ایف پی سی سی آئی میں برسر اقتدار گروپ بزنس میں پینل (بی ایم پی)کے سر پرست اعلی اور ایف پی سی سی آئی،سارک چیمبر آف کامرس کے سابق صدر طارق سعید مرحوم کو بدھ کی شام میوہ شاہ قبرستان میں سپردخاک کردیا گیا۔۔واضح رہے کہ طارق سعیدطویل اورشدید علالت کے باعث ضیاالدین ہسپتال میں داخل تھے ۔
قبل ازیں طارق سعید کی نمازجنازہ ڈیفنس فیز6کی مسجد صہیم میں ادا کی گئی۔نمازجنازہ میںایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں،یونائٹیڈ بزنس گروپ کے صدرزبیرطفیل،عارف حبیب گروپ کے سربراہعارف حبیب،فیڈریشن کے نائب صدرحنیف لاکھانی،ہمایوں سعید،خرم طارق سعید،حنیف گوہر،زبیرموتی والا،زکریاعثمان،مظہرعلی ناصر،شکیل احمدڈھینگڑا،مرزااختیار بیگ،اکبرعبداللہ،شبیرمنشا چھرا،خرم اعجاز، شیخ اسلم،امجدرفیع،ممتازشیخ،شوکت احمد،کراچی چیمبر کے صدر شارق وہرہ،احمدچنائے،سلطان چالہ،عابدچنائے،اقبال اللہ والا،جاوید چنائے،عثمان شیخ، مطلوب رضوی اورتجارت وصنعت سے وابستہ سینکڑوں افراد اورانکے اہل خانہ نے شرکت کی۔
جبکہ ایف پی سی سی آئی کے سابق صدور ایس ایم منیر،افتخار علی ملک،سینیٹر الیاس احمدبلور،میاں محمدادریس، زبیرطفیل،کیپٹن عبدالرشید ابڑو،یو بی جی کینیڈا چیپٹر کے چیئرمین نوید بخاری،خالدتواب،طارق حلیم،شبنم ظفر،منیرسلطان،کریم عزیزملک،رحمت اللہ جاوید،زاہداقبال،حاجی افضل،آغانعمت اللہ مظہر،سہیل الطاف،ثمینہ فاضل،سعیدہ بانو،رضوانہ شاہد،ناہیدمسعود،عبدالشکورکھتری اوردیگر رہنماں نے طارق سعید کی وفات پر گرے دکھ اورافسوس کا اظہار کرتے ہوئے انکی مغفرت کی دعا کی ہے۔
طارق سعیدپاکستان میں تجارتی سیاست میں تاریخ ساز شخصیت تھے اور انہیں دنیا بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔وہ طویل عرصہ تک ملک بھر کی کاروباری برادری کی سربراہی کرتے رہے جبکہ ایف پی سی سی آئی اور کراچی چیمبرآف کامرس میں ان کے نامزد کردہ نمائندے صدر اور دیگر عہدوں پر فائز ہوتے تھے اورطارق سعید کو پاکستان میں بزنس کمیونٹی کا انتہائی مضبوط ترین لیڈر مانا جاتا تھا،انہوں نے پاکستانی سیاست میں بھی حصہ لیتے ہوئے کراچی سے پی ای سی ایچ ایس اور لائنزایریا کیقومی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا تھا جس میں انہیں شکست ہوئی تھی ۔انکے صاحبزادے خرم سعید اوربھائی ہمایوں سعید بھی ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔
Author: +9251
-

تاریخ ساز تاجر رہنما طارق سعید سپرد خاک، کاروباری شخصیات کی شرکت
-

حق کی خاطر باطل کے سامنے ڈٹ جانا ہی حسینیت ہے : سیدہ شہلا رضا
صوبائی وزیر ترقی نسواں سیدہ شہلا رضا نے کہا ہے کہ حق کی خاطر باطل کے سامنے ڈٹ جانا ہی حسینیت ہے، حضرت امام حسین، ان کے رفقا اور بالخصوص باپردہ و پاک بیبیوں نے دین ِ حق کی سربلندی کے لیے جو عظیم قربانیاں دیں اس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔
سیدہ شہلا رضا نے کہا کہ واقعہ کربلا اور اس کے بعد جس طرح سیدہ زینب نے تمام غمزدہ قافلے کو سمیٹا، اس کی حفاظت کو یقینی بنایا اور یزیدیت کے آگے ڈٹی رہیں وہ آج کے دور کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کا غم تمام غموں اور فرقوں سے بالاتر ہے، حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم مذہبی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہوئے امن و امان قائم رکھیں اور محرم الحرام کو پورے عقیدت و احترام سے گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا پوری شدت سے اپنے وار جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے میں جلوسوں اور مجالس میں کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا جانا چاہیئے۔
-

