Baaghi TV

Author: +9251

  • مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر

    لاہور:مریم نوازکی زیرصدارت اہم اجلاس:ن لیگ کےرہنما موجود،ش لیگ کےسربراہ شہبازشریف غیرحاضر، اطلاعات کےمطابق ابھی تھوڑی دیرپہلے لاہور میں مریم نواز کی زیرصدارت اہم اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں ن لیگ کے رہنما پرویزرشید،احسن اقبال ، رانا ثنااللہ سمیت کئی رہنما شریک جبکہ ش لیگ کے سربراہ شہبازشریف ،حمزہ شہبازاورخواجہ آصف اس اجلاس میں نہیں‌ آئے

    اس اہم اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ اب ووٹ کو چوری نہیں ہونے دیں گے، مریم نواز نےکہا کہ پارٹی کو نچلی سطح تک آرگنائز کریں گے انتخابات کیلئے ہر وقت تیار ہیں،

    مریم نوازکی زیرصدارت ہونے والے اس تنظیمی اجلاس میں ن لیگ کے رہنما احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثنااللہ سمیت دیگررہنما شریک ہوئے ، اس اجلاس میں کئی اہم ارکان نے میاں شہبازشریف کی غیرموجودگی کے بارے میں پوچھا توان کوجھاڑپلا دی گئی اوریہ بھی کہا گیا ہےکہ آئندہ جوکہا جائے اس پرعمل کیا جائے اورنوازشریف کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے شریف کی ضرورت نہیں

     

    https://twitter.com/GulHassanKhosa2/status/1438114342474551300

    یاد رہےکہ آج لاہورمیں مریم نواز کی زیر صدارت مسلم لیگ ن ڈی جی خان ڈویژن کا تنظیمی اجلاس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ اس اجلاس میں میاں شہبازشریف کوسرسری سی دعوت دی گئی ہے اور”گونگواں تومٹی چاہڑی گئی اے”

    ادھرذرائع کے حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شہبازشریف اورحمزہ شہبازنے واضح طوراپنی عزت کومجروح نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہےاورآئندہ سوائے اہم اجلاس میں جانے کے وہ پارٹی کے دیگراجلاسوں میں شرکت نہیں کریں‌گے

  • قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    قلم کی خیانت ،تحریر: امان الرحمٰن

    اگر دیکھاجائے تو ایک قلمکار کا دائیرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم سے بہت کچھ کر سکتا ہے زمانہ میں انقلاب لا سکتا ہے ۔ذہنی تربیت دے سکتا ہے۔اذنی تحریر کو مقصد سے آراستہ کر سکتا ہے اسکو مفید بنا سکتا ہے۔مگر آج کا قلمکار، آج کے قلم کی طرح یوز انڈ تھرو ہو گیا ہے ۔ یعنی پڑھو اور بھول جاؤ۔ تحریر بے مقصد، غیر دلچسپ، ناقابل فہم ہوگی تو کون قاری اس کو یاد رکھے گا۔ آج کے قلمکار کی تحریر ایسی ہوتی ہے کہ بس بس کیا پڑھے یاد نہیں رہتا۔ وجہ کیا ہے ؟ وجہ ایک ہی ہے اب سوشل میڈیا کا دور ہے اب جھوٹ پہلے جیسی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

    دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے صحافتی قوانین بنائے ہیں جن میں حقائق پر مبنی خبر ہی نشر کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں قومی سطہ کے بڑے بڑے میڈیا ہاؤس بھی ریٹنگ کے چکر میں ہر خبر کو بریکننگ نیوز بنا کر نشر کرتے ہیں اور اکثر خبریں صرف اِن الفاظ کے ساتھ نشر کی جاتی ہے "ذرائع کہ مطابق” لیکن ذرائع کا نام، اِدارے کا نام، کسی مستند صحافی کا نام لئے بغیر ہی اُس خبر کو سارا سارا دن ساری رات بار بار چلایا جاتا ہے۔ کیا یہ ٹحیک ہے کسی بھ ایسی ریاست کے لئے جس کے خلاف ہائبرڈ وار فیئر بھرپور انداز میں مسلط ہو۔؟پہلے اہل قلم اپنی قلم کو تلوار بنا لیتے تھے،سوئے ہُوئے ذہنوں کو جگانے کا کام لیتے تھے۔ نیز قلم سے نشتر کا کام لیتے تھے معاشرہ میں رائج فرسُودہ رسم و رواج اور برائیوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ مگر آج کا قلمکار، قلم تو اس کے لئے بھی تلوار ہے مگر زنگ آلود تلوار جس کو وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ گویا ایک دوسرے کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

    ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگا رہتا ہے۔ تنقید برائے تنقید کرتا چلا جاتا ہے۔ جس سے مُعاشرے میں برائی کو تقویت ملتی ہے مقابلہ بازی میں مدے سے ہٹ کر بحث میں مبتلا ہوجاتے ہیں، اور یہ نا صرف مُعاشرے بلکہ ریاست کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ ایک صحافی جو قلم سے ایک دوسرے کی کاوشوں پر نکتہ چینی کرتا ہے۔ اور اس لفظی جنگ میں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے بھی گریز نہیں کرتا اِس کا نقصان کسے ہوگا یہ جانے بغیر وہ اِس مقابلے میں بل آخر جھوٹ کا سہارا لینا شروع کر دیتا ہے جو برائی کی پہلی سیڑی ثاب ہوتی ہے اور یہاوہ صحافی اپنے قلم کے ساتھ خیانت کر بیٹھتا ہے ضمیر کو بھی جھوٹی تسلی دے کر سلانے لگتا ہے۔ مگر حرام کا ایک لُقمہ حلق میں جاتے ساتھ حلال رزق سے چند لمحوں میں قوسوں دُور ہوجاتا ہے۔
    پاکستان اِس وقت ففتھ جنریشن وار جیسی جنگ کی زد میں ہے اور میڈیا اِس جنگ میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے جہاں فیک نیوز کی ایک لمبی لائن لگ جاتی ہے جو ریاست مخالف استعمال ہوتی ہے ایسے مشکل حالات میں میڈیا ریاست کا ساتھ دیتا ہے جبکہ ہمارا میڈیا غیر ملکی ہتھکنڈوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر بضد ہے۔

    ‏ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ حکومت کہہ رہی ہے سچ بولیں اور یہ جاہل کہتے ہیں نہیں ہمیں یہ منظور
    ‏فیصلہ ہونے والا ہے اس قوم نے تباہ ہونا ہے یا ترقی یافتہ عظیم قوم بننا ہے
    اللہ کو ہماری ضرورت نہیں ہم نہیں سدھریں گے تو ہم سے بہتر لوگ آجائیں گے
    احتجاج ہورہا ہے کہ جھوٹ کی آزادی دو یہ وہ گناہ ہے جس پہ اللہ نے خود لعنت فرمائی ہے
    جو گروہ جیتے گا وہ ملک کے مستقبل کا تعین کردے گا۔
    میڈیا میں جھوٹی خبروں اور خواہشات پہ مبنی جھوٹے من گھڑت تجزیوں کی روک تھام کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے ۔ صحافی
    عدالتوں میں بہتری اور اصلاحات کے لیئے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے- وکلاء
    الیکشن کمیشن میں بہتری کے لیے کوئی قانون نہیں بننے دیں گے۔ الیکشن کمیشن
    مگر نیا پاکستان کیوں نہیں بنا اس کا جواب عمران خان کو دینا ہو گا۔ بہت خُوب
    جب آپ لوگو جھوٹ نہیں بولیں گے تو آپ کو کسی بات کا ڈر نہیں ہونا چاہئے
    مگر وہ کہتے ہیں نا چور کی داڑھی میں تنکا
    ان شاءاللہ یہ ہو کر رہے گا۔
    @A2Khizar

  • ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ:کون ہوا محروم اورکسے ملا موقع تفصیلات آگئیں

    ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ:کون ہوا محروم اورکسے ملا موقع تفصیلات آگئیں

    لاہور:ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ:کون ہوا محروم اورکسے ملا موقع تفصیلات آگئیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ میں آج بہت ہی اہم تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ قومی ٹیم کے کئی نامور کھلاڑی ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ سے محروم ہو گئے جبکہ فاسٹ بولر محمد عامر کو ایک بار پھر کنٹریکٹ مل گیا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ آج پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے ڈومیسٹک کنٹریکٹ کا اعلان کر دیا ہے تاہم کرکٹر وہاب ریاض، محمد حفیظ، کامران اکمل اور عمر اکمل ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں ہیں۔

