Baaghi TV

Author: +9251

  • فکرنہ کریں سب اچھاہی ہوگا:چین،ایران،روس،تاجک انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سےملاقات

    فکرنہ کریں سب اچھاہی ہوگا:چین،ایران،روس،تاجک انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سےملاقات

    اسلام آباد: فکرنہ کریں سب اچھا ہی ہوگا:چین،ایران، روس،تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس کی جنرل فیض حمید سے ملاقات، اطلاعات کے مطابق آج کا دن اسلام اباد میں بہت اہم قراردیا جارہا ہے ، اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہےکہ وفاقی دارالحکومت میں چین، ایران، روس اور تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس نے اہم ملاقات کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق اسلام آباد میں ایران، روس، چین اور تاجکستان کے انٹیلی جنس چیفس نے ملاقات کی، ملاقات ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی میزبانی میں ہوئی۔

    ذرائع کے کہنا ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ خطے میں دیرپا امن و سلامتی کی صورتحال پربھی بات چیت کی گئی۔

    واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے تھے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ ایک اعلی سطح کا وفد بھی کابل گیا تھا۔ جنرل فیض حمید کی کابل ایئرپورٹ پر تصویر بھی سامنے آئی جس میں انہوں نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑا ہوا تھا۔

    اس موقع پر کابل میں صحافی نے سوال پوچھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے، افغانستان میں اب کیا ہو گا، اس پر جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کہنا تھا کہ فکرنہ کریں سب اچھا ہوگا۔

    کابل میں پاکستانی سفیر نے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم افغانستان میں امن واستحکام کیلئےکام کر رہے ہیں

  • :11 ستمبر2001 سے 11 ستمبر 2021 امریکہ کی افغانستان پرچڑھائی سے رسوائی تک کا سفر

    :11 ستمبر2001 سے 11 ستمبر 2021 امریکہ کی افغانستان پرچڑھائی سے رسوائی تک کا سفر

    لاہور::11 ستمبر2001 سے 11 ستمبر 2021 امریکہ کی افغانستان پرچڑھائی سے رسوائی تک کا سفر،دنیا جانتی ہے کہ

     

     

     

    آج 11 ستمبر 2021 ہے ، پچھلے 20 سال سے دنیا میں اس حادثے پرمباحثے اورگفتگو اس دن سے ہوتی آرہی ہے لیکن اس بار کا 11 ستمبر 2001 کے 11 ستمبر سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے ،اس بار کے 11 ستمبر نے پچھلے 20 سال کی تاریخ کو نئے سرے سے رقم کردیا ہے

    گیارہ ستمبر 2001ء دنیا کی تاریخ کا وہ افسوس ناک سنگ میل تھا جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ امریکا میں چار فضائی مسافر بردار طیارے اغوا ہو کر خودکش انداز میں امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامت ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیے گئے۔

     

     

    دنیا کو یہ بھی معلوم ہو گا کہ نیویارک میں ہونےوالے 11 ستمبر 2001 کے دن  دو جہاز کے ٹکرانے سے 2996 لوگ مارے گئے تھے۔ پھر اس کے بعد جس طرح امریکہ نے اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کا اس کے بارے میں ہرکوئی جانتا ہے ،

     

     

    یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس واقعہ کے حوالے سے امریکیوں اوراتحادیون کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے اسامہ بن لادن یعنی القاعدہ ہے لیکن مسلمان اس کو قبول کرنے کے لیے ہرگزتیار نہیں تھے

     

     

    پھریہ بھی دیکھنے کو ملا کہ یہ بھی باتیں سننے کو ملیں  کہ اس حادثے میں کوئی بھی یہودی نہہیں مرا جبکہ حقائق یہ ہیں کہ 400 سے زائد یہودی لقمہ اجل بنے

     

    نائن الیون ان تاریخی واقعات کا حصہ بن چکا ہے جو ہمیشہ اسرار کی دھند میں لپٹے رہیں گے۔ امریکہ کے مطابق یہ واردات القاعدہ نے کی جبکہ القاعدہ بھی فخر سے اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے

     

     

    تجزیہ نگاروں اور مفکرین کا تو یہ کہنا ہےکہ  نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہی نہیں وہ 2 طیارے گرے تھے بلکہ پوری دنیا کے سیاسی ، معاشی ، داخلی استحکام پر ان کا ملبہ گرا۔

