Baaghi TV

Author: +9251

  • مبشرلقمان صاحب : ویکسین بھی لگوائی مگرکام نہ آئی :خدا کے لیے کچھ کریں:پردیسی پاکستانیوں کی اپیل

    مبشرلقمان صاحب : ویکسین بھی لگوائی مگرکام نہ آئی :خدا کے لیے کچھ کریں:پردیسی پاکستانیوں کی اپیل

    لاہور:مبشرلقمان صاحب : ویکسین بھی لگوائی مگرکام نہ آئی :خدا کے لیے کچھ کریں:پردیسی پاکستانیوں کی اپیل،اطلاعات کے مطابق سمندرپارسفرکے خواہاں پاکستانیوں نے ایک بارپھرپاکستان کے سینیئرصحافی مبشرلقمان سے ایک بہت بڑی اپیل کردی ہے

    اس حوالے سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت خلیجی ریاستوں‌کی طرف سفر کے خواہاں پردیسی پاکستانی بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں‌،

    اس حوالے سے بہت سے ایسے پاکستانیوں کی طرف سے سینیئرصحافی مبشرلقمان سے درخواست کی گئی ہے کہ جس طرح آپ نے ہزاروں پاکستانیوں کوعرب امارات جانے کے حوالے سے پی سی آر ٹیسٹ کا معاملہ حل کروایا خدا را ایک اورمسئلہ درپیش ہے وہ بھی حل کروا دیں‌

    اس حوالے سے باغی ٹی وی کو بتایا گیا ہےکہ جو پاکستانی عرب امارات اورملحقہ عرب ریاستوں کا سفرکرتے ہیں ان سے سب سے پہلے یہ پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے ویکیسن لگوائی ہے کہ نہیں

    باغی ٹی وی کے مطابق جوبھی پاکستانی بیرون ملک کے سفر کا ارادہ رکھتا ہے وہ سب سے پہلے کورونا ویکیسن لگوا رہا ہے اور اب تو ہرپاکستانی یہ ویکیسن لگوا رہا ہے خواہ اس نے سفرکرنا ہے یا کہ ناں‌

    باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جو بھی پاکستانی عرب امارات پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ کورونا ویکسین لگوانے کا سرٹیفکیٹ پیش کریں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے بعد عرب امارات حکام پاکستان میں لگائی جانے والی کئی ویکسین کوتسلیم کرنے سے انکارکررہے ہیں

    ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اب وہ کدھر جائیں ویکسین بھی لگوائی مگرکام نہ آئی اب پھرویکسین لگوائیں یہ ایسا کیوں ہورہا ہے

    ان پاکستانیوں نے مبشرلقمان سے درخواست کی ہے کہ وہ حکومت پاکستان تک ہماری آوازپہنچائیں کہ آخرہمارا قصور کیا ہے ہم نے ویکسین لگوائی مگرعرب امارات اسے ماننے کے لیے تیارنہیں ، کیوں‌؟

    ان پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ایسی امتیازی پالیسی کیوں روا رکھی جارہی ہے ، کیا پاکستان جوویکسین لگا رہا ہے وہ ویکسین نہیں کیا اسے عالمی ادارہ صحت نے تسلیم نہیں کیا

    یہ کیا ہورہا ہے ، حکومت پاکستان نوٹس لے اورجو بھی ویکسین لگائی جارہی ہے اس کو عالمی ادارہ صحت سے منظورشدہ ہونے کا عالمی اقرارنامہ جاری کرے اورعرب امارات کو پابند کرے کہ وہ پاکستانی ویکیسن کے بارے میں ایسی غلط فہمی پیدا کرنے سے دور رہے اورپاکستانیون کوپاکستان میں لگی ویکسین کو قبول کرے

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس وقت عرب امارات میں مندرجہ ذیل ویکسینیں منظوراورقابل قبول ہیں‌

     

