Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان کوFATF گرے لسٹ سےنکالنےکی مخالفت کرنے والا فرانس خود  داعش کا مالی مدد گار

    پاکستان کوFATF گرے لسٹ سےنکالنےکی مخالفت کرنے والا فرانس خود داعش کا مالی مدد گار

    لاہور:پاکستان کوFATF گرے لسٹ سےنکالنےکی مخالفت کرنے والا فرانس خود داعش کا مالی مدد گار،اطلاعات کے مطابق FATF میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کی مخالفت کرنے والا فرانس مبینہ طور پر خود دہشت گرد تنظیم داعش کی مالی تعاون کر رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ فرانس کی بہت بڑی سیمنٹ کمپنی لافارج شام میں داعش کو فنانشل سپورٹ کر رہی اور فرانس انٹیلی جنس اس معاملے سے با خبر تھی

     

    https://twitter.com/No1Mariya/status/1435652417215995904

     

    ادھراس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فرانس شام میں داعش کی مدد کرنے میں سب سے زیادہ متحرک ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ فرانس نیٹواتحادی ہونے کے ناطے افغانستان میں بھی داعش کی مالی معاونت کررہا ہے

    اس حوالے سے پاکستان کی معروف کالم نگار ماریہ ملک نے ایک ترک نیوز ایجنسی اناطولیا کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کی مالی مدد کے واضح انکشافات کیے ہیں‌

  • نجیبہ فیض:پاخیرپختونخواہ پروگرام کی میزبان:دیکھنے والے سننے والے سب مہربان

    نجیبہ فیض:پاخیرپختونخواہ پروگرام کی میزبان:دیکھنے والے سننے والے سب مہربان

    پشاور:نجیبہ فیض:پاخیرپختونخواہ پروگرام کی میزبان:دیکھنے والے سننے والے سب مہربان،اطلاعات کے مطابق پاکستان میڈیا کی معروف میزبان جو کہ اس وقت اپنی شخصیت اورکام کی وجہ سے اس وقت پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہورہی ہیں

     

     

     

    نجیبہ فیض جو کہ اس وقت خیبرٹی وی میں پاخیرپختونخواہ کی میزبان ہیں ایک حلیم الطبع اورخوش اخلاق میزبان کے طور پرمشہور ہیں ، لوگ ان کے پروگرامز اورشوز کوبڑے شوق سے دیکھتے ہیں‌

     

    نجیبہ فیض پی ایس ایل ٹیم پشاور زلمی کی برانڈ ایمبیسڈر اور میڈیا کیلئے پشاور زلمی کے نمائندے کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

    نجیبہ فیض کویہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کے پروگرام میں‌ پاکستان کے ممتازصحافی ، تجزیہ نگار بڑی محبت سے شرکت کرتےہیں ، پچھلےدنوں پاکستان کے سنیئر صحافی اور جرگہ پروگرام کے میزبان سلیم صافی بھی نجیبہ فیض کے مہمان کے طور پر پروگرام میں شرکت کرچکے ہیں‌

     

     

    افغانستان کے ضلع قندوز میں 1974 می‌ پیدا ہونے والی نجیبہ پاکستان میں پلی بڑھیں اور پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی)، اے وی ٹی خیبر، آریانا، اے آر وائی ، جیو ٹی وی، ہم ٹی وی، تولو، ایکسپریس ٹی وی، ٹی وی ون اور دیگر چینلز میں کام کر چکی ہیں

    نجیبہ فیض کئی ٹی وی ڈراموں میں کام کر چکی ہیں۔

  • افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    افغانستان میں‌ ہمارے ساتھ کیا ہوا؟ 20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع

    برلن :افغانستان پر20 ملکوں کا اعلیٰ سفارتی اجلاس جرمنی میں شروع ،اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن اور جرمن وزیرخارجہ ہائکو ماس بدھ کے روز ساتھیوں کے ایک گروپ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جس کا موضوع افغانستان کی صورت حال ہے۔

    رمسٹائین ایئر بیس پر منعقد اس اجلاس میں 20 ممالک شریک ہیں، ​جن امور پر بات ہو رہی ہے، ان میں طالبان کی جانب سے حکومت سنبھالنے کے علاوہ انسانی ہمدری کی نوعیت کی بنیادی امداد جاری رکھنے کی کوششوں پر غور بھی شامل ہے۔

    وزارتی سطح کے اجلاس سے قبل، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس بات کو بھی زیر غور لایا جائے گا کہ آیا طالبان کیے گئے اپنے وعدوں کو وفا کرنے کی بین الاقوامی برادری کی توقعات پر پورے اترنے کی کوشش کریں گے۔

