Baaghi TV

Author: +9251

  • ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    ہمیں ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا تحریر: سحر عارف

    اردو جو کہ قیام پاکستان سے ہی پاکستان کی قومی زبان بن گئی یا یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ اردو پاکستانیوں کی پہچان بن گئی۔ ایک دور تھا کہ جب پاکستانی اردو بولنے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے سکولوں، کالجوں میں شوق سے اردو بولتے اور سیکھتے تھے۔ اس وقت اردو زبان کو بہت اہمیت حاصل تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں اردو زبان کو بہت ترقی بھی حاصل رہی۔

    اردو زبان کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے ادیبوں اور شعراء کا ہے جنہوں نے اپنی بے انتہا محنت سے اردو زبان کے لیے کام کیا۔ بے شک یہ ان کی اپنی زبان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اب یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اردو کو آج بھی اتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا باحثیت قوم ہم آج اپنی قومی زبان کا حق صحیح سے ادا کررہے ہیں؟ کیا اپنی زبان کو پیچھے چھوڑ دینے سے اور اسے بھول جانے سے ہم دنیا میں اپنی پہچان بنا پائیں گے؟ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے آخر اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    آج اکیسویں صدی میں اردو زبان کافی حد تک اپنا مقام کھو چکی ہے۔ جہاں صدیوں پہلے اردو بولنے، لکھنے اور سننے کا ذوق زور وشور سے ہوا کرتا تھا آج وہیں بہت سے پاکستانی کو انگریزی بولنے، سننے اور لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    یہاں تک کہ اگر کوئی بچہ اردو میڈیم اسکول سے تعلیم حاصل کر رہا ہو یا پھر کوئ اردو مضمون میں ڈگری لے رہا ہو تو لوگ انھیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں انھیں اتنی اہمیت نہیں دی جاتی جو سائنسی مضمون پڑھنے والے بچوں کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاؤہ آج کے دور میں پڑھے لکھے ماں باپ اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی انگریزی زبان سیکھنی شروع کر دیتے ہیں جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہوکر اچھی انگریزی بول سکے۔

    یہی وجہ ہوتی ہے کہ بہت سے بچے اپنی مادری زبان سے دور ہوجاتے ہیں اور پھر جب ان کے سامنے کوئی دوسرا اردو بولتا یا لکھتا ہے تو اسے بچے خود سے حقیر سمجھتے ہیں اور یوں معاشرہ بگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ جو قومیں اپنی زبان، اپنی ثقافت کو اپنے ہاتھوں کھو دیتی ہیں وہ پھر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی صرف اور صرف زوال کا شکار ہوتی ہیں۔

    بس اب تو ڈر اس بات کا ہے کہ ناجانے اردو کا مستقبل کیا ہوگا؟

    زبانیں کاٹ کہ رکھ دی گئی نفرت کے خنجر سے
    یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟
    ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
    ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا؟
    (فیض احمد فیض)

    @SeharSulehri

  • واٹس ایپ  اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    واٹس ایپ اور ہمارا استعمال .تحریر: امان الرحمٰن

    محترم پاکستانیو دُشمن اپنا ہر حربہ استعمال کر رہا ہے اور جدید دور میں جدید ہتھیاروں سے پاکستان کہ خلاف ہر محاذ پر متحرک ہےاور یہ وہ ہتھیار نہیں کہ بندوق ، ٹینک یا ہوائی جہاز لیکر ہم پر حملہ آور ہے، ہم اب ففتھ جنریشن وارجیسی جنگ کے نرغے میں ہیں لیکن ایسے میں ہمیں انفارمیشن وار کا استعمال کر تے ہوے ہمیں ففتھ جنریشن وار کو اچھے سے لڑنے کی پوزیشن بنانا ہے۔
    دشمن پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے اِس دور میں انفارمیشن وار کو بھرپور انداز میں سوشل میڈیا پرمتحرک ہے۔ اور ایسے میں پاکستانی سوشل میڈیا کے بے شُمار پاکستانی بھی دُشمن کے سامنے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہُوے دشمن کو جواب دے رہے ہیں لیکن پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ زیادہ ایکٹو ٹویٹر اور فیسبک پر جواب دے رہے ہیں لیکن یہ ماننا پڑے گا کے واٹس ایپ پر ہم اُتنا ایکٹیو نہیں ہیں اور نہ ہی حکومت اِس طرف توجہ دیتی دکھائی دے رہی ہے ۔

