Baaghi TV

Author: +9251

  • مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی خراج تحسین کا سلسلہ جاری رہے گا، محمود الرشید

    مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی خراج تحسین کا سلسلہ جاری رہے گا، محمود الرشید

    عیدالاضحی پر مویشی منڈیوں میں بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی کے افسران اور سٹاف کے لیے حسن کارکردگی تقریب کا انعقادِ کیا گیا ہے، تقریب کے مہمان خصوصی وزیر بلدیات پنجاب میاں محمودالرشید تھے، وزیر بلدیات نے مویشی منڈیوں میں بہترین انتظامات کرنے والوں میں تعریفی اسناد اور کیش پرائز تقسیم کیے ہیں، تقریب میں ڈی جی لوکل گورنمنٹ کوثر خان اور چیئرمین پنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی افتخار احمد بھی شریک ہوئے ہیں.

    وزیر بلدیات پنجاب محمود الرشید نے کہا ہے کہ اچھی کارکردگی پر متعلقہ افسران اور عملے کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، عملے نے کورونا اورعیدالاضحی پر خراب موسم کے باوجود مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی تحسین کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، اگلے سال اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو دوگنا اعزازیہ دیا جائے گا، رواں برس پہلی بارپنجاب کیٹل مارکیٹ مینجمنٹ کمپنی نے منڈیوں کی ریکارڈ نیلامی کی گئی ہے، منڈیوں کی ریکارڈ نیلامی اور بہترین سہولیات فراہم کرنے پر تمام عملہ مبارکباد کا مستحق ہے، شہریوں کو مویشی منڈیوں میں اعلیٰ درجے کی سہولیات فراہم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، ڈی جی لوکل گورنمنٹ کوثرخان کو بھی عمدہ کارکردگی پرتعریفی سند پیش کی گئی ے.

    لاہور، گوجرانوالہ، سرگودھا، راولپنڈی، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد اورڈی جی خان ڈویژن کے افسران میں تعریفی اسناد کے ساتھ نقد انعام بھی تقسیم کیے گئے ہیں.

  • امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین کونوکری سے نکال دیا

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ویکسین نہ لگوانے والے ملازمین کونوکری سے نکال دیا

    واشنگٹن:جونہیں کرے گا احتیاط اسے نوکری سے دیا جائے گا نکال اورپھرواقعی سی این این نے ایسے ہی کردکھایا ،اطلاعات کے مطابق امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ویکسین لگوائے بغیر دفتر آنے والے 3 ملازمین کو برخاست کردیا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے کئی اداروں میں ملازمین پر دفتر آنے کے لیے ویکسین لگوانا شرط قرار دیدیا گیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس شرط کی خلاف ورزی پر اپنے 3 ملازمین کو نوکری سے فارغ کردیا۔

    اس حوالے سے سی این این کے چیف جیف زکر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے۔ فیلڈ رپورٹرز سمیت آفس میں کام کرنے والے تمام ملازمین کے لیے ویکسین لگوانا لازمی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکا میں کئی اداروں کو ملازمین کی ویکسینیشن ہونے کی شرط پر کھولا جا چکا ہے تاہم ڈیلٹا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اداروں میں ایس او پیز پر سختی عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔

  • لائیو سٹاک روسی سائنسدانوں کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا خواں ہے، اسد رحمان

    لائیو سٹاک روسی سائنسدانوں کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا خواں ہے، اسد رحمان

    روسی تحقیقی ادارے "آریاہ” کے وفد نے محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کا دورہ کیا ہے، وفد نے صوبائی ہیڈ کوارٹر، تشخیصی لیبارٹری اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کا دورہ کیا ہے، وزیرلائیو سٹاک سردار حسنین بہادر دریشک کی خصوصی دعوت پر وفد نے دورۂ پنجاب کیا ہے، روسی وفد میں اینیمل ویکسین سائنٹسٹ اور وفاقی ریسرچ افسران شامل ہیں، دورہ کا مقصد منہ کھر سے بچاؤ اور ویکسین پروڈکشن بارے تعاون کو فروغ دینا ہے.

    ڈائریکٹرجنرل (توسیع) ڈاکٹر احتشام الحق نے وفد کو منہ کھر بیماری کی تشخیص اور ویکسین پروڈکشن کے بارے می‌ں تفصیلی بریفنگ
    دی ہے، وفد نے سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب اسد رحمان گیلانی سے خصوصی ملاقات بھی کی ہے، سیکرٹری لائیوسٹاک اور روسی سائنسدانوں کی منہ کھر بچاؤ حکمتِ عملی بارے وفود کی سطح پرتبادلہ خیال ہوا ہے.

