Baaghi TV

Author: +9251

  • کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2  تحریر چوہدری عطا محمد

    کشمیر میں تبدیلی۔ پارٹ 2 تحریر چوہدری عطا محمد

    سردار عبدالقیوم نیازی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہہ لوگ شیروانی اور واسکٹ سلاتے ہیں مجھے تو وزیز اعظم بننے کی خبر کاغزات نامزدگی والے دن صبح کو ہوئی اور مجھے فون آیا کہہ آپ وزیز اعظم کے لئے کاغزات جمع کروایں اگر بات کی جاۓ اپوزیشن کی تو اس نے تو تنقید کرنی ہی تھی جو بھی نام سامنے آتا اس پر تنقید اپوزیشن تو لازمی سی بات ہے کرے گی اگر تنویر الیاس صاحب کا نام آتا تو کہنا تھا اے ٹی ایم مشین کو وزیز اعظم بنا دیا اگر بیریسٹر سلطان کو بناتے تو کہنا تھا وہی پرانی بوتل میں نہی شراب اپوزیشن کا کام تو تنقید ہے اس نے تو کرنے ہی تھی اچنبے کی بات تو یہ ہے سردار عثمان بزادر کی طرح ہمارے میڈیا کے چند بڑے ناموں نے بھی حلف برادری کی تقریب کے فورا بعد سردار عبدالقیوم پر اپنی تنقید کے نشتر برسا دئیے کسی نے کہا کہہ یہ اولیاء اللہ اور درباروں عقیدت مند ہیں اس لئے ان کانام چنا گیا کسی نے کہا ان کانام ع سے شروع ہوتا ہے کسی نے ان کے حلقہ کے نمبر کا زکر کیا کسی نے پختون اور قبیلہ کا زکر کیا جس کو جو ملا اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی میرے خیال میں جو بلکل ہی زیادتی پر مبنی تنقید ہے ہمارے میڈیا کو معلوم ہونا کہہ سردار عبدالقیوم نے کشمیر کے حلقہ سے الیکشن لڑا اور وہ کامیاب ہوۓ اور پورے کشمیر کے کسی بھی حلقہ سے ایم ایل اے کا کامیاب امیدوار ویز اعظم بننے کا مستحق ہوتا ہے بے جا تنقید سے اس حلقہ کی عوام اور پورے کشمیر کی عوام میں اختلاف پیدا نہیں کرنا چائیے تھا میڈیا کا جو سوال بنتا ہے وہ ہے اگر سردار عبدلقیوم پر کوئی کرپشن کیسز ہے تو اسکو ہائی لائیٹ کرے وگرنہ بے جا تنقید غیر مناسب ہے
    سردار عبدلقیوم صاحب کے لیے بہت سے چیلنج ہوں گے اپوزیشن میں سابقہ وزیز اعظم اور اپنی پارٹی کے اندر بھی سابقہ وزیز اعظم اور بھی بہت سے نامور نام ہیں اب سردار عبدالقیوم کس طرح اپنی پارٹی اور اپوزیشن کو لے کر چلتے ہیں یہ بھی ان کا امتحان ہوگا اگر تو سردار عبدلقیوم کشمیر کے مسائل کو حل کرنے جن میں بلدیاتی نظام نہیں ہے بے روزگاری ہے اور عوام کے صحت و انصاف بچوں کی پڑھائی کے مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو اپوزیشن اور میڈیا دونوں کے منہ ہی کشمیر کی عوام بند کر دے گی اگر سردار عبدالقیوم اپنے کپتان عمران خان کے ویثرن کو آگے لے کر چلتے ہیں تو پھر اپنے کپتان کی مکمل حمایت ان کو حاصل ہوگی اور وہ اپنی کرسی پر مضبوطی سے کام کر سکیں گے جو بات زبان ذدہ عام ہے ان کے بارے میں وہ تو بہت اچھی ہے کہہ سردار عبدالقیوم انتہائی نفیس اور سادہ طبعیت انسان ہیں وہ اپوزیشن اور پارٹی کو بہت اچھے سے ڈیل کریں گے اگر اس میں بھی کامیابھی ملتی ہے تو آئندہ آنے والے سالوں میں کشمیر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بڑھے گا اور حقیقی تبدیلی جس کا تحریک انصاف کے چئیر مین ویز اعظم پاکستان جناب عمران خان نے دیکھا ہے وہ پورا ہوگا ان شاءاللہ
    ہماری دعا ہے سردار عبدالقیوم صاحب کو اللہ پاک حقیقی معنوں میں ہمارے کشمیری عوام کے حقوق کی آواز ملک کے اندر بھی اور بیرون ملک بھی اٹھانے کی توفیق عطا فرماۓ اور ساتھ میں کشمیر کی عوام کے مسائل کو بھی حل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ آمین۔ ثمہ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    مقصد آزادی تحریر : انجینیئر مدثر حسین

