Baaghi TV

Author: +9251

  • سی پیک:ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر:چین ذمہ داریا حکومت:کپتان کونوٹس لینا چاہیے:عوام الناس کا مطالبہ

    سی پیک:ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر:چین ذمہ داریا حکومت:کپتان کونوٹس لینا چاہیے:عوام الناس کا مطالبہ

    لاہور:سی پیک:ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر:چین ذمہ داریا حکومت:کپتان کونوٹس لینا چاہیے:عوام الناس کا مطالبہ،اطلاعات کےمطابق سی پیک کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے جوصورت حال رکھی گئی ہے اب اس کےبعد عوام الناس بھی یہ سوال پوچھنے پرمجبورہیں کہ گوادرمیں ترقیانی منصوبوں میں تاخیرکی ذمہ دارچینی کمپنیاں ہیں یا پھربلوچستان حکومت یا وفاق،

    اس حوالے سے جس طرح سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے صورت حال رکھی گئی ہے وہ توپھربڑی پریشان کن ہے ، اہل پاکستان سی پیک کے حوالے سے کئی سالوں سے طفل تسلیوں پر اکتفا کیے ہوئے ہیں اوران کا خیال ہےکہ سی پیک کا منصوبہ مکمل ہوتا ہے توپھرپاکستان میں ترقی اورخوشحالی کا ایسا دورآئے گا جس کی دنیا میں ایک مثال ہوگی

    لیکن اس ساری صورت حال میں جیسا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں سامنے آئی ہےاورجس طرح سلیم مانڈی والا نے چینی سفیر کے حوالے سے بیان داغا ہے اگریہ سچ ہے توواقعی پاکستان کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے لیکن اگران بیانات کو دیکھا جائےتوپھران کے پیچھے کوئی حقیقت بھی نظرنہیں آتی

    اس کی وجہ یہ بھی ہےکہ چینی سفیر، چینی حکومت اوردیگرچینی ادارے بارہا بارکہہ چکے ہیں کہ سی پیک کے حوالے سے وہ پاکستان کے ساتھ مل کرکامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہےہیں، اور ان حالات میں چینی سفیر کے بیان کی ہی اہمیت ہے اگرواقعی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں توگوادرمیں اب تک تو کافی حد تک کام ہوجانا چاہیے تھا

    بہرکیف معاملہ جو کچھ بھی ہوپاکستانی عوام چین کے ساتھ اپنی دوستی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں لیکن چین کو بھی اس دوستی کوقائم رکھنے کےلیے کچھ کرنا ہوگا زبانی جمع تفریق سے کب تک پاکستانیوں کو مطمئن کیا جاسکے گا

    جس طرح سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں وفاقی وزیراسد عمرکہ چکے ہیں‌ کہ سی پیک کے جو منصوبے لگے ہیں وہ پاکستان کے لیے ہیں سی پیک میں کام زیادہ ہونا چاہیے خصوصی طور پر سی پیک پر کام بلوچستان میں زیادہ ہوا ہے۔بلوچستان کے لیے 560ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام شروع اس حکومت نے کئے ہیں ۔

    اسد عمر نے تو یہ بھی کہا ہےکہ بلوچستان کو زیادہ فائدہ انڈسٹری زون سے ہوگا۔ گوادر میں بھی انڈسٹری زون بنایا جائے گا۔وہاں پر سرمایہ کاروں کو لانا ہمارے لیے چیلنج ہے زراعت پر کام کررہے ہیں۔ میرانی ڈیم کے ساتھ زراعت کے حوالے سے کام ہورہا ہے۔

    اسی اہم اجلاس میں سینیٹردنیش کمار نے کہاکہ گوادر کے عوام کو پانی دینا کس کی ذمہ داری ہے کیا چین سے یہ نہیں کہے سکتے ہیں کہ آپ پانی کا منصوبہ گوادرمیں بھی لگائیں۔

    سینیٹردنیش کمارکے خیالات کا جواب دیتےہوئے اسد عمر نے کہا کہ گوادر میں صاف پانی دینا بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔چین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ پانی دے گوادر پاکستان کاحصہ ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی منظوری این ای سی کی منظوری سے ایوان میں لاتے ہیں منظوری کے بعد ہم تبدیلی نہیں کرسکتے ہیں۔ بلوچستان کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے اس میں سب سیاسی جماعتیں موجود ہیں وہ ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

