Baaghi TV

Author: +9251

  • مسلم لیگ ن کے 2 سینئر ترین رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا

    مسلم لیگ ن کے 2 سینئر ترین رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی بڑی وکٹیں گرا لیں، مسلم لیگ ن کے 2سینئر رہنماؤں ثناءاللہ زہری اور عبدالقادر بلوچ نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری اور سابق گورنر عبدالقادر بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔
    دونوں رہنماؤں نےکوئٹہ میں ایک تقریب کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔بلاول نے دونوں رہنماؤں کو پیپلز پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدیدکہتے ہوئے دعوٰی کیا کہ پارٹی بلوچستان سمیت پورے ملک میں حکومت بنائےگی، ہم حکومت میں آکر صوبےکے مسائل کا حل بھی نکالیں گے۔
    اس موقع پر ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ میرے والد نے ذوالفقارعلی بھٹوکے ساتھ مل کرکام کیا ہے، آج میں اپنے والد کی پارٹی میں جارہا ہوں، نواز شریف سے کہا تھا کہ ہمیں پنجاب سےعزت چاہیے لیکن ہمیں نواز شریف نے بےعزت کیا۔

    ثنااللہ زہری کا کہنا تھا کہ ماضی میں تیسرے نمبر کی پارٹی کو وزیراعلیٰ کے لیے ترجیح دی گئی، ن لیگ کے 22 سے23 اراکین کے باوجود ہمیں حکومت بنانے نہیں دی گئی۔سابق گورنر بلوچستان عبدالقادر بلوچ نے پیپلز پارٹی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ زرداری خاندان سے بہت پرانا رشتہ ہے، مسلم لیگ ن کو ہم نے خیر بادکہہ دیا،بلوچستان میں ن لیگ کی اب کوئی قد آور شخصیت نہیں ہے۔
    عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے وعدہ کیا بلوچستان کےدورے کرتا رہوں گا،معتبر شخصیات کی شمولیت سےجماعت آگے بڑھےگی،پیپلز پارٹی نےاپنی قابلیت پر آج بلوچستان میں پوزیشن بنائی،صحیح کام کیا توبلوچستان میں ہماری اکثریتی حکومت بنےگی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ منگل کو کوئٹہ میں نواب ثنااللہ زہری کے سیاسی و قبائلی ہم خیال رفقا کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں سابق گورنر بلوچستان عبدالقادر بلوچ اور دیگر سیاسی قبائلی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
    ثنا اللہ زہری نے کہا میں پی پی شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو کی جانب سے دعوت دیے جانے پر مشکور ہوں۔انھوں نے نواز شریف پر شدید تنقید کی، اور انھیں فطرتاً دھوکے باز قرار دیا، کہا نواز شریف نے ہمیں دھوکا دیا، ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو بہت عزت دی اور چھوڑا نہیں، لیکن نواز شریف کی فطرت میں وفا کرنا نہیں ہے، ہم پیپلز پارٹی سے اسی دن سے رابطے میں تھے، امید ہے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو عزت دیں گے۔نواب ثنا اللہ زہری نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہم اپنی جماعت بنانے کا سوچ رہے تھے، اور ہم اپنی سیاسی جماعت بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

  • مسلسل500دنوں‌ سےخدمت کاسفرجاری:آپ”عظیم بھی ہیں‌ حلیم بھی ہیں‌”:آرمی چیف کاNCOC کوخراج تحسین

    مسلسل500دنوں‌ سےخدمت کاسفرجاری:آپ”عظیم بھی ہیں‌ حلیم بھی ہیں‌”:آرمی چیف کاNCOC کوخراج تحسین

    راولپنڈی: مسلسل500دن ہوچکے ملک وقوم کی خدمت کو:آپ "عظیم”حلیم” ہیں‌:آرمی چیف کا NCOC کو خراج تحسین ،اطلاعات کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے این سی او سی ٹیم کو 500 دن مسلسل محنت اور خدمت پر مبارکباد دی ہے۔

     

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ این سی او سی کا کورونا وباء کے خلاف پاکستان کے مؤثر ردعمل کے لیے ناگزیر ہے، این سی او سی کے بہترین ردعمل سے ہی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔

     

     

    سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ این سی او سی نے قومی حکمت عملی کے تحت کورونا وباء سے تحفظ کے لیے کاوشیں کیں، این سی او سی ٹیم کو 500 دن مسلسل محنت اور خدمت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

  • سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے بھائی قاتلانہ‏ حملے میں جاں بحق

    سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے بھائی قاتلانہ‏ حملے میں جاں بحق

    مظفر گڑھ: سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے بھائی قاتلانہ‏ حملے میں جاں بحق ،اطلاعات کے مطابق مظفرگڑھ میں سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے بھائی قاتلانہ‏ حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق واقعہ تھرمل چوک کے قریب بہاری کالونی میں پیش آیا جہاں مقامی زمین کے تنازع پر پنچائت منعقد کی گئی تھی۔

    ملتان سے ذرائع کے مطابق پنچائت کا فیصلہ ہونے کے بعد مخالفین نے اچانک فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں مشتاق دستی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔مقتول کی لاش کو ڈی ایچ کیو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ضابطے کی کارروائی کی جارہی ہے۔ ‏اطلاع ملنے پر پولیس بھی پہنچ گئی ہے اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر پنجائیت کے دوران اور اس سے قبل بھی مخالفین آپس میں کسی وجہ سے ناراض تھے اور مخالفین کی جانب سے مشتاق دستی کو پہلے دھمکیاں بھی دی چکی تھیں،

    پولیس کا کہنا ہے کہ باوجود ان دھمکیوں کے انہوں نے اپنا معاملہ پنچائت میں اٹھایا اور پنچائیت کے فیصلے کو منظور کرنے کا بھی کہا تھا، لیکن مخالفین نے پنچائت کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد ہی مشتاق دستی پر فائرنگ کر دی،جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    مشتاق دستی کے بھائی جمشید دستی کا اپنے بھائی کے قتل کے حوالے سے ابھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم انہیں اس واقعے کے حوالے سے اطلاع کر دی گئی ہے۔

  • شمالی وزیرستان: افغانستان کے اندرسے پاک فوج کی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ

    شمالی وزیرستان: افغانستان کے اندرسے پاک فوج کی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ

    شمالی وزیرستان:شمالی وزیرستان: افغانستان کے اندرسے پاک فوج کی چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ،اطلاعات کے مطابق آج پھرایک مرتبہ افغانستان کے اندر سے پاکستان کے اندرپاک فوج کی چوکی پردہشت گردوں نے حملہ کردیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی سرحد کے اس پار افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں نے ضلع شمالی وزیرستان کے دیواگر میں پاکستانی فوجی چوکی پر فائرنگ کی۔

    افغانستان کے اندر سے دہشت گردوں‌ کے حملے کا پاک فوج کے جوانوں نے مناسب انداز میں جواب دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس فائرنگ کے تبادلے کے دوران 1 فوجی زخمی ہوا۔

    یاد رہے کہ پاکستان مسلسل افغانستان سے بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنانے کی درخواست کرتا رہا ہے۔ پاکستان افغان سرزمین کو دہشت گردوں کے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔

  • زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے:مگرہمارا ٹرانسپورٹ نظام:انسانی جانوں‌ کےضیاع کاسبب

    زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے:مگرہمارا ٹرانسپورٹ نظام:انسانی جانوں‌ کےضیاع کاسبب

    لاہور:زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے :مگرہمارا ٹرانسپورٹ نظام:انسانی جانوں‌ کے ضیاع کا سبب،پاکستان میں آئے روز ٹریفک حادثات پرشورشرابہ توہوتا ہے مگراس کے اسباب پرکبھی بھی کسی نے توجہ نہیں دی ، بسوں سے لیکرریل گاڑیوں تک ہرمسافربردار گاڑی اپنی زندگی کے آخری سانس لے رہی ہے اورپھراس پرمسافروں‌ کو بٹھا کران کو اگلے جہان بھیجنے میں‌ آسانی فراہم کی جاتی ہے ،

