Baaghi TV

Author: +9251

  • کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں 18 وارڈز میں کامیاب

    کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں 18 وارڈز میں کامیاب

    پشاور:کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن: پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں 18 وارڈز میں کامیاب ،اطلاعات کےمطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام 37 وارڈز کے غیر سرکاری نتائج اور غیر حتمی نتائج سامنے آگئے۔

    کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی الیکشن کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہیں ، ادھر غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق صوبے میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے 18 وارڈز میں کامیابی حاصل کی۔

    غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق آزادامید واروں کو 9، مسلم لیگ ن کو 5، پیپلزپارٹی کو 3 اور عوامی نیشنل پارٹی کو 2 وارڈز میں کامیابی ملی۔

    ادھرملک بھر میں کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن کے نتائج کا سلسلہ جاری ہے، تحریک انصاف کا راولپنڈی اور ملتان میں صفایا ہوگیا، پشاور میں صرف ایک سیٹ ملی۔ اوکاڑہ کے پانچ میں سے چار وارڈ میں آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ لاہور میں ن لیگ، گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کو برتری حاصل ہوئی۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق پولنگ کا عمل صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفہ کے جاری رہا۔ اس ضمن میں تمام انتظامات کئے گئے تھے۔ پولنگ سٹیشنوں پر امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لئے پولیس اور رینجرز اہلکار تعینات رہے۔

    صوبائی حکومتوں کو انتہائی حساس پولنگ سٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرہ جات نصب کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ ملک بھر کے 42 کنٹونمنٹ بورڈ میں 219 وارڈز بنائے گئے لیکن صرف 203 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔ 7 نشستوں پر الیکشن ملتوی کر دئیے گئے۔

    الیکشن کمیشن نے کی جانب ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ پولنگ کے اختتام پر پریذائیڈنگ افسران گنتی کے فوراً بعد نتائج کا اعلان پولنگ سٹیشن پر کریں گے جبکہ ریٹرنگ آفیسر صاحبان ہر وارڈ کے نتائج کی تکمیل کے بعد فوری طور پر غیر حتمی نتائج کا اعلان کریں گے۔

  • دنیا کے8 انٹیلی جنس چیف پاکستان آئے:اللہ نے پاکستان کوعزت دی:بھارت کوتکلیف ہورہی ہے:شیخ رشید

    دنیا کے8 انٹیلی جنس چیف پاکستان آئے:اللہ نے پاکستان کوعزت دی:بھارت کوتکلیف ہورہی ہے:شیخ رشید

    کراچی : دنیا کے8 انٹیلی جنس چیف پاکستان آئے:اللہ نے پاکستان کوعزت دی:بھارت کوتکلیف ہورہی ہے:اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ دنیا کے 8 انٹیلی جنس چیف پاکستان آئے‘ بھارت میں صف ماتم بچھا ہوا ہے ، اللہ نے پاکستان کو عزت دی ہے ،

    شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فضا بنائی جارہی ہے جس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ، اپوزیشن جماعتیں ہمارے خلاف نہیں بلکہ الیکشن مہم پر ہیں ، الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق الیکن کمیشن کے تحفظات دور کیے جائیں گے۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کی دلچسپی صرف امن و استحکام ہے، پاکستان دنیا کے ساتھ امن و امان کی بات کرے گا ، ہم نے امن کی خاطر طالبان کو امریکا کے ساتھ بٹھایا ، پاکستان نے آٹھ سے دس ہزار افراد کو افغانستان سے نکال کر دوسرے ممالک تک پہنچایا،

    شیخ رشید نے کہا کہ بھارت میں صف ماتم بچھا ہوا ہے ، بھاتی میڈیا جھوٹ اگل رہا ہے اور چیخ چیخ کر پاکستان پر پابندیاں لگانے کی بات کررہا ہے ، مودی پنج شیر کی من گھرت کہانیاں چلا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان کے اکاؤنٹس منجمد کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے ، دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان کے اکاؤنٹ بحال کیے جائیں ، پاکستان نے افغان سرحد پر باڑ اس لیے لگائی تاکہ دہشت گردی نہ ہو ، پورے پاکستان میں کہیں افغان مہاجر کیمپ نہیں ہیں ، جو لوگ چوری چھپے پاکستان آئے تھے انہیں اسی راستے واپس بھجوادیا ہے لیکن پاکستان میں فرقہ وارانہ فضا بنائی جارہی ہے جس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

