Baaghi TV

Author: +9251

  • اشرف غنی عرب امارات کے خصوصی مہمان یا سیاسی پناہ:اہم وجہ سامنے آگئی

    اشرف غنی عرب امارات کے خصوصی مہمان یا سیاسی پناہ:اہم وجہ سامنے آگئی

    دبئی:اشرف غنی عرب امارات کے خصوصی مہمان یا سیاسی پناہ:اہم وجہ سامنے آگئی ،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی امارات میں موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی کومتعبرذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اشرف غنی کوامریکہ کی ہدایت پرعرب امارات نے خصوصی مہمان کے طورپرقبول کرلیا ہے

    ادھراس کے برعکس غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اشرف غنی کو پناہ دے دی ہے۔اس حوالے سے اماراتی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کےاہلخانہ متحدہ عرب امارات میں ہیں۔

     

    اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق انسانی بنیادوں پر اشرف غنی کا متحدہ عرب امارات میں خیرمقدم کیا۔

    خیال رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد سابق صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے تھے۔یاد رہے کہ ان کے فرار کے بعد رپورٹس سامنے آئیں تھیں کہ وہ تاجکستان فرار ہوئے تاہم تاجک وزارت خارجہ نے تردید کی تھی۔

  • افغان طالبان کےاقتدارسنبھالتےہی کابل شہرکی دیواروں اوربیوٹی پارلرزسےخواتین کی تصاویرہٹانےکا کام شروع

    کابل: افغان طالبان کے اقتدارسنبھالتے ہی کابل شہر کی دیواروں اور بیوٹی پارلرز سے خواتین کی تصاویر ہٹانے کا کام شروع ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے آتے ہی شہر کی دیواروں اور خاص طور پر بیوٹی پارلرز سے خواتین کی تصاویر ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ تصاویر ہٹانے کے عمل کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    افغانستان میں لطف اللہ نجفی زادہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک شخص کی تصویر شیئر کی ہے جسے کابل کی دیواروں پر خواتین کی تصاویر پر سفیدی کرتا دیکھا جاسکتا ہے۔

     

    واضح رہے کہ 2002 سے قبل جب طالبان کی افغانستان میں حکومت تھی تو ان کی جانب سے سنگساری، چوری کی صورت میں ٹانگیں کاٹ دی جاتی تھیں جبکہ 12 سال سے زیادہ عمر کی لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی۔تاہم اب طالبان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اب ملک میں سزاؤں کے نفاذ فیصلہ صرف عدالتیں کریں گی۔

     

    سماجی رابطے کی ویب انسٹاگرام پر بھی ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند خواتین ایک بیوٹی پارلر کے باہر لگی ہوئی خواتین کی تصاویر کو ہٹا رہی ہیں۔ جبکہ تصویر میں ایک داڑھی والے شخص کو بھی دیکھا جاسکتا ہے جو شائد ان خواتین کی نگرانی کررہا ہے۔

     

    کابل پر قبضے کے بعد خواتین کی تصاویر کو ہٹانے کے عمل کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    یاد رہے کہ افغان طالبان کے اس باراقتدارسنبھالنے سے پہلے کابل شہرمیں اس قدرعریانی اورفحاشی عروج پرپہنچ چکی تھی کہ کابل شہرکے بیوٹی پارلرز جہاں ایک طرف میک اپ اورخوبصورتی کے اڈے تھے وہاں یہ عریانی فحاشی کے بھی مرکز تھے

     

    افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے کابل کے بیوٹی پارلروں کی کھڑکیوں پر چسپاں تصاویر افغان خواتین کو کجراری آنکھوں، اور لب و رخسار کی زیبائش کی دعوت دیتی تھیں ، ان آرائشگاہوں میں داخل ہوں تو ایک اور ہی دنیا نظر آتی تھی۔

    کابل شہر کی کئی سڑکوں پر بے شمار بیوٹی پارلرز قائم تھے ۔ قدامت پسند افغان معاشرے میں ان آرائش گاہوں کے اندر کوئی مرد نہیں جھانک سکتا ۔