    اس حوالے سے ایک مسافر نے کچھ یوں بیان کیا ہےکہ پاکستان خستہ حال مسافربردارگاڑیوں‌ پسماندہ علاقوں کا سفرکتنا مشکل ہوجاتا ہے جہاں سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوں اورجہاں‌ بسیں اورگاڑیاں ناکارہ ہوچکی ہوں‌ اورپھربھی ان کو استعمال میں لایا جائے ،

    وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں‌ "اگرآپ پسندیدگی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے ہیں؟ کچھ پسماندہ علاقے سے ڈیوو میں سفر کریں۔ آپ کے ساتھ کچھ کچرا اور دنیا کی بدترین قسم کی بسوں میں سے کسی ایک پرسفرکرکے دیکھیں‌۔

    وہ کہتےہیں کہ "بیشک زندگی ، موت اللہ کے ہاتھ میں ہے” لیکن انہیں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے لیے ایک باقاعدہ کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ ریلوے سے بس سروس تک ، ہم اپنے ٹرانسپورٹیشن سسٹم سے انتہائی مایوس ہیں۔

    وہ کہتے ہیں‌کہ کیا کوئی بیرونی معائنہ کرنے والی ایجنسی ہے جو مسافروں کی حفاظت کے لیے ان کےحفاظتی معیارات اور بس کی حالت کی جانچ پڑتال یا تجزیہ کرتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان ایجنسیوں کو بھی ایسی کمپنیوں کو لائسنس کی منظوری اور فراہمی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے۔

    وہ کہتے ہیں‌ کہ ان اداروں کو اس بس کا بھی معائنہ کرنا چاہیے تھا جس بس میں میں سفر کر رہا تھا (صادق آباد سے لاہور – 12/07/21) جس میں سیٹ بیلٹ بھی نہیں تھی۔

    ڈرائیور کے مطابق بریک فیل ہونا اس حادثے کی وجہ تھی۔ حادثے کے بعد ہماری مدد کے لیے آنے والی دوسری ڈیوو بس کی حالت اور بھی خراب تھی۔ ذیل میں ویڈیو پر ایک نظر ڈالیں۔

    سیٹ بیلٹ کی کوئی سہولت نہیں تھی اور سب سے بری بات یہ ہے کہ ڈیووکے عملے کے ایک فرد کا کہنا تھا کہ کوئی بیلٹ لگاتا ہی نہیں بس دکھاوے کےلیے ہوتا ہے اس لیے زحمت گوارا ہی نہیں کہ بس میں اس کا بندوبست کیا جائے

    وہ کہتے ہیں‌ کہ یہ واقعی افسوسناک ہے کہ آپ کوڈیوو کے عملے سے بحث کرنی ہوگی تاکہ وہ سیٹ بیلٹ کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔ وہ غصے میں‌ آکر کہتےہیں‌کہ ڈیوو ایکسپریس بس سروس پر شرم کرو!

  • مبشرلقمان آپ نےقوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی”نورمقدم” کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں

    مبشرلقمان آپ نےقوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی”نورمقدم” کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں

    لاہور:مبشرلقمان آپ نے قوم کی مظلوم مقتولہ بیٹی کےلیےآوازبلند کی:ڈرنا نہیں: ہم تمہارے ساتھ ہیں:ٹاپ ٹویٹرٹرینڈ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سینیئرتجزیہ نگار ممتازصحافی مبشرلقمان اس وقت لاکھوں پاکستانیوں‌کے دلوں کی آواز بن گئے ہیں اوراب تویہ صورت حال ہےکہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرٹاپ ٹرینڈ ہی یہ چل رہا ہے

    قوم اس وقت سینیئر صحافی کے ساتھ کیوں کھڑی ہے اس پرتفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اب توہرایک جان چکا ہےکہ قوم کی مظلوم اورمقتولہ بیٹی نورمقدم کے قاتل کے وکلا مبشرلقمان کودھمکیاں دے رہیں ہیں کہ وہ اس کیس سے پیچھے ہٹ جائیں

    نورمقدم کے قاتل ظاہرجعفر کے وکیل دھمکیا‌ں دے رہے ہیں‌کہ مبشرلقمان کی طرف سے مظلوم اورمقتولہ نورمقدم کے ساتھ اس انداز سے ہمدردی کی کہ قاتلوں کی دل آزاری ہوئی ہے

