Baaghi TV

Author: +9251

  • خاتون کو ہراساں کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع

    خاتون کو ہراساں کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع

    لاہور:خاتون کو ہراساں کرنے والوں کی گرفتاریاں شروع ،اطلاعات کے مطابق آئی جی پنجاب پولیس نے وزيراعلیٰ عثمان بزدار کو بریفنگ میں بتایا ہےکہ مینار پاکستان پر خاتون کو ہراساں کرنے میں ملوث 400 افراد میں سے بعض کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مینار پاکستان پر خاتون کے ساتھ پیش آئے واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے۔

    آئی جی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں ملوث بعض افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ، ویڈیوز کی مدد سے نادرا کے ذریعے ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔

    وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کل صبح تک حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس حوالے سے اہم اجلاس بھی بلالیا ہے۔

    عثمان بزدار نے اسے ٹیسٹ کیس قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ متاثرہ خاتون کو انصاف دلائيں گے اور کیس جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچائيں گے۔

    یاد رہے کہ لاہور میں 14 اگست کو گریٹر اقبال پارک میں سیکڑوں افراد نے خاتون ٹک ٹاکر سے بدتمیزی کی،کپڑے پھاڑ ڈالے اور ہوا میں اچھالتے رہے تھے، واقعے کی فوٹیج وائرل ہونےکے بعد400 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

  • طالبان افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر بھی پہنچ گئے:کرکٹ کے فروغ کےلیے مشاورت

    طالبان افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر بھی پہنچ گئے:کرکٹ کے فروغ کےلیے مشاورت

    کابل :طالبان افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر بھی پہنچ گئے:کرکٹ کے فروغ کےلیے مشاورت،اطلاعات کے مطابق طالبان نے سابق افغان کرکٹر عبداللہ مزاری کے ہمراہ جمعرات کے روز کابل میں افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا ہے۔

    افغان طالبان کے افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کواٹر کے دورے کی تصویر سوشل میڈیا پر گردش کرر ہی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے ایک پالیسی بھی وضح کی جائے گی

    تصویر میں بھاری ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجو ؤں کو کابل میں افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر کے کانفرنس ہال میں بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
    طالبان افغانستان کے سابق کھلاڑی عبداللہ مزاری کے ہمراہ جمعرات کو کابل میں افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر پہنچے تھے۔

    تازہ ترین پیش رفت کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو (سی ای او) حامد شنواری نے کرکٹ کے شائقین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے اور سیاسی بحران کے دوران کرکٹ کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان 3 سے 9 ستمبر تک طے شدہ3 میچوں کی ون ڈے سیریز کی میزبانی افغانستان نے کرنی ہے اور یہ سیریز سری لنکا میں شیڈول ہے ۔

  • پی ٹی وی اینکرز کے حجاب کرنے پر وزیر اطلاعات کی وضاحت

    پی ٹی وی اینکرز کے حجاب کرنے پر وزیر اطلاعات کی وضاحت

    پاکستان ٹیلی وژن نیٹ ورک کی 2 خواتین اینکرز نے حجاب شروع کردیا۔

    اس معاملے پر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی اور حکومت کے کارکنان نے کریڈٹ لینا شروع کردیا۔ سوشل میڈیا پر اسے حکومتی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی نیوز پر حجاب لازمی قرار دیدیا، جس کے نتیجے میں پی ٹی وی نیوز پر حجاب پہنے خاتون اینکر پرسن خبریں پڑھ رہی ہیں۔
    تاہم حجاب کرنے سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پہننا یا نہ پہننا ان خواتین اینکرز کا ذاتی فیصلہ ہے، ہم اپنے اینکرز اور پیش کاروں پر ایسا کوئی ڈریس کوڈ (ضابطہ لباس) نافذ نہیں کرسکتے۔

  • پاک فوج؛آئی ایس آئی زندہ باد:جسے عقل تسلیم نہیں کرتی وہ افغانستان میں کردکھایا:بھارتی فوجی افسر

    پاک فوج؛آئی ایس آئی زندہ باد:جسے عقل تسلیم نہیں کرتی وہ افغانستان میں کردکھایا:بھارتی فوجی افسر

