Baaghi TV

Author: +9251

  • کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن:کہیں لڑائیاں تو کہیں فساد:کہیں ایجنٹس جارحیت پراترآئیں

    کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن:کہیں لڑائیاں تو کہیں فساد:کہیں ایجنٹس جارحیت پراترآئیں

    لاہور: کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن:کہیں لڑائیاں تو کہیں فساد:کہیں ایجنٹس جارحیت پراترآئیں ،اطلاعات کے مطابق عام انتخابات کی طرف کنتونمنٹ بورڈ کے انتخابات بھی لرائیوں اورجھگڑوں‌ کی نذرہوگئے ہیں‌،

    ادھر ملک بھرسے آنے والے واقعات اوراطلاعات کے مطابق ہرپارٹی دوسری پارٹی کو مات دینے کی کوشش میں‌تمام حدیں پارکرگئی ،

    ادھر ملتان سے آمدہ اطلاعات میں کہا گیا ہےکہ کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن کے دوران وارڈ نمبر 4کے پولنگ اسٹیشن پر جھگڑا ہوا، متحارب کارکنان ایک دورے الجھتے ہوئے گتھم گتھا ہو گئے۔ خواتین بھی پیچھے نہ رہیں جس سے پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔

    ملتان میں ہنگامہ آرائی پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کی جانب سے پولنگ اسٹیشن کے اندر جانے کی کوشش پر ہوئی۔ دونوں جانب ن لیگ کی جنگجو خواتین نے لاتوں اور گھونسوں کا آزادانہ استعمال کیا۔

    عورتوں کی لڑائی بھی ملتان کی تاریخ میں‌ یاد رکھی جائے گی مگرحسب روایت مرد ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے ، پولنگ کا عمل متاثر ہوا تو پولیس حرکت میں آئی اور ہنگامہ آرائی کرنےوالوں کوباہرنکال دیا۔

    راولپنڈی کے چکلالہ کینٹ وارڈ نمبر 7کے خواتین پولنگ اسٹیشن پر مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں میں تصادم ، الیکشن کا عمل متاثر ہوا ۔رتہ امرال میں تحریک لبیک اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں بدمزگی اور ہاتھا پائی پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ہجوم کو منتشر کر دیا۔

    کراچی میں ریٹرننگ افسر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ سلیم حسن وٹو نے کارروائی کرتے ہوئے وارڈ نمبر 4 سے 2جعلی پولنگ ایجنٹ گرفتار کر لئے جو بغیر دستاویزات کے وارڈ نمبر 4 خواتین کے پولنگ اسٹیشن کے اندر تھے، دونوں کا تعلق دو مختلف سیاسی جماعتوں سے بتایا جارہا ہے۔

  • ایک طرف طوفانی بارشیں،آسمانی بجلیاں تودوسری طرف زلزلے کے جھٹکے:لوگ خوفزدہ ہوگئے

    ایک طرف طوفانی بارشیں،آسمانی بجلیاں تودوسری طرف زلزلے کے جھٹکے:لوگ خوفزدہ ہوگئے

    سوات: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.3 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 143 کلو میٹر تھی اور مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی علاقہ تھا۔

    زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے نکل آئے۔ زلزلے کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی سوات اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی 151 کلو میٹر اور مرکز کوہ ہندو کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

    دوسری طرف ضلع تورغر میں آسمانی بجلی گرنے سے تین گھر زمین بوس ہو گئے، ملبے تلے دب کر گیارہ افراد جاں بحق، 2 زخمی، تین افراد کی تلاش جاری ہے۔

    ضلع تورغر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے تین گھر منہدم ہو گئے جس کے نتیجے میں 16 افراد ملبے تلے دب گئے۔مقامی افراد نے 11 لاشیں اور 2 زخمی ملبے سے نکال لیے ۔دیگر 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ریسکیواورانتظامیہ کوفوری طور پر متاثرہ علاقےمیں پہنچنے کی ہدایت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اورتعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابرکےشریک ہیں۔

