Baaghi TV

Author: +9251

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ چہارم، تحریر:ارم شہزادی

    صبح 19 جولائی کو ہم آخری پڑاؤ مالم جبہ کی طرف چلے۔ مالم جبہ جانے کی خواہش تو بہت پہلے سے تھی جب لگتا تھا کہ یہاں پہاڑ آسمان سے چند فٹ کے فاصلے پر ہیں۔ موڑ انتہائی خطرناک لیکن روڈ صاف اور خوبصورت تھے۔ وہاں تو ٹھنڈک کا احساس ہی نیا تھا۔ وہاں رہائش عام طور پر گھر جیسے بنے ہوٹلوں کی تھی۔ ہر جگہ نئے ہوٹل بننا اس بات کی غمازی تھی کہ ماحول اچھا اور فضا پرسکون ہے۔ جبکہ سیاحت کے لیے بہترین ہے۔ ہمارا مسلہ یہ تھا کہ جتنی تعداد میں گئے تھے عام طور ہمیں پورا پورشن لینا پڑتا تھا جس میں چار سے پانچ کمرے ہوتے تھے۔ یہاں پہنچ کے دکھ ہوا کہ پہلے کیوں نا آئے یا ایک دن اور مل جاتا جو یہاں مزید رہتے۔ مالم جبہ کالام کی نسبت زیادہ ڈیویلپ تھا۔ چیئر لفٹ سے لے کرپی سی تک موجود تھا۔ چیئر لفٹ اور کیبل کار بہت خوبصورت اور نئی تھی۔ ماحول بھی ٹھیک تھا مقامی پولیس کے علاوہ فوجی جوان بھی دیکھے۔ جو کہ کسی بھی ناگہانی کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند تھے۔ چیئر لفٹ سے فارغ ہونے کے بعد واپس آئے تو دوبارہ تیاری پکڑ لی پی سی جانے کی۔ پی سی یعنی پاک کانٹینینٹل جس میں جا کر حیران ہوئے کہ تمام تر سہولیات سے مزین تھے وہ تمام سہولیات جو میدانی علاقے میں پائے جانے والے پی سی اور بھوربن میں پایا جانے والا پی سی ہے۔ حیرت ہوئی کہ اتنی سہولیات دی گئیں لیکن مقامی ابادی کے پاس ہیلتھ اور سکول کی اتنی بہتر سہولیات نہیں تھیں۔ مقامی لوگوں کے پاس صحت کے مراکز اس طرح ڈیویلپ نہیں تھے جتنے وہاں ہوٹلز اور سیاحتی چیزیں تھیں۔ تھوڑا مقامی ابادی دیکھ کر دکھ ہوا۔ لیکن جگہ اور سیاحوں کے لیے انتظامات مزید بہتر کیے جارہے ہیں۔ ان انتظامات میں اگر مقامی ابادی کی بہتری کے لیے بھی کچھ تجاویز شامل کر لی جائیں تو بہترین ہو جائے گا۔ پی سی سےواپسی پے جب ہوٹل پہنچے تو ٹھنڈک بہت بڑھ چکی تھی۔ لگتا تھا شایدجنوری کا مہینہ ہو۔ وہاں صحیح معنوں ميں میں سکون سے سوئی۔ صبح کا منظر اس قدر خوبصورت اور دلنشین تھا کہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ جب صاف شفاف سبز پہاڑوں کی وسط سے بادل اڑ رہے تھے اس منظر کو صرف کیمرہ میں نہیں بلکہ دل کے کیمرہ مین محفوظ کیا۔ وہ بادل اڑتے اڑتے ہم تک آئے یہاں تک کہ دھند کی شکل میں ہمارے چاروں طرف پھیل گئے ہم سب بلکل بچوں کی طرح خوش ہورہے تھے۔ اور بچے تھے کہ واپس آنے سے ہی انکاری تھی۔ ہر بچے کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ “ہم پنجاب نہیں جائیں گے” یہی حال بڑوں کا بھی تھا۔ اگر اگلے ہی دن بکرا عید نا ہوتی تو یقیناً ہم ایک رات اور رہتے وہاں اس ٹھنڈ کو بادلوں کو مزید انجوائے کرتے۔ مالم جبہ سے واپسی بہت برے دل سے ہوئی ایک تو وہ منظر چھوڑنے کو دل نہیں تھا دوسرا پنجاب کی گرمی یاد آرہی تھی۔ پر کیا کرتے واپس تو آنا ہی تھا ہم بھی آئے بہت خوبصورت یادیں سمیٹ کر بہت سارا پیار سمیٹ کر اور دوبارہ جانے کی خواہش کے ساتھ۔ ان شاء الله دوبارہ موقع ملا تو ضرور جائیں گے۔ آپ سب بھی سوات اور اس سے اگے جائیں کافی بہتر سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔ آپ لوگ جائیں گے تو وہاں کے لوگوں کا اعتماد بڑھےگا پھر اس سے بھی بہتر طریقے سے وہ کام کریں گے۔ کیونکہ انکا روزگار بھی تو سیاحوں کا مرہون منت ہے۔کچھ باتیں ہیں جن پر حکومت اگر نظرثانی کرے۔۔

