لاہور:پنجاب بارکونسل نے کل ہڑتال کرنے کا اعلان کردیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب بارکونسل نے کل نو ستمبر کو صوبے میں ہڑتال کا اعلان کرکے سندھ بارایسوسی ایشن سے ہمدردی کا اعلان کیا ہے
پنجاب بارکونسل کی طرف سے کہا گیا ہےکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے جوسنیارٹی کے مطابق تقرری کے طریقہ کواختیارنہ کرنے کےخلاف سندھ ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی احتجاجی کال پران کے ساتھ ہیں
یاد رہے کہ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے شہدائے کوئٹہ ہال میں آل پاکستان وکلا کنوینشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں طے کیا گیا تھا کہ نو ستمبر کو ملک بھر کی عدالتوں میں ہڑتال کی جائے گی اور ججوں کی تقرری میں سینیارٹی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔
کنوینشن میں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائی کورٹ اور کراچی بار ایسوسی ایشن سمیت ملک بھر کے بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں اور سینئیر وکلا نے شرکت کی۔
آل پاکستان وکلا کنوینشن میں سندھ ہائی کورٹ کے جونئیر جج کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کے فیصلے کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور ہوئی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس احمد علی شیخ کو سپریم کورٹ میں 17 اگست کو خالی ہونے والی نشست پر مستقل جج کے طور پر تعینات کیا جائے۔
اس قرارداد میں وکلا کی جانب سے ججز کی تقرری کے لیے طے شدہ اصولوں پر عملدرآمد کرنے، بینچوں کی تشکیل سے متعلق چیف جسٹس کے اختیارات میں ترمیم کرنے اور تیار کمیٹی کو سپورٹ کرنے، چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کے اختیارات کو کم اور مزید واضح کرنے کے مطالبات کیے گئے ہیں۔
پنجاب بارکونسل نے ان مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کل ہڑتال کا اعلان کیا ہے
وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے محکمہ بحالی خصوصی افراد سندھ صادق علی میمن ڈیف ریچ اسکولز و ٹریننگ سینٹرز پہنچ گئے۔
یہ مرکز سماعت سے افراد کی بحالی کے کاموں میں مصروف عمل ہے۔دورے کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل سندھ پرسنز وتھ ڈس ایبیلٹی پروٹیکشن اتھارٹی غلام نبی نظامانی بھی ہمراہ تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی صادق میمن نے مرکز کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی صادق میمن کو مرکز میں فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی صادق میمن نے کہا کہ سماعت سے محروم افراد کو فراہم کی جانے والی سہولیات قابل تعریف ہیں۔حکومت سندھ سماعت محروم افراد کے بحالی کے کاموں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
سندھ واحد صوبہ ہے جس نے سماعت سے محروم افراد کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کیا ہے۔
اسلام آباد(محمد اویس)پی آئی اے نے53ملازمین کو نوکری سے نکال کرریکوری کے لیے نوٹسزجاری کردیئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد 53ملازمین کو نوکری سے نکال کر ان سے دوقسطوں میں 6کڑور روپے ریکوری کے نوٹس جاری کردیئے گئے۔
اس خبر رساں ادارے کے مطابق سپریم کورٹ کا سیرا ایکٹ ستے متعلق حکم کی پیروی کرتے ہوئے پی آئی اے نے سیرا ایکٹ 2010 سے فائدہ اٹھانے والے ملازمین سے رقوم واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔
پی آئی اے انتظامیہ نے تمام 53ملازمین کو رقم واپس کرنے کے نوٹس جاری کردئے ملازمین سے رقوم کی واپسی دو اقساط میں وصول کی جائیں گی ملازمین دو اقساط میں 30 ستمبر سے 30 اکتوبر تک واپسی کی رقم جمع کرا سکتے ہیں.