یوم عاشور آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے
کراچی میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے رفقا کی عظیم قربانیوں کی یاد میں یوم عاشورعقیدت و احترام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔
شہدائے کربلا کی یاد میں ملک بھر میں یوم عاشور انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ منایا جارہا ہے، اس موقع پر مختلف شہروں میں چھوٹے بڑے جلوس برآمد ہورہے ہیں، جن کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ کراچی سمیت پورے صوبے میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ جلوس کے راستوں میں موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی۔
کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوگا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینہ ایرانیاں کھارادر پہنچے گا۔ جلوس کی گزرگاہوں پر منتظمین کی جانب سے پانی اور دودھ کی سبیلیں لگائی گئیں ہیں جب کہ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
-

سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز – محمد نعیم شہزاد
سوشل میڈیا اور ماضی میں لے جانے والے نئے فیچرز
محمد نعیم شہزاد1896 میں مارکونی نے ریڈیو ایجاد کیا اور انسان ہوا کے دوش پر اپنی آواز کو دور دراز منتقل کرنے کے قابل ہو گیا۔ دنیا کے پہلے کمرشل ریڈیو اسٹیشن KDKA نے امریکی ریاست پنسلوینیا میں پٹس برگ کے مقام پر اکتوبر 1920 میں کام کا آغاز کیا۔ پاکستان میں ریڈیو کا آغاز آزادی کے ساتھ ہی ہو گیا۔ صبح آزادی کا پہلا اعلان 13 اگست 1947 کی شب 11:59 پر مصطفیٰ علی ہمدانی کی آواز میں لاہور سے اردو اور انگریزی زبان میں کیا گیا اور عبداللہ جان مغموم نے پشاور سے پشتو میں یہی اعلان کیا۔
السلام علیکم
پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں ۔تیرا اور چودہ اگست ، سنہ سینتالیس عیسوی کی درمیانی رات ۔ بارہ بجے ہیں ۔ طلوع صبح آزادی ۔The English translation of this announcement is as follows:
Greetings Pakistan Broadcasting Service. We are speaking from Lahore. The night between the thirteenth and fourteenth of August, year forty-seven. It is twelve o’clock. Dawn of Freedom.
جبکہ اس وقت ریڈیو پاکستان 34 زبانوں میں براڈ کاسٹنگ کر رہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت سے ایجادات ہوتی رہیں اور ہمارا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہوتا رہا۔ آج کے جدید دور میں ریڈیو سے بڑی کئی ایجادات ہماری دسترس میں ہیں۔ نت نئے سوشل میڈیا ٹولز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان ٹولز میں عوام میں عمومی طور پر مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ میسنجر ہے جس کے ذریعے ہم تحریری، آڈیو، ویڈیو اور دیگر میڈیا میسجز بھیج سکتے ہیں۔ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک مقبول پلیٹ فارم ٹویٹر بھی ہے۔ حال ہی میں ٹویٹر نے ایک نیا فیچر متعارف کروایا ہے جس Space کا نام دیا گیا ہے۔ صارفین اپنی مرضی کا عنوان منتخب کر کے ایک space بنا سکتے ہیں جس میں دوسروں کو مدعو کر سکتے ہیں اور دوسرے صارفین بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اس فیچر کے تحت زبانی گفتگو کی جاسکتی ہے جیسے ہم فون کال پر کرتے ہیں اور دوسرے کی گفتگو کے دوران چند ایموجیز بھی بھیج سکتے ہیں۔ آج ایک معروف تعلیم کے شعبہ میں خدمات انجام دینے والے ادارے ایجو سولز پاکستان ( EduSols Pk) کی جانب سے ایک space بنا کر کرونا وبا کے بعد کی تعلیمی صورتحال اور محکمہ تعلیم حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں کی جانے والی پیشرفت کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ ایک گھنٹے سے کچھ زائد وقت تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں پاکستان میں کرونا وبا آنے کے بعد کی تعلیم کے میدان میں ہونے والی پیشرفت پر سیر حاصل بات چیت کی گئی۔ گفتگو کے لیے تعلیم سے وابستہ بعض سرکاری ملازمین، پرائیویٹ سیکٹر کے افراد، طلباء نمائندگان اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ حکومت پاکستان کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی کوششوں کو سراہا گیا جن کے بروقت اجراء سے پاکستان میں حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند رہ کر ممکنہ بہتر تعلیمی سہولیات میسر ہو سکیں۔ مجموعی طور پر وبا کے دوران ایمرجنسی کے حالات میں کی جانے والی تعلیمی کاوشوں کے اطمینان بخش ہونے پر اتفاق کیا گیا اور اسے حکومت کی بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ جس سے طلباء کے قیمتی تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا اور ملک میں تعلیم و تعلم کے سلسلے میں نئی جہتوں کا کامیاب اضافہ کیا گیا۔ آج کے اس تجربے سے پہلے کئی بار جب ٹویٹر پر کسی صارف سے تبادلہ خیال کرنا ہوتا تو واٹس ایپ کا آڈیو فیچر شدت سے یاد آتا کیونکہ لکھ کر بات کرنے کی نسبت بول کر اپنی بات بتانا نسبتاً آسان عمل ہے مگر آج عملی طور پر ٹویٹر پر بھی یہ طریقہ استعمال کر لیا کہ بول کر اپنی آواز کے ذریعے اپنا پیغام مخاطب تک پہنچا دیا۔ اس کے ساتھ ہی ریڈیو کی یاد بھی آنے لگی جہاں ہم مخاطب کو دیکھے بغیر محض اس کی آواز سنتے ہیں ۔ ایجاد اگرچہ پرانی ہے مگر نئے انداز سے اس فیچر کا ٹویٹر میں اضافہ اچھا لگا اور صارفین کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہوا جس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کے تاثرات اور خیالات جان سکتے ہیں۔
19 اگست ، سنہ دو ہزار اکیس عیسوی کی رات ۔ بارہ بج کر چھپن منٹ ہوئے ہیں ۔ پچھترہویں سال کی طلوع صبح آزادی ۔
-