    جرمنی آمد سے قبل، قطر کے دورے کے دوران بلنکن نے اس بات کو نمایاں کیا کہ امریکہ اور دیگر ملکوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں اور جس کے پاس سفری دستاویزات موجود ہوں اور وہ افغانستان سے باہر جانے کا خواہش مند ہو انھیں باہر جانے کی سہولت فراہم کی جائے۔

    یہ معاملہ تب سے منظر عام پر رہا ہے جب اگست کے اواخر میں امریکہ نے افغانستان سے انخلا مکمل کیا جس کے نتیجے میں افغانستان میں دو عشروں سے جاری فوجی موجودگی ختم ہوئی جب کہ ہزاروں افراد کو خصوصی پروازوں کے ذریعے ملک نے باہر لے جایا گیا۔

    تاہم، بہت سے افراد جو افغانستان سے باہر نکلنا چاہتے تھے، وہ امریکی انخلا کی تکمیل سے قبل ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ بدھ کو ہونے والے اس اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے معاملات کے علاوہ افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کے امور کی سربلندی کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا

  • ہمسائے کی حیثیت سے افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتے:وزیرخارجہ شاہ محمود

    ہمسائے کی حیثیت سے افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتے:وزیرخارجہ شاہ محمود

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہےکہ قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔

    امریکا اور جرمنی کی میزبانی میں افغانستان سے متعلق ورچوئل وزارتی رابطہ اجلاس ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اظہار خیال کیا۔

    محمود قریشی نے کہا کہ مستحکم اور پر امن افغانستان ہی عالمی برادری کا بہتر شراکت دار بن سکتا ہے، قریبی ہمسائے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان سے علیحدگی اختیار نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کی درخواست پر غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے محفوظ انخلا میں بھر پور معاونت کی، افغانستان کی سابق حکومت کے خاتمے کے بعد مہاجرین کا بڑا بحران سامنے نہیں آیا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے مسائل کے حل کیلئے عالمی برادری کی پائیدار امداد کی ضرورت ہے، پاکستان پہلے ہی رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

    شاہ محمود نے مزید کہا کہ امریکا کے 10 ارب ڈالر منجمند کرنے سے افغانستان میں معاشی بحران جنم لے سکتا ہے۔

  • تیسرے ایشین یوتھ گیمز ملتوی:اہم وجوہات سامنے آگئیں‌

    تیسرے ایشین یوتھ گیمز ملتوی:اہم وجوہات سامنے آگئیں‌

    اسلام آباد : تیسرے ایشین یوتھ گیمز ملتوی:اہم وجوہات سامنے آگئیں‌ ،اطلاعات کے مطابق تیسرے ایشین یوتھ گیمزملتوی کردیئے گئے ہیں اوراس کی وجہ کورونا وبا کوقراردیا جارہا ہے ۔اولمپکس کونسل آف ایشیا کے مطابق ایشین یوتھ گیمز کو 13 ماہ کیلئے ملتوی کیا گیا ہے۔

    اولمپکس کونسل آف ایشیا کا کہنا ہے کہ کورونا صورتحال کی وجہ ایشین یوتھ گیمز کو ملتوی کرنے کا فیصلہ تمام متعلقہ قومی اولمپک کمیٹیوں کے مشترکہ مفادات، کھلاڑیوں اور تمام شرکاء کی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے کیا گیا ہے۔

    رواں سال 20 سے 28 نومبر تک ہونے والا ایونٹ اب اگلے سال 20 سے 28 دسمبر تک کھیلا جائے گا۔واضح رہے کہ ایشین یوتھ گیمزکی میزبانی چین کے شہر شانتو نے کرنی ہے۔

  • افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل تھا:افغانستان سے فرار کے بعداشرف غنی کا دوسرا بیان

    افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل تھا:افغانستان سے فرار کے بعداشرف غنی کا دوسرا بیان

    کابل : افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل تھا:افغانستان سے فرار کے بعداشرف غنی کا دوسرا بیان ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل سے فرار ہونے کے بعد سابق افغان صدر اشرف غنی نے دوسرا بیان جاری کردیا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق افغان صدر نےافغان قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ طالبان شہر کے اندر داخل ہوگئےتھے،خون خرابے سے بچنے کیلئے کابل چھوڑا، افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ میرے لیے بہت مشکل تھا۔

    اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان صرف اس لیے چھوڑا کیونکہ 1990کی طرح کی خانہ جنگی ہونے کا ڈر تھا ، امن وامان کی خاطر ملک چھوڑا۔

     

     