    ڈائریکٹر جنرل ریسرچ اسد رحمان گیلانی نے کہا ہے کہ منہ کھر کی بیماری سے سالانہ 692 ملین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، محکمہ لائیو سٹاک پنجاب روسی سائنسدانوں کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کا خواں ہیں، منہ کھر کنٹرول پروگرام میں پنجاب کے سرکاری و نجی ادارے ملکر کام کر رہے ہیں لہذا یہ دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے.

    سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہا ہے کہ روسی ادارے عالمی سطح پر ویکسین پروڈکشن میں مایہ ناز مقام رکھتے ہیں، ادارہ برائے خوراک و زراعت کی اعتماد یافتہ "آریاہ” منہ کھر ویکسین کا استعمال نہایت کارآمد ثابت ہوا ہے، اس دورہ سے پنجاب میں منہ کھر بیماری کی روک تھام کیلئے کی جانیوالی کوششوں میں تیزی آئے گی، دورہ کا بنیادی مقصد ہماری منہ کھر کنٹرول پالیسی بارے تجاویز و سفارشات کا حصول ہے.

    سربراہ روسی وفد ڈاکٹر الیکسینڈر کہا ہے کہ اس دورہ سے پاکستان میں استعمال ہونیوالی منہ کھر ویکسین کی کارکردگی اور افادیت جانچنے میں مدد ملے گی، ایف اے او اور روسی ادارے کے باہمی تعاون سے منہ کھر سے پاک پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، پنجاب کے مویشی پال حضرات روسی وفد کے فیڈ بیک سے فائدہ مند ہونگے، سربراہ روسی وفد نے صوبائی وزیر اور سیکرٹری لائیوسٹاک کا شکریہ ادا کیا ہے، روسی وفد نے ڈیزیز کنٹرول بارے اپنی مہارت اور تشخیصی سہولیات فراہم کرنے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا ہے.

    سیکرٹری لائیوسٹاک نے وفد کے اراکین کو شیلڈز اور تحائف پیش کیے ہیں، وفد کو صوبائی وزیرلائیو سٹاک کی جانب سے سووینئر بھی پیش کئے گئے ہیں، ایڈیشنل سیکرٹریز، ڈائریکٹرجنرلز اور یونیورسٹی نمائندگان سمیت دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے.

  • ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد

    ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد

    کاٹی کے سابق چیئرمین، کے بی جی کے صدر فرحان الرحمن اور سابق سینئر نائب صدر کاٹی، چیف ترجمان کے بی جی فراز الرحمن نے ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے منیر بھائی جان اور یو بی جی قیادت کا بہترین فیصلہ قرار دیاہے۔
    ایک بیان میں فرحان الرحمن اور فراز الرحمن نے کہا کہ ارشد جمال کی پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے لیے خدمات قابل قدر ہیں اور انکی بطور نائب صدر تعیناتی سے یوبی جی مزید مستحکم ہو گی، ان کا کہنا تھا کہ ارشد جمال فیڈریشن اور ایسوسی ایشنز کے معاملات میں ماہر ہیں وہ ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر رہ چکے ہیں، کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن اور پاکستان ایجنٹس ایسوسی ایشن کے بھی بانیوں میں سے ہیں وہ بزنس کمیونٹی کے مسائل پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔

  • وزیراعظم نے خبرسنتے ہی نوٹس لے لیا:عرب امارات کیلیے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ فراہم کرنے کا حکم

    وزیراعظم نے خبرسنتے ہی نوٹس لے لیا:عرب امارات کیلیے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ فراہم کرنے کا حکم

    کراچی:وزیراعظم نے خبرسنتے ہی نوٹس لے لیا:عرب امارات کیلیے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ، مسافروں کی پریشانی دور ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے عرب امارات کی طرف سے اچانک لگائی جانے والی پابندی کا نوٹس لیتے ہوئے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کیی کی سہولت فراہم کرنے کا حکم دے دیا

    وزیراعظم کے نوٹس کے بعد پاکستان سول ایوی ایشن نے دبئی جانے والے مسافروں کے لیے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کے معاملے پر نے ایئرلائنز کو سہولت دینے کا اعلان کردیا۔