    دُشمن واٹس ایپ پر فرقہ وارانہ لٹریچر پھیلا رہا ہے اور مختلف واٹس ایپ گروپوں میں سُنیوں کو شیعہ کے خلاف جھوٹ پر مبنی اور شیعہ کہ خلاف جُھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ہمارے بہت سے وہ پاکستانی اِس جھوٹے پروپیگنڈے سے پاکستانیوں کے دمیان تفرقہ ڈالنے کیلئے بہت زیادہ کام کر رہے ہیں جو بنا تحقیق کےایسا جھوٹا مواد آگے شیئر کرتے ہیں اور اِسی طرح دشمن کا پھیلایا جھوٹا پروپیگنڈہ واٹس ایپ پر بہت جلد بہت سارے لوگوں تک پہنچ جاتا ہے کیسے۔۔؟

    وہ اِس طرح کے واٹس ایپ ہر بچے کے موبائل میں انسٹال ہے اور چھوٹے بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں اور بحیثت مسلمان ہمارے بچے جلد طیش میں آجاتے ہیں اور اِس لٹریچر کو جلدی جلدی اپنے دوستوں کو کزن وغیرہ کو سینڈ کرتے ہیں اور وہ لٹریچر جلد ہی سینکڑوں ہزاروں پاکستانی بچوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن بڑے بھی کم نہیں ہیں وہ بھی یا تو جزبات میں یا کم علمی کی وجہ سے بنا تحقیق کیئے آگے شیئر کر دیتے ہیں تو لہٰذا ہمیں اِس چیز پر خاص طور پر بہت ذیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے اورایسے مواد کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

    ہمیں چاہئے کے اپنے بچوں اور بڑے دوستوں کو اپنے عزیز و اقارب کو اِس مسلہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہے بلکہ یہ ذہن نشین کر لیں کہ اِسے روکنا بھی ہے کیوں کے نبیﷺ نے فرمایا ہے کے جب تم تک کوئی ایسی بات پہنچے تو پہلے تحقیق ضرور کر لیا کرو کے کیا یہ بات سچ ہے۔؟ اور جب تسلی کرلو تو تب وہ بات آگے پہنچاؤ۔ لیکن یہاں ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل ہے جیسے ہی کچھ رسیو ہوتا ہے پڑھتے ساتھ آگے شیئر کر دیتے ہیں اور جس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ ہم انجانے میں گناہ بھی کر رہے ہوتے ہیں جو ہمارے ایمان کیلئے بھی خطرہ ہے اور مُعاشرے کے بگاڑ کیلئے بھی۔ کیوں نہ ہم خود سے آج ایک عہد کریں کہ ہم نے اب ایک ذمہ دار شخص بن کر اپنے ملک اور مُعاشرے میں بہتری لانے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے اور ہر اُس بری بات کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے اور ہر اچھے اور مثبت تحریر کو چاہے وہ پوسٹ کی شکل میں ہو یا کسی تحریر میں میں اچھائی کو عام کروں گا اور بُری اور ایسی کسی بات کام کا حصہ دار نہیں بنوں گا ، یقین کیجئے یہی بگاڑ جو ہمارے معاشرے میں ایک عام اور معمولی حصیت اختیار کر چُکا ہے یہ ختم ہوجائے گا جیسے قطرہ قطرہ پانی سے دریا بن جاتا ہے ایسے ہی ہم قطرہ قطرہ کر کے اپنے اِرد گرد پھیلتی برائی اور دشمن قوتوں کے منفی پروپیگنڈے کا ناکام بنادیں گے اِن شاء اللہ ۔