    قومی ٹیم کے سابق بولنگ کوچ وقار یونس سے اختلافات کے باعث کرکٹ کو خیر باد کہنے والے فاسٹ بولر محمد عامر کو ایک بار پھر ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ مل گیا ہے۔

    ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کی اے پلس کیٹگری میں عبداللہ شفیق، خوشدل شاہ، نسیم شاہ اور صہیب مقصود سمیت 10کرکٹرز شامل ہیں جبکہ محمد عامر، شرجیل خان، محمد وسیم جونیئر اور شان مسعود سمیت 40 کرکٹرز اے کیٹگری میں شامل ہیں۔

    اس حوالے سے قومی وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے رابطہ کیا تھا، پی سی بی سے کہا کہ پرفارمنس اور سنیارٹی کی بنیاد پر کنٹریکٹ دیا جائے، سارا ڈومیسٹک سیزن کھیلتا ہوں، اے پلس کیٹگری کا حقدار ہوں۔

    دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ بعض سینئر کھلاڑیوں نے گزشتہ برس بھی ایونٹس کے حساب سے کنٹریکٹ لیے، وائٹ بال اور ریڈ بال کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو کیٹگریزکے لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے۔

  • کون اپنی ڈگری کی بنیاد پرڈاکٹرہے اورکس اندازسے لکھنا ہے! ہائیرایجوکیشن کمیشن نے بتادیا

    کون اپنی ڈگری کی بنیاد پرڈاکٹرہے اورکس اندازسے لکھنا ہے! ہائیرایجوکیشن کمیشن نے بتادیا

    اسلام آباد:کون اپنی ڈگری کی بنیاد پرڈاکٹرہے اورکس اندازسے لکھنا ہے! ہائیرایجوکیشن کمیشن نے بتادیا،اطلاعات کے مطابق ہائیرایجوکیشن کمیشن نے ایک لیٹرجاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈگری کی بنیاد پرکوئی تعلیم یافتہ شخص ڈاکٹرلکھ سکتا ہے لیکن اس کے لیے طئے شدہ انداز کواختیارکرنا ہوگا

    اس حوالے سے کل ہائیرکمیشن ایجوکیشن نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ پچھلے کئی سالوں سے بعض یونیورسٹیزسے فارغ التحصیل طالب علم اپنی ڈگریز کی بنیاد پراپنے نام کے ساتھ ڈاکٹرلکھتے آرہے ہیں
    جو کہ ایک غیرمناسب انداز ہے

    ہائیرایجوکیشن کمیشن نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبا کے لیے ایک پالیسی وضح کی جارہی ہےکہ وہ یہ کہ جوکوئی بھی اپنےمتعلقہ شعبے میں پی ایچ ڈی ہے یا کوئی اپنی پیشہ وارانہ تعلیم مکمل کررہاہے تواس کےلیے لازم ہےکہ وہ اپنے نام کےساتھ اگرڈاکٹر لکھتا ہے توپھرساتھ اس کواپنے فن تعلیم یعنی جس شعبہ میں وہ ماہرہے کا بھی مختصرسا ذکرکرے گا

     

     

    ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے جاری ہدایات کے مطابق اگرکوئی فزیوتھراپسٹ ہے تووہ صرف ڈاکٹر نہیں لکھے گا بلکہ وہ ڈاکٹر کے ساتھ بریکٹ کے اندر یا حروف مقطعات کی شکل میں‌ ڈاکٹر آف (فزیوتھراپسٹ) ایسے ہی کوئی بی فارمیسی کے فن کا تعلیم یافتہ ہے تو وہ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے ساتھ بی فارما کا ذکرکرے گا جس کے لیے ایک مخصوص انداز بھی جاری کردیا گیا ہے
    جو کہ کچھ اس طرح‌ہے”Dr…..Name……PT/Pharma.D” یوگا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے 15 ستمبر ، 2018 کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تمام یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں (ایچ ای آئی) کو ہدایت کی تھی کہ وہ متعلقہ قومی نصاب جائزہ کمیٹیوں (این سی آر سی) کی پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر اپنی بی ایس ڈگریوں کے نام میں "ڈاکٹر” کا لقب استعمال نہ کریں۔ ایچ ای سی کے ذریعہ تشکیل دیا گیا۔