    اشرف غنی کا کہنا تھا کہ افغان صدر کی حیثیت سے ہمیشہ کرپشن کے خلاف جنگ لڑی،ڈالر باہر لے جانے اور کرپشن سے متعلق تمام الزامات جھوٹے ہیں، افغانستان چھوڑا تو لوگوں نے لاکھوں ڈالر ساتھ لینے کا الزام لگایا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ افغان عوام کے ساتھ ہوں اور ان کا تحفظ ہمیشہ اولین ترجیح رہی ہے،سیکیورٹی اسٹاف کے کہنے پر افغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

  • دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:پاکستان

    اسلام آباد: دعا ہے افغان طالبان کی قائم کردہ حکومت ، ترقی ، خوشحالی اورامن کا مرکز بن جائے:اطلاعات کے مطابق طالبان کی جانب سے عبوری حکومت کے اعلان پر پاکستان کا ردعمل آ گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان افغانستان میں حکومت سازی کاجائزہ لے رہا ہے امید ہے ‏عبوری افغان حکومت امن وسلامتی کیلئےکام کرے گی۔

    ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان عوام کی فلاح وبہبودعبوری حکومت کی ترجیح ہونی چاہئے، پاکستان پرامن، ‏مستحکم اورخودمختارافغانستان کاحامی ہے۔

    طالبان حکومت کے قیام سے متعلق عالمی طاقتیں اور دیگر ممالک اپنے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں اور دنیا ‏بھر سے ردعمل آنے کا سلسلہ برقرار ہے۔

    چینی حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت اور سربراہ کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کیلئے تیار ہیں، ‏ہم افغانستان کی خومختاری ، آزادی اورسالمیت کا احترام کرتے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ‏تھا اور کہا تھا کہ طالبان کو ان کی باتوں سے نہیں، ان کے اقدامات سے پرکھیں گے۔

    ترجمان نے کہا تھا لپ فہرست میں صرف طالبان کےرکن یا ان کے ساتھی ہیں کوئی خاتون نہیں ، کابینہ کےکچھ ‏افراد کی وابستگیوں اور ٹریک ریکارڈ پربھی فکرمند ہیں۔

    گذشتہ روز افغان طالبان نے عارضی حکومت تشکیل دیتے ہوئے وزرا اور کابینہ اراکین کے ناموں کا اعلان کیا تھا، ‏جس کے مطابق سربراہ محمد احسن اخوند کو منتخب کیا گیا تھا۔

    ملاعبد الغنی برادر کو معاون سرپرست ریاست اور وزرا کا عہدہ دیا گیا ہے، اسی طرح مولوی محمد یعقوب مجاہد ‏وزیردفاع، سراج حقانی کو وزیرداخلہ تعینات کیا گیا ہے۔

  • پولینڈ کے وزیر خارجہ کا شاہ محمود قریشی کو فون:افغانستان  کی  صورت حال پرگفتگو

    پولینڈ کے وزیر خارجہ کا شاہ محمود قریشی کو فون:افغانستان کی صورت حال پرگفتگو

    اسلام آباد:پولینڈ کے وزیر خارجہ کا شاہ محمود قریشی کو فون:افغانستان کی صورت حال پرگفتگو ،اطلاعات کے مطابق پولینڈ کے وزیر خارجہ زگنو راؤ نےوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو ٹیلیفون کیا ہے اورافغانستان کی تازہ صورت حال سے متعلق اطمنان کا اظہارکیا ہے

    دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات اور افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ، اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، پولینڈ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،

    دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے ،تجارت و سرمایہ کاری سمیت، باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہارکیا،دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور پولینڈ کے درمیان پارلیمانی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا

    شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے، چار دہائیوں سے جاری جنگ و جدل سے پاکستان شدید متاثر ہوا، افغانستان میں امن و استحکام،نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ توقع ہے کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے اجتناب کیا جائے گا، وزیر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان کٹھن حالات میں افغانستان کی مالی و انسانی معاونت کو یقینی بنائے

    پولینڈ کے وزیر خارجہ نے پولینڈ کے شہریوں کے کابل سے انخلاء میں معاونت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا،پولینڈ کے وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو دورہ ء پولینڈ کی دعوت دی

    وزیر خارجہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے، پولینڈ کے وزیر خارجہ کو دورہ ء پاکستان کی دعوت دی جوانہوں نے قبول کرلی

  • چوہدری پرویزالٰہی سے خیرپختونخواہ کے وزرا اوراہم شخصیات کی  ملاقات

    چوہدری پرویزالٰہی سے خیرپختونخواہ کے وزرا اوراہم شخصیات کی ملاقات

    لاہور: چوہدری پرویزالٰہی سے خیرپختونخواہ کے وزرا اوراہم شخصیات کی ملاقات ،اطلاعات کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی سے ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی محمود جان اور خیبرپختونخواہ کے وزیر محنت شوکت علی یوسف زئی اور وزیر ہائیر ایجوکیشن کامران بنگش کی قیادت میں دس رکنی پارلیمانی وفد نے ملاقات کی ہے

    چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کرنے والے وفد میں ارکان اسمبلی ڈاکٹر سمیرا شمس، مدیحہ نثار، آسیہ صالح خٹک، سیدہ ندرت، صائمہ غذان، عابداللہ اور طاہرہ کلیم ،سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی، سیکرٹری کوآرڈی نیشن رائے ممتاز حسین بابر اور ڈی جی پارلیمانی امور عنایت اللہ لک بھی موجود تھے

    اس موقع پرچوہدری پرویزالٰہی نے پنجاب اسمبلی میں کہا کہ قرآن ایکٹ پاس کرنے سے نئی نسل قرآن شریف اور سیرت النبیﷺ پڑھیں گی اور بے راہ روی نہیں ہو سکے گی:ہمارے دور کے ترقیاتی کام نہ روکے جاتے تو پنجاب آج ایک مثالی صوبہ ہوتا:

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ شہباز شریف نے پنجاب میں ہمارے شروع کردہ ترقیاتی منصوبوں کو بند کر دیا اب ان کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے،شہبازشریف نے ہمارے بنائے ہسپتال، تعلیمی ادارے، عوامی فلاح و بہبود اور ترقی کے دیگر ادارے بھی آپریشنل نہیں ہونے دئیے:

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ نئی بلڈنگ میں آویزاں کی گئی قرآن مجید کی آیات اور احادیث مبارکہ کا انتخاب کیا:ختم نبوتﷺ کے حوالے سے آیات و احادیث درج کرنا اور پاکستان بنانے والے ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنا نئی عمارت کا خاصہ ہے:

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ چاروں صوبائی حکومتوں کو تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہو گی ،تعلیم کے بغیر ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا:

    چودھری پرویزالٰہی سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ پر گفتگو اور صوبوں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے کیلئے وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں پر اتفاق کیا گیا

    ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی محمود جان اور وفد کے ارکان نے سپیکر چودھری پرویزالٰہی کو قرآن ایکٹ پاس کروانے اور پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ و ایوان کے فعال ہونے پر کو مبارکباد دی

    ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی محمود جان نے چودھری پرویزالٰہی کے دور کے عوامی فلاح کے منصوبوں کی تعریف کی وفد نے تاریخی قانون سازی پر سپیکر پنجاب اسمبلی کو خراج تحسین پیش کیا اور نئی بلڈنگ اور ایوان کا دورہ بھی کیا

  • وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس  :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل کمانڈاتھارٹی کااجلاس :نیوکلیئرسیکیورٹی کےلیےجاری اقدامات پراظہاراطمنان

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اجلاس میں سٹرٹیجک اثاثوں کی حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا25واں اجلاس ہوا، اجلاس سٹرٹیجک پلان ڈویژن کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوا۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا اہم اجلاس ہوا، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، مسلح افواج کے سربراہان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ شوکت ترین اور وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی شرکت کی۔

    نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کے حفاظتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ شرکاء تغ کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ این سی اے کو خطےمیں جاری تنازعات اور علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس کے دوران تربیت کےاعلیٰ معیار، سٹریٹیجک فورسز کی آپریشنل تیاریوں کو بھی سراہاگیا جبکہ مقاصد کے حصول میں کوشش کرنے والے سائنسدانوں و انجینئرز کی تعریف کی گئی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ اتھارٹی کے مطابق پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے، پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کے اقدامات کو بہتر بنانے کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

    اعلامیے کے مطابق نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو خطےمیں جاری تنازعات پربھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس پر شرکا نے روایتی اور اسٹریٹجک سطح پر بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کے عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    این سی اے کا اعلامیہ میں کہنا تھا کہ ’پاکستان جوہری عدم پھیلاؤ کو بہتربنانےکیلئےکردار ادا کرتا رہے گا‘۔

    این سی اےنے پاکستان کی اسٹریٹیجک صلاحیتوں کی رفتارپربھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تربیت کےاعلیٰ معیار، اسٹریٹجک فورسزکی آپریشنل تیاریوں کوبھی سراہا جبکہ مقاصدکےحصول میں کوشش کرنے والےسائنس دانوں اور انجینئرز کی تعریف بھی کی۔

    این سی اے کے مطابق ہتھیاروں کی دوڑ سے پیدا صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے، پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان خطے میں اسٹرٹیجک استحکام، امن، سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