     

     

    اس وقت امریکی میڈیا کہہ رہا تھا کہ پہلا طیارہ شمالی ٹاور سے آٹھ بج کر 45 منٹ پر ٹکرایا۔ عمارت میں 102 منٹ تک آتشزدگی رہی اور پھر 10 بج کر 28 منٹ پر یہ صرف 11 سیکنڈ میں گِر گئی۔

     

     

    پہلے طیارے کی ٹکر کے 18 منٹ بعد ایک دوسرا طیارہ جنوبی ٹاور سے ٹکرایا۔ اس میں 56 منٹ تک آتشزدگی ہوئی اور پھر نو بج کر 59 منٹ پر یہ نو سینکڈ میں گِر گیا۔

     

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں  19 لوگ شامل تھے جن کا تعلق القاعدہ سے تھا، 4 مسافر طیارے3 طے شدہ اہداف کے ساتھ امریکا کے مختلف ہوائی اڈوں سے روانہ ہوئے تھے جن میں سے 2 طیارے نیویارک کی عمارتوں سے ٹکرائے تھے۔

     

    امریکی حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ  ایک نے امریکا کے شعبۂ دفاع کے صدر دفتر پنٹاگون پر حملہ کیا جس میں 189 افراد جان سے گئے۔ اسی دوران پنسلوانیا میں طیارہ گر کر تباہ ہونے سے 44 افراد ہلاک ہوئے۔

     

    اس موقع پر اس جنگ کے نتیجے میں پھیلنے والے اسلامو فوبیا کا ذکرکرنا ضروری ہے اس حادثے نے مسلمانوں کے لئے سنگین مشکلات کو جنم دیا، امریکہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن بنادی گئیں اورانہیں بے روزگاری اور ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا۔

    صورتحال یہاں تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ مسلمانوں کو نفرت اورحقارت سے دیکھا جانے لگا، محض شک کی بنا پر نوجوانوں کو گرفتار کرکے سزائیں بھی دی گئیں، دنیا دوحصوں میں بٹتی چلی گئی

    دنیا اس سانحے کو نائن الیون کے نام سے جانتی ہے ، وہ 4 جہاز جو امریکی سرزمین پر گرے تھے انہوں نے یکدم اسلام کے بارے میں اقوام عالم کا نظریہ تبدیل کرکے رکھ دیا ۔

     

    اس واقعہ کےبعد امریکا نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کی حوالگی کا افغان طالبان سے مطالبہ کیا ۔ یہ بھی معلوم ہوگا کہ اس وقت افغان طالبان کے انکار پر اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے کانگریس سے قانون منظور کرایا  تھا ،

     

     

    امریکی صدر بش کے منظورکرائے گئے قانون کےتحت امریکا جہاں ضروری سمجھتا اپنی عوام اور ملک کے تحفظ کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال کرسکتا تھا ۔

     

     

    امریکہ نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو امریکہ کے حوالے کیا جائے لیکن پھر افغان طالبان کے مسلسل انکار کے بعد امریکا نے 7 اکتوبر 2001کو آپریشن انڈورینگ فریڈم کے نام سے افغانستان پر حملہ کردیا ۔

     

    افغان طالبان کی حکومت کے خلاف جنگ میں امریکا کا بھرپور ساتھ اتحادی فوج نیٹو نے بھی دیا ۔ امریکا نے اسے ” وار آن ٹیرر ” کا نام دیا ۔ پاکستان بھی ماضی کی طرح امریکا اتحادی بنا۔ طالبان کی حکومت گرادی گئی اور حامد کرزئی کو 2002میں افغانستان کا صدر بنادیا گیا

     

     

    چند سال پہلے سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے دورمیں سعودی عرب پربھی الزامات لگائے گئے تھے کہ سعودی حکومت بالواسطہ ان حملوں کی حمایت کرچکی ہے لیکن سعودی عرب کے سخت ردعمل نے امریکہ کویہ الزامات واپس لینے پرمجبور کردیا اوراب پھرموجودہ صدر جوبائیڈن نے پھرشگوفہ چھوڑا ہےکہ سعودی عرب کے ان حملے سے تعلقات ہوسکتے ہیں اس پر تحقیقات ہونی چاہیے لیکن اس بارپھرسعودی عرب نے دلیرانہ موقف اپنا کران الزامات کو مسترد کردیا ہے