رقم کی واپسی کے حوالے سے ملازمین کو خطوط ارسال کر دئیے گئے ۔ ملازمین کو 2010 ایکٹ کے تحت کروڑوں روپے کی ادائیگیاں و دیگر مراعات دی گئیں تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ایکٹ سے فائدہ اٹھانے والے پی آئی اے کے کل ملازمین کی تعداد 53ہے اور ان سے تقریبا 6کڑور روپے ریکور کئے جائیں گے
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا کی والدہ انتقال کرگئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے بتایا کہ میری والدہ آج اپنے خالق حقیقی سے جاملیں، طبیعت ناسازی کے باعث والدہ کچھ دنوں سے کومہ میں تھیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے بتایا کہ والدہ کی نمازہ جنازہ کل بعد نماز ظہر ڈی ایچ اے فیز سیون کی جامع مسجد عائشہ میں ادا کی جائے گی، باغی ٹی وی فیملی کی جانب سے سینیٹر فیصل واوڈا کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا گیا ہے۔
سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے سینیٹر فیصل کی والدہ کے انتقال پر ان سے اظہار تعزیت کیا ہے اور ان کی والدہ کے بلند درجات کی دعا کی ہے
اسلام آباد: پاکستان نے آل پارٹی حریت کانفرنس کی جانب سے مسرت عالم بٹ کو نیا چیئر مین اے پی ایچ سی اور شبیر احمد اور غلام احمد گلزار کو وائس چیئرمین تعینات کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے آل پارٹی حریت کانفرنس (اے پی ایچ) سی قیادت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی حیثیت سے ،اے پی ایچ سی قیادت ان کی امنگوں کی حقیقی آواز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اے پی ایچ سے برسوں سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق کیلئے جدوجہد جہد میں پیش پیش ہے۔بغیر کسی شک و شبہ کے انہیں جموں و کشمیر کے ایک حصہ پر غیر قانونی بھارتی تسلط کیخلاف کشمیریوں کی جدوجہد کی مشعل بردار کی حیثیت سے کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہے۔
اپنے حصے کے طور پر پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی جائز جدوجہد میں کشمیری عوام کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی جاری رکھے گا۔
جموں و کشمیر مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے مسرت عالم بھٹ اپنی 50 برس کی زندگی میں سے 24 سال انڈین جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ انھیں انڈین حکام کی جانب سے 38 مرتبہ حراست میں لیا گیا۔ اس وجہ سے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سنگاپور کے ڈاکٹر چائی تھائے پوش کے بعد ایشیا میں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ سیاسی قیدی رہنے والی شخصیت ہیں۔
انھیں کشمیر میں حق ﺧود ارادیت اور آزادی ﮐﯽ جنگ کے لیے سرگرم ہونے پر جموں و کشمیر پبلک سیفٹی اﯾﮑٹ 1978 ﮐﮯ ﺗﺣت 38 ﺑﺎر ﺣراﺳت ﻣﯾں لیا گیا ﮨﮯ اور وہ کسی اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ سماعت ﮐﮯ بغیر چوبیس سال جیلوں میں رہے ہیں۔
جون 1971 میں سری نگر میں پیدا ہونے مسرت عالم بھٹ اگرچہ پہلی بار 19 سال کی عمر میں گرفتار ہوئے تاہم 2008 سے قبل کشمیری ان کے نام سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے۔
