Baaghi TV

Author: +9251

  • کالعدم تنظیموں اورعہدیداروں کیلئے پراپرٹی خریدنا ایف اے ٹی ایف نے ناممکن بنادیا

    کالعدم تنظیموں اورعہدیداروں کیلئے پراپرٹی خریدنا ایف اے ٹی ایف نے ناممکن بنادیا

    اسلام آباد: کالعدم تنظیموں اورعہدیداروں کیلئے پراپرٹی خریدنا ایف اے ٹی ایف نے ناممکن بنادیا ،اطلاعات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اہداف میں پاکستان نے ایک اور کامیابی حاصل کر لی ہے اور اقوام متحدہ کے کالعدم افراد کی فہرست تمام سٹیٹ ایجنٹس کو جاری کردی گئی ہے۔

    فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اہداف کے سلسلے میں کالعدم تنظمیوں اور ان کے عہدیداروں کے لیے پراپرٹی خریدنے ناممکن بنادیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں کالعدم تنظیموں اور ان کے عہدیداروں کی کی فہرست جاری کردی ہے۔ یہ فہرست 99 صحفات پر مشتمل ہے۔

    فہرست میں 3676 کالعدم تنظمیوں کے عہدیداروں کے نام شامل ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے عہدیداروں کے نام، شناختی کارڈ نمبر اور دیگر معلومات درج ہیں۔ فہرست میں پنجاب سے 2085 کالعدم افراد کیے گئے ہیں۔ فہرست میں خیبر پختون خوا کے 906 کالعدم افراد شامل کیے گئے ہیں۔

    فہرست میں سندھ سے 391 کالعدم تنظیموں کے کارکن شامل کیے گئے ہیں۔ فہرست میں بلوچستان کے 191 کالعدم تنظیموں کے کارکن شامل ہیں، فہرست میں اسلام آباد کے 25 افراد کو شامل کیا گیا ہے۔

    کالعدم تنظیموں کے 41 افراد آزاد جموں کشمیر سے شامل کیے گئے۔ فہرست میں گلگت بلتستان کے 37 کالعدم تنظیموں کے افراد شامل ہیں۔ ان نام افراد کی پراپرٹی خریدنے پر مکمل پابندی ہے۔

  • پنجاب میں‌ پھرتبدیلی آگئی : کامران علی افضل چیف سیکرٹری پنجاب، راؤ سردار آئی جی فیصلہ ہوگیا

    پنجاب میں‌ پھرتبدیلی آگئی : کامران علی افضل چیف سیکرٹری پنجاب، راؤ سردار آئی جی فیصلہ ہوگیا

    اسلام آباد: پنجاب میں‌ پھرتبدیلی آگئی : کامران علی افضل چیف سیکرٹری پنجاب، راؤ سردار آئی جی کیلئے فائنل،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کامران علی افضل کو نیا چیف سیکریٹری اور راؤ سردار کو آئی جی پنجاب بنانے کی حتمی منظوری دیدی ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ملاقات ہوئی۔ اس دوران نئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے پینلز میں موجود تین تین افسروں کے ناموں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کامران علی افضل کو چیف سیکریٹری اور راؤ سردار کو آئی جی پنجاب تعینات کرنے کی ابتدائی منظوری دیدی۔

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے منظوری کے بعد سٹیبلیشمنٹ ڈویژن کی طرف سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

    ادھر ذرائع نے یہ بھی دعویٰ‌کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو اور بھی نام بھیجے گئے تھے ، تاہم وزیراعظم نے بڑے غورخوض کے بعد ان دوناموں کی منظوری دی ہے ،

    یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ پہلے چیف سیکرٹری اورآئی جی پنجاب کوبعض ناگزیروجوہات کی بنا پرہٹایا جارہا ہے

  • لڑائی کے دوران میں زخمی ہوا تو سر میں 2 گولیاں مار دینا: امراللہ صالح کی اپنے گارڈ کووصیت

