Baaghi TV

Author: +9251

  • بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے نئے وزرا،مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی کی ملاقات

    بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے نئے وزرا،مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی کی ملاقات

    کراچی :چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے نئے وزراء، مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی کی ملاقات ،اطلاعات کے مطابق سندھ کابینہ میں تبدیلی کے بعد اب ملاقاتوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اس سلسلے میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے نئے وزراء، مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی نے اہم ملاقات کی ہے

    ذرائع کےمطابق ان ملاقات کرنے والوں میں وزیراعلیٰ کے مشیر منظور حسین وسان، اور صوبائی وزراء سردار شاہ، جام خان شورو اور فیاض بُٹ نے پارٹی چیئرمین سے ملاقات کی اس کے علاوہ سید ضیاء عباس، ساجد جوکھیو اور گیانچند ایسرانی بھی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے

    کراچی کے لیئے حکومت سندھ کی جانب سے نئے مقرر ایڈمنسٹریٹر مرتضیٰ وہاب صدیقی نے بھی پارٹی چیئرمین سے ملاقات کی، اس موقع پر سندھ کے نئے وزراء، مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی نے نئی ذمیداریاں تفویض کرنے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے پر قیادت کا شکریہ ادا کیا

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزراء، مشیر اور ایڈمنسٹریر کراچی نے یقین دلایا کہ وہ قیادت کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیئے عوام کی خدمت کریں گے

    بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر کہا کہ سندھ کابینہ میں ردوبدل ایک حقیقی عوامی حکومت کے چیک اینڈ بیلنس کا مظہر ہے:کابینہ میں ردوبدل سے عوام کی خدمت اور صوبے کی ترقی کا تسلسل مزید موثر اور بہتر ہوگا:

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کی عوامی حکومت ہر مشکلات میں عوام کے ساتھ ہے:عوام کو درپیش مسائل حل کرنے کے لیئے صوبائی حکومت ہر ممکن کاوشیں اٹھا رہی ہے:

    بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ عالمی وبا اور وفاقی حکومت کے عدم تعاون کے باوجود حکومتِ سندھ کی کارکردگی دیگر صوبوں کے مقابلے میں نمایاں ہے:

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ کراچی میں عوامی مسائل کو حل کرنا صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے:کراچی میں سب سے زیادہ ترقیاتی کام پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوارِ حکومت میں ہوئے ہیں:

  • گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار۔

    ملزمان نے شہری جاوید علی سے اسلحہ کے زور پر موبائل فون، نقدی چھینی اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔

    ایس ایچ او گلشن معمار کی ٹیم نے ملزمان کا تعاقب کرتے ہوئے B-52 بس اسٹاپ کے قریب کاروائی کر کے ملزم محمد حسین ولد شرافت خان کو گرفتار کیا۔گرفتار ملزم سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ لوڈ میگزین اور شہری جاوید علی سے چھینی گئی نقدی اور موبائل فون بھی برآمد کر لیا۔گرفتار ملزم کیخلاف شہری کی مدعیت میں ڈکیتی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیا ہے۔

    ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ گلشن معمار اور سائیٹ سپرہائی وے اور اطراف کے علاقوں میں وارداتیں کرتا تھا۔ملزم کو مزید وارداتوں میں شناخت و تفتیش کے لئے تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

    گرفتار ملزم کے خلاف پہلے سے درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔گرفتار ملزم کے فرار ساتھی کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • امجد علی سید چیئرمین انٹرنیشنل پروفیشنل ‌نے برطانوی وزیراعظم کوخط لکھ دیا

    امجد علی سید چیئرمین انٹرنیشنل پروفیشنل ‌نے برطانوی وزیراعظم کوخط لکھ دیا

    لاہور:امجد علی سید چیئرمین انٹرنیشنل پروفیشنل ‌نے برطانوی وزیراعظم کوخط لکھ دیا،اطلاعات کے مطابق بھارت کوکورونا کی ریڈ لسٹ سے نکالنے اورپاکستان کواس فہرست میں رکھنے پرجہاں برطانوی حکومت کواپنے لوگوں کی سخت تنقید کا سامنا ہے وہاں‌دنیا بھرسے سخت ردعمل آرہا ہے