    ان بیوٹی پارلروں میں داخل ہوتے ہی خواتین اور نوجوان لرکیوں کے برقعے اور حجاب اتر جاتے تھے۔ چست لباس میں ملبوس لڑکیاں بال گیلے بال خشک کرنے کے دوران باتوں میں مصروف رہتی تھیں اور مختلف کریموں کی ملی جلی خوشبو سے ارد گرد کا ماحول معطر رہتا تھا جس کی خوشبواب بھی دور دور تک محسوس ہورہی ہے

     

  • تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    تیرا قصور یہ ہے کہ تو غریب ہے تحریر: سحر عارف

    ہمارا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں محبت، اپنائیت، بھروسے اور تعلقات کا اصل معیار پیسہ ہے۔ جس کے پاس جتنا پیسہ ہوگا وہ اتنا ہی ان سب چیزوں کا حقدار ہوگا اور جس کے پاس جتنا کم پیسہ ہوگا وہ اتنا ہی ان اس سب کا کم حقدار ہوگا۔ یہاں صرف پیسہ دیکھ کر کسی انسان کے بارے میں اپنی رائے رکھی جاتی ہے۔ زیادہ دولت مند کے لیے تو تقریباً ہر زبان سے جی حضور ہی نکلتا ہے اور غریب کو صرف پیر کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔

    جناب یہ پیسہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کی رمک دھمک ہر کسی کو اپنی طرف ایسے کھینچتی ہے جیسے مکھناتیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ بھی سو فیصد سچ ہے کہ آج ہر فساد کی جڑ صرف پیسہ ہے۔

    اب تو یوں لگتا ہے جیسے یہ دنیا صرف اور صرف امیروں کے لیے ہی باقی رہ گئی ہے یہاں غریبوں کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ غریب ہی تو ہوتا ہے جو آسانی سے مار کھا جاتا ہے۔ اسے ہر جگہ نا صرف دھتکارا جاتا ہے بلکہ اسے اس کا قصور بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ تو غریب ہے اور غربت اس کی دشمن ہے۔ یہیں سے اندازہ لگا لیں کہ ایک غریب کا بچہ امیر کے بچے کے برابر تعلیم حاصل نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ویسے عالی شان سکول کالجز نہیں ہوتے کیوں کے ان سکولوں اور کالجوں کی فیسیں تو آسمانوں سے باتیں کرتی ہے۔

    پھر غریب کو تو یہاں زمین پر آرام سے جینے کا حق نہیں تو وہ آسمانوں سے باتیں کرنے والی فیسیں کہاں سے دیں گے۔ کیسے ہی کر کے وہ اپنی چادر کے مطابق پیر پھیلاتے ہوئے سرکاری سکولوں کا رخ کرتے ہیں۔ پر وہاں بھی ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، وہی ٹوٹا پھوٹا فرنیچر اور ڈھیلے ڈھالے اساتذہ ان کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ وہ اساتذہ جن کے پاس علم تو ہوتا ہے پر اب غریب کے بچے پہ کون اپنا وقت صرف کرے۔

    یہی سوچتے ہوئے بس تقریباً ہر ٹیچر اپنا ٹوٹل پورا کرتا ہے اور بچوں کو ان کے اصل حق سے محروم کردیتا یے۔ سکول سے آگے کی تعلیم تو بہت ہی کم غریب بچوں کے نصیب میں ہوتی ہے اور جن کے حصے میں وہ تعلیم آتی ہے انھیں اپنی بھوک کی قربانی دینا پڑتی یے۔ اپنے پیٹ کو باندھ کر جب وہ غربت سے جنگ لڑکر تعلیم حاصل کرلیتے ہیں پھر اس سے آگے کا مرحلہ آتا ہے جو بہت ہی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ وہ مرحلہ روزگار ہے، ہر شخص تعلیم حاصل کرتا ہی اچھے روزگار کے لیے ہے تاکہ کل کو اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو ایک اچھا اور روشن مستقبل دے سکے۔