  • تورغر: شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد جاں بحق

    تورغر: شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد جاں بحق

    پشاور:تورغر: شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد جاں بحق،اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع تورغر میں شدید بارشوں اور آسمانی بجلی گرنے سے دو مکانات تودے تلے دب کر تباہ ہو گئے۔

    ضلع تورغر میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی، بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے تین گھر منہدم ہو گئے جس کے نتیجے میں 16 افراد ملبے تلے دب گئے۔مقامی افراد نے 11 لاشیں اور 2 زخمی ملبے سے نکال لیے ۔دیگر 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ادھر وادی نیلم اور گرد و نواح میں بھی موسلادھار بارش کے باعث نالہ جاگراں میں طغیانی آگئی اور لینڈسلائیڈنگ کے باعث اٹھ مقام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ مالاکنڈ شہر اور گرد و نواح میں موسلادھار بارش سے دریائے سوات میں طغیانی آگئی۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ریسکیواورانتظامیہ کوفوری طور پر متاثرہ علاقےمیں پہنچنے کی ہدایت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کئے۔

    وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اورتعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابرکےشریک ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت پرڈوزیئرپیش کردیا :دنیا نوٹس بھی لےاورہوش کےناخن بھی:وزیرخارجہ

    مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت پرڈوزیئرپیش کردیا :دنیا نوٹس بھی لےاورہوش کےناخن بھی:وزیرخارجہ

    اسلام آباد: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر ڈوزیئر پیش کردیا:دنیا نوٹس بھی لے اورہوش کے ناخن بھی: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دنیا کو ایک بارپھربھارتی دہشت گردی کے ثبوت پیش کردیئے، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر ڈوزیئر پیش کردیا، 131 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں بھارتی فورسز کے مظالم کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

    اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 9 لاکھ بھارتی فوج مظلوم کشمیری عوام پر مسلط ہے، وادی میں بھارتی فوج کے محاصرے کے 769 دن ہوچکے،شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اب دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوٹس لے اورباربار اس کو نظرانداز نہ کرے

    آزاد مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، انسانی حقوق کی بدترین پامالی کسی طور مناسب نہیں۔ ڈوزیئرمیں 113 حوالے دیئے گئے ہیں، ڈوزیئر پیش کرنے کا مقصد بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ دنیا کو دکھانا ہے۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ علی گیلانی کے انتقال پر پوری دنیا نے دیکھا بھارت کی کیا سوچ تھی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے گھر جانیوالے راستوں کو بند اور اہلخانہ کو ہراساں کیا گیا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سال 2014 سے 30 ہزار افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، 3 ہزار 850 خواتین کو آبروریزی کا نشانہ بنایا گیا۔ 8 سے 10 ہزار کشمیریوں کو جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ نہتے کشمیریوں کے خلاف کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت بھی ڈوزیئر کا حصہ ہیں۔

  • محبت اس کو کہتے ہیں‌: روسی صدر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اورآبدیدہ ہوگئے

    محبت اس کو کہتے ہیں‌: روسی صدر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اورآبدیدہ ہوگئے

    ماسکو: محبت اس کو کہتے ہیں‌: روسی صدر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اورآبدیدہ ہوگئے ،اطلاعات کےمطابق روس کے صدر ولادیمیر پوٹن جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور وزیر کی آخری رسومات کے موقع پرآبدیدہ ہوگئے۔

    روسی صدرکی اپنے وزیرسے محبت اصل میں‌ اس کے مشن سے محبت ہے ، اسی بات کو عالمی میڈیا نے بھرپورسرخیوں سے کے ساتھ خریں شائع کی ہیں‌،عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ روسی صدر ولادی میر پوٹن اپنے وزیر کی آخری رسومات کے موقع پر موجود تھے جہاں وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور غمزدہ ہو گئے جب کہ ولادی میر پوٹن نے اپنے سابقہ ذاتی محافظ زینی شیف کی موت کو ایک ناقابل تلافی ذاتی نقصان قرار دیا۔