  • ‏اٖفغان باقی ، کہسار باقی  محمد عتیق گورائیہ

    ‏اٖفغان باقی ، کہسار باقی محمد عتیق گورائیہ

    افغانستان میں ایک بار پھر سے عالمی طاقت کے تکبر کو ، رعونت کو اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دیا گیا ہے ۔ امریکا جو ناٹو کو لے کر جدید ترین اسلحہ و ٹیکنالوجی سے آراستہ ہوکر میدان میں اترا تھا اور افغانستان کے باسیوں کو پتھر کے دور میں بھیجنے کے درپے تھا ۔ لمبے عرصے تک طالبان سے نبرد آزما رہا اور علاقوں پر علاقے قبضے میں کرتا رہا ۔ بدنام زمانہ تشدد کیا گیا ، جدید ترین اسلحہ بنا کر اہل افغانستان پر آزمایا گیا ۔ طالبان نے ایک ایسی جنگ کی داغ بیل ڈالی جس نے امریکا کو شروع میں باور کروایا کہ وہ جیت رہا ہے اور پھر گزرتے وقت کے ساتھ طالبان حاوی ہوتے رہے ۔ امریکا اپنے سپاہی ، اپنا مال و زر ، اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے تعلقات کو استعمال کرتا رہا ۔ ہم ساے میں پاکستان ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ دباو پاکستان کو برادشت کرنا پڑا۔ دہشت گردی کا سب سے دکھ اہل پاکستان نے جھیلا۔ افغانستان کی آڑ میں دہشت گردانہ گروپ بھارت و دیگر ملکوں نے متحرک کیے اور انھیں پاکستان بھر میں پھیلا دیا جس سے ہزاروں کی تعداد میں شہداء کے خون نے پاکستان کی زمین سیراب کردیا۔ میرے تجزیے کے مطابق پاکستان شروع میں تو رسمی طور پر اس سارے مسئلے میں شامل ہوا اور پھر جب بھارت نے دل چسپی لینی شروع کی تو پاکستان نے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اپنے کھلاڑی پھیلا دئیے ۔ اس وقت اگر کابل میں طالبان قابض ہیں تو جہاں طالبان کی فتح ہے وہی پر پاکستان نے بھارت کو بھی شکست دی ہے وہ جو افغانستان میں قونصل خانے بنا کر پاکستان میں من پسند افراد کو سپورٹ فراہم کرتا تھا ، ناکام و نامرادہوا ہے ۔

    امریکا کی طرف سے افغان فوج کو جدید اسلحہ اور تربیت کی خاطر ایک سو ارب ڈالر سے زائد کی رقم خرچ کی گئی تھی ۔ افغان نیشنل گارڈز کو جدید ترین اسلحہ سے مسلح کیا گیا جو کہ طالبان کے سامنے بھیگی بلی بن چکے ہیں ۔ طالبان کے سامنے شاید ہی افغان فورسز کا کوئی کمانڈر ٹھہر پایا ہو ۔ جب امریکا نکلا اور پیچھے صرف افغان فورس رہ گئی تو اصل کھیل شروع ہوا جس کا طالبان کو عرصہ دراز سے انتظار تھا ۔ افغان حکومت امریکا و ناٹو کی بیساکھیوں کے سہارے تھی جب وہ ہاتھ سے نکلیں تو حکومت مہینہ بھی نہ نکال پائی ۔ وار لارڈ دوستم سمیت بڑے بڑے نام افغانستان سے راہ فرار اختیار کرکے دیار غیر میں پناہ گزین ہوچکے ہیں۔ اشرف غنی کی حکومت کے پاس سواے فضائی حملوں کے کوئی بھی قابل ذکر ہتھیار نہ تھا ۔ جیسے جیسے طالبان قابض ہوکر صوبوں کا انتظام سنبھالتے گئے ویسے ویسے غنی انتظامیہ کے ہاتھ سے بہت کچھ نکلتا گیا ۔ طالبان اس وقت کابل میں صدارتی محل میں بیٹھ چکے ہیں اور اپنی حکومت قائم کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ اس وقت کے طالبان تجربہ کار و منجھے ہوے کھلاڑی ہیں ۔ گو سفارت کاروں کی اکثریت اپنے اپنے ملک واپس جارہی ہے لیکن اندرون خانہ طالبان سے سبھی کے روابط ہیں ۔ بھارت تو گدھے کے سر سینگ کی طرح غائب ہوا ہے اس کا کچھ اتا پتا نہیں مل رہا ۔ چین اور روس سمیت کچھ ممالک نے اپنے سفارت کار افغانستان میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چین نے طالبان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے اور انھیں مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر چین ایسا کرتا تو دیگر ممالک بھی اس کی تقلید کریں گے ۔ یہ پہلی کڑی ہوگی جو ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔
    طالبان نے جہاں کابل کو گفت و شنید حاصل کرکے اپنے سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے وہی بڑی خون ریزی سے بھی اہل وطن کو بچا لیا ہے ۔ طالبان کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے مطابق کابل میں امن و سکون ہے بلکہ ایک ویڈیو کے مطابق تو اہل کابل نے طالبان کا استقبال کیا ہے اور طالبان نے بھی داخلے کے فوری بعد نظم و نسق کو بہتر بنانے اور چوری چکاری کو روکنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ۔ ملا عبدالغنی برادر دوحا سے کابل پہنچ گئے ہیں اور طالبان کی طرف سے امریکی مفادات پر حملے بھی نہیں ہوے جس کا مطلب ہے کہ دونوں طرف سے معاہدوں کی پاسداری کی جارہی ہے ۔ بہرحال بات یہ ہے کہ امریکا لاکھ کوششوں کے باوجود طالبان کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور طالبان نے لمبے عرصے تک جدوجہد کرتے ہوے پھر سے کابل میں واپسی کو یقینی بناکر ثابت کردیا ہے کہ اگر نیت خالص ہو ، عمل پیہم ہو اور جہد مسلسل ہو تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔ سب سے بڑی غلطی جو امریکا سے ہوئی ہے وہ انخلا کے وقت سیاسی سیٹ اپ کا تشکیل نہ دیا جانا تھا ۔ اقتدار میں اس وقت طالبان مضبوط قدم جما چکے ہیں اور ایسے میں افغانستان میں ایک بار پھر سے امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اگر یہ ممکن ہوتا ہے تو پاکستان میں 30 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین کی واپسی بھی ممکن ہوسکے گی ۔ اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان سمیت افغانستان کے خیر خواہ ممالک جن میں چین بھی شامل ہے کو بدخواہوں پر نظر رکھیں ۔ سازشی ٹولہ مختلف حیلوں بہانوں سے امن کی چادر اوڑھتے افغانستان کو دہشت زدہ کرسکتا ہے ۔ طالبان کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے کچھ بھی ممکن ہے ۔ بھارت اپنی لازمی کوشش کرے گا کہ وہ کچھ الٹا سیدھا کرکے پاکستان کو بدنام کرے لیکن ہمیں اس سارے معاملے میں چوکنے رہنا ہوگا۔ افغانستان افغانیوں کا ہے اور اس پر انھیں کی حکومت ہونی چاہیے جو بغیر کسی بیرونی دباو کے اپنے فیصلے کرنے پر قادر ہو ۔

