Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز۔ بینک اسلامی نے امریکی عدالت میں سائبر ہیکر کے خلاف کیس جیت لیا

    پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز۔ بینک اسلامی نے امریکی عدالت میں سائبر ہیکر کے خلاف کیس جیت لیا

    کراچی: پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارکسی بینک نے امریکی عدالت میں سائبر ہیکر کے خلاف دائر مقدمہ جیت کر نہ صرف بینکنگ سیکٹر بلکہ پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔۔ گزشتہ روز امریکی عدالتکینیڈین نژاد سائبر ہیکر کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اسے 11 سال 6 ماہ قید اور دنیا بھر کے مختلف بینکوں سے لوٹی ہوئی 30ملین ڈالرکی رقم واپس اد اکرنے کی سزا سنائی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، سال،2018 میں ہونے والی اس واردات میں زیادہ تر نارتھ کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کے ایک گروپ نے مذکورہ کینیڈین نژاد شخص کی سربراہی میں دنیا بھرکے مختلف بینکوں کا ڈیٹا چوری کرکے بڑے پیمانے پر رقوم نکال لی تھی۔بینک اسلامی بھی ان ہیکرز کی جانب سے دنیا بھر میں کئے جانے والے سائبر حملوں کا شکار ہوا اور اسے تقریباََ 5.5 ملین امریکی ڈالر کی ادائیگی کے ذریعے خطیر مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    بعد ازاں، امریکہ میں مذکورہ ہیکرز کی گرفتاری عمل میں آئی تو بینک اسلامی نے امریکہ نے ان ہیکرز کے خلاف سائبر ہیکنگ کے ذریعے بینک کا ڈیٹا چوری کرکے رقوم لوٹنے کے حوالے سے امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کیااور بینک کی جانب سے مقدمے کی پیروی اور تمام تر ثبوت و شواہدپیش کئے جانے پر امریکی عدالت نے ان ہیکرز کے سائبر حملوں سے متاثرہ، بینک اسلامی اور دنیا بھر کے دیگر متاثرہ بینکوں کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے، ہیکرز کو 11 سال 6 ماہ کی سزااور دنیا بھر کے مختلف بینکوں سے 30 ملین ڈالر کی لوٹی ہوئی رقوم کی واپس ادائیگی کا حکم صادر کیا۔جس کے ذریعے بینک اسلامی کو بھی اس کی دعویٰ شدہ 5.5 ملین ڈالر کی رقم بھی فراہم کردی جائے گی۔

    ترجمان کے مطابق، پاکستان میں موجود کسی بینک کی جانب سے امریکی عدالت میں مقدمہ کئے جانے اور اس کی مسلسل پیروی کے ذریعے جیتنے کے حوالے یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس نے پورے بینکنگ سیکٹر کا سر فخر سے بلند کرکے بینکنگ سیکٹر کے لیے ایک مثال قائم کردی ہے۔

  • سینیٹر کامران مرتضیٰ کے دفتر میں ڈکیتی :مجرم 13 دن گزرنے کے باوجود تاحال نہ پکڑے جاسکے

    سینیٹر کامران مرتضیٰ کے دفتر میں ڈکیتی :مجرم 13 دن گزرنے کے باوجود تاحال نہ پکڑے جاسکے

    اسلام آباد (محمداویس)سینیٹر کامران مرتضیٰ کے دفتر میں ڈکیتی :مجرم 13 دن گزرنے کے باوجود تاحال نہ پکڑے جاسکے ،اطلاعات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنماء اور معروف ماہر قانون سینیٹر کامران مرتضیٰ کے دفتر میں ڈکیتی کرنے والے مجرم 13 دن گزرنے کے باوجود تاحال نہ پکڑے جاسکے، جس سے اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے،