    جس طرح ما شاء الله وہاں آمن آیا ہے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی آئی ہے جو کہ افواج پاکستان اور مقامی لوگوں کے تعاون سے ہے۔ انکی قربانیوں کی وجہ سے ہے اگر مزید پرامن جگہ بنانا ہے تو فوجی چیک پوسٹس بنائی جائیں جو مستقل بنیادوں پر ہوں انکے ساتھ وہاں کے مقامی نوجوانوں کو شامل کیا جائے
    جسطرح سکول، کالج، یونیورسٹی سوات میں دیکھی میڈیکل کالج دیکھے انکا دائرہ کار کالام مالم جبہ تک بڑھایا جائے انکو مکمل سکیورٹی دی جائے
    ہیلتھ کارڈ کی جس طرح سہولت دی ہے اسی طرح ہیلتھ کیئر سینٹر جگہ جگہ بنائے جائیں تاکہ علاج کے لیے مشکل نا ہو۔

    پرائمری اسکول کا دائرہ بڑھایا جائے چونکہ پہاڑی علاقے ہیں بچوں کے لیے زیادہ سفر نقصان دہ بھی ہوسکتاہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر وہاں گاڑیوں کی رجسٹریشن کروائی جائے۔ کیونکہ جو گاڑی پنجاب میں پچیس تیس لاکھ کی وہاں بامشکل دو سے چار لاکھ کی ہے۔ نمبر پلیٹس کے بغیر۔ وہاں سے گاڑی لی نہیں جاسکتی کیونکہ پنجاب میں داخل ہوتے ہی ضبط کر لی جانی ہے۔ تو وہاں بھی اسکوقانون کے دائرے میں لایا جائے۔ جسطرح مری سے لے کر ایبٹ آباد تک اور ناران کاغان تک ہوٹل اور معیاری جگہیں بنائی گئی ہیں یہاں نا صرف بنائی جائیں بلکہ انکی تشہیر بھی کی جائے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے وزراء یہاں آئیں اور اسے پروموٹ کریں تاکہ پاکستان کی خوبصورتی دنیا دیکھے۔ اور یہ جان سکے کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے سیاحت کے حوالے سے اور دشمن کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ جزاک الله
    دعا گو ارم رائے

  • دہشتگرد کارروائیوں میں افغان سرزمین کا استعمال افسوسناک ہے:اب یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے:وزیرخارجہ

    دہشتگرد کارروائیوں میں افغان سرزمین کا استعمال افسوسناک ہے:اب یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے:وزیرخارجہ

    اسلام آباد: دہشتگرد کارروائیوں میں افغان سرزمین کا استعمال افسوسناک ہے:اب یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے:اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا افسوسناک ہے۔

    جمعہ کو وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت رزاق داؤد، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سپیشل سیکرٹری رضا بشر تارڑ، ماہرین امور خارجہ، سابق خارجہ سیکرٹریز وسفراء اور دیگر اراکین کونسل نے شرکت کی۔

    اجلاس میں افغانستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت اہم سفارتی امور پر مشاورت کی گئی اور پاکستان میں کورونا وبا کی موجودہ صورتحال، وبا کے معاشی مضمرات اور ان سے نمٹنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا ۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈائون سمیت ہماری موثر حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وبا کے پھیلائو کی شرح میں بہت کمی آئی ہے،کورونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے کیلئے تمام کاوشیں بروئے کار لا رہے ہیں۔وزیر خارجہ نے داسو واقعے کی تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والی پیش رفت سے اراکین کونسل کو آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا، افسوسناک ہے۔پاکستان، خطے میں تعمیر و ترقی اور روابط کے فروغ کیلئے کیلئے، قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے۔افغانستان میں اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا،