    یہ ساری جنگ ہوتی ہی ایک اچھے روزگار کے لیے ہے۔ پر یہاں بھی ہمیشہ کی طرح غریب کے ساتھ ناانصافی ہی ہوتی ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ ہمارے معاشرے میں اب سفارشات کے بغیر ایک اچھی نوکری بہت ہی کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ آج ہر کوئی منہ کھولے رشوتیں لینے بیٹھا ہوتا ہے۔ ابھی ایک ڈیڈھ ماہ پہلے ہی کی مثال دیکھ لیں جب پٹواریوں کی بھرتی کے لیے کچھ آسامیاں آئیں جس کے لیے کھلم کھلی رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔

    رشوت بھی کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ لاکھوں کی رشوت مانگی گئی۔ اسی طرح اب ایک اچھی نوکری کے لیے رشوت اور سفارش دونوں کا ساتھ ساتھ ہونا ضروری ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ہر جگہ ایسے ہی ہے یقیناً ابھی بھی ہمارے معاشرے میں خوف خدا رکھنے والے کچھ لوگ موجود ہیں۔ لیکن بہت سی جگہوں پر ایسا ہی ہے جہاں غریبوں کے ساتھ ناانصافی عام یے اور وجہ پھر وہی کہ غریب کا قصور اس کی غربت ہے۔ اس پر مزید بھی بات ہوگی انشاء اللہ۔

    @SeharSulehri

  • عثمان بزدار حکومت اور پنجاب حصہ دوم تحریر راجہ حشام صادق

     صوبہ پنجاب کے شہر  لاہور سیالکوٹ موٹروے پر سٹیٹ آف دی آرٹ انڈسٹریل اسٹیٹ بنائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی مظفر گڑھ لیہ روڈ پر چوبارہ کے مقام پر 20ہزار ایکڑ رقبے پر انڈسٹریل اسٹیٹ کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ جس کو بعد میں 50ہزار ایکڑ رقبہ تک پھیلایا جائے گا۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سب سے بڑا انڈسٹریل زون ہوگا ۔ جو پنجاب کے ایک پس ماندہ ترین علاقے میں بنایا جارہا ہے۔ اس کی تعمیر سے نہ صرف پس ماندہ علاقوں کے نئے دور کا آغازہوگا بلکہ صوبے اور ملک کے ریوینیو میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
      
    عثمان بزدار حکومت نے صوبے کے 36 اضلاع میں کاٹیج انڈسٹری کی بحالی کا پروگرام شروع کیا ہے۔ جس کے تحت دستکاری کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو 3 سے 5 لاکھ روپے تک کے آسان اور سود سے پاک قرضے دیئے جارہے ہیں۔ نئے مالی سال میں صنعتی مراکز کی جاری سکیموں کیلئے 3 ارب 50کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
    صوبہ پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی پنجاب روزگار سکیم  وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا ایک انقلابی پروگرام ہے۔ جس کے تحت نوجوانوں کونئے یا موجودہ کاروبار کے لیے 30 ارب روپے کے آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں گے۔نوجوان اپنا کاروبار شروع کرکے نہ صرف خود باروزگار ہوں گےبلکہ دوسرے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرسکیں گے۔ اس تاریخی سکیم سے نوکریاں ڈھونڈنے والے بے روزگار نوجوان خود دوسروں کو نوکریاں فراہم کرنے کے قابل ہوں جائیں گے ۔

      جہاں عثمان بزدارحکومت صوبے میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات اٹھا رہی ہے وہیں ان صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لیے بھی ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔صنعتوں کو ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کے لیے صوبہ میں ٹیکنکل یونیورسٹیوں کی تعمیر عمل میں لائی جا رہی ہے ان میں 3 ارب روپے کی لاگت سے تیانجن ٹیکنیکل یونیورسٹی لاہور، 2ارب کی لاگت سے رند یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی ڈی جی خان 2 ارب 16 کروڑروپے کی لاگت سے پنجاب یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی رسول منڈی بہاوالدین کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اگلے مالی سال میں راولپنڈی میں بھی ٹیکنیکل یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ٹیکنیکل کورس کرانے والے اداروں کی تعداد اور ان میں طلباء کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے۔