    بہرکیف بات ہورہی تھی کہ نائن الیون کے حملوں نے پاکستان پراس کے کیا اثرات مرتب کیے یہ ہرپاکستانی بہترجانتا ہے ،

    پھر دنیا نے دیکھا کہ دو ہزار ایک کے حملوں کے چند ہفتے بعد ہی امریکہ نے دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ چھیڑ دی تھی ، پاکستان کو بھی دھمکی دی گئی کہ یا تو وہ امریکہ کا اتحادی بننے کے لیے مثبت جواب دے یا پھرافغان طالبان کا حامی ہونے کے ناطے عالمی دنیا کے ردعمل کے لیے تیار رہے ، جس پر پاکستان کے اس وقت کے فوجی سربراہ نے پاکستان کواس دلدل سے نکالنے کےلیے پاکستان کومحفوظ رکھنے کے  لیے اتحادی بننے کا فیصلہ کیا ، اس جنگ کے آغاز سے آج تک پاکستان میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ آیا یہ پاکستان کی جنگ ہے بھی یا نہیں۔

     

     

    پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے امریکہ کا ساتھ دینے کے اس فیصلے نے پاکستان کو ایک ایسی جنگ کا حصہ بنا دیا تھا جس کے نتیجے میں‌ 50 لاکھ افغان مہاجرین کی پاکستان آمد کے ساتھ عسکریت پسندوں اور جنگجوئوں نے بھی اپنا راستہ بنایا اور پاکستان ایک ایسی جنگ کا حصہ بن گیا جس سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا، اس جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی اور اس کی معیشت کو 152 ارب ڈالر کے نقصانات برداشت کرنا پڑے ہیں، دنیا میں کسی دوسرے ملک نے اتنی بھاری قیمت ادا نہیں کی

     

     

     

    بات ہورہی تھی کہ ایک طرف پاکستان کومجبورا سہولت کار بننا پڑا تو دوسری طرف اس وقت کی حکومت کواسلام پسندوں کی ناراضگی کا بھی سامنا کرنا پڑا،

     

    پھر دنیا نے وہ دن بھی دیکھا جب امریکہ نے ان حالات میں حملہ کیا کہ افغانستان میں طالبان مخالف گروہ شمالی اتحاد، جنھیں اتحادی افواج کی حمایت حاصل تھی، کابل میں داخل ہونے ے تھے۔ تورا بورا پرامریکہ نے سخت حملے کیئے تھے اورامریکہ کا خیال تھا کہ ان مقامات پراسامہ بن لادن اوران کے ساتھی چپھے پوئے ہیں

     

     

    افغانستان پرسخت ترین فضائی حملے کےبعد امریکہ کے اتحادیوں اورافغآنستان میں افغان طالبان کے مخالفین جنہیں شمالی اتحاد کانام دیا جاتا ہے انہوں نے دیگر شہروں پر بھی فوری قبضہ کر لیا گیا۔

     

     

    اس کے بعد وہ وقت بھی آیا جب 2011 میں ایبٹ آباد آپریشن میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کوامریکی نیوی کے کمانڈوز نے مارنے کا دعویٰ کیا جو آج تک ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ آخراسامہ کومارنے کے بعد پھراس کی موت کوکیوں چھپایا جارہا ہے

    پھر اس کے بعد ملاعمر کی وفات ہوتی ہے اوراس دوران افغانستان میں افغان طالبان نے پھراپنے قدم مضبوط کرنے شروع کردیئے اور وہ وقت بھی آیا جب افغان طالبان نے امریکہ ، نیٹو کے 30 ممالک سمیت بھارت ، اسرائیل ،اور پھرکچھ ہمسائے اتحادیوں کو شسکست فاش دی

    امریکی اور بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد رواں ماہ طالبان نے بہت تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ بہت سے صوبائی دارالحکومتوں کو زیر کنٹرول کرنے کے بعد 14 اگست کی شام طالبان کے کابل کے نواحی علاقوں میں پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

     

    طالبان کی افغان دارالحکومت میں تیزی سے پیش قدمی کی اطلاعات کے بعد صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر روانہ ہو گئے اور طالبان نے صدارتی محل پر قبضہ کر لیا۔

     

