Baaghi TV

Author: +9251

  • آہ ! یہ وقت بھی آنا تھا:تاجکستان میں افغان سفیر نے انوکھا کام کردکھایا

    آہ ! یہ وقت بھی آنا تھا:تاجکستان میں افغان سفیر نے انوکھا کام کردکھایا

    دوشنبے:آہ ! یہ وقت بھی آنا تھا:تاجکستان میں افغان سفیر نے انوکھا کام کردکھایا،اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پرایک ایسی تصویروائرل ہوئی ہے کہ جس کودیکھ کربڑی بڑی امیدیں لگانے والے دل چھوڑ بیٹھے

    ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی اس تصویرمیں تاجکستان میں افغان سفارتخانے کاایک ملازم معذول صدراشرف غنی کی تصویراتاررہا ہے ،یہ وہی سفارتخانہ ہے جہاں اشرف غنی کی ہروقت تعریفیں ہوتی تھیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معذول صدر اشرف غنی کے علاوہ نائب صدر امراللہ صالح کی تصاویر بھی وہاں سے اتاردی گئی ہیں‌

    ادھرسوشل میڈیا پراس تصویرکے وائرل ہونے کے بعد مختلف قسم کے تبصرے جاری ہیں ، اکثرکا یہ کہنا ہے کہ وقت کسی کی جاگیر نہیں ہوتی ، بعض یہ کہتے ہیں کہ تقدیرکے سامنے تدبیریں تاکام ہوتی ہیں

    بعض نے یہ کہا ہے کہ وقت وقت کی بات ہے کہ جو بویا وہ آج کاٹنا پڑا بعض نے کہا ہے کہ افغان طالبان اب اشرف غنی کا سکہ نہیں چلنیں دیں گے

  • افغانستان میں حکومت سازی کےلیےانس حقانی کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سے ملاقات

    افغانستان میں حکومت سازی کےلیےانس حقانی کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سے ملاقات

    کابل:افغانستان میں حکومت سازی کےلیےانس حقانی کی حامد کرزئی، عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سے ملاقات،اطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان مٰیں حکومت سازی کے لیے مشاورت جاری ہے اوریہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس حوالے سے طالبان کے وفد نے انس حقانی کی قیادت میں افغان دارالحکومت میں افغان رہنماوں سے بات چیت کی ہے

    افغان میڈیا کے مطابق افغان طالبان وفد کی قیادت قطر میں سیاسی دفتر کے رکن انس حقانی نے کی۔اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہو اہے کہ افغان سینیٹ کے سابق چیئرمین فضل ہادی سمیت دیگر حکام بھی ملاقات میں موجود تھے۔

    ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی طالبان قائدین کی افغان سیاسی رہنماؤں سےکابل میں پہلی باقاعدہ ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان وفد نے سیاسی قائدین کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا، افغان سیاسی قیادت کو فول پروف سکیورٹی فراہم کر دی ہے۔

    بعدازاں حقانی نیٹ ورک کے اہم رہنما انس حقانی نے سربراہ حزب اسلامی گلبدین حکمت یار سے بھی ملاقات کی۔

    دوسری جانب ذرائع کا بتانا ہے کہ طالبان کے نائب امیر ملا عبدالغنی برادر بھی آج کابل پہنچیں گے جس کے بعد طالبان وفد اور مصالحتی کونسل میں حکومت سازی پر بات چیت متوقع ہے۔

    ادھر کابل سے آمدہ اطلاعات میں بتایا گیاہےکہ افغان طالبان مشاورت کا یہ سلسلہ دیگرافغان رہنماوں سے کرنے کے لیے ان کے علاقوں کوروانہ ہوچکے ہیں‌

    ادھر ذرائع نے یہ بھی دعویٰ‌کیا ہے کہ تینوں افغآن رہنماوں گلبدین حکمت یار، عبداللہ عبداللہ اورحامد کرزئی نے تمام ترتعاون کی یقین دہانی کروائی ہے اورافغان طالبان پراظہاراعتماد کیا ہے

  • کابل میں PIAکے پائلٹس نےخطرناک اورمشکل حالات میں مشن سرانجام دیا:عالمی تنظیم کاخراج تحسین

    کابل میں PIAکے پائلٹس نےخطرناک اورمشکل حالات میں مشن سرانجام دیا:عالمی تنظیم کاخراج تحسین

