Baaghi TV

Author: +9251

  • صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں، نمائندہ ڈبلیو ایچ او

    صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں، نمائندہ ڈبلیو ایچ او

    کراچی: صورت حال پرقابوپانےکےلیےکراچی کے اسپتالوں میں کورونا کی مزید تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں،اطلاعات کے مابقعالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کراچی کے پرائیویٹ اور سرکاری اسپتالوں میں بہترین تشخیصی سہولیات اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کے مزید سرکاری اسپتالوں میں تشخیصی سہولیات مہیا کی جائیں تاکہ بڑے پیمانے پر مریض ان اسپتالوں میں آنے کی صورت میں فوری طور پر ان کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا ماہیپالا نے کہا کہ چین میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد پاکستان نے فوری اقدامات کیے اور وبا سے نمٹنے کے لیے قومی رسپانس پروگرام ترتیب دیا جو کہ دنیا کا بہترین پروگرام ہے، پاکستان میں اس وقت سات لیباٹریاں کورونا وائرس کی تشخیص کی صلاحیت رکھتی ہیں جہاں اس وقت 15000 ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 2000 آئسولیشن بستر تیار رکھے گئے ہیں جو کہ موجودہ صورتحال میں کافی بڑی تعداد ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر پالیتھا نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس کا دورہ کیا اور وہاں پر کورونا وائرس کی تشخیصی لیبارٹری اور آئسولیشن وارڈ کا معائنہ کیا۔ڈاکٹر پالیتھا نے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے آئسولیشن وارڈ اور لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی سے بھی ملاقات کی۔

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے سندھ میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر سارہ سلمان کے ساتھ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو سے بھی ملاقات کی اور محکمہ صحت کو کورونا وائرس کی تشخیصی کٹس، ماسک اور دیگر سازوسامان کی فراہمی کی پیشکش بھی کی۔

    بعد ازاں ڈاکٹر پالیتھا ماہی والا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے پاکستان کا نیشنل ریسپانس پروگرام دنیا کا بہترین پروگرام ہے اور اب یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مہلک بیماری سے بچانے کے لیے حفاظتی اقدامات پر کتنا عمل کرتے ہیں۔

    ڈاکٹر پالیتھا کا کہنا تھا کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ صابن اور پانی سے 20 سیکنڈ تک بار بار اپنے ہاتھوں کو دھوئیں، صابن اور پانی نہ ہونے کی صورت میں میں ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کریں، نزلہ زکام کی صورت میں گھروں تک محدود رہیں اور کھانسی بخار اور سانس لینے میں تکلیف کی صورت میں میں بڑے اور مخصوص اسپتالوں میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

  • خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت

    خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت

    جنیوا:خبردار،ہوشیار : یورپ اب کورونا وائرس کی وبا کا نیا مرکز ہے، عالمی ادارہ صحت،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت نے چین کی جگہ اب یورپ کو نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا نیا مرکز قرار دے دیا ہے۔

    ذرائع کےمطابق جنیوا میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیڈورز ایڈہانوم گھیبریتس نے کہا ‘اب روزانہ یورپ میں اس سے زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں جتنے چین میں اس وبا کے عروج میں سامنے آرہے تھے’۔انہوں نے کہا کہ ممالک کو اس وبا سے لڑنے کے لیے منظم سوچ کو اختیار کرنا ہوگا ‘صرف ٹیسٹنگ تک محدود نہ رہیں،

    عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹیڈورز ایڈہانوم گھیبریتس نے نے کہا ہے کہ صرف قرنطینہ کو ہی اہمیت نہ دیں، صرف سماجی طور پر الگ تھلگ ہونے کو ترجیح دیں، سب پر عمل کریں، ہر ملک کو دیگر ممالک کے تجربے کو دیکھنا چاہیے اور یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ ہمارے ساتھ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ جان لیوا غلطی ہے، ایسا کسی بھی ملک کے ساتھ ہوسکتا ہے’۔

    عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کو کووڈ 19 کو عالمگیر وبا قرار دیا تھا جو اب تک ایشیا سمیت تمام براعظموں تک پھیل چکی ہے اور صرف انٹارکٹیکا ہی اس سے مھفوظ ہے۔چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والا وائرس 3 ماہ سے بھی کم وقت میں دنیا کے متعدد ممالک میں پھیل گیا جس سے اب تک ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد متاثر جبکہ 5 ہزار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    چین میں نئے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آچکی ہے اور جمعرات کو صرف 26 نئے کیس سامنے آئے جبکہ یورپ میں راتوں رات کیسز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنگ ڈیزیز اینڈ زونسٹ یونسٹ کی سربراہ ڈاکٹر ماریہ وان کرکوف نے بتایا ‘چین میں وائرس عروج پر گیا اور پھر کمی آئی، اس کا مطلب ہے کہ ہمیشہ ایک موقع ہمارے پاس ہوتا ہے’۔

    ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک ریان کے مطابق ‘سماجی طور پر کٹ جانے سے وائرس کے پھیلاﺅ کی رفتار میں بہت معمولی کمی آتی ہے تاکہ آپ کا طبی نظام اس پر قابو پاسکیں، اگر آپ کی رفتار تیز نہیں ہوتی تو وائرس ہمیشہ آپ کو پکڑ لیتا ہے’۔

    اٹلی اس وقت چین سے باہر کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 15 ہزار سے زائد افراد بیمار ہوچکے ہیں، جس کے بعد اسپین میں 43 سو سے زائد، جرمنی میں 31 سو سے زائد جبکہ فرانس میں 28 سو سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔یورپ کے دیگر ممالک میں بھی کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور امریکا نے یورپی باشندوں کی آمد پر 30 دن کے لیے پابندی عائد کردی ہے تاہم کچھ یورپی ممالک کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔

  • کے پی پولیس کی بربریت سامنے آگئی ، این اوسی نہ دکھانے پرمار مار کربچے کوجان سے ہی ماردیا ،اہل علاقہ کا احتجاج

    کے پی پولیس کی بربریت سامنے آگئی ، این اوسی نہ دکھانے پرمار مار کربچے کوجان سے ہی ماردیا ،اہل علاقہ کا احتجاج

    باجوڑ:کے پی پولیس کی بربریت سامنے آگئی ، این اوسی نہ دکھانے پرمار مار کربچے کوجان ہی سے ماردیا ،اہل علاقہ کا احتجاج ،اطلاعات کےمطابق ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے راولپندی میں محنت کش کے گھر پرسوں پولیس نے گھر میں گھس کر این او سی مانگا۔ متعلقہ کاغذات تاخیر سے دکھانے کا بہانہ بناکر پر پولیس نے بچے کو زد و کوب کرنا شروع کیا

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق زدوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس بچے کوگھسیٹ کر گھسیٹ کر تھانے لے جانے لگی جس پر لڑکے کی ماں نے آکر بچے کو چھوڑنے کی منت سماجت کی لیکن پولیس نے ان کی دل کی مریضہ ماں کو دھکہ دے کر گرا دیا اور ان کی موت واقع ہوگئی۔

    آج راولپنڈی میں ان کے گھر گئے میرے ساتھ اس خاندان کے بزرگ اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شیر شاہ صاحب ہیں۔ ان شاءاللہ متاترہ خاندان کیساتھ ہر صورت میں کھڑے ہیں عدالتوں میں بھی مقدمہ لڑینگے سڑکوں پر بھی ان مظلوموں کیلئے انصاف کی جنگ لڑینگے دھرنے بھی دینگے اور پولیس کے قاتلوں سے اس ظلم کا حساب لینگے۔ میں اور باجوڑ سے دوست عبداللہ نزیر ایڈوکیٹ اس پر کام کرینگے ہمارے ساتھ اسلام اباد اور راولپنڈی کی تمام وکلاء برادری بھی ہوگی۔

    راولپنڈی میں باجوڑ دیر بنوں وزیرستان ڈیرہ سوات ہر جگہ سے یہ غریب محنت مزودری کیلئے آتے ہیں اور یہاں کی پولیس انہیں رشوت کیلئے مختلف بہانوں سے تنگ کرتی پھرتی ہے این او سی پر تو ان کی زندگی عذاب کردی ہے۔ این او سی کا غیرضروری سخت اور تھانوں میں رسوا کرنے والا طریقہ کار ان غریب گھرانوں کی بس کی بات ہی نہیں ہوتی۔