    اس سلسلے میں‌ سینیٹر کامران مرتضیٰ کی اہلیہ اور رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر معاملے کی چھان بین اور انکوائری کے لیئے اسلام آباد انتظامیہ کو احکامات جاری کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق 27 اگست کو اسلام آباد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ کے دفتر میں چار مسلح افراد نے ڈکیتی کی وارادت کی اور سینیٹر کامران مرتضی کے بیٹے سمیت دیگر افراد کو یرغمال بنا کر نقدی لوٹ کے فرار ہوگئے،

    واقعہ کی ایف آئی آرتھانہ کراچی کمپنی میں درج کرائی گئی، لیکن تاحال مجرموں کو نہ پکڑا جا سکا،جے یو آئی (ف) کی رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے معاملے کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا،

    خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت عوام کو مناسب سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہے، امن و امان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے، خاص طور پر اسلام آباد میں یہ صورتحال بہت بدتر ہے، مجرموں کو پکڑنے اور معاملے کی چھان بین کرنے کے لیئے کوئی عملی کام نہیں کیا گیا،

    خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی چھان بین اور باقاعدہ انکوائری کے لیئے اسلام آباد انتظامیہ کو فوری اور ضروری احکامات جاری کیئے جائیں۔

  • پی آئی اے کے لیے کابل ایئرپورٹ کے دروازے کھول دیئے گئے

    پی آئی اے کے لیے کابل ایئرپورٹ کے دروازے کھول دیئے گئے

    اسلام آباد:پی آئی اے کے لیے کابل ایئرپورٹ کے دروازے کھول دیئے گئے ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل ایئرپورٹ پر کمرشل پروازوں کی بحالی کے بعد پی آئی اے نے بھی بڑا فیصلہ کر ‏لیا۔

    ترجمان کے مطابق قومی ایئرلائن پی آئی اے نے مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی غرض سے پرواز پیر 13 ستمبر کو صبح 7 بجکر 30 منٹ پر کابل روانہ ہو گی جس کے لیے ‏افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اےکو لینڈنگ کی اجازت دیدی ہے۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے نےکابل فلائٹ آپریشن کیلئے تیاری مکمل کر لی ہے اس آپریشن میں پی آئی ‏اے ایئربس320 طیارے استعمال کرےگی ۔

    دوسری جانب قطری حکام نے کابل ایئر پورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے، حکام نے کہا ‏کہ کابل ایئر پورٹ سے بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو رہا ہے،

  • امراللہ صالح کے بھائی افغان طالبان کے حملے میں‌ مارے گئے

    امراللہ صالح کے بھائی افغان طالبان کے حملے میں‌ مارے گئے

    کابل: امراللہ صالح کے بھائی افغان طالبان کے حملے میں‌ مارے گئے،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے سابق نائب صدر امراللہ صالح کے بھائی روح اللہ صالح ہلاک ہوگئے۔

    اہلخانہ کے مطابق طالبان نے امراللہ صالح کے بھائی روح اللہ صالح کو ہلاک کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے گزشتہ روز روح اللہ کو ہلاک کیا اوران کی تدفین کی اجازت نہیں دے رہے۔

    دوسری جانب طالبان نے ان کے اہلخانہ کے دعوے کی تردید کی اور کہا کہ روح اللہ صالح کو پنجشیر کی لڑائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔

    خیال رہے کہ 15 اگست کو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد افغانستان کے سابق نائب صدرامراللہ صالح پنجشیر چلے گئے تھے اور طالبان کے خلاف مزاحمتی فورس کے قائدین میں شامل تھے۔

    گزشتہ دنوں طالبان نے پنجشیر کے کنٹرول کا اعلان کیا تھا اور دعویٰ کیا تھاکہ امراللہ صالح فرار ہوچکے ہیں۔

    ادھر بعض ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شمالی اتحاد وادی پنجشیرمیں نئی قوت کے ساتھ افغان طالبان کے خلاف میدان میں اترنے کی تیاری کررہے ہیں‌

  • شکست کا ڈریا پھرکوئی اورمعاملہ:پی ڈی ایم نے آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے دیا

    شکست کا ڈریا پھرکوئی اورمعاملہ:پی ڈی ایم نے آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے دیا