    اگریہ صورت حال ہے تویقینا اس موقع پروزیراعظم عمران خان کوآگے بڑھنا چاہیے توقوم کے سامنے سی پیک کے ترقیاتی اوراسٹریٹجک معاہدوں کی رفتار سے اپنی عوام کو مطمئن کرنا ہوگا اورساری صورت حال بھی اپنی عوام کے سامنے رکھنا ہوگی پھراگرواقعی کام درست ہورہا ہےتوپھریہ کہا جاسکتا ہےکہ اپوزیشن حکومت کے خلاف بڑھ چڑھ کربیان بازی کررہی ہے اورعوام کوان کے ان سیاسی بیانات پردھیان نہیں دینا چاہیے اوراگرایسا نہیں ہے توپھرعوام اپنے حکمرانوں سے پوچھنے کا یہ حق رکھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟

  • چین پھربازی  لے گیا: ایک ارب سے زائد افراد کو ویکسین لگادی گئی

    چین پھربازی لے گیا: ایک ارب سے زائد افراد کو ویکسین لگادی گئی

    بیجنگ :چین پھربازی لے گیا: ایک ارب سے زائد افراد کو ویکسین لگادی گئی ،اطلاعات کے مطابق چین کی جانب سے یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے جب عالمی سطح پر ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد پانچ ارب سے تجاوز کر ہوچکی ہے۔

    آج جمعرات کو چین کے قومی صحت کمیشن نے اعلان کیا کہ ملک نے اپنے 1.41 شہریوں میں سے 1 بلین کوویڈ 19 کے خلاف مکمل طور پر ویکسین دی ہے ، جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کی ویکسینیشن مہم کا ایک اہم سنگ میل ہے۔

    قومی صحت کمیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین نے زیادہ آبادی کے ساتھ ویکسین لگانے میں بھی پہل کردکھائی ہے جوایک اعزازسے کم نہیں

    چین اب اپنے شہریوں کو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں تقریبا تین گنا زیادہ ویکسین لگا چکا ہے۔ بھارت ، جس کی آبادی 1.36 بلین سے تھوڑی کم ہے ، نے چین کی 2.16 بلین خوراکوں کے مقابلے میں 766 ملین ویکسین خوراکیں دی ہیں۔

    قومی صحت کمیشن کا کہنا ہے کہ فی کس کی بنیاد پر چین دیگر عالمی طاقتوں سے بھی آگے بڑھ رہا ہے

    نیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 22 کروڑ 68 لاکھ سے تجاوزکرچکی ہے جبکہ اس موذی وائرس سے اموات 46 لاکھ 64 ہزارسے زائد ہوگئیں ہیں‌ ہو گئیں۔

    کورونا وائرس کے دنیا بھر میں 1 کروڑ 86 لاکھ 33 ہزار سے زائد مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز میں زیرِ علاج اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 1 لاکھ 2 ہزار876 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 20 کروڑ 33 لاکھ 84 ہزار 977 کورونا مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    کورونا وائرس کے کیسز اور اس سے اموات کے اعتبار سے 10 سرِ فہرست ممالک میں 33 کروڑ سے زائد آبادی کا حامل امریکا تا حال پہلے نمبر پر ہے جہاں اس وائرس سے اب تک 6 لاکھ 82 ہزار 341 افراد موت کے منہ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ اس سے بیمار ہونے والوں کی مجموعی تعداد 4 کروڑ 22 لاکھ 88 ہزار 205 ہو چکی ہے۔

    1 ارب سے زائد آبادی والا ملک بھارت کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے، جہاں اس وائرس سے 4 لاکھ 43 ہزار 528 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس سے متاثرہ 3 کروڑ 33 لاکھ 16 ہزار 755 مریض سامنے آ چکے ہیں۔

    کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ممالک کی اس فہرست میں برازیل تیسرے نمبر پر ہے تاہم یہ اموات کے حوالے سے فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں اس جان لیوا وائرس سے 5 لاکھ 87 ہزار 847 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 2 کروڑ 10 لاکھ 19 ہزار 830 ہو گئی۔

    برطانیہ میں کورونا وائرس کے باعث اموات کی تعداد 1 لاکھ 34 ہزار 446 ہو گئی جبکہ کیسز کی تعداد 72 لاکھ 82 ہزار 810 ہو چکی ہے۔

  • فرانسیسی فورسز نے سربراہ داعش ‘صحارا’ عدنان ابو ولید کو ہلاک کردیا:فرانسیسی صدرکا دعویٰ‌

    فرانسیسی فورسز نے سربراہ داعش ‘صحارا’ عدنان ابو ولید کو ہلاک کردیا:فرانسیسی صدرکا دعویٰ‌