    ذرائع کے مطابق ڈی جی سول ایوی ایشن نے ایئرپورٹس پر مسافروں کے رش کا نوٹس لیتے ہوئے ایئرلائنز کو ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کے لیے سہولت دینے کا اعلان کردیا۔

    ڈی سی اے اے نے کہا کہ ایئرلائنز ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کے لیے اپنا کاؤنٹر قائم کرسکتی ہیں، ٹیسٹ سہولت ڈومیسٹک ڈیپارچر لاؤنج میں بھی دی جاسکتی ہیں۔

    خاقان مرتضیٰ نے کہا کہ ایئرلائنز نے اچانک پالیسی تبدیل کی اس کا قانونی جائزہ لے رہے ہیں، اچانک اقدامات سے مسافروں کو مشکلات پیش آئی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے مسافروں پر پی سی آرٹیسٹ کیساتھ 4 گھنٹے قبل کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کی شرط عائد کی تھی جس کے بعد ایمرٹس نے مسافروں کو لے جانے سے انکار کردیا تھا۔

    یاد رہے یو اے ای نے رہائشی ویزا کے حامل پاکستانیوں کو آنے کی اجازت دی تھی، اماراتی حکومت کے مطابق جن کی مکمل ویکسینیشن کو 2 ہفتے ہوچکے ہیں وہ مسافر یو اے ای آسکیں گے۔

  • ایف پی سی سی آئی اور عمان چیمبر کا معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر غور

    ایف پی سی سی آئی اور عمان چیمبر کا معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر غور

    امجد رفیع کنوینر انٹرنیشنل فورمز ایف پی سی سی آئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سلطنت عمان اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور دوستانہ پڑوسی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں برادر ممالک نے ہمیشہ گرمجوشی اور خوشگوار تعلقات کا لطف اٹھایا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حنیف لاکھانی نے کہا کہ دو طرفہ تعاون کے لیے زرعی شعبے، ٹیکسٹائل اور خوراک کے شعبے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
    انہوں نے کہاکہ تجارتی وفود کی ریگولر بات چیت اور وفود کے تبادلے، تجارتی نمائشوں، دو طرفہ کاروباری کونسلوں کو ایکٹو کرنے، معلومات کے تبادلے کی تجویز دی۔ حنیف لاکھانی نے مزید کہا کہ پاکستانی کمیونٹی عمان کی ترقی میں اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہاکہ بینکاری، صحت، تعلیم، پٹرولیم اور خوراک کے شعبوں میں پاکستانی مزدوروں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
    اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کا حجم 764 ملین امریکی ڈالر ہے اور یہ حقیقی پوٹینشل سے کافی کم ہے ۔ انہوں نے حکومت عمان سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی کاروباری برادری کے لیے ویزا جاری کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے۔انجینئر ریدھا بن جمعہ الصالح، چیئرمین عمان چیمبر( او سی سی آئی) نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور تجربات کے اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔
    انہوں نے عمان کے اقتصادی زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاری، کیمیکلز، پلاسٹک، دھاتیں، معدنیات، برقی آلات وغیرہ میں تعاون کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی ویزا کی دستیابی اور ٹیکس مراعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ K.K Ahsan Wagan ،عمان میں پاکستان کے سفیر نے کوویڈ 19 کے اثرات کے باوجود پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو سراہا۔
    انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور سلالہ بندرگاہ کے ذریعے دونوں ممالک کے رابطے کے لیے موثر مواصلاتی خدمات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ دونوں بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے گوشت کی برآمدات کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی اور پاکستانی برآمد کنندگان کا عمان کی البشر میٹ کمپنی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    پاکستان میں عمان کے سفیر Al Sheikh Mohammed Omer Ahmed Al Marhoon نے گوادر اور سلالہ بندرگاہوں کے ذریعے پاکستان اور عمان کے درمیان تجارتی مواقع اور عمان، مشرق وسطی، افریقی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے پاکستان کو دستیاب مارکیٹ رسائی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران پاکستان اور عمان دونوں نے اپنے اپنے ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع پیش پر معلومات فراہم کیں۔
    پاکستانی طرف سے پریزنٹیشن امجد رفیع کنوینر انٹرنیشنل فورمز ایف پی سی سی آئی نے دی۔ انہوں نے زراعت کے شعبے، چاول، سی فوڈ، گوشت، سبزیوں، پھلوں، دودھ کی مصنوعات، دواسازی، ٹیکسٹائل، سوتی دھاگے، تعمیرات اور پیٹروکیمیکل کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عمانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ سی پیک سے متعلقہ خصوصی اقتصادی زونوں کا بھرپور استعمال کریں ۔