    پاکستان اللہ رب العزت کا دیا ہوا ایسا معجزہ ہے. جسے کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے 74 سال گزر چکے. اللی رب العالمین نے اس خطہ پاکستان کو خوب خوب نعمتوں سے نوازہ ہے اور اس پر مزید یہ کہ اسے کفر کی للکار کو زیر کرنے کی لیے افرادی قوت، جزبہ جہاد اور ایٹمی طاقت بنا دیا. مسلمانوں کی ترجمانی کرتا یہ خطہ پاکستان ملت اسلامیہ کے ماتھے پر بڑی شان سے طاقت اور جرات کا تاج بن کر سجا ہوا ہے. ملت اسلامیہ کو جب بھی ضرورت پڑی مدد کے لیے پاکستان کی طرح نگاہ اٹھائی جاتی ہے. یہ سب اللہ رب العزت کی خطہ پاکستان پر کی گئی عنایتیں ہیں. یہ میرے حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کے 1400 سال سے بھی قبل اس کی پیشن گوئی کی ہند سے اظہارِ محبت کیا.

    پھر اسے آزاد کرانے والے پیدا بھی کیے. اس کو سر بلند کرنے والوں کو پیدا کیا. یہ سب میرے رب کریم کی عطا اور نبی کریم خاتم النبیںن محمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا روحانی فیض ہے.

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا خواب ان کی کوشش پھر ان کی تعلیمات سے سوئی ہوئی امت کو جو امید نو ملی اسی کو لے کر اللہ رب العزت کی توفیق سے مرد قلندر بابا اولیاء پیر جماعت علی شاہ کی قیادت میں جوق در جوق طلبہ کے لشکر قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ تعالی’علیہ کے ساتھ ملنا. پھر ماؤں کا بچوں کے دلوں میں جزبہ آزادی اور جہاد پیدا کرنا. یہ سب میرے رب العالمین کا احسان عظیم ہے.
    سلام ان ماوں کو جنہوں نے اپنے لعل زبح کروا لیے لیکن تحریک آزادی پر سمجھوتہ نا کیا. سلام ان بہنوں بیٹیوں پر جن کی بے حرمتی کی گئی لیکن آزادی کا علم ہاتھ سے نا چھوڑا.
    ارادے جن کے پختہ ہوں نگاہ جن کی خدا پر ہو
    طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے.
    پاکستان بن تو گیا لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی اسے ڈھول باجوں کو لیے اصل مقصد کو پیچھے چھوڑ کر یہ قوم اپنے بڑوں کی قربانی کو رائیگاں کرتی دکھائی دے گی.
    پاکستان کا مقصد تو لا الہ الا اللہ ہے آنے والی نسلیں چونکہ اسی کھیل تماشے کی منتظر ہوتی ہیں وہ اس کے فیوض برکات سے ناواقف دکھائی دیتی ہیں. جن کے بزرگ آج بھی اپنوں کی قربانیاں یاد رکھتے ہیں وہ اس دن کو صوم و صلوات کرتے اور اپنے پیاروں کے حق میں دعا کرتے دکھائی دیتے ہیں.
    سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کو اس حوالے سے خصوصی کردار ادا کرنا چاہیے. جشن آزادی کے دن اس کے لیے دی گئی قربانیوں سے آنے والی نسلوں کو متعارف کرایا جاے. تاکہ کھیل تماشوں گانے باجوں سے ہٹ کر صحیح معنوں میں اس دن کا حق ادا کیا جا سکے.
    روح اقبالیات آج بھی پاکستان کی ترقی کے لئے بھرپور معاون ثابت ہو سکتی ہیں. پاکستان کو آج بھی ان فلسفوں کی ضرورت ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں بھرپور ساتھ دیا.
    خدارا مخلص ہو جائیں پاکستان کو آج بھی جزبہ آزادی کی ضرورت ہے
    *افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر*
    *ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ*
    پاکستان اس وقت قرض و پابندیوں کی جس دلدل میں پھنس چکا ہے. اس سے نکلنے کا واحد راستہ مخلصی ہے.
    اپنے وطن اپنے پیارے پاکستان سے مخلص ہو جائیں. عشق_ وطن ایمان کا حصہ ہے. اس سے محبت کا اظہار کریں اور اپنے گھروں میں بچوں کو قیام پاکستان اور شعور قربانی کا درس سمجھانے کا اہتمام کریں. صوم و صلوات کے ساتھ اس مبارک دن کا آغاز کریں اور جن لوگوں نے اس وطن کے لیے جان مال عزت کی قربانی دی ان کو خراج تحسین پیش کیجئے.

