Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلامی تعاون تنظیم کےانسانی حقوق کمیشن وفد کا کنٹرول لائن کا دورہ:بھارتی جارحیت کا جائزہ لیا

    اسلامی تعاون تنظیم کےانسانی حقوق کمیشن وفد کا کنٹرول لائن کا دورہ:بھارتی جارحیت کا جائزہ لیا

    راولپنڈی :اسلامی تعاون تنظیم کےانسانی حقوق کمیشن وفد کا کنٹرول لائن کا دورہ:بھارتی جارحیت کا جائزہ لیا ،اطلاعات کے مطابق آج اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے انسانی حقوق کمیشن (آئی پی ایچ آر سی) کے وفد نے کنٹرول لائن کا دورہ کیا اوروہاں بھارتی جارحیت کا جائزہ لیا

    ذرائع کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم کے وفد نے آج چریکوٹ سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا۔وفد کو ایل او سی کے ساتھ موجودہ سکیورٹی صورت حال کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

    وفد کوان علاقوں میں بھارتی جارحیت اورگولہ باری سے محفوظ رکھنے کےحوالے سے کیئے گئے انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    اس موقع پر او آئی سی کے ارکان نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے متاثرین ، دیہات کی دفاعی کمیٹیوں کے ارکان اور سول انتظامیہ سے بھی بات چیت کی۔

    اس موقع پر اسلامی تعاون تنظیم کے وفد نے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا کہ پاک فوج کے سیکورٹی حکام نےبھارتی جارحیت سے متاثرہ سرحدی علاقوں کی زمینی حقیقت کا مشاہدہ کرنے کا موقع فراہم کیا

  • تھوڑی سی برداشت   تحریر : شاہ زیب

    تھوڑی سی برداشت تحریر : شاہ زیب

    زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے ہم محنت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔
    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ زندگی میں ایک اور چیز بھی بڑی اہم ہے جسے ہم تقریباً فراموش کر چکے ہیں۔
    بات ہو رہی ہے برداشت کی
    جی ہاں وہ ہی برداشت جو بطور معاشرہ
    بطور قوم
    بطور مسلمان
    ہم کہیں کھو چکے ہیں۔ آج کل ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر مقابلہ بازی میں مصروف ہے۔
    کسی نے ایک لفظ بھی ناپسندیدہ کہہ دیا تو ہم پر جیسے فرض ہو گیا اس کو بڑھ کر جواب دینا۔
    اگر کوئی ہمارے کسی کام یا بات پر تنقید کر دے تو ہم ایک منٹ رک کر یہ نہیں غور کرتے کہ واقعی اس نے یہ بات ٹھیک کی یا نہیں، ہمارے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟
    ہم فوراً سے غصہ کر کے اس بات کا دگنا جواب دیتے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم اس کی بات سن کر، اس پر غور کر کے خود کو بہتر کر لیں۔
    ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں کوئی اچھا کام کر رہا ہے تو اس کو دکھاوا کہا جائے گا ( کیا آپ لوگ اس انسان کی نیت کو ﷲ سے بہتر سمجھ سکتے ہیں؟)
    اگر کوئی خوش ہے تو لوگ اس کو دیکھ کر بجائے خوش ہونے کے اس پر تنقید کریں گے۔
    کیا آپ اس کی خوشی میں خوش نہیں ہوسکتے؟
    چلیں اگر آپ ایسا نہیں بھی کرسکتے تو کم از کم اس کی خوشی برداشت کر لیں اور اس کو اپنے زہر سے غارت نہ کریں۔
    کسی کی خوشی میں، یا کسی کے غم میں اس کا ساتھ دینا یا پھر آپ کو یہ ناگوار گزرے تو برداشت سے کام لینا۔
    اس سے نہ صرف آپ کی زندگی میں سکون آۓ گا بلکہ معاشرے میں بھی تبدیلی آۓ گی۔
    جب آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کو برداشت کرنا شروع کر دیں گے تو ایک بہترین انسان بن کر سامنے آئیں گے۔
    اس کے سب سے پہلے آپ پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے، پھر آپ کے ارد گرد رہنے والوں لوگوں پر۔
    جب وہ لوگ آپ کے اچھے رویے سے متاثر ہوں گے تو وہ بھی آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔
    اور اس طرح آہستہ آہستہ ہم بطور معاشرہ ایک مہذب معاشرہ بنیں گے۔ جس میں برداشت ہو گی۔
    جو چھوٹی چھوٹی بات پر بھڑک کر بڑی بڑی لڑائیاں نہیں کریں گے۔
    اور جب ہم ان چھوٹی باتوں سے آگے بڑھیں گے تو یقیناً ایک کامیاب قوم بنیں گے جو تبھی ممکن ہے جب ہم تھوڑی سی برداشت سے کام لینا شروع کریں گے۔