    لاہور:شکست کا ڈر یا پھرکوئی اور معاملہ:پی ڈی ایم نے آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے دیا،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم نے آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دے کرآنے والے دنوں‌ کے لیے نئے سیاسی عزائم سے آگاہ کردیا ہے

    تفصیلات کے مطابق الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے معاملے پر حکومت اور الیکشن کمیشن کے درمیان پیدا ہونے تنازعے کے بعد اپوزیشن اتحاد نے بھی حکومت کیخلاف محاذ کھولنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کیلئے مشاورت شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم جماعتوں کے رہنماوں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے معاملے پر زور زبردستی کی کوشش کی، تو اس صورت میں عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے حتمی فیصلہ نواز شریف اور دیگر رہنماوں کی مشاورت کے بعد کیا جائے۔

    انتخابات کے بائیکاٹ کے علاوہ پی ڈی ایم جماعتوں کی جانب سے حکومت کیخلاف احتجاج بھی شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔پی ڈی ایم کی جانب سے چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں دھرنا دیے جانے کا امکان ہے،

    اس حوالے سے حتمی اعلانات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ دوسری جانب اس تمام صورتحال میں پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ آج کل ہر کام پاکستان میں اُلٹا ہی ہورہا ہے کوئی سیدھا کام ہورہا ہو تو کچھ کہیں نا، اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی۔

  • افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ

    افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ

    ماسکو:افغان طالبان نے11ستمبر کوکابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی: روسی میڈیا کادعویٰ ،اطلاعات کے مطابق روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ طالبان نے 11 ستمبر کو افغانستان کی عبوری کابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی۔

    گزشتہ دنوں طالبان نے افغانستان کی عبوری حکومت کا اعلان کیا تھا جس کے مطابق ملا محمد حسن اخوند افغانستان کے عبوری وزیراعظم ہوں گے جب کہ ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی نائب وزرائے اعظم ہوں گے۔

    ان کے علاوہ بھی طالبان کی جانب سے وزرا اور اداروں کے سربراہان کی فہرست جاری کی گئی تھی۔اس کے بعد خبریں سامنے آئی تھیں کہ نئی افغان حکومت نائن الیون کے 20 سال مکمل ہونے کے روز حلف اٹھائے گی۔

    تاہم اب روسی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان نے 11 ستمبر کو عبوری کابینہ کی تقریب حلف برداری ملتوی کردی ہے۔

    دوسری جانب طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری کی خبر کو افواہ قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں کابینہ کا اعلان منسوخ کیا گیا تھا اور پھر بعدازاں قیادت کی منظوری کے بعد نئی کابینہ کے ناموں کا اعلان کیا گیا۔

    انعام اللہ سمنگائی کا کہنا تھا کہ کابینہ نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور 11 ستمبر کو تقریب حلف برداری کی خبریں درست نہیں۔

    یاد رہےکہ آج پاکستان کے سابق وزیرداخلہ سینیٹررحمان ملک بھی ان خدشات کااظہارکرچکے ہیں کہ امریکا افغان طالبان کی حلف برداری کی تقریب پرحملہ کرکے طالبان لیڈروں کا مارسکتا ہے ،

    ذرائع نے دعویٰ کیا ہے شاید یہی وہ وجوہات ہوسکتی ہیں جن کی بنا پریہ تقریب ملتوی کی گئی ہے

  • برق رفتار آپریشن :ایڈیشنل آئی جی پر فائرنگ میں ملوث افراد گرفتار

    برق رفتار آپریشن :ایڈیشنل آئی جی پر فائرنگ میں ملوث افراد گرفتار

    اسلام آباد:برق رفتار آپریشن :ایڈیشنل آئی جی پر فائرنگ میں ملوث افراد گرفتار ،اطلاعات کے مطابق راولپنڈی میں ایڈیشنل آئی جی کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والی گاڑی پکڑی گئی، کار میں سوار 4 مسلح افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں ایڈیشنل آئی جی موٹر وے سجاد افضل آفریدی کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والی گاڑی پکڑی گئی، کار میں سوار 4 مسلح افراد کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی پولیس کی فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، ایس ایس پی آپریشن کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ تھانہ نصیر آباد کی حدود میں مسلح افراد نے ایڈیشنل آئی موٹر وے کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایڈیشنل آئی جی موٹروےسجاد افضل آفریدی زخمی اور ‏ان کے بھائی نعمان افضل جاں بحق ہوگئے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی۔

    عثمان بزدار نے ایڈیشنل آئی جی کے بھائی کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی ہمدرد کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ فائرنگ کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے اور زخمی ایڈیشنل آئی جی کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • پی پی اے ایف پاکستان میں بلا سود قرضے کیسے اورکہاں کہاں دے رہا ہے:تفصیلات آگئیں

    پی پی اے ایف پاکستان میں بلا سود قرضے کیسے اورکہاں کہاں دے رہا ہے:تفصیلات آگئیں

    اسلام آباد:پی پی اے ایف پاکستان میں بلا سود قرضے کیسے اورکہاں کہاں دے رہا ہے:تفصیلات آگئیں ،اطلاعات کے مطابق پی پی اے ایف اس وقت ملک بھر کے پسماندہ علاقوں میں واقع نئے اضلاع میں گورنمنٹ آف پاکستان کے احساس آئی ایف ایل کے موثر نفاذ کے لیے اپنے شراکت داروں کے لیے اورینٹیشن سیشن منعقد کر رہا ہے۔

     

     

    نئے شامل ہونے والے اضلاع میں راولاکوٹ ، گلگت (جی بی) ، آواران ، کیچ ، شیرانی ، گوادر ، قلعہ سیف اللہ ، سبی (بلوچستان) ، ایبٹ آباد ، لوئر کوہستان ، شانگلہ ، بٹگرام ، اپر کوہستان ، ٹانک ، شمالی وزیرستان ، تور گھر شامل ہیں۔ ، کولائی پالاس کوہستان ، ڈی آئی خان (کے پی) بہاولپور ، رحیم یار خان ، میانوالی ، اوکاڑہ ، پاکپتن ، جھنگ (پنجاب) ، کشمور ، سجاول ، شکار پور اور عمرکوٹ (سندھ) شامل ہیں‌

     

     

     

    یہاں PPAF شراکت دار قرض کے مراکز قائم کر رہے ہیں تاکہ احساس کے بغیر قرض کے متلاشی افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    قرض کے مراکز کی تفصیلات جلد پی پی اے ایف کی ویب سائٹ www.ppaf.org.pk پر دستیاب ہوں گی۔ 4 سالہ احساس IFL جو پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے پاکستان کا سب سے بڑا غربت گریجویشن پروگرام ہے جو 14.7 ملین مستحق افراد کو 50 فیصد خواتین پر اثر انداز کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

    احساس IFL اپنے دائرے میں ، نوجوانوں ، خاص ضروریات کے حامل افراد ، خواجہ سراؤں ، اقلیتوں اور پسماندہ اضلاع میں پسماندہ کمیونٹیوں کو بھی لاتا ہے۔ روپے میں سود سے پاک قرضوں کی حد۔ 20،000 روپے سے 70،000۔ احساس IFL کے بارے میں مزید جانیں۔

  • بین الالقوامی پابندیوں کیساتھ طالبان کابینہ کھل کر کام کرنے سے قاصر ہوگی۔ رحمان ملک

    بین الالقوامی پابندیوں کیساتھ طالبان کابینہ کھل کر کام کرنے سے قاصر ہوگی۔ رحمان ملک

    اسلام آباد:بین الالقوامی پابندیوں کیساتھ طالبان کابینہ کھل کر کام کرنے سے قاصر ہوگی۔اطلاعات کے مطابق سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ نئی افغان کابینہ بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے نامزد دہشت گردوں پر مشتمل ہے اور وہ ان بین الاقوامی پابندیوں کیساتھ حکومت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کھل کر سامنے نہیں آ سکتے۔

    انہوں نے کہا کہ سراج الدین حقانی ، جنہیں وزارت داخلہ دی گئی ہے ، خودکش حملوں میں ملوث ہونے اور القاعدہ کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے ایف بی آئی کے انتہائی مطلوب افراد میں سے ایک ہیں اور امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی گرفتاری کے لیے معلومات کے لیے 10 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کی ہے۔ افغان نئی کابینہ تقریباً ملا عمر کی پوری کابینہ پر مشتمل ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ملا عمر دوبارہ اقتدار میں آگیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ملا حسن نامزد وزیراعظم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گردی کی بلیک لسٹ میں سرفہرست ہیں جس میں ان کے نائب عبدالغنی برادر بھی شامل ہیں۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ 33 رکنی عبوری کابینہ میں سے چار رہنماؤں کو گوانتانامو بے جیل میں رہ چکے ہیں اور ان میں ملا محمد فاضل نائب وزیر دفاع ، خیر اللہ خیرخواہ وزیر اطلاعات و ثقافت ، ملا نور اللہ نوری سرحدوں اور قبائلی امور کے وزیر اور ملا عبدالحق وثاق ڈائریکٹر انٹیلی جنس اور گروپ کے پانچویں رکن محمد نبی عمری کو مشرقی صوبے خوست کا گورنر مقرر کیا گیا ہے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائم مقام وزیر دفاع ملا یعقوب ، قائم مقام وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اور ان کے نائب شیر محمد عباس ستانکزئی سب اقوام متحدہ کی دھشتگردوں کے فہرست میں شامل ہیں۔

    چیئرمین آئی آر آر نے کہا کہ طالبان نے تہران سے حمایت حاصل کرنے کے لیے سب پر مشتمل ایک "جامع” حکومت بنانے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن کابینہ میں کوئی ہزارہ رکن شامل نہیں کیا گیا ہے اور کابینہ کے تمام وزراء طالبان رہنماؤں پر مشتمل ہیں جو امریکہ کے خلاف لڑ چکے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ اطلاع ملی ہے کہ سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے حکومت میں کچھ عہدوں کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ان کے قریبی ذرائع کے مطابق وہ اب وہ دونوں یرغمالیوں کی طرح ہیں اور اقوام متحدہ کو ان کی حفاظت اور ان کی زندگیوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔

    رحمان ملک نے زور دے کر کہا "میں ہر ملاقات میں صدر حامد کرزئی سے کہتا تھا کہ اچھے یا برے طالبان نہیں ہیں ، بلکہ طالبان صرف طالبان ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بلوچستان سے اور ٹی ٹی پی کے خود ساختہ جلاوطن عسکریت پسندوں کی موجودگی سے پریشان ہے جن میں مولوی فقیر محمد اور دوسرا زندہ بچ جانے والا خودکش حملہ آور اکرام اللہ ہے جو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے جائے وقوع سے فرار ہوا اور اب افغانستان کے کنڑ کے علاقے میں موجود ہے۔

    رحمان ملک نے کہا کہ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ عبداللہ اورکزئی جو کہ فاروق اسلم کے نام سے جانا جاتا ہے اور داعش پاکستان کا سربراہ تھا پیچھلے دنوں طالبان کے ہاتھوں مارا گیا ہے اور امید ہے کہ طالبان اکرام اللہ کو بھی پاکستان کے حوالے کر دیں گے جس سے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے قتل کے متعلق مزید معلومات درکار ہیں۔

    رحمان ملک نے مزید کہا کہ "اگرچہ احمد مسعود نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف موثر مزاحمت کرنے کے لیے فورسز رکھتے ہیں اور امراللہ صالح نے آخری سانس تک مزاحمت اور طالبان کے خلاف لڑنے دعوہ کیا ہے مگر اطلاع ہے کہ وہ تاجکستان فرار ہو چکا ہے تاہم ، این آر ایف کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی میثم نظاری نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا پنجشیر پر قبضہ کرنے کا دعویٰ جھوٹا تھا اور این آر ایف کے دونوں رہنما ، احمد مسعود اور امر اللہ صالح افغانستان میں موجود ہیں اور وہ کہیں بھاگے نہیں ہیں۔

    بھارت کے کردار کے بارے میں رحمان ملک نے کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ بھارت احمد مسعود کی قیادت میں طالبان کے خلاف مزاحمت کی حمایت کرے گا جب کہ ایک جمہوری اور شمولیتی نظام کے بیس سال کے خاتمے کے بعد سے جس میں بھارت نے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے بھارت کو ایک افسوسناک دھچکا لگا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انتہائی حساس پوزیشن میں ہے کیونکہ ٹی ٹی پی ، القاعدہ اور داعش کے دھشتگرد پاک افغان سرحد پر موجود ہیں جو بھارت پاکستان میں ہائبرڈ جنگ کے لیے استعمال کرے گا۔

    انہوں نے سوال کیا کہ کیا امریکہ پھر پاکستان پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ افغانستان میں مزید کام کرے اور یہ "ڈو مور” سنڈروم کی پرانی کہانی شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار پاکستان کو اپنی غلطی نہیں دہرانی چاہیے اور چین ، ایران ، روس اور ترکی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر مستقبل کی واضح پالیسی بنانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو افغان حکومت کو ایک بلاک کی صورت میں سلیم کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں اور بھارت کو پاکستان کے خلاف غیر ضروری پروپیگنڈا ختم کرنے کے لیے بھی مدعو کیا جا سکتا ہے۔

    سینیٹر رحمان ملک نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ افغانستان پر اقوام متحدہ کے اجلاس کو فوری طور پر طلب کرے اور مشرقی شام کی طرح قتل عام کے امکانات سے بچنے کے لیے ایک "امن فوج” کی تعیناتی پر غور کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ افغان حکومت کے ہر اسٹیک ہولڈر کے لیے دو تجاویز پیش کرنا چاہیں گے پہلے یہ کہ طالبان کی حکومت اعتدال پسند ہو جائے اور خواتین کو تعلیم ، میڈیا اور ملازمت کے مواقع فراہم کرے کیونکہ اگر خواتین احد کے میدان جنگ میں لڑ سکتی ہیں تو پھر وہ افغانستان میں کام کیوں نہیں کر سکتیں اور دوسرا ، طالبان کو ایک عام اعلان کرنا چاہیے ہر ایک کے لیے عام معافی جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد فرمایا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ دنیا اس بات کی تعریف کرے کہ چین نے افغانستان کے لیے 31 ملین ڈالر کی انسانی امداد کا وعدہ کیا ہے اور پاکستان نے پی آئی اے کے ذریعے ادویات بھی پہنچائی ہیں اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے ممالک بھی افغانستان کے لوگوں کے لیے ضروری کام کرنے کے لیے آگے آئیں گے۔

  • سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو  تحفظ دے۔سینیٹ

    سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے۔سینیٹ

    اسلام آباد:سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے۔
    ،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سندھ پولیس سکھر میں قتل ہونے والے صحافی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں کو تحفظ دے اور سی ڈی اے ترقیاتی کام تیز کر کے سیکٹرE-12 کو مکمل کر ےاور 2023 تک پلاٹ الاٹیوں کے حوالے کرے۔

    یہ ہدایات مجلسِ قائمہ برائے حکومتی یقین دہانیاں نے اپنے اجلاس میں کیں۔ مجلسِ قائمہ کا اجلاس قومی اسمبلی میں حکومتی پارٹی کے چیف وہپ اور مجلسِ قائمہ کے چیئرمین ملک محمد عامر ڈوگر کی صدارت میں ہوا۔ مجلسِ قائمہ کو بتایا گیا کہ اجے لال وانی ایک باصلاحیت صحافی تھا جسے رات ساڑھے نو بجے حجام کی دُکان پر نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔ چنانچہ سندھ پولیس نے رات دن ایک کرکے قاتلوں کو گرفتار کر کے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔ لہٰذا پولیس نے قاتلوں پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے اُنہیں جیل بھجوا دیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے جے آئی ٹی بھی مقرر کی۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات بھی پولیس کے تحقیقات کے مطابق تھیں اور اب کیس عدالت میں ہے۔