    ہم کہتے ہیں پاکستانی شہریوں کیلئے این او سی کا حصول آسان بنایا جائے اور پولیس کی حرامزدگی روکی جائے۔ قاتلوں کی پھانسی چاہتے ہیں۔ ایک بار ملوث اہلکاروں ان کے ایس ایچ او، ڈی ایس پی، ڈی پی او کو لٹکا دیں پھر دیکھتے ہیں یہ کیسے ٹھیک نہیں ہوتے

  • پاک فوج کے افسران کے بارے میں  کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا

    پاک فوج کے افسران کے بارے میں کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا

    راولپنڈی: پاک فوج کے افسران کے بارے میں کرونا ہونے کی فیک خبرشائع کربیٹھے،غلطی ہوگئی ، ہندوستان ٹائمزنے پابندی کے ڈرسے جھوٹ تسلیم کرلیا،اطلاعات کےمطابق بھارت کے ترجمان ادارے ہندوستان ٹائمز نےپاک فوج کے حوالے سے کرونا ہونے کی غلط خبرچھاپی تھی اس غلط خبر کی وجہ سے پابندی لگنے کے ڈرسے بڑی جلدی اپنا سفید جھوٹ تسلیم کرکے اپنی حقیقت پرسے پردہ اٹھا لیا

    باغی ٹی وی کے مطابق ہندوستان ٹائمز کا کہنا ہےکہ بعض ہندوستانی نشریاتی اداروں نے اس خبرکو شائع کیا تھا جہاں سے انہوں نے اٹھا کراسے شائع کردیا ، بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ خبر جھوٹ ہے اورپاکستان آرمی کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے

    ہندوستان ٹائمز نے یہ بھی تسلیم کیا ہےکہ ان کے ادارے سے یہ غلط اورجھوٹی خبرشائع ہوگئی ہے، جس کا وہ اقرار کرتے ہیں ،دوسری طرف ہندوستان ٹائمز نے اے این آئی کا حوالہ دیا ہےکہ اس ادارے نے پہلے یہ خبر شائع کی تھی اورجہاں سے انہوں نے یہ خبراٹھاکرپھراپنے میڈیا سے شائع کی ،

    تفصیلات کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا کے 120 سے زائد ممالک میں اپنے پنجھے گاڑھے ہوئے ہیں، دنیا بھر میں 4200 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ چین کے بعد اٹلی میں خوفناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے، پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے، جہاں پر کرونا وائرس نے خوف پھیلایا ہوا ہے

    یاد رہے کہ بھارت نے مکاری کرتے ہوئےدنیا کی اس خطرناک بیماری کی آڑ میں پاک فوج کے خلاف ایک سوشل مہم شروع کررکھی سوشل میڈیا پر جعلی خبریں بھی پھیلائی جا رہی ہیں، سوشل میڈیاپر کرونا وائرس سے متعلق جعلی خبروں کی بھرمار ہو گئی ہے۔

    وزارت صحت کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی آفیسرز کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر کی تردید کرتے ہیں۔ پاک فوج کے افسران کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی خبر بے بنیاد ہے۔واضح رہے کہ ملائیشیا، تھائی لینڈ، ہنگری، اٹلی سمیت دیگر ممالک میں جعلی خبروں پھیلانے پر کارروائی کی گئی ہیں متعدد لوگوں کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ بڑے جرمانے بھی کیے گئے ہیں۔

  • ‘کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے

    ‘کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے

    واشنگٹن:’کورونا وائرس سے15 کروڑ تک امریکی شہری متاثر ہوسکتے ہیں’امریکہ پرخوف کے سائے طویل ہونے لگے ،رپورٹس کے مطابق امریکا میں نئے نوول کورونا وائرس سے 7 کروڑ سے 15 کروڑ افراد اس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے متاثر ہوسکتے ہیں۔

    یہ بات امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) اور امریکی سپریم کورٹ کے آفیشل ڈاکٹر برائن موناہن نے کہی۔این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر برائن نے یہ بات منگل کی سہ پہر سینٹ میں بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں کہی، جس میں سینٹرز شامل نہیں تھے بلکہ انتظامیی عملہ اور دونوں پارٹیوں کے افراد شریک تھے۔

    خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے 11 مارچ کو کورونا وائرس کو عالمگیر وبا قرار دیا تھا جو اب تک 114 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے اب تک ایک لاکھ 37 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 5 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ صحت یاب افراد کی تعداد 69 ہزار سے زیادہ ہے۔امریکا میں اب تک 1701 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 41 مریض ہلاک اور 12 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    امریکا کی کم ازکم 36 ریاستوں تک یہ وائرس پھیل چکا ہے اور وبائی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک یہ وائرس سیزنل فلو کے مقابلے میں زیادہ متعدی اور جان لیوا نظر آتا ہے کیونکہ اموات کی شرح اگر ایک فیصد بھی ہوتی ہے تو بھی یہ فلو کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ جان لیوا ہوگا۔

    بدھ کو امریکی کانگریس کی اوور سائٹ اینڈ ریفارم کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشز ڈیزیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فیوسی نے کہا تھا کہ امریکا میں کورونا وائرس سے صورتحال ابھی مزید بدتر ہونا باقی ہے۔انہوں نے کہا ‘میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم مزید کیسز دیکھیں گے اور صورتحال اس وقت کے مقابلے میں زیادہ بدتر ہوجائے گی’۔

    ان کا کہنا تھا ‘اس عرصے میں ہمیں متعدد چیلنجز کا سامنا ہوا، 1980 کی دہائی میں ایچ آئی وی ایڈز کا بحران اور 2009 میں سوائن فلو کی عالمی وبا، مگر ہم نے روزمرہ کی زندگی میں اس طرح کا انتشار کبھی نہیں دیکھا، بلکہ ہم نے اس طرح کی صورتحال کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا’۔دوسری جانب امریکا میں کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کے ٹیسٹوں کے عمل میں سست رفتاری پر تنقید کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اسے بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

  • کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا :مبشرلقمان

    کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا :مبشرلقمان

    لاہور:کشمیر میں 7 ماہ سے لگے کرفیو سے نظریں چھپانے والو ! اللہ تعالی نے پوری دنیا پر کرفیو لگا دیا ،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان کے معروف صحافی سینیئرتجزیہ نگارمبشرلقمان نے دنیا والوں کے نام اپنے پیغام میں‌ کہا ہےکہ جوبویا گیا وہ آج کاٹ رہے ہیں ، کشمیر میں 7 ماہ سے کرفیولگا ہے کسی نے پرواہ تک نہ کی

    باغی ٹی وی کےمطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں مبشرلقمان نے دنیا والوں کویاد اورباورکراتے ہوئے ایک بہت بڑی بات کہی ہےکہ جب کشمیری بھارتی فوج کے مظالم میں چیخ چلا رہے تھے اوربھارتی فوج نے کشمیریوں پرمظالم کی انتہا کا نیا سلسلہ شروع کیا کسی نے کشمیریوں‌پرہونے والے مظالم کی پرواہ تک نہ کی

    مبشرلقمان نے کہا کہ آج اس بے رخی اورکشمیریوں پربھارتی فوج کے ظلم بھرے کرفیوسے دنیانے نظریں چرائیں تو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو کرفیو بنادیا ، اب تو احساس ہوا ہی ہوگا کہ کرفیوکتنا برا ہوتا ہے اورگھروں میں محصورہوجانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے

  • مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار

    مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار

    مقبوضہ کشمیر:مقبوضہ کشمیر کے 90 فیصد طلبہ کا بھارتی فوجیوں کی بے دخلی کا مطالبہ،بھارت کی غلامی قبول کرنے سے انکار،اطلاعات کےمطابق بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے طلبا و طالبات نے وادی سے بھارتی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کردیا۔

    بھارتی اقدام کے تناظر میں نیویارک کے سکِڈمور کالج کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے کالج اور یونیورسٹی کے مجموعی طور پر 600 طلبا و طالبات سے اکتوبر اور دسمبر 2019 کے درمیانی عرصے میں سروے کیا جس میں سے 91 فیصد جواب دہندہ نے مقبوضہ کشمیر سے بھارتی فوج کے انخلا کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن پوسٹ میں تقریباً اتنی تعداد نے مقبوضہ کشمیر میں ایک ریفرنڈم کرانے کی حمایت کی تھی۔مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل سے متعلق سوال پر 64 فیصد طلبا و طالبات نے پاکستان جبکہ 79 فیصد نے مغربی طاقتوں کی حمایت میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