    نئی دہلی:پاک فوج؛آئی ایس آئی زندہ باد:جسے عقل تسلیم نہیں کرتی وہ افغانستان میں کردکھایا:بھارتی فوجی افسر کا پاک فوج اورآئی ایس آئی کو خراج تحسین ، اطلاعات کے مطابق افغان صورتحال پر بھارتی فوج کے سابق افسر نے پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو مبارکباد دی ہے۔

    بھارتی فوج کے سابق اہلکار اور دفاعی تجزیہ کار کرنل دھنویر سنگھ نے افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے پر پاک فوج اور آئی ایس آئی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی نے پاکستان کو یوم آزادی پر بڑا تحفہ دیا جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں،

    بھارتی فوج کے افسر اوردفاعی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ افغانستان کے سارے پس منظر میں سارے آپریشنز میں سب سے اہم آپریشن انٹیلی جنس آپریشن تھا، افغانستان کے گورنرز، افغان آرمی کے جنرلز، وہاں کے وار لارڈز کو آئی ایس آئی توڑنے میں کامیاب ہوگئی۔

    دھنویر سنگھ نے کہا کہ آئی ایس آئی کو داد دینی چاہئے، آئی ایس آئی نے بہت ہی شاندار کام کیا تاہم اس سارے معاملے میں بھارت کی صورتحال بہت ہی گھمبیر ہے،

    بھارت کی حالت اس لڑکے کی ہے جو دو بوڑھوں کی لڑائی میں خوامخواہ چانٹے کھا کر روتا ہوا گھر آجاتا ہے۔

  • اب یہ طالبان کے رویے پر ہے کہ ’عالمی برادری سے خود کو تسلیم کرانا ہے یا نہیں:جوبائیڈن

    اب یہ طالبان کے رویے پر ہے کہ ’عالمی برادری سے خود کو تسلیم کرانا ہے یا نہیں:جوبائیڈن

    واشنگٹن:اب یہ طالبان کے رویے پر ہے کہ ’عالمی برادری سے خود کو تسلیم کرانا ہے یا نہیں:اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوزف بائیڈن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری سے خود کو تسلیم کروانا ہے یا نہیں فیصلہ طالبان کے ہاتھ میں ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھاکہ طالبان کے عقائد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، بین الاقوامی برادری سے خود کو تسلیم کروانا ہے یا نہیں فیصلہ طالبان کے ہاتھ میں ہے۔

    صدر بائیڈن نے کہا کہ 15 ہزار امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں، انخلاء کا عمل مکمل نہ سکا تو 31 اگست کے بعد بھی امریکی افواج کابل میں رہیں گی، طالبان افغان شہریوں کو ملک چھوڑنےسے روک رہے ہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق سال کے آخر تک کابل پر طالبان کے قبضے کا خدشہ تھا۔

    انہوں نے طالبان کی تیز رفتار کامیابی کا ذمہ داری افغان حکومت اور افغان فوج کو قرار دیا۔

    جو بائیڈن نے انخلاء کے دوران افراتفری کی ذمہ داری لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں، افراتفری کے بغیر انخلاء کیسے ہوتا

  • پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیاز ،تحریر :ارم شہزادی

    پرائیویٹ تعلیمی ادارے مافیاز ،تحریر :ارم شہزادی

    ویسے تو اس پر بہت لکھا جا چکا ہے لیکن بدقسمتی سے اسکا فائدہ نہیں ہوا ہےیہ مافیا کیسے بنا ہم نے بنایا یا ہمیں مجبور کیا گیا کہ اس مافیا کے سامنے سر جھکا دیں؟ آج سے پندرہ بیس سال پہلے جو پرائیویٹ سکولز میں بچے تعلیم حاصل کرتے تھے انہیں نالائق سمجھا جاتا تھا کہ یہ بچے سب بچوں کے ساتھ مل کر نہیں چل سکتے ہیں تو اس لیے الگ کردیا گیا پرائیویٹ سکول بھی چند بڑے ناموں کے علاوہ اکا دکا تھے۔ گورنمنٹ سکول میں پڑھانے والے اساتذہ کا معیار کافی بلند تھا انگریزی بھلے 6کلاس سے شروع ہوتی تھی لیکن بچوں کو اچھی خاصی واقفیت تھی اردو بولنا اور صحیح تلفظ سے ادا کرنا خوب جانتے تھے گنتی اردو انگریزی دونوں میں آتی تھی۔ پھر وقت یا ہماری قسمت نے پلٹا کھایا اور ہم ان پرائیویٹ اداروں میں پھنس گئے۔ گورنمنٹ کے اداروں کو جان بوجھ کے تباہ کیا گیا یا ان پر توجہ نہیں دی گئی اور گلی گلی انگلش میڈیم اسکول کے نام پے پانچ پانچ مرلے میں زہنی مریض بنانے کی نرسریاں بنائی گئیں ۔ ان نرسریوں کے خوش نما جملوں نے جہاں والدین کو سحرزدہ کیا وہیں کچھ پڑھے لکھے نوجوان بھی مرعوب ہوئے۔ اب یہ پورے ملک میں جونک کی طرح چمٹ گئے ہیں۔ اب ایک طرف والدین ان بھاری فیسوں کی مد میں پستے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف پسنے والے وہ نوجوان ہیں جو ان اداروں میں کام کرتے ہیں۔ والدین سے فیسیں پوری لی جاتی ہیں جبکہ استحصال اساتذہ اور دوسرے عملے کا کیا جاتا ہے۔ چند ہزار تنخواہ سے سکول کے معیار کو بھی رکھنا ہے جبکہ اپنی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔ اس مہنگائی کے دور میں یہ ممکن نہیں رہا ہے۔ اگر کبھی انکے خلاف اواز اٹھائی گئی تو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار دیا ہوا ہے کیا وہ روزگار مفت دیا ہوا؟

    کیا بچوں سے فیسیں نہیں لی گئیں؟ تعلیم۔ علم جو پیغمبری پیشہ ہے اسے صرف ایک کاروبار بنا دیا جس میں صرف کمائی مالکان کی ہورہی ہے۔ جبکہ بچوں سے پوچھیں تو چند جملے اردو یا انگریزی کے وہ نہیں بول سکتے ہیں تربیت کرنے نہیں دی جاتی بس پالیسی ہے کہ رٹوائے جاؤ کتابی جملے کتابی لفظوں سے زیادہ وہ ایک لفظ نہیں سمجھ سکتے۔ زرا سی ڈانٹ ڈپٹ ہو جائے تو والدین کی شکایات الگ اور سکول انتظامیہ کی الگ ہوتی ہیں اس میں یہ نوجوان طبقہ پس کے رہ گیا ہے۔ رہی سہی کسر قدرتی آفات پورا کردیتی ہیں جیسے ابھی کورونا آیا تو متاثر والدین ہوئے بغیر کلاسز کے فیسیں پوری لیں ان اداروں نے جبکہ اساتذہ اور باقی عملے کو یا تو مکمل فارغ کردیا گیا یا پھر تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئیں۔ اور اب ویکسین نا لگوانے والوں کی تنخواہیں ادھی دی گئیں مگر کوئی نہیں ہے جو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکے۔ اگر ان پانچ پانچ مرلے کی نرسریوں کے بجائے ہنر مندی کی فیکڑیز لگائی جاتیں تو آج یہ ملک اپنی ضروریات کی چیزیں خود بنا رہا ہوتا حکومتیں اپنی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں پر توجہ دیتی تو ہم بھی جابر بن حیان، عبدل اسلام، نیوٹن پیدا کررہے ہوتے ناکہ رٹاوی نسل۔ اور اب یہ تباہی سکول سے نکل کر کالج اور پھر کالج سے نکل کر یونیورسٹیوں تک پہنچ گئی ہے۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے پرائیویٹ کالج اور یونیورسٹیوں کے فیس پیکجز اور فنکشنز ان پے آنے والے اخراجات نے والدین کی کمر دہری کردی اور اخلاقیات الٹا تباہ ہوئیں۔ پھر گورنمنٹ کے سب کیمپسز کے نام پے الگ لوٹ مار۔ خدارا اس نسل کو بچائیں اس تعلیمی نظام اور پرائیویٹ اداروں سے۔ ان کے ہاتھوں ہونے والے استحصال سے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی کیجے گورنمنٹ کے اداروں پر توجہ دیجیے لاکھوں میں تنخواہیں اور پھر ساری زندگی پینشنز لینے والوں کو بھی تھوڑا نگاہ میں رکھیے۔ اسی طرح کی رٹاوی اور ذہنی مریض جن میں قوت برداشت زیرو ہے آتی رہی تو مستقبل روشن ہونے کے بجائے تاریک ہوگا۔ ابھی سوچیے ابھی وقت ہے۔
    جزاک اللہ

  • مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    مینار پاکستان سانحہ .تحریر راحیلہ عقیل

