Baaghi TV

Author: +9251

  • قوم کی بیٹی نے منفرد انداز میں کے ٹو سر کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    قوم کی بیٹی نے منفرد انداز میں کے ٹو سر کر کے ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    اسکردو میں پاکستانی سائیکلسٹ ثمر خان نے کے ٹو بیس کیمپ تک سائیکل چلا کر منفرد ریکارڈ قائم کردیا ہے.

    پاکستانی خاتون مہم جو ثمر خان نے سرد اور بلند ترین مقام پر سائیکلنگ کر کے منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے، اپنے اس سفر میں انہوں نے اسکولی سے کے ٹو بیس کیمپ تک سائیکلنگ کی ہے، ثمر خان بلند ترین مقام پر سائیکلنگ کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون ہیں، ثمر خان 4 ہزار 5 سو میٹر بلند بیافو گلیشیئر پرسائیکل چلانے والی دنیا کی پہلی خاتون سائیکلسٹ کا ریکارڈ بھی بنا چکی ہیں.

    اس سے پہلے علی سد پارہ کے ٹو سر کرتے ہوئے اپنی جان کی بازی کھوچکے ہیں، ان کی نعش کو گزشتہ ماہ تلاش کرلیا گیا تھا، ان کے بیٹے ساجد سد پارہ نے والد کی وفات کے بعد اپنے والد کے ادھورے مشن کو پورا کیا ہے، ساجد سد پارہ نے کے ٹو کو سر کر کے والد کے ادھورے مشن کو پورا کیا تھا.

  • سندھ رینجر کے زیر اہتمام کراچی میں آزادی میچ کا انعقاد کیا گیا

    سندھ رینجر کے زیر اہتمام کراچی میں آزادی میچ کا انعقاد کیا گیا

    میچ شوبز الیون اور محافظ الیون کے درمیان کھیلا گیا ہے، محافظ الیون، آرمی، رینجرز اور پولیس کے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے آزادی کرکٹ میچ میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی ہے، ڈی جی رینجرز(سندھ) میجر جنرل افتخار حسن چوہدری، کرکٹ اور شوبز کے اسٹارز نے بھی شرکت کی ہے، تقریب کے دوران COVID ایس او پیز کو ملحوظ ِ خاطر رکھا گیا ہے، شرکاء نے سبز ہلالی پرچم لہرا کر پاکستان سے محبت کا اظہار کیا ہے، کھلاڑیوں کی خوب حوصلہ افزائی کی گئی ہے، سنسنی خیز مقابلے کے بعد شوبز ٹیم نے جیت اپنے نام کی ہے.

    کورکمانڈر کراچی نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں میڈلز اور انعامات تقسیم کیے ہیں، کور کمانڈر کراچی نے میچ کے کامیاب انعقاد پر انتظامیہ کو مبارک باد دی ہے، کورکمانڈر کراچی نے پاکستان کی 74 یوم آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سےکیک بھی کاٹا ہے، روشنیوں کے شہر کراچی میں امن واما ن کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شرکاء کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا گیا ہے.

  • تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    تزکیہ نفس تحریر : انجینئیر مدثر حسین

    انسان کو اللہ رب العزت نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور اس کی یہ صفت اس کے احساس کے وصف کی وجہ سے ہے. انسان کو جب سے تخلیق کیا گیا آج تک انسان اپنی زندگی کے داؤ پیچ میں مگن ہے. کبھی خوشی کبھی غمی کبھی دکھ کبھی سکھ زندگی کا حصہ رہے ہیں. کچھ انسان پر آزمائش دی جاتی تو کچھ انسان کی اپنی شامت اعمال ہوتی ہیں. یہ رب العالمین کا نظام ہے وہ اپنے بندوں کو ا ی سے صبر کی توفیق اور حالات سے لڑنے کی ہمت دیتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس کے گناہوں کا کفارہ بھی بنتا ہے.
    نبی کریم خاتم النبیںن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی آزمائش اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے. الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق مومن کو جب کوئی بھی تکلیف پہنچتی ہے اس کو گناہوں کو ساتھ لے جاتی ہے.