    وائس چانسلرز ، ریکٹروں اور HEIs کے سربراہوں کو جاری کردہ ایک خط سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ یونیورسٹیاں اور HEI NCRCs سے منظوری لیے بغیر ان کے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے لقب کے ساتھ انڈر گریجویٹ ڈگری پروگرام پیش کر رہے ہیں جو طلباء ، ان کے والدین اور آجروں کو گمراہ کر رہا ہے۔ جو ایچ ای سی سے وضاحت طلب کرتے ہیں۔

    "تمام یونیورسٹیوں/ HEIs کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے پروگراموں میں مزید داخلہ بند کریں اور اخبارات کے ساتھ ساتھ اپنی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے اشتہارات کو فوری طور پر واپس لے لیں۔”

    اس خط میں ڈاکٹر آف ڈائٹیٹکس اینڈ نیوٹریشنل سائنسز ، ڈاکٹر آف آپٹومیٹری ، ڈاکٹر آف میڈیکل لیبارٹری سائنسز اور میڈیکل امیجنگ ڈاکٹر وغیرہ کے طور پر کچھ ڈگری کے عنوانات کا ذکر کیا گیا ہے ، جنہیں ایچ ای سی تسلیم نہیں کرے گا

  • کراچی سمیت سندھ بھر میں کاروباری اوقات کا نیا نوٹی فکیشن جاری

    کراچی سمیت سندھ بھر میں کاروباری اوقات کا نیا نوٹی فکیشن جاری

    سندھ حکومت نے کاروباری اوقات کا نیا نوٹی فکیشن جاری کردیا ، جس کے تحت مارکیٹیں رات 10 بجے تک کھلی رہیں گی اور ہفتے میں صرف ایک دن سیف ڈے ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق این سی او سی کے فیصلوں کی روشنی میں محکمہ داخلہ سندھ نے کاروباری اوقات کا نیا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ میں مارکیٹیں رات 10 بجے تک کھلی رہیں گی اور ہفتے میں صرف ایک دن سیف ڈے ہوگا ، کراچی میں اتوار اور دیہی سندھ میں جمعہ سیف ڈے کے طور پر بند ہوگا۔

    نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان ڈور ڈائننگ رات بارہ بجے تک کھلی رہے گی تاہم انڈور ڈائننگ کے لئے ویکسینیشن کارڈ ہمراہ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے ، ریسٹورنٹس میں 50فیصد افراد کو بٹھانے کی اجازت ہوگی۔

    محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ پارک ،سوئمنگ پولز 50فیصد گنجائش کے ساتھ کھولنے ، انڈور شادی بیاہ کی تقریبات میں 200مہمانوں اور آؤٹ ڈورمیں شادی بیاہ کی تقریبات میں 400 مہمانوں کی اجازت ہوگی۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق سینما اور انڈور گیمز پر پابندی ہوگی تاہم جم ایس او پیزکے تحت کھولے جاسکیں گے جبکہ مزارات مقامی انتظامیہ اورمحکمہ اوقاف کی اجازت سے کھولے جاسکیں گے۔

    محکمہ داخلہ سندھ نے کہا ہے کہ نئے حکم نامے کا اطلاق 16 سے 30ستمبر تک ہوگا۔

  • ڈمپر ایسوسی ایشن کی ہڑتال، کراچی میں کچرہ کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے

    ڈمپر ایسوسی ایشن کی ہڑتال، کراچی میں کچرہ کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے

    ڈمپر ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث کراچی میں کچرہ کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے جبکہ نالوں کی صفائی کا کام بھی روک دیا گیا ہے، ڈمپر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بلاجواز زیادتیاں اور رائلٹی ٹیکس کے خاتمہ تک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں ڈمپر ایسوسی ایشن نے سندھ حکومت کے فیصلوں کے خلاف ہڑتال کردی ، ڈمپر ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی کال پر 10 ہزار سے زائد ڈمپروں نے سرکاری اور غیر سرکاری کام روک دئیے۔