وہ 2008 میں اس وقت مزاحمتی رہنما کے طور پر ابھرے جب انہوں نے کشمیر کی زمینوں کو آل ہندو شرائن بورڈ کو منتقل کیے جانے کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا اور عملی جدوجہد شروع کی جس کے بعد انھیں گرفتار کرلیا گیا اور انھیں کشمیر سے باہر بھی انڈین جیلوں میں رکھا گیا۔
26مئی 2008 کو کشمیر میں انڈین ﺣﮑﺎم ﻧﮯ 99 اﯾﮑڑ ﺟﻧﮕﻼت ﮐﯽ زمین کو اﻣرﻧﺎﺗﮭ ﻣزار ﺑورڈ کو منتقل ﮐردﯾﺎ۔ اس پر تنازع پیدا ہوا اور زمین کی منتقلی کے خلاف کشمیر میں مظاہرے شروع ہوگئے اس دوران 60 سے زائد افراد کو قتل کیا تو کشمیر میں اﯾﮏ ﮨﯽ رﯾﻠﯽ میں لاکھوں افراد امڈ اور ﺑﺎﻵﺧر منتقلی روک دی گئی۔
دو ﺳﺎل بعد جون میں مسرت عالم ﮐﯽ ﺣراﺳت کو کشمیر ﮐﯽ اﯾﮏ اﻋﻠﯽٰ عدالت ﻧﮯ منسوخ ﮐردﯾﺎ اور رﮨﺎ ﮐردﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ کچھ دن روپوش رہنے کے بعد انہوں ﻧﮯ ’کشمیر ﭼﮭوڑ دو‘ تحریک ﮐﺎ اﻋﻼن ﮐﯾﺎ۔
کشمیر میں پہلی بار پیلٹ گنز کا استعمال کیا گیا تو مسرت عالم کا نعرہ ’گو انڈیا، گو بیک‘ نے پورے کشمیر میں گونجنے لگا جس کے بعد انھیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا اور وہ تب سے زیر حراست ہیں۔
ﻣﺳرت عالم زمانہ طالب علمی سے مزاحمتی سیاست میں حصہ لے رہے ہیں۔ جب انھیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 19 برس تھی۔ اور ان کو ﺣزب ﷲ کا رکن ہونے کے الزام میں دو اکتوبر 1990 کو پی ایس اے کے تحت گرفتار کیا گیا۔
انھیں نومبر 1991 ﻣﯾں رﮨﺎ کیا گیا ﺗﺎﮨم 1993 ﻣﯾں ﭘﮭر ﺣراﺳت ﻣﯾں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور1997 تک جیل میں رکھا گیا۔ رہائی کے چھ ماہ بعد ستمبر 1997 میں پھر گرفتار کیا گیا جبکہ چوتھی بار مئی 2000 ﺗﮏ ﮔرﻓﺗﺎر ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔
ﺟﻧوری میں 2001 ﻣﯾں پھر گرفتار ہوئے اور اﮔﺳت 2003 میں دو ﻣﺎه ﮐﮯ لیے رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ۔ انہیں دوﺑﺎره اﮐﺗوﺑر 2003 ﻣﯾں ﺣراﺳت میں ﻟﯾﺎ ﮔﯾﺎ اور 2005 ﻣﯾں رﮨﺎ ﮐﯾﺎ ﮔﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
اس دوران اے پی ایچ ﺳﯽ ﮐﮯ اﯾﮏ حصے ﻧﮯ اس وقت کے وزﯾراﻋظم ڈاﮐﭨر ﻣن ﻣوﮨن ﺳﻧﮕﮭ کے ساتھ کشمیر کے تنازع کے حوالے سے ﺑﺎت ﭼﯾت شروع ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ اس بنیاد پر منموہن ﺳﻧﮕﮭ ﻧﮯ پبلک سیفٹی ایکٹ اور پوٹا کے تحت گرفتار کیے جانے والے کشمیری قائدین کو رہا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
22 اپریل 2007 کو مسرت عالم کو اس لیے رہا کیا گیا تاکہ ان کو پھر سے گرفتار کیا جا سکے۔ اس دفعہ مسرت عالم کے اہل خانہ نے پہلی بار ﻧظرﺑﻧدی ﮐﮯ ﺣﮑم ﮐو ﭼﯾﻠﻧﺞ ﮐﯾﺎ۔ اس سے قبل انہوں نے کسی بھی انڈین عدالت میں درخواست دینے سے انکار کیا تھا
انہوں نے 1990 ﺳﮯ 2005 ﮐﮯ درﻣﯾﺎن 15 برسوں ﻣﯾں ﺳﮯ 12 سال کسی ﺑﮭﯽ مجرمانہ اﻟزام ﯾﺎ ﻣﻘدﻣﮯ ﮐﯽ ﺳﻣﺎﻋت ﮐﮯ ﺑﻐﯾر ﻧظرﺑﻧدی ﻣﯾں ﮔزارے۔
2015 ﻣﯾں عدالت نے ان کی 33 وﯾں ﻧظرﺑﻧدی منسوخ کرتے ہوئے 45 روز کے لیے رہا کیا ﻟﯾﮑن ﺑﯽ ﺟﮯ ﭘﯽ ﻧﮯ ان ﮐﯽ رﮨﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺧﻼف انڈین ﭘﺎرﻟﯾﻣﻧٹ ﻣﯾں اﯾﮏ ﮨﻧﮕﺎمہ ﮐﮭڑا ﮐردﯾﺎ اور حکمران طبقے کی ایما پر سری نگر سے مسرت عالم کو پھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ ﻣﺳرت ﺗب ﺳﮯ ﺟﯾل ﻣﯾں ہیں۔