    یہ رب کریم کی شان کریمی ہے کہ ساتھ ساتھ اپنے بندوں پر نظر عنایت فرماتا ہے.ان سب چیزوں کے ساتھ انسان کو اللہ رب العزت نے اپنی عدالت بھی دے رکھی ہے. جو جب تک انصاف کے سہی ترازو کے ساتھ قائم ہوتی ہے انسان کا محاسبہ کرتی ہے کہ وہ صحیح راہ پر ہے یا غلطجب یہ بھٹک جائے اور شیطانی ترجمانی کی طرف گامزن ہو تو انسان خود کے لیے صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا. انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے.
    رات کو جب انسان بستر پر موجود ہوتا تو دو لمحے کے لیے اپنے روز مرہ کے اعمال کا جائزہ لے تو ساری حقیقت عیاں ہو جاتی ہے. یہ اسکی پہلی منزل ہے.
    اس کے بعد باری آتی ہے اس کا اعادہ کرنا کہ جو کام اچھا کیا وہ کیسے ٹھیک کیا اور جو برا کیا وہ کیوں برا ہوا. یہ عمل کی دوسری سیڑھی ہے جو انسان کو اپنی غلطی کا احساس دلانے کے لیے ہوتی ہے. اسسے اس کا من برائ سے بچنے کی ترغیب سوچنے کے قابل ہوتا ہے. یہی خاصیت اس کی بخشش کا سامان بن جانے کے لیے اس کا ساتھ دیتی ہے اور انسان کو اپنے آپ کو سدھارنے کا موقع ملتا ہے.

    تیسری منزل ہے اس سے آگے توبہ
    یہ وہ منزل ہے جو پچھلی دونوں منازل کا مغز ہے. کہ بندا اپنی غلطی تلاش کر چکا اسے تسلیم بھی کر چکا اب رب سے معافی مانگنا چاہتا ہے اور آئندہ اس غلطی سے بچنے کا عہد کرنا چاہتا ہے
    پھر رب کریم بندے کو بخشش مانگنے کا موقع عطا کرتا ہے. بندا جب اس موقعے کو استعمال کرتا ہے تو بخش دیا جاتا ہے. کتا خوبصورت دین ہے.

    اللہ کریم اپنے بندوں سے بہت پیار کرتا ہے اسی لیے اس نے اپنے بندوں کو بخشنے کے بہانے عطا کے ہوے ہیں. کوئی پریشانی میں بخشا جاتا تو کوئی تزکیہ نفس میں. کوئی رو کہ رب کو منا لیتاتو کسی کی نیکی اتنے کامل درجے پر پسند کر لی جاتی کہ بخش دیا جاتا ہے.
    انسان کی اسی میں بقا ہے اسی میں کامیابی ہے کہ وہ اپنے رب سے جڑا رہے جیسے ہی غلطی محسوس کرے فورا اللہ کریم کے حضور طائب ہو جاے. تا کہ رب سے تعلق کا ربط نا ٹوٹنے پاے
    گفتگو سے یہ سب ملا کہ اپنا محاسبہ اور تزکیہ نفس کرتے رہنا چاہیے
    خود پرستی پر دھیان دینے سے بہتر خود محاسبہ پر دھیان دینا چاہیے. روز رات کو سونے سے پہلے اپنے اعمال کو پرکھنا چاہیے اور. اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اچھے اور برے کی ساتھ ساتھ پہچان رکھنی چاہیے. اپنے رب سے تعلق قائم رکھنا چاہیے تاکہ انسان سیدھے راستے رہ سکے. اور رب کی رحمتوں کے حصار میں رہے

    @EngrMuddsairH

  • طلبہ کو درپیش مسائل  تحریر: سحر عارف

    طلبہ کو درپیش مسائل تحریر: سحر عارف

    کسی بھی ملک کے طلبہ اپنے ملک کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں ٹھیک ایسے ہی پاکستان کے طلبہ بھی ہمارے ملک کا مستقبل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ طلبہ جب پڑھ لکھ جاتے ہیں تو وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنے ملک کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔

    پر اس کے لیے ضروری یہ ہوتا ہے کہ طلبہ کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے انھیں تمام سہولیات سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر اچھی تعلیم حاصل کرسکیں۔

    آج پاکستان جہاں بہت سے مسائل میں جکڑا ہوا ہے انہیں میں سے ایک مسئلہ طلبہ کو درپیش مشکلات کا بھی ہے۔ اگر پاکستان میں گورنمنٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں اساتذہ تو موجود ہوتے ہیں پر ان کی کارکردگی صفر ہوتی ہے۔ گورنمنٹ سکولوں میں بہت سے اساتذہ بچوں کے ساتھ اکثر زیادتی کر جاتے ہیں۔