    اسی حوالے سے ڈیڑھ ارب روپے کی لاگت سے ہنر مند نوجوان پرگرام شروع کیا جارہا ہے ٹیوٹا کے اداروں کی استعداد کار 90 ہزار سالانہ سے بڑھا کر 2لاکھ 33ہزار کی جاچکی ہے۔ ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت صنعت کی ضروریات کے مطابق 56 نئے جدید کورسز کرائے جائیں گے ۔ ٹیوٹا پی وی ٹی سی اور پی ایس ڈی ایف کے فنی تعلیم کے اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کیلئے پنجاب سکل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ 
     
    صوبہ پنجاب میں سرکاری اور نجی فنی تعلیم کے اداروں کی اتھارٹی میں آن لائن رجسٹریشن کا عمل جاری ہو چکا ۔ کورونا کے دوران ایک سال کیلئے فنی تعلیم بورڈ کی رجسٹریشن اور امتحانی فیس ختم کر دی گئی۔ اس کا فائدہ نجی تعلیمی اداروں کے 17ہزار بچوں کو ہوا۔ عثمان بزدار حکومت نے صوبے میں نئی سرمایہ کاری لانے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے بھی قابل ستائش اقدامات اٹھائے ہیں، پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل قائم کیا گیا جس سے بزنس رجسٹریشن کا عمل 24 گھنٹوں پر آگیا ۔ پنجاب سرمایہ کاری بورڈ میں انوسٹر ہیلپ لائن قائم کی گئی جس سےبزنس کمیونٹی کو بزنس رجسٹریشن یا شکایات کے ازالے، مسائل کے حل اور کاروبار کیلئے معلومات ملیں گی۔
    عثمان بزدار حکومت نے نیا سیمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے 5متعلقہ محکموں کو 90 روز کے اندر این او سی کے اجراء کا پابند بنا دیا۔ رواں مالی سال کے دوران نئے سیمنٹ پلانٹس لگانے کیلئے 5 این او سی جاری کئے گئے جبکہ کابینہ نے مزید 5 این او سی کے اجراء کی منظوری دے دی ہے ۔ قارئین یاد رہے ایک نیا سیمنٹ پلانٹ لگنے سے 300-250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوتی ہے آئندہ 5 برسوں میں اس سیکٹر میں 4.5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ 

    صوبہ پنجاب میں صنعتی انقلاب لانے کے لیے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں اٹھائے جانے والے یہ چیدہ چیدہ اقدامات یہاں پیش کئے گئے اس کے علاوہ اور بھی کافی ایسے اقدامات ہیں جن کو ایک یا دو تحریروں میں لانا ممکن نہیں ۔

    اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • دل پے دستک جو ہو جائے۔ تحریر  : راجہ ارشد

    دل پے دستک جو ہو جائے۔ تحریر : راجہ ارشد

    فقط ارواح تھے ہم سب کہ ہم نے تو ابھی اجسام بھی پائے نہیں تھے ابھی دنیا میں ہم آئے نہیں تھے۔ہم ہی کیا وہ بھی جو آ کر چلے گئے اور وہ بھی جو ابھی آئیں گے دنیا میں غرض ہم سب کے سب ارواح تھے جب ہمارے رب نے ہم کو جمع کر کے ہم سے پوچھا تھا۔ کہو کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو ہم سب پکار اٹھے آپ ہی رب ہیں ہمارے مگر دنیا میں آکر اور یہ اجسام پاکر بھول ہی بیٹھے ہیں ہم حاضری کی اس گھڑی کو۔

    ابھی تمہاری روح کو جسم میں منتقل نہیں کیا گیا تھا۔تمیں ایک میدان میں جمع کیا گیا اور تم سے کہا گیا۔کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔تم سب ایک آواز ہو کر کہا آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ یعنی تم نے اللہ تعالٰی کو اپنا رب مان لیا اور اس کی بندگی کا عہد کر لیا ۔