  • دوستی کے اصول تحریر : شاہ زیب

    دوستی کے اصول تحریر : شاہ زیب

    دوستی اس کائنات کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔یہ وہ رشتہ یا تعلق ہے جو انسان اپنی مرضی،پسند یا اپنی خواہش سے رہنے کے لیے کسی من پسند شخص سے بناتا ہے
    سچا اور اچھا دوست زندگی کے ہر معاملے پر آپ کا ساتھ دیتا ہے خوشی کے موقعے پر آپ کے ساتھ خوش ہوتا ہے اور غمی کے موقع پر ایک اچھا دوست ہونے کی حثیت سے بنا کہے آپ کا دکھ بانٹتا ہے الغرض دوستی ایک نایاب اور پرخلوص رشتہ ہے جو سب کے پاس ضرور ہوتا ہے
    دوستی میں دو لوگ صرف دکھ اور خوشی ہی نہیں شیئر کرتے بلکہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی زندگی کے بہت سے راز بھی شیئر کرتے ہیں جو کہ دوستی میں بہت عام بات ہے
    اس بے غرض رشتے کے بھی اصول ہیں۔
    جیسے کہ اپنے دوست اور دوستی کا خیال رکھنا اپنی دوستی کا بھرم رکھنا اور ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے دوستی پر آنچ آجائے اگر کسی وجہ سے آپ کی دوستی ختم بھی ہوجائے تو اس اچھے وقت کی لاج رکھیں جو آپ نے اپنے دوستوں کے ساتھ گزارے
    اور اس وقت میں ایک دوسرے کو بتائی گئی باتیں دوسروں کو بظاہر عیاں مت کریں کیونکہ اگر اپ کسی کے راز عیاں کریں گے تو یہ حرکت اپ کی عزت میں کمی کا باعث بنیں گیں کیونکہ انسان جب اپ کے پاس راز رکھتا تو اپ کو بطور امانت اپنی بات اپ کے سپرد کرتا وہ اپ کا ہنر ہے کہ اپ اس کے وعدے یا اس کی تنہائی میں کہی گئی بات کا پاس رکھتے یا اس کے لیے لوگوں کے سامنے افشا کر کے شرمندگی کا باعث بنتے اصل میں وہ تو شرمندہ ہوتا ہی ہے لیکن اپ ہر کسی کی نظروں سے اپنی ایمانداری والی علامت ضائع کر دیتے یہ غلط ہے کیونکہ کے دوستی کے اصول کے خلاف ہے اور بطور انسان آپ کی شخصیت اور اچھے کردار کے بھی،
    دوستی وہ انمول رشتہ ہے جو انسان کو معتبر کر دیتا ہے اور اس وجہ سے اس کے بہترین دوست ہوتے ہیں آپ بھی اچھے دوست بنیں اور دوستی کے اصولوں کا پاس رکھیں۔۔شکریہ