    انھیں اچھی تعلیم نہیں دیتے۔ اس کے علاؤہ وہاں طلبہ کے لیے مکمل فرنیچر کی سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اکثر بچے زمین پہ بیٹھ کر پڑھائی کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر پرائیویٹ سکولوں کو دیکھا جائے تو وہاں سہولیات تو ساری ہوتی ہیں پر ان سکولوں کی فیس بہت ہوتی ہے۔

    جس کی وجہ سے کم ازکم ایک غریب کا بچہ تو اچھی تعلیم حاصل نہیں کرسکتا پھر اگر فرض کریں وہ داخلہ لے بھی لے تو وہاں کی مہنگی کتابیں اور دیگر ضروریات کے خرچے تو نہیں اٹھا سکتا۔ اس سب کے سبب بہت سے بچے تعلیم کی دنیا کو خیر باد کہہ دیتے ہیں اور جو باقی پیچھے تعلیم حاصل کرنے کے لیے رہ جاتے ہیں ان میں سے بھی آدھی تعداد کہیں نا کہیں ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔

    ہمارے ہاں تعلیم کو اب بہت مشکل بنا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے بہت سے بچے سکول کا نام سنتے ہی بھاگ جاتے ہیں اور باقی اگر جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے سکولوں کا رخ کرتے ہیں تو بچارے ڈر ڈر کر پڑھتے ہیں۔ پڑھائی کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کرلیتے ہیں کے ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم کو بچوں کے لیے آسان بنانے کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ایک غریب کا بچہ بھی آرام اور سکون سے تعلیم حاصل کرسکے۔

    @SeharSulehri

  • نظام عدل  تحریر  : راجہ حشام صادق

    نظام عدل تحریر : راجہ حشام صادق

    ہر وہ شخص جسے کبھی انصاف نہیں ملا ان انصاف کے پہرے داروں سے۔ جدوجہد آزادی اور قیام پاکستان کے بعد ہی اس ملک کا نظام جاگیرداروں سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں آ گیا اور گزشتہ سات دہائیوں میں اس نظام کو کرپٹ ترین بنا دیا گیا

    ہمارے ہاں عدالتوں کے باہر لگا وہ انصاف کا ترازو آج عدل کی نہیں بلکہ خریدو فروخت کی علامت بن چکا ہے ۔یہاں پر بیٹھنے والے لوگ قانون کے ساتھ ساتھ خود بھی اندھے ہو چکے ہیں۔ہزاروں ، لاکھوں کیس ایسے ہیں جو ایک ماہ میں ختم ہو سکتے لیکن کئی سال یہاں تک کہ نسلیں ختم ہو جاتیں ان کے فیصلے نہیں ہو پاتے۔اب اس کو نظام کی سستی سمجھیں یا پھر نااہل لوگوں کا اس منصب پر موجود ہونا سمجھا جائے ؟

    یہ قانون اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ قاضی کو اپنی ہی عدالت کے باہر جھوٹے گواہ خیریدے جاتے ہیں۔
    قاضی کے پاس بیٹھ کر رشوت لینے والا قانون کو نظر کیوں نہیں آتا۔ جھوٹے گواہوں کو انصاف کی عدالت نہیں دیکھ سکتی ہر جرم عدالتوں کے دروازے کے سامنے ہو رہا ہے ۔ لیکن قانون کے ساتھ اس قانون اور انصاف کے پہرے دار بھی اندھے ہو چکے ہیں ۔کوئی اپنے ضمیر کا سودا کر چکا ہے تو کوئی بغیر میرٹ پر اس منصب پر براجمان ہے ۔یہاں انصاف ملتا نہیں انصاف بکتا ہے۔ امیروں اور جاگیرداروں کی لونڈیاں بنا ہوا ہے یہ انصاف مقدس ادارہ یہاں غریبوں کے لئے قید خانے ہیں اور طاقتور من پسند کے فیصلے لیتے ہیں ۔غریب اور کمزور انصاف کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہمارے انصاف کے اداروں میں بیٹھا یہ مافیا سانحہ ماڈل ٹائون ہو یا سانحہ ساہیوال کسی حق سچ بولنے والے صحافی کا قتل ہو یا سندھ کی بیٹی ام رباب کے خاندان کا قتل ہمیشہ طاقتوروں کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

    اور جب کوئی حق اور انصاف کے لئے آواز اٹھائے تو اسے بغاوت اور غداری کے کیس میں توہین عدالت لگا کر ہمیشہ کے لئے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اس کی تازہ مثال ہمارے ملک کے جانے مانے صحافی مبشر لقمان کا نور مقدم کا کیس ہے ۔سچ کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اعلی عدلیہ کے معزز ججز اپنے کام میں کم دوسرے معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔

    ہمارے ہاں ماضی کے چیف جسٹس صاحب نے انصاف کے لئے کچھ نہ کیا اپنے ادارے میں بہتری نہ کر سکے لیکن ان کو حکومتی معاملات میں کافی دلچسپی رہی۔ موجودہ معزز جج بھی انہی کے نقش قدم پر ہیں ۔انصاف کے نظام کو بہتر کرنے کی بجائے امیروں اور جاگیرداروں کے دلال بننے والے غریبوں کو کیسے انصاف دیں گے ؟ہو کیا رہا ہے حکومتی معاملات ہوں یا کسی اہم ادارے میں تعیناتی کا معاملہ ہو ہماری عدالتوں میں بیٹھے معزز ججز کو کافی دلچسپی ہوتی ہے۔

    ہمارے ملک کا دوسرا بڑا مسلہ کرپشن ہے۔اب کرپشن کی وجہ سے سرکاری لوگوں کو فارغ کیا جائے تو ہماری عدالتیں وہاں بھی اپنی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔اس سرکاری مجرم کو عدالتیں بحال کر دیتی ہیں اربوں کی کرپشن میں ملوث سیاسی مجرم، دہشتگرد اور قاتلوں کو ضمانت پر رہا کرنے والی عدالتیں بوکھے پیٹ کی خاطر دو روٹی چور کو سالوں قید خانے میں ڈال دیتی ہیں۔

    وطن عزیز کو لوٹنے والوں کو ریلیف مل جاتا ہے۔ لیکن ایک بکری چور کو دس سال تک سزا مل جاتی ہے۔ وجہ وہ بیچارہ غریب جو ہے۔اس کے آگے بیچھے جو کوئی نہیں یاد رکھیں جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا خدا ہوتا ہے ۔ اور میرے رب کی عدالت میں انصاف بھی ہوتا ہے کل میدان مہشر اس غریب کا ہاتھ ہوگا اور انصاف کے ٹھیکیدارو آپ کا گریبان ہو گا۔
    کچھ ایسا بھی ہوا ہے ہمارے اس عدالت میں سزائے موت کے فیصلے کے بعد پھانسی لگ جانے والے دو بھائی بے قصور قرار دیئے گئے۔ ایسے نظام سے اس نظام اور قانون کے رکھوالوں سے میں کل بھی باغی تھا میں آج بھی باغی ہوں۔
    ہم ایسے قانون کو نہیں مانتے جس میں عام شہری کو انصاف نہ ملے اور طاقتور اور جاگیرداروں اس قانون کو پائوں کے نیچے روند کر نکل جائے۔

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم اور فضل فرمائیں اور ہمارے اس عدل منصفوں کو ہدایت دیں آمین ثم آمین۔

    @No1Hasham

  • فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر  : راجہ ارشد

    فضیلت رکھنے والی کتاب قرآن مجید تحریر : راجہ ارشد

    استاد کا ادب و احترام بھی اس طرح لازم ہے جس طرح بزرگوں اور والدین کا ادب کرنا فرض ہے۔ معلم استاد کو کہتے ہیں۔ اور ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کو معلم انسانیت بنا کر بھیجا گیا تھا اور علماء آپ ﷺ کے وارث ہیں یعنی علم کو آئندہ آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ استاد روحانی باپ ہوتا ہے جو بچے کی ایسی تربیت کرتا ہے ۔ جو والدین اپنی مصروفیت اور بچے سے لاڈ پیار کی وجہ سے نہیں کر سکتے۔

    آپ اکثر اپنے سکول یا گھر کے مالی کو پودوں کی دیکھ بھال اور کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ وہ پودوں کو کتنی مہارت سے تراشتا ہے۔ارد گرد سے گھاس پھونس اور کانٹے دار کانٹے دار جھاڑیوں کو صاف کرتا ہے۔جس سے ایک تو پودوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔دوسرے وہ اپنی ترتیب کی وجہ سے خوبصورت اور نمایاں نظر آتے ہیں۔بالکل اسی طرح استاد بھی بچے کو اپنی محبت، شفقت، علم اور اعلی کردار جیسی خوبیاں منتقل کرتا ہے۔دنیا میں جتنے بھی بڑے لوگ گزرے ہیں اپنے اساتذہ کا عکس ہوتے ہیں۔استاد ہی نیکی بدی کی پہچان سکھا کر آدمی کو آچھا انسان بناتا ہے۔