    لڑائی کے دوران میں زخمی ہوا تو سر میں 2 گولیاں مار دینا: امراللہ صالح کی اپنے گارڈ کووصیت

    کابل: لڑائی کے دوران میں زخمی ہوا تو سر میں 2 گولیاں مار دینا:معزول افغان صدر امراللہ صالح کی اپنے گارڈ کووصیت ،اطلاعات کے مطابق یہ الفاظ اور وصیت اس شخص کی ہے جو کبھی افغانستان کے نائب صدر رہے امر اللہ صالح ان دنوں اپنے ملک کی عزت نفس کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ پنجشیر وادی میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف مزاحمتی طاقتوں شمالی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں ۔

    امراللہ صالح نے برطانوی اخبار ڈیلی میل میں ایک مضمون لکھا ہے کہ اگر وہ پنجشیر میں لڑائی کے دوران زخمی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے اپنے محافظوں کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ایسا ہونے پر وہ میرے سر میں 2 گولیاں مار دیں ،کیونکہ میں طالبان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتا۔

    طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے سے پہلے ان کی پنجشیر آمد کے بارے میں ، صالح نے لکھا کہ وہ دو فوجی گاڑیوں اور دو پک اپ ٹرکوں میں وہاں سے روانہ ہوئے۔

    ان ٹرکوں پر بندوقیں تھیں۔ پنجشیر جاتے ہوئے راستے میں دو بار اس قافلے پر حملہ کیا گیا لیکن ہم بچ گئے۔ ہم نے بہت مشکل کے بعد شمالی درہ عبور کیا۔ یہاں کئی غیر قانونی سرگرمیاں جاری تھیں۔ ہر جگہ ٹھگوں ، چوروں اور طالبان کا راج تھا۔ ہم نے بڑی مشکل سے یہ راستہ عبور کیا۔

    صالح نے مزید لکھا کہ جب وہ پنجشیر پہنچے تو انہیں پیغام ملا کہ کمیونٹی کے بزرگ مسجد میں جمع ہو رہے ہیں۔ میں وہاں پہنچا اور ان سے تقریباً ایک گھنٹے تک بات کی۔ اس کے بعد ان میں سے ہر ایک ہماری مدد کے لیے تیار تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ پنجشیر گزشتہ 20 سالوں سے سیاحتی مقام تھا۔ یہاں ہمارے پاس نہ تو کوئی فوجی سازوسامان تھا اور نہ ہی ہتھیار ، لیکن میں نے وہاں احمد مسعود کے ساتھ جنگی حکمت عملی طے کی اور اب تک سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔

  • پورا ہفتہ پاکستان بھرمیں بارشیں ہی بارشیں:الرٹ جاری

    پورا ہفتہ پاکستان بھرمیں بارشیں ہی بارشیں:الرٹ جاری

    لاہور:پورا ہفتہ پاکستان بھرمیں بارشیں ہی بارشیں:الرٹ جاری،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں اگلہ ہفتہ انتہائی اہم ہے اورمحکمہ موسمیات نے سب کو ڈرا دیا ہے

    اس حوالے سے جاری ہفتہ بھر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ،محکمہ موسمیان کے مطابق مون سون ہوائیں 7 ستمبر منگل کی شام رات سےملک کے بالائی علاقوں میں شدت کے ساتھ داخل ہوں گی اور 11 ستمبر ہفتہ تک جاری رہیں گی جس کے باعث 7 ستممبر منگل کی شام رات سے 11 ستمبر ہفتہ کے دوران کشمیر ، اسلام آباد ، راولپندی ، اٹک ، چکوال ، جہلم ، گجرات ، منڈی بہاوالدین ، سیالکوٹ ، نارووال ، گوجرانوالا ، حافظ آباد ، لاہور ، اوکاڑہ فیصل آباد، سرگودھا ، میانوالی ، جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگ ، کوہستان ، شانگلہ، مانسہرہ ، ایبٹ آباد ، ہری پور ، مردان ، چارسدہ ، نوشہرہ ،دیر،چترال ، پشاور ، کوہاٹ وزیرستان ، گلگت بلستان کے علاقوں میں وقفے وقفے سے تیز ہواوں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی پشن گوئی کی گئی ہے