    پھر افغانستان سے امریکی اوراتحادیون کو جورسوائی کا سامنا کرنا پڑا تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی ،یہی وجہ ہے کہ چند دن پہلے کابل ایئر پورٹ پرایسے مناظردیکھنے کو ملے جن کے بارے میں دنیا کے ممتاز دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رسوائی شاید اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی

     

     

    اس جنگ مین پاکستان کو جہاں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا وہاں آج دنیا پاکستان کی قربانیوں کی بھی معترف ہے ، دنیا جانتی ہے کہ افغانستان سے جان بچانے میں صرف پاکستان ہی کردار ادا کرسکتا ہے

     

     

     

    اس جنگ میں جہاں لاکھوں کی تعدادمیں افغان شہری جانحق ہوئے اورلاکھوں ہی بے گھرہوئے وہاں افغانیوں پرحملہ کرنے والوں کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا جس کا خمیازہ نسلوں کو بھگتنا پڑےگا

     

     

     

    امریکہ نے اگرچہ افغانستان میں اپنا فوجی مشن 31 اگست تک ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تاہم اس طویل جنگ کے دوران خرچ ہونے والی رقم کا جائزہ لیا جائے تو ان 20 برسوں میں کھربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جب کہ کئی قیمتی جانیں بھی حملوں کا نشانہ بنے۔

    یونیورسٹی ہارورڈ کے کینیڈی سکول اور براؤن یونیورسٹی کے منصوبے ’جنگ کی قیمت‘  مین کچھ اعدادو شمار بتائے گئے ہیں جن کے مطابق افغانستان میں 2 ہزار 448 امریکی فوجی جبکہ تین ہزار 846 امریکی کنٹریکٹر ہلاک ہوئے، جبکہ دیگر نیٹو ممالک کے ایک ہزار 144 اہلکار ہلاک ہوئے۔

     

     

    علاوہ ازیں افغان فوج اور پولیس کے 66 ہزار اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افغان شہریوں کی تعداد 42 ہزار 245 ہے۔ 51 ہزار 191 طالبان اور دیگر حکومت مخالف جنگجو ہلاک ہوئے۔

    انہی 20 برسوں میں 444 امدادی کارکن اور 72 صحافی بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

     

     

    امریکہ پر بظاہر القائدہ کے دہشتگردانہ حملے کی بیسویں برسی ایسی حالت میں منائی جا رہی ہے کہ امریکہ القائدہ اور طالبان کو شکست دینے کے بہانے افغانستان پر جنگ تھوپنے اور اس ملک پر بیس سال تک قبضہ کرنے کے بعد ذلت کے ساتھ باہر نکل گیا۔ امریکہ کے نکلنے اور طالبان کے افغانستان پر تسلط جمانے کی وجہ سے پوری دنیا میں بائیڈن حکومت کو خفت اٹھانا پڑ رہی ہے

     

     

    اس حادثے نے دنیا پرایسے اثرات مرتب کیے کہ جہاں اس پرسیکڑوں کتابی لکھی جاچکی ہیں ، ملین بارگفتگو ہوچکی ہے وہاں‌ اس حادثے نے دنیا کو ان لمحات کو محفوظ رکھنے اوراگلی نسلوں تک پہنچانے کے لیے دنیا کے بڑے بڑے اداروں نے فلموں کی شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیے جن میں سے زیادہ مقبول ہونے والی کچھ فلمیں‌یہ ہیں‌

     

  • ملک بھرمیں‌15سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن شروع:طریقہ کار بھی بتادیا

    ملک بھرمیں‌15سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن شروع:طریقہ کار بھی بتادیا

    اسلام آباد :ملک بھرمیں‌15سال تک کے بچوں کی ویکسینیشن شروع:طریقہ کار بھی بتادیا ،اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں بچوں کوکورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے 15سال تک کے بچوں کی ویکسی نیشن شروع کرنے کافیصلہ کرلیا ، ویکسی نیشن 13ستمبر سے ہوگی

    تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے کوروناویکسی نیشن کیلئےعمر کی حد میں مزید کمی کا فیصلہ کرتے ہوئے 15سال عمرکےبچوں کی ویکسی نیشن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 15 تا18سال عمرکےافرادکی ویکسی نیشن 13ستمبرسےہوگی، 15 تا 18 سال والوں کوفائزرکوروناویکسین لگائی جائےگی۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پہچان اور تصدیق کےلییے 15 تا 18 سال عمرکےافرادکی ویکسی نیشن کیلئےب فارم کااستعمال ہو گا۔