    ایک عورت کی کمیز چھوٹی ہے اس کے بال کھلے ہیں وہ بدکردار ہے وہ مردوں سے باتیں کرتی ہے وہ روز سے ہنستی ہے وہ بدکردار ہے ؟۔۔۔۔۔۔ اسلام نے عورت ، مرد دونوں کے لیے حدود قائم کی ہیں دونوں کو اپنے اپنے دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں پھر ایک عورت بےپردہ گھر سے نکلی اس کی مرضی تھی اس کے ماں باپ نے اسکی تربیت نہیں کی اسکو دین دنیا کے طریقے نہیں سکھائے یہ ان ماں باپ کا قصور ہے، بے شک کے قیامت کے روز وہ اسکے جوابدہ ہونگے سزا بھی پائیں گے ۔۔۔۔۔پھر چائیے وہ اس خاتون کا پروپیگنڈہ ہی کیوں نا ہو لیکن ایک منٹ ٹھہر جائیں
    خاتون نے کہا مرد حضرات کو آجائیں میرے ساتھ تصویریں بنوائیں تو کیسے مرد تھے جو اپنی ماں باپ کی ایک آواز پر کھڑے نہیں ہوتے وہ ایک بدکردار عورت کی دعوت پر مینار پاکستان پہنچ جاتے ہیں اور وہاں جاتے ہی سچے پکے مسلمان بن کر عورت کو مذہب یاد کرواتے ہیں کے تمہارے کپڑے خراب ہیں تم مردوں میں کیوں آئی کیا ایسا کرنا جائز تھا عورت کو ننگا کرنا اسکی تذلیل کرنا جائز تھا ؟

    کیا ہم سچے مسلمان ہیں ؟ کیا ہم پانچوں وقت کے نمازی ، والدین کے فرمانبردار ہیں کیا ہم جھوٹ نہیں بولتے ، برائی نہیں کرتے ، تنقید نہیں کرتے ، ملاوٹ نہیں کرتے ، دل میں بغض نہیں رکھتے ، سڑک چلتی عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے ؟ شادیوں میں کھلے بال بازو پر ڈوپٹہ ڈالےخواتین کے ساتھ تصویریں نہیں بنواتے، ٹی وی پر فلمیں ڈرامے نہیں دیکھتے ، اداکاروں کی تصویریں نہیں دیکھتے انکے ناچ گانے کپڑوں سے جھلکتا جسم نہیں دیکھتے ؟

    ہم کہا سے سچے مسلمان ہیں کہا لکھا ہے کے عورت ہی ہر چیز کی زمہ دار ہے اگر عورت نے اپنی حدود پار کی تنگ کپڑے پہنے تو مرد نے بھی اس پر نگاہ ڈالی

    اور پھر وہ تو عورت ہے یہاں تو حال اتنا برا ہے چھوٹی بچیوں کو مدرسوں میں نہیں چھوڑے سڑک چلتی لڑکی کو پکڑ لیتے دکانوں پر چیز لینے آئی معصوم بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہیں لڑکو کے ساتھ زیادتی انکی ویڈیوز بناکر وائرل کرنا عورت کے جسم سے کھیلنا پھر انکو مار دینا۔۔۔۔۔ عورت کی اتنی بے حرمتی کے قبروں سے لاش نکال کر اسکا ریپ کردینا یہ مسلمان ہیں ؟ یہ مسلمانوں کے کام ہیں ؟ ایک عورت پر سب کی غیرت جاگی کے وہ ننگے سر نکلی تب غیرت کہا چھپ جاتی ہے جب عورت کو غیر آدمی ذیادتی کا نشانہ بناکر مار ڈالتے ہیں تب غیرت نہیں آتی جب ننھی معصوم بچی کے ساتھ باپ ذیادتی کرتا ہے تب غیرت نہیں آتی جب ٹی وی پر اداکاروں کے ناچ گانے دیکھتے ہو ؟
    آپ مرد ہیں تو مرد بنیں مذہب صرف عورت پر لاگو نہیں ہوتا سب پر ہوتا ہے جتنی قصوروار عورت اتنا ہی مرد
    بازار میں بکنے والی عورت خراب نظر آتی ہے مگر اسکو خریدنے والا مرد دکھائی نہیں دیتا کیونکہ وہ مرد ہے ؟
    بچیوں کی تربیت پر انگلی اٹھاتے ہیں آپ بیٹوں کی تربیت بھی ایسی کریں کے وہ پرائی عورت کو آنکھ اٹھاکر نادیکھے اور دیکھے تو بہن بیٹی سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔
    معاشرے کو بدلنا ہے تو سوچ کو بدلیں مرد کو شیر کہہ کر بڑھاوا نا دیں اسکو انسان بنائیں اسکو سیکھائیں کے عورت کھلونا نہیں عزت ہے مان ہے غرور ہے