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔اجلاس میں، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور دیگر اہم سفارتی امور کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • دنیا سن لے:پاکستان تمام ایسے فیصلےکریگا جس میں اس کا قومی مفاد ہے: دفتر خارجہ

    دنیا سن لے:پاکستان تمام ایسے فیصلےکریگا جس میں اس کا قومی مفاد ہے: دفتر خارجہ

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ایسے فیصلے کریگا اور ان پالیسیوں پر کاربند رہے گا جس میں اس کا قومی مفاد ہے اور جن سے علاقے میں اور اس کے باہر امن و خوشحالی میں مدد مل سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور علاقے میں اور اس کے باہر امن و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے اس کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات کے خواہاں ہیں۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون پر مبنی تعلقات کی ایک تاریخ ہے، جس سے دونوں ملکوں کے باہمی مفادات کو فائدہ پہنچا۔ افغان امن عمل سمیت کئی بنیادی مسائل پر دونوں ملکوں کا نکتہ نظر اور مفادات ایک جیسے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور دونوں ملک افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ افغانستان تنازعے کے ایسے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں جو افغان قوم کے ذریعے اور اُن کی سربراہی میں ہو۔

    انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان سودے بازی کے تعلقات کے بجائے طویل مدتی، وسیع البنیاد، جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتا ہے۔ پاکستان نے اس بات کا کئی مرتبہ اعادہ کیا ہے کہ ہمیں دوسرے ملک کے نکتہ نظر کے مطابق جانچا جائے نہ ہمارے تعلقات کا تنگ نظری سے جائزہ لیا جائے۔

  • ہم اپنے خطاطوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں، فرخ حبیب

    ہم اپنے خطاطوں کو قدرکی نگاہ سے دیکھتے ہیں، فرخ حبیب

    وفاقی وزیر مملکت فرخ حبیب نے کہا ہے کہ میں ایرانی سفارت خانہ میں اسلا می خطاطی کی نمائش کرنے پر شکر گزار ہوں، ہمارے خطاطوں نے بہت ہی خوبصورت انداز میں اس کو دکھایا ہے، اسلامی خطاط کو زندہ رکھنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے نا صرف اسلامی خطاطی کو زندہ رکھا ہوا ہے، بلکہ اس کو دنیا کے سامنے نمایاں کررہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہہ فن نا صرف ملکی سطح پر ہو، بلکہ اس کو بین الاقوامی سطح تک بھی اجاگر کریں.

    فرخ حبیب نے مزید کہا ہے کہ انہوں نے قرآنی آیات کی خطاطی کا خوب صورت شاہکار بنایا ہے، میں اسے بہت قابل تحسین سمجھتا ہوں، احسان خزائی کا بہت شکر گزار ہوں، انہوں نے بھی اس میں اپنا تعاون کیا ہے، آج وہ خود اس تقریب کا حصہ ہیں، ہمارے اس قسم کے جتنے بھی آرٹسٹ ہیں، ہمارے اس قسم کے جتنے بھی مصنف ہیں، خطاط ہیں، حکومت پاکستان ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، انکی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، ان کی ہر طرح سے حکومت کی جانب سے، آرٹ کونسل کی جانب سے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی کو ہم جاری رکھیں گے، ملک پاکستان اللہ ک بہت بڑی نعمت ہے، برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک آزاد ریاست، قائداعظم کی قیادت میں ہمارے آبا ؤ اجداد نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں.

  • وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی اہلیہ محترمہ کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا

    وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی اہلیہ محترمہ کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا

    لاہور:وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی اہلیہ محترمہ کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آگیا،اطلاعات کے مطابق ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کی اہلیہ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئی ہیں، ان کا پی سی آر ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب 14 اگست حضوری باغ میں ہونے والی مرکزی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔

    دوسری طرف صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی اہلیہ نے ٹیسٹ کا نتیجہ آنے کے بعد خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔

    ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کی اہلیہ کی طبعیت بہتر ہے، جب کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کے اسٹاف کا بھی گزشتہ روز کرونا ٹیسٹ کروایا گیا تھا، تاہم سب کا ٹیسٹ نیگیٹو آیا۔

  • وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ سائبر کرائم میں پیش ہوگئے

    وزیر بلدیات سندھ ناصر شاہ سائبر کرائم میں پیش ہوگئے

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ سائبر کرائم میں پیش ہوگئے.