    مظلومہ مقتولہ نورمقدم پرہونے والے ظلم کوآشکارکرنے کے خلاف قاتل ظاہرجعفر کے وکلا دھمکیوں پراتر آئے کہ وہ مبشرلقمان کونورمقدم کا وارث اور خیرخواہ سمجھ رہے ہیں اورقاتل ظاہرجعفرکوقانون کے مطابق سزا دلوانے میں جدوجہد کررہے ہیں یہ بات قاتل ظاہرجعفرکو ناگوار گزری جس پراس نے اپنے وکلا کے ذریعے دھمکیاں دینی شروع کردیں‌

    ادھر جب سے قوم نے سینیئرصحافی مبشرلقمان کوظاہرجعفر کی طرف سے دھمکیوں‌ کی بازگشت سنی توپوری قوم ہل کررہ گئی کہ یہ کیسا معاشرہ اورقانون ہیں‌جہاں‌ مظلوم کی حمایت کرنا بھی جرم قراردیا جائے

    مبشرلقمان کوملنے والی دھمکیوں پرقوم چپ نہ رہ سکی اورپھریہ سلسلہ اس قدر طویل ہوا کہ "مبشرلقمان قدم بڑھائیں ہم تہمارے ساتھ ہیں”ہردل کی آواز بن گئی اورپھریہ پاکستان سے اٹھنے والی آوازدنیا بھرمیں پھیل گئی اورپھر یہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرٹاپ ٹرینڈ بن گئی

    اس سلسلے میں لاکھوں لوگوں نے مبشرلقمان کےساتھ کھڑے ہونے کا عہد کیا ہے ، ان سب کواحاطہ تحریر میں لانا مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتا ہے ، لیکن پھر بھر بھی چند پاکستانیوں کے دلوں سے اٹھنے والی آوازکوبطورنمونہ قارئین کے سامنے رکھتے ہیں

    پاکستان کی شان پاکستان کے جوان ایسے ہی ایک جوان جن کا نام فضل عباس ہے وہ کہتے ہیں کہ بڑی حیرانی ہوئی کہ مظلوم کا ساتھ دینے والے کودھمکیاں‌ :ایسے نہیں ہوسکتا ہے ، گھبرائیے نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں‌ وہ کہتےہیں کہ

     

    https://twitter.com/_AbbasFazal/status/1424343068862566402

     

    "پاکستان نے مبشر لقمان کی حمایت کا اظہار کیا۔ یہ واضح ہے کہ ہم مبشر لقمان کی حمایت کریں گے۔ مضبوط اور ثابت قدم رہیں ”

     

     

    فخرعباس پاکستانی نوجوان کہتے ہیں کہ مبشرلقمان نے حق کے لیے آوازاٹھائی ، ظالم کے خلاف علم بلند کیا اوران حالات میں کیسے ہوسکتا ہےکہ ایک ممتازصحافی کوتنہا چھوڑدیا جائے سنیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اورساتھ رہیں گے وہ کہتے ہیں کہ

     

    https://twitter.com/FakharTheAbbas/status/1424331375839223809

     

    "مبشر لقمان کا شمار پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ہم اس کے خیالات کا احترام کرتے ہیں۔ ہم اس کی حمایت کریں گے۔ہم اس کے لیے آواز اٹھائیں گے۔”

     

     

    رائے ارشد بھی اس موقع پر اپنے جزبات پرقابو نہ رکھ سکے وہ کہتے ہیں کہ نورمقدم قتل بھی ہواورپھراس کی حمایت کرنےوالوں کودھمکیاں بھی ملیں ایسا نہیں ہوسکتا ہم مبشرلقمان کے ساتھ ہیں اور اس وقت تک ساتھ ہیں جب تک قاتل کوسزا نہیں مل جاتی وہ کہتے ہیں کہ

     

    https://twitter.com/RajaArshad56/status/1424333695587135497

     

    "مبشر لقمان مسلسل نور مقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔ اسے ہماری حمایت حاصل کرنی چاہیے۔ کسی کو اس کی آواز دبانے کا حق نہیں ہے ہم اس کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

     

     

     