  • کنٹونمنٹ بورڈ زانتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری

    کنٹونمنٹ بورڈ زانتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری

    اسلام آباد:کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات، نتائج کا سلسلہ جاری،ن لیگ دوسرے نمبر پر،تحریک انصاف کا پلڑہ بھاری ،تمام 212وارڈزکے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج موصول ہوگئے ۔ حکمران جماعت کو لاہور ، راولپنڈی ، ملتان ، پشاور میں بڑا دھچکا لگاہے ۔غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 60،پاکستان مسلم لیگ (ن)59،آزادامیدواروں نے 55، پاکستان پیپلز پارٹی17،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 10،جماعت اسلامی7،عوامی نیشنل پارٹی2 اوربلوچستان عوامی پارٹی نے 2نشستوں پرکامیابی حاصل کی ہے ۔ملک بھر میں 7نشستوں پر پہلے ہی امیدواربلا مقابلہ کامیاب ہو چکے ہیں۔

    لاہور کے دونوں کنٹونمنٹ بورڈز میں19میں سے 15 وارڈز پر ن لیگ کامیاب ہوگئی،راولپنڈی میں بھی میدان مارلیا،ملتان میں 10میں سے 9نشستوں پرآزادامیدوارکامیاب ہوئے ،پی ٹی آئی کوئی سیٹ نہ جیت سکی۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی نے 10میں سے 6نشستیں جیت لیں ،کراچی میں پیپلزپارٹی،حیدرآبادمیں ایم کیوایم کی برتری رہی،خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے 18سیٹیں نکال لیں، 9آزادامیدوار فاتح رہے ،کوئٹہ میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔

    لاہور میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت سے میدان مارا لاہور کنٹونمنٹ کی 10 نشستوں میں 6 نواز لیگ جیت گئی 3 سیٹیں پی ٹی آئی، ایک آزادامیدوار لے اڑا۔ والٹن کینٹ میں نواز لیگ نے کلین سویپ کیا۔ دس میں سے 9 سیٹیں جیت لیں، ایک نشست پر امیدوار کے انتقال کے باعث الیکشن نہ ہو سکا

    راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں بھی نواز لیگ 9 میں سے 7 سیٹیں لے کر فاتح رہی۔ پی ٹی آئی ایک بھی نشست نہ لے سکی۔ دو آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے۔ چکلالہ کینٹ سے مسلم لیگ ن نے میدان مارلیا، دس میں سے 5 نشستیں حاصل کیں، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نے دو، دو، آزاد امیدوار نے ایک سیٹ جیت لی۔

    واہ کینٹ کی 10 میں 8 سیٹوں پر مسلم لیگ ن، دو پر پی ٹی آئی نے کامیابی حاصل کی۔ ٹیکسلا کی 3 وارڈز پر ن لیگ فاتح رہی۔ پی ٹی آئی 2 سیٹیں لے سکی، مری میں ایک نشست پر تحریک انصاف، ایک پر نواز لیگ جیتی، اٹک اور سنجوال میں دو، دو جبکہ کامرہ کینٹ میں ایک آزاد امیدوار کامیاب رہا۔ملتان کنٹونمنٹ میں حکمران جماعت کا صفایا ہو گیا۔ 10 میں سے 9 نشستیں آزاد امیداور لے اڑے۔ ایک سیٹ نواز لیگ کے حصے میں آئی، بہاولپور کی 3 وارڈز پر ن لیگ کامیاب ہوئی جبکہ 2 پر پی ٹی آئی نے کامیابی سمیٹی۔ سیالکوٹ کی 5 وارڈز میں مسلم لیگ ن تین سیٹیں لے کر فاتح رہی، تحریک انصاف دو سیٹیں لے سکی۔گوجرانوالہ میں 10 نشستوں میں سے تحریک انصاف 6 پر کامیاب رہی، مسلم لیگ ن اور آزاد امیدوار دو، دو سیٹیں لے سکے۔ منگلامیں ایک نشست نون لیگ، ایک آزاد کے حصے میں آئی۔

    سندھ میں کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق کراچی فیصل کنٹونمنٹ میں تین سیٹوں کے ساتھ پی ٹی آئی نے اکثریت حاصل کرلی۔ جماعت اسلامی کو ایک سیٹ ملی، ایک آزاد امیدوار جیتا۔ ملیر کینٹ میں بھی پی ٹی آئی چار سیٹوں کے ساتھ فاتح رہی، پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے دو، دو نشستیں جیتیں، ایک آزاد امیدوار کامیاب رہا۔ کراچی کینٹ میں دو سیٹیں ایم کیو ایم، دو آزاد امیدواروں کے نام رہیں۔ کورنگی کنٹونمنٹ کی 5 میں سے 2 نشستیں ن لیگ جیت گئی۔ پی ٹی آئی، پی پی اور ایم کیو ایم کو ایک ایک سیٹ ملی۔ منوڑہ کنٹونمنٹ کی دونوں سیٹیں پیپلزپارٹی لے گئی۔ حیدرآباد میں ایم کیو ایم نے سات سیٹوں کے ساتھ برتری حاصل کرلی۔ تین پیپلزپارٹی کے نام رہیں، پنو عاقل کی ایک نشست آزاد امیدوار جیتا۔