     

     

     

    8 ستمبر سے بدھ سے 10 ستمبرجمعہ کے دوران پشاور کے علاقوں میں اورآزاد کشمیر اوراسلام آباد ، اوروسطی پنجاب میں موسلا دھار بارشوں کا امکان ہے

    ایسے ہی 8 ستمبر سے 10 پشاور کے علاقوں کے ساتھ ساتھ سندھ اورپنجاب کے جنوبی علاقوں میں بارش کا امکان ہے ، اس کے ساتھ ساتھ مشرقی بلوچستان کوہلو اور لورا لائی میں بارش کا امکان ہے

    بارشوں اورآندھی کی وجہ سے پاکستان کے کچھ علاقوں میں نقصان اورزیرآب آنے کا خدشہ ہے

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”413881″ /]

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اٹلی کے وزیر خارجہ کی ملاقات:پاکستان کے کردار کوسراہا،اطلاعات کے مطابق آج اٹلی کے وزیرخارجہ پاکستان کے دورے پرہیں اوراٹلی کے وزیرخارجہ نے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقت کی ہے

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے ملاقات کے دوران اطالوی وزیرخارجہ نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا،

    پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ فائدہ مند کثیر الجہتی تعلقات میں وسعت کےخواہاں ہیں،

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر افغانستان کیلئےانسانی امدادمیں تعاون پربھی تبادلہ خیال کیا گیا،

    اس اہم ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی سیکیورٹی اور افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال خیال کیا گیا

    یاد رہےکہ اس سے پہلے اٹلی اور پاکستان درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات وزارتِ خارجہ میں ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ اطالوی وفد کی قیادت ہم منصب لیوگی دے مایو کر رہے تھے۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کورونا وبا کے دوران قیمتی جانوں کے نقصان پر اطالوی ہم منصب کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ جس طرح اٹلی نے کورونا وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے موثر اقدامات کئے وہ قابل تحسین ہیں جبکہ ہمیں پاکستان میں محدود وسائل کے باوجود سمارٹ لاک ڈائون کے ذریعے اس وبا پر قابو پانے اور اس کے پھیلائو کو روکنے میں کافی مدد ملی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، اٹلی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سطح پر پاکستان اور اٹلی کے درمیان مربوط اشتراک، مستحکم تعلقات کا مظہر ہے،اہم علاقائی و عالمی امور پر پاکستان اور اٹلی کے نقطہ نظر میں مماثلت حوصلہ افزا ہے۔

    وزیر خارجہ نے، جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور فیٹف کے حوالے سے، اٹلی کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر اطالوی وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان یورپی یونین کے بہت سے ممالک کے سربراہان مملکت کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر رابطے میں ہیں۔مجھے یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سمیت کئی یورپی وزرائے خارجہ کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ ءخیال کا موقع مل چکا ہے۔

  • بلڈ سوسائٹی کے زیر اہتمام بلڈ کیمپ

    بلڈ سوسائٹی کے زیر اہتمام بلڈ کیمپ

    اللّٰہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں
    جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    (سورۃ المائدہ آیت نمبر 32)
    اسی آیت کے مدنظر رکھتے ہوۓ عظیم بلڈ سوسائٹی میاں چنوں اور ریجنل بلڈ سنٹر ملتان کے زیر اہتمام میاں چنوں میں دو مختلف جگہوں پر بلڈ کیمپس لگاۓ گے ۔