    ایک صارف جن کا نام امان الرحمن ہے وہ کہتےہیں کہ مبشرلقمان ان چند صحافیوں میں سے ایک ہیں جوحق کے لیے لڑتے ہیں ، حق کے لیے بولتے ہیں وہ اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیرمظلوم کے لیے آواز اٹھاتے ہیں توپھرکیسے ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر ایک ذی شعور ظالم اورقاتل شخص کی دھمکیوں سےڈر جائے ، اس موقع پرہم سینیئرصحافی مبشرلقمان کے ساتھ کھڑے ہیں ، ان سے درخواست ہے کہ گھبرائیں نہیں آج حق کے لیے کھڑے ہیں تویہ اعزاز سے کم نہں وہ کہتےہیں کہ :

     

    https://twitter.com/A2Khizar/status/1424338271027568644

     

    "پاکستان میں بہت کم صحافی ہیں جو حق کو صحیح اور غلط کو غلط کہتے ہیں چاہے حالات اور نام کوئی بھی ہو۔ مبشرلقمان کا نام ان میں آتا ہے اور جب کوئی سچ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو آئیے ہم اس کا ساتھ دیں۔

     

     

    وطن عزیز کی ایک فرح بیگم  کہتی ہیں کہ مبشرلقمان آپ نے بڑے طاقتوروں کوللکارا ہے یہ ہرکوئی نہیں کرسکتا ، اس موقع پر حق کی آواز نہ بننا ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے

     

     

     

     

    فرح بیگم  کہتی ہیں کہ "مبشر لقمان پاکستان کے بہترین صحافیوں میں سے ایک ہیں اور وہ تنہا نہیں ہیں۔ ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔مضبوط بنو. کوئی آپ کو دھمکی نہیں دے سکتا۔

     

     

    دخترپاکستان کپٹن زینب راجہ کہتی ہیں کہ واہ بڑی عجیب کہانی ہےکہ ایک بندہ مظلومہ ،مقتولہ قوم کی بیٹی نورمقدم پرہونے والے ظلم کے خلاف آوازبلند کرے اورپھراس کو دھمکیاں بھی ملیں یہ نہیں ہوسکتا وہ کہتی ہیں کہ :

    "سچ کے لیے کھڑا ہونا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ لیکن یہ ہمیشہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ مضبوط بنو. کوئی آپ کو دھمکی نہیں دے سکتا۔

     

     

     

    محمد زید شیخ کہتے ہیں کہ مبشرلقمان گھبرائے نہیں آپ حق لیے کھڑے ہیں توہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں آپ نے مظلوم کے لیے آوازاٹھائی ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے

     

    https://twitter.com/iamzaidks/status/1424341913553997826

    محمد زید شیخ کہتےہیں کہ :

    "مبشر لقمان کا شمار پاکستان کے بہترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ ہم اس کی حمایت کریں گے۔
    مضبوط رہو”

     

     

    یاد رہے کہ نورمقدم کے قاتلوں کے ظلم کوبے نقاب کرتے ہوئے مبشرلقمان نے جوآواز بلند کی اس پرقاتل ظاہرجعفرکے وکلا کی طرف سے اس کیس سے پیھچے ہٹنے کے لیے دھمکیاں دی گئیں اورہرجانے کے دعوے کے نوٹس بھی بجھوانے کی دھمکیاں دی گئی جس کے خلاف یہ آواز اٹھی ہے جواب ہرکسی کے دل کی آوازبن گئی ہے