    سروے کے نتائج ہندو توا کی حامل حکومت کے اس دعویٰ کو مسترد کرتی ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں وادی کو محدود آزادی مل گئی اور وادی کو بھارت کا حصہ بنا کر دہائیوں پرانا مسئلہ حل ہوگیا۔اسکیڈمور کالج میں پولیٹیکل سائنس کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر یلینا بیبرمین نے کہا کہ ‘ سروے سے حاصل نتائج کی روشنی میں یہ سمجھا بہتر ہوگا کہ کشمیری نوجوان کچھ خودمختاری کو ترجیح دیں گے’۔

    اسکیڈمور کالج میں پولیٹیکل سائنس کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر یلینا بیبرمین نے بتایا کہ سروے مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر میں کیا گیا۔سروے سے واضح ہوا کہ کشمیری طلبا و طالبات نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے پیش کردہ ‘چار نکاتی مارمولے’ کو زیادہ اہمیت دی۔

  • پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 28 ہوگئی،تشویش بڑھنے لگی

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 28 ہوگئی،تشویش بڑھنے لگی

    اسلام آباد:پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 28 ہوگئی،تشویش بڑھنے لگی ،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 28 ہوگئی جس کی تصدیق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کی ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے تصدیق شدہ 28 کیسز ہیں ، کورونا وائرس سے متعلق نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کی کل میٹنگ ہوگی ، کورونا وائرس سے متعلق قومی سطح پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے صرف تین ائیرپورٹس (کراچی، لاہور اور اسلام آباد) پر انٹرنیشنل پروازیں آسکیں گی ، بین الاقوامی پروازیں صرف اسلام آباد ، لاہور اور کراچی سے آپریٹ ہوں گی۔

    ظفر مرزا نے بتایا کہ ملک میں تمام بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے، ریاست کے لیے لوگوں کے تحفظ سے بڑھ کر کچھ نہیں، شادی ہالز میں تقریبات پر دو ہفتوں کیلئے پابندی لگائی گئی ہے، دو ہفتوں کیلئے سینما گھروں اور تھیٹرز کو بند کیا جارہا ہے۔

    ظفر مرزا نے بتایا کہ مذہبی اجتماعات سے متعلق مشاورت کی ذمہ داری وزیر مذہبی امور کو دی گئی ہے، ملک میں تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے کل سے بند کیے جارہے ہیں، ملک میں اسکول ابھی تین ہفتوں کے لیے بند کیے جارہے ہیں، کچہریوں اور کورٹس سے متعلق چیف جسٹس پاکستان سے رابطہ کررہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم درخواست کریں گے کہ سول کورٹس میں تاریخیں 3 ہفتوں کیلئے بڑھادی جائیں ، درخواست کریں گے کہ جوڈیشل مجسٹریٹس اور سیشن کورٹ کے ججز جیلوں میں جاکر ریمانڈ اور ضمانت کے فیصلے کریں، جیلوں میں قیدیوں کے ملاقاتیوں پر تین ہفتے کےلیے پابندی عائد کی گئی ہے۔

    یہ کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں کیسز کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی تھی جن میں سے گلگت بلتستان میں 3،کراچی سمیت سندھ میں 16، اسلام آباد میں 2 جب کہ کوئٹہ کا ایک کیس شامل تھا تاہم اب معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اچانک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 28 بتادی ہے۔کورونا وائرس کا ایک مریض کراچی سے سامنے آیا ہے جس کی عمر 52 سال بتائی گئی ہے اور وہ 2 روز قبل اسلام آباد سے کراچی پہنچا تھا۔

  • اکیلے ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، الگ ہوکر ہم گرجائیں گے’۔امیر ترین چینی کا امریکا کو 10 لاکھ ماسک اور 5 لاکھ ٹیسٹنگ کٹس دینے کا اعلان