    استاد ہمیں دنیاوی علم دیتا ۔علم کے معنی ہیں چیزوں کی حقیقت کو جاننا۔علم ایک ایسا راستہ ہے ۔ جس کے ذریعے آدمی انسانیت کے درجے پر پہنچ جاتا ہے۔ یعنی اس میں آچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی عادت پیدا ہو جاتی ہے ۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر اللّٰہ تعالٰی کی طرف سے جو پہلی وحی آئی وہ بھی علم کے بارے میں تھی ۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر مسلمان پر طلب علم فرض ہے۔

    علم کیا ہے ؟ اس کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے انسان کو تمام مخلوقات فرشتوں ، جنات وغیرہ پر فضیلت اس علم کی وجہ سے دی ہے ۔ ورنہ کھانے پینے سونے جاگنے میں تو جانور اور انسان سب برابر ہیں۔ آپ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو شخص علم کے راستے پر چلتا ہے ۔تو فرشتے اس کے راستے میں اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے۔ اللہ نے ہمیں علم عطا کیا اور دنیاداروں کو دولت کہ علم آدمی کی حفاظت کرتا ہے۔ اور آدمی دولت کی علم کا ذکر کتابوں کے ذکر کے بغیر ناممکن ہے۔کیونکہ حکمت و دانائی کی تمام باتیں کتابوں میں محفوظ ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے بینکوں میں دولت۔ کتابیں علم کا خزانہ ہیں اور خزانوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔مگر کتابوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کا احترام کرنا بھی ضروری ہے ۔اب آپ سوچیں گے کہ کتابوں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے۔وہ ہے ان کا مطالعہ اور عمل ۔ عالم کی فضیلت تمام لوگ پر ایسی ہے جیسی تمام راتوں میں چودھویں کے چاند کی اسی طرح تمام کتابوں پر فضیلت رکھنے والی کتاب قران مجید ہے۔

    @RajaArshad56

  • پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران منشیات فروش گرفتار

    پولیس کے سرچ آپریشن کے دوران منشیات فروش گرفتار

    اسلام آباد پولیس نے اشتہاریوں اور کریمینلز گینگز کے خلاف بڑا آپریشن کیا ہے، آپریشن ڈی آئی جی آپریشنز افضال احمد کوثر کی سپرویژن میں کیا گیا ہے.

    ایس ایس پی آپریشنز ڈاکٹر سید مصطفی تنویر نے کہا ہے کہ رات گئے ضلع بھرمیں بڑا آپریشن کیا گیا ہے، آپریشن کے دوران 13 گینگ ممبران اور 04 اشتہاری گرفتار کرلیے گئے ہیں، آپریشن کے دوران 03 ڈکیت محب اللہ، ذئی علی خان، تحسین گرفتار کیے گئے ہیں، ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، سابقہ ریکارڈ یافتہ منشیات ڈیلر فیاض پٹھان سمیت 03 منشیات ڈیلرز گرفتار کیے گئے ہیں، 25 مشتبہ افراد مزید تفتیش کے لئے تھانہ منتقل کردیے گئے ہیں، بغیر کاغذات 03 کاریں، 51 موٹرسائیکل تھانوں میں منتقل کی گئی ہیں، 162 افراد کے خلاف انسدادی کارروائی کی گئی ہے، اسلام آباد پولیس نے کریمینلز کے خلاف بڑا آپریشن شروع کیا ہے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی.

  • عائشہ عمر اور یاسر حسین کس فلم میں اکٹھے دکھائی دیں گے؟

    عائشہ عمر اور یاسر حسین کس فلم میں اکٹھے دکھائی دیں گے؟

    اداکارہ عائشہ عمر اور یاسر حسین 100 بچوں کے قاتل بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر بننے والی فلم میں کام کرتے نظرآئیں گے، فلم کا نام ’’ان ٹولڈ اسٹوری آف اے سیریل کلر؛ جاوید اقبال‘‘ ہے، فلم کی کہانی پاکستان کے بدنام زمانہ سیریل کلر جاوید اقبال کے گرد گھومتی ہے جس نے 1998 سے 1999 کے دوران لاہور میں 100 سے زائد بچوں کو نہ صرف جنسی طور پر ہراساں کیا تھا بلکہ انہیں مار کر بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو تیزاب میں گلا کر دریا برد کردیا تھا۔

    فلم کے مصنف ابو علیحہ ہیں، ہدایت کاری کے فرائض بھی وہی انجام دیں گے، جب کہ فلم کے کے فلمز پروڈکشن کے بینر تلے تیار کی جائے گی، فلم میں سیریل کلر جاوید اقبال کا کردار یاسر حسین ادا کررہے ہیں، عائشہ عمر فلم میں پولیس آفیسر کا مرکزی کردار ادا کررہی ہیں، جنہوں نے جاوید اقبال کیس کی تفتیش میں اہم کردارادا کیا تھا، عائشہ عمرنے فلم کے حوالے سے شائع ہونے والی متعدد خبریں اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کر کے فلم میں کام کرنے کی تصدیق کی ہے.

