پاکستان رینجرز (سندھ) نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کراچی کے علا قے سیکٹر E-5 نیو کراچی ٹاؤن میں ایک بند گو دام پر چھاپہ مارا ہے، اس کے نتیجہ میں بھاری تعداد میں اسلحہ اورایمو نیشن برآمد کر لیا گیا ہے، اسلحہ اور ایمو نیشن ایم کیو ایم لندن کے دہشت گردوں نے کراچی آپریشن کے دوران چھپایا تھا، مستقبل میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا، برآمد کیے گئے اسلحہ اور ایمو نیشن میں کلاشنکو ف 7عدد، رائفل 7 ایم ایم 3 عدد، رائفل 8 ایم ایم 3 عدد، رائفل 222 ایک عدد، رپیٹر12 بور6 عدد، پسٹل 30 بور7عدد، پسٹل 9 ایم ایم 3 عدد، ریوالور32 بورایک عدد، مختلف کیلیبر کا ایمو نیشن 1684عدد برآمد کیے گئے ہیں.
Author: +9251
-

بلوچستان میں خواتین کے تعلیمی اداروں کو تحفظ فراہم کیجائے۔ تحریر: حمیداللہ شاہین
کسی بھی قوم کی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کرتی ہے۔ قومیں جنہوں نے خواتین کو علم کی روشنی سے محروم کیا وہ قومیں آباد نہیں ہوتیں، خواتین کو انکی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کا پورا حق ہے،اور یہی خواتین تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کانام مختلف ڈیپارٹمنٹس میں روشن کرتے ہیں۔
بلوچستان میں بھی اب خواتین کی بڑی تعداد مختلف شہروں اور قصبوں سے کوئٹہ میں اپنے خاندانوں سمیت صرف اس لئے مقیم ہیں کہ انہیں بنیادی تعلم حاصل کرنے میں رکاوٹ نہ ہوں، لڑکیاں مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں میں داخلہ لیتی ہیں اور جبکہ بڑی تعداد میں لڑکیاں صوبہ کے مستند ادارے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں اپنی تعلیم مکمل کرتی ہیں۔
بلوچستان میں رہنا جہاں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے آسان اور پرامن نہیں۔
سردار بہادر خان یونیورسٹی کی طالبہ نبیلا کے مطابق مجھے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی (ایس بی کے ڈبلیو یو) میں داخلہ ملا جہاں 15 جون 2013 کو ایک دھماکہ ہوا ، جس نے یونیورسٹی بس کو نشانہ بنایا۔ لڑکیاں گھر جانے کا انتظار کر رہی ہیں۔ اس خوفناک واقعے نے یونیورسٹی کے 15 طالبات کو ہلاک کر دیا۔ میں نے اس کا انتخاب کیا کیونکہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ، کیونکہ ایس بی کے ڈبلیو یو صوبے کی واحد خواتین کی یونیورسٹی تھی اور لڑکیاں دور دراز علاقوں سے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے آتی ہیں۔ اگرچہ مجھے 2015 میں داخلہ ملا، اس سفاکانہ واقعے کے دو سال بعد بھی میں کیمپس میں خوف محسوس کرتی تھی۔ یہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ تھا اور داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہم سیکھنے کے لیے اس یونیورسٹی میں ہونے سے نہیں ڈرتے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اچھا وقت گزارا اور اندر کا ماحول محفوظ محسوس کیا۔ لیکن کوئی اچانک یا بلند آواز ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ 2017 میں جب یونیورسٹی کی بسوں کو دوبارہ دھمکی دی گئی تو یونیورسٹی ایک ہفتے کے لیے بند تھی اور سکیورٹی مسائل کی وجہ سے بسیں ایک مہینے تک نہیں چل سکیں۔ کسی نے صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں بات نہیں کی۔ مرکزی دھارے میں شامل میڈیا کے پاس بلوچستان سے خبریں بلیک آؤٹ کرنے کی تاریخ تھی اس نے صوبے کے مسائل کو دبانے کے لیے کبھی ذمہ داری محسوس نہیں کی جیسے کہ یونیورسٹی کے طلباء خوف میں زندگی گزار رہے ہیں اور کیونکہ اس رویے کی وجہ سے اس نے صوبائی اور وفاقی حکومت کی توجہ کبھی نہیں لی۔ اور اب ہر والدین خوفزدہ اور صدمے کا شکار تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میری والدہ دوپہر میں کبھی نہیں سوئیں جب تک کہ وہ مجھے یونیورسٹی سے واپسی پر نہ دیکھیں۔ اس نے مجھے کبھی نہیں بتایا کہ وہ خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ میں اپنی گریجویشن مکمل کروں۔ یہ میرے ہر کلاس فیلو کی کہانی تھی۔ ہمارے خاندان چاہتے تھے کہ ہم فارغ التحصیل ہوں ، ماضی کو بھول جائیں اور بہتر مستقبل کی امیدیں رکھیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی نے ہم سے بہت سی جانیں لی ہیں۔ ان کے خاندانوں کی خوشیاں ختم ہو گئی ہیں۔ باشندے خوف سے زندگی گزار رہے ہیں یقین نہیں ہے کہ محفوظ اور محفوظ مستقبل ممکن ہے۔ آئی ٹی یونیورسٹی کو نشانہ بنانے والے بم دھماکے میں طالب علم مارے گئے، ہزارہ کوئلہ نکالنے والے مچھ میں ٹارگٹڈ حملے میں مارے گئے، اور سرینا ہوٹل کے احاطے میں حالیہ دھماکہ تمام مہلک واقعات ہیں جو سیکیورٹی کی نازک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کیونکہ والدین یونیورسٹی میں داخل اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لانے میں مددگار ثابت ہوں۔ والدین اب بھی جواب تلاش کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔ وہ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ سیاستدان ، ریاست اور میڈیا جو اس مسئلے پر خاموش ہے۔ ہم اب بھی خوف میں رہتے ہیں یقین نہیں ہے کہ ہماری مستقبل کیا ہے۔ کیونکہ سیکورٹی کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ ہمیں اب بھی امید ہے کہ اقتدار میں رہنے والے ان لوگوں کی حالت زار پر توجہ دیں گے جو مسلسل خوف میں رہتے ہیں کہ ان بچوں کے ساتھ کچھ خطرناک ہو سکتا ہے جنہیں ہر روز تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حالات میں بہتری آئے لیکن یہ تب تک نہیں ہوگا جب تک اقتدار میں رہنے والے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کریں۔ اور اس مرحلے میں ہم صرف چیزوں کو بہتر بنانے کے لیے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
حکومت پاکستان اور سکیورٹی اداروں کو چاہئے کہ بلوچستان میں اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو تحفظ فراہم کی جائے تاکہ ہماری خواتین اپنی تعلیم مکمل کرکے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ اور کل کو اگر کسی بھی جگہ انہیں مشکل وقت پیش آئے تو وہ تعلیم کی شعور رکھنے کی وجہ سے اس مشکل کا حل نکال سکے۔
@iHUSB -