  • وزیراعظم اورآرمی چیف کاکورہیڈکوارٹر پشاورکا دورہ  :وزیراعظم نےیادگارشہداپرپھولوں کی چادرچڑھائی

    وزیراعظم اورآرمی چیف کاکورہیڈکوارٹر پشاورکا دورہ :وزیراعظم نےیادگارشہداپرپھولوں کی چادرچڑھائی

    راولپنڈی :وزیراعظم اور آرمی چیف کا کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ:وزیراعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیراعظم عمران خان اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا جہاں وزیراعظم عمران خان کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کور ہیڈکوارٹر آمد پر وزیراعظم نے یادگار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

     

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں پاک افغان بارڈر کی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی منصوبہ بندی سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا جبکہ جاری آپریشنز، پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تنصیب، قبائلی اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں پر بھی وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی۔

     

     

    آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم نے پاکستان کے موثر بارڈر مینجمنٹ نظام پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ موثر بارڈر کنٹرول اور داخلی سلامتی کے اقدامات پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم نے قبائلی اضلاع میں سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گورنر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ بھی وزیراعظم کے ساتھ تھے۔

  • پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم تحریر ارم شہزادی

    پنجاب سے سوات تک ،حصہ دوم
    ہمارا خیال یہ تھا کہ ہم صبح سویرے ہی کالام کا سفر شروع کریں گے لیکن تھکاوٹ کے باعث یہ جلدی ممکن نا ہو سکا اور ہمیں منیگورہ سے کالام تک نکلنے نکلتے 1 بج گیا۔ کالام تک روڈز خوبصورت اور محفوظ تھا بس ایک دو جگہ پر ہمیں تھوڑی بہت مشکل پیش آئی باقی سفر اچھا رہا۔ ایک دو جگہ رکنے کی وجہ سے ہم کالام شام تک پہنچے۔ اب وہاں ہوٹل کی چوائس میں مشکل پیش آئی کیونکہ ہم میں سے اکثریت دریائے سوات کے قریب ٹھہرنا چاہتے تھے جبکہ بچہ پارٹی جھولے اور سلائڈز والے ہوٹل کا انتخاب کیے بیٹھے۔ خیر لیا ہم نے پھر دریائے سوات کے رخ والا۔ پہلی بار یوں دریا کے قریب ٹھہرنا اور سونے کا تجربہ ہوا۔ سامان سیٹ کمروں میں کیا اور کچھ سستانے لگے۔ پھر ایک چکر بازار کا لگایاوہاں عجیب سی خاموشی تھی مطلب عورتوں کا رش تو دور کی بات عورت نظر ہی نہیں ارہی تھی۔ کچھ دکانیں کھلی تھیں اور ڈرائی فروٹ مارکیٹ بہت بڑی تھی۔ وہیں سے گھومتے پھرتے میں اپنا پاؤں زخمی کروا بیٹھی۔ خیر پھر ہم "کمال” ہوٹل گئے وہ دریا کے کنارے تھا کھانا کھایا وہاں البتہ بہت بڑی تعداد لوگوں کی دیکھی جن میں خواتین، مرد، بوڑھے، بچے سب شامل تھے۔ کھانے کا زائقہ بہت زبردست تھا۔ سروس اچھی تھی۔ اور بل بھی مناسب تھا۔ یہاں بھی مجھے مقدار، زائقہ، معیار اور ریٹ نے کافی متاثر کیا۔ کھانے کے بعد ایک چکر پھر بازار کا لگایا تب زرا گہماگہمی تھی۔ لوگ گھوم رہے تھے کہیں کوئی خوف کا شائبہ تک نا تھا۔ لگتا نہیں تھا کہ چند سال پہلے تک یہ سارا علاقہ خوف کی علامت تھا۔ سکون اور خوشگوار ماحول میں مجھے وہ تمام لوگ یاد آئے جو قربان ہوئے اس آمن کو لانے کے لیے۔ مقامی آبادی سے لے کر افواج پاکستان کے جوانوں تک۔ کیونکہ انہیں کے خون سے ہوا ہے یہ چمن آباد۔ الله پاک اسے دشمن سے محفوظ رکھے۔ امین ثمہ آمین۔ واپسی پے سب باہر رک گئے جبکہ میں ہوٹل واپس اگئی ٹیرس پر چائے منگوائی اور دریا کے شور کو سنا محسوس کیا۔ اسکی لہریں ایسی بپھری ہوئی تھیں جیسے کسی چیز کا کسی بات کا شدید غصہ ہو۔ جیسے ابھی سب کو لے ڈوبیں گی۔ بہا کے کہیں دور لے جائیں گی۔ ان لہروں کو دیکھتے ہوئے اور ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتے ہوئے آپ عجیب دنیا میں کھو جاتے ہیں۔ جہاں صرف آپکی زات ہوتی ہے ماضی کے دکھ حال کے چیلنجز اور مستقبل کی پلاننگ سبھی شامل ہوتے ہیں۔ مجھے ان لہروں کی نظر ہو جانے والے وہ نوجوان بھی یاد آئےجنہیں یہ لہریں بہا کے لے گئیں مجھے ناطق لکھنوی کا شعر یاد ایا وہاں بیٹھے لہروں کا شور سنتے