    کراچی :کابل میں PIAکے پائلٹس نےخطرناک اورمشکل حالات میں مشن سرانجام دیا:عالمی تنظیم کاخراج تحسین،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں افغان طالبان نے جس قدرتیزی سے کابل شہرپرقبضہ کیا اوراس دوران افراتفری کا جوعالم تھا اس دوران کابل ائیرپورٹ کے منظآطرصدیوں دنیا کے ذل ودماغ میں پیوست رہیں گے ،

    ان مشکل اورخطرناک ترین حالات میں جس طرح پاکستانی پائلٹس نے کامیاب مشن سرانجام دیئے دنیا بھی اس کو سلام پیش کرتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود وہاں سے طیارے کی پرواز پر پائلٹوں کی عالمی تنظیم بھی پی آئی اے کے پائلٹس اور عملے کی معترف ہوگئی۔

    تفصیلات کے مطابق پائلٹوں کی عالمی تنظیم نے قومی ایئرلائن کے پائلٹس اور عملے کی بہادری اور خدمات کے اعتراف میں پاکستان ائیر لائن پائلٹ ایسوسی ایشن ( پالپا ) کو ایک خط لکھا ہے ، جس میں پائلٹوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایئرلائن پائلٹ ایسوسی ایشن نے پالپا کے صدر کو لکھے گئے خط میں خراج تحسین پیش کیا۔

    جس میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے پائلٹس اور فضائی عملے کی پیشہ ورانہ کاوش اور بہادری قابل تحسین ہے ، کیپٹن مقصود بجارانی ، کیپٹن عذیر اور عملے نے مشکل حالات میں آپریٹ کیا ، جس پر پی آئی اے کے دونوں طیاروں کےفضائی عملے کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے سنیئرصحافی تجزیہ نگارمبشرلقمان بھی پاکستانی پائلٹس کوخراج تحسین پیش کرچکے ہیں اوران کی خدمات کو تاریخ کا ایک روشن باب کہہ رہے ہیں

    اپنے پیغام میں مبشرلقمان نے کہا ہے میرے وطن کے یہ شاہین بڑے ہونہار، محنتی اور قابل ترین افراد ہیں جن کی کارکردگی نے دنیا بھرمیں پاکستان کا نام روش کردیا ہے

  • برطانوی سپریم کورٹ میں‌ پی آئی اے نے مقدمہ جیت لیا،تاریخی فیصلہ

    برطانوی سپریم کورٹ میں‌ پی آئی اے نے مقدمہ جیت لیا،تاریخی فیصلہ

    لندن : پی آئی اے کے حق میں برطانوی سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیاا،طلاعات کے مطابق پاکستان کی کامیابیوں کا سفرجاری ہے اورآج پی آئی اے نے برطانوی سپریم کورٹ میں تاریخی مقدمہ جیت لیا،

    برطانوی سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ برٹش پاکستانی ٹریول ایجنٹ نے پی آئی اے کے خلاف کیا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق برطانوی سپریم کورٹ میں‌ دلائل دیتے ہوئے وکیل پی آئی اے کا کہنا ہے کہ 5لارڈ جسٹسز نے پی آئی اےکے حق میں متفقہ فیصلہ سنایا، جس میں عدالت نے2012 میں پی آئی اے کی جانب سے ٹکٹوں کی فروخت کے لیے معاہدے کو قانونی قرار دے دیا۔

    فرحان فارانی کا کہنا ہے کہ مقدمہ ہارنے کی صورت میں پی آئی اےکوبڑانقصان ہو سکتا تھا، یہ معاملہ اس قدر سنگین تھا کہ روس اور یوکرین نے بھی اس معاملے میں مداخلت کی، ان کے کیسز پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے۔

    فرحان فارانی کہتےہیں‌ کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موثر طور پر تجارتی معاہدوں کی حدود کا تعین کرے گا اور اس کے بعد پی آئی اے کو ٹکٹوں پر فیول سرچارج کی مد میں ایجنٹس کو کمیشن ادا نہیں کرنا پڑے گا۔

    خیال رہے برمنگھم کے برٹش پاکستانی ٹریول ایجنٹ نے پی آئی اے کے خلاف مقدمہ کیا تھا،جسمیں کہا گیا تھا کہ 2012 میں معاشی دباؤ کے بعد اسے کمیشن کی ادائیگی کے بغیر نیا معاہدہ کرنے پر مجبور کیا گیا۔