    اس کے بعد تمہارے باپ آدم اور تمہاری ماں حوا پیدا کیا گیا ۔انھیں رہنے کے لیے جنت میں جگہ دی اور انھیں ایک خاص پھل چکھنے سے منع فرمایا گیا۔تمہارے ماں باپ سے بھول ہوئی اور انھوں نے ممنوع شجر کے پھل کو چکھ لیا۔ان کے رب نے انھیں سزا کے طور پر ان کے گھر جنت سے بے دخل کر دیا ۔انھیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ۔ان کے رب نے انھیں معافی مانگنا سکھایا۔انھوں نے معافی مانگی اور انھیں معاف کر دیا گیا۔

    اب انھیں دنیا میں بھیج دیا گیا جسے تم زمین کہتے ہو انھیں زندگی گزارنے کے کچھ اصول اور قاعدے بتائے اور یہاں بھی ان سے اللہ تعالٰی نے اپنی اطاعت کا مطالبہ کیا ۔ ان کو دنیا خاص مدت کے لیے بھیجا گیا۔جس کا انھیں بھی علم نہیں تھا۔انھیں اپنے رب کی اطاعت کرنے کے انعام کے طور پر ان کے گھر یعنی جنت کے دروازے ان کے لیے دوبارہ کھولنے کی یقین دہانی کروائی ۔کہنا نہ ماننے والوں کا ٹھکانہ جہنم بتایا جہاں کھولتا ہوا پانی آگ اور کانٹے ان کے منتظر ہوں گے۔
    حضرت آدم اور اماں حوا سے لے کر آج تک بے شمار انسان اس دنیا میں آئے اور چلے گئے ۔ابھی تم دنیا میں موجود ہو ۔ کل تمہاری جگہ کوئی اور ہو گا۔تم سے بھی تمہارے رب کا وہی مطالبہ ہے جو آدم اور حوا سے تھا۔تمہیں نہیں معلوم کب تمہیں واپس بلا لیا جائے گا۔دنیا کی چکا چوند ،مکانوں اور دکانوں سے تم دھوکا مت کھاجانا۔تمہارا وطن اور اصلی گھر جنت ہے ۔تمہیں بھی آدام اور حوا کی طرح وآپس اپنے گھر جانا ہے ۔ دنیا کی رنگینیوں میں محو ہو کراپنا اصل گھر بھول مت جانا۔

    اگر بھول گئے تھے تو آج ہی اپنے رب سے معافی مانگ لو۔وہ مہربان ہے ۔ تمہیں معاف کر دے گا بس تم اس سے کیا وعدہ پورا کرو اور اپنے گھر جنت میں وآپس جانے کی تیاری کرو
    کیا خوب کہا ہے علامہ محمد اقبال نے
    عیش منزل ہے غریبان محبت پہ حرام
    سب مسافر ہیں بظاہر نظر آتے ہیں مقیم۔

    @RajaArshad56

  • افغان طالبان امیرالمجاہدین سراج الدین حقانی کے احکامات کے منتظر؟حقانی کون ہیں:خصوصی رپورٹ

    افغان طالبان امیرالمجاہدین سراج الدین حقانی کے احکامات کے منتظر؟حقانی کون ہیں:خصوصی رپورٹ

    کابل :افغان طالبان امیرالمجاہدین جلال الدیں‌حقانی کے فرزند ارجمند سراج حقانی کے احکامات کے منتظر؟حقانی کون ہیں:اطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان طالبان کمانڈرزحقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی کی طرف سے کسی اہم پریس کانفرنس کے منتظر ہیں ، یہ پریس کانفرنس کیا ہے اورسراج الدین حقانی کیا پالیسی وضع کرنا چاہتے ہیں ، اس پرساری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں ،

     

     