    اس سے قبل اداکار و پروڈیوسر شمعون عباسی نے بھی سیریل کلر جاوید اقبال کی زندگی پر ویب سیریز بنانے کا اعلان کیا تھا، تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے کہ شمعون عباسی اب بھی اس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں یا نہیں.

    100 سے زائد بچوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاشوں کو تیزاب میں ڈال کر گلانے والے قاتل جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 میں عدالت نے اسے 100 بار سزائے موت کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجرم اور اس کے ساتھی کو بچوں کے ورثا کے سامنے اسی زنجیر سے پھانسی دی جائے جس سے وہ بچوں کا گلا گھونٹتا تھا.

    اس کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اسی طرح تیزاب کے ڈرم میں ڈالے جائیں، جیسے وہ بچوں کی لاشوں کے ٹکڑے ڈالتا تھا، اس کی نوبت نہیں آئی کیونکہ گرفتاری کے دو سال بعد 9 اکتوبر 2001 کو جاوید اقبال اور اس کا ساتھی لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں مردہ پائے گئے تھے.

  • گلوکارہ نازیہ حسن کی 21 ویں برسی پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

    گلوکارہ نازیہ حسن کی 21 ویں برسی پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا

    گلوکارہ نازیہ حسن کی 21 ویں برسی پر نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا، برصغیر میں پاپ میوزک انڈسٹری کی بانی اور پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نازیہ حسن کے بھائی زوہیب حسن نے بہن کے شوہر اشتیاق بیگ کو موت کا ذمہ دار قرار دے دیا ۔تفصیلات کے مطابق معروف گلوکارہ،کروڑوں دلوں کی دھڑکن نازیہ حسن کے بھائی زوہیب حسن اورشوہر اشتیاق بیگ نے ایک بار پھر ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی ہے۔
    نازیہ کی 21ویں برسی کے موقع پر ذوہیب حسن نے بہن کے قتل کا الزام ان کے شوہراشتیاق بیگ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ نازیہ نے لندن میں حلف کے تحت جو بیان ریکارڈ کروایا تھا کہ اس میں نازیہ نے خود لکھوایا تھا کہ اس کے شوہر نے اسے کچھ کھلایا تھا اوروہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتا تھا ، نازیہ اپنی زندگی میں اپنے ہاتھ سے لکھ چکی تھیں کہ وہ طلاق چاہتی ہیں ۔دوسری جانب نازیہ کے سابق مرزا اشتیاق بیگ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ الزامات کے جواب میں زوہیب حسن پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ نازیہ حسن اور ان کی لندن میں جائیداد ہے جس پر قبضہ کرنے کیلئے ذوہیب اور ان کی فیملی نے یہ سب پلان کیا ہے ۔

  • شرجیل میمن کی بیرون ملک جانے کی درخواست منظور

    شرجیل میمن کی بیرون ملک جانے کی درخواست منظور

    سندھ ہائیکورٹ نے سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی بیرون ملک جانے کی درخواست منظور کرلی ہے۔عدالت کی جانب سے شرجیل انعام میمن کو 30دن کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل میمن کو 10لاکھ روپے زرضمانت جمع کرانے کا حکم دیا۔دوران سماعت نیب نے شرجیل میمن کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔
    نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ شرجیل میمن باہر چلے گئے تو واپس نہیں آئیں گے۔واضح رہے کہ پیپلزپارٹی رہنما شرجیل میمن نے اہلخانہ سے ملاقات کے لیے بیرون جانے کی درخواست کی تھی۔اس سے قبل، سندھ ہائی کورٹ نے شرجیل میمن، ان کی اہلیہ اور ان کی والدہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لیے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی تھی۔نیب نے ایک ریفرنس دائر کر رکھا ہے جس کے مطابق شرجیل میمن کے 2.43 ارب روپے کے اثاثے ہیں اور انہوں نے متعدد رشتہ داروں کے نام پر جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