    پیرس :فرانسیسی فورسز نے سربراہ داعش ‘صحارا’ عدنان ابو ولید کو ہلاک کردیا:فرانسیسی صدرکا دعویٰ‌ ،اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے رات کوٹویٹ کرکے یہ دعویٰ کیا تھا کہ عالمی شدت پسند تنظیم داعش کے صحارا ریجن کے سربراہ عدنان ابو ولید الصحاروی کوماردیا گیا ہے

    اپنے ٹویٹ پیغام میں فرانسیسی صدر نے ایک بہت بڑی کامیابی کا دعویٰ کیا تھا ، ادھر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دولت اسلامیہ کا سربراہ عدنان ابو ولید گریٹر صحارا میں فرانسیسی فوجیوں کے ایک آپریشن میں ہلاک ہوا۔

     

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے  اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ عدنان ابو ولید فرانسیسی افواج کے ہاتھوں مارا گیا تاہم انہوں نے آپریشن کی تفصیلات کے بارے میں نہیں بتایا کہ یہ آپریشن کہاں کیا گیا۔ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ یہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف جنگ میں ہماری ایک اور بڑی کامیابی ہے۔

    یاد رہے کہ عدنان ابو ولید نے 2015 میں صحارا ریجن میں داعش کی بنیاد رکھی تھی اور داعش لیڈر عدنان ابو ولید امریکی فوجیوں اور غیرملکی امدادی کارکنوں پر حملوں میں مطلوب تھا۔امریکا نے 2017 میں عدنان ابو ولید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

  • انڈر 16سنٹرل پنجاب سکولز کرکٹ چیمپئن شپ 18اضلاع میں شروع

    انڈر 16سنٹرل پنجاب سکولز کرکٹ چیمپئن شپ 18اضلاع میں شروع

    لاہور:انڈر 16سنٹرل پنجاب سکولز کرکٹ چیمپئن شپ 18اضلاع میں شروع،اطلاعات کے مطابق پی سی بی سنٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن سی ایم پنجاب ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت پی سی بی انڈر 16 سنٹرل پنجاب سکولز کرکٹ چیمپئن شپ پنجاب کے 18 اضلاع میں شروع ہوئی۔

    نڈر 16سنٹرل پنجاب سکولز کرکٹ چیمپئن شپ کی افتتاحی تقریب میں عبداللہ سمبل ، صوبائی سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین پی سی بی سنٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن ، غلام فرید سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب ، کاشف مرزا صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن ، عبداللہ خرم نیازی سی ای او پی سی بی سنٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن ، حسین عباس مرزا چیئرمین لاہور سکولز سسٹم اور حکومت پنجاب کے دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سکول چیمپئن شپ کی شکل میں کرکٹ کی بہتری کے لیے سنٹرل پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کی کوششوں کو سراہا۔

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن ایونٹ میں پرائیویٹ سکولوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔کاشف مرزا صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن آرگنائزنگ ٹیم کا حصہ ہیں ، اور کہا کہ سنٹرل پنجاب کرکٹ کرکٹ کی سرگرمیوں کا مرکز ہوگا۔ کاشف مرزا صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی سفارشات پر ، سی پی سی اے کی مجاز اتھارٹی نے 18 افراد کو متعلقہ ضلع کے اے پی پی ایس ایف کے سربراہ اور نمائندوں کے طور پر مطلع کرنے کے لیے مطمئن کیا اور سی پی سی اے سکولز کرکٹ چیمپئن شپ میں نجی اسکولوں کی موجودگی کو یقینی بنایا۔ .

    لاہور سکول سسٹم بمقابلہ بیکن ہاؤس سکول کے درمیان کھیلے گئے ٹورنامنٹ کے پہلے میچ میں لاہور سکول سسٹم نے بیکن ہاؤس سکول کو 3 وکٹوں سے شکست دی۔ لاہور سکول سسٹم کے محمد علی مین آف دی میچ رہے۔ ایونٹ میں سرکاری اور نجی سکولوں کی تقریبا 16 162 سکولوں کی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ٹیموں کو مختلف پول میں تقسیم کیا گیا ہے۔ میچز مختلف اسٹیڈیمز اور گراؤنڈز میں منعقد ہو رہے ہیں۔ ہر ٹیم کے 20 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔

  • یواین مشن کی سربراہ نے افغان وزیرداخلہ سےملاقات کرکےافغان طالبان کی حقانیت کوتسلیم کرلیا

