Baaghi TV

Author: +9251

  • عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا لازوال کردار……. تحریر: یاسمین میر

    بھارت کو کشمیر میں خونی پنجے گاڑے ستر برس بیت گئے مگر سلام ہو ان بہادر ونڈر کشمیری مردوزن پر کہ نہتے ہو کر بھی دشمن کے دانت کٹھے کر رہے ہیں۔

    1989 سے آج تک لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وطن کی آزادی کے لیے کشمیر ی اب بھی کٹ مرنے کو تیار ہیں۔ کشمیر کی مائیں اپنے بیٹوں میںبے جگری سے جینے اور شوق شہادت کا یہ جذبہ نسل درنسل منتقل کرتی چلی آرہی ہیں۔

    تحریک کے روز اول سے ہی کشمیری خواتین اپنے بیٹوں ‘ بھائیوں اور شوہروں کو وطن پر قربان کرنے کیلئے ہر لمحہ تیارر ہتی ہیں ۔ عملی طورپر دیکھیں تو عسکری تحریک میں کشمیری خواتین کا کردار نہیں ملتا لیکن کشمیر مومنٹ کے تیز ہونے کے بعد 1989 میں کشمیری خواتین نے تنظیم سازی کرنے لگیں تو ساتھ ہی حریت تحریکوں کے خواتین ونگ بھی بننا شروع ہو گئے۔

    اس وقت سے آسیہ اندرابی ’ دختران ملت،زمردہ حبیب تحریک خواتین، یاسمین راجہ مسلم خواتین مرکز، فریدہ بہن جی ماس مومنٹ جموں وکشمیر اور پروینہ آہنگر اے پی ڈی چلا رہی ہیں۔

    ان خواتین کے تنظیموں میں سینکڑوں خواتین ممبرز بھی موجود ہیں جو نہ صرف عام کشمیری کو آزادی کی اہمیت سے آگاہ کرتی ہیں۔ بلکہ 90 کے دہائی میں جب درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے خواتین کی عزتیں پامال کرنا شروع کیں تو آسیہ اندرابی نے آگاہی مہم کے دوران خواتین کو اپنے پاس چاقو رکھنے اور دفاع کے طورپر اس کو استعمال کرنے کے طریقے بھی سیکھائے ۔

    یہی نہیں تحریک کے آغاز سے اب تک کشمیری خواتین مجاہدین کو پناہ دینے ان تک کھانا پہنچانے اور انہیں سیکورٹی فورسز سے بچانے میں بھی پیش پیش رہی ہیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد تو ہم مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے بڑے احتجاجی مظاہرے دیکھ رہے ہیں ۔

    لیکن پہلا آرگنائز احتجاجی مظاہرہ 1990 میں دختران ملت کی کال پر ہوا اور اس وقت خواتین نے مسجد میں جاکر نعرہ لگائے۔ اب وادی میں وہ دور لوٹ آیا ہے جب کشمیری خواتین کا اپنے رشتہ داروں کی تلاش اور کیسیز کی پیروی کے لیے دہلی کی عدالتوں اور تہاڑ جیل کے چکر لگانا معمول بن چکا ہے ۔

    پاکستانی قوم بھی کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بے خبر نہیں، تحریک آزادی کے ستر سالوں کے اعصاب شکن مراحل سے گزر کرگزشتہ دو سو دنوں میں آزادی کی جد جہد میں عورتوں کی بھرپور شمولیت آنے والی صبح نو کے لیے امید کا پیغام دے رہی ہے۔ جہدوجد آزادی میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔

    مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں خواتین کے سرگرم کردار اور زمینی حقائق کے متعلق دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کہتی ہیں کہ میں کئی بار جیل گئی انڈر گر اؤنڈ رہی حتی کہ حال ہی میں برہان وانی کی شہادت کے بعد تین مہینے کے لیے جیل میں رکھا گیا اور اس وقت بھی ہاؤس اریسٹ ہوں ۔ مگر آخری دم تک کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھوں گی۔

    چوبیس سال سے میرے شوہر جیل میں ہیں۔ لاکھوں کشمیری خواتین ایسی ہیں جن کے شوہر کئی سالوں سے لاپتہ ہیں اور تاریخ میں پہلی بار کشمیری خواتین کے لیے (آدھی بیوہ )کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت کچھ بھی کر لے ہمارے اٹل ایمان کو شکست نہیں دے سکتا۔