    جہلم میں دونوں سیٹیں تحریک انصاف لے گئی۔ کھاریاں کی دونوں نشستیں بھی پی ٹی آئی کے نام رہیں۔ سرگودھا میں 5 سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، پی ٹی آئی 3، ن لیگ 2 پر فاتح رہی۔ اوکاڑہ کی 5 میں سے 4 نشستوں پر آزاد، ایک پر پی ٹی آئی کو کامیابی ملی۔

    پنوعاقل وارڈ ون کے تمام 2 پولنگ سٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار محمد یعقوب مہر 115 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلز پارٹی کے میجر (ر) احمد علی سومرو 107 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے مردان وارڈ 2 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق اے این پی کے وحید خان 126 ووٹ لے کر کامیابرہے جبکہ تحریک انصاف کے طارق علی 92 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔لورالائی کے وارڈ نمبر ون کا مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق آزاد امیدوار وحید خان 225 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار ظریف خان 203 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔منوڑہ کینٹ وارڈ 1 کا مکمل غیر حتمی غیر سرکاری نتیجہ بھی آ گیا ہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد طیب 111 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار عبدالعلیم کوکنی 63 ووٹ لے سکے۔منوڑہ واڈر نمبر 2 سے پیپلزپارٹی کے فضل خان 550 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار ایاز خان 198 ووٹ لے کر دوسری نمبر پر رہے۔

    ملتان کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 7 کا مکمل غیر سرکاری نتیجہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ غیر حتمی نتائج کے مطابق آزاد امیدوار شمشاد علی انصاری 396 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار ناصر علی انصاری 318 ووٹ لے سکے۔ ملتان وارڈ نمبر تین سے مسلم لیگ ن کے اختر رسول 321 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار خالد اسد نے 249 ووٹ حاصل کئے۔ وارڈ نمبر 6 سے آزاد امیدوار ثناء اکبر 467 ووٹ لے کر کامیاب رہے جبکہ آزاد امیدوار عارف رضا صرف 280 ووٹ حاصل کر سکے۔

    مری کے وارڈ 1 کے تمام 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے ملک خلیل 249 ووٹ لے کر کامیاب رہے، مسلم لیگ ن کے بلال یاسین 170 ووٹ لے سکے۔ وارڈ 2 کے تمام 4 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے اکمل نواز 478 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ تحریک انصاف کے صحبت خان 290ووٹ لے سکے۔کوہاٹ کے وارڈ نمبر 3 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار سفیان الرحمان 1070 ووٹ لے کر کامیاب رہے، آزاد امیدوار شوکت نواز 457 ووٹ لے سکے۔

    پشاورکے وارڈ 5 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق وارڈ نمبر 1 سے آزاد امیدوار نعمان فاروق 705 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزاد امیدوار شہزادرفیق 528 ووٹ لے سکے۔جبکہ وارڈ نمبر 2 کے مکمل غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے نعیم بخش 593 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی کے علاؤالدین 515 ووٹ لے سکے۔

    ڈی آئی خان وارڈ 2 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق ٹی آئی کے ڈاکٹر انور علی 75 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزاد امیدوار محمد ریاض 83 ووٹ لے سکے۔سیالکوٹ کے وارڈ نمبر 3 تمام پولنگ اسٹیشنزکے غیرحتمی نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے شیخ عمر 732 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ تحریک انصاف کے کاشف صدیق 631 ووٹ لے سکے۔بنوں کے وارڈ نمبر 1 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے سمیع اللہ 366 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جےیوآئی کے حافظ زعفران 213 ووٹ لےسکے۔جبکہ وارڈ نمبر2 کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جمشید محی الدین 444 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ جے یو آئی کے نعیم گل 348 ووٹ لے سکے۔منگلا کے وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار شکیل احمد 561 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ آزادامیدوارمحمدحسین 531 ووٹ لے سکے۔

    کراچی کے کورنگی کریک وارڈ نمبر 1 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق ایم کیوایم کے محمدعدنان 610 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جماعت اسلامی کے گل شیر 558 ووٹ لے سکے۔جبکہ کورنگی وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی نتیجے مسلم لیگ ن کے محمد شوکت 824 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کےنوشاداحمد 392 ووٹ لے سکے۔ وارڈ نمبر 3 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے کامران خان 828 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ جماعت اسلامی کے جہانگیر خان 329 ووٹ لیکردوسرے نمبر پر رہے۔

    اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کراچی کے کورنگی کریک وارڈ 4 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق پیپلزپارٹی کے عامرعباسی 497 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔جبکہ وارڈ نمبر 5 کے مکمل غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق مسلم لیگ ن کے ملک جاوید اقبال 182 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کے کامران آصف 179 ووٹ لےسکے۔کنٹونمنٹ بورڈ ملیر وارڈ نمبر 1 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق جماعت اسلامی کے ملک محمد رضا نے 258 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔کنٹونمنٹ بورڈ ملیروارڈ نمبر 4 کے غیرحتمی نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے ملک امان اللہ 365 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کےعلی قاسم 346 ووٹ لے سکے۔

