Baaghi TV

Author: +9251

  • خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفہ ثانی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ – جویریہ بتول

    خلیفۂ ثانی حضرت عمر ابنِ خطاب رضی اللّٰــــہ عنہ
    ✍🏻:جویریہ بتول

    مرادِ نبیﷺ تھا جو خود چل کر وہ آ گیا…
    آتے ہی کلمہ پڑھ کر غرورِ کفر پر چھا گیا…
    اِک حوصلہ دیا جس نے بے بس مسلمانوں کو…
    بیت اللّٰــــہ کے آنگن میں وہ نغمۂ توحید گا گیا…

    جس راستے عمر چلے، وہاں بھاگتا شیطان ہے…
    عمر کے دل کی خواہشوں پر اُترتا قرآن ہے…
    کوئی ہوتا بعد میرے گر نبی اس جہاں میں…
    ہوتا وہ فقط عمر،یہ پیارے نبیﷺ کا فرمان ہے…

    جس طرف بھی بڑھ گیا عمر آ گیا اِک انقلاب…
    ہر دیار میں چہار جانب اُبھرا اسلام کا آفتاب…
    قبلہ اول کےقابض دَنگ تھے دیکھ کر مردِ درویش…
    بن کر فاتح وہاں داخل ہوا تھا جب ابنِ خطاب…

    شرق سے غرب تک پھیل گئی تھی آسودگی…
    خلیفہ جاگتا تھا ،جب قوم پر چھاتی غنودگی…
    بچوں کے رونے پر بھی جو ہو جاتا تھا بے قرار…
    اُس گرم مزاج میں یوں رچی تھی عاجزی…

    اسلام کا اِک عظیم خادم سدا رہے گا میرا عمر…
    چکنا چُور کر دی جس نے کفر کی ہر سُو کمر…
    آج بھی دہل جاتے ہیں جس کے نام سے وہ دل…
    ڈریں جس کاثانی ہونےسے،تھا وہ تقویٰ کاپیکر…

    ہیں سسرِ نبیﷺ بھی وہ، جو ہیں دامادِ علی…
    کردار سدا تاریخ کے ورق پر ہے اُن کا جلی…
    اطاعتِ نبیﷺ میں تھی یوں زندگی گزاری…
    بعد شہادت کے جگہ نبی کے پہلو میں ملی…

    ذکرِ عمر جب بھی ہوا،سادگی پہ چشمِ نم ہوئی…
    کہ واسطے اسلام کے تھی جس کی گردن خم ہوئی…
    عمر کے کردار نے بھر دی مہک سانسوں میں…
    اِسی یقین میں زندگی اُن کی خوشی و غم ہوئی…!
    (رضی اللّٰــــہ عنہ).

  • کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    کرونا وائرس سے لڑنا ہے تحریر: راحیلہ عقیل

    2019 میں ایک وبا عام ہوئی جسکو کرونا وائرس کا نام دیا گیا ساری دنیا کو اس وائرس نے تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا پاکستان میں فروری 2020 کرونا وائرس کے دو مریض سامنے آئے ان میں سے ایک مریض کراچی اور دوسرا وفاقی سے تھا دونوں مریض ایران کے سفر سے لوٹے تھے اس کے بعد تو جیسے کرونا نے سر اٹھا لیا اچانک کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی دیکھتے ہی دیکھتے پورا ملک کرونا کی لپیٹ میں آگیا عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ اگر حفاظتی تدابیر نہ اختیار کی گئیں تو جولائی کے وسط تک پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے اس کے بعد ان میں اضافہ ہوگا یا کمی واقعہ ہوگی وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے جو آج کافی حد تک درست ثابت ہوئی،
    ہسپتالوں میں ایمرجنسی وارڈ بنائے گئے عوام کو آگاہی دی گئی ماسک پہنیں، غیر ضروری گھروں سے باہر نا نکلیں، ہاتھ بار بار دھوئیں،مگر وہ پاکستانی ہی کیا جو حکومتی اقدامات کو سنجیدہ لیں جوں جوں ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی وہی آکسیجن کی کمی سامنے آئی دوسرے ممالک سے مدد ملی کرونا پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش ناکام ہوئی تب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ لیا گیا، جن شہروں میں کیسز زیادہ رپورٹ ہوئے وہاں سخت لاک ڈاؤن لگایا گیا اس کے باوجود عوام نے اس وبا کو سنجیدہ نا لیا لاکھ پابندیوں کے باوجود گلی محلوں چھوٹے ہوٹلوں پر عوام کے ہجوم نظر آتے رہے، سخت لاک ڈاؤن میں اسکول ،کاروبار ، تو بند ہوئے مگر سیاسی سرگرمیاں اپنی عروج پر تھی حکومت جماعت ہو یا اپوزیشن سب نے اپنی سیاست کے لیے عوام کی جانوں سے کھیلا جلسے ہوتے رہے انتخابی مہم چلتی رہی یہی وہ خاص وجہ رہی جس نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کونسا وائرس ہے جو صرف شادیوں ہوٹلوں اسکولوں میں آتا ہے جلسوں میں نہیں، حالیہ کچھ دنوں میں کراچی میں 48 افراد کرونا سے انتقال کرگئے اس سے پہلے پنجاب میں 25 افراد ایک دن میں کرونا سے انتقال کرگئے تھے، ڈاکٹر کرونا مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یہ وہ وقت تھا جب ہمارے پاس ویکسین کی سہولت موجود نا تھی اب پاکستان میں ویکسین لگائی جارہی ہے بڑی تعداد میں لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ہر شہر بلکہ اب تو ہر علاقے میں ویکسین کی سہولت موجود ہے،