    ‎@shahzeb___

  • دشمن کی صفوں میں سوگ کا عالم، صف ماتم بچھ گیا. اشرف غنی کے ڈالر بھرے بیگ پکڑے گئے.

    دشمن کی صفوں میں سوگ کا عالم، صف ماتم بچھ گیا. اشرف غنی کے ڈالر بھرے بیگ پکڑے گئے.

    سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب میں یورپ اور بھارت کا میڈیا دیکھتا ہوں تو انجوائے کررہا ہوں، کیونکہ وہاں صف ماتم بچھا ہوا ہے، ہر کسی میں کچھ اچھایاں اور برائیاں ہوتی ہیں، لیکن یہ نہیں کہ سکتے کہ ہم میں کوئی غلطی نہیں ہے تو ہم میں کوئی اچھائی نہیں ہے، طالبان میں اگر آپ کو کوئی چیز اچھی نہیں لگتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سراپہ برائی ہیں، لیکن ماتم یکطرفہ ہورہا ہے، میڈیا ڈھونڈ ڈھونڈ کر پاگل ہوگیا ہے کہ طالبان کی کوئی برائی مل جائے، کوئی بھول چوک ڈھونڈ لے، وہ کہ کہ طالبان نے یہ کیا ہے، عورتوں کے حوالے سے بڑا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے، طالبان عورتوں پر ظلم کرتے ہیں، پچھلے دو مہینوں میں افغانستان پورا کا پورا گرا ہے، افغان فورسسز نے سرنڈر کیا ہے.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی عورت کے ساتھ زیادتی، چادر کھینچنے اور کسی خاتون کو ہاتھ لگانے کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے، پینتیس سال سے وہاں جنگ ہورہی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ان پڑھ ہیں، انہوں بڑے طریقے سے آکر قانون کا نفاذ کیا ہے، ہر جگہ کا انہوں نے گورنر بنایا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ کہیں پر بھی قانون توڑا جاتا ہے تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں، ان میں سے ہر ممبر کا کل اثاثہ چار سے پانچ ڈالر ہے، آپ اور ہم بہت امیر ہیں، ایک چوری، ڈیکیتی کی واردات نہیں ملی ہے، ایک واقعہ ایسا نہیں ملا کہ انہوں نے بندوق لے کر اسلحہ خانہ میں، مال جانہ میں جمع نہیں کروائیں.

    مبشر لقمان نے مزید کہا کہ اشرف غنی تو کل اپنا محل چھوڑ کر گیا ہے، اس محل میں کارپٹس اور کرسیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا، وہ ہر چیز لے گیا ہے، جاتے جاتے بھی ڈالرز کے بیگ لے کر جا رہا تھا، اس سے ائیرپورٹ پر پکڑ لیئے گئے ہیں، اس سے پہلے پتہ نہیں کتنے لے کر گیا ہے، مقامی رپورٹرز بتارہے ہیں کہ نئی حکومت نے پہلے دن ہی صورتحال پر قابو پا لیا ہے، جن علاقوں سے لوٹ مار کی شکایات آئیں تھیں، ان کا فوری طور پر نوٹس لے لیا گیا ہے، بازار کھل گئے ہیں، سکول کھل گئے ہیں، بچیاں بھی سکول جارہی ہیں، عوام اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہی ہے، حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتوں میں عوام اپنے آپ کو زیادہ غیر محفوظ سمجھتے تھے، کل جب طالبان افغانستان میں داخل ہورہے تھے تو افغانستان کی ساری عوام باہر نکل رہی تھی، جو طالبان کے پچھلے دور کو جانتے تھے کہ انصاف کا بہتر نظام چلایا تھا، وہ اشرف غنی کے دورحکومت میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے.