    خیال رہے کہ چند روز قبل روس کے ایک وزیر نے حادثے کا شکار ہونے والے کیمرہ مین کو بچا لیا لیکن خود زندگی کی بازی ہار گئے ، روس کے وزیر برائے ایمرجنسی آرکٹک ریجن میں اس وقت حادثے کا شکار ہوئے جب انہوں نے ایک کیمرہ مین کو بچانے کی کوشش کی ،

    ادھر عالمی ذرائع ابلاغ نے اس بات کی بھی تعریف کی ہے کہ روس کے وزیر برائے ایمرجنسی نے پہاڑ پر سے گرنے والے ایک کیمرہ مین کو بچانے کیلیے فوری طور پر پانی میں چلانگ لگائی تو بدقسمتی سے وہ پتھر سے ٹکراگئے ، روسی وزیر کا سر پتھر سے ٹکرانے کے باعث انتقال ہو گیا جب کہ کیمرہ مین محفوظ رہا۔

  • لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان
    محمد نعیم شہزاد

    12 ستمبر 2021 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا دن ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے انتخابی مہم زوروں سے جاری ہے۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد عوامی خدمت کے دعویداروں نے اپنی انتخابی مہم سے عوام کو خوب پریشان کی رکھا۔ گزشتہ دو دن لاہور میں بارش بھی ہوئی اور اس بارش کے دوران پانی سے بری گلیوں میں محلے کی دکانیں اور راستے بند کروا کر عوامی خدمت کے خوب وعدے کیے گئے ۔ اس بار کے انتخابات میں ہونے والے چند اہم مشاہدات قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

    لاہور میں خصوصاً کینٹ کے علاقے میں زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے جس کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ نے ہر ٹیوب ویل کے ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا رکھا ہے۔ فلٹریشن پلانٹ کے کارٹریج ہر تین مہینے بعد تبدیل ہونا ہوتے ہیں اور اس کی تاریخ کا باقاعدہ چارٹ فلٹریشن پلانٹس پر آویزاں کیا جاتا ہے۔ الیکشن سے پہلے تقریباً دو ماہ کا عرصہ کارٹریج کی تبدیلی کے بغیر گزرا ہے اور کسی عوامی نمائندے نے اس بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی کیونکہ وہ تو ان پلانٹس کا پانی استعمال نہیں کرتے یہ تو علاقے کے غریب مکینوں کے لیے ہے۔ ورنہ جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹس قیمتاً پانی بیچ رہے ہیں۔

    دوسرا ایک اہم مشاہدہ ہوا وہ نون لیگ کے حوالے سے تھا۔ گزشتہ قومی انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی اس جماعت نے نعرہ تبدیل کر لیا اور ووٹ کی عزت کی بجائے کام پر ووٹ مانگنا شروع کر دیا۔ اب ان کا نعرہ ہے کام کو ووٹ دو۔ گویا ووٹ کی عزت یہی ہے کہ ووٹ کام کو دیا جائے تو کام تو حقیقت میں کوئی بھی نہیں کرتا تو کیا ووٹ کو ضائع کر دیا جائے؟ جواب سوچ کر دیجیے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو کمال حیرت کی بات ہے کہ مرکز اور ایک صوبے کے علاوہ باقی صوبوں میں حکومت کرکے تبدیلی نہ لا سکنے والی جماعت اب بھی تبدیلی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم نے گزشتہ دو برس کی حکومت کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا ہے جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں تعلیمی ادارے بہت کم عرصہ کھلے رہے اور طلباء خوش جبکہ والدین، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پریشان رہے۔

    امیدواروں کی ایک بڑی تعداد آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہی ہے۔ لاہور کینٹ کی وارڈ نمبر 6 میں ایک آزاد امیدوار ایسے ہیں جو گزشتہ الیکشن پی ٹی آئی کی طرف سے لڑتے رہے ہیں مگر اس بار وہ پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ شب ان کے مرکزی دفتر کے سامنے ان کا انتخابی جلسہ تھا جس میں ایک مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔ پنڈال سپورٹرز سے بھرا ہوا تھا اسٹیج پر معززین علاقہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ پرجوش خطابات ہو رہے تھے۔ جب اسٹیج سے امیدوار کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگوائے جا رہے تھے عین اسی وقت نامعلوم کہاں سے ایک گدھا پنڈال میں داخل ہو گیا۔ اور عوام میں کی بھیڑ میں گھستا چلا گیا۔