  • کابل سےپاکستانیوں‌کومحفوظ نکالنےوالےمقصود بجارانی      کوسلام:ان کوالزام سےبھی بری کیجیئے:مبشرلقمان

    کابل سےپاکستانیوں‌کومحفوظ نکالنےوالےمقصود بجارانی کوسلام:ان کوالزام سےبھی بری کیجیئے:مبشرلقمان

    لاہور:کابل سے پاکستانیوں‌کومحفوظ نکالنے والے پائلٹ مقصود بجارانی کوسلام:ان کوالزام سے بھی بری کیجیئے:پاکستان کے سنیئرصحافی تجزیہ نگار اورافغان امورپردسترس رکھنے والی معروف شخصیت مبشرلقمان نے کابل سے غدر کے دوران پاکستانیوں‌ کو محفوظ نکالنے والے پاکستان کے ہیروپی آئی اے کے پائلٹ مقصود بجارانی کوسلام پیش کیا ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں تودل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں کہ جس حاظردماغی اورپروفیشنل ازم کا مظاہرہ مقصود بجارانی نے کیا اس کی مثال اس سے پہلے نہیں ملتی ، مقصود بجارانی نے وہ کردکھایا جوممکن نظرنہیں آرہا تھا

     

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا ہےکہ کتنی بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری نے پاکستان کوبڑے سانحے سے بچا لیا

    وہ کہتے ہیں یہ توباتیں درست اورقابل تعریف ہیں لیکن ایک بات یہ بھی ہےکہ یہی مقصود بجارانی پی آئی اے میں جعلی لائسنس کے حوالے سے انکوائری کا سامنا بھی کررہےہیں‌ ایسا نہیں‌ہونا چاہیے مقصود بجارانی نے جوکردکھایا یہی توپروفیشنلزم ہے اب پھرکس بات کی تحقیق کی ضرورت ہے

     

    مبرلقمان نے اس موقع پر کہا ہے کہ یہ وقت ہے کہ اچھے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں اورجو لوگ پی آئی اے کےلیے بدنامی کا سبب ہیں ان کا محاسبہ کیا جائےجو ہماری ایوی ایشن انڈسٹری میں برا نام لانے کے ذمہ دار ہیں ان کو بے نقاب کیا جانا چاہیے اور بجرانی جیسے پائلٹوں کو بحرانی صورتحال میں قیمتی جانیں بچانے کے لیے اعزاز سے نوازا جانا چاہیے

    یاد رہےکہ افغانستان کے دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے سے چند گھنٹے قبل پاکستان کی قومی ائیر لائن کے دو مسافر طیارے پاکستانی شہریوں اور بعض افغان رہنماؤں کو اسلام آباد لانے کابل شہر سے چند کلومیٹر دور حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچے۔

    ان میں سے ایک ائیر بس (پی کے 6252) جہاز تھا، جسے کیپٹن مقصود بجرانی چلا رہے تھے۔

    مقصود بجارانی کہتے ہیں‌ کہ صورت حال اس قدربے قابو اورخطرناک تھی کہ الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی ، وہ کہتے ہیں کہ پی آئی اے کے دونوں جہازوں میں مسافروں کے بیٹھ جانے کے بعد 777 جہاز کو ٹیک آف کی اجازت مل گئی اور اس نے اسلام آباد کی جانب اپنا سفر شروع کر دیا۔

    کیپٹن مقصود بجرانی والے جہاز ائیر بس میں 170 مسافر سوار ہوئے، جب کہ عملے کے علاوہ پاکستان سے ساتھ جانے والا جہاز کا مینٹیننس کا سٹاف بھی طیارے میں موجود تھا۔

    ابھی کیپٹن مقصود بجرانی کے جہاز کا پرواز بھرنے کا نمبر نہیں آیا تھا کہ ائیر پورٹ کے کنٹرول ٹاور سے اے ٹی سی زیرو کا پیغام موصول ہوا، جس سے مراد ہے کہ کنٹرول ٹاور کے عملے نے کام بند کر دیا ہے اور جہازوں کو اڑان بھرنے کے لیے ہدایات جاری نہیں کی جائیں گی۔

    کیپٹن مقصود نے پاکستان میں پی آئی اے کے حکام کو اطلاع دی اور کنٹرول ٹاور کے کام دوبارہ شروع کرنے کا انتظار کرنے لگے۔ اسی اثنا میں ائیر پورٹ کے رن وے پر بڑی تعداد میں لوگوں نے آنا شروع کر دیا۔