     

     

    یاد رہے رواں ماہ کے آغاز میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے 18 سال سےکم عمرافرادکی نظر ثانی شدہ ویکسینیشن گائیڈ لائنز جاری کردی گئی تھی ،جس میں کہا گیا تھا کہ12تا17سالہ کمزورقوت مدافعت والے افراد کو فائزر ویکسین لگے گی، کمزورقوت مدافعت والےافرادکومیڈیکل سرٹیفکیٹ کاثبوت پیش کرناہوگا۔

    خیال رہے پاکستان میں کورونا کی صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے ، یومیہ 80 سے زائد اموات ریکارڈ اور 3 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ کئے جارہے ہیں۔

     

    ادھرملک بھر میں کورونا وائرس سے 82 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 26 ہزار 662 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 12 لاکھ ایک ہزار 367 ہوگئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 ہزار 480 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 4 لاکھ 10 ہزار 463، سندھ میں 4 لاکھ 42 ہزار 401، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 67 ہزار 154، بلوچستان میں 32 ہزار 517، گلگت بلتستان میں 10 ہزار 109، اسلام آباد میں ایک لاکھ 2 ہزار 94 جبکہ آزاد کشمیر میں 33 ہزار 131 کیسز رپورٹ ہوئے۔

  • لانڈھی، شیرپاؤ کالونی اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے خوشخبری

    لانڈھی، شیرپاؤ کالونی اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے خوشخبری

    لانڈھی، شیرپاؤ کالونی اور ملحقہ علاقوں کے لاکھوں مکینوں کے لئے خوشخبری

    حکومت سندھ کا شیرپاؤ کالونی کے اسٹار گراؤنڈ میں اسٹیٹ آف دی اسپورٹس کمپلیکس بنانے کا فیصلہ

    ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی، سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون بیرسٹر مرتضی وہاب کا اسٹار گراؤنڈ کا تفصیلی دورہ کیا۔

    بیرسٹر مرتضی وہاب کو ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر گہنور خان لغاری نے بریفنگ بھی دی۔
    بریفننگ میں بتایا گیا کہ اسٹار گراؤنڈ سولہ ایکڑ اراضی پر مشتمل گراؤنڈ ہے۔اسٹار گراؤنڈ میں تفریحی پارک بھی بنایا جائیگا۔گراؤنڈ میں انڈور اور آؤٹ ڈور گیمز کی سہولیات مہیا کی جائینگی۔گراؤنڈ میں جدید لائٹنگ، سولر سسٹم نصب کیا جائیگا۔گراؤنڈ میں فیملی اور چلڈرن پارک بنائے جائینگے۔اسٹار گراؤنڈ میں پانی کے لئے ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگائیں گے۔

    سندھ حکومت نے گراؤنڈ میں ترقیاتی کاموں کی منظوری دیدی ہے۔آئندہ ایک ماہ میں اسٹار گراؤنڈ میں کام شروع کردئیے جائیگے۔

    اس موقع پر بیرسٹر مرتضی وہاب نے
    کہا کہ ہم کراچی کے ہر علاقے میں شہریوں کو صحت مند سہولیات فراہم کررہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کراچی کی رونقیں بحال کریگی۔

    بلاول بھٹو زرداری شہر اور صوبے کی ترقی چاہتے ہیں۔پارٹی چیئرمین کی ہدایت پر شہر بھر میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔
    اسٹار گراؤنڈ لانڈھی شیرپاؤ کالونی اور ملحقہ علاقوں کے لئے پیپلزپارٹی کا بڑا تحفہ ہو گا۔

    پیپلزپارٹی ایم این اے آغا رفیع اللہ، سلمان عبداللہ مراد، محمود عالم جاموٹ، ضلع ملیر کے قائم مقام صدر عدیل اختر شیخ سمیت دیگر انکے ہمراہ تھے۔

  • اللہ تعالی مجھےکئی سال زندہ رکھےگا:       ڈاکٹرعبدالقدیرخان موت کی خبریں دینے والوں پر برہم

    اللہ تعالی مجھےکئی سال زندہ رکھےگا: ڈاکٹرعبدالقدیرخان موت کی خبریں دینے والوں پر برہم