منظور وسان نے مستقبل کی اہم ترین پیش گوئیاں کردیں
مشیر زراعت منظورحسین وسان نے نئی پیش گوئیاں کردی ہیں، اگلے سال کے اگست تک حالات تبدیل ہونگے، بڑی تبدیلی دیکھ رہا ہوں،
جی ڈی اے کا نام ختم ہوجائیگا، فنکشنل لیگ بحال ہونے کا جلد اعلان کیا جائیگا، الیکشن سے پہلے بہت سے لوگ پی ٹی آئی چھوڑکر دوسری پارٹیوں میں جائیں گے، مشرف والا کھیل کھیلا جائیگا، وقت سے پہلے عمران خان مجبور ہوکرخود الیکشن کااعلان کریں گے،
شیخ رشید جیسے وزراء دوسری پارٹی میں جائیں گیں، انکو اپوزیشن میں نہیں اقتدار میں رہنا ہے، پارٹی تبدیل کریں گے.منظورحسین وسان نے مزید کہا کہ عمران خان اپنے ہی لوگوں کے خلاف کیسزبنائے گا جو بولے گا وہ پھنسے گا، آگے چل کرعمران خان اور اسٹیبلشمینٹ میں اختلاف ہونگے، نوازشریف کے اوپرکیسسز ہیں، ن لیگ میں دونظریے سامنے آنے سے ن لیگ کو نقصان ہورہا ہے، مولانا نے جو تحریک چلائی کامیاب ہوا یہ سال ان کے لئے مشکل رہے گا پکڑدھکڑ ہوگی.
منظورحسین وسان کا مزید کہنا تھا کہ اب فیوچر بلاول بھٹو زرداری کا ہے، بلاول بھٹو نوجوان ہے اس نے ہی وزیراعظم بننا ہے، باقی عمران خان اور نواز شریف ستر سال کراس چکے ہیں، پی ٹی آئی جس تیزی سے اقتدار میں آئی ہے اسی تیزی سے 2013 کی طرح اپوزیشن پر واپس آئے گی، پی ٹی آئی اور ن لیگ میں دھڑا بندی ہوتے دیکھ رہا ہوں، ہوسکتا ہے کہ عمران خان ارلی الیکشن کا اعلان کرے، عمران خان 2022 میں الکیشن کا اعلان کریں گے، عمران خان غلط فھمی کا شکار ہے، عمران خان کو جو لائے ہیں یہ ان کو بھی کچھ نہیں سمجھتا، سندھ میں پیپلزپارٹی کو کسی سے خطرہ نہیں ہے.
-