  • ایڈمنسٹریٹر کراچی کی شہر سے غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کی ہدایت

    ایڈمنسٹریٹر کراچی کی شہر سے غیر قانونی پارکنگ کے خاتمے کی ہدایت

    ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے شہر سے غیرقانونی پارکنگ کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب کی زیر صدارت کیایم سی کے مختلف محکموں کے ساتھ اجلاس ہوا۔
    ایڈمنسٹریٹر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے ہدایت کی کہ کے ایم سی کی ریکوری کو مقررہ وقت میں پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی پارکنگ فوری ختم کی جائیں،گاڑیوں کی بہتر پارکنگ سے ٹریفک کی روانی میں مدد ملتی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ بے ترتیب پارکنگ سے ٹریفک کی صورتحال خراب ہوتی ہے اور لوگوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے،فٹ پاتھ پر پارکنگ کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

  • ہاکس بے روڈ پر تیز رفتار ی کے باعث کوسٹر اورکار میں تصادم

    ہاکس بے روڈ پر تیز رفتار ی کے باعث کوسٹر اورکار میں تصادم

    شہرقائد کے علاقے ہاکس بے روڈ پرتیز رفتار ی کے باعث کوسٹر اورکار میں تصادم کے نتیجے دو افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔
    تفصیلات کے مطا بق ماڑی پور کے علاقے ہاکس بے روڈ پر تیز رفتار ی کے باعث کوسٹر اور کار میں تصادم کے نتیجے میں دوافراد جاں بحق اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے اس اطلاع پر پولیس اور ریسکیو عملہ موقع پر پہنچ گیا ، پولیس کی جانب سے ہلاک اور زخمیوں کو ایمبولنسوں کے زریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا ، اس حوالے سے ایس ایچ او ثاقب نے بتایا کہ کوسٹر اور کارمیںجاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 45سالہ زاہد ولد محمد صدیق،40سالہ موسی ولد احمد جبکہ زخمیوں میں43سالہ آصف ولد علی48سالہ محمد بخش ولد فیض محمد عم شامل ہیں متوفی کیماڑی کے رہائشی تھے.

  • پی آئی اے کی کابل کے لیے پروازیں غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    پی آئی اے کی کابل کے لیے پروازیں غیرمعینہ مدت تک ملتوی

    قومی ایئر لائن پی آئی اے نے کابل ائیرپورٹ پر سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث فضائی آپریشن معطل کردیاہے۔پی آئی اے ذرائع کے مطابق کابل ائیرپورٹ پر سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال، عملے کی غیر موجودگی اور رن وے پر لوگوں کے بے پناہ ہجوم کے باعث اپنا آپریشن بند کردیا ہے۔
    ذرائع نے بتایاکہ پی ائی اے حکام نے کابل آپریشن بند کرنے کا فیصلہ پاکستانی وزارت خارجہ اور افغان سول ایوی ایشن سے مشاورت کے بعد کیا ہے، پی آئی اے حکام کے مطابق مسافروں، عملے اور اثاثوں کی حفاظت کی خاطر پروازیں غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کی گئی ہیں۔

    اس سے قبل پی آئی اے نے کابل کے درمیان 3 اضافی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا تھام ان 3 پروازوں کے ذریعے 900 کے قریب پاکستانیوں اور دیگر غیر ملکیوں کا کابل سے نکالا جانا تھا۔