    @EngrMuddsairH

  • اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں تحریر: سحر عارف

    کشمیر کا نام سنتے ہر چھوٹے بڑے کے ذہن میں جنت کا نوشہ کھیچا چلا جاتا ہے۔ مجھے آج بھی یاد ہے بچپن میں ہمیشہ بڑوں کو کہتے سنا تھا کہ اگر جنت دیکھنی ہے تو کشمیر دیکھ لو۔ کشمیر کی خوبصورتی دیکھنے کے بعد بالکل ایسا لگتا ہے جیسے جنت کا ایک ٹکڑا زمین پر اتر آیا ہو۔

    اس میں پھیلا سبزہ، وہاں کے آبشار، یہاں تک کہ چرند پرند، درخت، پہاڑ نیز ہر چیز میں اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا آج بھی کشمیر ایسا ہی ہے؟

    آج تو اسی جنت میں آئے روز خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ بھارت کی گیدڑ فوج وہاں کی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کرتی ہے۔ ہر سال ہزاروں عورتیں ان کی حوس کا نشانہ بنتی ہیں۔ مائیں اپنے لخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتی ہیں۔

    یہاں تک بھارت کی ظالم فوج سے تو وہاں کے بچے تک محفوظ نہیں ہیں۔ اگر بچے گھروں سے باہر نکلیں تو ان کی آنکھیں پیلٹ گن سے چھلنی کر دی جاتی ہیں۔

    پر افسوس صد افسوس کہ پوری دنیا خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔ اس دنیا میں اگر یہی سلوک چار پانچ جانوروں کے ساتھ ہو تو یقین جانے یہ جو لوگ آج اپنے منہ سی کے اور آنکھوں میں پٹیاں باندھ کے اندھے بنے بیٹھے ہیں یہی لوگ "جانوروں کے حقوق” کھول کے بیٹھ جائیں گے۔ ان کے لیے ریلیاں بھی نکلیں گی اور ان کی حفاظت کے لیے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    پر ان کے منہ سے کشمیر کے جائز حق میں ایک لفظ بھی نہیں پاتا۔ کیا کشمیری ان کی نظر میں جانوروں سے بھی بدتر ہیں؟ کہ یہ دنیا اور اقوام متحدہ صرف تماشا دیکھے چلے جارہے ہیں۔ آخر کو کوئی بھارت کو اس ظلم و بربریت پر روکتا کیوں نہیں؟ آخر کب تک کشمیری اس قدر ظلم و بربریت سہتے رہیں گے؟

    اب تو کم از کم اقوام متحدہ کو معاملے کی طرف جھنجھوڑنا ہوگا تاکہ جلد سے جلد کشمیر کے حق میں فیصلہ ہو اور ہمارے کشمیری بہن بھائی ہندوستان کے چنگل سے نکل کر آزادی کا سورج دیکھیں اور ان کی آنے والے نسلیں آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں۔