    اس سلسلے میں امجد علی سید چیئرمین انٹرنیشنل پروفیشنل نے اس امتیازی سلوک کے‌خلاف برطانوی وزیراعظم کوخط لکھا ہے اوران سے کہا ہے کہ

    جناب وزیراعظم صاحب: ہم پاکستان سے برطانیہ میں مختلف پیشہ ور افراد کی متحدہ تنظیم ہیں۔

    35000 سے زائد پاکستانی اس وقت مختلف پیشہ ورامورسرانجام دے رہے ہیں‌،، ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ ، فارمیسی ، لیگل ، اکاؤنٹ ، فنانس آئی ٹی ، نرسنگ ، سوشل کیئر اور مختلف پیشہ ور شعبےمیں برطانیہ میں کام کر رہے ہیں

    امجدعلی سید کہتےہیں‌کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھ کر ہماری کمیونٹیز کو درپیش مشکلات کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہم آپ سے ملاقات کا وقت چاہتے ہیں ،

    انہوں نے برطانوی وزیراعظم کولکھا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں کیس کا نمبر بہت کم تھا ، جہاں ڈیلٹا پلس ابھی باقی ہے کنٹرول اور مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیلا دیا گیا اور سیاسی وجوہات کی وجہ سے ہلاکتوں کی بڑی تعداد کا حساب نہیں لیا گیا۔

    ہمارا پختہ یقین ہے کہ بھارت کو ریڈ لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ مکمل طور پر سیاسی بنیادوں پر لیا گیا ہے ، اور پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنا اور رکھنا بھی سیاسی اثر و رسوخ کا ایک حصہ ہے۔

    امجد علی سید نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ہندوستانی غیر ملکی وزیر کا ایک کھلا بیان ہے جنہوں نے کہا کہ وہ برطانیہ کے وزیر خوبصورت پٹیل کے ساتھ لابی کرتے ہیں کہ وہ ایک ہندوستانی نژاد پاکستان کو سرخ فہرست میں شامل کریں جبکہ اس وقت پاکستان میں وائرس کے بہت کم کیس تھے ، جیسا کہ ہندوستان کے مقابلے میں جہاں وائرس تھا اس وقت تیز رفتار سے پھیلایا جا رہا ہے ، ہمیں یقین ہے کہ جواب دینے کے لیے سوال موجود ہیں۔

    1. پاکستان کو انڈیا سے پہلے ریڈ لسٹ میں کیوں رکھا گیا جبکہ پاکستان میں کوویڈ اور ڈیلٹا کے کیسز کم تھے؟

    2 ، انڈیا کو ریڈ لسٹ سے کیوں نکالا گیا ہے جبکہ ڈیلٹا اب بھی بھارت کے کنٹرول سے باہر ہے اور کیوں۔

    پاکستان کو اب بھی ریڈ لسٹ میں رکھا گیا ہے جبکہ کیس پاکستان میں 500 گنا کم ہے؟

    3. وزیر اعظم کو ہندوستان کے غیر ملکی وزیر کے بیان کے بارے میں وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے لیے لابی کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں بہت کم کیسز تھے۔

    4۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    5. ہم وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ نہ صرف پاکستان بلکہ عام برطانوی پاکستانی کمیونٹی پر ان اقدامات پر سنجیدگی سے ایکشن لیا جائے۔

    ہم وزیر اعظم سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر ان کے ساتھ ان مسائل پر بات کرنے کے لیے ملاقات کا وقت دیں۔

    یاد رہیں کہ اس وقت پاکستان کوریڈ لسٹ سے نکالنے کے لیے باقاعدہ ایک مہم شروع ہوچکی ہے

  • نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    کراچی کے علاقے جھنجھار گوٹھ میں متاثرہ نوجوان نےزیادتی کی کوشش کرنے والے 55 سالہ ملزم کو چاقو کے وار سے ہلاک کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق واقعہ گزشتہ ماہ گلشن معمار سے ملحقہ کچی آبادی میں پیش آیا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر امدادی ٹیم موقع پر پہنچی اور لاش کو ضروری کارروائی کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہلاک شخص کے جسم کے مختلف حصوں پر 17 بار وار کیا گیا تھا۔ پوسٹمارٹم کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کردی گئی تھی۔ بظاہر دیکھنے میں یہ ایک عام سی قتل کی واردات لگ رہی تھی، تاہم اس کیس میں اہم موڑ اس وقت سامنے آیا، جب مقتول کا بیٹا باپ کے قتل کی ایف آئی ار درج کرانے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ واقعہ کی تحقیقات شروع ہوئی اور پھر تہہ در تہہ کیس میں سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ سامنے آتا رہا۔

    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت محمد ہاشم کے نام سے کی گئی، جو سپر ہائی وے پر قائم پھل اور سبزی منڈی میں چائے کی فروخت کا کام کرتا تھا۔ مقتول خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ کا رہائشی تھا، جو کراچی میں روزگار کیلئے آیا تھا۔ مقتول شخص نے کام کیلئے بہادر گوٹھ جو اسکیم 33 کی کچی آبادی کا ملحقہ حصہ ہے، رہائش اختیار کی۔

    لواحقین کے مطابق ان کے والد کی کسی سے کوئی دشمنی نہ تھا، جس کے بعد قتل کی واردات گھر والوں کیلئے معمہ بنی ہوئی تھی۔ تاہم 2 اگست کو قتل کے چار روز بعد جب مقتول کا بیٹا محمد اشرف سائٹ سپر ہائی وے پولیس اسٹیشن پہنچا اور مقدمہ درج کرنے کا کہا تو پولیس کو معاملے کی تفتیش کا آغاز کرنا پڑا۔

    مقدمے میں مقتول کے بیٹے نے محمد شاہ نامی شخص کو نامزد کیا، جو بیٹے کے خیال میں اس کے والد کا قاتل تھا۔ اپنے ابتدائی بیان میں محمد اشرف نے پولیس کو بتایا کہ میرے والد کی خادم حسین نامی شخص سے دوستی تھی، جو جھنجھار گوٹھ میں رہتا تھا۔ خادم حسین کے گھر محمد شاہ کا بھی کافی آنا جانا تھا، جو خود بھی اسی علاقے میں چائے فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔ اس طرح میرے والد کی محمد شاہ سے بھی دوستی ہوگئی تھی۔

    بیٹے نے الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ محمد شاہ اور اس کے ساتھیوں نے ملکر اس کے والد کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر قتل کیا ہے۔
    پولیس کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ1090/21 سیکشن 302 اور 34 کے تحت محمد شاہ ور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں پھل اور سبزی منڈی میں چھاپے کے دوران محمد شاہ کو گرفتار کیا۔ سہراب گوٹھ کے ڈیویژنل سپریٹنڈنٹ پولیس سہیل فیض نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے محمد ہاشم کا قتل کیوں کیا تھا۔

    واقعہ بیان کرتے ہوئے نوجوان محمد شاہ نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ خادم حسین سے ملنے اس کے گھر گیا تھا۔ جہاں محمد ہاشم اکیلا موجود تھا۔ اس دوران محمد ہاشم نے اسے اکیلا پا کر اسے کے کپڑے اتارنا چاہیئے، جس پر اس نے ریپ کرنے کی کوشش کے دوران ملزم کو روکنے کیلئے ہاتھ پاؤں چلائے۔ اس دوران محمد ہاشم گھر میں رکھی چھری لے آیا، اور اس سے اس کے کپڑے پھاڑنے لگا، جس سے اس کا ٹراؤزر پھٹ گیا۔

    محمد شاہ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ مزاحمت کے دوران اس نے محمد ہاشم کے ہاتھ سے چاقو چھین لیا اور ملزم پر اس وقت تک وار کرتا رہا جب تک وہ مر نہ گیا۔

    محمد شاہ کے بیان کی تصدیق کیلئے پولیس کی جانب سے محمد شاہ کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا، جس پر اس بات کی تصدیق ہوئی کہ محمد شاہ کے پیٹ اور ٹانگوں کے نیچے متعدد زخم موجود ہیں، جب کہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی خراش کے نشانات ہیں۔
    ڈی ایس پی کے مطابق نوجوان کی عمر 15 سال ہے، جس کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

  • سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم  تحریر : فضیلت اجالہ

    سر زمین وطن کی چادر ، سبز ہلالی پرچم تحریر : فضیلت اجالہ

    اچانک بریک لگانے کی وجہ سے گاڑی کے ٹائر زور سے چرچرائے تھے ،موسلا دھار برستی بارش کی پرواہ کیے بغیر وہ بے چینی اور اضطراب کی حالت میں گاڑی سے اترا اور بھاگ کر کچھ فاصلے پر موجود کیچڑ لگے کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھا کر چومتے ہوئے اپنے سینے سے لگایا تھا ،اسکی پہلی محبت کی نشانی ،اور پہلی محبت بھی کبھی بھولی ہے ،یہ تو رگوں میں لہو بن کر دوڑتی ہے ،پہلے عشق کی داستان سناتا وہ سبز ہلالی پرچم کا چھوٹا سا ٹکڑا ،اس پرچم کو آنکھوں سے لگائے وہ ماضی میں ڈوب گیا تھا ،سات سالہ بچہ گھر میں داخل ہوتے ہی چلایا تھا آپی آپی مجھے بھی پاکستانی جھنڈا چاہیے ،اس کی ضد کو دیکھتے اسکی بہن کمرے میں گئی تھی اور اپنی ہری قمیص کو کاٹ کہ اسے جھنڈے کی شکل دیتے ایک چھڑی پر لگا کہ اسے تھمایا تھا ،اس بچے کے ہاتھ میں جیسے ہفت اقلیم آگئ تھی جھنڈے کو لہراتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا بن کے رہے گا پاکستان ،لے کے رہیں گے آزادی ،اچانک ہوا کہ دوش پہ لہراتی آواز
    ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم
    نے اسے واپس ہوش کی دنیا میں لاکھڑا کیا تھا آنکھوں سے بہتے اشکوں کو صاف کرتےاس نے دور دور تک بکھری اپنی ناقدری پہ ماتم زدہ پاکستانی جھنڈیوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کاش وہ ان لاکھوں بہنوں کے پھٹے آنچل ان لوگوں کو دکھا سکے جو اس وطن اور اس سبز ہلالی کو حاصل کرنے کیلیے تار تار ہوئے تھے ،اس نے آج جانا تھا کہ کیوں اسے اس پرچم سے اتنا لگاؤ اور عقیدت ہے ،
    اور یہ صرف اس ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایسی ان گنت کہانیاں اس پرچم ستارہ و ہلال کے ساتھ جڑی ہوئ ہیں ،اور آج کی نسل کیلیے یہ پرچم یہ جھنڈیاں صرف فوٹو شووٹ اور تفریح کا زریعہ بن کر رہ گئی ہیں