  • تعویز گنڈے سے ماں کے مرنے پر بیٹے نے پیر اور اس کی بیٹی کو قتل کردی

    تعویز گنڈے سے ماں کے مرنے پر بیٹے نے پیر اور اس کی بیٹی کو قتل کردی

    شہرقائد کے علاقے ملیرمیمن گوٹھ میں فائرنگ سے باپ بیٹی جاں بحق اور ایک لڑکی زخمی ہوگئی ، مقتول تعویز گنڈے کا کام کرتا تھا ، اس کے علاج سے کچھ روز قبل ایک خاتون مرگئی تھی ۔میمن گوٹھ تھانے کی حدود ملیر میمن گوٹھ ابراہیم مسجد کے قریب گھر میں فائرنگ کے نتیجے باپ بیٹی جاں بحق جبکہ ایک لڑکی زخمی ہوگئی، اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مقتولین کی لاشیں اور زخمی لڑکی کو پولیس نے ضابطہ کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا۔
    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 50 سالہ غلام حیدر ولد رسول بخش اور مقتولہ کی 17 سالہ بشری بتول دخترغلام حیدر جبکہ زخمی لڑکی کی شناخت 17 سالہ زینب دختر جاوید کے نام سے کی گئی ہے۔
    پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ گھر کے اندر پیش آیا ، فائرنگ سے جاں بحق غلام حیدر اور بشری بتول باپ بیٹی تھے ، زخمی ہونے والی لڑکی زینب مقتول کی مہمان تھی۔مقتول کی اہلیہ نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ غلام حیدر تعویذ گنڈے کا کام کرتا تھا ، غلام حیدر کے تعویذ گنڈوں سے کچھ روز قبل ایک خاتون جاں بحق ہوگئی تھی، مرنے والی خاتون کا بیٹا جو اس وقت جیل میں تھا ، اس نے غلام حیدر سے بدلہ لینے کی دھمکی دی تھی کہ تمھارے علاج سے میری ماں مر گئی میں تمھیں زندہ نہیں چھوڑونگا۔

    فائرنگ کرنے والا شخص اسی خاتون کا بیٹا ریاض تھا جو کچھ روز قبل جیل سے رہا ہو گیا تھا ۔ اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ ملکر اتوار اور پیر کی درمیانی شب غلام حیدر کے گھر میں گھر کر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگیا ۔ پولیس واقعے کی مزید تحقیقات اور ملزم کو تلاش کر رہی ہے ۔

  • جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت کے متعلق بات کرنے سے پہلے جمہوریت کے علمبردار چند ممالک کا مختصر احوال دیکھتے ہیں، اور ساتھ پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں۔
    امریکہ۔ جمہوریت کا چمپٸین امریکہ دنیا کا مقروض ترین ملک ہے۔ ریپ اور سٹریٹ کراٸمز کے علاوہ منشیات کے استعمال میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔ دنیا بھر میں امریکن فوجی اڈے موجود ہیں پچاس سال ویتنام کے ساتھ جنگ۔ عراق کویت جنگ کے علاوہ عراق شام اور افغانستان جیسے ممالک میں بلاجواز حملہ آور ہونا اور طویل عرصے تک رہ کر اربوں ڈالرز ضاٸع کرنا اور حاصل صرف شکست اور ذلت۔ جبکہ لاس ویگاس، میکسیکو سٹی، الاسکا سمیت کٸ امریکن سٹیٹس ڈرگ اور منشیات مافیاز کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ تاہم امریکن کانگریس اور صدر بھی پینٹا گون سے فوجی مہمات کے نتاٸج نہیں پوچھ سکتے ناں قرض کے باوجود بجٹ کم کرسکتے ہیں۔ ناں امریکن میڈیا سی اٸ اے اور پینٹاگون سے کوٸی سوال کرسکتا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری تقریر اسٹیبلشمنٹ نے دوران انتخابات رکوائی حالانکہ وہ عملاً تب امریکی صدر تھے۔

    بھارت دنیا میں سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا دعویدار ملک بھارت ہے، بھارت عالمی سطح پر خواتينٕ کے لیے غیر محفوظ ترین ملک ہے۔ دنیا میں اٹھارویں نمبر پر سب سے زیادہ قرض لینے والا ملک ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی ممبی بھارت میں۔ اِس کے علاوہ کم سن بچیوں کو فروخت کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے۔ جبکہ صرف دہلی میں ساڑھے تین لاکھ لوگ فیملی سمیت سڑکوں پر رہاٸش پذیر ہیں۔ بھارت اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تاہم عوام کی زبوں حالی اور بھاری قرضوں کے باوجود بھارتی حکومت ناں فوج کی تعداد کم کرسکتی ہے ناں دفاعی اخراجات گزشتہ دنوں جب کرونا لاک ڈاٶن کےباعث بھارتی عوام اوآرہ کتوں کا گوشت کھانے پر مجبور تھی بھارتی حکومت رافیل خرید رہی تھی آرمی چیف کے مطالبے پر۔ تاہم بھارتی میڈیا را یا بھارتی آرمی کے اخراجات پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔

    چین (چاٸنہ) مقروض ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر۔ چین میں سوشلزم ہے مطلب میڈیا ہو یا عام آدمی کوٸی کسی پالیسی پر گُفتگو نہیں کرسکتا۔

