Baaghi TV

Author: +9251

  • وصیت سے پرچی تک، اس پر کتاب لکھوں گا، عامر لیاقت

    وصیت سے پرچی تک، اس پر کتاب لکھوں گا، عامر لیاقت

    پی ٹی آئی رہنماء ڈاکٹرعامر لیاقت نے کہا ہے کہ الزام تراشیوں میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وزیراعظم اور ان کی فیملی کو بھی نہیں چھوڑتے ہیں، مجھے بہت افسوس ہوا کہ عبدالقاادر پٹیل یہ کہ رہے تھے کہ ایک خاتون کا نام لیں گے، آپ کیا کسی خاتون کا نام لیں گے، ہم تو لیتے نہیں‌ کسی خاتون کا نام، ورنہ سر محل بھی کسی خاتون کا نہیں رہے گا، ہماری تہذیب اور ثقافت ہم کو یہ نہیں سیکھاتی ہے.

    عامر لیاقت نے مزید کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ سندھ کے اندر مرتضیٰ وہاب ایڈمینیسٹریٹر بن کہ یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ کراچی کے مئیر بن گئے ہیں، یا کراچی کے بہت بڑے سکیل بن گئے ہیں، یا کراچی کے لینڈ لارڈ بن گئے ہیں، ایسا ہوگا نہیں، ابھی ہم موجود ہیں، پرچیاں چلائی ہیں، پرچیوں‌ سے آگئے ہیں، میں سوچ رہا ہوں کہ کتاب لکھوں پرچی سے پرچی تک، وصیت نامے سے پرچی تک، عجیب و غریب وصیت نامہ ہے جو ہمیں آج تک نظر نہیں آتا ہے، اس سے ایک آدمی نکلتا ہے، اسے چئیرمین بنا دیا جاتا ہے، پھر وہ پرچیاں بانٹتا ہے، ہمارا مقصد یہی رہا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود کی جائے، میں آج اپنے فرض سے سبکدوش ہوگیا ہوں.

  • پاکستان اور چین آئرن برادرز، کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی: وزیراعظم

    پاکستان اور چین آئرن برادرز، کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی: وزیراعظم

    اسلام آباد:پاکستان اور چین آئرن برادرز، کوئی طاقت دراڑ نہیں ڈال سکتی:،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ملک وقوم کے عزم متزلزل کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں، دنیا کی کوئی طاقت ہمارے درمیان دوستی میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) خطے میں تبدیلی کا بہترین منصوبہ ہے، اس کی بروقت تکمیل کیلئے پرعزم ہیں۔ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، معاملات مذاکرات سے حل کرنے کے حامی ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے یہ اہم باتیں چینی سفیر نونگ رونگ کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کورونا کے دوران تعاون اور ویکسین کی فراہمی پر چینی حکومت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    اس موقع پر چین کے سفیر نے وزیراعظم عمران خان کو چینی صدر اور وزیراعظم کی جانب سے یوم آزادی پر مبارکباد کا پیغام بھی پہنچایا۔

  • اپنے مسائل کیلئے ہمارے پاس پہنچیں گے تو ہم کام کرسکیں گے، شہلا رضاء

    اپنے مسائل کیلئے ہمارے پاس پہنچیں گے تو ہم کام کرسکیں گے، شہلا رضاء

    پی پی رہنماء شہلا رضاء نے کہا ہے کہ کراچی کے کیسسز میرے پاس ہی آتے ہیں، قرۃ العین کا کیس بھی میرے پاس آیا تھا، ایک ایک کیس پر تین تین گھنٹے کی بحث ہوتی ہے، ہم کراچی میں عوام کی ہر طور مدد کرتے ہیں.

    اسٹاف نرس کے قتل کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کا خاوند قتل کرکے جا رہا تھا، اسے جانے نہیں دیا گیا، قتل کی تصدیق کی ہے، اس کا کیس چل رہا ہے.

    شہلا رضا نے مزید کہا کہ ایک بچی کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی تھی، اس کے گھر والوں نے کمیونٹی کے دباؤ میں کہا کہ کچھ نہیں ہوا ہے، لیکن جب اس بچی نے اصرار کیا تو وہ ہمارے پاس آئی تو ہم نے دوبارہ اس کا کیس کھول دیا ہے، ہم نے کہا کہ ان پر دباؤ تھا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی، ہم تک پہنچیں گے تو ہم کام کرسکیں گے، ہم گھر میں گھس کر بھی یہ کام کررہے ہیں، ہم فالوو اپ بھی کرتے ہیں، ہم ان کی کاؤنسلنگ کرتے ہیں، میاں بیوی، خاندانوں کو بلا کر ان سے بات کرتے ہیں، ان کو پاپند کرتے ہیں کہ پندرہ دن بعد ہمارے دفتر میں چکر لگانا ہے، ایک مہینے کا بھی وقت دیا جاتا ہے، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ گھر بس جائے.