    عورت کو بھی اپنی چار دیواری میں اپنی حدود میں رہنا ہوگا تنگ لباس پہنو ناچو گاؤ اپنے گھر میں کرو، غیر مردوں کے سامنے ناچو گی ؟ ننگے سر پھیروں گی ؟ یہ تربیت ماں باپ دیں اپنی اولاد کو آزادی اتنی اچھی لگتی جس میں آپکی عزت پر کوئی انگلی نا اٹھا کے ناکہ یہ کے غیر مرد آپکے کپڑے پھاڑ کر آپکو ہوا میں اچھال رہے اپنی عزت کروانا عورت کا کام ہے غیر مرد کی تعریف پر مسکرانا ہنسی مذاق کرکے بڑھاوا دینا پھر رونا کے ہم کو حراسا کیا جارہا ایسا نہیں چلے گا ایسا کرنے والوں کی سزا بہت سخت ہے وہ شکر کریں کے ہمارے ملک میں اسلامی سزائیں نہیں ہوتی ورنا کھال اتار کر ہڈیاں دیتے گھر والوں کو سمجھ جائیں اس سے پہلے کے خدا کا غذاب پڑے پہلے ہی ہم کرونا سے لڑ رہے ہیں مزید اللہ کی ناراضگی برداشت نہیں کرسکیں گے

  • فلاپ سکرپٹ  تحریر : فضیلت اجالہ

    فلاپ سکرپٹ تحریر : فضیلت اجالہ

    آزاد ملک کے 400آزاد باشندوں نے 14 اگست 2021 کو مینار پاکستان تلے جہاں آزادی کی بنیاد رکھی گئی تھی آزادی مناتے ہوئے عائشہ نامی لڑکی کو اسکی مرضی سے حراس کیا اسکا لباس تار تار کرتے ہوئے اسکی عزت و انا کو مٹی میں ملاتے ہؤئے اپنے آزاد ہونے کا ثبوت دیا یہ اور بات کہ وہ سب عائشہ ہی کی دعوت پہ وہاں جمع ہوئے تھے ، اور ایک بار پھر ملک پاکستان کا سر شرم سے جھکایا گیا ۔

    جی ہاں آزاد ، قانون کے ڈر سے آزاد ،ضمیر کی آواز سے آزاد ،احساسات سے آزاد، غیرت سے آزاد، اللہ کے خوف سے آزاد اور سب سے بڑھ کر مکافات عمل کے ڈر سے آزاد ان لوگوں نے یہ شرمناک کھیلا ، اور جلتی پہ تیل سستے چینلز کی ریٹنگ کی حوس نے ڈالہ ۔
    یہ سب لکھتے ہوئے میرا قلم شرمسار ہےلیکن میں مجبور ہوں لکھنے پہ کہ اگر آج نہیں بولیں گے تو کل یہ چار سو سے چار ہزار ہونگے اور وطن عزیز میں ان گدھوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اس پاک دھرتی کو اپنی نحوست سے آلودہ کرتے رہیں گے ۔
    سوال یہ نہیں کہ وہ اکیلی کیوں تھی، سوال یہ بھی نہیں کہ اسکا محرم ساتھ نہیں تھا،مجھے اس کے نازیبا لباس پہ بھی کوئ اعتراض نہیں ہے سوال تو یہ ہے کہ 14 اگست کو یہ واقعہ پیش آتا ہے لیکن کہیں اسکا زکر نہیں ہوتا کوئ ویڈیوں سامنے نہیں آتی عائشہ اکرم نامی خاتون 15 اگست کو انسٹا گرام پر اپنی تصاویر شئیر کرتی ہیں لیکن اس واقعہ کا کوئ زکر نہیں ملتا کیوں؟؟؟
    17 اگست کو اچانک سے تمام مواد سوشل میڈیا پہ شائع ہوتا ہے اور عائشہ مظلومیت کی تصویر بنی آنسو ں بہاتی سستے چینلز کی ریٹنگ بڑھاتی نظر آتی ہیں کیوں؟ 14 اگست کو ہی یہ خبر کیوں نہیں پھیلی؟؟ کیوں ایف آی آر نہیں کٹوائ گئ ؟ چلے مان لیتی ہوں کہ لڑکی تھی عزت کے ڈر سے لوگوں کے ڈر سے خاموش تھی لیکن وہاں موجود تمام لوگ کیسے خاموش تھے ؟ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں موجود کافی لوگوں نے اپنے کیمروں میں اس گھناؤنے منظر کو قید کیا تھا 14 اگست سے لیکر سترہ اگست تک کیوں کوئ ویڈیوں منظر عام پہ نہیں آئ اور 17 اگست کو ایک دم سے ساری ویڈیوز اپ لوڈ کردی گئ اور معصوم عوام کو الو بنایا ،سستی شہرت کے نشے میں پاگل کچھ لبرلز اور صحافیوں نے تو عرض پاک کے باشندے ہونے کو ہی شرمنگی کا باعث قرار دے دیا ،سب سے پہلے تو ان دیسی لبرلز کو ملک بدر کرنا چاہیے جو جس مٹی کی بدولت آج دو لفظ بولنے کے قابل ہیں اسی کے خلاف ہرزہ سرائ کرتے ہیں