    افغانستان میں جہاں افغان طالبان اورامارت اسلامی کا ذکرہوتا ہے وہاں اس ذکر سے پہلے مورخین کی نظریں اس عظیم شخصیت پر موجزن ہوجاتی ہیں اس شخصیت کا نام جلال الدین حقانی ہے

     

    جہادی کمانڈرجلال الدین حقانی کا تعلق افغانستان کے سرحدی صوبے خوست اور پختونوں کے قبیلے زدران سے تھا اور وہ افغانستان پر 2001ء میں امریکی حملے کے بعد سے روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔

     

    افغانستان میں جب سابق بادشاہ ظاہر شاہ کے خلاف جولائی 1973ء میں سردار داؤد خان نے بغاوت کی تھی تو ملک میں مذہبی حلقے متحرک ہوئے تھے اور سوویت یونین کی حمایتی اور وفادار ترقی پسند قوتوں کے خلاف منظم ہونا شروع ہوئے تھے۔

    جلال الدین حقانی ان سرِ فہرست جہادی اور مذہبی رہنماؤں میں سے تھے جنھوں نے 1970ء کی دہائی کے اواخر اور افغانستان پر سابق سوویت یونین کی افواج کی چڑھائی سے قبل ہجرت کرکے پاکستان میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

     

    مولوی جلال الدین اپنے خاندان اور رشتہ داروں سمیت خوست سے ملحق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان منتقل ہوگئے تھے اور انہوں نے میران شاہ کے ایک نواحی گاؤں ڈانڈے درپہ خیل میں نہ صرف اپنا ایک مرکز بلکہ ایک مدرسہ بھی ‘دارلعلوم منبع العلوم’ کے نام سے قائم کیا تھا۔

    اسی مرکز سے مولوی جلال الدین حقانی نے سابق سوویت یونین اور اس کے حمایت یافتہ افغان حکومت کے خلاف نہ صرف خود مسلح مزاحمت کا آغاز کیا تھا بلکہ اس میں افغانستان اور پاکستان کے مذہبی حلقوں کو شامل ہونے پر آمادہ بھی کیا تھا۔

    مولوی جلال الدین حقانی بعد میں حزبِ اسلامی افغانستان کے اس دھڑے کے اہم رہنما بن گئے تھے جس کے سربراہ مولوی یونس خالص تھے۔

    افغانستان میں 1992ء میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حکومت مستعفی ہونے کے بعد جب افغان مجاہدین کی حکومت قائم ہوئی تو مولوی جلال الدین حقانی پروفیسر صبعت االلہ مجددی اور بعد ازاں پروفیسر برہان الدین ربانی کی کابینہ میں وزیر برائے سرحدی امور کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیے۔

    جب افغانستان میں طالبان تحریک کے نام سے قیامِ امن کو اپنا مقصد قرار دینے والی ایک اور تحریک نمودار ہوئی تو مولوی جلال الدین حقانی بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے۔

    وہ نہ صرف طالبان کے کوئٹہ شوریٰ میں شامل رہے بلکہ 1996ء سے 2001ء تک طالبان حکومت میں وزیر بھی رہے۔

    گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد جب افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوا تو مولوی جلال الدین حقانی نے کوئٹہ شوریٰ کے فیصلے کے تحت امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

     

    بعد میں ان کے وفادار کمانڈروں اور جنگجوؤں نے حقانی نیٹ ورک کے نام سے ایک مسلح تنظیم قائم کی جو افغان طالبان کا سرجشمہ ثابت ہوئی

    چند سال قبل امریکہ اور اتحادی افواج کے ساتھ ایک جھڑپ میں مولوی جلال الدین حقانی شدید زخمی ہوئے تھے جس کے بعد اُنہوں نے حقانی نیٹ ورک کی تمام تر انتظامی اور آپریشنل نگرانی اہنے بڑے بیٹے سراج الدین حقانی کے سپرد کردی تھی۔