    ہمیں ایک ذمہ دار مسلمان اور پاکستانی بن کر اِسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہُوے اپنانا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
    پاکستان کی آرمی پاکستان کے بارڈرز کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم سولین پاکستانیوں کو اپنے اندر کہ حالات سنبھالنا ہے ایسے ہی اپنے ارد گرد میں دُشمن کو جواب دینا ہے جو ہمار اندر گُھسا بیٹھا ہے اور ہم نے اُسے حکمت سے اپنے جزبات کو قابو رکھتے ہُوے تگڑا جواب دینا ہے اِن شاء اللہ
    پاک افواج زندہ آباد
    پاکستان پائندہ آباد

  • ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    ‏شکریہ ادا کرنا سیکھیں تحریر ام سلمیٰ

    اکثر اوقات ہم سڑک پے جاتے ہوئے لوگو کو روک کر راستہ پوچھتے ہیں۔ اور پھر جیسے ہی ہمیں مطلوبہ جواب ملتا ہے ہم اپنی راہ لیتے ہیں ایک لمحے کے لیے اگلے کا شکریہ ادا نہں کرتے اور بڑھ جاتے ہیں جیسے ہمارا کوئی ملازم کھڑا تھا ہم بلایا اور راستہ پوچھ لیا.
    بہت سی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے شکریہ ادا کرنا اور لوگوں اور ہماری زندگیوں میں موجود چیزوں کے لیے شکریہ ادا کرنا ضروری ہے ، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ شکر گزار ہونا آپ کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے؟ یہاں ایک فہرست ہے جن وجوہات کے لیے ہمارا شکر گزار ہونا بہت اچھا ہے!

    اور سب سے اچھی بات یہ کے آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو خوشی دیتا ہے اور ان میں اچھا کام کرنے کی تحریک پیدا کرتا ہے ایک اچھے معاشرے کے لیے یے سود مند ہے.

    آپ دوسرے لوگوں کو اچھا محسوس کرتے ہیں جب آپ انہیں دکھاتے ہیں کہ آپ ان چیزوں کی تعریف کرتے ہیں جو وہ آپ کے لیے کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھے دوستوں کو بہترین دوست بنا سکتا ہے۔ ایک سادہ "شکریہ” بہت آگے جاتا ہے اور آپ کو بہتر دوستی میں مدد دیتا ہے ، اور آپ اپنے خاندان کے ساتھ اپنے دوستوں کے ساتھ رشتوں میں اور رابطوں میں اور بھی بہتر ہو جاتے ہیں۔ جب آپ دوسروں کے بارے میں اچھا محسوس کرتے ہیں ، تو یہ آپ کو اچھا لگتا ہے اور پھر سب کو اچھا لگتا ہے!

    شکر گزار ہونا آپ کو اعتماد دیتا ہے۔ اسی طرح آپکا شکریہ ادا کرنا دوسروں کو بھی اعتماد دیتا ہے.

    جب آپ اپنی زندگی کی چیزوں کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر یہ ایک خوبصورت غروب آفتاب جیسی آسان چیز ہے اس کو دیکھتے ہوئے اچھا محسوس کریں اور رب تعالیٰ کا شکر ادا کریں تو آپکو سکون ملتا ہے تو اس طرح شکر آپ کو زیادہ خود اعتمادی دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دوسروں سے اپنے آپ کا موازنہ کرنے کے بارے میں زیادہ پراعتماد اور کم پریشان ہوں گے۔ شکر گزار ہونا اچھی عادت ہے اس عادت کو دیکھ کر دوسرے بھی آپ کی طرح شکر گزار ہونا چاہیں گے.