    انہوں نے نے ملزم کو پہچاننے سے انکار کردیا۔چیف جسٹس پاکستان کے خلاف نازیبا الفاظ کے استعمال کے کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و اراکین اسمبلی ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوگئے۔

    ناصر شاہ نے ایف آئی اے کو دیئے گئے بیان میں کہا کہ میں ملزم کو نہیں جانتا، اس ملزم کا نمبر بھی موبائل میں نہیں ہے، جبکہ اس نےجو کلپ بھیجا وہ کھولا بھی نہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی ایف آئی اے سائبر کرائم میں پیش نہیں ہوئے، صرف شہلا رضا اور ناصر حسین شاہ پیش ہوئے اور تفتیش کا حصہ بنے۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ دیگر طلب کیے گئے اراکین اسمبلی کو دوبارہ بلایا جائےگا، عاشورہ کے بعد ان کو اسلام آباد میں طلب کیا جائے گا۔

  • جن کے پاس NIC نہیں، انہیں سنگل ڈوز لگا رہے ہیں

    جن کے پاس NIC نہیں، انہیں سنگل ڈوز لگا رہے ہیں

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ جو ویکسی نیشن نہیں کروائے گا اس کے لیے کورونا وبا جان لیوا ہوسکتی ہے۔

    جن افراد کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں ہے ہم انہیں سنگل ڈوز لگا رہے ہیں۔کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہاکہ کورونا کے باعث اسپتالوں میں آنے والے 90 فیصد لوگوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہے۔

    ویکسی نیشن کے ساتھ انفیکشن ہوجائے تو وہ معمولی سا انفیکشن ہوتا ہے۔عذرا پیچوہو نے بتایا کہ یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ اسپتالوں میں جگہ کم پڑگئی ہے۔

    محکمہ صحت کے موقف کےلیے تھوڑا انتظار کیا جاسکتا ہے۔وزیرصحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید بتایا کہ 24گھنٹوں میں سندھ میں 3 لاکھ افراد کی ویکسی نیشن کا ہدف ہے، کچی آبادیوں میں بھی موبائل ویکسین یونٹ بھیجے جارہے ہیں۔

    جبکہ لاک ڈاؤن میں لوگ بڑی تعداد میں ویکسین لگوانے آئے۔ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ جن افراد کے پاس شناختی کارڈ نہیں انہیں سنگل ڈوز لگا رہے ہیں۔

    شخصی ضمانت یا رشتےدار کے شناختی کارڈ پر بھی ویکسین لگائی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے وفاق سے کہا ہے کہ ہمیں زیادہ ویکسین دی جائے۔اس موقع پر موجود صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ محکمہ صحت سندھ بہت زیادہ مصروف ہے، سندھ میں 90 لاکھ سے زائد ویکسین لگائی جاچکی ہے۔

  • کراچی والوں کیلئے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کورونا ویکسینیشن کی سہولت

    کراچی والوں کیلئے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کورونا ویکسینیشن کی سہولت

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ڈرائیور تھرو کووڈ ویکسینیشن کا افتتاح کردیا گیا ، وزیر صحت سندھ کا کہنا ہے کہ اس سینٹر پر تمام ویکسینز دستیاب ہیں، کراچی کے شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذار پیچوہو نے وزیر اطلاعات سعید غنی کے ہمراہ نیشنل اسٹیڈیم میں ڈرائیور تھرو کووڈ ویکسینیشن کا افتتاح کردیا.

    اس موقع پر پارلیامانی سیکریٹری برائے صحت قاسم سومرو، سیکریٹری صحت سندھ کاظم جتوئی، ایچ بی ایل اور پی سی بی کے نمائندے بی موجود تھے۔

    وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، اس سینٹر پر تمام ویکسینز دستیاب ہیں۔

    ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید کہا کہ اسپتالوں میں داخل ہونے والے کرونا متاثرہ مریضوں میں 90 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی ہوئی، جو لوگ ویکسین نہیں کروائیں گے وہ اپنے اور اپنے گھروالوں کی جان کے لیے خطرہ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ جب تک 80 فیصد لوگوں کو ویکسین نہیں لگ جاتی ہم معمول کی زندگی طرف نہیں لوٹ سکتے.