    جلال الدین حقانی اپنی علالت کے دوران سعودی عرب بھی گئے تھے جہاں ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد وہ مشکلات کا شکار ہوگئے تھے۔ سعودی عرب سے پاکستان منتقل کردیا گیا تھا اور بعض اطلاعات کے مطابق وہ آخری وقت تک اپنے بیٹے خلیل حقانی کے گھر میں مقیم رہے جو راولپنڈی کے ایک نواحی علاقے میں واقع ہے۔

    مولوی جلال الدین حقانی نے تین شادیاں کی تھیں۔ ان کی ایک بیوی کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

     

    عرب خاتون سے شادی کے علاوہ جلال الدین حقانی نے سعودی عرب کی بعض بااثر مذہبی شخصیات سے بھی اپنے خاندان کے رشتے اور روابط قائم کیے تھے۔

    مولوی جلال الدین حقانی کے چار بیٹے سراج الدین حقانی، خلیل حقانی، ابراہیم حقانی اور انس حقانی زندہ ہیں۔ انس حقانی لگ بھگ پانچ سال قبل گرفتار ہوئے تھے اور اطلاعات کے مطابق ابھی تک کابل کی کسی جیل میں قید ہیں۔

    جلال الدین حقانی کے چار بیٹے عمر حقانی، محمد حقانی، بدرالدین اور نصیر الدین حقانی اس دنیا میں نہیں رہے ہیں۔

    مولوی جلال الدین حقانی کو افغانستان کی قومی زبانوں یعنی پشتو اور دری کے علاوہ اردو، پنجابی، عربی اور انگریزی زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔

     

    وہ 1980ء کی دہائی کے اوائل میں سوویت یونین کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے دیگر افغان رہنماؤں کے ہمراہ امریکہ کے دورے پر بھی گئے تھے جہاں ان کی سابق صدر رونالڈ ریگن سمیت کئی یگر رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔

    آج کابل میں مولوی جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی ، انس حقانی ، خلیل حقانی اورابراہیم حقانی اس وقت افغان طالبان کے مربی کے طورپرسامنے آئے ہیں اورآج سراج حقانی کی پریس کانفرنس کوسننے کے لیے وائٹ ہاوس ، پینٹا گان ، لندن، تل ابیب ، دیلی ، تہران اوربڑی بڑی قوتیں تیار بیٹھیں ہیں‌

  • سندھ حکومت کا تمام جامعات اور بورڈز پیر سے کھولنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا تمام جامعات اور بورڈز پیر سے کھولنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت نے تمام جامعات اور بورڈز پیر سے کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔وزیر برائے جامعات بورڈ اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ کی تمام جامعات ایس اوپیز کے تحت 23 اگست کو کھول دی جائیں گی۔

    انہوں نے کہا کہ جامعات، بورڈ اور ووکیشنل ایجوکیشن ٹریننگ 50 فیصد حاضری کےساتھ پیر سے کھلیں گے۔

    صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یونیورسٹیز کے اسٹاف کی ویکسی نیشن 100 فیصد لازمی ہونی چاہیے، طالب علموں کو بھی ویکسی نیشن کروانی ہوگی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ طالب علم، اساتذہ اور جامعات کا عملہ ویکسی نیشن کارڈ ساتھ رکھیں۔

  • منگل کی صبح کابل سےتین بھارتی”کُتے”    کیسے    "چوّل”کیمپ پہنچائے گئے؟اہم خبرآگئی

    منگل کی صبح کابل سےتین بھارتی”کُتے” کیسے "چوّل”کیمپ پہنچائے گئے؟اہم خبرآگئی

    نئی دہلی :منگل کی صبح کابل سے تین بھارتی”کُتے”کیسے”چوّل”کیمپ پہنچائے گئے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق جہاں افغانستان میں امریکہ ، نیٹو اوراتحادیوں کوبرق رفتار شکست ہوئی اس کی مثال تاریخ میں شاید پہلے نہ ملے لیکن تاریخ نے مستبقل کے لیے تاریخ رقم کردی

    جہاں نہتے افغان طالبان نے دنیا کی سپرپاورکوذلت آمیزشکست سے دوچارکیا وہاں امریکہ کے اتحادی بھارت کوبھی جورسوائی اٹھانی پڑی وہ بھی دنیا نے دیکھی