    اسراٸیل آبادی۔ 87 لاکھ رقبہ باٸیس ہزار مربع کلومیٹر۔ اہم صنعتیں میڈیسنز ویکسینز اور اسلحہ بنانا۔ قرض لینے والے ممالک میں پچاسویں نمبر پر۔ دفاعی اخراجات پاکستان سے پانچ گُنا زاٸد ۔ روز قیام سے فلسطین شام لبنان اور اُردن پر آۓ روز بمباری کرنے کے باوجود اسراٸیلی میڈیا اپنی فوج کی اِس قتل عام میں حوصلہ افزاٸی کرتا ہے۔ اسراٸیلی صدر کے لیے جنگی تربیت لازم ہے۔

    پاکستان جسے ڈیپ سٹیٹ کا طعنہ دیا جاتا۔ موسٹ کرپٹ پالیٹیشنز رکھنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ قرض کے حوالے سے 54 نمبر پر دفاعی اخراجات کے حوالے سے اٹھارویں نمبر پر۔ پاکستانی فوج 56 ممالک میں UNO کے امدادی مشنز میں مدد فراہم کرنے اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے گزشتہ کٸ سال سے پہلے نمبر پر۔ اسلامی ممالک میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے پانچویں اور اہلیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ عدالتی نظام 120 ویں درجے تک گِرا ہوا ہے۔ پاکستان دنیا میں خیرات دینے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ملکی اخراجات سے قطع نظر عام عوام کا معیار ذندگی ہمسایہ ممالک سے کہیں بہتر ہے۔ میڈیا کے علاوہ ہر خاص و عام کو دفاعی اِداروں اور دفاعی پالیسی پر تنقید کرنے کی کُھلی اجازت ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہر ملک میں ایک ہے مگر معیار الگ جن ممالک کی افواج دیگر ممالک میں قتل عام کرتی ہے وہاں کا میڈیا فوج کے ساتھ ہے مگر جس ملک کی فوج 56ممالک میں عوام کی مدد کرتی ہے وہاں صرف اِس وجہ سے تنقید کہ بولنے والوں کے لیے سخت قوانین نہیں جیسے سعودیہ، کوریا، چین، اور دیگر ممالک میں ہیں دفاعی پالیسیز ہمیشہ اِنٹیلی جنس رپورٹس کی بُنیاد پر بنتی ہیں لہٰذا دفاعی ادارے ہر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور سیاست پر اثرانداز بھی۔ بس کہیں اِس پر بولنےکی کُھلی چھٹی ہے اور کہیں سخت سزا۔۔۔ اور پاکستان میں۔۔؟
    @A2Khizar

  • چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    چھوٹی چھوٹی خوشیاں تحریر : فضیلت اجالہ

    زندگی صفحہ قرطاس پہ بکھرے سات رنگوں کا مجموعہ, جو کسی کیلیے دھنگ رنگ پیرہن تو کسی کیلیے اماؤس کی رات سے بھی زیادہ تاریک ہوتی ہے ۔ انسانی زندگی مسلسل بدلتی کیفیات کا نام ہے جس میں مستقل کیفیت دکھ اور غم کی ہے۔ اگرچہ خوشیاں بہت عارضی وقت کے لئیے ہوتیں ہیں لیکن خوشیوں سے جڑی یادیں ساری زندگی آپکو خشگوار احساس سے جوڑتی ہیں ۔ غم خود بخود مل جاتے ہیں لیکن خوشیاں ڈھونڈنے پڑتی ہیں ۔
    بہت خوبصورت ہوتا ہے وہ وقت جب ہم خوش ہوتے ہیں. ہم خوش ہونے کی بڑی وجوہات کو اگر اپنی ذات سے کچھ وقت کے لئیے الگ کر کے دیکھیں تو سارا وقت ہنسی خوشی گزرتا ہے۔ کیوں کہ جن بڑی باتوں کے پورا ہونے میں وقت درکار ہو اسکا انتظار کرنے کے لئیے اپنے حال میں موجود چھوٹی باتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکے انتظار کا مزہ اپنی جگہ اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپی ہوئ خوشیوں کا مقام اپنی جگہ، اب سوال یہ ہے کہ وہ کیسے؟ خوشی چھوٹی چھوٹی چیزوں میںں چھپی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئیے کن چیزوں سے آپکو خوشی ملتی ہے۔ کسی کی مدد کر کے دل کو سکون اور خوشی دونوں میّسر آتے ہیں۔ جیسے کسی کو خوش دیکھ کر آ پکو خوشی ملتی ہے۔

