کابل:افغان وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی کی کابل میں پاکستانی سفارتخانے آمد:اہم معاملات پرگفتگو،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے قائم مقام وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی نے کابل میں پاکستانی سفیر سے اہم ملاقات کی
1/2- نن غرمه د افغانستان اسلامي امارت د بهرنیو چارو سرپرست وزیر محترم مولوي امیر خان متقي په کابل کې دګاونډي هېواد پاکستان له سفیر منصور احمد خان سره ولیدل.
ذرائع کے مطابق افغان وزیرخارجہ مولوی امیرخان متقی کا استقبال پاکستانی سفیرمنصوراحمد خان نے کیا ، اس موقع پرافغانستان میں پاکستان کے سفیرمنصوراحمد خان نے مولوی امیرخان متقی کووزیرخارجہ بننے پرمبارکباد دی
افغان حکومت کے ترجمان ڈاکٹرمحمد نعیم نے اس حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے اس ملاقات کی تصدیق بھی کی ہے وہ بھی کہتے ہیں کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ ، مولوی امیر خان متقی نے ہمسایہ پاکستان کے سفیر منصور احمد خان سے کابل میں ملاقات کی۔
2/2- په لیدنه کي د سپین بولدک او چمن تر منځ د هیوادوالو د تګ راتګ په اړه مفصليې خبري وشوې.د پاکستان سفیر د سهولت رامنځ ته کولو ژمنه وکړه. همدارنګه په پاکستان کي د مېشتو مهاجرو هیوادوالو د ستونزو په حل، بشري مرستو او د دواړو هیوادو په اړیکو هم تفصیلي خبرې وشوې.
ڈاکٹرنعیم کے مطابق اس ملاقات کے دوران سپن بولدک اور چمن کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سفیر پاکستان نے سہولت دینے کا وعدہ کیا۔
اس ملاقات میں پاکستانی سفیرمنصوراحمد خان کے ساتھ ملاقات میں پاکستان میں مہاجرین کے مسائل کو حل کرنے ، انسانی امداد اور دوطرفہ تعلقات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اسلام آباد :اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکسستان نے لے لی:حکومت کوٹف ٹائم دینےکا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پاکستان میں حکومت کو کئی محاذوں پرسخت مزاحمت کا سامنا ہے اوراب توصورت حال یہ ہوچکی ہے کہ اپوزیشن کی جگہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لے لی ہے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے ،
اس سلسلے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کو نوٹس دینے کا فیصلہ کرلیا۔
اعلامیے کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں ممبران الیکشن کمیشن نثاردرانی، شاہ محمد جتوئی اوردیگر افسران نے شرکت کی اورحکومتی وزرا اوردیگراہم شخصیات کوسبق سکھانے پراتفاق کیا ہے
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس اہم اجلاس میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنرپرالزام تراشی پر وزیراطلاعات فوادچوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اعظم سواتی کے الیکشن کمیشن پر عائد الزامات پر اُن سے ثبوت مانگنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوادچوہدری نے پریس بریفنگ میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنرپرالزام تراشی کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں وزرا کو نوٹس جاری کیے جائیں تاکہ مزیدکارروائی کی جاسکے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر سینیٹ قائمہ کمیٹی پارلیمانی امور میں وفاقی وزیر اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر یلغار کردی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن حکومت کا مذاق اڑا رہا ہے اس نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں۔
اس کے بعد وفاقی وزرا نے بھی پریس کانفرنس کی تھی جس میں بھی الزام تراشی کی گئی تھی۔جس کےبعد الیکیشن کمیشن نے فرنٹ فُٹ پرکھیلنے کا فیصلہ کیا ہے اوراس سلسلے میں حکومت مخالف پی ڈی ایم اوردیگرجماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کوحمایت بھی ملنا شروع ہوگئی ہے