    ان بلڈ کیمپس میں تین طرح کے لوگوں کے لیے خون اکھٹا کیا گیا۔جن میں بلڈ کینسر، تھیلسیمیا کے مریضوں اور روڈ ایکسیڈنٹ کے مریض شامل ہیں۔دن کا پہلا بلڈ کیمپ جنڈالی بنگلہ میں لگایا گیا جو صبح 10 بجے سے لے کر دوپہر 3 بجے تک جاری رہا۔جس کے بعد دن کا دوسرا بلڈ کیمپ میاں چنوں شہر میں ٹی چوک کے مقام پر لگایا گیا جو رات دس بجے تک جاری رہا عوام کی جانب سے بھی دن بھر خون عطیہ کرنے کا عمل جارہی رہا۔

    خون عطیہ کرنے والوں کے لیے حکومت پنجاب کی طرف سے پندہ ہزار روپے کی مالیت کے 8 عدد ٹیسٹ بلکل فری تھے۔جن کی رپورٹ خون عطیہ کرنے والوں کو سات دن کے اندر موصول ہوجاۓ گئی۔اس کے علاوہ اگر خون عطیہ کرنے والے شیخص کے خاندان میں سے کسی فرد کو ایک سال کے اندر ملتان کے کسی بھی اسپتال میں خون کی ضرورت ہوگئی تو ان کو دیا جاۓ گا۔

    جب اس حوالے باغی ٹیم کی عظیم بلڈ سوسائٹی کے صدر رانا عظیم اکرم سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ میں ریجنل بلڈ سنٹر ملتان کا اور عظیم بلڈ سوسائٹی کی ٹیم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں کے نیکی کے نام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور میں اہلیانِ میاں چنوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ آۓ اور انہوں نے اپنا خون عطیہ کیا۔اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسی جزبے کہ ساتھ ملک میں قوم اور انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے

  • شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

    شہدائے وطن کو سلام!     تحریر: ایمان ملک 

     
    امن و امان  دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر قیمتی چیز ہے کیونکہ جنگ و جدل اور خون خرابے والے ماحول میں نا تو کوئی اپنی خوشیوں سے لطف و اندوز ہو سکتا ہے اور نہ کوئی اپنی زندگی چین سے جی سکتا ہے۔ مگر پاکستان  کے باسیوں نے سنہ2007 سے سنہ 2018 تک کا وقت بڑی مشکل سے گزار، جب مساجد سے لیکر اسکول، جامعات، پارکس، ائیر بیسز سے لیکر جی ایچ کیو، آئی ایس آئی کے دفاتر و اورانکی ٹرانسپورٹ سروس  تک غیر محفوظ ہو گئی تھی۔ جب عسکری اہلکاروں کو خاکی یونیفارم دفاتر میں جاکر پہننے کے احکامات تھے ، جب ہمارے فوجی قافلے پاکستان کی ہی سڑکوں پر خون میں نہلا دیئے جاتے تھے، جب ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، جب دہشت گرد پاکستان کے شہروں، قصبوں ، گلی محلوں میں روپ بدل کر گھل مل کر رہنے لگے تھے اور موقع ملتے ہی ہمارے پیٹھ پر وار کردیتے تھے، جب فوج کے لیے دوست ، دشمن، اپنے اور پرائے میں فرق کرنا محال ہو گیا تھا اور جب پاک فوج کے بیٹے ہر روز شہادتیں پیش کر رہے تھے۔۔۔!!! 

    اگر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اس وقت ہمت و حوصلے کا مظاہرہ نہ کرتے اور امریکہ اور نیٹو افواج کی طرح اپنے لاتعداد فوجیوں کی شہادتوں سے خائف ہو جاتے تو آج پاکستان کی بھی صورتحال افغانستان سے مختلف نہ ہوتی۔ واضح رہے کہ فتوحات قربانیاں مانگتی ہیں اور جو قومیں یہ دینے سے گریز کرتی ہیں ناکامی کی ذلت ان کا پیچھا کرتی رہتی ہے۔  