    اکیلے ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، الگ ہوکر ہم گرجائیں گے’۔امیر ترین چینی کا امریکا کو 10 لاکھ ماسک اور 5 لاکھ ٹیسٹنگ کٹس دینے کا اعلان

    بیجنگ :اکیلے ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، الگ ہوکر ہم گرجائیں گے’۔امیر ترین چینی کا امریکا کو 10 لاکھ ماسک اور 5 لاکھ ٹیسٹنگ کٹس دینے کا اعلان،اطلاعات کےمطابق چین کے امیر ترین شخص اور ای کامرس کمپنی علی بابا کے ریٹائر چیئرمین جیک ما نے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا سامنا کرنے والے ملک امریکا کے لیے امداد فراہم کرنے کااعلان کیا ہے۔

    علی بابا کے شریک بانی نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے لیے 10 لاکھ میڈیکل ماسک اور 5 لاکھ کورونا وائرس ٹیسٹنگ کٹس فراہم کریں گے۔یہ ماسکس اور کٹس جیک ما فاﺅنڈیشن کے ذریعے فراہم کی جائیں گی جس کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں جیک ما کا باضابطہ بیان بھی جاری کیا گیا۔ٹوئٹ کے کیپشن میں کہا گیا ‘ہم 5 لاکھ ٹیسٹنگ کٹس اور 10 لاکھ ماسک عطیہ کررہے ہیں، ہم اس مشکل وقت میں امریکی شہریوں کے ساتھ ہیں’۔

    جیک ما کے بیان میں لکھا تھا ‘اپنے ملک کے تجربے کے پیش نظر میں کہا سکتا ہوں کہ برق رفتار اور درست ٹیسٹنگ، طبی عملے کے تحفظ کے لیے آلات اس وائرس کی روک تھام کے لیے سب سے موثر ہیں’۔انہوں نے بیان ان الفاظ پر ختم کیا ‘اکیلے ہم کھڑے رہ سکتے ہیں، الگ ہوکر ہم گرجائیں گے’۔

    ان کا کہنا تھا ‘توقع ہے کہ ان سپلائیز سے امریکا میں کچھ لوگوں کو مدد مل سکے گی،یہ بڑی وبا انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے، آج یہ ایسا چیلنج نہیں جو سے کوئی ملک اکیلا نمٹ سکے، بلکہ ہر ایک کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس وقت ہمیں اپنے وسائل بغیر کسی قیاس کے شیئر کرنے چاہیے اور وبا کی روک تھام کے تجربے اور اسباق کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ اس سانحے کو شکست دینے کا موقع مل سکے’۔

  • کرونا کی تباہ کاریاں ، امریکہ بھی بے بس ، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا

    کرونا کی تباہ کاریاں ، امریکہ بھی بے بس ، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا

    واشنگٹن :کرونا کی تباہ کاریاں ، امریکہ بھی بے بس ، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کردیا ،باغی ٹی وی کےمطابق سپرپاورامریکہ بھی کرونا وائرس کی تباہ کاریوں‌سے خائف اوراسی وجہ سے پورے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے

    دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق اس حوالے سے ہنگامی حالات سے نبٹنے کا ایک خصوصی ایکٹ لاگوکردیا گیا ہے، ذرائع کےمطابق اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد بہت بڑی رقم کرونا وائرس سے بنٹنے کےلیے خرچ کی جائے گی ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وفاقی ادارہ The Federal Emergency Management Agency کی طرف سے ایمرجنسی کے اطلاق پرکام شروع ہوگیا ہے

    یاد رہےکہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اسی ایکٹ کوریاست کیلی فورنیا میں نافذ کرچکے ہیں ، اس کے بعد دیگرریاستوں میں اس کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہےکہ ویسے توحکومت کی طرف سے یہ کہا جارہا ہےکہ ملک میں پہلے نزلے زکام اورفلو کے 1700سے زائد کیس رپورٹ ہوچکے ہیں

    یہ بھی بتایا جارہا ہےکہ اسی نزلے زکام کی وجہ سے 41 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں، لیکن امریکی حکام اسے کرونا وائرس نہیں قرار دے رہے ، تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہےکہ امریکہ حقائق چھپا رہاہے