افغانستان میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی شکست :جوبائیڈن کواستعفیٰ دینا پڑسکتا ہے
واشنگٹن :امریکی صدرنےافغانستان میں امریکی تاریخ کی سب سے بڑی شکست تسلیم کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر کی سفارتی محاز پہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی شکست تسلیم کرنے کی خبروں کے بعد اب یہ صورت حال پیدا ہوچکی ہے کہ ہوسکتا ہےکہ جوبائیڈن کواستعفیٰ دینا پڑے
تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جو بائڈن افغانستان میں طالبان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد تنہائی کا شکار جبکہ بائڈن انتظامیہ کے سینئر ارکان صدر کے حالیہ رویہ پہ نالاں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر جو بائڈن کا تمام کئریر بیرونی سفارت کاری کے اہم کھلاڑی کا رہا ہے، صدر جو بائڈن کے کابل گرنے سے پہلے اور بعد کے بیان آپس میں میل نہیں کھاتے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نائب صدر کمالہ ہارس نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پہ صدر بائڈن کا نیم دلانہ دفاع کیا۔ذرائع کے مطابق سینیٹ اور امریکی کانگریس کے اراکان نے بھی افغان انخلا سے پیدا ہونے والی صورتحال پہ نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ بائڈن انتظامیہ اس مسئلے کو بہتر انداز میں حل کرسکتی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن انتہائی اہم سنجیدہ اور امریکہ کے لئے سفارتی تاریخ کی بدترین شکست کے دوران چھٹی پہ رہے، وہ گزشتہ ہفتے سے کیمپ ڈیوڈ میں چھٹیاں گزار رہے ہیں۔
ذرائع نے کہا کہ انتہائی نازک صورتحال میں بھی صدر بائیڈن نے اپنی چھٹیاں منسوخ نہیں کیں، صدر بائیڈن اپنے ساتھیوں عوام اور میڈیا کے فیض و غضب کا شکار ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق افغانستان پہ طالبان کے قبضے کے بعد انہوں نے صرف ایک دفعہ مختصر وقت کے لئے پریس کانفرنس کی، صدر بائیڈن کی سیکرٹری جین ساکی بھی ایک ہفتہ کی چھٹیوں پہ چلی گئی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کی غیر موجودگی یا انتہائی مصروفیت میں پریس سیکرٹری صدر کا ترجمان ہوتا ہے، جین ساکی اگر چھٹی پہ چلی جاتیں ہیں تو یہ وائٹ ہاوس کا پہلا سیاسی بحران ہوگا۔
ذرائع نے کہا کہ اپوزیشن اور ریٹائرڈ آرمی افسران کی جانب سے صدر بائیڈن کے استعفیٰ کا مطالبہ پہلے ہی سامنے آگیا ہے، نائب صدر کمالہ ہارس کا کردار آنے والے دنوں میں انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امریکی سینٹ اور کانگریس میں حکومتی ارکان کا صدر بائیڈن کا دفاع نا ہونے کے برابر ہے، سابق صدر ٹرمپ نے بھی صدر بائیڈن کے افغان مسئلکو ہینڈل کرنے پہ شدید تنقید کی۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان انخلا میں سنگین کوتاہیاں صدر بائیڈن اور ان کی انتظامیہ کے لئے ایک سیاہ دھبہ کی طرح ہے۔
-

تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں۔ ترجمان افغان طالبان
کابل:افغان طالبان کی طرف سے ملک کے انتظام سنبھالنے کے بعد پاکستان کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا آگیا ہے، افغان طالبان کے ترجمان نے کہاہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغانستان میں کوئی جگہ نہیں
افغآن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے لیے کوئی جگہ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان نے بہت زیادہ نقصان پہنچایا ، اب یہ برداشت نہیں ہوگا کہ کوئی اس قسم کی سرگرمیاں افغانستان سے جاری رکھ سکے
یاد رہے کہ افغآن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ سوال اٹھ رہے تھے اوراٹھ رہے ہیںکہ تحریک طالبان پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا تو اس حوالے سے آج ترجمان نے واضح کردیا ہے کہ کسی بھی گروہ کو افغانستان سے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے
-

نئی افغان حکومت کو فوری تسلیم نہ کیا جائے:پہلے تحفظات دورہونے چاہیں:برطانوی وزیراعظم
لندن نئی افغان حکومت کو فوری تسلیم نہ کیا جائے:پہلے تحفظات دورہونے چاہیں:برطانوی وزیراعظم ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کا نئی افغان حکومت کو فوری تسلیم کرنا غلطی ہوگی،
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ طالبان کے دہشتگردی ، منشیات اور خواتین سے متعلق رویے کو پرکھناہوگا، افغانستان کے مستقبل کی فکر کرنے والے ممالک طالبان کے طرز عمل پر غور کریں۔انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے الفاظ پر نہیں عمل پر یقین کریں گے
برطانوی لیبر پارٹی کے رہنماء سرکیر نے امریکی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن کا افغان حکومت کو ذمہ دارٹھہرانا شرمناک ہے، امریکا افغان حکومت کا ایک اہم اتحادی تھا۔
یاد رہے وزیراعظم عمران خان سے بھی گزشتہ روز برطانوی وزیراعظم کا ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں افغانستان کی صورتحال پر بات چیت کی گئی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کیلئے پرامن اور مستحکم افغانستان بنیادی اہمیت رکھتا ہے،
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام افغانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نے جامع سیاسی تصفیے کی اہمیت پرزور دیا۔
-

ہجوم والے میراجسم نوچتے رہے:سیلفی کے بہانے،چھیڑتے رہے:ٹک ٹاکرعائشہ اکرم
لاہور:میراجسم نوچتے رہے:سیلفی کے بہانے،چھیڑتے رہے:ٹک ٹاکرعائشہ اکرم نے اپنی بے بسی کا رونا رو دیا ، اطلاعات کے مطابق مینارِ پاکستان کے مقام پر ہجوم کی ہوس کا نشانہ بننے والی خاتون ٹک ٹاکرعائشہ اکرم نے انٹرویو میں اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کی تفصیلات بتا دیں۔
نجی ویب سائٹس سے گفتگو میں ٹک ٹاکر عائشہ نے بتایا کہ سیکڑوں افراد سلیفی لینے کے بہانے انہیں گھیرتے چلے گئے ، ایک موقع پر ان کے پاس یہی آپشن بچا تھا کہ تالاب میں کود جائيں۔
ان کا کہنا تھاکہ ہجوم ڈھائی گھنٹے تک انہیں ہوس کا نشانہ بناتا رہا اور ہراساں کرتا رہا، اس دوران پولیس کو بھی دو مرتبہ اطلاع دی لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ اسے ٹارچر کیا گیا، بال نوچے گئے، لوگ اس کے ساتھ کھیلتے رہے اور اسے بے لباس کردیا گيا۔
-