    @SeharSulehri

  • خودار قوم  تحریر  : راجہ حشام صادق

    خودار قوم تحریر : راجہ حشام صادق

    اس دنیا میں وہی قومیں اپنی منزل تک پہنچی ہیں جنہوں نے پوری خلوص نیت سے جدوجہد کی ہے ان قوموں کا مقدر کامیابی بنی ایسی قومیں جن میں اتحاد تھا جنہوں نے قومی غیرت کا مظاہرہ کیا اپنے اصولوں پر گھٹی رہیں اور خوداری پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا ۔

    ہم بہت سی ایسی قوموں کی تاریخ پڑھتے ہیں اور مثال بھی دیتے ہیں جن قوموں نے اپنے سے زیادہ طاقتور دشمن کا مقابلہ کیا ان پر پابندیاں بھی لگیں انہوں نے پابندیوں کا سامنا بھی کیا لیکن وہ ایک قوم بن کر چٹان کی ماند ڈٹے رہے ایسی قوموں میں ایک ترک قوم بھی ہے جنہوں نے بہت مشکل حالات کا ایک قوم بن کر سامنا کیا مختلف پابندیوں کے باوجود وہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔

    اس قوم کی یکجہتی ، اتحاد کو کوئی ختم نہ کر سکا آج وہی ترک قوم دنیا کے سامنے ایک عظیم قوم بن کر ابھر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم آج تک وہ قوم نہ بن سکے جس کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح نے جدوجہد کی اور ایک الگ ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس ریاست کا خواب علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔

    کہتے ہیں جب منزل سامنے ہو تو اس کے حصول کے لئے یکجہتی ، اتحاد اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس دنیا کے کسی بھی معاشرے کے اندر تبدیلی لانے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ قربانیاں بھی دینی پڑھتی ہیں اور یہ قربانی پوری قوم دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہم سمجھتے ہیں انفرادی طور پر ہم اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہیں۔ بھلا ایسا بھی کبھی ہوا ہے کہ اپنے حصے کی شمع روشن کیئے بغیر کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کی تقدیر بدلی جا سکے۔ ہونا تو یوں چاہیے کہ سب سے پہلے ہمیں ایک دیانتدار قوم بننا چاہیئے شاید اس کے لیے ہم تیار نہیں۔

    ہم سب کو خوداحتسابی کے عمل سے گزرنا ہے اپنی سمت کو درست کرنا ہے ایک شخص اگر خود کو بدلتا ہے تو اس کے بعد اس کا خاندان بدلتا ہے۔ گلی محلے کے لوگوں میں یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس طرح یہ پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد بن جاتی ہے۔مگر ہماری قوم اس سے بےخبر بغیر جدوجہد کے خود کو بدلے بغیر اگر معاشرے کے اندر تبدیلی کے منتظر ہیں تو پھر تو اللہ ہی حافظ ہے یہ تو جہالت اور خود کو دھوکا دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

    عزیز ہم وطنوں ہمیں قومی غیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا چند برس کی مشکلات ہیں اس کے بعد آسانی ہو گی ہم ایک عظیم قوم بن کر اس دنیا کے سامنے آئیں گے خود سے عہد کرنا ہوگا کہ سب سے پہلے اپنے اندر مثبت تبدیلی لانی ہے اس تبدیلی کے بعد شخصیت سے متاثر ہو کر لوگ خود کو بدلیں ایک دن پورے معاشرے میں تبدیلی نظر آئے گی۔ان شاء اللہ

    یاد رکھیں منزل جتنی حسین ہوتی ہے اس کا راستہ اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ منزل کے حصول کے لئے قربانیاں دینی پڑیں تو گریز نہ کریں گے ہم تاریخ نے ہمیشہ حق کے راستے پر چل کر مشکلات سے ٹکرانے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ جس دن خوداحتسابی کا عمل ہمارے اندر شروع ہو جائے گا تو پھر ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

    اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو

    @No1Hasham

  • مقبوضہ کشمیر کی شناخت بدلنے کیلئے مودی سرکار کا ایک اور بھیانک منصوبہ

    مقبوضہ کشمیر کی شناخت بدلنے کیلئے مودی سرکار کا ایک اور بھیانک منصوبہ

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر کی شناخت بدلنے کیلئے مودی سرکار کا ایک اور بھیانک منصوبہ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کوہتھیانے کے بعد اس پرقبضہ مزید مستحکم کرنے کے لیے نئے نئے کھیل جاری ہیں

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مودی سرکارنے ایک ایسی کوشش کی ہے کہ جس کے بعد صورت حال ہی یکسرتبدیل ہوگئی ہے ، مقبوضہ وادی سے ذرائع کے مطابق مودی سرکاری نے سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کے بعد اب سرکاری سکولوں کے نام بھی بدلنے شروع کردئیے ہیں‌

     

     

    اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی شناخت بدلنے کیلئے تمام مقبوضہ علاقوں میں قائم سرکاری اسکولوں، تعلیمی اداروں کے نام ان فوجیوں کے نام پر رکھے جائیں گے جنہوں نے ویرگاتی ایوارڈ حاصل کئے

    ذرائع کے مطابق اس حوالے سے 27 جولائی کوحکم جاری کردیا گیا تھا جس پرعمل درآمد شروع ہے اوردوسری طرف کشمیری بھارتی مظالم اوربھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کررہےہیں

  • بھارت : 9سالہ دلت بچی سے شمشان گھاٹ میں اجتماعی زیادتی:پھرقتل بھی کرڈالا

    بھارت : 9سالہ دلت بچی سے شمشان گھاٹ میں اجتماعی زیادتی:پھرقتل بھی کرڈالا

    نئی دہلی :9سالہ دلت بچی سے شمشان گھاٹ میں اجتماعی زیادتی:پھرقتل بھی کرڈالا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی شہر دہلی میں گزشتہ روز 9 سالہ دلت بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا اور بعد ازاں اس قبیح جرم کا ارتکاب کرنے والے سادھو اور اس کے چیلوں نے اس کی لاش جلادی۔

    اس ہولناک واردات کا نشانہ بننے والی نو سالہ ہندو لڑکی کے والدین نے ایک ہندو سادھو اور تین دیگر افراد پر اُس وقت حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جب وہ بچی گھر سے پانی لینے کے لیے نکلی تھی۔

    ذرائع کے مطابق لڑکی کی ماں کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اپنی بچی کی لاش کو زبردستی جلانے پر احتجاج کیا تو انہیں دھمکیاں دی گئی اور شمشان گھاٹ کا گیٹ بند کر دیا گیا۔

    یہ بچی ہندوؤں کے پسماندہ طبقے دلت برادری سے تعلق رکھتی تھی جنہیں ہندو معاشرے میں کچھ عرصے قبل تک اچھوت تصور کیا جاتا تھا۔ اس بچی کے والدین مسلمانوں کے ایک صوفی بزرگ کے مزار کے باہر بھیک مانگ کر گزارا کرتے ہیں۔ دہلی شہر کے ننگل علاقے میں یہ مزار ایک شمشان گھاٹ کے بالکل سامنے واقع ہے۔

    یہ بچی اپنے والدین کی واحد اولاد تھی۔ لڑکی کی ماں نے مزید بتایا کہ اتوار کی شام کو انہوں نے اپنی بچی کو شمشان گھاٹ سے پانی لانے کے لیے بھیجا جو ان کی جھونپڑی سے صرف چند سو میٹر دور ہے۔

    ایک گھنٹہ گزر جانے کے بعد جب بچی گھر واپس نہ آئی تو میں اسے دیکھنے کے لیے نکلی۔ شمشان گھاٹ پر میں نے اسے زمین پر بے سدھ پڑا پایا۔ اس کے ہونٹ نیلے ہو رہے تھے، اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا، اس کے کلائیوں اور ہاتھ پر نیل پڑے ہوئے تھے اور اس کے کپڑے بھی گیلے ہو رہے تھے۔’