    "کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت

    جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے”

    سمندر کسطرح خاموشی سے بہتا ہے۔ پرسکون سا۔ اسکی لہریں اسکا شور اف الله۔ سب کی واپسی تقریباً ایک بجے ہوئی لیکن ہم سب پھر وہیں ٹیرس پر بیٹھے رہے تقریباً تین بجے تک پھر کمروں میں گئے وہاں نیند کا ایسے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسے ہم گھروں میں سوتے ہیں۔ کیونکہ پھر اگلے دن کی تیاری اور پروگرام کی ترتیب سونے کہاں دیتی ہے۔ اگلے دن ہم نے "اوشو” جنگل جانا تھا وہ بھی بہت خوبصورت جگہ ہے جب ہم پہنچے ناشتہ کرنے کے بعد تو کئی لوگوں کے کیمپ لگے ہوئے تھے۔ جھولے تھے گھڑ سواری اور اونٹ کی سواری بھی تھی۔ لیکن ہم اس سے پہلے اگے "کارگل” جھیل پرچلے گئے ہمارا سامنا دو بچوں سے ہوا ایک کا نام صابر تھا عمر یہی کوئی آٹھ دس تھی۔ نشانہ بازی کے لیے غبارے تھے اس کے پاس بچوں نے نشانے لیے اور تصاویر بنائیں لیکن وہ بچے ہمارے ساتھ رہے "اوشو” سے لے کر "جھیل” تک۔ اس بچے کی خدمت اور اپنے رویے پر میں بہت شرمندہ ہوں۔ واقعہ بتاتی ہوں ہوا کیا۔ صابر نے کہا کہ ہم آپکو جھیل تک لے جاتے ہیں ڈرائیور نے اسےگاڑی میں بیٹھا لیکن میں نے یہ کہہ کر اتار دیا کہ علاقہ محفوظ لگ تو رہا ہے لیکن پھر بھی اتنا اعتبار مناسب نہیں ہے اگر بچہ خود کہہ دے کہ یہ لوگ مجھے آغواہ کر کے لے جارہے ہیں تو ہم کیا کریں گے۔ اس لیے اگر انہوں نے انا ہوا تو خود اجائیں گے ہم ساتھ نہیں لے جائیں گے۔ اتار دیا انہیں اور خود چلے گئے کافی اگے جانے کے بعد پتہ چلا کہ گاڑی چونکہ بڑی ہے تو اس لیے نہیں جاسکتی سڑک تنگ ہے جانا ممکن نہیں پیدل جانا ہوگا بس ہم پھر مسجد کے قریب گاڑی کھڑی کی اور اگے پیدل نکل گئے۔ جب تک ہم لوگ پہنچے صابر اور اسکا دوست پہنچ چکے تھے وہاں چھوٹے کیری ڈبے ٹائپ اسانی سے چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر بھی بچے ہمارے چھوٹے چھوٹے کام کرتے رہے۔ پہنچ کے یاد آیا کہ آموں کی پیٹیاں تو ہم گاڑی میں ہی بھول آئے سگنل وہاں تھے نہیں کیا کرتے کچھ سمجھ نا آئی تو صابر نے کہا ہم جاتا ہے لے کر اتا ہے۔ کسی سے لفٹ لے کر گیا اورپندرہ منٹ میں آم ہمارے پاس تھے۔ کیا ٹھنڈا پانی تھا جھیل کا۔ بہت مزا آیا۔ دریا کی لہریں وہاں بھی یونہی شور کررہی تھیں۔ لکھا ہوا تھا کہ پتھروں پر بیٹھ کر تصاویر بنوانے سے گریز کریں۔ کیونکہ بہاؤ بہت تیز ہے۔
    جاری