    ان تمام باتوں سے دو ہی پہلوں نکلتے ہیں کہ یا تو یہ سارا تماشہ سستی شہرت کیلیے رچایا گیا جس میں محترمہ خاصی کامیاب بھی رہی یا پھر اس تمام ڈرامے کے پیچھے ایسے ملک دشمن عناصر کا ہاتھ ہے جو اسی ملک کا کھاتے ہیں اور اسی ملک کا نام خراب کرتے ہیں
    جو خود تو باہر کے ملکوں میں عیاشیاں کرتے ہیں اور یہاں عورت کارڈ کھیلتے ہوئے مکل و قوم کا نام داغدار کرتے ہیں ۔ان دونوں مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے بھی صرف عورت قصور وار نہیں ہے اس میں ملوث تمام بے غیرت مرد بھی برابر کے قصور وار ہیں ،جو پیسے کے لالچ میں یا زاتی حوس میں اس بے ہودہ ڈرامے کا حصہ بنے ،دوسروں کی عورتوں پہ بری نظر رکھ کہ انہیں گدھ کی طرح نوچ کہ اپنی عورتوں کے متعلق یہ گمان کیوں رکھتے ہو کو ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوگا؟ دنیا مکافات عمل ہے آج کسی کی بیٹی کو ننگا کرتے ہو مقصد کوئ بھی ہو چاہے اس عورت کی رضامندی بھی شامل ہو پھر بھی کل اپنی بیٹی کواپنےہی جسے کسی اور نامرد کے ہاتھوں بے لباس ہوتے دیکھنے کیلیے تیار رہو۔
    بے شک یہ سارا ڈرامہ تھا وہ تمام مرد حضرات اس عورت کے کہنے پہ وہاں موجود تھے لیکن تمھاری غیرت تمھاری تربیت تمھارے ایمان کا کیا؟ کیا تمھاری اخلاقی اقدار اس قدر پست اور مادری تربیت اس قدر کمزور ہے کہ عورر کو دیکھتے ہی تمھارے اندر کا جانور تم پر غالب آجاتا ہے زرا سے پیسے کا لالچ تمہیں اچھے برے کی تمیز بھول جاتا ہے اور تم اس مملکت خداد جس کی بنیاد ہی لاالہ اللہ ہے کا نام خراب کرنے کیلیے تیار ہوجاتے ہو ۔