    چیئرپرسن جموں کشمیر ماس موومنٹ فریدبہن جی کہتی ہیں کہ میرے بھائی بلال پر پاکستان سے وابستگی کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعدازاں دہلی دھماکوں کے بعد بھارتی فوجیوں نے نہ صرف مجھے گرفتار کیا بلکہ پانچ سال کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا اور 2001ء میں جیل سے رہا ہوئی تو بھارت کی جیلوں میں قید کشمیری قیدیوں کی قانونی مددکا بیڑہ اٹھایا۔ زمردہ حبیب تحریک خواتین کشمیر کی چیئرپرسن ہیں ۔

    وہ 1992ء سے آزادی کی تحریک میں متحرک ہیں اور اسی پاداش میں 5 سال کے لیے تہاڑ جیل بھی کاٹ چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کے قربانیاں گواہ ہیں کہ کشمیری عورت کو ڈرایا یا دھمکایا نہیں جاسکتا۔ مسلم خواتین مرکز کی چیئرپرسن یاسمین راجہ جو غلام نبی بٹ کی بیٹی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بچپن سے ہی پاکستان کی نغمے گاتی تھی۔

    ایک مرتبہ پاکستانی قومی ترانہ پڑھنے پر مجھے سکول سے نکال دیا گیا۔ مگر میری پاکستان کے ساتھ لگن کم نہیں ہوئی۔ اس دوران کئی بار جیل گئی ہوں اور رہا ہوئی ہوں۔ تحریک آزادی کشمیر کی ان چند نمایاں خواتین کے علاوہ دیگرکشمیری خواتین کا بھی آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار رہا ہے۔

    اسلام اور آزادی کی اس شمع کو جلا رکھنے کے لیے برہان وانی کی شہادت کے بعد سے چلنے والی تیز ترین عوامی جدوجہدکو دبانے کے لیے بھارت کے ظلم وستم سے جہاں سو کشمیری شہید ہو ئے ان میںخواتین بھی شامل ہیں

    گزشتہ چھ ماہ میں یاسمین رحمان‘ سعیدہ بیگم ‘ نیلوفر‘ یاں اور فوزیہ صدیق سمیت کئی خواتین نے جام شہادت نوش کیا۔ وہیں خواتین کے پرامن ریلیوں ‘ جلسوں ‘ اور حتی کہ گھروں میں گرنے والے آنسووں گیس کے گولوں ‘ پیلٹ گن کے چھروں سے انشاء مقبول ‘ عرفی جان‘ شیروزہ میر‘ افراء جان‘ شیروزہ شکور کو آنکھوں کی روشنی سے ہاتھ دھونا پڑا۔

    یہی نہیں اس وقت ہزاروں کشمیری مائیں غربت کے باعث بچوں کی آنکھوں کا علاج نہیں کروا پا رہی ہیں ۔ جو پیلٹ گن کے چھرو ںسے متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اخبار کی رپورٹ کے مطابق 9 جولائی 2016ء سے 31 دسمبر 2016ء تک 1008 نوجوان پیلٹ گنوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہوئے ۔ ان میں سے سو سے زائد کے والدین نے غربت کے باعث ان کی آنکھوں کا علاج ادھورا چھوڑ دیا ۔

    اعدادو شمار کے آئینے میں دیکھیں تو کشمیر میڈیا سروسز کے مطابق 1989ء سے 31 دسمبر 2016 ء تک کشمیر میں بیوہ خواتین کی تعداد 22,835 ہے۔ جبکہ 10,825 خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات پیش آچکے ہیں اور شہادتوں کے نتیجے میں 107,603بچے یتیم ہو چکے ہیں۔یہ شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تحریک آزادی میں سرگرم کشمیری خواتین مالی پریشانی کے باوجودفلسطینی بہنوں کی طرح ہمت و حوصلہ کی مثال قائم کئے ہوئے ہیں۔

    کشمیر کی مظلوم عورتیں اسلام کے علمبردار خواب غفلت میں
    تحریر: یاسمین میر

  • کورونا قرنطینہ: بلوچستان کا دیگر صوبوں کے زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار

    کورونا قرنطینہ: بلوچستان کا دیگر صوبوں کے زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار

    کوئٹہ:کورونا قرنطینہ: بلوچستان کا دیگر صوبوں کے زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار کر دیا ہے

    اطلاعات کے مطابق بلوچستان حکومت نے ایران سے آنے والے دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے زائرین کو تفتان میں رکھنے سے انکار کردیا۔

    بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ ایران سے تفتان کے راستے ملک میں داخل ہونے والے ان زائرین کو جن کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہوگا انہیں بحفاظت متعلقہ صوبے کی سرحد تک پہنچا کر اس صوبے کی انتظامیہ کے حوالے کردیا جائے گا۔ متعلقہ صوبے ان زائرین کا ٹیسٹ اور قرنطینہ میں رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔

    اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا

    اجلاس میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے جامع طور پر عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحٹ سرکاری اور نجی اداروں، ہوٹلوں، اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو بھی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کا پابند کیا جائے گا اور ان اداروں میں باقاعدگی کے ساتھ ڈس انفیکشن سپرے کیا جائے گا۔

    تمام صوبائی اداروں میں بائیو میٹرک حاضری ایک ماہ کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    اجلاس میں کوئٹہ، گوادر اور تربت ائیرپورٹ پر محکمہ صحت کے اہلکاروں کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا گیا

  • کورونا وائرس کی تباہ کاریاں‌ : ایران کو 60 سال بعد IMF سے قرض مانگنے پرمجبورکردیا

    کورونا وائرس کی تباہ کاریاں‌ : ایران کو 60 سال بعد IMF سے قرض مانگنے پرمجبورکردیا

    تہران :کورونا وائرس کی تباہ کاریاں‌ : ایران کو 60 سال بعد IMF سے قرض مانگ لیا،اطلاعات کےمطابق ایران نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 1962 کے بعد پہلی مرتبہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی معاونت کے لیے رجوع کرلیا ہے۔

    ایران میں کورونا وائرس سے مزید 75 اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 429 تک پہنچ گئی ہے جب کہ کورونا کے ایک ہزار مزید نئے کیسز آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی کل تعداد 10 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔خیال رہے کہ چین میں 3 ہزار 169 اور اٹلی میں 827 ہلاکتوں کے بعد ایران میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    کورونا وائرس کے باعث ایرانی رکن پارلیمنٹ فاطمی رہبر بھی ہلاک ہو چکی ہیں جب کہ ایران کی نائب صدر برائے خواتین سمیت متعدد اراکین پارلیمنٹ میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    معیشت کے حوالے سے امریکا کے معروف نشریاتی ادارے بلوم برگ کے مطابق 1960 کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایران نے مالی امداد کے لیے آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے۔ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ عبدالنصر حماتی کے مطابق ایران نے آئی ایم ایف کے ریپڈ فناسنگ ڈیپارٹمنٹ انسٹرومنٹ سے 5 ارب ڈالر فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

    عبدالنصر حماتی کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ممبر ممالک کو وبا سے نمٹنے کے لیے 50 ارب ڈالر دستیاب ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ایران پر اس وقت آئی ایم ایف کے کوئی بقایا جات نہیں ہیں۔’ امید ہے آئی ایم ایف ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا’

    ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ امید ہے کہ آئی ایم ایف ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا اور تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑے ہوتے ہوئے ہماری درخواست پر جلد عمل کرے گا۔خیال رہے کہ ایران پر امریکا اور عالمی اداروں کی جانب سے سخت معاشی پابندیاں عائد ہیں۔

  • کپتان نے زمینداروں کوبھی خوش کردیا ، گندم خریداری کی سرکاری قیمت 1400 روپے فی مَن مقرر

    کپتان نے زمینداروں کوبھی خوش کردیا ، گندم خریداری کی سرکاری قیمت 1400 روپے فی مَن مقرر

    اسلام آباد:کپتان نے زمینداروں کوبھی خوش کردیا ، گندم خریداری کی سرکاری قیمت 1400 روپے فی مَن مقررکردی ہے ،اطلاعات کےمطابق اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس میں اس بات کا فیصلہ ہوا