    ‎@shahzeb___

  • عامر میر اور عمران شفقت کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ ایف آئی اے نے وجہ بتا دی

    عامر میر اور عمران شفقت کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ ایف آئی اے نے وجہ بتا دی

    لاہور:عامر میر اور عمران شفقت کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ ایف آئی اے نے وجہ بتا دی ،اطلاعات کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) نے سنیئر صحافی عامر میر اور عمران شفقت کی گرفتاری کے حوالے سے پریس ریلیز جاری کی ہے۔

    ایف آئی اے کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق دونوں صحافیوں کو پہلے سے درج مقدمات کی بنا پر گرفتار کیا گیا تھا۔دونوں کے خلاف اعلی ججز،پاک فوج اور خواتین سے متعلق تضحیک آمیز رویے پر مقدمات درج ہوئے تھے۔

     

     

    اس پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دونوں نے اپنے چینلز سے ایسے پیغامات اور پروگرام نشر کیےجس سے قومی سلامتی کے اداروں اعلی عدلیہ کے بنیاد کو کمزور کرکے عوام کے ان اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔

    اس اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ دونوں ملزمان کو ضمانت پر چھوڑ دیا گیا ہے تاہم ابھی تفتیش کا عمل جاری ہے۔ملزمان کے خلاف مزید ثبوت اکھٹے کرکے چالان عدالت میں جمع کروایا جائے گا۔

  • شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں  تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    شیطان کے بہکاوے رمضان میں بھی کیوں تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    یہ سوال ہر سمجھدار شخص کے گمان کو متاثر کرتا ہو گا. احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور رب العالمین کے قرآن سے جو اسباق اور رمضان کی برکتیں اور انعامات کا جہاں زکر کیا گیا وہیں یہ انعام بھی دیا گیا کہ انسان کو برائی میں مبتلا کرنے والا اس کا سب سے بڑا دشمن جو کہ شیطان ہے کو رمضان جکڑ دیا جاتا ہے اس کے باوجود انسان گناہ سے کیوں بچ نہیں پاتا؟
    دراصل وجہ یہ ہے کہ جب انسان طلب جنون کے درجے کو عبور کرتے اور بڑھتے بڑھتے ہوس کے درجے پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی نظر میں حال و حرام کا فرق مٹ جاتا ہے۔ اور یہ کام انسان کے اندر موجود اسکا نفس کرتا ہے وہ شیطان کی ہدایات پر عمل کر کے اس کام کو بخوبی انجام دیتا ہے
    طریقہ واردات یہ ہے کہ جب
    انسان کسی چیز کو حاصل کرنے کی طلب رکھتا ہے اور وہ طلب کی حد اور طلب کے درجے تک رہتی ہے تب تک معاملات ٹھیک رہتے ہیں۔ پھر شیطان اپنا کام دکھاتا ہے اور انسان کے نفس کو بہکاتا ہے جس سے اس کی سوچ میں حسد کی فضا قائم ہونے لگتی ہے اور وہ اس کی طلب کی اس حد کو نیا رنگ دینے لگتی ہے۔ بربادی کا سفر تب شروع ہو جاتا ہے اور انسان اچھائی کا راستہ بھولنے لگتا ہے اور طلب کے ہر ممکن حصول کے لیے شیطانی سمجھاے گئے راستوں سے اپنےحسد کی آگ بجھانے میں لگ جاتا ہے اور طلب کی تکمیل کے لئے ہر اچھا برا عمل کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ جب حسد کی آگ مزید عروج پکڑتی ہے تو نفس اسی طلب کو ہوس میں بدل دیتا ہے اور اسطرح انسان الله کی رحمت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔اور شیطان کی مسلسل دی جانے والی وسوسوں پر عمل کرتے کرتے جھوٹ، دھوکہ دہی، حق تلفی، ظلم، زیادتی، ملاوٹ جیسی بے پناہ لعنتوں کو اپناتے ہوئے خون ریزی تک کرنے سے گریز نہیں کرتا. اس وجہ سے رمضان میں شیطان تو جکڑا ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر موجود شیطان کا تربیت کردہ نفس انسان کے اندر رہتے ہوئے شیطان کے بتائے ہوئے طریقوں وسوسوں اور تدبیروں پر عمل احسن طریقے سے جاری رکھتا ہے۔ زرہ سوچئے غلطی کس جگہ ہوئی؟ انسان اللہ کہ رحمت سے دور کب اور کیسے ہو گیا؟
    جب شیطان نے انسان کی جائز خواہش اور ضرورت کی طلب میں اضافہ کیا۔ نتیجتاً اب شیطان کی غیر موجودگی میں بھی انسان گناہ میں مبتلا ہے۔ شیطان انسان کی طلب بڑھاتے بڑھاتے اسے ہوس کے درجے تک لے آیا اور انسان نے اپنے نفس کو شیطان کے رحم کرم پر چھوڑے رکھا. خدارا شیطان کی پہلی چال کو سمجھیں اور اسے ناکام بنائیں اپنے نفس کو شیطان کے چنگل میں پھنسنے سے بچائیں.
    اس کے بہت سے طریقے اور بھی سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں جن میں الله کی راہ میں خرچ کرنا اول درجہ کی نیکیوں میں سے نیکی ہے۔ جب انسان اپنی طلب پر کسی کی ضرورت کو فوقیت دیتا ہے تو انسان کی طلب میں کمی آتی ہے اور سخاوت کا پہلو عروج پر آتا ہے۔ یہ ایسا عمل ہے جو انسان کو بخیل اور کنجوس ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ دولت طاقت شہرت اور ہوس جیسے نشے کو حاوی ہونے سے روکے رکھتا ہے۔ اور یہ اعمال الله کریم کے پسندیدہ کاموں میں سے ہیں۔ اللہ کی زات بہت کریم ہے اور اپنی مخلوق کے ساتھ احساس والا معاملہ کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔ دوسروں کے احساس کرنے والا یہ عمل شیطان اور نفس کے خلاف بھرپور جہاد کا کام کرتا ہے۔ جس سے انسان اللہ کی رحمت کے حصار میں رہتا ہے۔
    خدارا شیطانی کاموں اور تدبیروں سے اجتناب کریں اپنی طلب کو ہوس بننے سے بچائیں یہی کامیابی کی کنجی ہے

    @EngrMuddsairH

  • بورس جانسن کے اشارے کے بعد پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر آنے کی امید پیدا ہوگئی

    بورس جانسن کے اشارے کے بعد پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر آنے کی امید پیدا ہوگئی

    لندن :بورس جانسن کے اشارے کے بعد پاکستان کے برطانوی ریڈ لسٹ سے باہر آنے کی امید پیدا ہوگئی ہے اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات میں‌کہا گیا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن نے پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا اشارہ دے دیا۔

    لندن سے ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کے لئے ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    پاکستان کوریڈ لسٹ سے نکالنے کے حوالے سے بورس جانسن نے رائل ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ میں پاکستانی ہائی کمشنر معظم احمدخان اور دیگر سے گفتگو کی۔

    اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ بورس جانسن کے ریمارکس سے اندازہ ہوتا ہے پاکستان چند ہفتوں میں ریڈ لسٹ سے باہر آجائے گا۔

    اس موقع پر بورس جانسن نے پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات میں افغانستان کی صورتحال پر بھی غور کیا۔برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کےچیلنج سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

    بورس جانسن نےکورونا وبا سے نمٹنے کیلئے فوج کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

  • حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    حدیں جو تم کو قید لگتی ہیں اے بنت حوا تمھاری محافظ ہیں تحریر: سحر عارف

    **

    عورت رب العزت کی سب سے پیاری مخلوق ہے اور ایک مومن عورت تو بالکل انمول موتی کی مانند ہے۔ اس میں اللّٰہ تعالٰی نے بہت سی صلاحیتیں رکھی ہیں۔ اسلام نے عورت کو اگر پردے کا حکم دیا ہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے جیسے ہم اپنی سب سے خوبصورت چیز کو ہمیشہ چھپا کر رکھتے ہیں تاکہ کوئی اور اسے دیکھ نا سکے اور وہ ہمیشہ محفوظ رہے تو ٹھیک اسی طرح عورت کو بھی اللّٰہ نے پردے کا حکم اسی لیے دیا ہے کہ وہ محفوظ رہے۔

    ایسے ہی مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ خود کو انمول سمجھتے ہوئے اللّٰہ کے ہر حکم کی تعمیل کرے اور اللّٰہ کی بتائی ہوئی حدود کو اپناتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرے۔

    اگر تاریخ دیکھی جائے تو اس بات کا باخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام سے قبل عورت ذات کے ساتھ کس قسم کا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتے تھے۔ بیٹیاں پیدا ہوتی تو باعثِ ذلت اور باعثِ شرمندگی سمجھ کر انھیں زندہ درگور کردیا جاتا۔ انھیں گھروں سے باہر نکلیں تک کی آزادی نا تھی۔ یہاں تک کہ عورت ذات کی عصمت تک محفوظ نہیں تھی۔

    پھر ایسے میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد ہوئی جو پوری کائنات کے لیے رحمت العالمین بن کر آئے۔ آپ کی آمد سے عورتوں کو ان کے حقوق ملے۔ یہ اللہ کا دین ہی تو ہے جس نے عورت کو ہر روپ میں الگ مقام اور حیثیت دی ہے۔

    اگر عورت ماں ہے تو اس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جنت ماں کے قدموں تلے ہے”۔ اگر عورت بیوی ہے تو شوہر کی وفادار ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی بہترین متاع نیک بیوی ہے”۔ عورت اگر بیٹی ہے تو رحمت ہے۔ فرمایا گیا: "جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی پھر ان کو ادب سیکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو اس کے لیے جنت ہے”.

    بےشک اسلام وہ واحد دین ہے جس نے عورت کو ذلت و پستی سے نکال کر اسے شرف انسانیت بخشا اور اسے عورت ہونے کا اصل مقام اور عزت بخشی۔ اللّٰہ پاک نے قرآن پاک میں عورتوں کے وہ تمام حقوق بیان کیے ہیں جو کسی بھی اور مذہب میں نہیں ملتے اور نہ ہی ان مذاہب کی کسی کتاب میں ملتے ہیں۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ قرآن پاک میں بھی مردوں کی نسبت عورتوں کا ذکر زیادہ بار آیا ہے۔