    یواین مشن کی سربراہ نے افغان وزیرداخلہ سےملاقات کرکےافغان طالبان کی حقانیت کوتسلیم کرلیا

    کابل :یواین مشن کی سربراہ افغان وزیرداخلہ سے ملاقات کرنے کابل پہنچ گئیں،اطلاعات کے مطابق ایک طرف اقوام متحدہ افغانستان کے حوالے سے کئی شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف افغان حکومت کے اعلیٰ سربراہان سے کابل میں ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں‌

    ادھراسی سلسلے میں آج یو این مشن کی سربراہ ڈیبراہ لائنز کابل پہنچیں توانہوں نے افغانستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر افغان طالبان کی طرف سے امداد کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پربہت زیادہ خوشی کا اظہاربھی کیا

    یو این مشن کی سربراہ ڈیبراہ لائنز سے ملاقات میں افغان وزیرداخلہ سراج الدین حقانی نے عالمی برادری سے رابطے برقرار رکھنے پرزور ر دیا

    افغان وزیرداخلہ سراج الدین حقانی نے اس موقع پر کہا کہ اقوام متحدہ کےادارے بغیر کسی رکاوٹ افغان عوام کی مدد کر سکتے ہیں ،

    دوسری طرف اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہےکہ ملاقات میں انسانی ہمدردی کی امداد پر تبادلہ خیال کیاگیا،

    ادھر بین الاقوامی جریدے ’ٹائمز ‘ نے 2021 میں دنیا کے بااثر ترین افراد کی فہرست جاری کی ہے جس میں افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر بھی شامل ہیں۔

    بین الاقوامی طور پر معتبر مانے جانے والے امریکی جریدے ’ٹائمز‘ نے ہر سال کی طرح 2021 میں بھی بااثر ترین شخصیات کی فہرست جاری ہے۔

    جس میں سرفہرست ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی افریقی نژاد امریکی خاتون سربراہ نگوزی اوکونجو اویلا ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن دوسرے بااثر ترین شخص قرار پائے ہیں۔

  • افغان طالبان حکومت کے نئے آرمی  چیف کون اوران کوکیوں یہ عہدہ دیا گیا؟اہم خبرآگئی

    افغان طالبان حکومت کے نئے آرمی چیف کون اوران کوکیوں یہ عہدہ دیا گیا؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغان طالبان حکومت کے نئے آرمی چیف کون اوران کوکیوں یہ عہدہ دیا گیا؟اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت ایک بحث بڑا زورپکڑرہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے ایک ایسے شخص کوآرمی چیف بنانے کا فیصلہ کیا ہےجوواقعی اس کا حقدار ہے

    آج کابل میں اسی آرمی چیف کی زیرصدارت اہم اجلاس بھی ہورہا ہے جس میں نئے آرمی چیف نے افغانستان کے لیے ایک منظم اور باقاعدہ فوج تشکیل دینے کے حوالے سے سابق فوجی کمانڈروں کو بھی دعوت دی گئی ہے

    افغانستان کی نئی فوج کے بارے میں افغانستان کے آرمی چیف قاری فصیح الدین کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ افغانستان کے پاس جلد ہی اپنی ایک باقاعدہ اور منظم فوج ہوگی اور فوجیوں کو افغانستان کی سرحدوں کے دفاع کے لیے تربیت بھی دی جائے گی۔

    دوسری طرف حال ہی میں نئے نامزد افغان طالبان کے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مستقبل قریب میں افغانستان کے لیے باقاعدہ اور منظم فوج کی تشکیل سے متعلق بات چیت جاری ہے جس کے پیش نظر جلد ہی ملک کے لیے منظم اور باقاعدہ فورس تشکیل دی جائے گی۔

    فصیح الدین کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں خانہ جنگی نہیں ہونے دیں گے سکیورٹی اور عدم استحکام کو نقصان پہنچانے والوں سمیت طالبان کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، قاری فصیح الدین کو’ قاری فاتح‘ اور ’پانچ شیروں کا فاتح ‘بھی کہا جاتا ہے، وہ مبینہ طور پر کچھ عرصے تک افغانستان کے صوبے بدخشاں کے شیڈو گورنر بھی رہے۔

    بدخشاں سے تعلق رکھنے والے قاری فصیح الدین کو ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ احمد مسعود اور امراللہ صالح کی پنجشیر میں مزاحمت کو روکیں۔اورپھرانہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بنیاد پرایسے کرکے دکھا اورپھروہ وقت بھی آیا جب احمد شاہ مسعود اورامراللہ صالح کو پسپائی اختیارکرنا پڑی