    کراچی کے کنٹونمنٹ بورڈ ملیر وارڈ نمبر 2 کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجہ کے مطابق تحریک انصاف کے محمد افسر خان 324 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جماعت اسلامی کے محمد اشرف 222 ووٹ لے سکے۔جبکہ ملیروارڈ نمبر 7 کے غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ کے مطابق پی ٹی آئی کے محمد واصف 273 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پیپلزپارٹی کے گلفام منشا 272، ایم کیو ایم کے افضل بھٹی نے بھی 272 ووٹ لیے۔چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے مکمل غیرحتمی غیرسرکاری نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے ملک نعیم اظہر 1706 ووٹ لے کر کامیاب رہے۔ پی ٹی آئی کےعثمان وڑائچ 1613 ووٹ لے سکے۔

  • کچھ جانبداری کی حد ہوتی ہے:الیکشن کمیشن الزام ثابت کرے وزارت چھوڑ دوں گا، علی زیدی کا چیلنج

    کچھ جانبداری کی حد ہوتی ہے:الیکشن کمیشن الزام ثابت کرے وزارت چھوڑ دوں گا، علی زیدی کا چیلنج

    کراچی :کچھ جانبداری کی حد ہوتی ہے :الیکشن کمیشن الزام ثابت کرے وزارت چھوڑ دوں گا، علی زیدی کا چیلنج ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے الیکشن کمیشن عملے کیخلاف ہتک عزت کی درخواست دائر ‏کرنے کا اعلان کر دیا۔

    اپنے ٹوئٹر بیان میں علی زیدی نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی میں نےکوئی خلاف ورزی نہیں کی ‏ڈیڑھ بجےکےقریب ووٹ دے کر چلا گیا تھا ثابت کردیں میں کسی پولنگ اسٹیشن میں گیاہوں ‏ثابت ہونےپرقومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینےکو تیار ہوں۔

    انہوں نے سوال کیا کہ کیا الیکشن کمیشن میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اپنے غلطی پر سرعام ‏معافی مانگیں؟

     

     

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر اورتحریک انصاف ‏کے رکن قومی اسمبلی علی زیدی کو علاقے سے باہر نکالنے کا حکم دیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق علی زیدی مستقل ضابطے کی خلاف ورزی کررہے ہیں ان کو فیصل ‏کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود سے باہر نکالہ جائے۔

  • راولپنڈی:کنٹونمنٹ انتخابات:ن لیگ سرفہرست:پی ٹی آئی کوئی سیٹ بھی نہ لے سکی

    راولپنڈی:کنٹونمنٹ انتخابات:ن لیگ سرفہرست:پی ٹی آئی کوئی سیٹ بھی نہ لے سکی

    راولپنڈی:کنٹونمنٹ انتخابات:ن لیگ سرفہرست:پی ٹی آئی کوئی سیٹ بھی نہ لے سکی ،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں آج کنٹونمنٹ انتخابات تھے جس میں راولپنڈی کی 10 اور چکلالہ بورڈ کی 10 سیٹوں پر بھی انتخابات ہوئے ،

    راولپنڈی غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ پہلے نمبر پر جبکہ تحریک انصاف کوئی نشست نہ لے سکی۔راولپنڈی بورڈ سے،وارڈ 3 سے ارشد قریشی (ن)،وارڈ 4 سے رشید خان (ن)،وارڈ 5 سے حا جی ظفر اقبال (آزاد)،وارڈ 6 سے ملک منصور افسر (ن)،وارڈ 7 سے ملک امجد (ن)،وارڈ 8 سے حافظ حسین (ن)،وارڈ 9 سے محمد ریاض (تحریک انصاف)،وارڈ 10 سے ملک منیر (ن) سےغیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق نشستیں حاصل کرچکے ہیں ،

    وارڈ 2 سے خاتون امیدوار کے انتقال کے باعث الیکشن ملتوی ہوگیا تھا جو الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ہوگا۔چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ وارڈ 1 سے پرویز (ن)،وارڈ 3 سے خالد محمود (جماعت اسلامی)،وارڈ 6 سے اظہر نعیم (ن)،وارڈ 7 سے عرفان امتیاز (ن) غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پہلے نمبر پر ہیں باقی وارڈز کا رزلٹ آنا بقی ہے۔

  • آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل

    آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل

    راولپنڈی: آذربائیجان کی میزبانی میں‌ خصوصی فوجی مشقیں”’برادرہڈ‘:پاکستان اور ترکی کی فورسز شامل
    ،اطلاعات کے مطابق آذربائیجان کی میزبانی میں فوجی مشقوں کا انعقاد کیا جارہا ہے، جس میں پاک فوج کی اسپیشل فورس بھی شامل ہے۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آذربائیجان کی میزبانی میں3ملکی فوجی مشقوں کا باکو میں انعقاد کیا جارہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق یہ مشقیں’برادرہڈ‘ کےنام سے ہورہی ہیں، جس میں پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کی اسپیشل فورسز شریک ہیں۔