    کیپٹن مقصود بجرانی کہتے ہیں‌ کہ ’لوگ ہر طرف سے آ رہے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے ائیر پورٹ کے رن وے پر جیسے ایک افراتفری سی شروع ہونے لگی۔‘
    پی آئی اے کی شان اورپاکستانیوں کوبحفاظت نکالنے والے پائلٹ مقصود بجارانی کہتے ہیں کہ : ’مجھے مسافروں، اپنے عملے اور جہاز کی حفاظت عزیز تھی، اور میں نے اس وقت فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کیا جائے؟‘

    کیپٹن مقصود بجرانی نے کئی مرتبہ ائیر پورٹ کی اے ٹی سی اے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی، جب کہ پاکستان سے ہی انہیں بتایا گیا کہ حامد کرزئی ائیر پورٹ کے کنٹرول ٹاور پر عملے کی واپسی کا جلدی امکان نہیں ہے۔

    مقصود بجارانی اس منظرنامے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کنٹرول ٹاور کے عملے سے رابطہ ہوتا ہے اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ اے ٹی سی کی مدد اور ہدایات کے بغیر خود سے ٹیک آف کر سکتے ہیں۔ اس دوران وہاں موجود کئی امریکی جہاز اور شینوک ہیلی کاپٹر امریکی فوجیوں اور دوسرے عملے کے ساتھ ائیر پورٹ سے اڑ رہے تھے اور وہ سب کنٹرول ٹاور کی مدد کے بغیر پروازیں بھر رہے تھے۔

    کیپٹن مقصود بجرانی نے وہ مشکل وقت یاد کرتے ہوئے کہا کہ رن اور ائیر پورٹ کے دوسرے حصوں میں لوگوں کا رش بڑھتا جا رہا تھا، اور وہ مختلف جہازوں پر چڑھنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔

    کیپٹن مقصود نے مزید کہا: ’مجھے خطرہ تھا کہ کہیں ہمارے جہاز پر قبضہ کر کے عملے اور مسافروں کو یرغمال نہ بنا دیا جائے۔‘ ’ایسے میں میں نے اپنے ساتھی پائلٹ سے مشورہ کیا اور اسے اعتماد میں لینے کے بعد مسافروں کو نشستوں پر بیٹھ جانے کا اعلان کیا۔‘

    ’اور میں نے جہاز کر رن وے پر دوڑانا شروع کر دیا، اور تھوڑی دیر میں ہم ہوا میں اوپر اٹھنے لگے، اور ایسا میں سڑک پر گاڑی چلانے کی طرح ہی کر رہا تھا، یعنی میں نے دیکھ کر دوسرے ٹیک آف کرنے والے جہازوں سے اپنے جہاز کو بچانا تھا۔‘

    انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا 16 سو میٹر کی بلندی پر ان کا رابطہ دوحہ کے کنٹرول ٹاور سے ہوا، جس کے بعد وہاں سے انہیں اپنے جہاز کو مزید بلندی میں لے جانے کے اوپر لیے ہدایات حاصل ہونا شروع ہو گئیں۔

    بعد ازاں کیپٹن مقصود بجرانی نامساعد حالات میں معاملہ فہمی سے کام لیتے ہوئے اور اپنے تجربے اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاز اور اس میں موجود عملے اور مسافروں کو بحفاظت پاکستان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

  • کابل سےفرارہونےوالےبھارتی جرنیلوں‌،را کےایجنٹوں اورماہرین کی حالت زار:مختصرساتبصرہ ضرورکریں

    کابل سےفرارہونےوالےبھارتی جرنیلوں‌،را کےایجنٹوں اورماہرین کی حالت زار:مختصرساتبصرہ ضرورکریں

    نئی دہلی: کابل سے فرارہونے والے بھارتی جرنیلوں‌،را کے ایجنٹوں اورماہرین کی حالت زار:دیکھ کرمختصرساتبصرہ ضرورکریں ،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امریکہ ،نیٹو اوردیگراتحادیوں کوتوشکست ہوئی ہی ہے مگراس شکست کےساتھ جوشکست اوررسوائی بھارت کے حصے میں آئی ہے اس کودیکھ کرماسکو، تل ابیب اورواشنگٹن بھی ہل گئے ہیں‌

     

     

     

     

    ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے جس طرح افغانستان میں باطل قوتوں کوشکست دی یہ منظرساری دنیا دیکھ رہی لیکن اس کے دوران وہ بھارتی جو افغانستان میں بیٹھ کرپاکستان اوراسلام کے خلاف سازشیں کررہے تھے اللہ نے ان کوذلت آمیزشکست سے ذلیل کیا

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کابل سے فرارہونے والے بھارتی جرنیلوں‌،را کے ایجنٹوں اورماہرین ایک طیارے میں اس حالت میں بیٹھے ہیں‌ کہ شاید وہ کسی شراب نوشی کی وجہ سے نشے میں دھت ہیں یا ان کی روحیں قبض ہورہی ہیں‌

    بھارتی طیارے میں سیکڑوں کی تعداد میں افغانستان میں مشن سرانجام دینے والے بھارتی جرنیل ، بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کارندے اوربھارتی ماہرین اس قدرصدمے میں مبتلا ہیں‌کہ ان کوہوش تک نہیں

  • ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں

    ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی پی ضلع سجاول کے صدر و رکن سندھ اسمبلی محمد علی ملکانی کی رہائش گاہ گاؤں راج ملک میں ان کی والدہ ماجدہ کے انتقال اور ضلعی اطلاعات سیکریٹری سجاول سورج سجاولی کی رہائشگاہ پر ان کے لواحقین سے تعزیت و فاتح خوانی جبکہ بیگنا موری پر سابق صوبائی وزیر غلام قادر ملکانی کی عیادت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تعلیمی نصاب بہتر ہے، وفاقی حکومت کا ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم قبول نہیں جبکہ وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کو اس ضمن میں اعتماد میں بھی نہیں لیا۔

    انہوں نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے دوران یوم عاشور پر تھریٹ موجود ہیں، کوشش ہے کہ یوم عاشور کے موقع پر بھی بھرپور سیکیورٹی انتظامات یقینی بنائیں،

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سیکیورٹی سخت ہونے سے عاشورہ کے موقع پر لوگوں کو تکلیف ضرور ہوتی ہے لیکن عوام کو چاہیے کہ حکومت سے تعاون کریں، ہم اپنے تجربات کے تحت سندھ کے بچوں کو بہتر تعلیم کی فراہمی کیلیے کوشاں ہیں۔

    پانی کی قلت سے متعلق سوال کے جواب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے پہلے ہی معاہدے کو فالو نہیں کیا جا رہا اور پانی کی تقسیم کے متعلق سندھ حکومت نے اپنا موقف رکھا ہے۔

  • کراچی میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    کراچی میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    شہر قائد میں رواں سال 30 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں چوری کی گئیں ، بفرزون میں پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےملزم کی تلاش شروع کردی ہے ۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں موٹرسائیکل چوری کی وارداتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں ، رواں سال شہریوں کی 30 ہزار سے زائد موٹرسائیکلیں چوری کی گئیں ، بفرزون میں چورایک اور شہری کی موٹرسائیکل چرا کر لے گیا۔

    پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سےملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔

    گذشتہ ماہ رینجرز اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب 3 رکنی موٹر سائیکل لفٹنگ گینگ گرفتار کرکے چوری کی گئی 10موٹر سائیکلیں اور 10چیسز برآمد کرلی تھی۔

    اس سے قبل بھی اے وی ایل سی پولیس نے موٹرسائیکل اسنیچنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے شہریوں سےموٹرسائیکلیں چھیننےکی وارداتوں کی سنچری کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا تھا۔

    ایس ایس پی اےوی ایل سی عارف اسلم راؤ نے بتایا تھا کہ ملزمان میں منیربنگالی، بابرعلی، حسن عرف بوائے اورمظفر چانڈیوشامل ہیں ، ملزمان نے 100سے زائد موٹر سائیکل چھیننے کا انکشاف کیا۔

  • ویکسی نیشن سے بے خبر گداگر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن گئے

    ویکسی نیشن سے بے خبر گداگر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن گئے

    کراچی میں کورونا کی چوتھی لہر کی روک تھام کے لیے جاری ویکسین مہم میں گدا گروں کی بڑی تعداد آگاہی مہم نہ ہونے کے سبب کورونا ویکسین لگانے سے گریز کر رہی ہے۔

    صفائی کا خیال نہ رکھنے اور کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے گدا گروں کی بڑی تعداد ممکنہ طور پر کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے، سماجی کارکنوں نے رائے دی ہے کہ حکومت سندھ ان کی مخصوص آبادیوں میں فوری طور پر کورونا ویکسین کیمپوں کا انعقاد کرے اور ویکسین ورکرز کے تعاون سے فوری طور پر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگائی جائیں۔