    ایک رپورٹ کے مطابق قاری فصیح الدین کا تعلق تاجک قبائلی گروہ سے ہے وہ ایک ایسے کرشماتی رہنما اور پہلے تاجک ہیں جو طالبان کی تاریخ میں فوجی کمیشن میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

    ادھربعض افغان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہےکہ نئےافغان آرمی چیف بہت جلد ایک منظم فوج کی تشکیل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیں گے اوروہ دیگردنیا کےساتھ اپنے معاملات بھی بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‌

  • شہرقائد میں سڑک پار کرتی خاتون کو معجزانہ طور پر نئی زندگی ملی

    شہرقائد میں سڑک پار کرتی خاتون کو معجزانہ طور پر نئی زندگی ملی

    شہرقائد میں سڑک پار کرتی خاتون کو معجزانہ طور پر نئی زندگی ملی ہے، وہ ہیوی ٹینکر کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے عائشہ منزل میں شاہراہ پاکستان پر خاتون کو دیوہیکل ٹینکر کی ٹکر لگی خوش قسمتی سے وہ گاڑی کے نیچے نہیں آئیں بصورت دیگر ان کی جان بھی جاسکتی تھی۔

    حاصل ہونے والی ویڈیو میں خاتون کو رش والی سڑک کراس کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    ویڈیو میں خاتون آہستہ آہستہ فٹ پاتھ کی جانب جاتی نظر آرہی ہیں اور پھر فٹ پاتھ تک پہنچنے سے پہلے ٹینکر آیا اورخاتون کو ٹکر ماری دی۔ ٹینکر ڈرائیور نے عورت پر ٹائر چڑھنے سے بچانے کے لیے اسٹیئرنگ گھمادیا۔

    خاتون کو گرتا دیکھ کر ٹینکرڈرائیور اترااور بھاگ گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے میں خاتون معمولی زخمی ہوئیں جن کا مقامی اسپتال میں علاج جاری ہے۔

  • کرونا اور حکومتی دوغلا پن، تحریر: محمد شعیب

    اس وقت ہمارا ملک کرونا وائرس کی چوتھی لہر چل رہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف لاک ڈاون دن بہ دن سخت ہوتا جا رہا ہے بلکہ ویکسین کو لیکر بھی سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہاں تک بھی سننےمیں آ رہا ہے کہ یہ پورا مہینہ ہی لاک ڈاون کی نظر ہو سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے صاف کہہ دیا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کی 40 فیصد آبادی ہے جسے مکمل طور پرvaccinateکرنا ہے اور جب یہ ہدف حاصل کرلیں گے تو ستمبر کے آخر میں پانبدیوں میں کمی ہو گی۔ اور 30 ستمبر تک جن لوگوں نے دونوں ڈوز نہیں لگوائیں ہوں گی ان پر سخت پابندیاں لگائی جائیں گی۔فضائی سفر پر پابندی ہوگی، شاپنگ مالز میں دکانداروں اور گاہکوں دونوں کے داخلے پر پابندی ہوگی، ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بکنگ بند کردی جائے گی، انڈور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور شادیوں میں شرکت نہیں کرسکیں گے، تعلیمی اداروں میں ویکسین نہ لگوانے والا عملہ اپنا کام جاری نہیں رکھ سکے گا۔