  • اسکاٹ لینڈ میں بچوں کواپنی جنس تبدیل کرنےکی اجازت

    اسکاٹ لینڈ میں بچوں کواپنی جنس تبدیل کرنےکی اجازت

    لندن: اسکاٹ لینڈ میں بچوں کواپنی جنس تبدیل کرنے کی اجازت ،اطلاعات کے مطابق اسکاٹ لینڈ نے اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر چار سال کی عمر کے طلباء کو صنف تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ہے –

    ادھر ذرائع کے مطابق حکومت نے اساتذہ سے کہا ہےکہ وہ بچے کا نیا نام منتخب کرنے یا مختلف ٹوائلٹ استعمال کرنے کی درخواست پر سوال نہ اٹھائیں۔

    سکاٹ لینڈ کی حکومت کا کہنا ہے کہ چار سال کی عمر کے سکول کے بچے جنس تبدیل کر سکتے ہیں اور صنف تبدیل کرنے کے خواہشمند نوجوان شاگردوں کی حمایت اور ان کی بات سننی چاہیے۔ادھر حکومت کی طرف سے اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں ٹرانس جینڈر کتابیں رکھیں۔

    کوئی بھی طالب علم جو فیصلہ کرتا ہے کہ وہ صنف تبدیل کرنا چاہتا ہے اسکاٹش حکومت کے مشورے کے بعد سکول میں اس کی حمایت اور سننی چاہیے۔

    رہنمائی پرائمری اسکولوں میں لاگو ہوتی ہے ، جہاں سب سے کم عمر بچے صرف چار یا پانچ سال کے ہوتے ہیں ، کیونکہ ‘صنفی شناخت کی پہچان اور نشوونما کم عمری میں ہو سکتی ہے’۔

    یہ اساتذہ سے یہ بھی کہتا ہے کہ وہ کسی ایسے بچے سے سوال نہ کریں جو کہتا ہے کہ وہ لڑکے یا لڑکی کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں – اور اس کے بجائے ان کا نیا نام اور ضمیر طلب کریں۔

    سکاٹش ایجوکیشن سیکریٹری شرلی این سومر ویل نے کہا: “یہ رہنمائی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ سکول کیسے ٹرانس جینڈر نوجوانوں کی مدد کر سکتے ہیں جبکہ یہ یقینی بناتے ہوئے کہ تمام طلباء کے حقوق کا مکمل احترام کیا جائے”

    اسکولوں سے کہا گیا ہے کہ انہیں والدین کو مطلع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر کوئی طالب علم انہیں آگاہ کرے کہ وہ صنف 2 تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

    پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ٹرانسجینڈر لوگوں کی کتابیں نصاب میں ڈالیں ، طلباء کو منتخب کرنے کی اجازت دیں کہ کون سا چینجنگ روم یا بیت الخلاء استعمال کریں ، اور صنفی غیر جانبدار وردی متعارف کرانے پر غور کریں۔

    دوسری طرف میرین کالڈر برائے خواتین اسکاٹ لینڈ مہم گروپ کی ڈائریکٹر نے کہا: ‘ٹرانس جینڈر ہونے کے لیے آپ کو صنفی ڈیسفوریا کی تشخیص کرنی ہوگی۔ وہ کیا سوچ رہے ہیں؟ والدین اس دستاویز کو پڑھتے ہوئے بہت پریشان ہوں گے۔

  • ہماری قوم، کنفیوژن کی شکار قوم ہے، شہریار آفریدی

    ہماری قوم، کنفیوژن کی شکار قوم ہے، شہریار آفریدی

    وفاقی وزیر شہریار خان آفریدی نے اسلامک ریسرچ یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوم آزادی 2021 دنیا جو بے یقینی پر اعمتاد کرتی ہے، قوموں کا عروج اور زوال، ہم دنیا میں اس قدر ڈوب چکے ہیں، ہمیں اب عروج اور زوال کا پتہ نہیں ہے، کیونکہ ہم ذات میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہر شخص اپن میں ڈوبا ہوا ہے، اس نے دنیا کو ان کے آسرے چھوڑا جو آنے والی نسلوں اور یوتھ کو ذہنی طور پر کنٹرول کررہے ہیں.