    اسی طرح اسلام نے عورت کو بےشمار حقوق سے بھی نوازا ہے۔ شوہر کے انتخاب سے لے کر آزادی رائے تک کے تمام حقوق عورت کو حاصل ہیں وہ جب چاہے اپنے ان تمام حقوق کو استعمال کرسکتی ہے۔ جہاں اسلام نے اتنے حقوق دیے ہیں وہاں عورتوں کے لیے کچھ حدیں بھی مقرر کی ہیں جس کا مقصد صرف عورت کی حفاظت ہے۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسلام سے قبل کسی عورت کو ایسے کوئی حقوق حاصل نہیں تھے یا یوں کہوں کے حقوق جیسے لفظ تک سے کوئی بھی عورت واقف نہیں تھی کیونکہ اس وقت یہ لفظ ان کے لیے شاید بنا ہی نہیں تھا۔ مگر اسلام نے عورت کو یہ تمام حقوق دیے۔ لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑے گی کہ ان تمام حقوق کے بعد بھی آج کے دور میں مسلمان عورت پھر سے زمانہ جاہلیت کی طرف چل پڑی ہے۔ وہ اپنا وہ مقام جو اسلام نے اسے دیا ہے اپنے ہاتھوں سے خود ہی ختم کرنے کی کوششوں میں لگی ہے اور مغربی ممالک کی پیروی کررہی ہے۔

    آج کے دور میں جب کچھ عورتیں آزادی کے نام پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے لگاتی ہیں تو بہت افسوس ہوتا۔ بھئ کون سا جسم؟ کون سی مرضی؟ یہ جسم بھی تو اللّٰہ کی دی ہوئی امانت ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کچھ بھی ممکن نہیں۔ اگر اس ذات کی مرضی نہ ہوتو ہم اپنے جسم کے کسی ایک حصّے کو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں سکتے۔ ایسی عورتوں کو جو خود عورت ذات کو تماشا بنا رہی ہیں پکڑ کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔ انھیں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اللّٰہ کی بنائ ہوئ حدیں صرف ہماری حفاظت کے لیے ہیں اگر اللّٰہ نے مرد کو ایک درجہ بلند دیا ہے تو اس لیے دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کی حفاظت کرسکے اور عورت کو چاہیے کہ مردوں سے مقابلہ کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلیں۔ تاکہ ایک پرامن معاشرہ وجود میں آئے۔

    @SeharSulehri

  • کرونا وبا اور معاشی جنگ  تحریر  : راجہ حشام صادق

    کرونا وبا اور معاشی جنگ تحریر : راجہ حشام صادق

    اس وقت پوری دنیا میں کرفیو کی طرح کا ماحول ہے دنیا کو اس وقت ایک ایسی جنگ کا سامنا ہے جس کے لیے کسی ملک نے کوئی تیاری نہیں کر رکھی تھی۔اس جنگ کا آغاز تو چین سے ہوا مگر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس نے ساری دنیا کو لپیٹ میں لیا وہ ایک وبا ہے جس کا نام ہے کرونا۔

    کرونا کے بعد جو شروع ہوتی ہے اس کا نام ہے معاشی جنگ دنیا بہترین ہتھیاروں کی تیاری اور مقابلے کی دوڑ میں یہ بھول چکی تھی کہ ایک اورجنگ بھی شروع ہونے جا رہی ہے جس جنگ کی نوعیت بہت خطرناک ہو گی اور آج اس جنگ کا سامنا دنیا کا ہر امیر اور کمزور ملک کر رہا ہے۔ کرونا وبا کے آنے کے بعد سے اس جنگ کا آغاز ہو وہ جنگ معاشی جنگ ہے اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ آج امیر ممالک خوفزدہ ہیں ان کو ڈر ہے کہ کہیں ان کے لوگ بھوک اور غربت سے مر ہی نہ جائیں ۔خود کو سپرپاور سمجھنے والے ایک ایسے بحران کا شکار ہو گے کہ ان کے بنائے گئے جدید میزائل اور اسلحہ بھوک ختم کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔

    قارئین ہمارے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری کہ اللہ تعالٰی کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔جو لوگ اسلحہ اور پٹرول کو اپنی طاقت سمجھتے تھے جن کے پاس پٹرول کے ذخائر تھے۔ کیا ہوا ان ممالک کی معیشت کیوں دن با دن نیچے آتی جا رہی ہے۔اب بھی وقت ہے اجتماعی تور پر توبہ کا۔کشمیر اور فلسطین کے مسلمان جس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اللہ پاک نے ایک ہی جھٹکے میں پوری دنیا کو بتا دیا کہ کرفیو اور لاک ڈون میں کیا ہوتا ہے ۔ سچ ہی کہتے ہیں جب خود پے بنے تو احساس تب ہی ہوتا ہے۔ لیکن شاید ابھی تک دنیا خو سمجھ نہیں آئی ابھی تو چوتھی لہر آئی ہے خدانخواستہ اگر اسی طرح پانچویں، اور پھر چل سو چل چلتا رہا تو پوری دنیا تو ویسے ہی ختم ہو جانی ہے۔

    دنیا کے پاس جدید ٹیکنالوجی ہو گی لیکن کھانے کے لئے بھیک مانگے پر بھی کوئی ایک لقمہ نہ دے سکے گا ہر طرف بھوک ہو گی اس بھوک کو ختم کرنے کے لئے تم جنگ کرنا بھی چاہو گے تو بھی ناکامی ہو گے۔ آج تک اس جنگ سے لڑنے کا کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا دنیا میں ابھرتی بہترین معاشی طاقتیں بھی مفلوج ہو چکی ہیں یاد رکھیں اس جنگ میں صرف چند ممالک تباہ نہیں ہوں گے دنیا کی سب سے زیادہ تباہ کن جنگ ہو گی ۔

    اس جنگ کے بعد شاید آنے والی نسلیں ہم سے زیادہ خوشحال ہوں ان کے لئے ایٹم سے زیادہ ضروری اپنی عوام کی بھوک اور غربت ختم کرنا ضروری ہو گا۔ اس دنیا نے جتنی سرمایہ کاری اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کی ہے یہی غربت کے خاتمے کے لئے کرتی تو ایسے وقت کا مقابلہ بہتر طرح سے کر سکتے تھے۔ ایک وبا نے آج پوری دنیا کو گھروں کے اندر محصور کر کے رکھ دیا ہے ۔

    دعا ہے یا رب العالمین ہم سب کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھنا ۔اور ہمارے مضلوم کشمیری اور فلسطینی بہین بھائیوں کی مدد فرمانا ۔آمین ثم آمین

    @No1Hasham

  • معذرت میں پاکستانیوں کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا: ارشد ندیم یہ کہہ کرپھرجیت گئے

    معذرت میں پاکستانیوں کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا: ارشد ندیم یہ کہہ کرپھرجیت گئے

    لاہور: معذرت میں پاکستانیوں کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا: ارشد ندیم یہ کہہ کرپھرجیت گئے،اطلاعات کے مطابق ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے ارشد ندیم نے کہا ہے کہ معذرت میں عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا۔

    ارشد ندیم نے بڑے اچھے انداز سے گفتگو کی اورکہا کہ ‘انشا اللہ اگلے اولمپکس میں مزید تیاری کے ساتھ جاؤں گا’ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح‌میرے اللہ نے چاہا وہ ہوگیا ، میرے اللہ چاہیں گے تووہ ضرور اگلے اولمپکس میں کامیابی حاصل کریں گے

    ارشد ندیم کی طرف سے قوم کے سامنے اپنا کیس پیش کرتے ہوئے جس انداز سے معذرت کی اسے ہرذی شعورارشد ندیم کی جیت قراردے رہا ہے، اکثرصارفین تویہ کہہ رہے ہیں‌ کہ ارشد ندیم توہارا نہیں بلکہ جیت گیا ہے ، تیرا رویہ بہت اچھا لگا

     

     

    https://twitter.com/ArshadNadeemPak/status/1423985844873043968

    یاد رہےکہ ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو کے فائنل مقابلے میں پاکستان کی جانب سے ارشد ندیم میڈل نہ جیت سکے، ٹوکیو اولمپکس کے جیولین تھروکے فائنل مقابلے میں 12 ایتھلیٹ پہلے مرحلے میں شامل تھے جن میں سے ٹاپ 8 نے اگلے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ ان میں ارشد ندیم 84.62 کے سکور کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔

    میڈل راؤنڈ میں ٹاپ تین کھلاڑیوں کو گولڈ، سلور اور برانز میڈل کا حقدار ٹھہرنا تھا تاہم اس راؤنڈ میں ارشد ندیم متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے اور میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

    دوسرے راؤنڈ میں پاکستان کے ارشد ندیم پانچویں نمبر پر رہے۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے اس مقابلے میں گولڈ، جمہوریہ چیک کے جیکب واڈلیچ نے سلور اور جمہوریہ چیک ہی کے ویتے سلاف ویسلے نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔

  • شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کی سکیورٹی چوکی پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید

    شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کی سکیورٹی چوکی پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید

    شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کی سکیورٹی چوکی پر فائرنگ، پاک فوج کا جوان شہید،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کا ایک اور جوان فرض پر قربان ہو گیا، شمالی وزیرستان میں 29 سالہ سپاہی شاہد شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے گھڑیوم میں سکیورٹی چوکی پر دہشتگردوں نے فائرنگ کی، اس دوران پاک فوج کی طرف سے دہشتگردوں کی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کا 29 سالہ سپاہی شاہد شہید ہو گئے ہیں۔ فورسز کا دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج دہشتگردی کی لعنت کے جڑ سے خاتمے کے لیے پر عزم ہے، فورسز کے جوانوں کی قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔

  • ٹوکیوسےخوشی آتے آتے رہ گئی ارشد ندیم پاکستان کے لیے اعزازحاصل نہ کرسکے

    ٹوکیوسےخوشی آتے آتے رہ گئی ارشد ندیم پاکستان کے لیے اعزازحاصل نہ کرسکے

    ٹوکیو:ٹوکیوسےخوشی آتے آتے رہ گئی ارشد ندیم کی کوششیں کارآمد ثابت نہ ہوئیں‌،اطلاعات کےمطابق ٹوکیو اولمپکس میں جیولین تھرو کے فائنل مقابلے آج ہوئے جس میں پاکستان کی جانب سے میڈل کی آخری امید ارشد ندیم شکست کھاگئے۔

    ٹوکیو اولمپکس کے جیولین تھروکے فائنل مقابلے میں 12 ایتھلیٹ پہلے مرحلے میں شامل تھے جن میں سے ٹاپ 8 نے اگلے راؤنڈ میں جگہ بنائی۔ ان میں ارشد ندیم 84.62 کے اسکور کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔

    میڈل راؤنڈ میں ٹاپ تین کھلاڑیوں کو گولڈ، سلور اور برانز میڈل کا حقدار ٹھہرنا تھا تاہم اس راؤنڈ میں ارشد ندیم متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے اور میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

    دوسرے راؤنڈ میں پاکستان کے ارشد ندیم پانچویں نمبر پر رہے۔ بھارت کے نیرج چوپڑا نے اس مقابلے میں گولڈ، جمہوریہ چیک کے جیکب واڈلیچ نے سلور اور جمہوریہ چیک ہی کے ویتے سلاف ویسلے نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔

    حیران کن طور پر عالمی نمبر ایک جرمن کھلاڑی جولین ویبر بھی میڈل کی دوڑ سے باہر ہوئے اور ان کی چوتھی پوزیشن رہی۔اس طرح ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کا سفر تمام ہوا اور اس کے 10 ایتھلیٹس کوئی بھی میڈل حاصل نہ کرسکے۔

    پہلے مرحلے میں تمام 12 ایتھلیٹس نے 3 ،3 بار نیزہ پھینکا جس کے بعد آخری کے چار ایتھلیٹس میڈل کی دوڑ سے باہر ہوئے اور پھر ٹاپ 8 کے درمیان مزید 3 ، 3 باری کا مقابلہ ہوا جس میں ارشد ندیم پانچویں نمبر پر رہے۔