    وزیر اعلی سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ گدا گروں کی ویکسین نیشن کے لیے فوری اقدامات کرے گی، ایکسپریس نے کراچی میں گدا گروں کے ذریعے کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ۔

    ان کی جانب سے ویکسی نیشن نہ کرانے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی تو اس حوالے سے المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی کے ٹرسٹی حاجی احمد رضا نے بتایا کہ کورونا کی چوتھی لہر پر قابو پانے کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ویکسی نیشن کا عمل بھی جاری ہے تاہم لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد شہریوں کی جانب سے ویکسی نیشن کرانے کے معاملے میں دوبارہ عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن سے محروم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تاحال حکومتی نظروں سے اوجھل ہے، وہ طبقہ گداگروں سے تعلق رکھتا ہے، یہ گدا گر کورونا کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں کیونکہ آگاہی مہم نہ ہونے اور ان کی آبادیوں میں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات نہ ہونے کے سبب یہ معلوم ہی نہیں چلتا کہ گدا گروں کو کورونا وائرس لاحق ہے یا نہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ گدا گروں کی بڑی تعداد ویکسی نیشن کرانے سے گریزاں نظر آتی ہے کیونکہ ان کا کوئی مخصوص ٹھکانہ نہیں ہوتا۔ یہ سیزن کی کمائی کے حساب سے کراچی کا رخ کرتے ہیں اور پھر واپس اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ جاتے ہیں جو گدا گر عرصہ دراز سے کراچی کے مختلف علاقوں میں مقیم ہے ، وہ بھی ویکسین کرانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں، حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی اور اس کے لیے کوئی مربوط حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔

    کورونا ریلیف کے حوالے سے کام کرنے والے ایک سماجی ورکر عمران الحق نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ کراچی میں اس وقت گدا گروں کی کمائی کا سیزن نہیں ہے، بیشتر گدا گر جو ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں، وہ عیدالاضحیٰ کے بعد لاک ڈاون اور کورونا پابندیوں کے سبب اپنے آبائی علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔

    یہ گدا گر حیدر آباد ، ہالہ ، میرپور خاص ، تھر ، عمر کوٹ سمیت صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، ان گدا گروں کا مشہور قبیلہ اوڑھ ہے۔ اس قبیلے کے علاوہ دیگر مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بھی معاشی پریشانیوں کے سبب بھیک مانگتے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اوڑھ قبیلے کے زیادہ تر گدا گر خانہ بدوش ہوتے ہیں، یہ کراچی میں مختلف فلائی اوورز کے نیچے اور ندی نالوں کے ساتھ خالی اراضی اور مضافاتی علاقوں میں جھگیاں ڈال کر رہائش اختیار کرتے ہیں۔

    کراچی میں ان کی بڑی آبادی تین ہٹی ، عیسی نگری پل ، کریم آباد فلائی اوور، ناظم آباد فلائی اوور ، سہراب گوٹھ ، پہلوان گوٹھ ، موسمیات ، شیر شاہ ، خدا کی بستی ، موسی کالونی ، لانڈھی ، کورنگی ، ملیر ، گلشن معمار ، گلشن اقبال اوردیگر علاقوں میں مقیم ہیں، ان کی بستیاں عارضی ہوتی ہیں، انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر گدا گر خواتین ، بچے اور ان کے بزرگ شہر کے مختلف شاپنگ مالز ، مارکیٹوں ، بازاروں ، ہوٹلوں اور عوامی مقامات پر بھیک مانگتے ہیں۔

    ان کے مرد غبارے اور کھلونے بیچنے کا کام کرتے ہیں، ان میں سے کچھ بچے پالش کرنے کا کام کرنے سمیت بھیک بھی مانگتے ہیں، انھوں نے بتایا کہ ان میں اکثر گدا گر سماجی برائیوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث ہوتے ہیں۔