    شہریار آفریدی نے مزید کہا ہے کہ آج یوم آزادی کیلئے بڑے نعرے لگائے جا رہے ہیں، جھنڈے، جھنڈیاں، پرچم، کیا اس سے قومیں بنتی ہیں، قومیں کیسے بنتی ہیں، قومیں تب بنتی ہیں جب ایک ماں اپنی اولاد کیلئے سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہوتی ہیں، پھر وہ ماں بنتی ہے، آنے والی قوم کا ہر شخص کنفیوزکردیا گیا ہے، ہمیں ہر معاملے میں کنفیوز کردیا گیا ہے، آج امت کہاں پر ہے، دنیا آج امت کا مذاق اڑا رہی ہے، ہم لکیر کے فقیر ہوگئے ہیں، دنیا آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہے، دنیا نے تمام قوموں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، میں چاہوں یا نہ چاہوں اندھی تقلید کررہا ہوں، آنے والا وقت آپ کی آنے والی نسلوں کا مستقبل بنائے گا.جو سوتے رہے، کنفیوز رہے، وہ کچھ نہیں کر پائیں گے.

  • کیا “ہواوے” امریکی کمپنی کے ساتھ مل کرپاکستان کے رازچوری کرتاہے؟اہم حقائق سامنے آگئے

    کیا “ہواوے” امریکی کمپنی کے ساتھ مل کرپاکستان کے رازچوری کرتاہے؟اہم حقائق سامنے آگئے

    کیلی فورنیا:کیا “ہواوے” امریکی کمپنی کے ساتھ مل کرپاکستان کے رازچوری کرتاہے؟اہم حقائق سامنے آگئے،اطلاعات کے مطابق کیلیفورنیا کی ایک کمپنی بزنس ایفیشینی سلوشنز ایل ایل سی نے ہواوے پر پاکستان کے سیف سٹی پراجیکٹ کے جان بوجھ کر ان کے تجارتی راز چوری کرنے پر وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    سیف سٹی ایک سرکاری پروجیکٹ ہے جو اندرونی شہر میں خطرے سے دوچار نوجوانوں اور نوجوانوں کو سپورٹ سروسز فراہم کرتا ہے۔اوراب اس کا دائرہ کار ملک کے بڑے بڑے شہروں تک وسیع ہوگیا ہے

    بزنس ایفیشنسی سلوشنز ایل ایل سی نے الزام لگایا ہے کہ چینی ٹیک دیو نے اپنی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے حساس ڈیٹا کے لیے بیک ڈوربیک اپ بنایا ہے جو کہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔

    امریکی وفاقی عدالت میں درخواست دائر کی گئی ہے کہ ہواوے نے امریکی کمپنی کو پاکستان کے سیف سٹی پراجیکٹ کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا۔

    یاد رہے کہ چینی ٹیک کمپنی ہواوے نے 2016 میں BES کے ساتھ 150 ملین ڈالر کی بولی کے ذریعے پاکستان کے سمارٹ سٹی پروجیکٹ کے نام سے ایک سافٹ وئیر تیار کرنے کے لیے معاہدہ کیا تھا جو کہ لاہور میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔

    ہواوے وہ بی ای ایس کا بنایا ہوا سافٹ وئیر پاکستانی حکومتی ایجنسیوں سے ڈیٹا اکٹھا کرتا ہے ، عمارتوں تک رسائی کو کنٹرول کرتا ہے ، سوشل میڈیا پر نظر رکھتا ہے اور ڈرون کا استعمال بھی کرتا ہے ۔

    امریکی وفاقی عدالت میں درخواست میں بی ای ایس نے انکشاف کیا کہ اس نے آٹھ سافٹ وئیر سسٹم تیار کیے ہیں جن میں ملکیتی کوڈ ، ڈیزائن ، ڈایاگرام اور دیگر معلومات شامل ہیں جو “بی ای ایس کے کاروبار کے بنیادی قیمتی تجارتی راز ہیں۔ چنانچہ اس پورے منظر نامے کے دوران ، ہواوے نے کچھ بیک ڈور بنائے جس سے ان کو قیمتی معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملی جو کہ نجی رکھنا تھا۔

    دوسری طرف ہواوے نے کہا کہ تمام معلومات جانچ کے لیے بھیجی گئی تھیں لیکن بی ای ایس نے کہا کہ اس نے ٹیکنالوجی کے استعمال کی اجازت ختم کر دی ہے جب ہواوے نے ٹیسٹنگ لیبارٹری تک رسائی ختم کر دی ہے۔

    امریکی کمپنی نے کہا ہے کہ ہواوے کا یہ کہنا ہے اب ایسا کچھ نہیں ہورہا توپھراس سوفٹ ویئر کا استعمال کیوں جاری ہے

    بی ای ایس نے یہ بھی درخواست میں لکھا ہے کہ ہواوے نےپاکستان کا حساس ڈیٹا اکٹھا کرنے والا سافٹ وئیر انسٹال کرنے کا مطالبہ کیا جو پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے مختلف ذرائع اور حکومتی اداروں سے حساس ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

    امریکی کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہواوے نے یہ جان بوجھ کر لاہور سیف سٹی پراجیکٹ تک مکمل رسائی حاصل کرنے کے لیے کیا گیا تھا نہ کہ صرف جانچ کے لیے۔

    دوسری طرف اس امریکی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جب یہ صورت حال سامنے آئی تو بی ای ایس نے شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی پر معاہدہ ختم کیا تو ہواوے نے کہا کہ اسے پاکستانی حکومت سے منظوری حاصل ہے۔

    اس کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ہواوے پاکستان کا حساس ڈیٹا چوری کرتا ہے اورپھراسے ان قوتوں کوفراہم کرتا ہے جوپاکستان کے خلاف اس ڈیٹا کواستعمال کرسکتے ہیں‌

  • دوحہ میں پاکستان ،امریکہ ،چین اور روس کی افغان وفد سےکیا بات ہوئی؟ اہم خبرآگئی

    دوحہ میں پاکستان ،امریکہ ،چین اور روس کی افغان وفد سےکیا بات ہوئی؟ اہم خبرآگئی

    دوحہ:دوحہ میں پاکستان ،امریکہ ،چین اور روس کی افغان وفد سےکیا بات ہوئی؟ اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق دوحہ میں تین ملکوں کے نمائندوں کے ساتھ افغان وفد اورافغان طالبان کی کیا گفتگو ہوئی اس حوالے سے اہم تفصیلات آگئیں‌

    ٹرائیکا یعنی چین ، پاکستان اورروس کے اراکین نے افغانستان میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور ایک جامع سیاسی تصفیے کے حل اور افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بین الافغان امن مذاکرات کو تیز کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنے پرزوردیا

    ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ افغانستان کے وفود اور ملا برادر کی قیادت میں طالبان نے ٹرائیکا کے ساتھ بھی بات چیت کی۔تین ملکی مشاورتی بورڈ جسے ٹرائیکا کا نام دیا گیا ہے میں شامل ممالک نے بڑے پیمانے پر افغان فریقوں کو مندرجہ ذیل پیغامات پہنچائے:

    جنگ بندی کے لیے تشدد کا خاتمہ سب سے پہلے ضروری ہے ۔افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں

    ۔

    افغان فریقوں کو اپنے امن کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر پیش کرنا چاہیے تاکہ سیاسی روڈ میپ کی طرف پیش رفت ہو۔
    تمام فریقوں کو انسانی حقوق کا احترام کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث نہ ہونے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام لانے کے لیے توسیعی ٹرویکا کے کردار کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان امن عمل کو تیز کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں شروع کرنے کے لیے اس پلیٹ فارم سے وابستہ رہے گا۔

  • نئی یونیورسٹیوں کا قیام کوالٹی کو کم کردے گا، فواد چوہدری

    نئی یونیورسٹیوں کا قیام کوالٹی کو کم کردے گا، فواد چوہدری

    وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اسلامک ریسرچ یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں ایک یونیورسٹی تھی، آج ہمارے پاس دو سو ستراں یونیورسٹیز ہیں، یہ جو دوڑ لگی ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائی جائے، ہمیں اس سے رکنا چاہیے، ہمیں کوالٹی آف یونیورسٹی پر زور دینا چاہیے، جب ہم یونیورسٹی بنائیں تو ہمیں پتہ ہو کہ یہ یونیورسٹی پاکستان کیلئے کنٹریبیوٹ کرے گی، ایک اندھا دھن دوڑ لگی ہے کہ ہر ضلع میں یونیورسٹی بنائی جائے، اس سے آپ کا سٹینڈرڈ نیچے چلا جاتا ہے.

    فواد چوہدری نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صوبوں اور وفاق کو ایک نیا تھیم بنانا ہوگا، آخر ہم اپنی تعلیم کو چاہتے کیسے ہیں، ہم اس کو آگے کیسے لے کر جانا چاہتے ہیں، اس کو اپنی معیشت کے ساتھ جوڑنا ہمارے لیے بنیادی فیصلہ ہوگا، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں زبردست کام ہورہا ہے، لیکن ہماری زراعت، زرعی یونیورسٹی کے ساتھ اس طرح نہیں جڑی جس طرح جڑنا چایئے تھا، عدالتوں میں پتہ نہیں چل کیا رہا ہے کہ ان میں وائس چانسلر کون ہے، ایک عدالت کہتی ہے کہ اس کو رکھ لیں، ایک کہتی ہے کہ اس کو ہٹا دیں، عالتوں کو یونیورسٹی سے علیحدہ رہنا چاہیے، عدالتوں کو ٹیکنالوجی سے بھی دور رہنا چاہیے، ہر کام ہم نے کرنا ہے، لازمی طور پر ایک میکانزم بنانا چاہیے.

  • پاکستان اورامریکہ دونوں افغانستان میں امن کے خواہاں:تعلقات بہترہیں اوربہتررہیں گے

    پاکستان اورامریکہ دونوں افغانستان میں امن کے خواہاں:تعلقات بہترہیں اوربہتررہیں گے

    اسلام آباد:پاکستان اورامریکہ دونوں افغانستان میں امن کے خواہاں:تعلقات بہترہیں اوربہتررہیں گے،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی طرف سے امریکہ کے حوالے سے میڈیا کے سوال کا جواب جو کہ پاکستان کو صرف افغانستان میں گندگی کو دور کرنے کے حوالے سے وضاحتی بیان بھی آگیا ہے

    وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد دونوں ملکوں‌ کے درمیان ایک بار پھر حالات کی بہتری کےلیے کوششیں جاری ہیں اوراس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے قریبی تعاون کے تعلقات کی تاریخ ہے۔ اس باہمی تعاون نے دونوں ممالک کے مفادات کو پورا کیا ہے۔

    ہمارے پاس افغان امن عمل سمیت کئی اہم امور پر خیالات اور مفادات کا یکجا ہونا ہے۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم دونوں سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور ہم دونوں افغانستان میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

    پاکستان اور امریکہ دونوں افغانستان میں ایک جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی تصفیے کی حمایت کرتے ہیں جو کہ ایک افغان کی ضرورت ہے اور جس کی قیادت خود افغان کرتے ہیں۔

    پاکستان نے گزشتہ سال فروری میں افغانستان میں امن کے لیے امریکہ طالبان معاہدے کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    ہم امریکہ کو دوست سمجھتے ہیں اور خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے ہمارے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے وسیع البنیاد تعلقات چاہتے ہیں۔

    ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ نہ تو پاکستان کو کسی دوسرے ملک کے مفاد کے پیش نظر دیکھا جانا چاہیے اور نہ ہی ہمارے تعلقات کو تنگ نظر دیکھا جانا چاہیے۔

    ہم لین دین کے تعلقات کے بجائے طویل مدتی ، وسیع البنیاد ، جامع اور باہمی فائدہ مند شراکت داری بنانا چاہتے ہیں۔

    پاکستان ایسے تمام فیصلے کرے گا اور ایسی پالیسیاں اپنائے گا جو ہمارے قومی مفاد میں ہوں اور خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی میں کردار ادا کریں۔

  • پسند کی شادی کرنے پر لڑکی کے والدین جوڑے کے جانی دشمن بن گئے

    پسند کی شادی کرنے پر لڑکی کے والدین جوڑے کے جانی دشمن بن گئے

    پسند کی شادی کرنے والا خوفزدہ جوڑا 1 سال سے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے، سندھ کی زویا بی بی نے ویڈیو پیغام میں عمران خان سے انصاف کی اپیل کردی ہے.

    زویا بی بی کا کہنا ہے کہ میں نے 1 سال قبل اپنی اور والدہ کی مرضی سے شادی کی ہے، پسند کی شادی کے بعد میرے سسرال والوں پر اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے، میرے 2 دیور کو سندھ پولیس اٹھا کر لے گئی ہے، جنکی جان کو خطرہ ہے، میری والدہ کو بھی ذبردستی سندھ پولیس اٹھا کر لے گئی ہے، میرے گھر والے میری شادی جبراً ایک شادی شدہ شخص سے کرانا چاہتے تھے.

    زویا بی بی کی عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے، میرے سسرال والوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے، جھوٹے مقدمے میں گرفتار کئے گئے دیوروں کو رہائی دلائی جائے.