لاہور:پلاٹ یہ چھٹیاں اورآنیاں جانیاں:یہ آپ کو زیب نہیں دیتا:چیف جسٹس کے نام خط ،اطلاعات کے مطابق اس وقت جہاں ملک میں سیاسی ماحول گرم ہے دوسری طرف کچھ لوگ چیف جسٹس آف پاکستان کی ذات پرکچھ سوالات چھوڑ رہے ہیں
اس حوالے سے قیس مظہرحسین اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا پلاٹ لینا کوئی اچھی روایت نہیں ہے ، اگریہ اچھی روایت ہوتی توزرداری اورنوازشریف کولوگ بُرا نہ کہتے
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے آپ کے اس طرزعمل پراعتراض ہے، آپ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں مگرابھی تک اس عدالت عظمیٰ کےججزبرطانوی دور کے قوانین اورمراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں
آپ ایک طرف بہترین مراعات بھی لے رہے ہیں اوردوسری طرف چھٹیاں کرکے دنیا میں گھوم پھر رہے ہیں
قیس مظہرحسین کہتے ہیں کہ بہرکیف آپ ایک اچھی روایت قائم کریں اوراس اس کلچرکوختم کرنے کے لیے جاتے جاتے کچھ اقدامات کریں تاکہ قوم آپ کو اچھے لفظوں میں یاد رکھے
لاہور:چین سے کورونا کے سبب واپس آنے والے پاکستانیوں کامستقبل تاریک،طالب علم بےچین،حکمران خاموش تماشائی،بچپن میں سنا کرتےتھے کہ تعلیم حاصل کریں خواہ تمہیں چین جانا پڑے ، بعد میں کچھ محققین آئے اوران کا کہنا تھا کہ یہ کہاوت درست نہیں مگرپھردنیا نے دیکھا کہ چین واقعی علم کا گڑھ بن گیا اوردنیا بھرسے علم کے پیاسے چین کا رخ کرنے لگے
چین کی طرف جانے والوں میں پاکستانی بھی بڑی تعداد میں شامل تھے اوراب بھی یہی شامل ہونے کی خواہش کرتے ہیں
اب جب دنیا بھرسے آئے ہوئے طالب علم چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے موجود تھے تو اس دوران اکتوبر، نومبر 2019 میں چین میں کورونا وبا نے سراٹھا لیا اورپھردیکھتے ہی دیکھتے اس وبا نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا
اس دوران دنیا بھرکی حکومتوں نے چین سے اپنے طالب علموں کو نکالنے کےلیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی پروازیں بھیجیں اوراپنے طالب علموں کو وہاں سے نکال کے واپس لے ائے
چینی حکومت نے تمام ملکوں سے درخواست کی تھی کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں بہت جلد اس وبا پرقابوپالیا جائے گا اورپھرسے تعلیمی سلسلہ شروع کردیا جائے گا
اس دوران چین نے پاکستانی طلبا کوخصوصی درخواستیں کی کہ یہ آپ کا اپنا گھر ہے ہمیں آپ بہت عزیز ہیں اورکبھی تنہائی کا احساس نہیں ہوگا ، آپ پاکستان نہ جائیں اوراپنے تعلیمی سلسلے جاری رکھیں،
اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ وہ طالب علم متاثرہوئے جوچینی تعلیمی اداروں میں چھٹیوں کے باعث پاکستان آئے تھے، کیوں اکثرطالب ایسے تھے جودسمبرمیں پاکستان واپس آئے تھے اوران کا خیال تھا کہ وہ جنوری فروری میں واپس چین جا کراپنے تعلیمی سلسلے شروع کرسکیں مگرایسا نہ ہوسکا
ایسے طالب علموں کی تعداد ہزاروں میں ہے ، جن کا مستقبل اب چین کی خواہشات میں دب کررہ گیا ہے، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ اگرچین نے اس موقع پرواقعی پاک چین دوستی کا حق ادا نہ کیا تواس کا پاکستانیوں پر منفی اثرپڑے گا
ہاں چین سے واپس آنے والے کچھ ایسے بھی طالب علم تھے جوکورونا کی تباہ کاریوں سے ڈرتےہوئےآئے تھے، اگرطالب علم چین میں ہے تو وہ بھی بے چین تھا اورپیچھے سے اس کے والدین بہن بھائی اوردیگررشتہ دار بھی بے چین تھے ،
ہرکوئی حکومت سے مطالبہ کررہا تھا کہ ہمارے بچوں کو نکال کر پاکستان لے ،کچھ طالب علموں کی مائیں میڈیا پرآآکر روتی تھیں کہ میرے بیٹے چین میں پھنسے ہوئے ہیں ، وہاں کورونا سے دیکھتے ہی دیکھتے ہرکوئی مرتا جارہا ہے ، کوئی کہتا تھا کہ میری لخت جگرچین میں پھنسی ہوئی ہے ، غرض یہ کہ ہرطرف لوگوں کی آہ وبکا کی آوازیں آرہی تھی ،
اس وقت عجیب صورت حال تھی ، کیونکہ کورونا وبا کے آغاز میں جب چین میں ہرطرف تباہی پھیلتی نظرآرہی تھی تو اس وقت چین میں بیھٹے کچھ پاکستانی طلبا اپنے پیاروں ، اپنے والدین ، بہن بھائیوں کو ایسے دردناک مناظروہاں سے بھیج رہے تھے اور اس ان مناظرکو بنیاد بنا کرایسی دہائیاں دے رہے تھے کہ ان کی بے بسی کودیکھ ہرآنکھ سے آنسو جاری تھے