    پاک فوج کے ترجمان کے مطابق ان مشقوں کا آغاز گیارہ ستمبر سے ہوا، جو بائیس ستمبر تک جاری رہیں گی۔ فوجی مشقیں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے خصوصی طور پر منعقد کی گئیں ہیں۔ان فوجی مشقوں کا مقصد تینوں ممالک کی افواج میں تعاون بڑھانا اور تجربے کی بنیاد پر معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ ترکی اور آذربائیجان نے رواں سال کے آغاز پر باکو میں پانچ روزہ فوجی مشقیں کیں تھیں۔

    اس سے قبل گزشتہ برس انقرہ میں ترک اور آذربائیجان کی فوجی مشقیں اُس وقت ہوئیں تھیں جب آرمنینا کی فوج نے آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا

  • اعلیٰ ظرفی: شکوے دورکرنے کے لیے چوہدری مونس الٰہی  بلاول زرداری سے ملنے پہنچ گئے

    اعلیٰ ظرفی: شکوے دورکرنے کے لیے چوہدری مونس الٰہی بلاول زرداری سے ملنے پہنچ گئے

    اسلام آباد:اعلیٰ ظرفی: شکوے دورکرنے کے لیے چوہدری مونس الٰہی بلاول زرداری سے ملنے پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق سندھ کے پانی کی تقسیم کے شکوے دور کرنے کے لیے اعلٰی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی سے صاحبزادے وفاقی وزیرآبی ذخائربلاول ہاوس پہنچ گئے ،

    ذرائع کےمطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری مونس الہی سے چوہدری شجاعت حسین کی صحت سے متعلق خیریت دریافت کی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چوہدری مونس الہی سے چوہدری پرویز الہی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور چوہدری مونس الہی کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر بات چیت ہوئی ،بات چیت کےدوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور چوہدری مونس الہی کے درمیان ملک میں پانی کی ترسیل کے نظام پر بھی تبادلہ خیال ہوا

    اسلام آباد سے باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور چوہدری مونس الہی کے درمیان سندھ میں پانی کی تاریخی قلت کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی

    ذرائع کےمطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری مونس الہی کے درمیان ملاقات کے موقع پر مصطفی نواز کھوکھر بھی موجود تھے ، اس موقع پر چوہدری مونس الٰہی نے بلاول بھٹو کویقین دلاتے ہوئے کہا کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہورہی ، ہمیں سیاسی بیان بازی سے پرہیز کرکے پاکستان کے لیے سوچنا چاہیے

  • نوازشریف کی جائیدایں ،بچےاوردوست باہر:پاکستان میں ان کاکیا ہے!وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان

    نوازشریف کی جائیدایں ،بچےاوردوست باہر:پاکستان میں ان کاکیا ہے!وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان

    لاہور:نوازشریف کی جائیدایں باہر،بچے باہر، دوست باہر:پاکستان میں ان کا کیا ہے !وہ کبھی پاکستان نہیں آئیں گے:مبشرلقمان نے نوازشریف کا ایسا جھوٹ بے نقاب کردیا ہے جو شاید ہمیشہ سچ رہے ، پاکستان کے سینیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے حقائق اور نوازشریف کی روایات کوسامنے رکھتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کردیں کہ جن کو سن کرعام شخص تو حیران رہ جائے گا مگرجونوازشریف کو جانتے ہیں وہ وہ ضرور ان حقائق کو نہیں جھٹلاسکتے ،