    ٹھیک ہے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کرونا وائرس بہت خطر ناک ہے ہمیں اس سے بچاو کے لئے ہر صورت احتیاط کرنی چاہیے۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کرونا اور اس سے بچاو کی ویکسین کو لیکر مختلف ممالک اور مختلف حکومتوں کے رویے اتنے دوغلے کیوں ہیں؟پابندیوں کے معیار مختلف کیوں ہیں؟جس کام میں حکومت کی مرضی ہو اس کام پر چھوٹ کیسے مل جاتی ہے؟صرف چند چیزوں کو ٹارگٹ کیوں کیا جا رہا ہے؟کورونا وائرس جب پھیلنا شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کے بہت سے ممالک میں بہت سخت لاک ڈاون لگایا گیا جبکہ کچھ ممالک میں بغیر لاک ڈاون کے بھی اس پر قابو پا لیا گیا۔ اور اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو عجیب ہی صورتحال ہے جب گزشتہ سال کورونا وبا کی شروعات تھی توپاکستان میں سخت ترین لاک ڈاؤن لگایا گیا۔ عوام کو گھروں میں بند کردیا گیا اور پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس سخت لاک ڈاون کے بعد کرونا وائرس کا پاکستان سے خاتمہ ہو جاتا اور اب ہم سکون میں ہوتے لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ وائرس شدید سے شدید ہی ہوتا گیا۔ کیونکہ جن ممالک سے یہ وائرس یہاں آ رہا تھا ان کی فلائٹس بند کرکے ہم اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ہم نے اپنے بچاو کے لئے فلائٹس بند نہیں کیں لیکن خود پر پابندیاں لگوا کر ریڈ لسٹ میں ضرور آ گئے۔ اور اب جیسے جیسے ویکسین کو لیکر حکومت عوام پر دباو بڑھا رہی ہے تو لوگوں کی طرف سے اس پر تنقید بڑھتی جا رہی ہےدراصل لوگوں کا ماننا ہے کہ ان کو اس فیصلے کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ ویکسین لگوائیں یا نہ لگوائیں یا ابھی نہ لگوائیں اور کچھ عرصہ بعد لگوائیں لیکن حکومت بضد ہے کہ اگر ویکسین نہ لگوائی تو سرکاری ملازمین کو تنخواہ نہیں ملے گی، ہم سم بند کر دیں گے، شناختی کارڈ بلاک کردیں گے۔ کسی دفتر میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ جسے عوام حکومت کی بدمعاشی کہہ رہی ہے۔ اور یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کس قانون اور اتھارٹی کے تحت یہ دھمکیاں پاکستانیوں کو دی جارہی ہیں اور ان کی پرسنل لائف میں دخل دیا جارہا ہے؟اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ آج جب اس وائرس کے پھیلاو کو شروع ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ویکسین کا عمل شروع ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں تو عوام ابھی تک اسے قبول کیوں نہیں کررہی عوام اتنیConfuseاور ڈری ہوئی کیوں ہے؟دراصل اس کی وجہ دنیا کے کئی ممالک اور ان کی حکومتوں کا دوغلا پن ہے۔سب سے پہلے اگر ہم پاکستان کی ہی بات کر لیں تو حکومت کی طرف سے شادی ہالز میں تین سو لوگوں کی اجازت ہے۔ پارکس میں پانچ سو لوگوں کو داخلے کی اجازت ہے۔ لوکل بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں۔ بازاروں میں رات آٹھ بجے تک خوب ہجوم ہوتا ہے۔ لیکن سکولز بند ہیں۔۔ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہاں تک کہ فیل ہونے والے طلبہ کو بھی رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا اور آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔اور اگر کہیں پابندیوں میں نرمی بھی کر دی جائے تو تعلیمی ادارے 50 فیصد حاضری کے ساتھ کھولے جاتے ہیں Alternate daysمیں کلاسز ہوتی ہیں۔جب کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا تھا تو سب ماہرین نے خود ہمیں یہ بتایا تھا کہ بچوں کے لئے یہ وائرس خطرناک نہیں ہے بچے صرف اس وائرس کےCarrier ہوتے ہیں۔ تو اب جب بڑوں کو ویکسین لگ چکی ہے اور بچوں کا اس وائرس سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا تو سکولز ابھی تک کیوں بند ہیں؟ اگر کھولے بھی جا رہے ہیں تو پچاس فیصد حاضری کیوں؟ ایک بس میں ستر لوگ سفر کر سکتے ہیں تو کلاس میں پچیس بچے کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ اور بھی بہت سے ممالک ہیں جہاں بہت سخت لاک ڈاون لگائے گئے تھے لیکن جب لاک ڈاون ہٹایا گیا تو سب سے پہلے سکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہاں سکول کھلے ہوئے ہیں اس کے بعد سکولز بند نہیں کئے گئے۔تو جب باقی ممالک میں سکولز کھولے جا سکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔ پاکستان میں جب لاک ڈاون میں نرمی کی بات آتی ہے تو سکولز کا نمبر سب سے آخر میں کیوں؟ کیا پاکستان میں وائرس کی کوئی خاص قسم ہے جو سکولز میں زیادہ ایکٹیو ہے؟اور ساتھ ہی پندرہ سال اور اس سے کم عمر بچوں کو بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ صرف اس بنیاد پر کہ وہCarrier ہیں آپ نے ان کو ویکسین لگانی شروع کر دی حالانکہ کوئی بھی ویکسین کیوں نہ ہوBioNTech, Pfizer CanSino CoronaVac Moderna Oxford, AstraZenecaSinopharm Sputnik V ان کے بارے میں ہم سب جانتے ہیں کہ یہ ویکسینز کرونا سے بچاو میں کارگر نہیں ہیں یہ کرونا کا علاج نہیں ہیں۔ ان کا رول صرف اتنا ہے کہ اگر آپ کو کرونا ہو جائے تو یہ آپ کی حالت کو زیادہ بگڑنے نہیں دیتیں کہ کسی انسان کو ventilator کی ضرورت پڑے یا خدانخواستہ کسی کی موت ہو جائے۔ صرف اس بنیاد پر ہم خود بچوں کے اندر ویکسین کی صورت میں وائرس والا جراثیم ڈال رہے ہیں تاکہ ان کی Immunityبڑھ جائے۔اور جبکہ ان ویکسینز کے بہت سے Side effectsکے کیسسز بھی سامنے آئے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت جلدی میں بنائیں گئیں ہیں آج تک تاریخ میں کوئی ویکسین بھی تیار کرکے اتنی جلدی سب انسانوں کو نہیں لگائی گئی جتنی جلدی اس ویکسین کو تمام دنیا کے انسانوں کے لئے لازمی قرار دے کر زبر دستی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی جن کو کرونا ہو چکا اور ان کے جسم میں اینٹی باڈیز بن چکی ہیں ان کے لئے بھی لازم ہے کہ وہ ویکسین ضرور لگوائیں۔