  • پاکستان میں بھی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن کی جائے، محمد ارشد جمال

    پاکستان میں بھی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن کی جائے، محمد ارشد جمال

    بین الاقوامی سطح پر تمام کارگو آپریشن 24گھنٹے کی بنیاد پر چلتے ہیں اورکنسائنمنٹ کی کلیئر نس اور ڈیوٹی و ٹیکسز کی ادائیگیاں آن لائن کے ذریعے کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میںکنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن نہیں کی جارہی جس سے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس تاخیر کا شکار ہورہی ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر کنسائنمنٹس کی کلیئرسن 48 گھنٹے میں ہونی چاہئے ۔
    ان خیالات کا اظہار آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسو سی ایشن کے رہنما محمد ارشد جمال نے ا یم سی سی پریونیٹو ایئر فریٹ یونٹ کراچی کے تاجروں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت سنگل ونڈوآپریشن کے تصورکی وکالت کررہی ہے اور کلیئرنس اِن دی اسکائی نے نام سے کلیئرنس سسٹم بھی متعارف کروارہی ہے جبکہ دوسری جانب تاجروں کو اپنے قیمتی سامان کی کلیئرنس کے لیے بھاری ٹیکس کی ادائیگیاں بھی کرنی پڑرہی ہیںجس سے کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اورسروس سیکٹر ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں لیکن حکومتی حکام خاموش ہیںاور تجارتی سہولت میں بے حسی کا مظاہرہ ہورہا ہے ۔
    حمد ارشد جمال نے کہا کہ کچھ اہم مسائل کو اجاگر کیا جنہیں فوری بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایات کی ضرورت ہے جوایئر فریٹ یونٹ کراچی میں کلیئرنس کا وقت کم از کم 3 دن ہے لیکن ایک طویل عرصہ سے اسٹاف کی کمی کے باعث کنسائنمنٹ کی ایگزامینیشن تاخیر کا شکار ہورہی ہے جس کی وجہ سے ایئر فریٹ یونٹ پر سہولیات کا فقدان ہے۔
    انہوں نے کہا کہ کنسائنمنٹ کی ڈیلیوری رات 10 بجے تک ممکن بنائی جائے اور کم سے کم وقت میںکنسائنمنٹ کی کلیئرنس کی جائے تاکہ کاروباری لاگت میں کمی لائی جاسکے اس کے علاوہ جیری ڈناتا میں چار ایگزامن افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ کنسائنمنٹ کی جانچ پڑتا ل کا سلسلہ تیزی سے ہوسکے ۔اس موقع پر آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین قمر الاسلام نے ٹرمینلزچارجزکی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالی۔
    انہوں نے کہا کہ دستاویزات جمع کرنے اور ادائیگی کے واچر جاری کرنے کے لیے ٹرمینل پر ان کا صرف ایک کانٹرہے جبکہ کم از کم4 کانٹرز درکار ہونے چاہئے تاکہ تاجروں کا وقت ضائع نہ ہو۔اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹرایئر فریٹ یونٹ ڈاکٹر عامر نواز نے ایسوسی ایشن کے نقطہ نظر کو سنا اور کہا کہ آپ کے مشاہدات بہت درست ہیںاور کسٹمز بھی محفوظ کاروباری ماحول میںتجارتی سہولیات کا جائزہ لے رہا ہے انہوں نے کہا کہ کلیئرنس ان دی اسکائی سسٹم اور پی ایس ڈبلیو بڑے منصو بے ہیں جس سے ٹریڈ کو سہولیات اورکنسائنمنٹ کی کلیئرنس کا عمل ہوگا ۔

  • عرب امارات کی نئی شرط ،بھارتی خوش: پاکستانی مسافرمشکل کاشکارمگراسلام آباد خاموش