    کچھ لوگ پوچھتے ہیں ویکسین لگوانے سے کرونا نہیں ہوگا؟

    جن لوگوں کو ویکسین لگی وہ بھی کرونا کا شکار ہوئے ہیں تو جناب اسکا جواب یہی ہے کرونا ہوگا مگر اسکی شدت اتنی تیز نا ہوگئی جو آپکی جان لے جاے آپ کے جسم میں وائرس سے لڑنے کی طاقت موجود ہوگئی جس سے آپ بہت جلدی اس وبا سے لڑ سکیں گے جبکہ ویکسین نا لگوانے والوں کو کافی تکلیف سے گزرنا ہوگا جس میں سانس کی کمی سب سے خطرناک ہوسکتی ہے جو آپکی جان لے جاے،

    دوسری جانب کچھ لوگ یہ بھی کہتے نظر آرہے "ویکسین نہیں ہے یہ ویکسین کے نام پر تجربہ ہورہا ہے "جس سے دو سالوں میں ویکیسن لگوانے والے مرجائیں گے خواتین بانجھ ہوجاہیں گئی مرد نا مرد ہوجاہیں یہ ساری من گھرٹ کہانیاں ہیں جو ہم میں سے ہی لوگوں کی بنائی گئی ہیں ہم میں موجود بہت سے لوگ آج بھی پولیو ویکسین کو نہیں مانتے یہ سلسلہ ایک عرصے سے چلا آرہا جو کبھی نہیں رکے گا، زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اللہ نے انسان کے ہاتھ میں کوشش رکھی ہے جو ہماری حکومت عوام کے لیے کررہی ہے

    ویکسین لگوائیں یا نا لگوائیں یہ اپکا ذاتی عمل ہے کم از کم من گھڑت کہانیاں بناکر خود کو بہت بڑا سائنسدان سمجھ کر سوشل میڈیا پر ویڈیوز اپلوڈ کرکے عوام کو گمراہ نا کریں ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف حکومت کو اداروں کو سختی سے نوٹس لینا چائیے جو عوام میں مایوسی خوف پھیلا رہے ہیں

    اگر اب بھی کوئی ویکسین نہیں لگواتا وہ اپنا اپنی فیملی کا زمہ دار خود ہوگا ایسا نا ہو ہسپتال میں آکسیجن نا ملے یا وقت پر ڈاکٹر موجود نا ہو سوچیے۔۔۔۔۔۔۔۔

    اپنے قریبی ویکسین سینٹر جانے میں دیر نا کریں کیونکہ یہ وبا دروازہ بجاکر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر راحیلہ عقیل

  • جان بچانےوالی ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ غریبوں کا زندہ درگورہونے کا خدشہ

    جان بچانےوالی ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ غریبوں کا زندہ درگورہونے کا خدشہ

