکا جارہا ہے جو سمندری حیات کو ختم کر رہا ہے اور گندگی کی وجہ سے آوارہ کتوں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے اور سگ گزیدگی کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    دوسری جانب پانی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا ہے اور شہری ٹینکر مافیا سے مہنگے داموں پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ انفرا اسٹرکچر اور صفائی کے اعتبار سے کراچی دوسرے شہروں سے پیچھے رہ گیا ہے لیکن سیاسی جماعتوں اور عوامی نمایندوں میں سے کسی نے مسائل کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔

    کراچی میں منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے لیے مناسب اعداد و شمار جمع کرنے، ماہرین کی تحقیق اور اس طرح کے اقدام کے لیے عوامی شرکت کی بھی ضرورت ہے جس میں مطلوبہ فنڈز اور ماہرین کی نمایندگی ہو کیونکہ تازہ ترین دستاویزات و تحقیق کی عدم موجودگی میں کوئی منصوبہ بندی اور انتظامی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ماضی میں بنائے گئے منصوبوں میں عوامی شرکت کو نظر انداز کیا گیا، تمام منصوبوں میں استحکام کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا، کیونکہ ماضی میں کئی منصوبے بنائے گئے مگر وہ مستحکم نہ ہونے کے سبب جاری نہ رہ سکے اور بنیادی طور پر عوامی پیسہ ضایع ہوا۔

    بڑے پیمانے پر اصلاحات کیے بغیر کراچی کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ، بہتر ہوگا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔ اٹھارہویں ترمیم کے دائرے میں صوبائی حاکمیت قائم رہے اور مرکز صوبے کی ضروری مدد کرے۔ صوبہ سندھ کو بھی اور دیگر صوبوں کو بھی ایک موثر مقامی حکومتوں کا نظام لانا ہوگا اور اختیارات و ذرایع کو مقامی کونسل اور وارڈ تک منتقل کرنا ہوگا۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے اور بڑے مسئلوں کا بتدریج حل نکالا جائے۔ شہر میں ٹرانسپورٹ اور صحت کے میگا پراجیکٹس کی شدید ضرورت ہے، یہ پراجیکٹس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی بنیاد پر چلنے چاہئیں۔ کراچی کے انڈسٹریل اسٹیٹ کو ترجیحی بنیادوں پر بجلی، گیس اور پانی کی سہولیات دی جائیں تاکہ روزگار کے مواقعے پیدا ہوں۔ چائنا کے ساتھ مل کر کراچی میں سی پیک کی سپلائی چین سے متعلق صنعتیں لگانے کا دس سالہ منصوبہ بنایا جائے۔

    دراصل شہر کراچی کو ایک با اختیار مقامی حکومت کی ضرورت ہے جو اپنی آمدنی خود پیدا کرسکے، جو پورے کراچی شہر کی منصوبہ بندی اور مسائل کے حل کی ذمے دار ہو مگر موجودہ صورتحال میں بلدیاتی اصلاحات کی ایک موثر تجویز کے بغیر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے زیادہ تر کام نچلی سطح پر کرنا پڑے گا اور اس میں یونین کونسلوں کو بااختیار بنانا اور یونین کونسل کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل میں شہریوں کی شمولیت کی ضرورت ہے۔

    حکمران کراچی کے مومینٹم کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اسے پاکستان کی خوشحالی کے لیے استعمال کریں۔

  • کراچی پولیس کے سامنے ریسٹورنٹ انتظامیہ کا شہریوں پر تشدد

    کراچی پولیس کے سامنے ریسٹورنٹ انتظامیہ کا شہریوں پر تشدد

    رضویہ تھانے کی حدود میں ریسٹورنٹ انتظامیہ نے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا، خواتین و مرد کو سرعام پیٹنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔

    رپورٹ کے مطابق شہر قائد کے علاقے ناظم آباد الحسن چوک پر واقع ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے خواتین اور مرد کو تشدد کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جھگڑا سڑک پر کرسیاں اور ٹیبل لگا کر سڑک بند کرنے کے باعث شروع ہوا، شہری نے گزشتہ روز ہوئے جھگڑے کی ویڈیو وائرل کردی۔

    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار بھی جائے وقوعہ پر موجود خاموش تماشائی بنے کھڑے ہیں اور ریسٹورنٹ انتظامیہ رضویہ پولیس کے سامنے شہریوں پر تشدد کررہے ہے جب کہ مردوں کو بچانے کی کوشش میں خواتین پر کرسیاں برسائی جارہی ہیں۔

    رضویہ پولیس جھگڑے کے بعد فریقین کو تھانے لے گئی اور کچھ دیر دونوں کو چھوڑ دیا، پولیس کا کہنا ہے کہ آج پھر دونوں فریقین کو تھانے طلب کیا گیا ہے۔