    ڈھائی ہزار سے زائد ڈمپر شہر میں کچرہ اٹھانے اور نالوں کی صفائی کے کاموں پر مامور ہیں ، ڈمپر ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث شہر میں کچرہ کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے جبکہ نالوں کی صفائی کا کام بھی روک دیا گیا ہے۔

    ڈمپر مالکان نے سرکاری سطح پر ہونے والے تمام ترقیاتی کاموں کے لئیے تعمیراتی میٹریل کی سپلائی بھی روک دی ، تعمیراتی میٹریل کی سپلائی روک جانے سے سرکاری اور غیر سرکاری ترقیاتی کام معطل ہوگئے ہیں۔

    ڈمپر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت منرلز کا رائلٹی ٹیکس ٹرانسپورٹرز سے وصول کررہی ہے، منرلز رائلٹی ٹیکس منرلز مالکان پر لاگو ہوتاہے، ڈمپر مالکان گذشتہ دنوں 700 روپے فی ڈمپر رائلٹی ٹیکس ادا کررہے تھے۔

    ڈمپر ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے رائلٹی ٹیکس بڑھا کر فی ڈمپر 2700 روپے کردیا ہے ، ڈمپر مالکان کو میونسپل سروسز کے ٹھیکے مہنگے ظاہر کرکے کم ادائیگی کی جارہی ہے: ڈمپر ایسوسی ایشن

    چئیرمین نثار جعفری کا کہنا تھا کہ ٹھیکوں کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کم کی جارہی ہے، بلاجواز زیادتیاں اور رائلٹی ٹیکس کے خاتمہ تک ہڑتال جاری رکھیں گے۔

  • ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی

    اسلام آباد:ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنے والوں‌ کے ساتھ حکومت کیا سلوک کرے گی؟خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہےکہ جن پاکستانیوں‌ پاس ایک سے زائد پاسپورٹ ہیں ان کومختلف اندازسے ڈیل کیاجائے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید کی زیرصدارت اجلاس ،ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں سے متعلق آج اہم فیصلے ہوئے ہیں‌، اس حوالے سےوزیرداخلہ شیخ رشید احمد کوبریفنگ دی گئی کہ ماضی میں 6 ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے 12 ہزار پاسپورٹ کی کلیرنس کی جا چکی ہے،

    بریفنگ میں شیخ رشید کو افسران نے بتایا کہ اس ایمنسٹی ا سکیم سے ایک سے زائد نام کے پاسپورٹ رکھنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہوگا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایاگیاکہ موجودہ قانون میں ایک سے زائد پاسپورٹ رکھنے والوں کی سزا کم از کم 3 سال کی جیل ہے

    شیخ رشید کی صدارت میں اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ ایمنسٹی ا سکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے افراد کے کیسز ایف آئی اے کو بھجوا دیئے جائیں گے

    اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسکیم کے تحت ایک سے زائد پاسپورٹ منسوخ کروانے کیلئے 90 روز کی مہلت دی جائے گی،جبکہ دہرے پاسپورٹ ایمنسٹی ا سکیم کیلئے درخواست گزار کو ایک پاسپورٹ رکھنے کی اجازت ہوگی،

    وزیر داخلہ شیخ رشید نے اس موقع پر ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کو کابینہ کیلئے سمری تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ بہت جلد اس کے نتائج آنے چاہیں .شیخ رشید نے کہا کہ ایمنسٹی کے حوالےسے حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی

    اس موقع پر شیخ رشید کو یہ بھی بتایا گیا کہ دہرے پاسپورٹ سے متعلق درخواستیں پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں،وزارت داخلہ کو دہرے پاسپورٹ کی ایک ہزار 629درخواستیں موصول ہوچکی ہیں،