    شکرگزاری آپ کی سوچ کو مثبت اور آپکو اچھا انسان بناتی ہے۔

    شکر گزار لوگ منفی کے بجائے زیادہ مثبت ہوتے ہیں۔ جب وہ پانی کے ساتھ ایک گلاس دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ منفی لوگ پانی کا وہی گلاس دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ آدھا خالی ہے۔ ہم جو پانی ہے اس کے لیے شکر گزار بننا چاہتے ہیں ، اس پانی کی فکر نہ کریں جو نہیں ہے۔

    سب سے اچھی بات آپکا شکر گزار ہونا آپ کو بہتر سونے میں مدد دے سکتا ہے۔

    اگر آپ ڈائری لکھتے ہیں تو ہر دن کے اختتام پر آپ ان تمام چیزوں کی فہرست لکھیں جن پر آپ اس دن کے شکر گزار ہیں تو آپ کو بہتر نیند آئے گی۔ اس سے آپ کو اپنے دن کی تمام اچھی چیزوں کو یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے ، جیسے آپ کے کھانے میں لذیذ بریانی یہ اپنی پسند کا کھانا کھایا اور شکر ادا کیا ، یا وہ دوست جس نے آپ کے اسکول کے کام میں آپ کی مدد کی ہو اور آپ نے اِسکا خوشی سے شکریہ ادا کیا ہو تو جب آپ یاد کریں گے آپ بڑی مسکراہٹ کے ساتھ خوشی اور سکون سے سو جائیں گے.

    یہ صرف آپ کو خوش نہں کرتا بلکہ جس شخص کا آپ شکریہ آدا کر رہے ہیں اسے بھی خوش کر دیتا ہے.
    شکر گزار ہونا آپ کو زندگی کے مشکل وقت سے گزرنے میں بھی مدد کرتا ہے ، کیونکہ آپ اپنی زندگی کی تمام اچھی چیزوں کو آسانی سے ذہن میں رکھ سکتے ہیں۔ شکر گزار ہونا آپ کو خوش کرتا ہے اور خوش رہنا آپ کے دماغ اور جسم کو صحت مند رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے!

    شکریہ ادا کریں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے.

    ‎@salmabhatti111

  • پنجاب میں لاک ڈاؤن کے ترمیمی نوٹس کا نفاذ

    پنجاب میں لاک ڈاؤن کے ترمیمی نوٹس کا نفاذ

    این سی او سی کی اور گورنمنٹ پنجاب کی سفارشات کے مطابق پنجاب کے منتخب اضلاع میں لاک ڈاون لگایا گیا ہے، سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئرسارہ اسلم نے 3 اگست کے لاک ڈاون آرڈر میں ترمیم کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے.

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کی پالیسی بقایا تمام سیکٹرز پر3 اگست کے نوٹیفکیشن کے مطابق یکساں نافذ العمل ہوگی، ترمیم شدہ لاک ڈاون آرڈر09 اگست سے 31اگست تک نافذالعمل رہے گا، نوٹیفیکیشن کا اطلاق لاہور، راولپنڈی، ملتان اور فیصل آباد کے علاقوں میں ہو گا، منتخب اضلاع میں 9 اگست سے ان ڈورشادی کی تقریبات پرمکمل پابندی عائد ہوگی، ترمیم کے مطابق آوٹ ڈور شادی کی تقریبات میں صرف 300 افراد کے ساتھ رات 10:00 بجے تک کرنے کی اجازت ہوگی، تمام قسم کی مذہبی، ثقافتی اور دیگر تقریبات کو انڈور منعقد کرنے پر پابندی ہوگی، ضلعی انتظامیہ اور پولیس مل کران ایس او پیز کا اطلاق یقینی بنائیں گے.