    سکولز کے ساتھ ساتھ یہی حال مساجد کا بھی ہے اور یہی دوغلاپن آپ کو سیاسی سرگرمیوں میں بھی نظر آئے گا۔ جب بھی جس سیاسی جماعت کا دل کرتا ہے وہ جلسے جلوس کرنا شروع کر دیتے ہیں جہاں کوئی ایس او پیز فالو نہیں کی جاتیں اور اتنی بڑی تعداد میں عوام کا ہجوم اکھٹا کر لیا جاتا ہے۔ اور تو اور آپ خود دیکھ لیں کرونا کی وجہ سے سب کچھ بند کر دیا گیا لیکن الیکشنز بند نہیں ہوئے لوگ پولنگ بوتھ پر اکھٹے ہو رہے ہیں ایک بیلٹ پیپر کتنے ہاتھوں سے گزر رہا ہے ایک ہی سٹیمپ سے کتنے لوگ ٹھپا لگا رہے ہیں لیکن وہاں کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سیاسی جماعتوں کی اپنی سیاست مضبوط کرنے کے لئے ہیں۔اور یہ دوغلا پن صرف پاکستان میں نہیں ہے اور بھی کئی ممالک میں ہے آپ سعودیہ عرب کی ہی مثال لے لیں۔ سعودیہ عرب میں حرم خالی ہے حج تقریبا معطل ہے۔ عمرہ بھی بند ہے۔ لیکن 5 جولائی 2021 کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق حج مقامات پر جانے پر 20 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ جبکہ سینما ہالز کھلے ہیں فلم فیسٹیول ہو رہے ہیں۔ کورونا کے ‏دوران 20 نئے سینما کھل گئے۔ آخری 2 سینما 19 اگست 2021 کو ریاض اور طائف میں کھولے گئے۔ دو ہزار بیس میں پوری دنیا کی فلمی صنعت زبوں حالی کا شکار رہی لیکن سعودیہ میں 2020 میں 73 ملین سے زائد مووی ٹکٹس فروخت ہوئے تھے۔ سعودی عرب کے 13 میں سے 9 صوبوں میں سینما کھل چکے ہیں جن میں سے 21 ریاض، 9 مکہ مکرمہ ریجن اور 8 مشرقی ریجن میں کھولے گئے ہیں۔ 2019 میں سعودی عرب میں سینما گھروں کی تعداد 12 تھی جو 2020 میں بڑھ کر 33 تک پہنچی اور اب 44 ہوگئی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب کرونا اپنے عروج پر رہا ہے۔ جدہ اورریاض میں بڑے میوزیکل ‏کنسرٹ ہوئے ہیں فٹ بال میچز بھی ہو رہے ہیں۔ لیکن لوگ حرم شریف میں نہیں آ سکتے؟
    وہاں جانے کے لئے تو ابھی تک کوئی ویکسین بھی فائنل نہیں کی جا رہی کہ لوگوں کو پتہ ہو کہ اگر ہم یہ ویکسین لگوا لیں تو اس کے بعد حج یا عمرہ کے لئے جا سکتے ہیں لیکن نہیں صرف اپنی مرضی کی جگہیں کھولنی ہیں اور جہاں مرضی نہیں ہے وہاں سب بند ہے۔