    اسپتالوں میں فی الحال جگہ کی کمی کی خبریں غلط ہیں، ہمارے پاس کرونا متاثرہ مریضوں کے اعلاج کے لیے وسائل دستیاب ہیں۔

    وزیر صحت سندھ نے کہا کہ محکمہ صحت نے تمام تر مشکلات اور چیلینجز کے باوجود بہتر حکمت عملی کے ساتھ کام کیا ہے، کراچی کی کچی آبادیوں میں بھی موبائل ویکسینیشن سہولت شروع کی جائے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کے لیے شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں اسپیشل رجسٹریشن سسٹم متعارف کروا دیا گیا ہے، اسپیشل رجسٹریشن والوں کو سنگل ڈوز کینسینو ویکسین لگائی جائے گی۔

    ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے مزید کہا کہ شناختی کارڈ نہ ہونے کی صورت میں خاندان کے کسی اور فرد کے شناختی کارڈ پر بھی ویکسین کی جا رہی ہے.

    24 گھنٹے ویکسین کی سہولت کی وجہ سے آفیس یا کاروباری افراد کو فائدہ ہوا ہے، عوام ویکسین کے سلسلے میں سندھ حکومت کی طرف سے دی گئی سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔

  • امریکہ اوربرطانیہ پھرافغان جنگ میں کود پڑے:ہزاروں فوجی افغانستان روانہ

    امریکہ اوربرطانیہ پھرافغان جنگ میں کود پڑے:ہزاروں فوجی افغانستان روانہ

    واشنگٹن:امریکہ اوربرطانیہ پھرافغان جنگ میں کود پڑے:ہزاروں فوجی افغانستان روانہ ہوچکے ہیں ادھرپینٹاگان کا کہنا ہے کہ افواج کی واپسی سے طالبان مضبوط ہو گئے،

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ افغانستان خانہ جنگی کا شکار ناکام ریاست بن چکی ہے وہاں سے القاعدہ کے دوبارہ ابھرنے کا خدشہ ہے جو مغرب کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی گارنٹی مانگ لی ہے۔امریکا نے افغانستان سے سفارتی عملہ نکالنے کی ہنگامی تیاریاں شروع کر دیں۔

    پینٹا گون کے مطابق 3ہزارامریکی فوجی 24سے 48گھنٹے میں کابل پہنچ جائیں گے تاہم یہ فوجی طالبان کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

    ترجمان امریکی دفترخارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ کابل میں سفارت خانہ کھلا رہے گا اورکام جاری رہے گا۔

    برطانیہ نے بھی افغانستان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 600 فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چار ہزار برطانوی شہری اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔

  • افغان طالبان کا 18 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ، حکومت چند علاقوں تک محدود

    افغان طالبان کا 18 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ، حکومت چند علاقوں تک محدود

    کابل:افغان طالبان کا 18 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ، حکومت چند علاقوں تک محدود ،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں طالبان تیزی سے شہروں کا کنٹرول حاصل کرنے لگے،اوراب تک آخری اطلاعات کے مطابق 18 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا،

    کابل سے ذرائع کے مطابق ہرات کے بعد قندھار اور لشکر گاہ کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ،ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کا شدید ترین مخالف کمانڈر اسماعیل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہرات پر قبضے کے بعد طالبان نے اسماعیل خان، گونر ہرات، نائب وزیر داخلہ اورصوبائی پولیس چیف کو حراست میں لے لیا۔

    اسماعیل خان کے ہمراہ لڑنے والے 207 کمانڈوز نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔ طالبان نے قیدیوں کو نقصان نہ پہنچانے اور ان سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی یقین دہانی کرادی۔

    طالبان نے ہرات ائیرپورٹ سے بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے پہلے قندوز ائیر پورٹ سے بھارتی ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ آیا تھا۔ طالبان نے صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

    افغانستان میں حکام کے مطابق افغان طالبان نے دارالحکومت کابل سے محض 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع صوبہ لوگر کے دارلحکومت پلِ علم پر قبضہ کر لیا ہے۔

    کابل سے ذرائع کے مطابق اس سے قبل طالبان نے قندھار اور جنوب میں اہم شہر لشکر گاہ پر بھی قبضہ کرلیا تھا اور افغان سکیورٹی ذرائع نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی۔

    قندھار اور لشکر گاہ کی فتح کے بعد اب افغانستان کی حکومت کے ہاتھ میں صرف ملک کا دارالحکومت اور دیگر کچھ علاقے باقی بچے ہیں۔