نور مقدم کیس، فنڈ ریزنگ اور مبشر لقمان کے انکشاف، بیٹا اور بیٹی نے نوازشریف کو ڈبودیا تاریخی رسوائی، شلپا شیٹھی، فحش فلمیں اور اصل کہانی؟
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نواز شریف کو پہلے بھی بیٹی اور بیٹوں نے مروایا ہے، اب بھی ببلو اور ڈبلو مروائیں گے، اس کا مطلب یہ کہ نواز شریف نے بیماری کا بہانہ کر کے ملک سے فرار اختیار کیا ہے، پاکستان کی عدالتوں سے جھوٹ بولا ہے، لاء افورسمنٹ سے جھوٹ بولا ہے، ریاست اور حکومت سے جھوٹ بولا ہے، سب سے بڑھ کر اپنے ہی رپوٹرز کے ساتھ جھوٹ بولا ہے، جو نواز شریف کہتے تھے کہ ووٹ کو عزت دو، نوازشریف نے ہی ووٹ کو سب سے زیادہ بے عزت کیا ہے، ووٹرز کے دل توڑے ہیں، ببلو کی باتوں نے نواز شریف کے سیاسی اثاثے کا بیڑا غرق کردیا ہے.
مبشر لقمان نے مزید کہا کہ مریم باپ کے حد تک ٹھیک ہے، جب وہ نواز شریف کہتی ہے تو میں اس پر بات کروں گا، مریم نے پوری پارٹی کو دفن کردیا ہے، سب گھر والے مریم سے لڑ چکے ہیں، اسکی کسی سے نہیں بنتی ہے، عمران خان تین سال پہلے ہی کہا تھا کہ ہماری مین آف دی سیریز مریم نواز ہوگی، سیاست بہت مشکل کام ہے، چوبیس گھنٹے لوگوں کیلئے حاضر ہونا پڑتا ہے، کام ہو یا نہ ہو، غمی، خوشی میں بھی، سیاست دان کی زندگی عوام کیلئے وقف ہوجاتی ہے، سیاست دان کا کام بہت مشکل کام ہے، الیکشن جیت کر جو گھر بیٹھ جاتے ہیں ان کے لیے مستقبل میں مشکل ہوتی ہے، مریم کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سیاست کیا ہے، عون چوہدری کے استعفیٰکی وجہ ترین گروپ چھوڑنا نہیں ہے، اسے اپنی شادی مہنگی پڑی ہے، ترین گروپ بڑا ہوگا.
-

بلاول کا دورہ کوئٹہ، اہم شخصیات پی پی میں شمولیت کا اعلان کریںگی، منور انجم
پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات چوہدری منورانجم نے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری آج بروز اتوار کوئٹہ کا ایک روزہ دورہ کریں گے، اہم سیاسی و قبائلی شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے، چیف آف جھالاوان نواب ثنااللہ زہری، سابق وزیراعلی بلوچستان شمولیت اختیار کریں گے، جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ، سابق گورنر، جنرل ریٹائرڈ یونس چنگیزی، سابق صوبائی وزیر شمولیت اختیار کریں گے، نواب محمد خان شاہوانی، سابق صوبائی وزیر میڈم کشور احمد جتک، سابق مشیر وزیراعلی شمولیت اختیار کریں گے، سردار چنگیز ساسولی، سابق ضلعی ناظم، سردارعمران بنگلزئی، مرکزی رہنما بلوچستان نیشنل پارٹی میرعبدالرحمان زہری، سابق چیئرمین خضدار ن لیگ بھی شمولیت کریں گے، نواب شیرباز نوشیروانی، ن لیگ میرعرفان کرد، ن لیگ آغا عرفان کریم احمد زئی، سابق صوبائی وزیرمیرغازی خان پندرانی، ن لیگ شمولیت کریں گے، سید عباس شاہ، مرکزی رہنما بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ بھی شمولیت اختیار کریں گے.
-