حتی کہ حکومتی اہلکار بھی اس موقع پراپنے جزبات پرقابونہ پاسکے اورعوام کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان کے پیاروں کو بہت جلد چین سے پاکستان پہنچایا جائے گا اورپھر ایسے ہی ہوا
اس بے بسی ، بے چینی اورآہ و بکا کے دوران ایسے لوگ بھی سامنے آئے جن کی کہی ہوئی باتیںآج سچ ثابت ہورہی ہیں ، ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ وبا دنیا بھر میں پھیل رہی ہےاورجب یہ پاکستان میں پھیلے گی توپھریہ طالب علم کدھرجائیں گے اس پربعض والدین نے جزباتی ہوکرسخت تنقید بھی کی
لیکن آج وہ الفاظ واقعی سچ ثابت ہوئے جب پاکستان میں اس وبا نے پنجے گاڑھے اورپھردیکھتے ہی دیکھتے پوری قوم کورونا کی وبا میں پھنس کررہ گئی ہے
اس دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقارعرف ذلفی بخاری کی کوششوں سے چین میں پھنسے پاکستانی طلبا کو خصوصی پروازوں کے ذریعے نکال کرپاکستان لانے میں اہم کردارادا کیا
ان غیرملکی طالب علموں کی بےچینی کوختم کرنے کے لیے چین کے وزیر خارجہ وانگ ونبین نےانہی دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چینی حکومت غیر ملکی طلبہ کے حقوق اور جائز مطالبات کا ہر صورت خیال رکھے گی، اس وقت چینی وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستانی طالب علم چین کواپنا دوسرا گھرسمجھیں گھبرائیں نہ یہ مشکل وقت گزرجائےگا اورجومشکل وقت میں ثابت قدم رہے وہ کامیاب بھی ہوجائیں گے
ان میں سے کچھ ایسے پاکستانی طالب علم جو چین میں ثابت قدم رہے اوربے چینی میں اپنے آپ کو سنبھالا اورپاکستان میں آنے کی بجائے وہاں رہ کراحتیاطی تدابیراختیارکیں وہ آج سب سے زیادہ خوشنصیب ہیں ، جن کی تعلیم بھی ضائع نہ ہوئی اورنہ ہی ان کوکسی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش آیا
اس پر چینی حکومت نے پاکستانی حکومت کے ان فیصلوں کو بہت سراہا جس میں پاکستانی حکومت نے عوام الناس کومطئمن کیا تھا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں چین میں پاکستانی طلبا محفوظ اوران کو تمام سہولیات دی جارہی ہیں
اس کا کچھ اظہارکراچی میں اس وقت چین کے قونصل جنرل لی بیجیان نے کہا تھا کہ پاکستان کا چین سے اپنے شہریوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ ’بہت ہی مشکل لیکن اچھا‘ ہے۔
لی بیجیان کا کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ پروگرام واضح طورپرکہا تھا کہ چین سے شہریوں کو واپس لانے یا وہاں رکھنے کا فیصلہ بہت ہی مشکل تھا لیکن حکومت نے شہریوں کو نہ لانے کا مشکل فیصلہ کیا ہے
پاکستان میں چینی حکام کی طرف سے یہ کہا تھا کہ پاکستانی طالب علموں کو چین میں بہتر سہولیات دی جاری ہے۔
’ہماری حکومت ان کو ہر وہ سہولت دے رہی ہے جس کی انہیں کورونا سے بچاؤ کے لیے ضرورت ہے۔ انہیں بہترین سہولیات بشمول حلال گوشت مفت میں مل رہا ہے، ان کے ساتھ ہم اپنے بچوں کی طرح خیال رکھ رہے ہیں
بیجیان کے مطابق 50 ہزار پاکستانی ورکرز اور طالب علم چین میں رہ رہے ہیں اور ان کو نکالنے سے وائرس پھیلنے کا خدشہ تھا
بہر کیف بات ہورہی ہےکہ اس کے بعد بڑی تعداد میں پاکستانی طلبا بضد پاکستان واپس پہنچ گئے اورپھروہی کچھ ہوا جن کے خدشات ظاہرکیے جارہے تھے ، وہی طالب علم جن کو چین میں کورونا سے بچاو کے لیے بہترین حفاظتی انتظامات میسر تھے جب پاکستان میں آئے اورکورونا نے ہرطرف تباہی مچادی تو پھریہی طالب علم رونے دھونے لگے اور پھراپنے اس فیصلے پراپنے آپ کو کوسنے لگے کہ بہترہوتا آج چین میں ہوتے اورجس طرح چین سے وبا پر قابو پالیا گیا ہے وہ بھی محفوظ رہتے
اب اس کے بعد جب چین نے کورونا وبا پرقابو پالیا تو جوپاکستانی طلبا واپس پاکستان آچکے تھے اب ان کو چین میں وہ اعلٰی سہولیات اوران کی اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کی خواہش بے چین کررہی تھی ، جب یہ بے چینی حد کوبڑھ گئی توان طلبا نے حکومت پاکستان کی منتیں کرنا شروع کردیں کہ ان کو واپس چین بھیجا جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں
لیکن اس دوران جہاں دنیا بھرمیں کورونا وبا کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا پاکستانی حکومت بھی ان میں سے ایک ہے جس کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے ،آبادی زیادہ ہے لوگوں میں شعوربہت کم اوروسائل بھی بہت کم ان حالات میں پاکستانی حکومت کے لیے فی الفوران طالب علموں کوچین بھیجنا بہرحال مشکل دکھائی دے رہا تھا ،
چینی تعلیمی اداروں میں دسمبر کی تعطیلات کی وجہ سے جو 5000 سے زائد پاکستانی طلبا پاکستان آگئے تھے اب اس وقت واپس چین جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔ بظاہر تو ہمسائیہ ملک چین قریب قریب کورونا وبا پر کنٹرول حاصل کر چکا ہے اور غیر ملکی طلبا کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت بھی دے چکا ہے۔لیکن یہ مشروط اجازت اکثرکی پہنچ سے باہر ہے
اگرپاکستان بھرسے اس بات کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ زیادہ تر پاکستانی طلبا کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے گزشتہ سال کے آخری مہینوں میں واپس چین پہنچ جانا چاہیے تھا.
لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ تاخیر کی وجہ سے ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ ان طلبا نے پاکستانی اور چینی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی واپسی کے نظام الاوقات کو حتمی شکل دیں لیکن ابھی تک دونوں جانب سے کوئی پیش رفت دیکھی نہیں گئی۔
اگریہ دیکھا جائے کہ چین میں کتنے پاکستانی مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کررہے تھے یا کررہے ہیں تو ان کی تعداد جو پچھلے مہینے پاکستان چین ایمبیسی نے ایک گوگل شیسیٹ کے ذریعے چین سے واپس پاکستان آنےوالے طلبا کے سے معلومات لی تھیں ، وہ تعداد 6 ہزار سے زائد ہے
مسئلہ تعداد کا اپنی جگہ مگردیکھنا یہ ہے کہ پی ایچ ڈی اوروہ بی پاکستانی طلبا کی فائنل مراحل میں اگراس میں مزید تاخیرہوتی ہے یا حکومتی سستی کی وجہ سے یہ وقت بھی گزرجاتا ہے تویہ کتنی بڑی بدقسمتی ہوگی
ادھر اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے حکومت کے پاس ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں ہے ، حکومت وعدوں پرٹرخارہی ہے اورصرف سیاسی بیان بازی سے ان بے بس طالب علموں کوللچارہی ہے
دوسری طرف طالب علموں کا یہ کہنا ہے کہ اگرحکومت اس موقع پرکوئی فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتی تو اس سے سے 2016 اور 2017 کے پی ایچ ڈی والے طالب علموں کی ساری محنت ضائع ہوجائےگی ،
اس حوالے سے چین سے واپس آئے ہوئے ایک پاکستانی طالب علم ضیاالحق کہتے ہیں کہ چونکہ پی ایچ ڈی کے لیے چار سال کا پہلے ایک معینہ مدت ہوتی ہے پھراس میں دوبارایکسیٹینشن ہوتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ان دوسالوں والے طلبا کا یہ ایکسٹینشن کا پریڈ بھی اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے اوراگرحکومت نے کوئی بندوبست نہ کیا توپھران کی ساری زندگی کی محنت مشقت ضائع چلی جائے گی
ادھر چین میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے جانے والے پاکستانی طلبہ کے مسائل کے حوالے سے وزارت سمندر پار پاکستانیزنے چند ماہ قبل یہ کہا تھا کہ ’یہ مسئلہ ہمارے علم میں ہے اور اس حوالے سے طلبہ سے بات چیت بھی کی گئی تھی لیکن یہ مکمل طور پر دفتر خارجہ کا کام ہے اور دفتر خارجہ ہی اس حوالے سے کچھ بتا سکتا ہے۔‘
جبکہ دوسری جانب دفتر خارجہ کے حکام اپنی جان چھڑانے کے لیےیہ کہتے ہیں کہ ’چین کی جانب سے سفری پابندیاں صرف پاکستان پر نہیں بلکہ دیگر ممالک پر بھی عائد کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ہم چینی حکومت سے رابطے میں ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے کوئی حل نکل آئے گا۔‘