    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ حکومتوں کی ان دوغلی پالیسیز کی وجہ سے عوام ابھی تک اس وائرس کو لیکر کنفیوز ہے۔ جس طرح زبردستی ویکسین لگائی جا رہی ہے عوام اس سے ڈری ہوئی ہے۔ اگر پوری دنیا میں یہ وائرس ہے تو پوری دنیا کا اس سے نمٹنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہونا چاہیے۔ یہ غلط ہے کہ سیاسی ہجوم کی اجازت ہے الیکشنز کی اجازت ہے لیکن سکولز اور مساجد پر پابندی ہے۔ ایک پالیسی بنائیں اور اس کو ہرجگہ لاگو کریں اور جہاں تک بات ویکسین کی ہے تو پہلے لوگوں کا اس پر اعتماد بحال کریں پھر ویکسین لگائیں تاکہ لوگوں میں بے چینی ختم ہو عوامی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ہی چلانے کا وتیرہ مت اپنائیں اس میں سب کا نقصان ہے۔

  • وارداتوں میں کمی کے باعث معاشی استحکام پیدا ہوا ہے، ڈی جی رینجرز سندھ

    وارداتوں میں کمی کے باعث معاشی استحکام پیدا ہوا ہے، ڈی جی رینجرز سندھ

    ڈی جی رینجرز سندھ نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ وارداتوں میں کمی کے باعث معاشی استحکام پیدا ہوا ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے کراچی چیمبر آف کامرس کا دورہ کیا، جہاں صدر، چیئرمین اور ارکان چیمبر آف کامرس نے ڈی جی رینجرز کا استقبال کیا، اس موقع پر انہوں نے ایسوسی ایشن کے ارکان سے ملاقات کی۔

    ڈی جی رینجرز نے اس موقع پر کہا کہ کراچی میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا میں نمایاں کمی ہوئی اور وارداتوں میں کمی کے باعث معاشی استحکام پیدا ہوا ہے۔

    میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے امن میں بہتری کے اقدام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے صنعت کاروں اور کاروباری افراد کا اعتماد بحال ہوا ہے۔

    ڈی جی رینجرز نے امن قائم کرنے والے اداروں اور شہدا کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امن عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کاوشوں کا مرہون منت ہے۔

    انہوں نے چیمبر آف کامرس کے ارکان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہا، جس پر چیمبر آف کامرس کے ارکان نے بحالی امن میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

  • عمر شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے امریکا کا ویزا جاری ہوگیا

    عمر شریف کو بیرون ملک علاج کیلئے امریکا کا ویزا جاری ہوگیا

    پاکستان کے لیجنڈ کامیڈین اور سینئر اداکار عمر شریف اور ان کے اہلخانہ کو امریکا کے ویزے جاری ہوگئے۔

    معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے عمرشریف صاحب اور ان کے اہلخانہ کو امریکا کے ویزے ایشو ہو گئے ہیں۔ عمرشریف جلد اپنے علاج کے لئے امریکا روانہ ہوں گے۔

    شہباز گل نے مزید کہا عمرشریف کے اہلخانہ نے اس تمام پراسس میں تعاون پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم صاحب دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی عمر شریف صاحب کو جلد صحت یاب کرے۔

    واضح رہے کہ دل کے عارضے میں مبتلا عمر شریف کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے۔ چند روز قبل انہوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے درخواست کی تھی کہ بیرون ملک علاج کے لیے ان کی مدد کی جائے کیونکہ ان کا علاج پاکستان میں نہیں بلکہ بیرون ملک میں ہی ممکن ہے۔

    اس کے علاوہ عمر شریف کی اہلیہ زرین عمر اپنے شوہر کے علاج کے لیے حکومت سے ایئر ایمبولینس اور ویزا وغیرہ کے انتظامات کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ عمر شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک لے جایا جاسکے۔

    عمر شریف کی درخواست پر وفاقی اور سندھ حکومت نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ان کے علاج کے لیے رقم جاری کرنے کا اعلان کیا اور محکمہ خزانہ کی جانب سے رقم کے اجرا کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس کے علاوہ سندھ حکومت نے عمر شریف کے علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کا بندوبست بھی کیا جس کے لئے 4 کروڑ روپے کی رقم محکمہ صحت کو جاری کی گئی۔