    انہوں نے بتایا کہ شمشان گھاٹ پر ایک ہندو سادھو اور اس کے تین چیلوں نے انہیں پولیس نہ بلانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پولیس والے لڑکی کا پوسٹ مارٹم کرکے اس کے جسم کے اعضاء نکال کر بیچ دیں گے۔

    بچی کی ماں نے الزام لگایا کہ ان چاروں افراد نے شمشان گھاٹ کا گیٹ بند کر دیا تاکہ وہ وہاں سے نہ نکل سکیں، انھیں ڈرایا دھمکایا اور پیسے کا لالچ بھی دیا۔

    بچی کے والد نے کہا کہ جب وہ ڈیڑھ سو کے قریب گاؤں والوں کے ہمراہ شمشان گھاٹ پہنچے تو ان کی بچی کی لاش تقریباً جل چکی تھی۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پولیس کو بلایا اور جلتی ہوئی چتا پر پانی ڈالا تاکہ بچی کی لاش جلنے سے بچائی جا سکے لیکن صرف اس کی ٹانگیں ہی بچ پائیں جس سے پوسٹ مارٹم میں ریپ کی تصدیق کیا جانا ممکن نہیں رہا۔

    پولیس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا کہ والدین کے بیانات پر ملزمان کے خلاف گینگ ریپ، قتل اور زبردستی کریا کرم کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

  • سرجانی ٹاون قتل کی واردات کا معمہ حل

    سرجانی ٹاون قتل کی واردات کا معمہ حل

    سرجانی ٹاون قتل کی واردات کا معمہ حل
    خون سفید ہوگیا جائیداد کی لالچ میں بیٹے نے باپ کو قتل کردیا۔

    3 جولائی کی رات کو سرجانی زیرو پوائنٹ سے 50 برس کے زرم خان کی سر کچلی لاش ملی تھی۔ قتل کی واردات کا مقدمہ مقتول کے بیٹے آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    قتل کے واقعے کو بیٹے نے ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔دوران تفتیش معلوم ہوا کہ مدعی مقدمہ نے ایف آئی آر میں اپنا غلط نام لکھوایا ۔دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ مقتول کو اسکے بیٹے عجب خان نے اپنے دوست کے ساتھ ملکر قتل کیا ۔

    مقتول اپنے والد کی جائیداد ہتھیانا چاہ رہا تھا۔ تفتیشی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اپنے دوست کی مدد سے والد کو زیرو پوائنٹ بلوایا ملزم نے دوست کے ساتھ ملکر والد کا سر پتھر سے کچل کر اسے قتل کردیا۔

    پولیس نے ملزم عجب خان کو گرفتار کرلیا اور اسکے دوست ریاض کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • بھارتی ریاستیں آپس میں لڑنے لگیں:معاملہ شدت اختیارکرگیا

    بھارتی ریاستیں آپس میں لڑنے لگیں:معاملہ شدت اختیارکرگیا

    نئی دہلی: بھارت کی دو ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر جاری کشیدگی اور انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد مودی سرکار کا انوکھا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق میزورام اور آسام کے درمیان سرحدی تنازعے پر مودی سرکار نے غیر جانبدار فورس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جمعرات کو دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انڈین حکومت متنازعہ علاقے میں غیر جانبدار فورس تعینات کرے گی۔

    بیان کے مطابق دونوں ریاستیں متنازعہ علاقوں میں محکمہ جنگلات اور پولیس فورس کو گشت کے لیے نہیں بھیجیں گی اور نہ ہی تازہ دم دستے تعینات کریں گی۔

    یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب میزورام کی ریاست نے چھ پولیس افسروں کی ہلاکت پر کشیدگی شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات کو افسوس کا اظہار کیا،چھبیس جولائی کو میزورام اور آسام کی سرحد پر جھڑپ کے بعد چھ پولیس افسر ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔اس سے قبل گذشتہ ہفتے دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ نے اپنی ٹوئٹس میں کہا تھا کہ وہ اس مسئلے کا حل نکالنے کا راستہ تلاش کریں گے۔

    آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سارما کا تعلق بی جے پی سے ہے، جبکہ میزورام کے وزیراعلیٰ زورمتھانگا سیاسی جماعت میزو نیشنل فرنٹ کے سربراہ ہیں اور وہ بی جے پی کے اتحادی ہیں

  • ٹرین حادثہ میں‌ جان بحق اور زخمی افراد کے لواحقین کیلئے چیک تیار

    ٹرین حادثہ میں‌ جان بحق اور زخمی افراد کے لواحقین کیلئے چیک تیار

    ترجمان ریلوے نے کہا ہے کہ ڈھرکی اور ریتی کے درمیان 17UPملت ایکسپریس اور 36DN سرسید ایکسپریس کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین اور زخمی ہونے والے مسافروں کے چیک تیار ہونا شروع ہوگئے ہیں، پوسٹل لائف انشورنس نے ابتدائی طور پر چھ چیک تیار کرکے چیف کمرشل منیجر پاکستان ریلوے کے حوالے کردئیے ہیں، ان میں جاں بحق مسافروں میں طاہرہ خاتون، زوبیہ قریشی، شہزاداحمد، ظفر اقبال، حضوراں تنویر، جبکہ ایک زخمی عذرا بی بی شامل ہیں.

    جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو بالاترتیب 15 لاکھ فی کس اور زخمی ہونے والی مسافر عذرا بی بی کو 50 ہزار روپے کے چیک دیئے جائیں گے، واضح رہے کہ جیسے جیسے ریلوے کے پاس تفصیلات اکٹھی ہو رہی ہیں وہ پوسٹل لائف انشورنس کو بجھوائی جارہی ہیں تاکہ باقی چیک بھی تیار ہوسکیں.

  • پاکستان کے خلاف امتیازی فیصلہ کیوں ؟برطانوی رکن پارلیمنٹ نے بورس جانسن سے وضاحت مانگ لی

    پاکستان کے خلاف امتیازی فیصلہ کیوں ؟برطانوی رکن پارلیمنٹ نے بورس جانسن سے وضاحت مانگ لی

    لندن:پاکستان کے خلاف امتیازی فیصلہ کیوں ؟برطانوی رکن پارلیمنٹ نے بورس جانسن سے وضاحت مانگ لی ،اطلاعات کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رچرڈ برگن نے پاکستان کو سفری ریڈ لسٹ میں رکھنے سے متعلق وزیراعظم بورس جانسن سے وضاحت مانگ لی۔

    ا رکن برطانوی پارلیمنٹ رچرڈبرگن کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان سے متعلق سیاسی اور امتیازی فیصلہ کیا گیا، پاکستان میں انفیکشن ریٹ امبرلسٹ میں موجود کئی ممالک سے کم ہے۔رچرڈبرگن نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس ضمن میں منصفانہ فیصلہ کرے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ نے حالیہ دنوں کئی ممالک کو سفری قوائدوضوابط کی سرخ فہرست سے نکالا ہے لیکن ان میں پاکستان کا نام شامل نہیں جس کے بعد یہ مطالبہ زور پکڑ گیا ہے کہ پاکستان کو بھی ریڈ لسٹ سے نکلا جائے تاکہ مسافر ہوٹل قرنطینہ کی سخت پابندی کے بغیر سفر کرسکیں۔

    دوسری جانب پاکستان کو برطانوی ریڈ لسٹ سے نکالنے کے لیے آن لائن پٹیشن پر اب تک ایک لاکھ سے زائد دستخط کردیئے گئے، مذکورہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیربحث آئے گا۔

     

    اوور سیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے بھی برطانوی حکومت پر شدید تنقید کی۔ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے پر متعدد ممبران پارلیمنٹ کے خطوط بھی شامل ہیں۔

    یہ بھی یاد رہے کہ برطانیہ کی جانب سے گزشتہ روز ریڈ لسٹ میں تبدیلیاں کی گئیں جس کے مطابق کورونا کی خراب ترین صورتحال کے باوجود بھارت کو ریڈ لسٹ سے نکال دیا گیا۔