  • گڑیا ٹوٹ گئی تحریر: راحیلہ عقیل

    گڑیا ٹوٹ گئی تحریر: راحیلہ عقیل

    امی امی امی مجھے بچا لو انکل پلیز مجھے چھوڑ دیں مجھے گھر جانا ہے امی کہا ہو آپ پلیز مجھے بچا لو ابو بھائی مجھے انکل سے بچاؤ ۔۔۔۔۔۔۔ انکل مجھے درد ہو رہا میرے ہاتھ کھول دو مجھے گھر جانا ہے مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اور پھر ایک سناٹا کسی نے وہ درد ناک چیخیں نہیں سنی کسی نے اس معصوم کی فریاد نہیں سنی کسی کو اسکے آنسو دکھائی نا دیے ۔۔۔۔۔ 6سالہ گڑیا گھر کے باہر سے اغواہ ہوجاتی ہے وہ گھر کے باہر کھیل رہی تھی یا چیز لینے دکان پر گئی اسکی ماں کو اندازہ بھی نہیں تھا کے وہ دوبارہ اپنی بچی اپنے جگر کے ٹکڑے جسکو نو ماہ پیٹ میں رکھا درد سہہ کر پیدا کیا راتیں جاگ کر 6سال کا کیا جسکو بخار ہوجاے تو ساری ساری رات ماں گودھ میں لٹائے جاگتی رہتی اب وہ گڑیا کبھی لوٹ کر گھر نہیں آئے گی کبھی ماں سے چیز کے پیسے نہیں مانگے گی۔۔۔۔۔ کبھی ماں سے کھلونوں کی فرمائش نہیں کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی بہانا کرکے اسکول کی چھٹی نہیں کرے گی نا ضد کرکے پراٹھا بنوائے گی۔۔۔۔۔۔

    لے گیا کوئی درندہ منہ دبا کر ٹافی، کھلونے ،گھمانے کا بہانا بنا کر مسل دیا معصوم کلی کو کھلنے سے پہلے ہی اپنی گندی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا جس جسم پر ماں بیماری میں انجیکشن لگواتے وقت خود اولاد سے زیادہ روتی اس جسم کو نوچ ڈالا کاش کے کوئی ماں کے درد کو الفاظوں میں لکھ سکتا یہ وہ دکھ درد ہے جسکو کوئی دوسرا محسوس نہیں کرسکتا جن ہاتھوں میں دو دن کی گڑیا کو گھر لاتے وقت ماں بار بار نظر اتار رہی تھی آج وہی گڑیا کچرے خانے پر بنا کپڑوں کے پڑی اس دنیا کو چھوڑ کر جاچکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کلیجہ پھٹ جاے یہ وہ صدمہ ہے والدین کے لیے آخر کب تک کب تک؟ ہم معصوم بچیوں کے ساتھ یہ درندگی دیکھتے رہینگے کب ہماری حکومت کو احساس ہوگا کے اب بس ختم کرنا ہے یہ سب لٹکائیں ان درندوں کو سرعام سالوں کیس چلتے آخر میں ضمانت مل جاتی عوام بھول بھال جاتی اور پھر کوئی گڑیا اس ظلم کا شکار ہوجاتی ۔۔۔۔

    اصل میں ہم خود بے حس ہیں ہم خود مطلب پرست ہیں اگر ہم اپنی من پسند جماعتوں کو سپورٹ کرنے کے بجائے عوام مسائل پر مل کر آواز اٹھائیں تو بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن ہمیں تو خود سیاست کرنی ہے ہم نے تو خود لاشوں کے ڈھیر پر کھڑے ہونے والے سیاستدانون کو اپنا رہنما ثابت کرنے کے لیے ہزار جھوٹ بولنے ہیں ۔۔۔۔۔۔
    کاش کے کوئی ایک اٹھے کوئی ایک ایسا آئے جو بچوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کے خلاف سیدھا سنسار کرنے کا حکم دے
    تب ہی یہ سلسلہ رک سکتا ہے ورنہ آج گڑیا کل کوئی اور ۔۔۔۔
    ڈر برابر بنا ہوا ہے ہر اس ماں پر جس کے گھر معصوم بچیاں ہیں اس ڈر کو ختم کون کرے گا ؟
    یہ وہ سوال ہے جسکا جواب آج تک نا ملا آگے بھی امید نظر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔

  • کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے کیلیے آپریشن شروع

    کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز کو نکالنے کیلیے آپریشن شروع

    ساحل سمندر پر گزشترہ کئی دنوں سے پھنسے مال بردار جہاز کو نکالنے کے آپریشن کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔

    گزشتہ روز ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پورٹس اینڈ شپنگ نے کراچی کے ساحل پر پھنسے بحری جہاز ہینگ ٹونگ 77 کو نکالنے کے لیے سالویج پلان کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی تھی.