یاد رہے کہ اس معاملے پرتیسرا فریق یا سہولت کار پاکستان پی آئی اے ہے جس کے ترجمان عبد اللہ حفیظ نے چین کی فلائٹس کے حوالے سے بتا چکے ہیں کہ چین کی جانب سے سفری پابندیوں کے باعث صرف خصوصی پروازیں چلائی جارہی ہیں۔ اگر حکومت چین سے خصوصی اجازت دلواتی ہے تو پی آئی اے پروازیں چلا سکے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پی آئی اے کا چین کے لیے محدود آپریشن جاری ہے جو کہ خصوصی اجازت کے بعد ہی آپریٹ کیا جارہا ہے جس میں بزنس اور ری یونین ویزہ رکھنے والوں کو سفر کرنے کی اجازت ہے۔
اس موقع پر یہ بات بھی یاد رہے کہ چین میں زیادہ تر پاکستانی طلبا چینی حکومت کے وظیفوں پر تعلیم مکمل کرنے چین گئے ہوئے ہیں۔ اب ان کے وظیفے بھی بیجنگ حکومت نے گزشتہ ایک برس سے روک رکھے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق کسی ایک پاکستانی طالب علم کو چین کی جانب سے 70 ہزار سے 90 ہزاربطور وظیفہ دیا جاتا ہے۔
2018 کے اعدادوشمار کے مطابق چین میں 28 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو چین میں غیر ملکی طلبہ کی تیسری بڑی تعداد ہے۔
سب سے زیادہ تعداد پچاس ہزار شمالی کوریا کے طلبہ ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر تھائی لینڈ ہے جس کے 28 ہزار 608 طلبہ چین میں مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
چین میں مجموعی طور پر 196 ممالک کے چار لاکھ 92 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور 2018 کے مقابلے میں 2019 میں اس تعداد میں 0.62 فیصد اضافہ ہوا ہے
یہ بھی یاد رہے کہ اس حوالے سے باغی ٹی وی مسلسل چین میں زیرتعلیم پاکستانیوں کے دل کی آواز بنتا رہا ہے اورچین سے آئے ہوئے ہزاروں پاکستانی طالب علموں کی اس دکھ بھری داستان اوران کی آواز کو وزیراعظم پاکستان اورچینی حکومت تک پہنچانے کے لیے معروف سینیئرتجزیہ نگار،ممتازصحافی مبشرلقمان بھی پہنچا چکے ہیں اورابھی بھی وہ اس سلسلے میں ان اپنے معماروں کے محفوظ مستقبل کے لیے ہرفورم پراس مسئلے کواٹھا رہے ہیں
قاہرہ:اسرائیلی وزیراعظم مصرپہنچ گئے:کس نے استقبال کیا؟اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت اسرائیل مسلم دنیا سے تعلقات بہترکرنے کے حوالے سے بڑی تیزی سے کوشاں ہے اوراس سلسلے میں اسرائیل کے وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے شمالی افریقی ملک مصر کے دورے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔
صدارتی ترجمان بسام رادی نے کہا کہ عبدالفتاح السیسی نے شرم الشیخ کے بحر الاحمر کے ریزورٹ میں اسرائیلی وزیراعظم کی میزبانی کی جہاں انہوں نے اسرائیلیاسرائیلی وزیراعظم مصرپہنچ گئے:کس نے استقبال کیا؟اہم خبرآگئیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ‘امن عمل کو بحال کرنے کی کوششوں’ پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں مصری انٹیلی جنس کے سربراہ عباس کامل اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر ایال ہولاتا نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ عرب دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک مصر 1979 میں کئی دہائیوں کی دشمنی کے بعد اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے والی پہلی عرب ریاست تھی۔
مئی میں اس نے اسرائیل اور فلسطین میں غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والے فلسطینی گروپ حماس کے درمیان 11 روز کی خون ریز کشیدگی کے بعد جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مصر اسرائیل کے ساتھ مضبوط سفارتی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے حماس کے ساتھ ساتھ اس کے سیاسی حریف محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کے رہنماؤں کی باقاعدگی سے میزبانی کرتا ہے۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے اتوار کو غزہ میں رہائشی حالات کو بہتر بنانے اور حماس سے لڑائی ختم کرنے کے بدلے میں نئے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کی تجویز پیش کی جس کا مقصد ‘تشدد کے نہ ختم ہونے والے دور’ کو حل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہمارے مصری شراکت داروں کی مدد اور شمولیت کے بغیر اور ان کی اس میں شامل ہر فرد سے بات کرنے کی صلاحیت کے بغیر نہیں ہوگا’۔