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس وقت تمام صحافی تنظیمیں ، وکلا باڈیز ، ڈاکٹرز، سرکاری بابو احتجاج میں مصروف ہیں مجھے نہیں معلوم ان کا کیا بنے گا حکومت انکے آگے سرنڈر کرے گی یا یہ حکومت کے آگےسرنڈر کریں گے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر جو چیز مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ نواز شریف نے پاکستان واپس نہیں آنا ۔ اور نواز شریف تو کیا انکے سمدھی ، ببلو اور ڈبو نے بھی واپس نہیں آنا ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ گزشتہ کئی دنوں سے کبھی کوئی اٹھ کر تو کبھی کوئی لیٹ کر پھر سے یہ راگ الاپنہ شروع ہوچکا ہے کہ میاں صاحب کی اگلے مہینے ، چھ مہینے بعد یا اسی سال واپسی ہو جائے گی ۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یہ جو ڈرامہ کوئین مریم نواز کہتی پھرتی ہیں کہ حالات بہت بدل گئے۔ نواز شریف جلد آئیں گے۔ تو مریم بی بی میاں صاحب تو واپس نہیں آتے ۔ پر میں یہ بتا دوں کہ آپ بھی باہر اپنے پاپی پاپا کے پاس نہیں جا سکتیں ۔ رسیدیں تو دینی پڑیں گی ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ نواز شریف کی واپسی بارے اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ میں ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ آپ دیکھ لیجئے گا جب بھی کہا جائے گا کہ میاں صاحب نے واپس آنا ہے ان کی طبیعت خراب ہوجانی ہے ۔ پھر ڈاکٹر کا بورڈ بیٹھے گا اور وہ فیصلہ کرے گا کہ میاں صآحب کا علاج پاکستان سے باہر ہی ہو سکتا ہے ۔ پاکستان گئے تو پھر رسک ہے ۔ میں بڑی اچھی طرح جانتا ہوں نواز شریف کی بیماری اور ان ڈاکٹرز کے علاج کو ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ان کو بیماری نہیں ان کی نیت میں کھوٹ ہے۔ یہ سرٹیفائیڈ چور ہیں ۔ انھوں نے دونوں ہاتھوں سے اس ملک کو لوٹ لوٹ کر گنگال کر دیا ہے ۔ یہ سزا یافتہ مجرم چاہتے ہیں کہ یہ قوم پہلے ان کی غلامی کرتی تھی اب ان کے بچوں کی بھی غلامی کرے ۔ انھوں نے مذاق بنایا ہوا ہے ۔ ان کی شادیاں باہر ۔ انکے بچے باہر ، کاروبار باہر ، علاج باہر ، عیدیں باہر اور اب یہ ہم کو سناتے ہیں کہ میاں صاحب پاکستان آنے کے لیے بڑا بے چین ہیں ۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس حکومت کی پیدا کردہ مہنگائی، کوتاہیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ پر قوم جانتی ہے کہ مریم کے پاپا کے پاس رسیدیں نہیں ہیں۔ ہوں بھی کیوں جب کوئی چیز اپنی جیت سے خریدی ہوتو رسیدیں ہوں نا ۔۔۔ جب عوام کے پیسے کو لوٹ کر ڈاکے ڈالے ہوں تو پھر رسیدیں نہیں ہوتیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ جو ن لیگی ٹی وی پر بیٹھ کر بھاشن دیتے ہیں کہ پاکستانی نواز شریف کو منت کرکے واپس لائیں گے ۔ اور چوتھی بار وزیر اعظم بھی منتخب ہونے دیں گے۔ تو میں ان کو یاد کروادوں کہ اس قوم کو العزیہ شوگر مل بھی یاد ہے ، ایوین فیلڈ بھی یاد ہے ، قطری خط ، calibre fontبھی یاد ہے ، پارک لین بھی یاد ہے ، سانحہ ماڈل ٹاون بھی یاد ہے ، کلبوشھن پر خاموشی بھی یاد ہے ۔ مودی کو بغیر ویزہ گھر بلانا بھی یاد ہے ۔ جندال کو مری کی سیر کروانا بھی یاد ہے ۔ نواز شریف کے دونوں بیٹوں کا ملک سے بھاگ جانا بھی یاد ہے ، پاناما بھی یاد ہے ۔ براڈ شیٹ بھی یاد ہے ۔

    یہ ہاں یہ بھی یاد ہے کہ احتساب عدالت نے میاں نواز شریف کو کرپشن ثابت ہونے پہ 7 سال قید بامشقت ، 5 ارب روپے تک کا جرمانہ کیا تھا ۔ مگر ان کے بوٹ پالشیوں نے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے حقائق کو توڑ مروڑ کر کچھ اسطرح سے پیش کرنا شروع کیا ہے کہ میاں صاحب عوام کی نظروں میں مجرم کے بجائے مظلوم بن جائیں۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر ایسا نہیں کہ نواز شریف کو کچھ یاد نہیں ۔ ان کو بھی اڈیالہ اور کوٹ لکھ پت جیل یاد ہے ۔ اس لیے یہ واپس نہیں آتے ۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کوئی مجرم بھگوڑا ہوجائے اور وہ خود کہے کہ میں واپس آجاوں گا ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا ۔ اس کو پکڑکر لانا پڑتا ہے ۔ ٹھڈے مار کر ، گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر لانا پڑتا ہے ۔

     