    گلیاں پانی سے بھری ہیں ۔ بعض سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ علاقے کے ٹیوب ویل اکثر خراب رہتے ہیں اور بیشمار عوامی مسائل کا ڈھیر ہے مگر الیکشن تو ہو گا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا کام کو عزت ملتی ہے یا عوام اب بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ جو بھی ہو فیصلہ رات تک ہو جائے گا۔

  • شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کےعزم کو تقویت دیتی ہے:آئی ایس پی آر

    شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کےعزم کو تقویت دیتی ہے:آئی ایس پی آر

    راولپنڈی: شہید وطن پاک میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کے عزم کو تقویت دیتی ہے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے میجر عزیزبھٹی شہید نشان حیدرکا56واں یوم شہادت آج ہے۔

     

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے میجر عزیز بھٹی کے 56ویں یومِ شہادت کے حوالے سے پیغام جاری کیا۔

     

    انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’پوری قوم میجر عزیزبھٹی شہیدکوسلام پیش کرتی ہے، عزیزبھٹی شہید نے مثالی قیادت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے 1965کی جنگ میں بھارتی فوج کوبھاری نقصان پہنچایا‘۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میجرعزیزبھٹی کی قیادت میں بھارت کے لاہور حملےکو کامیابی سے پسپا کیا گیا، عزیزبھٹی کی بہادری ہمیں وطن کےدفاع کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔

     

    یاد رہے کہ سنہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اگلے مورچوں پر تعینات میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بہادری سے دشمن فوج کا مقابلہ کیا تھا۔راجہ عزیز بھٹی کون تھے؟

     

    شہید راجہ عزیز بھٹی 6 اگست1923 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے ، وہ اکیس جنوری 1948 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تو انہیں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا، انہوں نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیرِاعزازی و نارمن گولڈ میڈل حاصل کیا اور ترقی کرتے ہوئے انیس سو چھپن میں میجر بن گئے۔

     

     

    سن 1965 میں بھارت نے پاکستان کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو قوم کا یہ مجاہد سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا، سترہ پنجاب رجمنٹ کے 28 افسروں اور سپاہیوں سمیت عزیز بھٹی شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

     

    راجہ عزیز بھٹی شہید اس عظیم خاندان کے چشم و چراغ تھے کہ جس سے دو اور مشعلیں روشن ہوئیں، ایک نشان حیدر اور نشان جرات پانے والے واحد فوجی محترم میجر شبیرشریف جب کہ دوسرے جنرل راحیل شریف جو سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں اور اب 41 ملکوں کے اسلامی اتحاد کی قیادت کررہے ہیں۔

     

     

     

  • فافن  کی  ترمیمی بل میں خامیوں کی نشاندہی:انتخابی اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ

    فافن کی ترمیمی بل میں خامیوں کی نشاندہی:انتخابی اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ

    اسلام آباد:فافن کی ترمیمی بل میں خامیوں کی نشاندہی:انتخابی اصلاحات پر سیاسی اتفاق رائے کا مطالبہ،اطلاعات کے مطابق فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی طرف کہا گیا ہے کہ وسیع سطح پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کیے بغیر الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم کرنے کی کوئی مساعی آمدہ انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہے، علاوہ ازیں اس پہلو کا امکان بھی ہے کہ جمہوری عمل کے استحکام کا عمل پٹڑی سے اتر جائے۔ انتخابی ترامیم پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان پیدا شدہ حالیہ تنازعہ پر فافن نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ جمہوری روایات کے مطابق حکومت آئینی ترامیم اور انتخابی اصلاحات پر اتفاق رائے کو یقینی بناتی ہے۔ سیاسی گروہ بندی کے باوجود سیاسی جماعتوں نے تین سال کی بھر پور مشاورت کے بعد 2017 میں انتخابی اصلاحات پر کثیر جماعتی پارلیمانی کمیٹی کے زیر سایہ اتفاق رائے پیدا کر لیا تھا۔

    حکومت کو ان روایات کو زندہ رکھتے ہوئے اہم انتخابی ترامیم پر آگے بڑھنا چاہیے۔ اگرچہ الیکشن( ترمیمی )بل 2020، انتخابی حلقہ بندیوں ،ووٹرز کی رجسٹریشن ، مخصوص نشستوں پر خواتین امیدواروں کی ترجیحی فہرست جمع کرانے کے طریقہ کار اور سیاسی جماعتوں کے قواعد و ضوابط میں بڑی تبدیلیوں کی تجاویز دیتا ہے لیکن عوامی حلقوں میں ساری بحث الیکشن (دوسرا ترمیمی ) بل2021 کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو متعارف کروانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو ووٹنگ کے عمل پر ہے۔

    فافن کا کہنا تھا کہ دونوں ترمیمی قوانین میں تجویز کی گئی تبدیلیاں انتخابی عمل پر دوررس نتائج مرتب کرنے کی اہل ہیں اور اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ اِن پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں گہرائی سے بحث کریں ، چاہے ان کی موجودہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی ہو یا نہ ہو تاکہ ایک وسیع البنیاد اتفاقِ رائے پیدا ہو سکے۔ اس طرح کے اتفاق رائے کے حصول کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں سیاسی فیصلے کرنے کی ذمہ داری مبہم قانونی تبدیلیوں ذریعے الیکشن کمیشن کو منتقل نہ کریں۔ الیکشن کمیشن کو اس طرح کے تنازعات میں گھسیٹنے سے آمدہ انتخابات اور ان کے نتائج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

    فافن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو الیکشن کمیشن کی استعداد بہتر بنانے اور اسے مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے قانونی اقدامات کرنے چاہییں۔ آرٹیکل 218 (3) کے تحت دیے اپنے آئینی مینڈیٹ کے تحت آزادانہ رائے دینے پر الیکشن کمیشن پر غیر ضروری تنقید آئین کے عدم احترام کے مترادف ہے اور یہ عمل الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 10 کے دائرے میں آسکتا ہے۔جو بات خاص طورپر تشویش کی حامل ہے وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو متعارف کرانے اور اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے سے جڑے پیچیدہ قانونی سوالات کا جواب دینے اور درکار اضافی قانون سازی کیے بغیر حکومت اس معاملے پرعملدرآمد کے لیے جارحانہ مہم چلا رہی ہے ۔

    تنظیم کے مطابق مجوزہ ترمیم الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اس کے قانونی ، انتظامی اثرات پر بغیر غور وفکر کیے بغیر عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین خریدنے کی اجازت دیتی ہے۔اس ترمیم کے تحت ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی قسم کا انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سپرد کردیا گیا ہیلیکن اس میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ خریدی جانے والی مشینیں ووٹنگ اور گنتی کے متعلق موجودہ قانونی شقوں پر پورا اتریں گی یا نہیں۔ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 84 سے 90 تک ووٹنگ اور گنتی کے مراحل کا احاطہ کرتے ہیں۔

    ان شقوں میں ترمیم کیے بغیر صرف مشینیں خریدنے سے الیکشن میں ان کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مشینوں کی خرید کے بعد ووٹنگ اور گنتی کے قوانین کو مشین کی محدودات کے مطابق تبدیل کرنا صائب نہیں ہو گا اور نہ ہی ان مراحل کو محض رولز میں ترامیم کر کے مشین کے تابع بنایا جانا چاہیے۔ ایسا کرنا پارلیمان کی قانون سازی کے اختیار میں مداخلت ہو گا۔ مجوزہ ترمیم میں یہ بھی واضح نہیں کہ کیا خریدی جانے والی ٹیکنالوجی میں ووٹ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ووٹرز کی توثیق اور تصدیق کی سہولت بھی شامل ہو گی یا نہیں۔ اس بارے میں موجودہ انتخابی قانون کے سیکشن 84 کے ذیلی سیکشن 2 میں پہلے ہی صراحت موجود ہے ۔