  • راولپنڈی پولیس کے افسر کو ڈانس پارٹی میں شرکت کرنا مہنگا پڑ گیا

    راولپنڈی پولیس کے افسر کو ڈانس پارٹی میں شرکت کرنا مہنگا پڑ گیا

    راولپنڈی :بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں کئی غیرقانونی کلب اور آئس بار کام کررہے ہیں جن کے خلاف کئی دفعہ شہریوں نے رپورٹ درج کرائی اور پولیس نے ایکشن بھی لیا, حال ہی میں ٹوئٹر پر ایک صارف اسرار احمد راجپوت نے ٹوئٹ کی جس میں ایک ویڈیو ساتھ منسلک تھی اور صارف نے کہا کہ ‏میں بھی حیران تھا کہ بحریہ ٹاؤن میں ڈانس کلبز و آئس پارٹیز منعقد کروانے والے گرفتار کیوں نہیں ہوتے؟ اب آپ خود دیکھ لیں ‎@RwpPolice کے سینئر افسران ساتھ بطور PSO ڈیوٹی کرنے والے SI فضل اکبر بذات خود ڈانس پارٹی میں شرکت کر رہے
    ‎@raosardarali نیک کام کا آغاز اپنے محمکہ سے کریں

    صارف کے جواب میں راولپنڈی پولیس نے کہا کہ ‏‎‎سی پی او محمد احسن یونس نے ویڈیو سامنے آنے پر معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سب انسپکٹر فضل اکبر کو معطل کردیا ہے، مذکورہ کے خلاف انکوائری اور کاروائی کا حکم دے دیا ہے اور سی پی او راولپنڈی احسن یونس نے کہا ہے کہ غیر پیشہ ورانہ طرز عمل قابل قبول نہیں، پولیس افسران کو اپنے برتاؤ اور کردار میں محتاط رہنا ہوگا۔

  • جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل،ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا گرفتار

    جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل،ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا گرفتار

    اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل ایف آئی اے نے جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل میں ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا کو گرفتار کرلیا جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل میں اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹرنادراگوروی شنکر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا یاسر زیب پر مقدمہ درج کرلیا۔

    مقدمےکے اندراج کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر نادرا گوروی شنکر گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرایاسرزیب کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یاسر زیب نےملزم ڈپٹی ڈائریکٹر کوبچانےکےلیے10لاکھ رشوت طلب کی اور ساڑھے6لاکھ نقداورڈھائی لاکھ اکاؤنٹ میں وصول کیے۔

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ججعلی شناختی کارڈ اسکینڈل میں اب تک چھ مقدمات درج ہوئے ہیں، جعلی شناختی کارڈ اسکینڈل میں گرفتار ملزمان کی تعداد 18 ہے، جن میں نادرا کے اعلیٰ افسران اور غیر ملکی شہری و ایجنٹ شامل ہیں۔

    خیال رہے ایرانی شہری کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے کے کیس کیس کی تحقیقات میں نادراافسران کی بڑی غلطیاں پکڑی گئیں تھیں۔

  • اسلامی جمعیت طلبہ کا 17 نومبر کو اسلام آباد میں کنونشن کا فیصلہ

    اسلامی جمعیت طلبہ کا 17 نومبر کو اسلام آباد میں کنونشن کا فیصلہ

    چارسدہ ( ) اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا 17 نومبر 2021 کو اسلام آباد میں حقوق طلبہ کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس سلسلے میں اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ کے زمہ داران کا اجلاس مرکز اسلامی چارسدہ میں منعقد ہوا۔ جس میں صوبائی جنرل سیکریٹری اسلامی جمعیت طلبہ اعجاز الحق سورانی نے حصوصی شرکت کی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعجاز الحق سورانی نے کہا کہ صوبائی/ وفاقی حکومت کے تعلیمی پالیسی محض دھوکہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اگر طلبہ کے مطالبات نہ مانے تو 17 نومبر کو پورے ملک سے ہزاروں کے تعداد میں طلباء اسلام آباد لیکر جائنگے۔
    انہوں نے حکومت سے فی الفور طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چارسدہ نسیم الرحمن نے مہمانان و صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔

    جبکہ انہوں نے اپنے خطاب میں حکومت سے عبدالعلی خان ڈگری اور کامرس کالج کی نئے بلڈنگ بنانے کا مطالبہ کیا۔

    اس موقع پر فیصل خان، اشفاق، ذاکر اللہ و دیگر زمہ داران موجود تھے