  • پی آئی اے پرکویت میں پابندی ناقابل قبول:کویت ائیرلائنزپرپاکستان کے دروازے بند کردیئے جائیں گے:پاکستان

    ا
    کویت میں پاکستان کی قومی ایئرلائنز کے فلائٹ آپریشن پر پابندی پر پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ردعمل ظاہر کیا ہے۔
    منگل کو پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کو اجازت نہ ملی تو کویت کی ایئرلائنز بھی پاکستان نہیں آ سکیں گی۔

    سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یکم اکتوبر سے کویت کی ایئر لائنز کی پروازوں کی پاکستان آمد محدود کی جا سکتی ہے۔
    بیان میں اتھارٹی نے مزید کہا ہے کہ ’کویتی پروازوں کی پاکستان آمد پر مکمل پابندی کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔‘

    سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک خط میں کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی مشکل صورتحال کے باوجود کویتی پروازیں بلارکاوٹ پاکستان آ رہی ہیں۔

    خط میں اتھارٹی کے ڈائریکٹر ایئرٹرانسپورٹ نے کویت کے حکام سے کہا ہے کہ ’بارہا پی آئی اے کو کویت میں فلائٹ آپریشن کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی، ہماری درخواست کو نظرانداز کیا گیا اور خط کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔‘پاکستانی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ کویتی حکام پی آئی اے کو فلائٹ آپریشن کی اجازت دیں

  • برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار

    برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار

    اسلام آباد : برطانوی ہائی کمشنر بھی انگلش ٹیم کے دورے کی منسوخی پر سخت پریشان ، افسوس اوردکھ کا اظہار،اطلاعات کے مطابق جہاں انگلیڈ کی طرف دورہ پاکستان کے انکار پرہرپاکستانی کودکھ ہوا ہےایسے ہی پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے انگلش ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اپنی ٹوئٹ میں کرسچن ٹرنر کا کہنا تھاکہ افسوس ہے کہ ای سی بی نے اگلے ماہ پاکستان نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے شکرگزارہیں کہ انہوں نے کافی محنت کی۔

     

     

    برطانوی ہائی کمشنر کا کہنا تھاکہ کرکٹ فینز کی مایوسی کا اندازہ ہے لیکن اب بھی 2022 میں انگلینڈ کے دورہ پاکستان کیلئے پُرامید ہیں۔

    خیال رہے کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان ختم کردیا ہے، اپنی مینز اور ویمنز ٹیمیں پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔اس سے قبل گزشتہ دنوں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ٹاس سے کچھ دیر قبل دورہ پاکستان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    یادرہے کہ برطانوی ہائی کمشنر اپنی ذاتی خواہش کا اظہارکرتے ہوئے پہلے ہی کئی بار کہہ چکے ہیں‌کہ پاکستان میں‌دیگردنیا کوآکرکرکٹ کھیلنی چاہیے اس سے ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے

  • پی آئی اے کے طیارے سے منشیات نکلنے کا معاملہ :تحقیقات شروع

    پی آئی اے کے طیارے سے منشیات نکلنے کا معاملہ :تحقیقات شروع

    اسلام آباد:پی آئی اے کے طیارے سے منشیات نکلنے کا معاملہ :تحقیقات شروع ،اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کے طیارے سے منشیات نکلنے کا معاملہ ایک نئی صورت حال اختیار کرگیا ہے اوراس معاملے میں پی آئی اے کے عملے کے مجرم پیشہ افراد کےگرد گھیرا تنگ ہوگیا ہے

    اطلاعات کے مطابق پی آئی اے سیکیورٹی، اینٹی نارکوٹکس فورس، کسٹمز اور ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس نے مشترکہ کاروائی کی اور اس دوران پی آئی اے سیکیورٹی سٹاف غلام نبی اور جاوید نواز نےمشترکہ چیکنگ ٹیم کے معاون کی حیثیت سے جہاز کا معائنہ کروایا

    ادھر ذرائع کے مطابق یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جہاز کی صفائی پر معمور عملے اور زمینی سٹاف سے پوچھ گچھ شروع کردی گئی ہے سیکیورٹی اور ویجنلس کی جانب سے باقائدہ تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایسے ہونے والے واقعات کے بعد جہازوں کی ہر بین الاقوامی پرواز سے پہلے مشترکہ طور پر کڑی چیکنگ کی جاتی ہے ،مشترکہ ٹیم کی چیکنگ پی آئی اے کے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا حصہ ہے