    ووٹ ڈالنے کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ووٹرز کی تصدیق کی ٹیکنالوجی سے ممکنہ طور پر ووٹر کی رازداری کو متاثر کر سکتی ہے اور اس کے ذریعے ووٹرز کی پسند اور اس کے انتخاب کا پتہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ مزید، مشینیں خریدنے کے عمل سے پہلے مشینیں فروخت کرنے والی کمپنیوں کے کسی بھی کردار پر ممنوع قرار دیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح مجوزہ ترمیم میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے اپنے رہائشی ملک میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے قابل بنانے کے لیے انتخابی قوانین کے بہت سے پہلوں میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے جن کے بغیر ہی یہ حق استعمال نہیں ہو سکتا۔ اس ترمیم میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں خاص طور پر محنت کش ووٹرز کی اہلیت طے کرنے کی ذمہ داری جیسے پیچیدہ سوالات کا جواب موجود نہیں ہے ۔

    الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 94(2) میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کی تعریف موجود ہے مگر اس ترمیم کے تحت ان میں ووٹنگ کے لیے اہل کون سے لوگ ہوں گے اور کون سے نہیں؟ اسی طرح ان کا بطور ووٹر اندراج اور انکے حلقوں کا تعین کرنے کی ذمہ داری کا سوال بھی تشنہ ہے کہ وہ اپنی مرضی کے پتے اپنا ووٹ درج کرا سکیں گی یا صرف یا نائیکوپ پر درج مستقل پتہ پر ؟سیکشن 30 اور سیکشن 37 کے تحت ووٹر رجسٹریشن کے لیے قانونی ضروریات پوری کرنے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ موجودہ انتخابی قانون کے سیکشن 41 کے ذیلی سیکشن 2 کے تحت امیدواروں کو انتخابی فہرستوں کی فراہمی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟ ان فہرستوں میں ووٹروں کے صرف وہی پتے درج ہوتے ہیں جہاں انکا ووٹ درج ہے لیکن اگر ووٹرز ان پتوں پر رہائش پذیر ہونے کی بجائے بیرون ملک مقیم ہیں تو امیدوار اپنے ووٹرز سے رابطہ کیسے کر پائیں گے اور اور انہیں بیرون ملک جا کر انتخابی مہم چلانا پڑے تو مہم اور امیدواروں کے اخراجات کی حد کیا ہوگی؟

    پولنگ کے دن ووٹروں کی تصدیق جو کہ سیکشن 84(1) کے تحت لازمی ہے، اوورسیز ووٹوں کی گنتی عبوری نتائج کی تیاری کے وقت کی جائیگی یا حتمی نتائج کے دوران کی جائیگی؟ بیرون ملک مختلف ٹائم زونز میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے ووٹ ڈالنے کا وقت کیا ہوگا؟ کیا ایڈوانس یا قبل از ووٹنگ متعارف کروائی جائے گی ؟ اوورسیز ووٹرز کی فہرست کیسے بنائی جائیگی، حلقے کی بنیاد پر ایک لسٹ یا پولنگ سٹیشنز پر مہیا کی جانیوالی فہرست کے مطابق جیسا پوسٹل بیلٹ کا طریقہ کار ہے ؟ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ووٹنگ پر امیدواروں کی نگرانی کا کیا نظام اپنایا جائیگا؟ ان تمام سوالوں کے جواب انتخابی قانون کے متعلقہ سیکشنز میں ترامیم کی صورت میں پارلیمان کو دینے چاہییں تبھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ان کے رہائشی ملکوں میں حق دینے کا قانون قابل عمل ہو سکتا ہے۔

  • پیپلز پارٹی صدمے میں ڈوب گئی:سینئر رہنما انتقال کر گئے

    پیپلز پارٹی صدمے میں ڈوب گئی:سینئر رہنما انتقال کر گئے

    لاہور:پیپلز پارٹی صدمے میں ڈوب گئی:سینئر رہنما، سابق رکن قومی اسمبلی انتقال کر گئے ،اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق رکن قومی اسمبلی انتقال کر گئے، پی پی رہنما ارشد گھرکی کئی روز سے شدید علالت کے باعث لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اپنے سینئر اور دیرینہ رہنما سے محروم ہوگئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور سے تعلق رکھنے والے متحرک پی پی رہنما ارشد گھرکی ہفتہ کے روز انتقال کر گئے۔