    لاہور :اللہ تعالی مجھے کئی سال زندہ رکھے گا تاکہ ان لوگوں کے دل جلا سکوں:ڈاکٹرعبدالقدیرخان موت کی خبریں دینے والوں پر برہم ہو گئے ،اطلاعات کے مطابق ممتازایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستانڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنی صحت کے حوالے سے ویڈیو پیغام جاری کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کل سے میری موت کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں، میں بالکل خیریت سے ہوں۔مجھے بھی کل سے بہت فون آ رہے ہیں لیکن اللہ تعالی کے کرم سے زندہ ہوں اور خیریت سے ہوں۔کچھ نمک حرام اور احسان فراموش لوگ کل سے میرے بارے میں بری بری باتیں کر رہے ہیں کہ میں فوت ہو گیا ہوں لیکن اللہ کا ہزار شکر ہے کہ میں خیریت سے ہوں۔

    ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے اپنے پیغام میں‌کہا ہےکہ اللہ تعالی مجھے کئی سال زندہ رکھے گا تاکہ ان لوگوں کے دل جلا سکوں۔قبل ازیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قوم سے اپیل کی ہے کہ ان کی صحتیابی کے لئے دعا کریں تاکہ وہ جلد از جلد صحت یاب ہو سکیں۔

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ میں نے دل و جان ، خون، پسینہ سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ میرا اللہ میرا گواہ ہے میں جہاں چاہتا چلا جاتا اور کھرب پتی ہوجاتا لیکن مجھے پاکستان عزیز تھا اور اس ملک کی حفاظت و سلامتی کے لئے سب کچھ چھوڑ کر واپس اپنے وطن آ گیا۔

     

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ اس وقت میں فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہوں اور اس وقت لاہور میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے نام سے میگاپراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ میں اپنی آخری سانس تک قوم کی خدمت کرتا رہوں گا۔۔یاد رہے کہ قومی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبعیت ناساز ہونے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق منگل کو ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر 26 اگست کو کے آر ایل ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ترجمان کے مطابق طبعیت میں بہتری نہ آنے پر ان کو ملٹری اسپتال میں کووڈ وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب اطلاع آئی ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت بہتری کی طرف بڑھ رہی ہے

  • زورداردھماکےنے چین کوبے چین کردیا:8 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی

    زورداردھماکےنے چین کوبے چین کردیا:8 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی

    بیجنگ: زورداردھماکےنے چین کوبے چین کردیا:8 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ،اطلاعات کے مطابق چین اس وقت سخت بے چینی میں ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ سیکورٹی ادارے اس دھماکے پربہت پریشان دکھائی دیتے ہیں ،

    یہ بے چینی کیا ہے اس حوالے سے چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ چین میں ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے زور دار دھماکے میں 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے بندرگاہی شہر ڈالیان میں واقع ایک کثیرالمنزلہ رہائشی عمارت اچانک زور دار دھماکا ہوا۔ دھماکے کے ساتھ ہی خوفناک آگ بھڑک اُٹھی۔ اپارٹمنٹ میں افراتفری اور بھگدڑ مچ گئی۔

    ریسکیو ادارے نے امدادی کاموں کا آغاز کرتے ہوئے متاثرین کو باہر نکالا۔ 20 کے قریب افراد کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے اور 5 شدید زخمی ہیں جب کہ بقیہ افراد کو طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دیدی گئی۔

    فائر بریگیڈ کے عملے نے دو گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا تاہم اس دوران کافی مالی نقصان ہوا۔ حادثے کی وجوہات کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے تاہم ابتدائی طور پر کہا جا رہا ہے کہ دھماکا گیس لیکیج کے باعث ہوا۔

  • شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6 گرفتار

    شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6 گرفتار

    راولپنڈی : شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:1 دہشت گرد ہلاک 6ہلاک ،اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پردہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب آپریشن کیا ہے

    پاک فوج کے ترجمان ادارے کی طرف سے اس حوالے سے بتایا گیا ہےکہ شمالی وزیرستان کے ضلع میر علی ، حسو خیل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک آئی بی او کیا۔ دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 1 دہشت گرد ہلاک اور 6 دہشت گرد پکڑے گئے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کورڈن اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    یاد رہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے جوانوں کا آپریشن جاری ہے اوراس حوالے سے پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا ہےکہ پاک وطن سے آخری دہشت گرد کے ‌خاتمے تک مشن جاری رہے گا