    سیکٹری سارہ اسلم نے مزید کہا کہ تمام شہری ماسک کی پوری طرح پابندی کریں گے، عوام سے گزارش ہے کہ ماسک پہنے، بار بار ہاتھ دھوئیں، تمام ایس او پیز پرسختی سے عمل کریں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں اور ماسک کا استعمال لازمی کریں، صرف اور صرف ویکسینیشن ہی کورونا وائرس کے خلاف واحد اور موثرعلاج ہے، 18سال سے زائد عمرکے تمام شہری کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لازمی اور فوری لگوائیں، تمام سنٹرز پر ویکسین وافرمقدار میں موجود ہے.

  • کراچی میں مختلف اداروں‌ کے تعاون سے ویکسینیشن کررہے ہیں، علی زیدی

    کراچی میں مختلف اداروں‌ کے تعاون سے ویکسینیشن کررہے ہیں، علی زیدی

    وفاقی وزیر رہنماء‌ علی زیدی نے کہا ہے کہ 2017 اور 2018 میں‌ پورٹ قاسم میں 6 ارب روپے کا منافع حاصل کیا تھا، 2020 اور 2021 میں پورٹ قاسم نے 8 ارب کا ٹیکس بھرا ہے، ہم نے ادارے سے درخواست کی کہ آپ سی ایس آر فنڈ کے سارتھ کراچی میں اپنا کردار ادا کریں، جتنی مدد ہوسکتی ہے این سی او سی کی مدد کریں، کل صبح تک 66000 ویکسین کرچکے ہیں، کے پی ٹی کا ہسپتال ہے، پورٹ قاسم اور پی این سی نے بھی موبائل وینز کا انتظام کرلیا ہے، باقی ادارے بھی ویکسین لگا رہے ہیں، کراچی میں ویکسین کا عمل تیزی سے چل رہا ہے، مجھے عید کے بعد بھی کرونا ہوا تھا، میری پوری فیملی کو ہوگیا تھا، کوتاہی کرنے کی وجہ سے ہوا تھا، اپنے لیے، اپنے گھر والوں کیلے احتیاط کریں، ماسک ضرور پہنیں، اپنی ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچائیں.

    ماہی گیروں نے کل صبح 3 بجے احتجاج کیا تھا، ہمارے جو سی پی ایم ہیں میں ان کو کہا تھا کہ آپ جائیں، ماہی گیروں کا احتجاج میری ٹائم کے خلاف نہیں تھا، ہماری وزارت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، ان کا احتجاج صحیح تھا یا غلط تھا، میں اس میں نہیں جاتا، وہ کسٹمز اور پی ایم ایس اے کے خلاف جو پاکستان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی ہے، اس کے خلاف تھا، کل ہم نے سب کو بٹھایا، محمود مولوی نے ان سے بات کی، جو پی ایم ایس اے کام کررہی ہے، وہ بہترین کام کررہی ہے.

  • این سی اوسی اورحکومت سندھ کا مشترکہ اجلاس ، کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان

    این سی اوسی اورحکومت سندھ کا مشترکہ اجلاس ، کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان

    این سی اوسی اورحکومت سندھ کے مشترکہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے تحت کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کردیا گیا ہے،داخلہ سندھ کے نئے حکمنامہ میں سندھ بھر میں ا?ج پیر سے کورونا پابندیوں میں نرمی کر دی گئی ہے،تمام مارکیٹس شاپنگ مالزصبح 6 بجے سے رات 8بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی،دودھ ادویات پیٹرول پمپ ، سبزی گوشت کی دکانوں پر اوقات کار کی پابندی نہیں ہوگی جبکہ ہفتے میں دو دن جمعہ اور اتوار سیف ڈیز کے موقع پر کاروباربند رہے گا،تعلیمی ادارے 19 اگست تک بند رہیں گے۔
    محکمہ داخلہ سندھ کے جاری کردہ نئے حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ کورونا ایس اوپیز کے تحت سندھ بھرمیں رات 8 بجے تک کاروبارکرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جمعہ اور اتوارکو سیف ڈے کے طور پر منایا جائے گا اورہفتے میں دو روزکاروبارمکمل بند رہے گا۔
    ہوٹلز اور ریسٹورنٹس پر ڈائن ان ٹیبل سروس پر پابندی برقرار رہے گی، ریسٹورنٹس کو ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت ہوگی۔