نفتالی بینیٹ کا دورہ محمود عباس کے عبدالفتاح السیسی سے قاہرہ میں ہونے والی ملاقات کے 10 روز بعد سامنے آیا۔
یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔
پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔
حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔
کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔
۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔
۔ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔
۔ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔
دسویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کو پاس کرنے کا معاملہ، حکومت سندھ نے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے فیصلے سے اتفاق نہ کرنے کا اعلان کر دیا- تفصیلات کے مطابق سندھ کے وزیر تعلیم نے امتحانات سے متعلق وفاقی وزیر تعلیم کے فیصلے سے اتفاق نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے کہا کہ شفقت محمود کے اعلانات سے سندھ متفق نہیں، وزرائے تعلیم کے اجلاس میں تمام فیصلوں پر سندھ آمادہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں امتحانات ہوچکے ہیں اور کورونا وبا کے دوران بہترین انداز سے امتحانات منعقد کروائے۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سال میں دوبار امتحانات کی تجویز کو اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں لے جائیں گے اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کو ہی حتمی فیصلہ تصور کیا جائےگا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے 10 ویں اور12 ویں جماعت کے تمام طلبہ کو پاس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیل ہونے والے طلبہ کو رعایتی 33 نمبر دے کر پاس کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزرائے تعلیم نےفیصلہ کیا کہ کورونا کے باعث دوبارہ فوری امتحانات ممکن نہیں لہٰذا میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سال میں دوبارہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ وزرائے تعلیم نے فیصلہ کیا کہ امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کانفرنس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سال میٹرک امتحانات مئی اور جون میں ہوں گے جبکہ نیا سیشن اگست سے شروع ہوگا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت شفقت محمود نے ٹوئٹ میں کہا کہ بورڈ کے امتحانات مئی اور جون میں ہوں گے اور ساتھ ہی آئندہ تعلیمی سال 22 اگست سے شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھاکہ او اور اے لیول کے امتحانات شیڈول کے مطابق ہوں گے جبکہ جامعات امتحانات کا اپنا شیڈول بنائیں گی۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کیلیے بے شمار نعمتیں پیدا کیں تا کہ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا جا سکے
پوری دنیا و کائنات اس واحد لاشریک کی ہے اور انسان خوش قسمت ہے جسے اشرف المخلوقات بنایا فرشتوں کو بھی اللہ بناسکتا تھا لیکن اللہ نے صرف انسان کو یہ چصاہمیت اور مرتبہ دیا۔
اللہ نے انسان کیلیے کچھ حقائق رکھے
جہاں اللہ نے انسان کو نعمتوں سے نوازا وہی انسان پر کچھ ذمہ داریاں ہیں
میں آج اخلاق پر بات کرو گی اپنی اس تحریر میں
انسان کو اپنے آپ کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسا ہے کیا ہے اور کہاں کھڑا ہے۔۔۔؟
انسان چاہے دنیا کی ساری ڈگریاں حاصل کرلیں لیکن اگر اس کے پاس اچھا اخلاق نہیں تو وہ دنیا کا سب سے ناکام ترین انسان ہے
یہ دنیا فانی ہے سب نے ایک دن فنا ہوجانا ہے آج نہیں تو کل۔۔کل نہیں تو پرسوں لیکن اس فانی دنیا سے سبکو ہی کوچ کرنا ہے
انسان کے ساتھ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے سب کچھ دفن ہوجاتا ہے سوائے ایک چیز کے اور وہ یے ۔۔۔*اخلاق*
اخلاق ہمیشہ قائم رہے گا
آجکل انسان چاہے ترقی کرگیا ہے لیکن انسانوں میں اخلاقیات کی کمی ہے
اخلاق کیسا ہونا چاہیے!!!!