    ذرائع کے مطابق ای سی سی نے اجلاس کے دوران گندم کی امدادی قیمت 1365 روپے سے بڑھا کر1400 روپے فی40 کلو گرام کرنے کی منظوری دی ہے۔نئی قیمت کے تحت حکومت کسانوں سے فی من گندم 14 سو روپے میں خریدے گی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت میں اضافے کے آٹے کی قیمت پر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔اس اجلاس میں زمینداروں سے گندم کی وصولی کےبارے میں بھی اہم تجاویزدی گئیں ، یہ بھی کہا گیا ہےکہ زمینداروں کوحکومت کی طرف سے بھرپورریلیف بھی دیا جائے گا

  • کورونا وائرس؛ پی ایس ایل کے دیگر میچز بغیر شائقین کروانے کا اعلان،سب حیران،بدل گیا جہان

    کورونا وائرس؛ پی ایس ایل کے دیگر میچز بغیر شائقین کروانے کا اعلان،سب حیران،بدل گیا جہان

    کراچی: کورونا وائرس؛ پی ایس ایل کے دیگر میچز بغیر شائقین کروانے کا اعلان،سب حیران،بدل گیا جہان ،اطلاعات کےمطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی وجہ سے کراچی میں شیڈول پاکستان سپر لیگ کے دیگر میچز بغیر شائقین کروانے کا اعلان کردیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں شیڈول پاکستان سپر لیگ کے دیگر میچز کے حوالے سے اہم فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کراچی میں پی ایس ایل کے میچز کروارہے ہیں لیکن اس سے زیادہ مزید رسک نہیں لے سکتے اور صرف آج کے میچ میں شائقین موجود ہیں کل سے تمام میچز بند اسٹیڈیم میں ہوں گے، کل اور دیگر میچز میں شائقین نہیں ہوں گے۔

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو پاکستان کرکٹ بورڈ سے بات کرکے فیصلہ پر عمل کروانے کی ہدایت کردی، کمشنر کراچی نے پی سی بی کو فون کرکے وزیر اعلیٰ سندھ کے فیصلے سے آگاہ کردیا۔

    واضح رہے پاکستان سپر لیگ کے پانچویں ایڈیشن میں سنسنی خیز مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے اور جوں جوں لیگ اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہے ویسے ہی شائقین کی دلچسپی بھی لیگ میں بڑھتی جارہی ہے، یہی وجہ ہے کہ لاہور ، ملتان اور اسلام آباد کے گزشتہ میچز میں ہمیں گراؤنڈ شائقین سے کھچا کھچ بھرا ہوا دکھائی دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے فیصلے سے نہ صرف شائقین کرکٹ مایوس ہوں گے بلکہ پاکستان سپر لیگ کے دلچسپی میں بھی کمی دیکھنے میں آئے گی یہی نہیں بین الاقوامی و قومی کرکٹرز کو بھی خالیوں کرسیوں کے سامنے کھیلنے کا لطف نہیں آئے گا جب کہ اس فیصلے سے پہلی بار اپنے ملک میں ہونے والی پاکستان سپر لیگ کا اختتام انتہائی مایوس کن ثابت ہوسکتا ہے۔

  • میرشکیل الرحمن کی گرفتاری پر، خاص لوگ حمایت میں نکل آئے ،کرپشن کی نہیں نیب کی مذمت کردی

    میرشکیل الرحمن کی گرفتاری پر، خاص لوگ حمایت میں نکل آئے ،کرپشن کی نہیں نیب کی مذمت کردی

    لاہور:میرشکیل الرحمن کی گرفتاری پر، خاص لوگ حمایت میں نکل آئے،کرپشن کی نہیں نیب کی مذمت،اطلاعات کےمطابق پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت اوردیگرفوج مخالف قوتوں نے جنگ اور جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہاتھوں 34 سال پرانے ایک پرائیویٹ پراپرٹی کیس میں گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے۔

    قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، جسے فاشسٹ حکمران گرانے کے درپے ہیں، میرشکیل الرحمان کی گرفتاری سے انتقام کی بو آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کو 18 ماہ سے دبایا جارہاہے، زوال پذیر حکومت کاآخری حملہ میڈیا اور سیاسی مخالفین پر ہوتا ہے۔