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ تو بس لیگی لیڈروں کی جانب سے ورکرز کو حوصلہ دینے کا بہانہ ہے ۔ کہ میاں صاحب آرہے ہیں ۔ ڈٹے رہو۔ میاں صاحب نے واپس آنا ہوتا تو جاتے ہی کیوں ۔ میاں صاحب کی لندن میں موج لگی ہوئی ہے کبھی پیزا کھاتے ہیں تو کبھی لندن کے ٹھنڈے موسم میں کافیاں پیتے ہیں کبھی سڑکوں پر واک کرتے ہیں تو کبھی پولو میچ دیکھتے ہیں ۔ ذرا خود سوچیں یہ سب کچھ کیا میاں صاحب یہاں کرسکتے ہیں ۔ بالکل بھی نہیں کر سکتے ۔ پاکستان میں چاہے انصاف و قانون کے معاملات خراب ہوں پر اتنی بھی اندھیر نگری چوپٹ راج نہیں کہ چور اچکے یوں موجیں مارتے پھریں جو وہ لندن میں کرتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو ان لوگوں پر حیرت ہے جو نوازشریف کو نیلسن منڈیلا سمجھتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ حالانکہ ووٹ کو عزت دو کی بات کرنے والوں کو جب ڈیل کا موقع ملتا ہے تو فوراً ڈیل کرکے بھاگ جاتے ہیں ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ انقلابی نہیں پاپی ہیں ۔ ان کے پاپوں کی بوئی ہوئی فصل یہ قوم کاٹ رہی ہے ۔ انھوں نے پاکستان کو پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنی سمجھا ہوا تھا ۔ اسی لیے تو ان کی یہ حالت ہے کہ یہ دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ کہیں کسی عام پاکستان نے دیکھ لیا تو خوب برا بھلا کہنا ہے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اب لوگ بھی نواز شریف کو جھوٹا اور بھگوڑا قرار نہ دیں تو کیا کریں ۔ کیونکہ یہ جھوٹی رپورٹس بنوا کر اور جعلی بیمار بن کر ملک سے فرار ہوا ہے ۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ اس لیے ان میں اتنی ہمت نہیں کہ یہ پاکستان واپس آئیں اور عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کریں، نواز شریف جس طرح برطانیہ میں گھوم پھر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بیمار نہیں۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ اتنے ہی غیرت مند ہوتے تو برطانیہ میں ایکسپائرڈ پاسپورٹ کے ساتھ بھگوڑے بن کرنہ بیٹھے ہوتے ۔ واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرتے۔ شرم کی بات ہے کہ ملک کا سابق وزیر اعظم مفرور ہے، انہیں واپس آ کر سیدھا جیل جانا چاہئے۔

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ لیڈر کوئی بھی ہو اسکی اخلاقی اتھارٹی کیا رہ جاتی ہے جب وہ بیماری کا بہانہ بنا کر علاج کیلئے ملک سے باہر چلا جائے اور پھر واپس آنے کی بجائے لندن میں بیٹھ کر ریاستی اداروں کے خلاف جارحانہ خطاب کرے۔ پاکستان کے عوام اگر بیدار باشعور اور منظم ہوں تو وہ کبھی کسی آزمائے ہوئے سیاستدان کو دوبارہ آزمانے پر آمادہ نہ ہوں۔ افسوس پاکستان کے سیاستدان عوام کو بار بار بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور یہی ہمارے ملک کا قومی المیہ ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پاکستان کا آئین پاک فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے اور اسے تضحیک کا نشانہ بنانے یا عوام کے اندر اداروں کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر اسکے باوجود میاں نواز شریف سلامتی اور انصاف کے اداروں پر کھلم کھلا تنقید کر رہے ہیں جو پاکستان کی آزادی اور سلامتی کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا اب بھی کسی کو کوئی شک باقی رہ گیا ہے کہ میاں نواز شریف انقلابی ہیں ۔ حقیقت میں یہ خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور الطاف حسین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں انہیں بھارت کی مدد حاصل ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کیا کوئی اس سوال کا جواب دینا پسند کرے گا کہ سعودی عرب اور دبئی میں کس طرح اربوں کا بزنس کیا؟اس کا سچا اور کھرا جواب تو شریف فیملی کے پاس کل تھا اور نہ آج ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ پھر اِس کا جواب نہ تو کوئی لیگی دے سکتی ہے اور نہ ہی نواز شریف کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر میرے پاس جواب ہے یہ پیسہ حکومتی ٹھیکوں، بڑے بڑے پروجیکٹس سے کمیشن اور کک بیکس سے کمایا گیا۔ یہ ہنڈی ، ٹی ٹی اور منی لانڈرنگ سے بنایا گیا ۔ دراصل میاں نواز شریف اپنے خاندان کو کرپشن کیسوں سے بچانے کیلئے اس حد تک آگے چلے گئے ہیں کہ ان کو پاکستان کے قومی مفادات کا ذرہ بھر بھی احساس نہیں رہا۔ اب یہ پاکستان کے دوسرے الطاف بنتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں نہ الطاف واپس آیا نہ ہی اب نواز واپس آئے گا ۔

     

     

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پھر یاد رکھیں جب جب اس ملک میں کرپشن کنگ کی بات آئے گی تو نوازشریف کو ہی سب سے بڑے کرپٹ ، چور اوربھگوڑے کا خطاب دیا جائے گا۔ عدالت سے بھاگ جانانہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ جو بھی مال ان کے پاس ہے وہ کرپشن کا ہے۔ ورنہ حلال اور اپنی محنت کا ہوتا تو سینہ تان کر۔عدالت آتے اور رسیدیں دکھا کر اپنا مال حلال ثابت کرتے۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے تو لگتا کہ میاں صاحب نے دولت اور جائیداد اپنے بیٹوں کے نام ہی اس لئے رکھی کہ یہ دلیل دے سکے کہ دادا نے پوتوں کو دی۔ بیٹوں کو غیر ملکی شہری اسلئے رکھا کہ پاکستان کا قانون ان پہ لاگو نہ ہوسکے اور ان کو گرفتار کرکے عدالتی کاروائی میں شامل نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ جب تک ملزم عدالتی کاروائی میں شامل نہ ہو اس کے خلاف نیب کیس آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس سارے کھیل میں جہاں میاں نواز اور بیٹی کو جیل ہوئی وہاں ان کے بیٹے اور انہی جائیداد محفوظ رہی۔