    عرب امارات کی نئی شرط ،بھارتی خوش: پاکستانی مسافرمشکل کاشکارمگراسلام آباد خاموش

    اسلام آباد :متحدہ عرب امارات کی نئی شرط ،بھارتی خوش: پاکستانی مسافرمشکل کاشکار:رُل گئےمگراسلام آباد خاموش :،اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے مسافروں پر پی سی آرٹیسٹ کیساتھ 4 گھنٹے قبل کے ریپڈ انٹیجن ٹیسٹ کی شرط عائدکردی، جس کے بعد ایمرٹس نے مسافروں کو لےجانےسے انکار کردیا۔

     

    تفصیلات کے مطابق پاکستانی مسافروں کیلئے دبئی کاسفرفی الحال ناممکن ہوگیا ، یواےای نے پاکستان سے آنیوالے مسافروں کیلئے نئی شرط لاگو کردی ، پاکستانی مسافروں کو 4 گھنٹے پرانی پی سی آر ریپڈ ٹیسٹ رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔

     

    ذرائع کے مطابق فی الحال پاکستان میں پی سی آر ریپڈ ٹیسٹ نہیں ہوتے، پاکستانی مسافروں کو 72 گھنٹے پہلےکی پی سی آر رپورٹ بھی پیش کرنی ہوگی، گزشتہ روز سےاب تک ملک بھر سے 3ہزار سےزائد مسافردبئی نہیں جاسکے کیوںکہ پاکستان میں فی الحال کوئی بھی اسپتال یا لیب ریپڈ پی سی آرٹیسٹ نہیں کرسکتا۔

     

    کراچی ، اسلام آباد اوردیگرایئرپورٹس جہاں سے پاکستانی دبئی جانے کے لیے وہاں پہنچے توبڑی تکلیف دہ صورت حال دیکھنے کوملی سخت گرمی میں مسافراپنے بچوں کے ہمراہ پاکستانی لیبز سے کورونا ٹیسٹ کروا کرجب ایئرپورٹ پرپہنچے توان کو بتایا گیا کہ جب تک پی سی آر ٹیسٹ نہیں کروائیں گے دبئی نہیں جائیں گے، اس دوران لوگوں‌کواپنے بچوں کے ساتھ بہت پریشان ہوتے دیکھا گیا ہے ، بچے رورہے ہیں اوراپنی بے بسی پروالدین بھی سخت صدمے میں ہیں‌

     

     

    دوسری جانب ایمرٹس ایئرلائن نے 4 گھنٹے قبل کے ریپڈانٹیجن ٹیسٹ کے بغیر مسافروں کو لےجانےسے انکار کردیا ، جس کے بعد جناح ایئرپورٹ پر دبئی جانیوالے مسافروں کوسفر سے روک دیا گیا۔

    ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کے پاس ریپڈانٹیجن کی رپورٹ موجودنہیں تھی، جس کے باعث 70 سے زائد مسافروں کو بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کئے گئے، مسافرایمریٹس ایئر کی پرواز ای کے 601 کے ذریعے دبئی جانا چاہتے تھے جبکہ اسلام آباد سے بھی دبئی جانیوالے300سے زائد مسافروں کو بورڈنگ پاس جاری نہ ہوا۔

    یاد رہے متحدہ عرب امارات(یو اے ای) نے رہائشی ویزا کے حامل پاکستانیوں کو آنے کی اجازت دی تھی ، اماراتی حکومت کے مطابق جن کی مکمل ویکسینیشن کو 2 ہفتے ہوچکے ہیں وہ مسافر یو اے ای آسکیں گے۔

    دوسری طرف پاکستان کے مقابلے میں بھارتی شہریوں کوملک کے 34 بین الاقوامی ہوائی اڈوں تیز رفتار پی سی آر ٹیسٹنگ کی سہولت حاصل ہے، ان ایئرپورٹس میں کچھ بڑے بڑے نام یہ ہیں‌ دہلی ، ممبئی ، کولکتہ ، چنئی ، بنگلور ، منگلورو اور احمد آباد بھی شامل ہیں‌

     

    ادھر عرب امارات کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ان ممالک جن میں‌ پاکستان بھی شامل ہے اپنےملک میں‌ آنے والون کے لیے موقع پر ہی یعنی پی سی آر ٹیسٹ کی موبائل سہولت فراہم کرنے کا پروگرام بنا چکا ہے جس کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں

    دوسری طرف مسافروں نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ اس تکلیف کا نوٹس لیں اورجلد از جلد عرب امارات حکومت سے معاملات حل کرکے پاکستانیوں کوپریشانی سے نکالیں