    پشاور:جان بچانےوالی ادویات کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ غریبوں کا زندہ درگورہونے کا خدشہ ،اطلاعات کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 50 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا،

    تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے جان بچانے والی 50 فیصد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔
    شوگر، کینسر سمیت جان بچانے والی زیادہ تر ادویات کی قیمتوں میں15 سے 150 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے رواں ہفتے میں یہ دوسری بار ادویات اور سالٹس کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے، ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے ساتھ ہی میڈیکل اسٹورز اور مارکیٹ سے بیشتر ادویات غائب ہوگئی ہیں۔ جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    خیبرپختونخواہ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں باربار اضافے سے غریبوں کو علاج کی سہولت سے محروم کیا جارہا ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے۔

    دوسری جانب جان بچانے والی ادویات کی قیمتوںمیں اضافے کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی گئی۔

    مسلم لیگ (ن) کی رکن عنیزہ فاطمہ کی طرف سے جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں کہاگیا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ عوام کو زندہ درغور کرنے کے مترادف ہے

  • معروف گلوکارجواد احمد نے”عورت "کی عظمت کوسلام پیش کرکےاچھاپیغام دے دیا

    معروف گلوکارجواد احمد نے”عورت "کی عظمت کوسلام پیش کرکےاچھاپیغام دے دیا

    لاہور:معروف گلوکارجواد احمد نے”عورت "کی عظمت کوسلام پیش کرکےاچھاپیغام دے دیا،اطلاعات کے مطابق معروف گلوکار جواد احمد جوکہ بعض اوقات خصوصی گانے گاتے ہیں کبھی بھارت میں کسانوں‌پرہونے والے مظالم ہوں یا پاکستان سمیت دنیا بھرمیں خواتین پرمظالم ہوں‌،انہوں‌نے ہرجگہ اچھے انداز سے سمجھانے کی کوشش کی ہے

    جواد احمد اپنے گانے کے پیغام میں‌ کہتےہیں کہ عورت ماں بھی ہے تویہی عورت بیوی بھی ، یہ عورت بہن بھی ہے توبیٹیان بھی ہے ہرحال میں عورت سے انسان کی عزت اوراس معاشرے کی بقا ہے

     

    جواد احمد اپنے گائے ہوئے خصوصی گانے میں کہتے ہیں‌ کہ اگریہی ہماری مائیں ، بہنیں‌، بیٹیاں اوربیویاں ہی ہمارے ہاتھوں سے محفوظ نہیں توپھرہم انسان ہیں نہیں

    جواد احمد کہتے ہیں کہ ان کو پڑھنا چاہیے ، معاشرے کی بہتری کےلیے آگے آنا چاہیے اوراگران کوہراساں کیا جائے گا توپھرکیسے ہم اپنے آپ کو بدل سکتے ہیں‌

  • کراچی بندرگاہ پر ماہی گیروں نے اپنی ہڑتال ختم کردی

    کراچی بندرگاہ پر ماہی گیروں نے اپنی ہڑتال ختم کردی

    کراچی بندرگاہ پر مچھیروں کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال کو ختم کردیا گیا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے بحری امور محمود مولوی کے مطابق نیوی گیشن چینل کھولنے کی صورت میں جلد جہازوں کی آمدو رفت کا سلسلہ بھی شروع کردیا جائے گا۔

    ماہی گیر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی (ایم ایس اے) کارویہ ماہی گیروں کے ساتھ نا مناسب ہے جس کے باعث احتجاجاً لانچیں کھڑی کی گئی تھیں۔

    انہوں نے کہا کہ ایم ایس اے کے اہلکار روزانہ کی بنیاد پر ماہی گیروں کو تنگ کرتے ہیں اور جب ماہی گیر رات 12بجے مچھلیوں کے شکار پر جاتے ہیں تو ایم ایس اے انہیں روک دیتی ہے۔

    خیال رہے کہ کراچی فش ہاربر سے مچھلیاں پکڑنے کیلئے جانے والے مچھیروں نے احتجاج کے طور پر کشتیاں کھڑی کرکے ہڑتال کردی تھیں۔

    ماہی گیروں کے کشتیاں کھڑی کرنے کی وجہ سے بندرگاہ پر جہازوں کی آمدورفت معطل ہوگئی تھی۔