طالبان مجھے ہرکمرے میں تلاش کررہے تھے،نہ بھاگتا توپکڑکرمجھے پھانسی لگا دیتے:اشرف غنی
دبئی :طالبان مجھے ہرکمرے میں تلاش کررہے تھے،نہ بھاگتا توپکڑکرپھانسی لگا دیتے:اطلاعات کے مطابق معذول افغان صدر اشرف غنی جو کہ اس وقت عرب امارات میں پناہ گزین ہیں ، ایسے میں ایک بارپھراپنی حیثیت کواجاگرکرنے کےلیے اہم پیغام شیئر کیا ہے ،
اشرف غنی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اگر میں افغانستان میں رہتے تو وہاں خون خرابہ ہوتا اور کابل کی سڑکیں شام کی طرح ہوتی۔
اشرف غنی نے کہا: "گزشتہ اتوار میں معمول کے مطابق صدر دفتر میں موجود تھا اس دوران میں وزارت دفاع جانا چاہتا تھا۔” راستے میں ، میں نے افغان طالبان کودیکھا جو کہ مجھے تلاش کررہے تھے اس دوران اگرجان بچا کرنہ بھاگتا توپھرکابل کی سڑکوں پرخون خرابہ ہوتا

اشرف غنی نے مزید کہا: "مجھے کابل سے زبردستی نکالا گیا ، اور طالبان محل کے کمرے سے کمرے تک میرے پیچھے آئے۔” اگر میں ٹھہرتا تو تاریخ اپنے آپ کو دہراتی اور افغانستان کے صدر کو لوگوں کے سامنے پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک آپ کے پاس معلومات نہیں ہیں فیصلہ نہ کریں ، ملا عمر نے قندھار اور کابل بھی چھوڑ دیا ، امیر عبدالرحمن ، شیر علی خان اور دیگر رہنما بھی چلے گئے۔ لیکن ایک وقت پھرآیا کہ وہ دوبارہ آتئے اور اپنے لوگوں کی خدمت کی۔
اشرف غنی نے کہا: میں نے رقم منتقل نہیں چرائی ، میں ایسے الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہوں۔ ہم خالی ہاتھ آئے ہیں۔ مجھے کوٹ اور قمیض چاہیے۔
افغانستان کے لوگ امن چاہتے ہیں ، اور میں خوش ہوں کہ کابل میں خونریزی روک دی گئی ہے۔میں عبداللہ عبداللہ اور کرزئی کی طرف سے جاری امن عمل کی حمایت کرتا ہوں اور اسے کامیاب ہونا چاہیے۔ "مجھے سیکورٹی فورسز پر فخر ہے۔ انہیں شکست نہیں ہوئی۔ حکومت ، طالبان اور عالمی برادری کو سیاسی میدان میں شکست ہوئی ہے۔” یہ میرے لیے ایک امن عمل تھا ، جو جنگ میں بدل گیا۔
اشرف غنی نے مزید کہا: میرا افغانستان سے بھاگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ابھی میں متحدہ عرب امارات میں ہوں ، میں کہہ رہا ہوں کہ میں پھرآوں گا اورافغان عوام کی خدمت کروں اورپھربرسراقتدارآوں گا
-

"خان جی”کچھ ساڈا وی خیال رکھنا: ہالینڈ کے وزیراعظم کا وزیراعظم عمران خان کو فون
اسلام آباد:”خان جی”کابل چوں ساڈے بندے وی منگوا دیوو: ہالینڈ کے وزیراعظم کا وزیراعظم عمران خان کو فون وزیراعطم عمران خان سے ہالینڈ کے ہم منصب مارک رٹ نے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ہالینڈ کے وزیراعظم نے افغانستان میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے پاکستان کی مدد اور سہولت کاری پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے، پاکستان افغان کے حوالے سے شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
عمران خان نے کہا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کی بحالی کے لیے افغان عوام کی معاشی مدد کرے۔