1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ اب تک ﻣﺳرت عالم ﮐﯽ 38 نظربندیوں نے انہیں نہ ﺻرف ﮐﺷﻣﯾر ﻣﯾں بلکہ پورے اﯾﺷﯾﺎ ﻣﯾں طوﯾل ﻋرﺻﮯ ﺗﮏ حراست میں رہنے والا سیاسی قیدی بنا دیا۔ سنگا پور کے ڈاﮐﭨر ﭘوش ﮐﮯ ﺑﻌد وہ طویل ترین حراستیں برداشت کرنے والے رہنما ہیں، ڈاکٹر پوش ﺳﻧﮕﺎﭘور ﮐﮯ ﻧﺎم ﻧﮩﺎد داﺧﻠﯽ ﺳﻼﻣﺗﯽ اﯾﮑٹ ﮐﮯ ﺗﺣت اﮐﺗوﺑر 1966 ﮐﮯ ﺑﻌد 22 ﺳﺎل ﺗﮏ ﻧظرﺑﻧد رہے۔
ﻣﺳرت 1990 ﮐﮯ ﺑﻌد ﺳﮯ محض 54 ﻣﺎه ﺟﯾل ﺳﮯ ﺑﺎﮨر رہے۔ ان کی بہن کا 2016 میں انتقال ہوا تو انہیں جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسرت عالم کا تعلق ﺳری ﻧﮕر ﮐﮯ مشہور کاروباری خاندان سے ہے۔
سیاست میں آنے کے بعد ان کے خاندان کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا لیکن خود مختاری کے لیے اس سودے پر مسرت کو کوئی افسوس نہیں ہے۔
کے الیکٹرک نے تیس سال پرانے 25 ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی پر رہائشی عمارت کی بجلی منقطع کردی۔
گلستان جوہر بلاک 1 میں قائم رہائشی عمارت فاران سینٹر کے 30 سال پرانے 25 ہزار روپے کے بل کی عدم ادائیگی کو بنیاد بنا کر کے الیکٹرک نے عمارت کی بجلی کاٹ دی۔
اس عمارت میں 16 فلیٹ، ایک بینک اور پانج دکانیں ہیں، جو بجلی کٹنے کے بعد اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔
مکینوں نے مؤقف اپنایا کہ ’ہم اپنے رہائشی فلیٹ کے بجلی کا بل ہرماہ باقاعدگی سے ادا کررہے ہیں، جس کی وجہ سے ہمارے کے الیکٹرک کے بل پر اسٹار صارف لکھا ہوتا ہے‘۔
بجلی منقطع کرنے کے لیے آنے والی ٹیم کے مطابق عمارت کی تعمیر کےوقت بلڈر کی طرف کچھ رقم واجب الاد تھی، اس وقت کی کے ای ایس سی نے 25 ہزار روپے کا بل ادا نہ کرنے پر عمارت کا میٹر کاٹ دیا تھا۔
بلڈر کے مطابق کے الیکٹرک نے میٹر پرتیس برسوں میں سرچارجز لگا لگا کر بل 20 لاکھ روپے کیا اور پھر اس رقم کو ادا کرنے کی صورت میں ہی بجلی بحال کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان نے وضاحت کی کہ گلستان جوہر میں غیر قانونی کنڈے کے استعمال اور واجبات کی عدم ادائیگی پر ایک عمارت کی بجلی منقطع کی گئی ہے، کئی بار رابطہ اور یاد دہانی کرائی گئی مگر واجبات ادا نہیں کیے گئے۔
اسلام آباد: فزیو تھراپی کا عالمی دن ہر سال 8ستمبرکو منایا جاتا ہے،یہ دن فزیو تھراپسٹس کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ عوام کو درد سے نجات دلانے اور انہیں چلنے پھرنے کے قابل بنانے کیلئے اپنے کلیدی کردار سے عوام کو آگاہ کریں۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بحالی صحت ڈپارٹمنٹ نے اس حوالے سے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جن کا مقصد کوویڈ 19- ری ہیبیلیٹیشن پراسس کے دوران فزیو تھراپی کے کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