    سینیئرصحافی ، تجزیہ نگار مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پر دنیا کو بھی معلوم ہے کہ حسن و حسین نواز مفرور ہی اسلئے ہیں کہ جو بھی مال و جائیداد ان کے پاس ہے وہ دادا کا دیا ہوا نہیں پاپا کے کرپشن کی کمائی ہے۔ یوں یہ پورا ٹبر چور ہے ۔ میاں صاحب کیا ان کا کوئی بیٹا بھی پاکستان واپس آتے دیکھائی نہیں دیتا ۔

  • سرتسلیم خم : قطری وزیر خارجہ کی کابل میں افغان عبوری وزیراعظم سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    سرتسلیم خم : قطری وزیر خارجہ کی کابل میں افغان عبوری وزیراعظم سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    کابل : سرتسلیم خم : قطری وزیر خارجہ کی کابل میں افغان عبوری وزیراعظم سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات ،اطلاعات کےمطابق قطر کےڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے۔

    اس موقع پر یہ باورکرانا ضروری ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان کے بعد کسی بھی ملک کے اعلیٰ سطح کے وفد کا پہلا کابل کا دورہ ہے۔اور اس دورے کے بعد اب افغآن طالبان کی حکومت کوتسلیم کرنے کے حوالے سے قطرنے پہل کردکھائی ہے

    ادھر کابل سے مقامی افغان میڈیا کے مطابق قطر کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان الثانی وفد کے ہمراہ کابل ائیرپورٹ پہنچے۔

    طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قطری وزیر خارجہ کے افغان صدارتی محل پر پہنچنے پر نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی نے استقبال کیا۔بعدازاں قطری وزیر خارجہ نے عبوری وزیراعظم سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔

  • سالانہ سیلز ٹیکس 30 ستمبر2021 تک ریٹرن داخل کروائیں ورنہ جرمانےکے لیے ہوجائیں تیار

    سالانہ سیلز ٹیکس 30 ستمبر2021 تک ریٹرن داخل کروائیں ورنہ جرمانےکے لیے ہوجائیں تیار

    اسلام آباد: سالانہ سیلز ٹیکس 30 ستمبر2021 تک ریٹرن داخل کروائیں ورنہ جرمانےکے لیے ہوجائیں تیار،اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر ہے،

    ایف بی آر کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بزنس کمیونٹی اور تنخواہ دار طبقہ بلا تاخیر اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرائیں بصورت دیگر آخری تاریخ گزرنے کے بعد نان فائیلرز کے خلاف قانون کے مطابق تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے گی

    ادھر جب اس حوالے سے جو کہ آئی سی اے پی مالیاتی قانون کمیٹی کے ممبر اور پاکستان بزنس کونسل کور ٹیکس کمیٹی کے ممبربھی ہیں‌ سے سوال کیا گیا توانہوں نے وضاحت کی کہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 26 (1) کے دوسرے پروویژو کے مطابق ایف بی آر کو اختیارات ہیں سرکاری گزٹ میں مطلع کریں ، اور کسی بھی فرد یا افراد کے طبقے سے اس طرح کی ریٹرن جمع کروانے کی ضرورت ہے جو ماہانہ ریٹرن یا سہ ماہی ریٹرن کے علاوہ سالانہ تجویز کی جاتی ہے

    آصف ایس کسباتی کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے ایس ٹی رولز میں قاعدہ 17 اور فارم STR-10 تجویز کیا ہے جس کے تحت ہر رجسٹرڈ شخص ، جو پرائیویٹ یا پبلک لمیٹڈ کمپنی ہے اس کےلیے مالی سال (1 جولائی 2020 سے 30 جون تک سالانہ سیلز ٹیکس ریٹرن داخل کرنا ضروری ہے

    یاد رہے کہ 30 ستمبر 2021 تک سالانہ سیلز ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کے لیے درکار تفصیلات فارم STR-10 میں دی گئی ہیں۔

    آصف ایس کسباتی کا مزید کہنا تھا کہ سالانہ ریٹرن داخل کرنے میں تاخیر کی صورت میں 10 دن تک ، ہر دن ڈیفالٹ کے لیے 200 روپے جرمانہ ہے۔ اور اگرٹیکس دہندہ 10 دن سے زیادہ تاخیر یا فائل نہ کرنے پر 10 ہزار روپے جرمانہ ہوسکتا ہے