سہالہ پولیس کے محرم الحرام کیلئے سیکیورٹی کے انتظامات مکمل
ایس ایچ او تھانہ سہالہ انسپکٹرمرزا محمد گلفراز نے کہا ہے کہ تھانہ سہالہ کی حدود میں واقع امام بارگاہوں مجالس، جلوسوں، کی سیکورٹی کوفول پروف بنایا جاۓ گا، امن امان کے حوالے سے علماء کرام ذاکرین امن کمیٹی کے ممبران منثظمین امن کا درس دیں انتشار انگیز تقریروں سے پرہیز کیا جائے، محرم الحرام مجالس کے دوران کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی ایس اوپیز پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے، علاقوں میں قائم مساجدامام بارگاہوں کے سیکورٹی انتظامات کے جائزہ کے لیے وزٹ منتظمین سے ملاقات اور ہدایت جاری کی
ہیں، تھانہ سہالہ پولیس نے محرم الحرام میں تمام مجلس میں سیکورٹی کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں ،منتظمین سیکورٹی پر مامور پولیس افسران سے خوش اسلوبی سے پیش آئیں، مجالس میں آنے والے ہر شخص کی دو پوائنٹ پر تلاش لی جائے گی، عزادار بھی پولیس اور سیکورٹی پر مامور جوانوں سے تعاون کریں گے. -

ضلع وسطی کے ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر اور میونسپل کمشنر عاشورہ کے انتظامات میں مصروف ِعمل
ضلع وسطی میں محرم الحرام کے دوران عزاداری ،مجالس،جلوس اور میلاد شریف کی محفلوں کے پر امن انعقاد کے لئے بہتر سے بہتر انتظامات کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی طحہٰ سلیم اپنے اسسٹنٹ کمشنرز کے ہمراہ مسلسل شب و روز مصروف عمل ہیں تاکہ عاشورہ محرم کے دوران مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے افراد سربلندی ِ اسلام کے لئے شہادتِ امام حسین ؑکی قربانی کی یاد تازہ کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے اپنے اپنے انداز سے مجالس ،جلوس اور میلاد شریف کی محفلیں پر امن طور پر منعقد کر سکیں ۔
اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر طحہٰ سلیم ضلع وسطی کے اسسٹنٹ کمشنرز کے ہمراہ نہ صرف امام بارگاہوں اور جلوس کے منتظمین سے ملاقات کر رہے ہیں بلکہ انتظامیہ کو بھی ہدایات جاری کر رہے ہیں تاکہ عشرہ محرم کے دوران تقریبات باہمی مذہبی ہم آہنگی کے ساتھ منعقد کی جاسکیں جبکہ دوسری جانب میونسپل کمشنر بلدیہ وسطی ڈاکٹر سید محمدعلی زیدی بلدیاتی افسران کے ہمراہ عاشورہ محرم کے دوران صفائی ستھرائی ،جلوس کی گزرگاہوں پر گڑھوں کی بھرائی ،سڑکوں کی پیوند کاری اور رات کے وقت روشنی کے انتظامات کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ مجالس ،جلوس اور میلاد شریف کے انعقاد کے دوران عزاداروں کو کسی بھی قسم کی پریشانی دوچار نہ ہونا پڑے اس سلسلے میں انہوں نے بلدیاتی افسران کو خصوصی ہدایت جاری کیں ہیں کہ امام بارگاہوں کے اطراف اور عوامی اجتماعات کے مقامات اور جلوسوں کی گزگاہوں پر صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ روشنی کے انتظامات بہتر کئے جائیں تاکہ عزداری کی تقریبات کو بہتر طور پر منعقد کیا جاسکے ۔ -

دہشتگردی و انتہاپسندی کا خاتمہ اور رواداری و مساوات کا فروغ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے ،بلاول بھٹوزرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کوئٹہ کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ ہماری ملکی تاریخ کے بدترین و تاریک واقعات میں سے ایک اور بلوچستان کے انتھائی باشعور و متحرک افراد کے خلاف گھناونی سازش تھا۔8 اگست 2016ع کو کوئٹہ میں دہشتگردی کے اس واقعے میں 56 وکلا سمیت 73 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں میڈیا کے دو کیمرہ مین بھی شامل تھے۔
سانحہ کوئٹہ کی پانچویں برسی کے موقعے پر اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کا غم اور کرب آج بھی تازہ ہیں، کیونکہ باشعور قومیں اپنے بے گناہ ہم وطنوں کو بے دردی سے قتل کیئے جانے کا غم بھولتی ہیں نہ معاف کرتی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کے شہیدوں کو قتل ایک بار نہیں، بلکہ ہر روز کیا جاتا ہے ۔
"اب بھی وقت ہے، عوام کی جان و مال کی حفاظت اور دہشتگردی و انتھاپسندی کو حقیقی معنوں میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیئے نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔” پی پی پی چیئرمین نے سانحہ کوئٹہ سمیت ملک بھر میں دہشتگردی کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں کو یقین دلایا کہ ان کی پارٹی دہشتگردی اور انتھاپسندی کے خاتمے کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کرے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں ہر قسم کی دہشتگردی اور کسی بھی شکل میں موجود انتھاپسندی کے خلاف عوامی مزاحمت کا نام ہے۔ دہشتگردی و انتہاپسندی کا خاتمہ اور رواداری و مساوات کا فروغ پاکستان پیپلز پارٹی کا منشور ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے نتیجے میں اپنے پیاروں کو کھونے کا درد مجھ سے بھتر کوئی نہیں سمجھ سکتا . -