اس سال عالمی فزیوتھراپی ڈے کی توجہ لمبے عرصے تک رہنے والے کووڈ اور کووڈکے ان مریضوں کی بحالی میں فزیو تھراپسٹ کے کردار پرہے۔جن کے پھیپھڑے کووڈ سے متاثر ہوئے ہیں۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر تیمور شاہ نے اس حوالے سے بتایا کہ فزیو تھراپی دنیا کا ایک اہم پیشہ ہے اور اس وباء کے دوران ہسپتال میں داخل کرونا کے مریضوں کی بحالی کے حوالے سے فزیو تھراپسٹس کا کردار قابل ستائش رہا۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بحالی صحت ڈپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ جنرل منیجر کاشف خان نے اس موقع پر کہا کہ فزیو تھراپسٹ کا کام انتہائی بیماری کی صورت میں مریض کی جسمانی بحالی کوممکن بنانا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ کرونا کے دوران مریض کے سانس میں بہتری لانے اور جسمانی طور پر بحالی کیلئے فزیو تھراپی انتہائی مفید اور کارآمد ہوتی ہے۔
شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بحالی صحت ڈپارٹمنٹ کی منیجر فائزہ بدر نے مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے کے بعد اس کی دیکھ بھال کے حوالے سے ٹیکنالوجی اور ہیلتھ کیئرسروسزکے انضمام کی اہمیت پر زور دیا،انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ہوم ہیلتھ سروسز کو بروئے کار لا کر کس طرح مریض اپنی دہلیز پر تجربہ کار اور ماہر فزیو تھراپسٹس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر کی دیگر خدمات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پیسہ بنانے والے انتہائی طاقتور بن چکے، ناقص سسٹم کے باعث ردوبدل انتہائی آسان، اوور سیز پاکستانی ناجائز قبضوں سے زیادہ متاثر، مافیا نہیں چاہتا کہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو، ٹیکنالوجی قبضہ گروپوں کو شکست دے گی۔
وزیراعظم کا لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور کیڈیسٹریل میپنگ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن سے ہر کوئی اپنے پلاٹ کو کمپیوٹر پر دیکھ سکے گا۔
وزیراعظم عمران خان نے لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد میں جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ ہوا ہے۔
اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن اینڈ کیڈسٹریل میپنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام ہوگیا کیونکہ اس میں دلچسپی لینے والے بہت گروپس تھے جو چاہتے نہیں تھے کہ یہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو بہت پہلے کمپیوٹرائز ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ کمپیوٹرائز نہ کرنے سے انٹرسٹ گروپس کو زیادہ فائدہ ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ نہ کرنے سے طاقتور لوگوں کو فائدہ ہوتا رہا۔ جائیدادوں پر ناجائز قبضے سے سب سے زیادہ بیرون ملک مقیم پاکستانی متاثر ہو رہے تھے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے اگر مناسب ماحول فراہم کر دیں تو وہ اپنے ملک میں سرمایہ کاری کریں گے۔
عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سرمایہ کاری کے لیے ملک میں قانون کا یکساں نفاذ ضروری ہے۔ پچاس فیصد عدالتوں میں کیسز قبضہ گروپوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں لوگ زمینوں کا انتقال گھر بیٹھے آن لائن کرا سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تین سالوں میں اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر قبضے چھڑائے۔ اسلام آباد میں 300 ارب کی زمین پر قبضے تھے۔ جنگلات کی ایک ہزار ایکڑ زمین پر قبضے ہوئے تھے۔ ریکارڈ ڈیجیٹلائز ہونے سے قبضوں کا پتا چل جائے گا۔ زمین کی ٹرانسفرکرانے کا مرحلہ ایک عذاب ہوتا ہے لیکن اب لوگوں کو آسانیاں ہونگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سمندرپار پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں اور اگر ہم انہیں سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں اور مواقع پیدا کریں تو پاکستانیوں کا باہر اتنا پیسہ پڑا ہوا ہے وہ یہاں آئے گا اور ہمیں آئی ایم ایف سے قرضے لینے اور ڈالر کی قیمت اوپر جانے، روپیہ کاگرنا اور مہنگائی سب اس سے جڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں لوگوں کو قانون کی وہ بالادستی نہیں دی کہ لوگ باہر سے آکر سرمایہ کاری کریں، قانون کی بالادستی ہوتی ہے تو سرمایہ کاری آتی ہے۔
مظفرگڑھ :تشدد کرنے اور مبینہ زیادتی کا کیس ڈراپ سین:لیڈی سب انسپکٹرکی ویڈیو باغی ٹی وی نے حاصل کرلی ،اطلاعات کے مطابق مظفرگڑھ میں خاتون پولیس افسر سے زیادتی کے معاملے نے نیارخ اختیار کرلیا۔
باغی ٹی وی کو موصول ہونے ولای سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کو نیا رنگ دے دیا ہے
سی سی ٹی وی فوٹیج نے معاملے کی صداقت کے حوالے سے شکوک و شبہات کو بڑھا دیا ہے۔فوٹیج میں کار اور ملزم کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ فوٹیج میں تھانہ سٹی سے نکلتی ایک پولیس اہلکار کو کار میں اپنی مرضی سے بھی بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔
کار میں بیٹھنے والی اہلکار مقدمے کی مدعی لیڈی سب انسپکٹر ہی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج کی تاریخ اور وقت بھی بتائے گئے واقعے کے حوالے سے میچ کرتے ہیں۔
اور کار میں بیٹھنے والی خاتون کو عبایا اور اسکارف کا رنگ بھی وہی ہے جو لیڈی سب انسپکٹر کی میڈیکل رپورٹ میں درج ہے۔
دو تھانوں کے سامنے سے لیڈی سب انسپکٹر کو اغواء،تشدد کرنے اور مبینہ زیادتی کا کیس ڈراپ سین لیڈی سب انسپکٹر کی کار میں بیٹھ کر جانے کی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی pic.twitter.com/AMmfVdxkxn
سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد خاتون کے ملزم سے سے تعلقات کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں اغوا کے حوالے سے کوئی شواہد نظر نہیں آئے تاہم نئے حقائق سامنے آنے کے بعد کیس کی ن نئے پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
چار ستمبر کو پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں مبینہ طور پر ایک خاتون پولیس اہلکار کے اغوا، ان پر تشدد، اور ان سے ریپ کی کوشش کا واقعہ پیش آیا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی، مظفرگڑھ میں جینڈر کرائم سیل میں تعینات ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزم نے انھیں تھانے کے باہر سے اغوا کر کے مختلف جگہوں پر لے جا کر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
مظفر گڑھ پولیس کے ترجمان محمد وسیم کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی تھی اور ڈی ایس پی کی جانب سے جگہ جگہ چھاپے مارے گئے جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس وقت وہ پولیس کی حراست میں ہے۔
اس کیس سے متعلق انھوں نے مزید بتایا کہ ایف آئی آر میں ریپ، اغوا اور تشدد کی دفعات کو شامل کیا گیا ہے اور اس سے متعلق تفتیش بھی جاری ہے۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او مظفر گڑھ سے رپورٹ طلب کی اور قانون کے مطابق مجرموں کو سخت سزا دلوانے کا کہا ہے
لیکن اس ویڈیو کے منظرعام پرآنے کےبعد ساری صورت حال ہی تبدیل ہوگئی ہے ، اب پولیس ان حقائق پرکام کررہی ہے کہ آیا کہ کیا خاتون سب انسپیکٹرکوجھانسے سے گاڑی میں بٹھایا گیا یا پھرگھرتک چھوڑنے کی آفراس واقعہ کا سبب بنی یا پھرخاتون ان افراد کے ہاتھوں بلیک میل ہوگئی ہے اوریہی امکان زیادہ نظرآرہا ہے
پشاور: وزیراعلیٰ کا گردوں، جگر، بون میرو ٹرانسپلانٹ سمیت 8 بیماریوں کے مفت علاج کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق خیبر پختون خوا حکومت نے گردوں، جگر، بون میرو ٹرانسپلانٹ اور تھیلیسیمیا سمیت آٹھ بیماریوں کے مفت علاج کا اعلان کیا ہے۔ اوریہ سہولیات فراہم کرکے وزیراعلٰی خیبر پختونخواہ محمود خان باقی صوبوب پر سبقت لے گئے ہیں
پشاور سے ملنے والی حکومتی اطلاعات کے مطابق مستحق لوگوں کے مفت علاج کے لیے وزیر اعلیٰ محمود خان نے انقلابی قدم اٹھا لیا، صوبے میں کڈنی، لیور، بون میرو ٹرانسپلانٹ، تھیلیسیمیا سمیت 8 بیماریوں کا مفت علاج ہوگا۔
یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا محمود خان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا، مذکورہ بیماریوں کا علاج صحت کارڈ پلس اسکیم کے تحت ہو یا اس کے لیے الگ پروگرام کا اجرا کیا جائے، اس امر پر بھی اجلاس میں غور کیا گیا، وزیر اعلیٰ نے دونوں آپشنز پر ہوم ورک کر کے تجاویز پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔
محمود خان نے عزم کا اظہار کیا کہ مستحق لوگوں کو مہنگی بیماریوں کے علاج کی مفت سہولت فراہم کرنی ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کمزور طبقوں کا خصوصی خیال رکھے۔
اجلاس میں صحت کارڈ اسکیم کے علاوہ فوڈ کارڈ اسکیم اور ایجوکیشن کارڈ اسکیم سے متعلق بھی گفتگو کی گئی، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مجوزہ فوڈ کارڈ اسکیم کے تحت مستحق خاندانوں کو ماہانہ مفت راشن فراہم کیا جائے گا، جب کہ ایجوکیشن کارڈ اسکیم کے تحت مستحق طلبہ کے تعلیمی اخراجات حکومت ادا کرے گی۔
وزیر اعلیٰ کے پی نے متعلقہ حکام کو 2 سے 3 ماہ میں مذکورہ اسکیموں کے اجرا کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایجوکیشن کارڈ، فوڈ کارڈ اور کسان کارڈ اسکیموں پر عمل درآمد یقینی بنائیں گے۔
یاد رہے کہ کے پی میں طبی سہولیات کی فراہمی کے مقابلے میںپنجاب اورسندھ حکومتوں کی طرف سے بہتر سے بہترطبی سہولیات کی فراہمی کے دھڑا دھڑا وعدے کیے جارہے ہیں مگراس پرعمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا
ادھر کے پی میں چند دن پہلے ایک عوامی سروسے میں بھی بات سامنے آئی تھی کہ کی پی اب ایسا صوبہ بن گیا ہےکہ جہاں کی عوام صوبے کی طرف سے دی گئی طبی سہولیات ملنے سے سب سے زیادہ مطمئن اورخوش ہیں