تمہارے اخلاق عالیشان ہونے چاہیے تمہیں درگزر کرنا اتا ہے سب کو منانا آتا ہو سب کو برداشت کرنا آتا ہو
ہر انسان کی بات چاہے کڑوی ہو برداشت کرنا سیکھو
اگر کوئی تمہارے خلاف ہوگیا یے تو اسے معاف کرو
ہمیشہ بات میں پہل کرو
لوگوں سے اختلاف نہ کرو
اختلاف کے باوجود تم اسے معاف کردوں
تمہیں اپنی رائے سے ہٹنا آتا ہو
تمہیں دوسروں کا انکار سننا آتا ہو
تمہیں لوگوں کی تلخیوں کو برداشت کرنا آتا ہے
اسلام میں صرف نماز روزہ زکوۃ ہی نہیں ہیں یہ تو دین کی عمارت ہیں لیکن یہ اخلاق تمہارے ایمان کا بہترین جزو ہے
معاف کرنے والی ذات بیشک اللہ کی ہے
لیکن اس دنیا میں رہتے ہوئے تم دوستوں کو معاف کردوں چاہے بہت بڑی غلطی ہو یا کوئی بڑا بول کہہ دیں
تم اپنے اندر صبر کی طاقت کو پیدا کرو برداشت پیدا کرو تمہارا اخلاق بہترین ہے اگر تم لوگوں ساتھ اچھا سلوک کرتے ہو چاہے وہ دشمن ہی ہو
تم ہر کام میں صبر سے کام لیتے ہو تو تم کامیاب انسان ہو
اور جو یہ سب نہیں کرتا وہ بیشک ناکام انسان ہے
اپنے اخلاق کو بہتر بنا لوں
جو لوگوں ساتھ برا سلوک کرتا کلمہ پڑھنے والا جنت اور دوزخ پر ایمان رکھنے والا یہ کرتا تو اللہ معاف نہیں کرتا
اپنے اخلاق کو اپنی پہچان بناو کہ مرنے کے بعد تمہیں یاد رکھاجائے
اپنے اندر آس پاس لوگوں کو آزمائش میں صبر کرنے کا عمل بتاؤ
بیشک صبر انسان کی سب سے بڑی طاقت ہے
چپ رہنا سیکھو خاموش رہنا سیکھو
صبر کو اپنا کر تم ایسی طاقت بن جاؤ گے کہ کوئی تمہیں ہرا نہیں سکتا
لیکن اگر میں حقیقت بیان کرو تو سب کچھ اس کے برعکس ہورہا ہے ہر انسان ایک دوسرے کو سمجھے اور جانے بغیر برا کہہ رہا ہے انسان میں صبر ختم ہوچکا ہے
کیا ہمارے نبی نے یہ سب مسلمانوں کو اپنی امت کو تعلیمات دی جو اب سب نے اپنا رکھی ہیں!!!
ابھی بھی وقت ہے ٹھہر جاؤ رک جاؤ اپنے آپ کو سدھار لو
صبر کا اپنی طاقت بنالو میرے رب کی قسم!! اتنا سکون حاصل کرو گے کہ سب پیسہ چیزیں بھول جاؤ گے
یاد ہو گا تو بس اللہ اس کے لاتعداد نعمتیں؛؛؛
میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد کسی کی دل ازاری نہیں کسی کو مشکل میں ڈالنا نہیں ہے
بس اتنا کہوں گی کہ اپنے آپ کو پہچانو
اپنے اخلاق کو خوبصورت کرلو
تاکہ دنیا اور آخرت سنور جائے!!!!!!
اللہ پاک سے دعا یے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اخلاق کو دوسروں کیلئے راحت کا باعث بنادیں
سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دیں
کراچی تاجر الانئس کے چیئر مین ایاز میمن موتی والا نے کہا ہے کہ عمر شریف پاکستان کے لیجنڈری اداکار ہیں اور پاکستانی شو بز انڈسٹری کا سرمایہ ہے پوری قوم ان کی صحت و تندرستی کے لیئے دعائوں کاسلسلہ جاری رکھیںاور حکومت جلد از جلد عمر شریف کے علاج کے لیے بیرون ملک جانے کے لیئے تعاون کرے اس سے قبل بھی ہم نے بیشتر فنکار وسائل اور حکومتی تعاون نہ ملنے کی وجہ سے ہم نے گنوا دیئے ہیں فنکار قوم کا سرمایہ ہیں ذاتی طورپر عمر شریف کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کے لیئے حاضر ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ سے جاری کردہ بیان میں کیا، ایاز میمن موتی والا نے کہا کہ فنکار کسی بھی ملک کی پہچان اور سفیر ہوتے ہیں عمر شریف نے دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی فنکاری سے پاکستان کا نام روشن کیا، عمر شریف نے مزاح کی دنیا میں اپنی فنکاری سے جان بھری اسٹیج ڈرامے جب شدید مشکلات میںتھے اس وقت میں عمرشریف نے اسٹیج ڈراموں میں انٹری دیکر اپنی اداکاری سے اسٹیج ڈراموں کو نیا ٹرینڈ دیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے فنکاروں کی بدقسمتی ہے کہ حکومتی سطح پر ان کو وہ سرپرستی کبھی نہیں مل سکی جو مختلف ممالک میں فنکاروں کو دی جاتی ہے شوبز انڈسٹری ایک منافع بخش انڈسٹری ہے اور اگر حکومت فن و فنکار کے ساتھ تعاون کرے تو نہ صرف بہت سارا نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا بلکہ بیروزگاری کو ختم کرنے میں کافی مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لیجنڈ اداکار عمر شریف کے علاج معالجے کے لیئے جلد از جلد ضروری اقدامات کرے اور ان کو علاج معالجے کے لیئے بیرون ممالک جانے کے لیئے ویزا اور دیگر اخراجات برداشت کرے عمر شریف نے پاکستان کو اپنے فن اور اداکاری سے جو عزت اور مقام بین الاقوامی شوبز انڈسٹر ی میں دلوایا ہے وہ کوئی آسان کام نہیں ہے آج جب اس فنکار کو پاکستان کی حکومت کی جانب سے مدد کی ضرورت ہے تو وزیراعظم پاکستان کو چاہیے کہ وہ عمر شریف کی مدد کریں اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فنکاروں کی فلاح کے لیئے کوئی جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی مرتب کی جائے جس کے ذریعے مشکل وقت میںا ن کے علاج معالجے سمیت دیگر اخراجات کیلئے ان کو پریشانی نہ ہو۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سربراہ بیت المال سندھ حنید لاکھانی نے گزشتہ روز کراچی میں دو سرکاری ہسپتالوں کی آپس کی لڑائی میں لیاقت آباد کے ٹریفک حادثے کا شکار زخمی شہری کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کی بے حسی ایک جیتی جاگتی زندگی کو نگل گئی بتایا جائے کہ ایک سرکاری ہسپتال نے دوسرے سرکاری ہسپتال کا کیس لینے سے کیوں انکار کیا جبکہ قانون کے مطابق ایمرجنسی کے کیس کو فوری طبی امداد دی جاتی ہے اور اس کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرتی ہے، ان خیالات کاا ظہار انہو ںنے حنید لاکھانی سیکرٹریٹ سے جاری کردہ بیان میں کیا، حنید لاکھانی نے کہا کہ ہسپتال انتظامیہ کی بے حسی اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے پیش آنے والے واقعے نے ہمارے سر شرم سے جھکا دیئے ہیں سرکاری فنڈز سے چلنے والی سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیئے آنے والے غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہوتا ہے ،غریب شہری پرائیویٹ ہسپتالوں کے اخراجات نہیں برداشت کر سکتے مجبورا وہ لوگ علاج معالجے کے لیئے سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں لیکن کراچی کے سرکاری ہسپتال بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور افسوس کی بات تویہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غفلت کے باعث مریضوں کے علاج کا کوئی ضابطہ اخلاق اور طریقہ کار ہی نہیں ہے اس وقت کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں صرف چند سستی ادویات ہی میسر ہیں جبکہ مہنگی اور جان بچانے والی تمام ادویات باہر کے میڈیکل اسٹورز سے لانے کا کہہ دیا جاتا ہے سرکاری ہسپتال میں داخل مریضوں کو پہلے ادویات کے حصول کے لیئے دربدر کیا جاتا ہے اور اس کے بعد باہر سے لانے کا کہہ دیا جاتا ہے، سندھ کی عوام کی بدقسمتی ہے کہ سندھ کا اربوں روپے کا بجٹ سندھ حکومت کے چور اور ڈاکوئوں کی عیاشیوں کی نظر ہوجاتا ہے محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے بھر میں 669سرکاری ایمبولینسز موجود ہیں جن میں سی168خراب ہیں اور یوں سندھ کے 96ہزار افراد کے لیئے محض ایک ایمبولینس دستیاب ہے ، انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ کے دور دراز کے علاقوں میں لوگ گدھا گاڑی، بیل گاڑی، چنچکی رکشہ، موٹر سائیکل ، ٹریکٹر ٹرالی جیسی سواریوں پر مریضوں کو لانے پر مجبور ہیں کیونکہ ایمبولینس اور ان کے لیئے دیا جانے والا پٹرول کو سارا بجٹ ہسپتال انتظامیہ یا پھر سندھ حکومت کے چور کھا جاتے ہیں، انہوں مزید کہا کہ بے شرم اور بے حس لوگ ہیں جو اس طرح غریبوں کے علاج معالجے کا فنڈ بھی کھاجاتے ہیں نہ جانے کتنے غریب لوگ بروقت اور صحیح طبی سہولیات نہ ملنے پر جان کی بازی ہار جاتے ہیں جن کے ذمہ دار یہی لوگ ہیں جو فنڈز کھاتے ہیں اور سرکاری ادویات بیچ دیتے ہیں ۔