    قومی جھنڈے کی جو ناقدری و بے ادبی ملک پاکستان میں ہوتی وہ دنیا کے کسی اور کونے میں نظر نہیں آئے گی
    جس وطن کا جشن آزادی منانے کیلیے گھروں اور گلیوں کو سجایا جاتا ہے اسی کے قومی نشان لیے ہزاروں جھنڈیاں زمین پر پڑی نظر آتی ہیں۔
    جس پرچم کو جوانوں نے سر پر باندھ کر اللہ اکبر کے نعرے لگاتے جانیں قربان کی تھیں کچرے میں پڑا ملتا ہے۔
    یہ کیسی محبت ہے
    یہ کیسا جشن ہے
    ہم دنیا کو کیا بتا رہے ہیں ،کیا دکھا رہے ہیں
    اس سبز جھنڈے کی ناقدری کر کے لاکھوں شہیدوں کو کیا جواب دیں گے جنہوں نے اس پرچم کو لہرانے کیلیے اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کیے۔ یہ لاالہ کے نعرے پہ حاصل کیے گئے ملک کے قومی پرچم کو قدموں تلے روند کے بروز محشر اللہ اور اسکے رسول کو کیا منہ دکھائیں گے ۔
    وطن سے محبت کا یہ کونسا مقام ہے کہ ایک ویڈیو بنانے کیلیے, ایک ٹک ٹوک کی خاطر اس پرچم کو نا جانے کتنی بار گرایا جاتا ہے ،اس پرچم کی قدر نا کرنے والے اس پرچم کی قدر اس باپ سے پوچھے جس نے اپنے ھی ھاتھوں سے اپنے جوان لخت جگر کو منوں مٹی کے نیچے دفنایا، اس کےباوجود پاکستانی پرچم لہرایا ہے
    اس عظیم پرچم کی قدر اس فوجی کے بیٹے سے پوچھو جسے باپ کی لاش کے بدلے میں یہ جھنڈا عنایت ہوتا ہے۔
    اس ماں سے پوچھو جو اولاد پہ آئے اک کھرونچ کے بدلے دنیا ہلا دہتی ہے لیکن جب جواں بیٹا ،شہید ہوتا ہے تو لہو رنگ آنکھیں لیے مسکراتی ہے اور سبز ہلالی پرچم پہ وارنے کیلیے دوسرے بیٹے کو بھیج دیتی ہے ،کیوں کہ وطن عزیز کا یہ سبز جھنڈا
    آنکھوں کی بینائ اور سکون قلب ہے
    اور اس پرچمِ عظیم کی قدرو منزلت اس پہ جان نثار کرنے والی فوج سے پوچھو
    کیونکہ جب بھی وطن کا کوئی بیٹا شہید ہوتا ہے تو اس کے جسد خاکی کو اس سبز پرچم میں لپیٹا جاتا ہے اس پرچم کی اہمیت وہی جانتے ہیں جو اس کی تاقیامت سربلندی کے لئے اپنے لہو کے نذرانے پیش کرتے ہیں یا وہ اجداد کہ جنہوں نے بقائے وطن اور اس سر سبز و سفید پرچم کی سربلندی کے لیے ناجانے کتنے لخت جگر اس دھرتی پہ وارے ہیں
    14 اگست منائیے لیکن خدارا جتنی محبت سے آپ سبز ہلالی پرچم کو خریدتے ہیں اتنی ہی محبت سے اس پرچم کی حفاظت بھی کیا کریں نہ کہ 14 اگست گزرنے کے بعد روڈ پر پھینک دو.اس پرچم کی اپنی جان سے بھی بڑھ کر حفاظت کریں کیوں کہ یہ صرف کپڑے کا ٹکڑا نہی ہے ،اس کے ہرے رنگ کو لاکھوں جوانوں نے اپنے لہو سے سینچا ہے اسکے غرور سے چمکتے چاند میں انتظار کی سولی پہ لٹکتی نا جانی کتنی سہاگنوں کہ بالوں کی چاندی چھپی ہے ۔اس پہ بنے تارے کی تمکنت کیلیے لاکھوں تارے یتیم ہوئے ہیں ۔
    یہ پرچم ہمارے عزم و اسقلال کی سنہری داستاں ہے اسے یوں بے آبرو نا کیجیے ۔آپ کا لہو سبز ہلالی پرچم کی بقا کا ضامن ہے ۔
    اس پرچم کی کیسی عظیم شان ہے
    اس پرچم کا مطلب پاکستان ہے
    ۔مجھے فخر ہے کہ میں جس سر زمین کی باسی ہوں وہاں مائیں ابھی ایسے سرفروشوں کو جنم دیتی ہیں جو اس دھرتی اور اس پہ لہراتے پرچم کو گرنے نہی دیتے ۔14 اگست ضرور منايے مگر 15 اگست کو بھی وہی جذبہ زندہ رکھيے،کیونکہ
    آزادی نام ہی عقل و شعور کا ، سر زمین مقدس سے عہد وفا کا ، سامراجی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کا، قانون کی پاسداری اور انصاف کی یکساں فراہمی کے لئے جدوجہد مسلسل اور باہمی اتفاق کا ہے ۔
    یہ پرچم ہماری عزتوں کا نشان ہے
    خدارا آپ بھی اس پرچم اور وطن عزیز کی اہمیت کو سمجھیے اس سے محبت کا عملی ثبوت دیں اور جہاں کہیں بھی یہ سبز ہلالی کو گرا ہوا دیکھیں تو جھک کہ اٹھانے میں شرم محسوس نا کیا کریں ۔
    کیوں کہ اس پرچم کی بقا میں ہماری بقا ہے ،یہی سچے محب وطن کی نشانی اور اپنی مٹی سےعشق ھے اور عشق کبھی ختم یا دفن نہیں ھوتا بلکہ ھمیشہ زندہ رھتا ھے۔پہلے خود اس ہلالی پرچم کی عظمت کو سمجھنا ہوگا تبھی ہم دنیا کو بتا پائیں گے کہ ہماری رگوں میں لہو کی جگہ یہ سبز رنگ دوڑتا ہے اور اس سبز پرچم کی خاطر ہم جان دے بھی سکتے اور اسکی طرف بری نظر سے دیکھنے والے کی جان لے بھی سکتے ہیں
    آؤ یہ عہد کریں کہ اس 14 اگست ،جشن آزادی منائیں گے لیکن اس پرچم کی تعظیم میں کمی نہیں آنے دیں گے آؤ عہد کریں کہ