    3 رکنی کمیٹی میںڈپٹی کنزرویٹر کے پی ٹی کیپٹن محمد الطاف، مرکنٹائل میرین ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل افسر سلمان رضا اور چیف انجینئر و شپ سرویئروامق ابرار صدیقی شامل ہیں۔

    تین رکنی کمیٹی نے آپریشن کے پلان کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد ہیوی مشینری کی مدد سے جہاز کے اطراف سے ریت اور مٹی ہٹانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جہاز پر اینکرز بھی پہنچا دیے گئے۔

    واضح رہے کہ جہاز کو نکالنے کے لیے 15 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے جب کہ جہاز کے ٹینک سے تیل منتقلی کا عمل پہلے ہی مکمل کیا جاچکا ہے۔

  • گورنمنٹ میونسپل گریجوایٹ کالج فیصل آباد میں ایک منٹ میں ایک ہزار پودے لگانے کا ریکارڈ بنایا گیا

    گورنمنٹ میونسپل گریجوایٹ کالج فیصل آباد میں ایک منٹ میں ایک ہزار پودے لگانے کا ریکارڈ بنایا گیا

    فیصل آباد(عثمانصادق)گورنمنٹ میونسپل گریجوایٹ کالج میں پلانٹ فار پنجاب ڈے کے حوالے سے ایک منٹ میں ایک ہزار پودے لگائے گئے۔چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس وایم این اے فیض اللہ کموکا،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس عفیفہ شاجیعہ،پرنسپل ڈاکٹر ظہور احمد بھٹی،ڈویژنل فاریسٹ افسران وجیہہ الدین،محمد علی بٹ،ڈائریکٹر سٹوڈنٹس آفیئرزپروفیسر خالد حسن نے طالب علموں کے ہمراہ ریکارڈ ساز مہم میں پودے لگائے۔گورنمنٹ گریجوایٹ (کامرس) کالج عبد اللہ پور کے پرنسپل ڈاکٹر خالد محمود اقبال،فوکل پرسنز وائس پرنسپلز ڈاکٹر عبد الرحمان،ڈاکٹر محمد طیب،انچارج ضلعی کنٹرول روم محمد صادق نے بھی شجرکاری میں حصہ لیا۔کالج کے بی ایس طلباؤ طالبات کے درمیان ایک منٹ میں ایک ہزار پودے لگانے کا مقابلہ ہوا جو انہوں نے صرف 30 سیکنڈ میں ایک ہزار پودے لگا کر ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا۔چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی نے اس عظیم کارنامے کو وزیر اعظم کے وژن کلین گرین پاکستان کا ایک سنگ میل قرار دیا اور کالج کے پرنسپل،اساتذہ اور طلباؤ طالبات کی کاوشوں کو سراہا۔پروفیسر عتیق الرحمن انچارج بی ایس،پروفیسر محمد جعفر قمر سیالوی سٹاف سیکرٹری،پروفیسر سید منور سلطان، پروفیسر عابد سلیم،پروفیسر تنویر حمید،پروفیسر شاہد منیر،پروفیسر شناور،پروفیسر ولایت علی صابر،میڈم راشدہ،میڈم سیف بھی موجود تھیں۔

  • کراچی پورٹ پر انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان کامیاب مذاکرات ، بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال

    کراچی پورٹ پر انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان کامیاب مذاکرات ، بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال

    کراچی پورٹ پر انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد بحری جہازوںکی آمد و رفت بحال ہوگئی ہے اور فشر مینز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔
    تفصیلات کے مطابق کراچی بندر گارہ پر انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان تنازعہ کے باعث بندر گاہ پر ہفتہ کی صبح چھ بجے سے در آمدی و برا ٓمدی جہازوںکی آمد و رفت معطل ہوگئی تھی اور تمام تر تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئی تھیں،معاملے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بحری امور محمود مولوی موقع پر پہنچے اور انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان تنازعہ کے حل میںاہم کردار ادا کیا ،انتظامیہ اور فشر مینز کے درمیان تنازعہ کے باعث بندر گاہ کا چینل بند ہوگیا تھا جس کے نتیجے میںجہازوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی تھی،تاہم کامیاب مذااکرات کے بعد دوپہر میںجہازوںکی آمد و رفت بحال ہوگئی اور تجارتی سرگرمیاں بھی معمول پر آگئیں۔