    جبکہ آؤٹ ڈورڈائننگ کی رات 10 بجے تک اجازت ہوگی ویکسین لگوانے والے ڈیلیوری بوائے کو ڈیلیوری کی اجازت ہوگی اورکھلے مقامات پر 300افراد کیساتھ شادی کی تقریب رات 10بجے تک منعقد کی جاسکے گی۔محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ تمام مزارات اور سینما ہال بند رہیں گے،کھیلوں کی سرگرمیاں مکمل طور پربند رہیں گی کراٹے،باکسنگ اور کبڈی جیسے کھیلوں پر پابندی برقرار رہے گی انڈور جم میں صرف ویکسین لگوانے والے افراد کو جانے کی اجازت ہوگی۔
    کراچی سمیت سندھ بھرمیں پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی اٹھالی گئی ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں 50فیصد ویکسین لگوانے والے لوگوں کو سفر کرنے کی اجازت ہو گی،پبلک ٹرانسپورٹ کا اسٹاف ویکسی نیٹڈ ہوگاریلوے کو 50فیصد مسافروں کیساتھ ٹرینیں چلانا ہونگی۔علاوہ ازیں دفاتر میں 50فیصد حاضری کیساتھ ملازمین کو کام کرنے کی اجازت ہو گی۔ سندھ بھرمیں واٹر پارک ،سوئمنگ پول بند رہیں گے،پبلک پارکس ایس او پیز کیساتھ کھلے رہیں گے،پبلک مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی ہوگا اورویکسین لگوانے والے افراد کو ٹوارزم کی اجازت ہوگی،ڈومیسٹک فلائٹس میں کھانے پر پابندی ہوگی۔

  • سر پر وزنی چیز گرنے سے شیرخوار بچی جاں بحق

    سر پر وزنی چیز گرنے سے شیرخوار بچی جاں بحق

    منگھوپیر میں سر پر وزنی چیز گرنے سے شیرخوار بچی جاں بحق ہوگئی، جبکہ ڈیفنس تھانے کے پاس ایک شخص کی لاش ملی۔
    تفصیلات کے مطابق منگھوپیر تھانے کی حدود ونگی گوٹھ میں گھر میںوزنی چیز گرنے سے شیر خوار بچی جاں بحق ہوگئی جس کی لاش عباسی شہید اسپتال لائی گئی جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کردی جس پر اہلخانہ بغیر پولیس کارروائی کے لاش لیکر چلے گئے ، بچی کی شناخت ڈیڑھ سالہ ردا دختر عبدالغنی کے نام سے ہوئی۔

    علاوہ ازیں ڈیفنس تھانے کی دیوار سے متصل ایک شخص کی لاش ملی جیسے پولیس نے جناح اسپتال منتقل کی ، پولیس کے مطابق متوفی کی عمر52 برس کے د رمیان ہے اور اسکی فوری طورپر شناخت نہیں ہوسکی اور نہ ہی فوری طورپروجہ موت کا تعین ہوسکا ہے پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد لاش سرد خانے منتقل کردی۔

  • لوگ وزیراعظم کے ویژن سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں، آفتاب صدیقی

    لوگ وزیراعظم کے ویژن سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں، آفتاب صدیقی

    تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی بدل رہا ہے لوگ وزیراعظم کے ویژن سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں۔پیپلز پارٹی ترقیاتی کام کروانے کی بجائے صرف کرپشن کے ریکارڈ توڑے ہیں۔کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پی ٹی آئی کامیاب ہوگی۔ کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفتاب صدیقی نے کہا کہ کراچی کی عوام کو اندازہ ھوگیا ہے کہ عمران خان اس شہر کے لئے جوکر رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے کراچی بدل رہا ہے گزشتہ 25 سالوں میں جو کام نہیں ہوئے آج ہورہے ہیں۔
    عوام عمران خان کے ویژن سے متاثر ہوکر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی 12 سال میں کچھ نہیں کیا ۔
    سیاسی ایڈمنسٹریٹر لگا شہر پر قبضہ کا خواب دیکھا جارہا ہے۔ عمران خان ایسا نہیں ہونے دینگے ترقیاتی منصوبوں میں پی ٹی آئی کا اہم کردار ہے۔آفتاب صدیقی نے کہا کہ وفاق نے کراچی6 فلائی اوور, 52 فائر ٹینڈر کراچی کو دیے۔کراچی کو مذید ترقی دیں گے۔

    کنٹونمنٹ انتخابات میں کراچی والے پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔اس موقع پرپیپلز پارٹی سے بیس سالہ رفاقت چھوڑ کر بینا خان پی ٹی ائی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کی صدر فضہ ذیشان نے بینا خان کو پارٹی کا مفلر پہنایااور خوش آمدید کہا۔اس موقع پر بینا خان نے کہا کہ ہم نے پیپلز پارٹی میں بیس سال ضائع کیے۔اب پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے ہیں عمران خان کے ویژن کو آگے لے کر جائیں گے۔

  • نواب ثنااللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    نواب ثنااللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    مسلم لیگ ن بلو چستان کے سابق وزیراعلی بلوچستان نواب ثنااللہ زہری اورجنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ذرائع کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل اور نواب ثنااللہ زہری کے درمیان اختلافات کی وجہ سے صوبے سے ن لیگ کا صفایا ہوا، پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کی وجہ سے 25 اکتوبر کو کوئٹہ کے جلسے میں ن لیگ نے سردار اختر مینگل کو اسٹیج پر مدعو کیا جس پر ن لیگ کی صوبائی قیادت ناراض ہو گئی ن لیگ کے صوبائی صدر نے جلسے میں اپنی 25 اکتوبر کو پی ڈی ایم کے جلسے میں اپنی شمولیت کو سردار اختر مینگل کی عدم شرکت سے مشروط کیا تھامریم نواز نے ن لیگ کی مقامی قیادت کے سردار اختر مینگل کے حوالے سے تحفظات کو نظرانداز کردیا جس سے ن لیگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی سرداراختر مینگل کی پی ڈی ایم کوئٹہ جلسے میں شرکت کے بعد عبدالقادر بلوچ اور نواب ثنااللہ زہری کی ناراضی کو مریم نواز نے سنی ان سنی کردیا۔

  • کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر  تحریر : فضیلت اجالہ

    کچھ لوگ جو سوار ہیں کاغذ کی ناؤ پر تہمت تراشتے ہیں ہوا کے دباؤ پر تحریر : فضیلت اجالہ

    تہمت لگانا یا بہتان باندھنا مطلب آپ نے کسی شخص کو وہ برائ کرتے دیکھا نہی لیکن صرف زاتی تسکین کی خاطر آپ نے وہ برائ اس سے منسوب کردی یہ سوچے بغیر کہ
    کسی پر بے جا تہمت اور بہتان لگانا شرعی لحاظ سے بھی انتہائی سخت گناہ اور حرام کام ہےاور اخلاقیات کے بھی منافی ہے

    ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی اور اخلاقی برائیوں میں سے ایک برائ الزام تراشی اور تہمت لگانا ہے ،کچھ لوگ یہ فعل اپنے مزموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلیے کرتے ہیں اور کچھ صرف زاتی تسکین ،وقتی خوشنودی اور بعض اوقات کسی کی خوشامد کیلیے بھی یہ گھٹیا کام سر انجام دیتے ہیں
    ۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : بے گناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بھاری وزن ہے ، یعنی کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاحزاب میں بے گناہ لوگوں (مسلمانوں )کو زبانی سے تکلیف دینے والوں یعنی تہمت اور بہتان لگانے کو مکمل طور پر گناہ قرار دیاہے اور سخت عزاب کی وعید سنائ ہے
    خدا لعنت کرے ان لوگوں پر جو کسی بےگناہ پر تہمت لگاتے ہیں اور سنی سنائی جھوٹی باتوں کو آگے آپنے سے ملاکر پھیلاتے ہیں اور لوگوں کی عزتیں اچھالتے ہیں اور مکافات عمل کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں
    اپنی زندگی کی Frustration اور جھوٹی انا کی تسکین کے لیے محفل میں چار لوگوں کے ساتھ کسی کے عیب یا زندگی کے مسائل پر اپنی عاقلانہ رائے کا اظہار کرتے یا اس بندے کی کردار کشی کرتے وقت یہ یاد رکھیں کہ حشر کے میدان میں جب خدا سب کے عیبوں پر سے پردہ اُٹھائے گا تو تہمت لگانے والے کی آنکھ پر سے بھی پٹّی اُتاری جائے گی۔ اور اُس کے سامنے ہر اُس شخص کو کھڑا کیا جائے گا جس کی پارسائی پر دُنیا کی عدالت میں اُس نے فیصلہ سُنایا تھا۔

    اُس لمحے خدا کے سامنے اپنی کہی کسی بات کی دلیل پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا آپ کو۔۔۔ بلکل ویسے جیسے آپ نے کسی کے لیے غلط گمان کرتے اُسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں دیا۔

    زندگی کی کہانی فلم کی طرح تین گھنٹے پر مشتمل نہیں ہوتی۔ اصل زندگی کی کہانیاں ہماری سوچ سے کہیں زیادہ اُلجھی ہوئی ہوتی ہیں۔ خدا تو نصوح کی بھی توبہ قبول کرلیتا ہے پھر انسان کو کیا حق ہے کہ کسی کے لیے سزا کا انتخاب کرے؟

    صحیح غلط، نیک یا گناہ گار یہ فیصلے خدا اور بندے کے آپس کے معاملات ہیں۔ برائے مہربانی اپنی ناقص عقل کو تکلیف نہ دے کر صرف اپنی ذات کا محاصرہ کیجیے۔
    کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں سوائے بغض حسد اور کینہ کے کچھ نہی ہوتا
    وہ بہن بھائی جیسے پاک رشتے پر بھی انگلی اٹھانے سے باز نہیں آتے۔اییسے لوگ خدا اور خدا کے احکامات کو بھول بیٹھے ہیں ۔
    جبکہ اللہ تعالی بار بار فرمارہے ہیں
    جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں یا اس پر تہمت لگائ ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے کو دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا اور روز آخرت یہی اسکا ٹھکانہ ہوگا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے دنیا میں ہی توبہ کر لے تو اس کی خلاصی ممکن ہے

    ایک حدیث میں ارشادِ نبوی ہے: مسلمان کے لئے یہ روا نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔

    الغرض مسلمان پر بہتان باندھنے یا اس پر بے بنیاد الزامات لگانے پر بڑی وعیدیں آئی ہیں، اِس لیے اِس عمل سے باز آنا چاہیے اور جس کسی پر تہمت لگائ ہو اس سے معافی کا خواستگار ہونا چاہیے
    اگر کوئی کچھ نہیں کہہ رہا یا کر رہا تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ کچھ کر نہیں سکتا۔
    بہتر ہے جو اللّٰہ پر معاملات چھوڑ کر چپ ہو گیا ہے، اسے چپ ہی رہنے دے۔

    اگر وہ خاموشی توڑ گیا تو یقین کرو، وہ وہ راز وہ وہ کچھ سامنے آئے گا، لوگ اپنے پیدا ہونے پر معافی مانگے گیں۔.
    اللہ تعالیٰ بہترین انتقام لینے والا ہے..

    @_Ujala_R