    ارشد گھرکی ماضی میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ مرحوم کافی عرصہ سے علیل تھے اور لاہور کے گھرکی ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں آج بروز ہفتہ وہ انتقال کر گئے۔ ارشد گھرکی کے انتقال پر پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی سربراہ اور خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر رحیم داد خان ہفتے کے روز پشاور میں انتقال کر گئے۔

    رحیم داد خان نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1989 میں ذوالفقار علی بھٹو کی جدوجہد کے آغاز پر پیپلز پارٹی سے کیا اور 1977 ، 1988 ، 1990 اور 2008 کے انتخابات میں پارٹی سے منتخب ہوئے۔ان کی نماز جنازہ کل (اتوار) دوپہر 2 بجے مردان میں ادا کی جائے گی

  • جرمنی نے اپنی لیڈر کو الوداع کہ دیا۔ اینجلا مرکل جاتے جاتے پاکستانی حکمرانوں کوسبق دے گئیں

    جرمنی نے اپنی لیڈر کو الوداع کہ دیا۔ اینجلا مرکل جاتے جاتے پاکستانی حکمرانوں کوسبق دے گئیں

    برلن :جرمنی نے اپنی لیڈر کو الوداع کہ دیا۔ اینجلا مرکل جاتے جاتے پاکستانی حکمرانوں کوسبق دے گئیں، جن کی عیاشیوں‌ نے قوم کا بیڑہ ہی غرق کردیا ہے
    ‏ وہ اپنی بالکونی پر باہر آئی اور پورے ملک میں 6 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں گئیں۔

    جرمن میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ‏اقتدار کے 16 سالوں میں اینجلا مرکل نے اپنے کسی بھی رشتہ دار آور دوست کو ریاستی عہدے پر تعینات نہیں کیا۔

    جرمنی کی اینجلا مرکل جاتے جاتے پاکستانی حکمرانوں کوسبق دے گئیں نے رئیل اسٹیٹ ، کاریں, پلاٹ اور نجی طیارے نہیں خریدے آور نا ہی ایک دن بھی ہیلی کاپٹر ہر آپنے دفتر گئ اور نا ہی اقتدار میں آنے کے لئے بڑے بڑے جھوٹ بولے۔

    16 سال تک ، اس نے اپنی الماری کا انداز کبھی نہیں بدلا۔‏ایک پریس کانفرنس میں ، ایک صحافی نے میرکل سے پوچھا: ” ہمیں احساس ہے کہ آپ نے وہی سوٹ پہنا ہوا ہے ، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟ ” اس نے جواب دیا: "میں سرکاری ملازم ہوں ، ماڈل نہیں۔

    ایک اور پریس کانفرنس میں ، انہوں نے اس سے پوچھا: ٕ”کیا آپ کے پاس ایک گھریلو ملازمہ ہے جو اپنا گھر صاف کرتی ہے ، کھانا تیار کرتی ہے ، وغیرہ۔” اس کا جواب تھا: "نہیں ، میرے کوئی نوکر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی ضرورت ہے۔

    میرے شوہر اور میں یہ کام ہر روز گھر پر کرتے ہیں

    ‏محترمہ میرکل کسی دوسرے شہری کی طرح ایک عام اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں۔ وہ جرمنی کی چانسلر منتخب ہونے سے پہلے اسی اپارٹمنٹ میں رہتی تھیں۔ اس نے اسے نہیں چھوڑا اور وہ ایک بھی ولا ، مکانات ، تالاب ، باغات کی مالک نہیں ہے۔

    یورپ کی سب سے بڑی معیشت کی چانسلر انجیلا میرکل ہمیشہ اقدار ، بے لوث اصولوں ، حقائق اور ہمدردی سے چلنے والی قیادت کی عظیم مثال رہیں گی۔جرمن چانسلر جاتے جاتے پاکستان کے حکمران خاندانوں کے لیے ایک نصیحت چھوڑ گئی ہیں