الخدمت کے تحت کورونا وباء سے تحفظ اور شہریوں کو سہولت کیلئے موبائل ویکسی نیشن یونٹ کا آغاز
الخدمت کے تحت کورونا وباء سے تحفظ اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے موبائل ویکسی نیشن یونٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے ، امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ضلع جنوبی کے امیر و رکن سندھ اسمبلی سید عبد الرشید کے ہمراہ ہفتہ کے روز چوہدری خلیق الزماں روڈ نزد بچہ پارٹی سپر مارٹ کلفٹن میں موبائل ویکسی نیشن یونٹ کا افتتاح کیا ۔
یونٹ کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا ۔موبائل یونٹ شہر کے مختلف مقامات پر کورونا ویکسی نیشن کی سہولت فراہم کرے گا ، حافظ نعیم الرحمن نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الخدمت اپنی استطاعت اور وسائل کے مطابق کام کرہی ہے اور حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر بھی تیار ہے۔
الخدمت نے ہی سب سے پہلے شہر بھر میں جراثیم کُش اسپرے مہم چلائی اور کے ایم سی نے بھی مہم میں الخدمت کے ساتھ تعاون و اشتراک کیا ۔موجودہ حالات میں بھی الخدمت کے تحت شہر میں عوام کو ویکسی نیشن کی سہولت فراہم کی جارہی ہے اور معذوروں و بزرگ شہریوں کو ان کے گھروں پر بھی ویکسی نیشن لگانے کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے ، حکومت لاک ڈاون میں ایسا نظام بنائے جس سے معاشی نقصان نہ ہواور معیشت محفوظ رہے ، لوگ بے روزگار نہ ہوں ۔حکومت کرونا ریلیف فنڈز کا درست استعمال کرے اور کراچی کے عوام کو سہولت فراہم کرے۔
جماعت اسلامی ہمیشہ کراچی کے عوام کی حقوق کی بات کرتی ہے۔اہل کراچی کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کے لیے مسلسل جدو جہد کر رہی ہے ۔ کورونا وباء کے آغاز سے ہی جماعت اسلامی اور الخدمت نے کراچی سمیت ملک بھر میں ریلیف کا کام شروع کیا۔
جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار پورے پاکستان میں کام کررہے ہیں۔سید عبد الرشید نے کہا کہ آج الخدمت کراچی کے تحت ویکسی نیشن موبائل یونٹ کا افتتاح کیاگیا ہے ، الخدمت نے ہمیشہ آگے بڑھ کر عوام کی خدمت کی ہے ، الخدمت کی کرونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے شہر بھر میں سرگرمیاں جاری ہے۔ کراچی میں سب سے پہلے الخدمت کی جانب سے موبائل ویکسی نیشن سروس فراہم کی جارہی ہے۔ اس موقع پر الخدمت کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر راشد قریشی، الخدمت کمیونٹی سروسز کے نگراں قاضی صدر الدین، نائب امیر ضلع جنوبی سفیان دلاور، ڈپٹی سکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔ -

میجر طفیل شہید کا آج 63 واں یوم شہادت، مزار پر تقریب کا آغاز
وہاڑی میں میجرطفیل شہید نشان حیدرکے مزارپرتقریبات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، عظیم سپوت میجر طفیل محمد شہید کا آج 63 واں یوم شہادت ہے، وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے فاتح لکشمی پور نے آج کے دن 1958 میں جام شہادت نوش کیا، وہاڑی نشہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے مزارکا نظم ونسق سنبھال لیا ہے، مزاراوراس کے گردونواح میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں، مزارپرپھولوں کی چادرچڑھائی جائیگی، میجرطفیل محمد شہید نشان حیدرکو پاک فوج کا دستہ سلامی پیش کرے گا.
وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کرنے والوں کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولا جا سکتا ہے، ہمارے شہداء ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں.
طیب اشرف
نمائندہ باغی ٹی وی لڈن
تحصیل وہاڑی ضلع وہاڑی