    ترجمان پی آئی اے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملوث ہونے والے اہلکاروں کی خلاف ضابطے اور پاکستانی قوانین کے تحت سخت ترین کاروائی کی جائیگی

  • افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کی زیارت کرنےکےلیےعالمی ادارہ صحت کےسربراہ کابل پہنچ گئے

    افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کی زیارت کرنےکےلیےعالمی ادارہ صحت کےسربراہ کابل پہنچ گئے

    کابل : افغان وزیراعظم ملا محمد حسن کی زیارت کرنےکےلیےعالمی ادارہ صحت کےسربراہ کابل پہنچ گئے ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دورے پر آئے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس نے افغان وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے ملاقات کی ہے

    افغان میڈیا رپورٹس کےمطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈ روس نے افغانستان کے وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ملاقات میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ،ان کے وفد سمیت اقوام متحدہ کے مشن کی سربراہ نے شرکت کی۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے ملامحمد حسن سے ملنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا

    عالمی ادارہ صحت کے وفد کےساتھ طالبان کی جانب سے وزیراعظم، نائب وزیراعظم ملا برادر اور قائم مقام وزیرخارجہ امیر خان متقی میٹنگ میں شریک ہوئے، افغان حکومت کی جانب سے میٹنگ کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

    ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس نےکابل پہنچنے کے بعد ٹوئٹر پر بتایا تھا کہ میں افغانستان میں ہوں، افغان عوام کی صحت کی حفاظت ڈبلیو ایچ او کی اولین ترجیح ہے۔

    ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ دورے میں وہ افغانستان میں صحت کی سہولیات کا جائزہ لیں گے اور ہیلتھ ورکر اور طالبان قیادت سے اس معاملے پر بات بھی کریں گے۔

  • کراچی:طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    کراچی:طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا

    کراچی:طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا،ان اطلاعات نے فضائی سفر کرنے والوں کوپھرہلا کررکھ دیاکہ کراچی جسے شہر قائد بھی کہاجاتا ہے میں ایک تربیتی طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا۔ سیسنا ساختہ طیارہ تربیتی پرواز پر تھا۔

    تربیتی طیارے میں اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد فنی خرابی پیدا ہو گئی تھی، ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کا سسٹم فریز ہونے کے باعث اس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

    فنی خرابی کے باعث طیارے کا کنٹرول ٹرینی کپتان کے بس میں نہیں رہا، غیر معمولی صورت حال کی وجہ سے سیسنا طیارے کے کپتان کو مے ڈے مے ڈے کی کال دینی پڑی۔

    ذرائع کے مطابق مے ڈے کال پر ہنگامی صورت حال ڈیکلیئر ہونے کے بعد ایئر پورٹ پر فائر بریگیڈ عملے کو طلب کیا گیا، اور کنٹرول ٹاور کی معاونت سے کپتان نے تربیتی طیارے کو بہ حفاظت رن وے پر اتارا۔

    ترجمان سی اے اے نے بتایا کہ تربیتی طیارے میں دوران اڑان فنی خرابی پیدا ہوئی، طیارے کی بہ حفاظت لینڈنگ کی گئی، کپتان اور طیارہ دونوں محفوظ رہے۔

  • ڈی جی CAAاور سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن میں شدید اختلافات:وزیراعظم اورصدرمملکت کوخط

    ڈی جی CAAاور سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن میں شدید اختلافات:وزیراعظم اورصدرمملکت کوخط

    اسلام آباد :ڈی جی CAAاور سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن میں شدید اختلافات:وزیراعظم اورصدرمملکت کوخط ،اطلاعات کے مطابق ڈی جی سول ایوی ایشن اور سی اے اے ایسوسی ایشن میں اختلافات شدید ہوگئے اور اس ،معاملے پرایک فریق نے تو اعلیٰ حکام کومداخلت کرنے کا کہہ دیا ہے

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو تقسیم کرکے دو نئے ادارے قائم کرنے اور نوٹیفکیشن کے معاملے پر ڈی جی سول ایوی ایشن اور سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔

    سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل زرین گل درانی نے صدر مملکت ، وزیراعظم، وزیر ہوابازی اور کیبٹ ڈویژن کو خط لکھا ہے جس میں ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضیٰ کے 10 ستمبر کو سی اے اے کی تقسیم اور پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے قیام سے متعلق جاری نوٹیفکیشن کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

    خط میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سی اے اے خاقان مرتضیٰ نے خود ہی اپنی تعیناتی اور اتھارٹی کو تقسیم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جب کہ سی اے اے کی تقسیم اور پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پاکستان ائیر پورٹس اتھارٹی کے نام سے دو نئی اتھارٹیز بنانے سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔

    خط میں مذید کہا گیا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی بطور ریگولیٹر انٹرنیشنل سول ایوی ایشن اتھارٹی اور شہری ہوا بازی سے متعلق دیگر عالمی اداروں کا رکن ہے، اس طرح کے متنازع اقدامات پاکستان ایوی ایشن کیلئے نئی پابندیوں اور مشکلات کا سبب بن سکتے ہیں۔ سی اے اے آفیسرز ایسوسی ایشن نے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سی اے اے کو غیرقانونی اور متنازع نوٹیفکیشن واپس لینے کا حکم دیا جائے۔

  • داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے آن لائن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 24 ستمبر تک توسیع

    داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کیلئے آن لائن فارم جمع کرانے کی تاریخ میں 24 ستمبر تک توسیع

    دائود انجینئرنگ یونیورسٹی نے بیچلر ڈگری پروگرامز بیچلر آف انجینئرنگ ، بیچلر آف آرکیٹکچراور بیچلر آف سائنس بی ایس پروگرام سال برائے 2021-22(بیچ 2021) میں داخلوں کیلئے آن لائن رجسٹریشن اور فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 24ستمبر تک توسیع کردی ہے ۔ جامعہ دائود انجینئرنگ کے رجسٹرار ڈاکٹر سید آصف علی شاہ کے اعلامیے کے مطابق داخلے کے خواہشمند امیدوار جامعہ کی ویب سائٹ admission.duet.edu.pk پر اپنے کوائف کی رجسٹریشن کے بعد سندھ بینک کی مخصوص برانچوں میں ادا شدہ چالان پر ایڈمیشن فارم کوڈ حاصل کریں پھر اپنا داخلہ فارم آن لائن بھر سکتے ہیں۔
    واضح رہے کہ بیچلر آف انجینئرنگ کے 8شعبوں کیمیکل ، کمپیوٹر سسٹم ، الیکٹرونک ، انرجی اینڈ انوائرمنٹ ، میٹلرجی اینڈ میٹریلز ، انڈسٹریل اینڈ مینجمنٹ ، پٹرولیم اینڈ گیس اور ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ جبکہ بیچلر آف سائنس میں کمپیوٹر سائنس ، سائبر سیکورٹی ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس(مصنوعی ذہانت)اور ریاضی کے شعبوں میں داخلے دیئے جارہے ہیں۔
    داخلہ ٹیسٹ کا انعقاد صرف کراچی میں ہوگا جس کے دن ، مقام اور وقت کے بارے میں بذریعہ ایڈمٹ کارڈ مطلع کیا جائے گا۔ دستی طور پر یا بذریعہ ڈاک / کوریئر موصولہ کسی درخواست فارم پر توجہ نہیں دی جائے گی۔

  • افراد سے بدلتی ہے سوچ:آزاد کشمیر کے نومنتخب نے مقبوضہ کشمیرکی آزادی کا نعرہ لگا دیا

    افراد سے بدلتی ہے سوچ:آزاد کشمیر کے نومنتخب نے مقبوضہ کشمیرکی آزادی کا نعرہ لگا دیا

    لاہور:افراد سے بدلتی ہے سوچ:آزاد کشمیر کے نومنتخب نے مقبوضہ کشمیرکی آزادی کا نعرہ لگا دیا ،اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر سلطان محمود نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اب آزاد ہونے کی طرف جارہا ہے۔

    لاہور میں اپنے اعزاز میں عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر سلطان محمود نے کہا کہ بھارت میں جس طرح تحریکوں نے جنم لے رکھا ہے، اس کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے، مودی اقوام متحدہ میں خطاب کرنے جارہا ہے اور مودی کے خطاب کے موقع پر کشمیری اقوام متحدہ کے باہر احتجاج کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھی اب آزاد ہونے کی طرف جارہا ہے، انٹرنیشنل حالات اب ایسے بن رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قریب آرہی ہے۔

    صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں جلد بلدیاتی انتخابات بھی کرائے جائیں گے اس سے اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوں گے۔سلطان محمود نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا ویژن عام آدمی کی بہتری کے لیے ہے۔

    یاد رہے کہ نومنتخب صدرآزادکشمیر نے جس طرح حلف اٹھانے کے چند دن بعد اس عزم کا اظہارکیا ہے اس سے پاکستان کی بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کا اظہارہوتا ہے ،،

    یہی وجہ ہےکہ مبصرین کا خیال ہے کہ آزاد کشمیر میں نئے حکومتی سیٹ اپ پرمودی حکومت اپ سیٹ ہے، اوروہ سابقہ حکومت سے اقتدار کے چھن جانےپربہت زیادہ غمگین ہے