    ہم تو لڑیں گے وطن کے لیے
    جھنڈا تو ملے گا کفن کے لیے

    @_Ujala_R

  • چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    چائلڈ لیبر ایک لعنت تحریر: فروا نذیر

    بچے فرشتوں کا دوسرا روپ اور اللہ کی خاص رحمت ہوتے ہیں۔ والدین کیلیے اولاد نعمت ہوتی ہے اللہ پاک نے بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر انسان کو خاص الخاص بنایا ہے۔
    ہر انسان کو کسی نہ کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔

    آج میں ان چھوٹے بچوں کی بات کرنا چاہوں گی جو معاشرتی نا انصافیوں اور اس ظالم معاشرے کی سرمایہ دارانہ روشوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور بچپن سے ہی ہاتھوں میں قلم کی جگہ ہتھوڑی اور کندھوں پہ سکول بیگ کی جگہ بیلچہ اٹھا لیتے ہیں۔
    کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو یہ چاہے کہ میں بچپن سے ہی کمانا شروع کردوں۔
    ہر گھر میں حالات مختلف ہوتے ہیں
    اللہ پاک کیلیے سب انسان برابر ہیں لیکن اللہ نے ہر انسان کو برابر وسائل نہیں دیئے۔ کسی کو کم دیئے تو کسی کو زیادہ۔
    اللہ لے کر بھی آزماتا ہے اور دے کر بھی آزماتا ہے۔

    اب آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف۔
    ہمارے معاشرے میں معاشرتی ناانصافیاں شروع سے چلتی آ رہی ہیں۔
    گو کہ آج کل کے دور میں زندگی گزارنا آسان نہیں ہے پیسہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔ اس لئے ہر شخص کو اپنی بقا کو یقینی بنانے کے لئے زر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تعلیم، راشن، ادویات، اور دیگر روزمرہ کی بنیادی ضروریات پیسوں کے بغیر نہیں مل سکتیں۔
    جن بچوں کو اچھی تعلیم اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے
    آخر کیوں۔۔۔؟؟
    صرف اور صرف پیسے کیلیے!!!!!

    انسان کا اچھی اور بہترین زندگی گزارنا حق ہے۔ اور ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ اس کی اولاد پڑھے لکھے اور ترقی کرے۔
    کیونکہ ایک بچے کیلیے تعلیم بہت اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن ایسی کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر بچوں کو تعلیمی اداروں کی بجائے فیکٹریوں اور کارخانوں میں داخل کر دیا جاتا ہے؟ حالانکہ بچوں کی تعلیم اور صحت کی ذمہ داری تو ریاست کی ہوتی ہے۔
    جب ہم بغور جائزہ لیں گے تو ہمیں معلوم ہو گا کہ جن حکمرانوں کو ہم نے اپنے اور ملک کے بھلے اور مفاد کے لئے منتخب کیا تھا ہمارے اصل دشمن ہی وہی نکلے۔ حکمرانوں کی اپنی تجوریاں تو بھری رہیں لیکن عوام ے گھروں کی چارپائیاں بھی بک گئیں۔ حکمرانوں کی اولاد تو یورپ اور دوبئی میں عیاشی کرتی رہی لیکن عوام کی اولاد سڑکوں پہ آ گئی۔
    یہی دو طبقاتی نظریہ ہی قوموں کی کمزوری کی وجہ ہوتا ہے۔
    بچے قوموں کا مستقبل ہوتے ہیں اور کسی بھی قوم کا روشن مستقبل اس قوم کے ہونہار بچوں پہ منحصر ہوتا ہے۔ جس قوم کے بچے ہی سڑکوں پہ ہوں اس قوم کا مستقبل کیا ہو گا۔
    معاشرتی نا انصافیوں کا شکار بچے جب معاشرے میں کہیں کام کرتے نظر آتے ہیں تو لوگ انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔
    میرا اس موضوع پر تحریر لکھنے کا یہی مقصد ہے کہ جہاں چھوٹے بچے ورکرز ہیں کام کر رہے ہیں ان کو حقارت سے نہ دیکھیں اور انکی مزدوری وقت پر دیں تاکہ وہ تعلیم کو چھوڑ کر جس مقصد کیلیے کما رہے ہیں وہ پورا ہو سکے اور وہ سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔
    آپ سب سے بھی جتنا ہو سکے ایسے مظلوم بچوں کی مدد کریں تاکہ اگر ممکن ہو سکے تو وہ ساتھ ساتھ تعلیم بھی حاصل کر سکیں۔۔۔

    اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا فرمائے اور ہر آزمائش میں سرخرو کریں

    آمین ثمہ آمین

    Twitter id: @InvisibleFari_

  • ظاہرجعفرقاتل ہے:اس کوکوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے:وزیرجیل کا جیل حکام کوحکم

    ظاہرجعفرقاتل ہے:اس کوکوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے:وزیرجیل کا جیل حکام کوحکم

    راولپنڈی:ظاہر جعفرقاتل ہے:اس کوکوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے:وزیرجیل کا جیل حکام کوحکم ،اطلاعات کے مطابق پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان نے جمعرات کے روز کہا کہ انہوں نے جیل حکام کو ظاہر ذاکر جعفر کے ساتھ کوئی رعایت یا اسے ریلیف نہیں ملنا چاہیے

    وزیرجیل فیاض الحسن چوہان نے حکم دیا ہےکہ ظاہرجعفرکوجیل کا کھانا کھانا ہے اورجیل کی ہوا، باہرسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اورنہ ہی کوئی دوائی وغیرہ کے بہانہ کرنا ہے سب کچھ جیل کے اندررہ کرہی کرنا ہے

    یاد رہے کہ یہ حکم جعفر کو پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں لے جانے کے ایک دن بعد آیا ہے جب اس نے سر درد کی شکایت کی

    اس خبر کے بعد امیر اور امریکی شہری کے لیے خصوصی مراعات پر عوامی اور سوشل میڈیا پر شور مچا دیا۔

    یاد رہے کہ ظاہرجعفر نےایک سابق پاکستانی سفارت کار کی بیٹی ماکادم کا 20 جولائی کو اسلام آباد کے اعلی درجے کے ایف 7/4 سیکٹر میں ایک رہائش گاہ پر سر قلم کیا گیا تھا جس نے عوامی غم و غصے کو جنم دیا اور کسی دوسرے حالیہ کیس کے برعکس میڈیا کی توجہ حاصل کی۔

    جعفر کو اڈیالہ جیل میں ہائی سکیورٹی سیل میں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہےکہ "میں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا ہے کہ ظاہر یا اس کے اہل خانہ کے ساتھ کوئی وی آئی پی سلوک نہ کیا جائے اور اسے اپنے والد سے ملنے کی اجازت بھی نہ دی جائے جو اسی جیل میں دوسری بیرک میں ہیں۔” "وہ سالگرہ کی تقریبات منانے کے لیے جیل میں نہیں ہیں۔”

    چوہان نے کہا کہ ہسپتال کا دورہ ، کپڑوں میں تبدیلی اور دیگر خصوصی علاج اب جعفر یا اس کے خاندان کو نہیں دیا جائے گا: "ظاہر کو اب جیل کا کھانا کھانا پڑے گا۔”

    اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ ارشد وڑائچ نے تصدیق کی کہ جیل حکام کو فیاض الحسن چوہان سے یہ احکامات موصول ہوئے ہیں ، انہوں نے مزید کہا: "کسی کو بھی ظاہر کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اسے سخت حفاظتی قید خانے میں رکھا جا رہا ہے۔”

  • کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام:سیکورٹی اداروں کی کاوش کوسلام

    کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام:سیکورٹی اداروں کی کاوش کوسلام

    کراچی: کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام:سیکورٹی اداروں کی کاوش کوسلام ،اطلاعات کے مطابق سکیورٹی اداروں نے بروقت کاروائی کرکے کراچی میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا،

    سیکورٹی اداروں کے مطابق کراچی شیرشاہ سے کالعدم تنظیم کے 2 دہشتگرد گرفتار کرلیے، دہشت گرد بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرتے ہیں، ملزمان ریلوے ٹریک، کوئلہ ٹرین اور گیس لائن کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

    مبینہ دہشت گردوں سے 2 دستی بم، ملک دشمن لڑیچر پر مبنی سی ڈیز برآمد ہوئی ہیں۔ ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین کا کہنا ہے کہ گرفتار مبینہ دہشت گرد پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرتے ہیں،

    ذرائع کےمطابق مبینہ دہشت گرد سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی ذہن سازی میں بھی ملوث ہیں۔ ملزموں نے ریلوے ٹریک، کوئلہ ٹرین اور گیس لائن کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی۔

    مبینہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کی ریکی بھی کررہے تھے، مبینہ دہشت گردوں کو حساس ادارے کی مدد سے پکڑا گیا۔

    اسی طرح گزشتہ روز بھی سکیورٹی اداروں نے بروقت کاروائی کرکے دہشتگردی کی منصوبہ بندی ناکام بنائی تھی، سی ٹی ڈی نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، خفیہ آپریشن کے دوران لاہور سے کالعدم دہشتگرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے3 دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا، ان دہشتگردوں میں محمد فرحان ، محمد ارشد اور مظہر عباس شامل ہیں۔

  • فردوس عاشق اعوان کا استعفیٰ:وزیراعظم یہ برداشت نہ کرسکے:بڑی پیشکش کردی

    فردوس عاشق اعوان کا استعفیٰ:وزیراعظم یہ برداشت نہ کرسکے:بڑی پیشکش کردی

    لاہور: فردوس عاشق اعوان عہدے سے مستعفی :وزیراعظم یہ برداشت نہ کرسکے:بڑی پیشکش کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئیں، انہیں ایک مرتبہ پھر وفاق میں اہم ذمہ داری کا فیصلہ کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات پنجاب فردوس عاشق اعوان اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئی ہیں، انہوں نے اپنا استعفی وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار بھجوا دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کومستعفی ہونے سے پہلے ہی خوشخبری سنا دی تھی ،

    اسی خوشخبری کی بنیاد پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وفاق میں محکمہ بہبود آبادی کا معاون خصوصی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے، فردوس عاشق اعوان وزیر اعظم کی معاون خصوصی کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دیں گی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان وزیراعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات کی ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔

  • امریکی کورونا ویکسین پاکستان پہنچ گئی

    امریکی کورونا ویکسین پاکستان پہنچ گئی

    اسلام آباد: امریکی کورونا ویکسین پاکستان پہنچ گئی ،اطلاعات کے مطابق امریکی کورونا ویکسین فائزر کی ایک اور کھیپ پاکستان پہنچ گئی۔

    ذرائع کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرملکی ایئرلائن 64 ہزار فائزر ویکسین ڈوز لے کر پہنچ گئی، پاکستان نے فائزر ویکسین کی ایک کروڑ 30 لاکھ خوراکیں خریدی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ایک لاکھ فائزر ویکسین کی ڈوز پاکستان پہنچی تھیں۔

    فائزر ویکسین بیرون ملک جانے کے خواہش مند افراد کو لگائی جائے گی، فائزر ویکسین دائمی امراض میں مبتلا افراد کو بھی لگائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ 26 جولائی کو غیرملکی ایئرلائن کی پرواز 30 لاکھ موڈرنا ویکسین ڈوز لیکر اسلام آباد پہنچی تھی، کوویکس نے پاکستان کوموڈرنا کورونا ویکسین مفت فراہم کی تھی۔