  • کراچی کے اسکول کھولنے کا مشروط اعلان

    کراچی کے اسکول کھولنے کا مشروط اعلان

    ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اگر کرونا کی صورت حال بہتر ہوئی تو اسکول کھول دیں گے۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسین نہ لگوانے والے شہریوں کی موبائل سم بند کرانے کا فیصلہ گیم چینجر ثابت ہوا کیونکہ اس فیصلے کے بعد شہریوں نے بڑی تعداد میں ویکسین لگوائی۔

    انہوں نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران لاکھوں شہری ویکسین لگانے کے لیے گھر سے باہر نکلے، انتظامیہ تمام شہریوں کو ویکسین کی فراہمی کے لیے اقدامات کو یقینی بنا رہی ہے۔

    ایڈمنسٹریٹر کراچی نے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال کو پیش کش کی کہ اگر وہ سڑکوں پر آنا چاہتے ہیں تو وہ ماسک پہن کر ضرور آئیں ۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت جو جنگ جاری ہے وہ سیاسی نہیں بلکہ صحت سے متعلق ہے، ہم سب کو مل کر شہریوں کو ایک پیغام دینا چاہیے کہ ماسک پہنچیں اور ویکسین لگوائیں۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی میزبانی میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا کرونا کی صورت حال سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی اور نئی پیشرفت سے آگاہ کیا۔

    این سی او سی نے سندھ میں9اگست سےلاک ڈاؤن ختم کرنےکافیصلہ کرتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔

    این سی او سی نے محرم میں ایس او پیز پر عمل درآمد بہتر بنانے اور وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے این سی او سی حکام کو آگاہ کیا کہ کراچی میں کرونا ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پابندیاں عائد کی گئیں۔

    سندھ حکومت کی جانب سے ویکسی نیشن بڑھانے کی بھی تعریف کی گئی۔

  • سندھ میں 9 اگست سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں 9 اگست سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں 9 اگست سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کی نئی پابندیوں کا نفاذ ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق این سی او سی کے مشترکہ اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ این سی او سی کا مشترکہ اجلاس کراچی میں ہوا، سربراہ این سی او سی اسدعمر،وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور نیشنل کوآرڈینیٹر این سی او سی لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان نے اجلاس میں شرکت کی۔

    این سی اوسی کا کہنا ہے کہ سندھ میں لاک ڈاؤن 9اگست کوختم کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے ، کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کی نئی پابندیوں کا نفاذ ہوگا۔

    این سی او سی نے سندھ میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد میں بہتری پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ لاک ڈاؤن خاتمے اور محرم الحرام آغاز کے پیش نظرایس او پیز پر عملدرآمد بہتر کیا جائے۔

    اجلاس میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلئے اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا گیا کورونا کیسز والے علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا جائے گا۔

    اس سے قبل سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کل تک 9اگست کے حوالے سے نیانوٹی فکیشن آجائے گا، جس میں آسانیاں بھی دی جائیں گی۔

  • کچرا کنڈی میں آگ لگنے سے دو بچے جھلس کرجاں بحق

    کچرا کنڈی میں آگ لگنے سے دو بچے جھلس کرجاں بحق

    کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں کچرا کنڈی میں آگ لگنے کے باعث دو بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق واقعہ نیو میانوالی کالونی میں پیش آیا.

    جہاں نامعلوم افراد کی جانب سے کچرا کنڈی میں لگائی جانے والی آگ سے جھلس کر دو کمسن بچے جاں بحق ہوگئے۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ جاں بحق بچوں کی شناخت چار سالہ عمر اور پانچ سالہ محمد شاہ کے نام سے کی گئی، واقعے کے بعد بچوں کی لاشیں اسپتال منتقل کردی گئیں ہیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے

  • ن لیگ کا بلوچستان سے صفایا،وسطی پنجاب تک محدود:”کل پتے لگ جان گے”

    کوئٹہ :ن لیگ کا بلوچستان سے صفایا،وسطی پنجاب تک محدود:مزیدتقسیم کے اثار ،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کا بلوچستان سے صفایا، بیشتر رہنماوں نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا، صوبائی صدر سمیت بیشتر لیگی عہدیدار اپنے عہدوں اور پارٹی رکنیت سے مستعفی ہو کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان سے تقریباً صفایا ہو گیا۔