    پاکستانی فوج دنیا کی وہ واحد فوج ہے جسکےافسران اپنے جوانوں سے بھی آگے بڑھ کر لڑتے ہیں اور اپنی فوج کو فتح کی موٹیویشن دیتے ہیں۔ اسی لئے پاک فوج کےافسران کی شہادتوں کا تناسب جوانوں کے مقابلے میں دینا میں سب سے زیادہ ہے۔ مگر شاید آپ یہ نہ جانتے ہوں گے کہ شہید کی جان کی قربانی کےعلاوہ اس کے لواحقین کی انگنت قربانیاں بھی اس عظیم مشن کا حصہ ہیں  جسکےعزم کے تحت ہم یوم شہداء مناتے ہیں۔ یہ ہمارے پیاروں کے لہو سے  کی گئی آبیاری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج آپ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ اپنی ہر خوشی منا رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان سے دہشت گردوں کو شکستِ فاش ہو چکی ہے۔ مگر اُدھر شہداء کے لواحقین کی زندگیاں بے رنگ و بے محل ہو گئیں ہیں۔ ہروقت اب اپنے پیارے شہید بیٹوں/ بھائیوں کی یاد ہی محض ان کا مقدر ہے۔

    جنرل اشفاق پرویز کیانی نے انہی شہداء  کے لواحقین کے پُر زور اصرار پر 30 اپریل کو پاک فوج میں بطور یوم شہداء  کے منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مگر سنہ 2015 میں بغیر شہداء کے لواحقین کو اعتماد میں لیے، کہ جنکے اصرار پر جنرل کیانی نے یہ دن مختص کیا تھا اسے جنرل راحیل شریف نے ختم کر دیا گیا۔ اور یوں 6 ستمبر کو ہی یوم دفاع کے ساتھ ساتھ  یوم شہداء بھی منایا جانے لگا۔ اور ملک بھر سے شہداء کے لواحقین بنا رینکس کی تفریق کے مرکزی اور اپنے ملحقہ کینٹس کی تقریبات میں شریک ہونے لگے۔ مگر کچھ عرصہ بعد اس پالیسی کو بھی بدل دیا گیا۔ اب اس یوم شہداء کی تقریب میں تمام شہداء کے لواحقین کو مدعو نہیں کیا جاتا بلکہ جو ہمارے فوجی بھائی اسی سال میں شہید ہوتے ہیں صرف انکے اہلخانہ اور نشان حیدر رکھنے والے شہداء کے خاندان اس مرکزی تقریب میں شریک ہوتے ہیں،

    ریاست کو اپنی پالیسی بدلنے کا حق حاصل ہے مگر میری گزارش صرف اتنی سی ہے کہ بھلے ہی ہمارے پیاروں کو ہم سے بچھڑے سالوں بیت گئے ہوں مگر ہم میں سے کوئی بھی اپنے پیاروں کو نہیں بھولا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے زخم مندمل ہونے کی بجائے اور گہرے ہو گئے ہیں۔ پاک فوج ہماری شہداء کی فیملی ہے اسے بلاتفریق سب شہداء کو اسی طرح یاد رکھنا چاہیئے  اور مرکزی تقریب میں مدعو کرنا چاہیئے جس کا سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ہم سےعہد کیا تھا۔ اگر جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی مرکزی تقریب ہمارے شہداء کی یاد میں منائی جاتی ہے، تو پھر ماضی کی طرح تمام شہداء کے لواحقین کو گزشتہ 2 سالوں سے کیوں نہیں بلایا جارہا؟ اس کے برعکس یہ تقریب سیاستدانوں، میڈیا کے لوگوں ، فنکاروں، نام نہاد لبراٹیوں سے کھچا کھچ بھری دکھائی دیتی ہے جو اگلے ہی روز اپنے اپنے ٹویٹر ہینڈلز سے فوج مخالف ٹرینڈز میں ٹویٹ داغ رہے ہوتے ہیں۔۔۔۔!!! 