  • تبدیلی آگئی : پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری

    تبدیلی آگئی : پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری

    کراچی: تبدیلی آگئی : پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی آرڈیننس کے تحت سول ایوی ایشن نے ایئرپورٹ اتھارٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔

    پی آئی اے حکام کے مطابق پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی آرڈیننس کا نفاذ 23 اگست 2021 سے ہوا، اسی کے ساتھ سول ایوی ایشن آرڈیننس کا نفاذ بھی اسی روز سے ہوگیا۔

    سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل نے اتھارٹی کے قیام کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

    نوٹی فکیشن کے مطابق دونوں اتھارٹیز حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گی، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی ہوائی اڈوں کے انتظامی معاملات کو دیکھے گی جبکہ فضائی معاملات سول ایوی ایشن اتھارٹی کے پاس ہوں گے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، ایئرپورٹ اتھارٹی آرڈیننس اور مالی سال 2021 کے لیے ایس ای سی پی کے آڈیٹرز تعینات کرنے کی منظوری دے گئی تھی۔

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان خیریت سے ہیں:دعاوں کی ضرورت ہے:ترجمان شوکت ورک

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان خیریت سے ہیں:دعاوں کی ضرورت ہے:ترجمان شوکت ورک

    لاہور:ڈاکٹر عبدالقدیر خان خیریت سے ہیں:دعاوں کی ضرورت ہے:،اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان خیریت سے ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں

    ترجمان شوکت ورک نے ڈاکٹرعبدالقدیرخان کی وفات کی خبروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کی خبریں جھوٹی ہیں

    ترجمان شوکت ورک نے کہا ہے کہ قوم سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جلد صحت یابی کی دعا کی درخواست ہے:دعا ہے اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صحت اور لمبی زندگی عطا فرمائے:

    دوسری طرف جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کو قوم کی دعاوں کی ضرورت ہے ،

    اللہ تعالی ان کو کامل صحت عطا فرمائے، آمین ..ان کی وفات کی خبر غلط ہے ، احتیاط کیجیے پلیز’

    واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان گزشتہ چند روز سے علیل ہیں،انہوں نے قوم سے دعائے صحت کی اپیل بھی کی تھی

  • بھارتی ماڈل کا فوج افسر کی گاڑی پر حملہ، ویڈیو وائرل

    بھارتی ماڈل کا فوج افسر کی گاڑی پر حملہ، ویڈیو وائرل

    نئی دہلی :بھارتی ماڈل کا فوج افسر کی گاڑی پر حملہ، ویڈیو وائرل ،اطلاعات کےمطابق بھارتی فوج اس وقت سخت معاشرتی ناہمواریوں کی وجہ سے سخت مشکل سے دوچار ہے ، یہی وجہ ہےکہ آئے دن بھارتی فوج کا کوئی نہ کوئی سکینڈل دنیا کے سامنے آتا رہتا ہے

    تازہ واقعہ میں 22 سالہ بھارتی ماڈل نے ایسا ردعمل دکھایا کہ دنیا بھرمیں بھارتی فوج کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہی

    بھارتی دفاعی حکام کے مطابق بھارتی ریاست گوالیار میں 22 سالہ لڑکی جو نشہ میں دھت تھی ، اس نے بگڑے ہوئے بھارتی آرمی کے کیپٹن کی گاڑی پر حملہ کردیا

     

     

    https://twitter.com/EimKrrish/status/1436008503311695874

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اس لڑکی نے فوجی گاڑی کی ہیڈ لائٹس توڑ دی پھر یہ ہی نہیں بلکہ جوانوں کو گھونسے مارے

    اس بھارتی لڑکی کیطرف سے سخت ردعمل کے بعد بھارتی فوج نے پولیس کو اطلاع دی
    پولیس نے مذکورہ ماڈل لڑکی کو تھانے منتقل کر دیا

    بعد ازاں لڑکی کا میڈیکل کروایا گیا،رپورٹ کے مطابق ماڈل لڑکی نشہ میں ٹن تھی
    مذکورہ ماڈل لڑکی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا