Baaghi TV

Author: +9251

  • ففتھ جنریشن وار فئیر کا ٹارگٹ ہمارے نوجوان ہیں، مراد سعید

    ففتھ جنریشن وار فئیر کا ٹارگٹ ہمارے نوجوان ہیں، مراد سعید

    وزیر مملکت مراد سعید نے نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد جموع کشمیر اور گلگت بلتستان سے نوجوان پڑھ کر آتے ہیں وہ علامہ اقبال شیلڈ کے مقابلہ میں پہنچتے ہیں، 2009 میں میں نے اسی ہال میں نے آل پاکستان علامہ اقبال شیلڈ کا مقابلہ جیتا تھا، آج وہ یادیں بھی تازہ ہوگئی ہیں، کل آپ کے پاس ایک بڑے انکشافات آئے کہ پاکستان کے خلاف ایک منظم پرپیگنڈہ اور سازش ہورہی ہے، فیک نیوز پھلائی جا رہی ہیں.

    مراد سعید نے مزید کہا کہ جب ہم ہائبریڈ وار کی بات کرتے ہیں، ففتھ جنریشن وارکی بات کرتے ہیں تو نوجوانوں اسلیے ضروری ہے کہ اس کا نشانہ آپ کو بنایا جاتا ہے، انفارمیشن وار فئیر، سائیکلوجیکل وارفئیر، کسی کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو وہ ہمارا نوجوان ہے، ہم سب نے پہلے بھی اس کا مقابلہ کیا ہے، ان شاء اللہ آگے بھی مقابلہ کریں گے، پاکستان نے اس امن کی خاطر ستر ہزار جانوں کا نظرانہ پیش کیا ہے، ہماری معیشت کو ایک سو بیس ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا، ہمارے ساڑھے سات ہزار سیکیورٹی کے جوانوں نے شہادت پائی ہے، اس کے بعد آج جو پاکستان کا امن ہمیں نصیب ہوا، ہم نے دنیا کے امن میں‌ بھی کردار ادا کیا ہے.

  • وطن عزیز اور ہم تحریر راجہ حشام صادق

    وطن عزیز اور ہم تحریر راجہ حشام صادق

    اللہ تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے اچھے اور برے حق اور باطل کے درمیان فرق کی پہچان سکھلائی آزادی کے بعد جس طرح بڑے بڑے جاگیرداروں نے اس ملک خداداد پر اپنا تسلط قائم کیا اس ملک کو اپنی جاگیروں میں تقسیم کر دیا۔

    صوبائی اور لسانیت میں قوم کو منتشر کر کے دلوں میں نفرتوں کے بیج بوئے گئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے دن سے ہی اس کا وجود ختم کرنے کے لئے سازشوں نے جنم لینا شروع کر دیا تھا اقتدار کے لئے عوام کے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا۔ کوئی مذہبی تو کوئی سیاسی میدان میں آ گیا قسمت کے مارے غریب ، مظلوم اور لاچار لوگوں نے جسم کو ڈھانپنے کے لئے اور پیٹ بھرنے کے لئے انگریزوں کے بعد ایک اور غلامی قبول کر لی ۔اس وقت کسی کو یہ شعور نہیں تھا کہ وہ ایک بار پھر اپنی نسلوں کو غلام بنانے چلا ہے۔ فکر تھی تو معاش کی اپنا اور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلانے کی۔

    کسی بھی عام آدمی کے نزدیک ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت جہالت اس قدر تھی کہ ملک کو چند افراد کی جاگیر سمجھتے تھے۔ اس ملک کے مسائل کا حل بھی چند افراد کا حق سمجھتے تھے۔ہماری قوم کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ وہ خود اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر اس ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں۔ لوگوں میں اتنا شعور بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے حق کے لئے آواز اٹھا سکیں۔میرے خیال میں شاید کچھ اس طرح ذہن سازی ہو چکی تھی کہ ہم پیدا ہی غلامی کرنے کے لئے ہوئے ہیں۔

    بس یہی سوچ ہے کہ آج تک چلتی آ رہی ہے اس وقت بھی ہماری قوم نے خود کو اپنے حکمرانوں کا غلام بنائے رکھا اور حکمرانوں نے خود کو دوسرے ممالک کا غلام بنا رکھا ہے۔

    میرے عزیز ہم وطنوں یہی سوچ ایک عام آدمی سے چلتی ہوئی اقتدار کے ایوانوں تک جا پہنچی جو اس قوم کے محافظ تھے۔ اس مٹی اس دھرتی کے آمین تھے وہی بزدل اور غدار ثابت ہوئے۔اور اب بات تیہتر سال بعد اس ملک کو بلیک لسٹ کرنے تک جا پہنچی اس کا عملی مظاہرہ میری قوم نے حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی کے اندر دیکھا جہاں ایک سو نوے افراد نے اس ملک اپنی جان سے پیاری دھرتی ماں کے خلاف نہ صرف ووٹ دیا بلکہ اس وطن عزیز کے وجود اس کی سلامتی کے دشمنوں کو یقین دہانی کروائی کہ وہ آج بھی اپنی مٹی اپنی دھرتی ماں کے غدار ہیں یہ سب دیکھ کر میرا اپنی قوم کی سوچ ان کی ترجیحات پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔

    یاد رکھیں یہ وطن عزیز ہے تو ہم ہیں اس کی سلامتی کے ساتھ ہی ہم سب کا جینا مشروط ہے۔ جس غدار یا بیرونی دشمن نے اس کی طرف میلی آنکھ دیکھا یا اس کی سلامتی پر حملہ کیا ۔تو اس دن اس قوم کا بچہ بچہ اپنی وفاداری ثابت کرے گا۔ جب تک ایک محب وطن زندہ رہے گا وہ اپنی آزادی کی جنگ لڑتا رہے گا ۔ اپنی آزادی کے تحفظ کے حصول کے لئے اس دھرتی پر موجود ہر شخص اپنا دفاع سچے دل اور جذبے کے ساتھ کرتا رہے گا ۔

    لیکن ڈر لگتا ہے اگر اس قوم نے اب بھی اپنا احتساب نہ کیا تو اس وقت بھی خواب غفلت میں رہے تو۔ پھر ہم پر وہ جنگ مسلط کی جائے گی جس کے خلاف اپنی جانوں کی قربانی دینی ہو گی ہمارا زندہ رہنا اس وطن عزیز کی سلامتی کے ساتھ ہے وطن عزیز کی سلامتی اور حفاظت کے لئے ہمیں اب ایک قوم بننا ہو گا۔ اپنی سوچوں کو بدلنا ہو گا حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ہو گا۔

    اللہ تعالٰی سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @No1Hasham

  • گھبرانا نہیں :کپتان کے بعد عثمان ڈار نے بھی نوجوانوں‌ کوامید کی کرن دکھا دی

    گھبرانا نہیں :کپتان کے بعد عثمان ڈار نے بھی نوجوانوں‌ کوامید کی کرن دکھا دی

    اسلام آباد :گھبرانا نہیں :کپتان کے بعد عثمان ڈار نے بھی نوجوانوں‌ کوامید کی کرن دکھا دی ،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی عثمان ڈار کا کہنا ہے کہ کامیاب جوان پروگرام کے لیے 120ارب روپےمختص کیےگئے، اسپورٹس کے لیے اسکالرشپس بھی لارہے ہیں جبکہ ہائی ٹیک 50ہزار اسکالر شپس کو مزید بڑھائیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی عثمان ڈار نے نوجوانوں کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2011میں18ویں ترمیم کے بعد نوجوانوں کےساتھ زیادتی کی گئی ، وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نوجوانوں کوتنہا نہیں چھوڑیں گے۔

    عثمان ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نےکامیاب جوان پروگرام شروع کیا، کامیاب جوان پروگرام کے لیے 120ارب روپےمختص کیےگئے، ہائی ٹیک 50ہزار اسکالر شپس کو مزید بڑھائیں گے۔

    معاون خصوصی نے مزید کہا کہ کھیل اب پہلے کی طرح نہیں رہے یہ سائنس بن گئےہیں، ہماری کوشش ہےکہ وسائل کی کمی کی وجہ سےکوئی نوجوان محروم نہ رہ جائے، کھیلوں میں نوجوانوں کی شرکت کے لیے ٹیلنٹ تلاش کیا جائے گا، اسپورٹس کے لیے اسکالرشپس بھی لارہے ہیں۔

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم سےمتعلق نوجوانوں کےلیےپروگرام شروع کیاجارہاہے، شایدہی کسی جامعہ کاطالب علم کسی قومی ٹیم کاحصہ ہو، کھیلوں کےحوالےسےسینٹرآف ایکسی لینس بنارہے ہیں۔

    شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اسپیشلسٹ اداروں سےجامعات پھرکھیلوں کاگہوارہ بنیں گی، ماضی میں کھیلوں کےشعبےکونظراندازکیاجاتارہاہے، صرف ہایئرایجوکیشن کاادارہ بناناکافی نہیں ہوتا، فیکلٹی سےریسرچ سےجامعات بنتی ہیں۔

  • کائنات کا مالک رب العالمین   تحریر  : راجہ ارشد

    کائنات کا مالک رب العالمین تحریر : راجہ ارشد

    ہمارے ہاں لوگوں کو اس موضوع پر بلکل بھی آگاہی نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے بہت سادہ لوح بہن بھائی کھلی گمراہی کی طرف جلے جاتے ہیں۔
    اللہ تعالٰی ایک ہی ہے اور وہ اپنی صفات میں یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔وہی دینے والا ہے وہی ہے لینے والا ۔اس پوری کائنات کا مالک رب العالمین۔

    لیکن ہمارے معاشرے میں افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہم نے اپنے حقیقی خالق و مالک کو چھوڑ کر ہندوٶں کا فرسودہ طریقہ اپنا لیا ہے ۔جسے وہ ہندو بتوں کی پوجا کرتے ہیں ویسے ہی ہمارے ہاں کے کچھ لوگ قبروں کی پوجا کرنے لگے ہیں۔کبھی یہ دیکھتے کو ملتا ہے کہ کچھ لوگ قبروں سے منتں مرادیں مانگ رہے ہوتے ہیں۔ بیٹا، نوکری، کاروبار میں ترقی مانگی جا رہی ہوتی ہے۔

    جو رب ہمارے دعا کرنے سے خوش ہوتا ہے جو ہماری شہرگ سے بھی قریب ہے جو ہماری دعاوں کو سننے والا ہے ہم سیدھا اس سے کیوں نہیں مانگتے ہیں۔وہ تو کہتا ہے ایک بار سچے دل سے مانگ کے تو دیکھ تیری چھولی نہ بھر دوں تو کہنا۔

    افسوس ہوتا ہے آج ہم اپنے حقیقی اللہ جو رب العالمین ہےکو چھوڑ کر شرک کی طرف جا رہے ہیں۔

    قارئین ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں اللہ تعالٰی سب گناہ معاف کردیں گے بھلے وہ پہاڑ کے برابر کیوں نہ ہوں مگر یہ گناہ کبھی معاف نہیں ہو گا۔
    زرہ سوچیئے اور سمجھیں کہ کون سی ایسی دعا ہے جو ہمارا رب نہیں سنتا ؟ وہ کون سی نعمت ہے جو نعوز باللہ ہمارا اللہ تعالٰی عطا نہیں سکتا جو ہم ان بت نما قبروں سے مانگتے ہیں؟

    قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہم انسانوں کی رہنمائی کےلیے بہترین نمونہ ہیں جن ہر عمل پیرا ہو کر ہر انسان اپنی زندگی سنوار سکتا ہے۔
    ہمارا معاشرہ شرک و بدعات جیسی ایسی غلیظ رسم و رواج میں گر چکا ہے جو ہمارے ایمان کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

    آج کل قرآن مجید و احادیث مبارکہ پڑھانے کے بجائے فقہ کی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کہ کہیں یہ بچہ یا بچی سہی معنوں میں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ پر چل کر یہ شرک و بدعات چھوڑ ہی نہ دے۔فقہ کی کتابوں میں اتنا الجھا دیا جاتا ہے کہ بچہ قرآن مجید و احادیث مبارکہ کی بات کو ماننے سے کتراتے ہیں ۔

    اللہ پاک ہم سب کو قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کو پڑھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں۔
    اللہ پاک ہم سب کو سیدھا راستہ دکھائیں۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

    @RajaArshad56

  • آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تحریر: سحر عارف

    آزادی اللّٰہ تعالٰی کی عطاء کردہ تمام نعمتوں میں سے سب سے انمول نعمت ہے۔ ایک انسان کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں موجود ہوں پر اس کے پاس آزادی سے جینے اور کھلی ہوا میں سانس لینے کا حق نا ہو تو اس کا کیا حال ہوتا ہے اس بات سے آج ہم سب باخوبی واقف ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو ہی دیکھ لیں۔ اس کے علاؤہ برما کے مسلمانوں کی بھی مثال لے لیں۔ آج وہ کہاں اور کس حال میں کھڑے ہیں۔

    معصوم کشمیری ہندوستان کے چنگل میں پھنسیے ہوئے ہیں۔ آئے روز ظلم وبربریت کا نشانہ بنتے ہیں۔ وہاں کی سڑکیں ہر وقت مظلوم کشمیریوں کے خون سے بھیگی ہوتی ہیں۔ پھر دوسری طرف فلسطین کے مسلمان جو اسرائیل کی حیوانیت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

    آزادی کا صحیح مطلب بھی انھیں لوگوں کو پتا ہوگا کہ آزاری کسے کہتے ہیں؟ اور اپنا ملک کیسا ہوتا ہے؟ ہم جیسے لوگ تو آج بھی اپنے ملک کی ناقدری کرتے ہیں۔ ہمیں تو سب کچھ پہلے سے ہی پلیٹ میں سجا سجایا ملا ہے۔ قربانیاں تو ہمارے بزرگوں نے دی تھیں اور مشکلات سے دوچار بھی وہی ہوئے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگ کس قدر آرام سے اپنے ہی ملک پر تنقید کرجاتے ہیں۔

    کہ اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے؟ یہاں تو بےشمار برائیاں ہیں۔ پر ہم یہ نہیں سوچتے کہ پاکستان کا اصل دیوالیہ نکالنے والے بھی ہم ہی خود غرض لوگ ہیں۔ بجائے اس کے کہ اپنے بچوں جذبہ حب الوطنی پیدا کریں۔

    انھیں ہم اپنے بزرگوں کی دی ہوئی اس ملک کے لیے قربانیوں سے روشناس کروائیں۔ انھیں یہ بتائیں کہ آج ہم جو یوں آزادی سے پاکستان میں رہ رہے ہیں اس سے قبل ہمارے آباؤ اجداد نے ہندوستان میں کیسی دردناک اور ذلت بھری زندگی گزاری تھی۔ پل پل ہندوؤں اور انگریزوں کی غلامی میں کاٹے تھے۔ پھر ہمارے اصلی ہیروز علامہ محمد اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح جیسے لوگوں نے کس طرح سے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے حق کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں کا مقابلہ کیا تھا۔

    کس قدر محنت کر کے ہمارے لیے الگ وطن پاکستان حاصل کیا۔ ہم آج اپنے بچوں کے سامنے بیٹھ کر اسی ملک میں سے سو سو کیڑے نکالتے ہیں۔ انھیں کہتے ہیں کہ یہاں کی تعلیم اچھی نہیں ہے، یہاں تم لوگوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے اور پھر انھیں بیرون ممالک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد دل میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقع ہی آزادی کے حقدار تھے؟ کیونکہ ہم اپنی ان حرکتوں کی وجہ سے اپنے رب کی دی ہوئی آزادی جیسی نعمت پہ ہمیشہ ناشکری ہی کرتے ہیں۔

    اللّٰہ نے ہمیں اتنا خوبصورت ملک دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی فلاح وبہبود کے لیے کام کریں۔ ہر وقت اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہے۔ اپنے بچوں کو اس پاک دھرتی سے محبت کرنا سیکھائیں اور ہر اس آنکھ کو نوچ ڈالنے کا جذبہ خود میں اور اپنی نسلوں کے اندر پیدا کریں جو ملک پاکستان کی طرف کبھی بھی میلی آنکھ سے دیکھنے کا سوچے۔

    ہم زیادہ نہیں تو کم از کم اپنے ملک کا اتنا سا تو حق ادا کر ہی سکتے ہیں جو ہر وقت ایک ماں کی طرح ہمیں خود میں محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    @SeharSulehri

  • پارلیمنٹ میں ہنگامہ:اپوزیشن کا لوک سبھا میں احتجاج :سیکورٹی والوں نے کیا علاج

    پارلیمنٹ میں ہنگامہ:اپوزیشن کا لوک سبھا میں احتجاج :سیکورٹی والوں نے کیا علاج

    نئی دہلی:پارلیمنٹ میں ہنگامہ، اپوزیشن کا لوک سبھا میں احتجاج :سیکورٹی والوں نے کیا علاج ،اطلاعات کے مطابق پیگاسس جاسوسی معاملے پر حکمران جماعت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل جاری ہے اور اس کی وجہ سے پارلیمنٹ کا مون سون سیشن بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

    ادھر کانگریسی رہنما راہول گاندھی نے انکشاف کیا ہےکہ لوک سبھا میں خواتین ممبروں‌ کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے اوردیگرمعزز ممبران پرتشدد کرنے والے سیکورٹی اہلکار نہیں بلکہ آرایس ایس کے غنڈے تھے جن کو سیکورٹی اہلکاروں کی وردیاں پہنائی گئی تھیں

     

    دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے کہ اگریہ جمہوریت ہے توپھربھارت میں ایسی جمہوریت سے بہترڈکٹیٹرشپ ہے جہاں کسی کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی جاتی

    ادھر اپوزیشن رہنماوں نے اسپیکرلوک سبھا کی طرف سے سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعے ممبران کودھکے دے کر معزز ایوان سے باہرنکالنے کا معاملہ شدت اختیارکرگیا ہے ،

    یاد رہے کہ بھارتی لوک سبھا میں مانسون سیشن میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے ابھی تک کارروائی ملتوی ہوتی رہی ہے۔ بدھ کو بھی اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا کو 12 بجے اور پھر 2 بجے تک ملتوی کرنا پڑا۔

     

    دوسری طرف 12 بجے لوک سبھا کی کارروائی کے دوران اپوزیشن نے لوک سبھا میں اسپیکر کی کرسی پر کاغذ کے ٹکڑے پھینکے۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے اسے جمہوریت کے لیے شرمناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام پارلیمنٹ کے اجلاس کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کے مسائل پارلیمنٹ میں اٹھائے جائیں۔

    آج کانگریس اور ٹی ایم سی کے اراکین اسمبلی نے ہنگامہ آرائی کی ۔ کاغذ کا ٹکڑا پھینکنا جمہوریت کے لیے شرمناک واقعہ ہے۔ پیگاسس جاسوسی کیس اور کچھ دیگر مسائل بشمول مرکزی زرعی قوانین پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے لوک سبھا کو ایک بار ملتوی کرنے کے بعد 2.30 بجے تک ملتوی کر دیا گیاتھا لیکن شروع ہوتے پھرمارکٹائی کا سلسلہ شروع ہوا جس کے بعد اب تک معاملات بہت گڑبڑ دکھائی دیتے ہیں

     

    اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے پلے کارڈ اٹھا کر نعرے بازی کی اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کارروائی کو ملتوی کرنا پڑا۔دوپہر 12 بجے تک ملتوی ہونے کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی شروع ہوئی۔ مانسون سیشن میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری تعطل کے درمیان راجیہ سبھا نے بدھ کو پہلی بار وقفہ سوالات کا وقت منعقد کیا جس میں مختلف وزراء نے ارکان کے ضمنی سوالات کے جوابات دیئے۔

    وقفہ سوال کے دوران ارکان نے اضافی سوالات پوچھے اور ان کے جوابات وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری، شہری ہوا بازی کے وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا، بھوپندر یادو نے دیئے۔ تاہم اس دوران اپوزیشن اراکین نے ہنگامہ آرائی جاری رکھی

  • کیا کرونا بھی نیب کا پھیلایا ہوا ہے؟ چئیرمین نیب کا طنز

    کیا کرونا بھی نیب کا پھیلایا ہوا ہے؟ چئیرمین نیب کا طنز

    نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ سب کو حالات کا علم ہونا چاہیے، متعلقہ قانون کا علم ہونا چاہیے، اگر آپ گالیوں سے نوازیں گے تو اس میں نیب کا کیا فائدہ ہوگا، میں گزارش کروں گا کہ تنقید ضرور کریں لیکن حقائق کو دیکھ کر کریں، الزامات اتنے تواتر سے لگ رہے ہیں کہ جواب دینے کا وقت نہیں ملتا ہے، کرونا نیب نے پھیلایا ہے اس ایک الزام کے سوا سارے الزام نیب پر لگائے جا رہے ہیں.

    جاوید اقبال نے مزید کہا ہے کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ آپ کا ایمان ہو کہ ایک ایک قول اور فعل کا جواب اپنے رب سامنے دینا ہے، تو آپ کبھی غلط کام نہیں کرتے ہیں، ایک چپڑاسی سے لے کر نیب چئیرمین تک یہ ہمارے ایمان کا حصہ رہا ہے، ہم اپنے قول اور فعل کیلئے اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہیں، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نیب نے کوئی زیادتی کی ہے تو عدلیہ آزاد ہے. عدلیہ موجود ہے، مضبوط عدلیہ ہے، آپ انکے پاس جائیں اور کہیں کہ نیب نے زیادتی کی ہے، ہمارے کیس کو ختم کیا جائے، وہ اسلیے عدالتوں سے رجوع نہیں کرتے کہ یہ کیس بے بنیاد نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ نیب کسی کے خلاف بے بنیاد کیس کیوں بنائے گا، ہماری ذاتی کسی سے کیا دشمنی ہے، نوے فیصد کیس ایسے ہیں کہ میں جانتا بھی نہیں کہ کیس کن کے خلاف بنے ہیں، لیکن جب بھی کوئی ریفرنس ریجن سے آیا ہے، میں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر اس کا مطالعہ کیا ہے.

  • ایس او پیز کی دھجیاں سیاستدانوں نے اڑائیں :اسدعمر

    ایس او پیز کی دھجیاں سیاستدانوں نے اڑائیں :اسدعمر

    اسلام آباد: ایس او پیز کی خلاف ورزیاں عام لوگوں سے نہیں‌ سیاستدانوں کی طرف سے ہوئیں:،اطلاعات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہےکہ ایک سال میں کورونا ایس او پیز کی بدترین خلاف ورزیاں سیاستدانوں کی طرف سے آئی ہیں۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسد عمر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات چند ماہ ملتوی کرنے کی سفارش کی تھی اور انتخابات سے پہلے ایک خصوصی ویکسی نیشن مہم چلانے کا کہا تھا لیکن اس بات سے اتفاق نہیں کیا گیا۔

     

     

    انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد سے آزاد کشمیر میں کوروناکیسز کی شرح میں اضافہ ہوا اور علاقے میں اب کیسز کی شرح 25 سے 30 فیصد کے درمیان چل رہی ہے، آزاد کشمیر میں کورونا پھیلاؤ میں انتخابات نے سپراسپریڈر کے طور پر کام کیا ہے۔

     

    این سی او سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ بلاول دھمکی دے رہے تھے کہ کراچی میں کورونا پھیلتا ہے تو ذمہ دار وزیر اعظم اور وزرا ہوں گے، اب پی ڈی ایم نے کراچی میں اس ماہ جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ ایک سال میں کورونا ایس او پیز کی بدترین خلاف ورزیاں سیاستدانوں کی طرف سے آئی ہیں۔

    یاد رہےکہ اس دوران ایسے سیکڑوں واقعات سامنے آئےجن میں یہ دیکھا گیا کہ بڑے ، امیرزادوں اورایسے ہی سیاستدانوں کی طرف سے کورونا سے بچاو کی حفاظتی تدابیرکی دھجیاں بکھیری گئیں جس کی وجہ سے عامتہ الناس بھی متاثرہوئے

  • پاکستان میں آئی ٹی کے شعبہ کا ابھی آغاز ہے، پرویز خٹک

    پاکستان میں آئی ٹی کے شعبہ کا ابھی آغاز ہے، پرویز خٹک

    وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم بڑھ گئی ہے، ان کو آئی ٹی کے جدید مواقع دیے جانے چاہیں، ہمارے ملک میں نوجوانوں کے پاس بہت ٹیلنٹ ہے، ٹیلی نار کے ساتھ ایک معاہدہ ہونے جا رہا ہے، یہ بہت بڑا قدم ہے، مستقبل میں ہمارے صوبے کے دیہاتی علاقوں کیلئے بہتر ہوگا، ہماری حکومت نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پوری کوشش کی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو آگے بڑھائیں، آج سے پہلے اتنی توجہ نہیں دی گئی تھی، ہم یہ اس لیے کررہے کہ آج کے جو تقاضے ہیں ان کو پورا کیا جائے.

    پرویز خٹک نے مزید کہا کہ ہم دنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں، ہم تو ابھی آغاز کررہے ہیں، مجھے امید ہے کہ جتنی محنت ہمارے آئی ٹی منسٹر کررہے ہیں، بہت آگے جائیں گے، آج مقابلے کی دنیا ہے، ہماری طرف سے پوری سپورٹ ہوگی، جو بھی ہو اس کو آگے بڑھائیں، یہ ہمار ملک کی بھی ضرورت ہے، دنیا اس کے بغیر آج چل نہیں سکتی ہے، میں‌‌ آج کے جو بچے دیکھ رہا ہوں یقیناََ بہت زبردست دماغ کے حامل ہیں، اگر اس دماغ کا صحیح استعمال کیا گیا تویہی ہمارے ملک کا مسقبل ہونگے، ہمارے ملک میں پنتالیس فیصد سے زیادہ نوجوان ہیں، اگر ہم آئی ٹی میں آگے جا سکے تو ہم ان کا مستقبل سنبھال سکیں گے، اس میں پیچھے رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم پہلے ہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں.

  • اشرف غنی کےاستعفی تک طالبان حکومت سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے، وزیراعظم عمران خان

    اشرف غنی کےاستعفی تک طالبان حکومت سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے، وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد:اشرف غنی کےاستعفی تک طالبان حکومت سے بات چیت نہیں کرنا چاہتے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ افغان طالبان اشرف غنی کے ہوتے ہوئے مذاکرات پر راضی نہیں، افغان حکومت امریکا کو دوبارہ لانے کی کوشش کر رہی ہے، امریکا سمجھتا ہے پاکستان صرف 20 سال کا گند صاف کرنے کیلئے ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن پاکستان پر طالبان سے ڈیل کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، موجودہ حالات میں افغانستان کا سیاسی تصفیہ مشکل نظر آتا ہے، یہ اس لیے مشکل لگ رہا ہے

     

    عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ کئی ماہ پہلے جب طالبان کی سینئر لیڈرشپ کسی تصفیے پر پہنچنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئے تھے، اس وقت ان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ معاملے کا کوئی سیاسی حل تلاش کیا جائے، جس پر طالبان نے کہا کہ جب تک صدر اشرف غنی یہاں موجود ہیں، وہ افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو انارکی کی طرف سے جانے سے روکنے کے لیے صرف سیاسی حل ہی ہے، افغان حکومت اپنی شکست کا ذمہ دار امریکا اور حتی کہ پاکستان کو سمجھتی ہے اور وہ کسی نا کسی طرح امریکیوں کو دراصل دوبارہ مداخلت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا ہم واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان میں امریکا کا کوئی فوجی اڈا نہیں چاہتے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر قرار دینے کے باعث امریکا کا رویہ پاکستان کے ساتھ تبدیل ہو گیا ہے۔غیر ملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا میں سمجھتا ہوں امریکا نے بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر منتخب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور بھارت کو اسٹریٹجک پارٹنر قرار دینے کے باعث امریکا کا رویہ پاکستان کے ساتھ تبدیل ہو گیا