           اپنوں کو کھونے کا درد وہی جانتا ہے جس نے اپنے کسی بھی پیارے کو وطن کے دفاع کے عظیم مقصد کے تحت قربان کر دیا ہو۔ اس لئے میں وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ آپ سب اس تکلیف کا ایک فیصد بھی محسوس نہیں کرسکتے جس سے شہداء کے لواحقین گزرتے ہیں۔ میں آپ سب، بشمول تمام ریاستی اداروں سے ملتمس ہوں کہ ہمارے شہداء کو یاد رکھیں، چاہے سالوں ہی کیوں نہ بیت جائیں انہی کبھی بھولیں نہیں۔ کیونکہ آپ اور آپکے بچوں کی جانب بڑھنے والی 22 گولیوں کو تو صرف میرے بڑے بھائی لیفٹینینٹ فیض سلطان ملک شہید نے تنہا اپنے سینے پر روک لیا تھا۔۔۔اور گمنام نجانے کتنے ہیروز ہیں کتنے پاکستان کے بیٹے ہیں واللہ اعلم۔۔۔!!! 
    آخر میں میری دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاک فوج کو تمام دشمنوں کے مقابلے میں فتح نصیب کرے اور اس کے وقار میں بے پناہ اضافہ کرے۔ اور ہمارا پیارا ملک پاکستان ہمارے شہداء کے پاک لہو کے طفیل دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے آمین ثمہ آمین 
    پاک فوج زندہ باد 
    پاکستان پائندہ باد 
    ایمان ملک     

  • بجلی پیداوارکا طویل مدتی پلان منظور:مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں اہم فیصلے

    بجلی پیداوارکا طویل مدتی پلان منظور:مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں اہم فیصلے

    اسلام آباد :بجلی پیداوارکا طویل مدتی پلان منظور:مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں اہم فیصلے ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بجلی پیداوار کا طویل مدتی پلان منظور کرلیا گیا ، اجلاس میں پانی کی تقسیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا، صوبوں کے مسائل پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا ، جس میں صوبائی وزرائےاعلیٰ اور وفاقی وزرا شریک ہوئے ، اجلاس میں 18ترمیم کے بعد ہائرایجوکیشن کے معاملات کا جائزہ لیا۔

    وزیر توانائی حماد اظہر نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے بجلی پیداوار کاطویل مدتی پلان منظور کرلیا ، بجلی پیداوار کا طویل مدتی پلان 2005 سے زیر التوا تھا ، مستقبل میں طلب و رسد کی پروجیکشن دیکھ کر بجلی پیدا کی جائے گی۔

    حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پلان کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ طویل مشاورت کی گئی ہے ، مسابقتی بنیادوں پرسستے ایندھن سے بجلی پیدا کی جائے گی ، نئے پلان کی منظوری کے بعد مہنگی بجلی کی پیداوار کا خاتمہ ہوگا۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مستقبل میں زیادہ گنجائش اورغیر شفاف انداز میں ٹھیکے دینے کاخاتمہ ہوگا، ماضی میں ایسے پلان بنا کر گردشی قرض اور دیگر مسائل سے بچا جاسکتا تھا۔

  • سندھ میں بلدیاتی انتخابات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ کس کے حق میں جائے گا:انتظارکی گھڑیاں شروع

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ کس کے حق میں جائے گا:انتظارکی گھڑیاں شروع

    کراچی :سندھ میں بلدیاتی انتخابات :الیکشن کمیشن کا فیصلہ کس کے حق میں جائے گا:انتظارکی گھڑیاں شروع،اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سندھ کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سماعت مکمل کرتے ہوئےفیصلہ محفوظ کرلیا۔

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے سماعت کی، سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

    سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال کا کہنا تھا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے سندھ کی صوبائی حکومت آئندہ 18 ماہ تک صوبے میں الیکشن کا انعقاد نہیں چاہتی، صوبائی حکومت کو حکم دیا جائے کہ ہمیں نقشہ جات اور ڈیٹا دیا جائے تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کراکے الیکشن کا انعقاد کرائے۔