    اوع جو لوگ اس تمام معاملے میں عمران خان کے اسلام اور پردے کے حوالے سے دیے گئے بیان کو گھسیٹ رہے ہیں انکو بتاتی چلوں کہ بے شک اسلام ہی راہ نجات ہے ،مکمل لباس اور حیا عورت کا زیور ہے ۔عمران خان نے مکمل لباس پہننے اور بے حیائ سے رکنے کی بات ضرور ہی جو صحیح بھی ثابت ہو رہی ہے
    لیکن عمران خان نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اسلام بے ہودہ کپڑے پہننے والی عورت کے کپڑے پھاڑنے کی اجازت دیتاہے ،
    درحقیقت اسلام تنہا عورت کو دیکھ کے بھوکے کتوں کی طرح لپکنے کا نہیں بلکہ نگاہ جھکا کہ راستہ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے ۔اگر اس تمام واقعہ کو سچ مان بھی لوں تو میرا دل نہیں مانتا کہ اتنے ہنجوم میں کسی کی ماں بہن بیٹی کو ان حالات میں پہنچاتے کسی ایک شخص کو بھی اپنے گھر میں موجود عورتوں کا خیال نہیں آیا ہوگا ،ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ان گِدھوں کی بھیڑ میں کسی ایک کو بھی اپنے ایمان کا خیال نہیں آیا ،اسکی چینخیں سنتے ہوئے ،ویڈیوں بناتے ہوئے مکافات عمل کے ڈر نے کسی ایک کے قدموں کو زنجیر نا کیا ہو ؟
    عام کہاوت ہے کہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتی اسی طرح وہاں موجود تمام مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں ،اگر اس ملک میں جگہ جگہ بھیڑیے گھات لگائے بیٹھے ہیں تو وہیں کچھ نیک لوگ بھی موجود ہیں جن کی بدولت یہ ملک قائم و دائم ہے
    آج یہ ایک واقعہ ہے لیکن اگر ٹک ٹاک جیسی فضولیات پہ پابندی نہیں لگائ جاتی ،والدین اپنی اولاد کو اس گھٹیا فعل سے نہی روکیں گے اور سارا الزام ریاست کے سر ڈالتے رہیں گے تو کل کئ عائشہ اور حریم شاہ ہونہی سر بازار اپنی اور مملکت خدادا اس سوھنی دھرتی کی عزت تار تار کرتی رہیں گی اور ان میں سے کوئ آپ کی بیٹی ہوگی تو کوئ بہن تو کسی کہ آپ شوہر ہونگے تب آنسو نا بہائیے گا ، بس پاکستان اور عمران خان کو قصور وار ٹھرائیے گا اور تمام عمل کا اسی طرح دفاع کیجیے گا ۔
    اس طرح کے فیک پراپگینڈے کی وجہ سے وہ تمام عورتیں جو واقع مظلوم ہوتی ہیں جن کے ساتھ واقع زیادتی ہوتی ہے وہ اپنا کیس لڑنے سے پہلے ہار جاتی ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنا وقار مجروح نا کریں نا کسی دوسرے کو اس کی اجازت دیں
    حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیق کریں اور اس میں ملوث تمام لوگوں کو لڑکی سمیت کڑی سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی کی جرات نا ہو کہ وہ زاتی مفادات کی خاطر ملک پاکستان کا نام خراب کرنے کا ناپاک خیال بھی اپنے دل میں لائیں ۔
    @_Ujala_R

  • صوبائی وزیر سعید غنی کی فشر فوک فورم کے چیئرمین کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت

    صوبائی وزیر سعید غنی کی فشر فوک فورم کے چیئرمین کے انتقال پر اہل خانہ سے تعزیت

    وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی ابراہیم حیدری میں فشر فوک فورم کے چیئرمین محمد علی شاہ کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔
    صوبائی وزیر کے ہمراہ ارکان قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل، آغا رفیع اللہ، وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی سلمان عبداللہ مراد، عدیل اختر اور دیگر بھی موجود تھے ۔
    صوبائی وزیر اور دیگر نے مرحوم محمد علی شاہ کے انتقال پر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
    صوبائی وزیر نے مرحوم کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم محمد علی شاہ کی ماہی گیروں کے لئے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
    محمد علی شاہ نے ہمیشہ غریبوں، محنت کشوں اور بالخصوص ماہی گیروں کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز بلند کی۔ ان کے انتقال سے ہم ایک مخلص اور عوام دوست انسان سے محروم ہوگئے ہیں۔
    اللہ تعالٰی مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ اور اللہ تعالٰی مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

  • وزیر اعلی سندھ کا فضائی دورہ

    وزیر اعلی سندھ کا فضائی دورہ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی، ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب اور آئی جی سندھ کے ہمراہ 10 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کا فضائی جائزہ۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ سدھ کے وزیر اعلی نے 10 محرم الحرام کے جلوس کا فضائی جائزہ لیتے ہوئے کسی بھی ناممکنہ حالات کا بغور خود معائنہ کیا اور کرونا سے بچاو اور احتیاطی تدابیر کا بھی جائزہ لیا ۔