    آج صبح کی نشریات میں باغی ٹی وی نے کابل سے فرارہوتے ہوئے بھارتی جرنیلوں ، را کے ایجنٹؤں اورماہرین کی بے بسی کے مناظرپیش کیئے ، ابھی کچھ ہی دیر ہوئی کہ بھارت پہنچنے والے بھارتی جرنیلوں اوردیگرشرارتیوں کی بے بسی کے کہانیاں بیان ہورہی تھیں‌ وہاں ایک نئی کہانی چھڑگئی

    یہ کہانی ان تین بھارتی کُتوں کی ہے جوتین سال سے افغانستان میں مختلف خفیہ مشنز پرکام کرنے والے بھارتی جرنیلوں ، را کے خفییہ ایجنٹوں اورماہرین کی حفاظت پرمامور تھے

    سننے میں‌آرہا ہے کہ یہ کتے مختلف ممالک سے منگوئے گئے ، سننے میں آرہا ہےکہ بھارتی سیکورٹی حکام نے بڑی خفیہ رازداری سے کابل سے ان کتوں کوایک وی آئی پیز کے طیارے میں بھارت منگوایا ہے اوربھارتی فوج کے ایک مشہورزمانہ، بدنام زمانہ فوجی کیمپ "چوّل” میں‌ رکھا گیا ہے

  • 9 محرم کا جلوس مقررہ راستوں پر رواں دواں

    9 محرم کا جلوس مقررہ راستوں پر رواں دواں

    کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہو گیا، جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پزیر ہو گا۔

    جلوس برآمد ہونے سے قبل نشتر پارک میں 9 ویں محرم الحرام کی مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا۔

    جلوس کی سیکیورٹی پر پولیس کے 5 ہزار سے زائد افسران و جوان تعینات ہیں۔جلوس کے شرکاء مسجد و امام بارگاہ علی رضا پر نمازِ ظہرین ادا کریں گے۔جلوس کی سیکیورٹی کے لیے جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والی گلیاں اور سڑکوں کو کنٹینر لگا کر سیل کیا گیا ہے۔

    گزرگاہ کی عمارتوں پر پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات ہیں، جلوس کی گزرگاہ کی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے سرچنگ کی ہے۔

    جلوس کے راستے سے متصل علاقوں میں سیکیورٹی کے سلسلے میں موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔جلوس کی سیکیورٹی پر 5 ہزار سے زائد افسران و جوان تعینات ہیں، جن میں خواتین اہلکار، ایس ایس یو کے کمانڈو اور آر آر ایف کے جوان بھی شامل ہیں۔

    جلوس کی گزرگاہوں پر موجود بلند عمارتوں پر اسنائپرز بھی تعینات ہیں۔کمانڈ اینڈ کنٹرول روم سے سی سی ٹی وی کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔جلوس کی گزرگاہ کی طرف آنے والے ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑا گیا ہے۔

  • جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فوجی چوکی پرفائرنگ، ایک جوان شہید

    جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فوجی چوکی پرفائرنگ، ایک جوان شہید

    راولپنڈی : جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی فوجی چوکی پرفائرنگ، ایک جوان شہید ،اطلاعات کےجنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی جانب سے فوجی چوکی پر فائرنگ کے نتیجے میں نائب صوبیدارسونےزئی شہید ہوگیا جبکہ ایک دہشت گرد بھی ہلاک ہوا۔

    اس حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی چوکی پر فائرنگ کی ، فائرنگ کاواقعہ17اور18اگست کی درمیانی شب پیش آیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ شدیدفائرنگ کےتبادلےمیں ایک دہشت گردہلاک ہوگیا جبکہ نائب صوبیدارسونےزئی بھی شہید ہوا۔

    ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کےجڑسےخاتمےکیلئےپرعزم ہے، جوانوں کی قربانیاں ہمارےعزم کومزیدتقویت دیتی ہیں۔