    جس پر ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ سندھ حکومت کو مقامی حکومتوں کے انتخابات انعقاد سے انکار نہیں، اگر الیکشن کمیشن کہتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کرائیں تو کرادیں گے۔

    مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن پارلیمنٹ کو کہے کہ وہ مشترکہ اجلاس طلب کرکے سندھ اور بلوچستان میں ناقص مردم شماری کے حوالے سے سندھ حکومت کی اپیل کا فیصلہ کرے۔

    مرتضیٰ وہاب کے مطابق، سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں مردم شماری کے نتائج پر اختلافی نوٹ جمع کرایا کہ مردم شماری میں سندھ اور بلوچستان کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا، سی سی آئی میں اعتراض ہو تو معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوایا جاتا ہے۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اگر نقائص والی مردم شماری پر مقامی حکومت کا الیکشن کرادیا جاتا ہے اور پھر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس فیصلہ کرتا ہے کہ مردم شماری کے نتائج درست نہیں، پھر کیاہو گا؟ پارلیمنٹ اس فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

    مرتضیٰ وہاب کی وضاحت پر ڈی جی لاء محمد ارشد کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مردم شماری کے حوالے سے سندھ حکومت کی مشترکہ مفادات کونسل میں اپیل پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کا انتظار نہیں کر سکتا۔

    اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا حکم آگیا تو ہم اس کی تکمیل کرنے کے پابند ہیں،ہم فروری مارچ تک بلدیاتی انتخابات منعقد کرا دیں گے، ہم ٹائم لائن دے رہے ہیں، بتانا چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت بھاگ نہیں رہی کیوں کہ ہم بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا جو فیصلہ ہو گا،اس کا اطلاق سب صوبوں پر ہو گا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن :اہم تفصیلات جاری کردی گئیں

    تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن :اہم تفصیلات جاری کردی گئیں

    کراچی :تعلیمی اداروں میں ویکسینیشن :اہم تفصیلات جاری کردی گئیں ،اطلاعات کے مطابق سندھ کے تعلیمی اداروں میں کی کورونا ویکسینیشن شروع

    محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کراچی میں کورونا سے بچاؤ کیلئے تعلیمی اداروں میں 17 سال اور اس سے زائد عمر طلبہ کی ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا۔

    محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں طلبہ کو کورونا ویکسین لگانے کا آغاز ہوگیا۔ محکمہ صحت نے نویں تا بارہویں جماعت کے بجائے 17 سال اور زائد عمر کے طلبہ کو ویکسین لگانے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    محکمہ صحت و محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے تعلیمی اداروں میں نویں تا بارہویں جماعت کے طلبہ کو ویکسین لگانے کا فیصلہ اچانک تبدیل کردیا گیا۔نئے نوٹیفیکشن کے مطابق اب صرف 17 سال اور زائد عمر کے طلبہ کو ویکسین لگائی جائے گی چاہے وہ کسی بھی کلاس میں ہوں۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق تعلیمی اداروں میں ویکسین کا آغاز کردیا گیا ہے۔ عائشہ باوانی کالج میں والدین کی اجازت سے طالبات کو کورونا ویکسین لگائی گئی۔

    محکمہ تعلیم کے مطابق نجی اسکولوں و والدین کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہائر سیکنڈری اسکول و کالجز میں محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ ویکسین کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

    صوبائی محکمہ صحت کے مطابق 6دن کے اندر انتظامات مکمل کر کے ویکسین کا آغاز کیا جائے گا، تدریسی عمل کے تسلسل اور بچوں کی حفاظت کے لیے ویکسین کرانا لازمی ہوگا۔ویکسینیشن کے لیے بچوں کے والدین کو اعتماد میں لے کر رضامندی لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