    مجلسِ قائمہ نے سندھ پولیس کی کارکردگی کو سراہا۔ مجلسِ قائمہ کو بتایا گیا کہ آنجہانی اجے لال وانی کے والدین اور گواہوں پر شدید دباؤ ہے۔ لہٰذا مجلسِ قائمہ نے سندھ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ مقتول کے والدین اور گواہوں کو مزید تحفظ دیں اور اُن سے مسلسل رابطے میں رہیں اور مجلسِ قائمہ کو تیس دن میں رپورٹ پیش کریں۔ مجلسِ قائمہ کو سی ڈی اے نے بتایا کہ E-12 کامعاملہ کافی پرانا ہے تاہم موجودہ حکومت اس کو جلد از جلد حل کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

    مجلسِ قائمہ نے ہدایت کی کہ پورے E-12 کا قبضہ جلد از جلد واگزار کروایا جائے اور 2023 تک تمام ترقیاتی کام مکمل کرکے پلاٹ الاٹیوں کے حوالے کیے جائیں۔ مجلسِ قائمہ نے تمام جامعات میں پینے کا صاف فراہم کرنے کے بارے میں حکومتی یقین دہانی کو زیرِ غور لایا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے مجلس قائمہ کو بتایا گیا کہ 140 سرکاری یونیورسٹیوں میں سے 79 میں صاف پانی کی سہولت موجود ہے، 59 کا کیس پلاننگ کمیشن کے پاس زیرِ غور ہے۔

    مجلسِ قائمہ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ پلاننگ کمیشن کو 59 جامعات میں فلٹریشن پلانٹ لگانے کے منصوبے کے لیے جلد فنڈز جاری کرنے کی درخواست کرے اور پلاننگ کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ اس سلسلے میں فنڈز جلد جاری کرکے فلٹریشن پلانٹس کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے کے قابل بنایا جائے۔ مجلسِ قائمہ نے قومی اسمبلی کے حلقہ -183 میں بجلی کے سانحہ میں فوت ہونے والے لائن مین کے معاملہ پر غور کیا۔

    پاور ڈویژن اور میپکو کے افسران نے مجلسِ قائمہ کو بتایاکہ فوت ہونے والے ملازم کے لواحقین کو تمام واجبات ادا کر دیئے گئے ہیں اور غفلت برتنے والے تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزائیں دے دی گئی ہیں۔ لہٰذا مجلسِ قائمہ نے یقین دہانی کو نمٹا دیا۔

    مجلس قائمہ کے اجلاس کی صدارت، چیئرمین جناب ملک محمد عامر ڈوگر نے کی، جبکہ ممبران مجلس قائمہ برائے حکومتی یقین دہانیاں جناب مجاہد علی، جناب شیخ راشد شفیق، محترمہ شگفتہ جمانی، جناب سید مبین احمد، جناب خالد حسین خان مگسی، جناب چوہدری ارمغان سبحانی، جناب عثمان ابراہیم، جناب سید جاوید حسنین، محترمہ شاہدہ اختر علی، ایم این اے/محرک، جناب جے پرکاش، ایم این اے/محرک، جناب شیر اکبر خان، ایم این اے/محرک اور انجینئر صابر حسین قائم خانی، ایم این اے /محرک نے شرکت کی ۔

    وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور جناب علی محمد خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں ہوا بازی ڈویژن، وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے، وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ، ہائر ایجوکیشن کمیشن، پی آئی اے اور سندھ پولیس کے اعلیٰ سول افسران نے بھی شرکت کی۔