    عمران الحق نے بتایا کہ کورونا کی چوتھی لہر کراچی میں اس وقت موجود ہے، جو گدا گر اس وقت شہر کے مختلف مقامات پر بھیک مانگتے ہیں ، ان میں سے اکثر سماجی دوری کا خیال نہیں کرتے اور لوگوں کو چھوتے ہیں اور بھیک طلب کرتے ہیں، سماجی دوری کا خیال نہ کرنا اور ہاتھوں کو لوگوں کے ساتھ چھونا کورونا کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ معاشی مسائل کے سبب بنگالی ، برمی اور دیگر مختلف برادریوں کی خواتین اور مرد بھی بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنے کے لیے یہ لوگ مختلف طریقے کار اپناتے ہیں،انھوں نے کہا کہ اکثر گدا گروں کی بڑی تعداد نے کورونا ویکسین نہیں کرائی ہے کیونکہ ان میں ویکسین کرانے کا شعور موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب سے گدا گروں کی ویکسین کرانے کے لیے کوئی موثر اقدامات کیے گئے ہیں۔

    کورونا کیا چیز ہے ، ہمیں تو معلوم نہیں،گداگر خاتون

    کورونا ویکسین کے حوالے سے مختلف گدا گروں سے بات چیت کی، تین ہٹی پر موجود گدا گر خواتین کے ایک گروپ میں موجود عورتوں نے مختلف رائے کا اظہار کیا، 55 سالہ مائی دینا نے کہا کہ کورونا کیا چیز ہے، ہمیں تو معلوم نہیں، بس یہ پتہ ہے کہ یہ کوئی بیماری چل رہی ہے، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے تو ہم علاج کہاں سے کرائیں گے۔

    40 سالہ شادی شدہ عورت رانی نے کہا کہ ہمارا ذریعہ معاش بھیک مانگنا ہے، ہماری برادری کے اکثر لوگوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہے، ہم کورونا ویکسین کیسے لگوائیں، اگر کوئی کورونا ویکسین لگوانے جاتا بھی ہے تو اسپتالوں میں انھیں حقارت سے دیکھتے ہیں ہماری برادری میں اکثر ان پڑھ ہیں، انھیں کورونا ویکسین کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، 23 سالہ خاتون ریکھا نے بتایا کہ ہماری برادری کی اکثریت نے ویکسین نہیں کرائی ہے، کیونکہ ہم نے یہ سنا ہے کہ ویکسین کرائیں گے تو ہم مر جائیں گے۔

    مقامی مسجد کے باہر ایک معذور شخص محمد وقار بابا نے بتایا کہ ہم لوگ بھیک مانگتے ہیں ، ویکسین کیسے لگوائیں گے، ان کے پاس تو کھانے کو ہی نہیں ہے، اورنگی ٹاون سے لیاقت آباد مارکیٹ میں بھیک مانگنے والی ایک خاتون شازیہ مسیح نے بتایا کہ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے، ایک بچہ ہے ،میں پڑھی لکھی نہیں ہوں، ایک فیکٹری میں ملازمت کر رہی تھی ، لاک ڈاؤن کی وجہ سے نوکری چلی گئی، اب بھیک مانگ کر گزارا کر رہی ہوں لیکن میں نے ویکسین کرائی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مالی مجبوری کی وجہ سے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں تاہم ان میں سے اکثر لوگ پڑھے لکھے اور شعور بھی رکھتے ہیں، وہ ویکسین کرا رہے ہیں۔

    عیسی نگری کے قریب گدا گروں کی آبادی میں رہائش رکھنے والے ایک شخص راج کمار نے بتایا کہ کراچی کے بیشتر گدا گر اس وقت کمائی کا سیزن نہ ہونے کی وجہ سے اپنے آبائی علاقوں میں جا کر کھیتی باڑی کا کام کر رہے ہیں، جو لوگ موجود ہیں ، وہ یا تو بھیک مانگ رہے ہیں یا پھر مختلف کاموں سے منسلک ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ گدا گروں کو بھی ویکسین لگائے، سماجی ورکر عمران الحق کا کہنا تھا کہ جن گدا گروں کے پاس شناختی بھی نہیں ہے ان کو بھی ویکسین لگائی جائے۔

    معاشرے کے ہر فرد کو کورونا ویکسین لگائی جائے گی ، وقار مہدی

    وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی نے بتایا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کو کورونا ویکسین لگائی جائے، گدا گروں کو ویکسین لگانے کے لیے محکمہ صحت فوری اقدامات کرے گا اور ہماری کوشش ہو گی کہ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر گدا گروں کو کورونا ویکسین لگائیں اور اس حوالے سے جو رکاوٹ ہو گی ان کو دور کیا جائے گا۔

  • بلاول بھٹو کا افغانستان میں موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وہاں کے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار

    بلاول بھٹو کا افغانستان میں موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر وہاں کے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے افغانستان میں موجودہ صورتحال کی پیشِ نظر وہاں کے عام شہریوں کو درپیش مسائل پر اپنی جماعت کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ امن کی جانب بڑھیں۔ پی پی پی افغانستان میں ایک کثیرالجہتی، مساوی حقوق اور جمہوری حکومت کی حمایت کرے گی، جو کئی دہائیوں سے جنگ سے متاثر ملک میں تمام عوام کے لیئے امن، تحفظ، زندگی اور آزادی کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے۔
    افغانستان کے موجودہ حالات اور پاکستان کی سیاسی صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکیوٹیو کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعلی ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ انہیں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے لیئے تشویش ہے، جو کئی دہائیوں سے بڑی جرئت اور حوصلے کے ساتھ مشکل حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ انہیں افغانستان کے تمام شہریوں ، خصوصا خواتین، نوجوانوں اور تمام اقلیتوں، کے لیئے تشویش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ محرم کا مہینہ ہے، اور افغانستان کے شہریوں کو محرم کا مہینہ بلا روک ٹوک منانے کی اجازت دی جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پاکستان میں امن و امان کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب حکومت پاکستان ملک دہشتگردی کے معاملے پر کسی مصلحت کا شکار نہ ہو، بلکہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔
    یہاں مختلف دہشتگرد گروپس ہیں، جنہوں نے ہمارے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے، انہیں یہ واضح پیغام جانا چاہیئے کہ ہم یہاں ان کی اس طرح کی سرگرمیاں برداشت نہیں کریں گے۔ ‘داسو، کوئٹہ اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری نہیں رکھے گی تو خطرہ ہے کہ واقعات میں اضافہ ہوگا’۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ امید اچھی رکھنی چاہیے مگر ہمیں ہر طرح کی صورتحال کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
    اس کے علاوہ پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں کے سیکیورٹی پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اور ان پر کام کرنے والوں کو پوری سیکیورٹی دی جانی چاہیے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کی حکومت کے لیے بہت ضروری ہے کہ قوم پرست ذہنیت کے لوگوں کو مشغول کرنا چاہیے اور پر امن حل نکالنا چاہیے۔ ملک بھر کے قوم پرست نوجوانوں سے مل کر پرامن حل نکالنا چاہیے۔
    ہم سمجھتے ہیں حکومت کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ فوری اور ابتدائی رد عمل ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ہماری پالیسیز بھی بنیں گے۔ پی پی پی چیئرمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ افغان صورتحال پر پارلیمان کو اعتماد میں لیا جائے اور پاکستانی کی پالیسی کے بننے کے طریقہ کار میں سینیٹ کی قرار داد کیطریقہ کار پر عمل کیا جائے تاکہ بہتر پالیسی بن سکے۔
    سب افغانستان کی صورتحال کو غور سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ افغانستان میں ایسا نظام آئے جس میں تمام برادریوں کی نمائندگی شامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرحد پر باڑ لگانے کے عمل پر ہم انحصار کر سکتے ہیں، اگر افغانستان میں امن و عامہ کی صوررتحال بہتر ہوجاتی ہے تو ہم پناہ گزینوں کی آمد نہ دیکھیں تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں ان چیزوں کا خطرہ ہے۔
    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی پالیسی واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان کی عوام دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ہر معاملے پر ایک موقف اپنایا ہے اور پھر یوٹرن لیتے رہے ہیں جس سے الجھن پیدا ہوتی ہے اور ہم اس وقت ایسی چیزیں برداشت نہیں کرسکتے۔ اس وقت ہمیں ایک واضح پالیسی، سیاسی حمایت اور اتفاق چاہیے، اگر حکومت میں وضاحت نہیں ہوگی تو الجھن کا ریاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔
    ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کے معاملے پر ایک سیکنڈ کے لیئے بھی کنفیوژ نہیں ہونا چاہیئے، پاکستان کی عوام نے ہمیشہ دہشتگردوں کو مسترد کیا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان بار بار یوٹرن لیتے رہے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال میں ملک کسی کنفیوژن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ (ن) سے روابط کے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کے سب کے لیئے دروازے کھلے ہیں۔ وزیراعلی سندھ کے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کے عہدے کے لیئے ان کے تین نام ہیں، اور وہ ہیں "مراد علی شاہ، مراد علی شاہ، اور مراد علی شاہ”۔