    جیسے، اپنی، والدہ، والد، کوئ بچہ، بچی، بہن بھانجی، بھانجے یا بھتیجی، بھتیجے، یا محلے کا کوئ بچہ، خاندان کے تمام بچے یا پھر اپنی بیوی کی مسکراہٹ یا اسکا غصہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو روزمرہ ہمارے ارد گرد ہمارے ساتھ رہتی ہیں ان میں چھپی ہزاروں خشیاں ہم نظر انداز کر دیتے ہیں اور اسکے بجائے ہم بڑی خواہشات کے پورا ہونے میں خود کو اسطرح مصروف کر لیتے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں رہتا کہ ہم خوش بھی ہوسکتے ہیں۔ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے بیوی بچوں میں روزانہ آکر بیٹھنا انکی کھٹی میٹھی باتوں کا حصہ بننا اور ان سے خود کو محضوظ کرنا بھی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا ہی ایک حصہ ہے اور بڑی نعمت بھی ہے۔ ہم اپنی اپنی ذندگیوں میں اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے کی دوڑ میں خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور سوال پھر وہی کے ہمیں کبھی خوشی نہیں ملتی ہم آخر خوشیاں کہاں سے لائیں۔ بعض اوقات ہم اپنے کسی چاہنے والے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئیے اس سے دور رہتے ہیں۔ لیکن اس میں بہت سی خوشیاں کھو جاتی ہیں۔ جیسے کوئ باپ اپنے بچے کو خوش کرنے کے لئیے چھوٹی چھوٹی چیزیں بچوں کو لا کر دیتا ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے معصوم بچے ہمیشہ صرف والد کی لائ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں ہی خوش ہو جاتے ہیں۔ اور اس عمل کو وہ تا حیات یاد رکھتے ہیں کہ ہمارے والد یوں ہمارا خیال رکھتے تھے ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں سے خشیاں دیتے تھے۔ کوئ کھلونا کوئ چوڑی کوئ پائیل، کوئ شرٹ، یا پھر ٹائ اگر کسی کی خوشی کا حصہ ہے تو ہم اپنے ہاتھوں سے کیوں نہ خوشیاں بانٹیں یہ سب بہت مہنگے شوق نہیں جو آسانی سے پورے نہ کئیے جاسکیں۔ یہ تو ضروریات تحفے اور خریداری سے جڑی کچھ خواہشات تھیں خیر۔۔

    خوشی صرف مادی چیزوں یا کسی زی روح کی موجودگی سے ہی کشید نہیں ہوتی بلکہ خوشیاں کسی کے موجود ہونے کے احساس سے بھی جڑی ہوتی ہیں۔ آپکی موجودگی کی خوشی اور غیر موجدگی کے اثرات اگر کسی کی ذندگی پہ اچھائ میں رونما ہوتے دکھائ دیتے ہیں تو اس سے بڑی نعمت اور خوشی کیا ہوگی کہ کوئ آپکے لئیے منتظر رہتا ہے۔ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیے آپکو اپنی خوشی سمجھنے والے کہیں خود خاموش نہ ہوجائیں کسی کی خوشی کی وجہ اگر آپکی ذات سے جڑی ہے تو اپ کو کوئ حق نہیں کسی کی خوشی چھینیں۔ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لوگوں کی ضروریات ہی سب کچھ نہیں ہوتیں کچھ خوشیاں اور چیزیں صرف تعلق پہ منحصر ہوتی ہیں۔کسی کیلیے آپ کی ایک مسکراہٹ خوشی کا باعث ہوتی ہے تو کبھی آپکا صرف احساس ہی کافی ہوتا ہے ۔ ایسے رشتے ایسی خوشیاں بہت انمول ہوتی ہیں انھیں کسی قسم کی لاپرواہی کی وجہ سے نہ کھوئیں اپنے پیاروں کی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قدر کیجئیے۔ یہ آپکا ماضی، حال اور مستقبل یادگار اور خوبصورت بناتی ہیں۔ سب کے لئیے خوشی کی وجہ بنئیے لوگوں کے چہرے کی رونق اور انکی انکھوں کے جگمگاتے تارے بنیں اور اس خوشی کو محسوس کیجیے تاکہ آپ خوش رہ سکیں ۔

    @_Ujala_R