    ادھرن لیگی کے اپنے ذرائع نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ن لیگ کا وجود وسطی پنجاب تک محدود رہ گیا ہے ، وسطی پنجاب کے علاوہ پنجاب کے کچھ کچھ علاقوں میں کچھ نشستیں باقی ہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ جس طرح یہ تقسیم جاری ہے اگلے الیکشن کے بعد یہ پارٹی وسطی پنجاب سے باہرنہ نکل سکے

    ادھر کوئٹہ سے ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے 2 سینئر ترین رہنماوں نے پارٹی کو خیرباد کہہ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کیلئے معاملات طے کر لیے ہیں، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری، ان کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر جنرل(ر)عبدالقادر بلوچ سمیت دیگر لیگی رہنما باقاعدہ طور پر بلاول بھٹو کی جماعت کا حصہ بن گئے ہیں۔

    پاکستان پیپلزپارٹی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ سندھ کی حکمراں جماعت 8 اگست کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بڑا پاور شو کرنے جارہی ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری، اراکین اسمبلی، سینیٹرز اور صوبے کے اہم قبائلی و سیاسی رہنما پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرینگے

  • افغان طالبان کا 24 گھنٹے میں 2 صوبائی دارالحکومتوں پرقبضہ:ہتھیارڈالنے والوں کے لیےرابطہ نمبرز جاری

    افغان طالبان کا 24 گھنٹے میں 2 صوبائی دارالحکومتوں پرقبضہ:ہتھیارڈالنے والوں کے لیےرابطہ نمبرز جاری

    کابل :افغان طالبان نےافغان فوجیوں کوسرنڈرکے لیےرابطہ نمبرز جاری کردیئے،اطلاعات کے مطابق اس وقت افغانستان کی صورت حال بڑی تیزی سے بدل رہی ہے اوراس وقت افغان طالبان 90 فیصد سے زائد علاقے پرقبضہ کرچکے ہیں

    طالبان نے سیکیورٹی فورسز سے گھمسان کی جنگ کے بعد افغانستان کے صوبے نمروز کے زرنج اور جوزجان کے دارالحکومت شبرغان کا کنٹرول حاصل کرلیا اور اب گورنر ہاؤس جنگجوؤں کے قبضے میں ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے نمروز کے نائب گورنر حاجی نبی براہوی نے بتایا کہ ایک گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد طالبان نے صوبائی دارالحکومت زرنج پر قبضہ کرلیا جب کہ افغان فوج پسپائی اختیار کرتے ہوئے ضلع دلارام تک محدود ہوگئی۔

     

    ان حالات میں افغان طالبان کی طرف سے رابطہ نمبرز جاری کیئے گئے ہیں تاکہ سرنڈرکرنے والے افغان فوجی کسی دیریا رکاوٹ کی وجہ سے سرنڈرکرنے میں دیرنہ کردیں اورپھرکسی خطرے کا شکار ہوجائیں

    ادھر نمروز پولیس نے شکوہ کیا ہے کہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے لیے فوج نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی پولیس کے تازہ دم دستوں سے ہماری مدد کی گئی تاہم نمروز کے نائب گورنر کا دعویٰ ہے کہ صوبائی دارالحکومت سے طالبان کا قبضہ چھڑوالیا جائے گا۔

    دوسری جانب دو روز کی گھمسان کی جنگ کے بعد طالبان نے افغان صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرغان کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا ہے۔ افغان صدر کے اتحادی وار لارڈ عبد الرشید دوستم کے گھر کو نذر آتش کردیا گیا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ نمروز میں پولیس نے پسپائی اختیار کی یا ہتھیار ڈالا ہے۔ اس حوالے سے متضاد دعوے سامنے آرہے ہیں۔ 2016 کے بعد طالبان پہلی بار کسی صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ پانچ برس قبل 2016 میں طالبان نے افغان صوبے قندوز کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا لیکن جلد ہی اتحادی افواج نے قبضہ واگزار کرالیا تھا تاہم اب طالبان ہلمند، قندھار اور ہرات کے صوبائی دارالحکومتوں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