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ ہے، 34 سال پرانے کیس میں گرفتاری افسوسناک ہے۔رہنما مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری بہت افسوس کی بات ہے، پتہ نہیں حکومت کو کس بات کی فکر ہے کہ کون سا سچ نکل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کو زنجیروں میں جکڑا جارہا ہے، میر شکیل الرحمان کی گرفتاری سے سچ نہیں رکے گا۔

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلےدن سےنیب کےانتقامی رویےکی نشاندہی کررہے ہیں،عمران خان نیب کواستعمال کرکے ناپسندیدہ افراد کو نشانہ بنا رہےہیں۔انہوں نے کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ ہے، عمران خان دھونس،دھمکی سےاظہار رائےکی آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔

    کے ترجمان اور مشیر قانون ، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے بھی میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیب حکمرانوں کا انتقامی آلا بن چکا ہے، بغیر عدالتی آرڈر کے گرفتاری سمجھ سے بالا تر ہے۔

  • دو ٹکے کے چینل جیو کے مالک کو کرپشن کیسز پر نیب نے گرفتار کرلیا،خلیل الرحمن قمر

    دو ٹکے کے چینل جیو کے مالک کو کرپشن کیسز پر نیب نے گرفتار کرلیا،خلیل الرحمن قمر

    کراچی :دو ٹکے کے چینل جیو کے مالک کو کرپشن کیسز پر نیب نے گرفتا کرلیا،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں مشہورڈرامہ سیریل "میرے پاس تم ہو” کے مصنف اورپچھلے دنوں عورت مارچ کے حوالے سے مقبول ہونے والے خلیل الرحمن قمر نے جیو جنگ کے مالک میر شکیل الرحمن کی گرفتاری پربہت خوبصورت تبصرہ کیا ہے

     

    https://twitter.com/KrqOfficiaI/status/1238095837089140737?s=08

    خلیل الرحمن قمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں کہا ہےکہ میرشکیل الرحمن بڑے عرصے سے پاکستان کے خلاف زہراگلنے پرلگا ہوا تھا،معصوم لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا، پاکستان کے نقشے سے کشمیر کو ہٹانا، شہدا کو ہلاک کہنا اور پاکستان دشمنوں کو اپنے پروگرامز میں مدعو کرکے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف زہر اگلنا اس چینل کا وتیرہ رہا ہے

    یاد رہےکہ آج نیب نے میر شکیل الرحمن کوکرپشن کیس پرایسے شخص کوگرفتارکیا ہے جس کے بارے میں گفتگوکرنا توہین تصورکیا جاتا ہے ، یہ بات بھی یاد رہے کہ میر شکیل الرحمن کوسابق وزیراعظم نوازشریف نے بہت زیادہ نوازا تھا اوراس کےبدلے میں میڈیا کواپنے فائدے کے لیے استعمال کیا تھا اوراب بھی کررہےہیں

  • پی ایس ایل: کراچی کنگز کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    لاہور: کراچی کنگز کا ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے اہم میچ میں کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کے خلاف ٹاس جیت فیلڈنگ کا فیصلہ کیا ہے۔

    ٹاس کے بعد کراچی کے کپتان عماد وسیم نے کہا کہ ٹیم میں 3 تبدیلیاں کی گئی ہیں اور عمر خان، عامر یامین اور کیمرون ڈلپورٹ کو ٹیم سے باہر کیا گیا ہے جبکہ ارشد اقبال، عمید آصف اور اسامہ میر کراچی کی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں۔

    لاہور کے کپتان سہیل اختر نے کہا کہ ہم بھی اگر ٹاس جیت جاتے تو پہلے فیلڈنگ کرتے۔

    لاہور قلندرز نے اپنے گزشتہ چاروں میچز میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور نے کامیابی حاصل کی تھی۔

    لاہور قلندرز اپنے 8 میچز میں سے 4 میں کامیابی کے بعد 8 پوائنٹس کے ساتھ اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود ہے، جبکہ کراچی 7 میچ کھیل کر 7 پوائنٹس کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

  • کھاریاں: سوشل میڈیا پر فائرنگ کی ویڈیو اپلوڈ کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار

    گجرات (طارق محمود سے)جی ٹی روڈ کھاریاں پر ہلڑ بازی اور ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے ویڈیوسوشل میڈیا پراپلوڈ کرنے والے گروپ کا سرغنہ اسلحہ سمیت گرفتار۔ تفصیلات کے مطابق گجرات میں چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی،جس میں کچھ طلباء مین شاہراہ پر ہلڑبازی اور ہوائی فائرنگ کر رہے تھے۔جس پر ڈی پی او گجرات سید توصیف حیدر نے ضلع بھر کے ایس ایچ او ز کو ایسے عناصر جو کہ طلباء یونین اور گروپس کی آڑ میں پر تشدد کاروائیوں اور ہلڑ بازی کے ذریعے عوام الناس کے لئے پریشانی کا باعث بنتے ہیں جبکہ معصوم طلباء کوورغلا کر گروپ بندی میں ملوث کر کے انکا مستقبل تباہ کرتے ہیں، انکے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائیں۔اس سلسلہ میں ایس ایچ او تھانہ صدر کھاریاں SIمجاہد عباس نے اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری کاروائی کرتے ہوئے GTروڈ پر ہوائی فائرنگ اور ہلڑبازی کرنے والے گروپ کے لیڈر حق نواز ولد رب نواز سکنہ کھاریاں کینٹ کو ٹریس کر کے اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا۔دوران انٹیروگیشن ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے” پنجتنی پچانوے سرکار” کے نام سے ایک سٹوڈینٹ تنظیم بنا رکھی ہے اور ہلڑبازی وغیرہ میں ملوث ہے۔ ڈی پی او گجرات توصیف حیدر کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ ایک سنگین جرم ہے جو کہ قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔ایسے عناصرکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • دہلی فسادات میں زندہ بچ جانےوالے ایک مسلمان محمد زبیرکی المناک داستان،دردناک کہانی

    دہلی فسادات میں زندہ بچ جانےوالے ایک مسلمان محمد زبیرکی المناک داستان،دردناک کہانی

    لاہور :دہلی فسادات میں زندہ بچ جانےوالے ایک مسلمان محمد زبیرکی المناک داستان،دردناک کہانی ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والےمظاہروں میں ہجوم کے ہاتھوں بدترین تشدد کانشانہ بننے والےمحمد زبیر نے بی بی سی پرایک انٹرویومیں اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔

    رائٹرز نے دلی فسادات کے موقع پر ایک تصویر شئیر کی تھی، جس میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم کے ہاتھوں مسلمان شہری کو بے دردی سے مارا پیٹا جارہا ہے، اس تصویر نے ساری دنیا میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کی قلعی کھول دی ۔

    فروری میں دہلی میں ہونے والے فسادات میں محمد زبیراس حملے میں زندہ بچ گئے تھے۔ ہوش کھو جانے کے بعد انہیں مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ انہیں شدید چوٹیں آئیں اور انہوں نے ہسپتال میں کئی دن گزارے۔
    بی بی سی سے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے زبیر کا کہنا تھا کہ ” جس نے بھی مجھے دیکھا اس نے نہیں سوچا تھا کہ میں زندہ ہوں گا ” ۔

    حملے کے بارے میں انہیں کیا یاد ہے ، اور ان کے ساتھ کیا ہوا ؟ یہ تو انہوں نے بتا دیا مگراس حادثے کے باوجود انسانیت پر ان کا اعتماد ابھی بھی قائم ہے ۔

    "اس ہجوم میں ہزاروں افراد تھے جو راڈ ،ڈنڈے بھالے لے کر مجھ پر حملہ آور تھے اورجس کے ہاتھ میں جو تھا اس نے مجھے اسی سے پیٹا ۔ مجھے اس قدر مار پڑی کہ میں ہوش کھو بیٹھا اوروہ لوگ مجھے مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے” ۔

    محمد زبیر پراس وقت حملہ ہوا جب 23 فروری کی شام وہ مسجد سے گھر واپس جارہے تھے ۔

    ” گھر میں سب میرا انتظار کر رہے تھے کیونکہ میں انہیں یہ کہہ کرنکلا تھا کہ واپسی پر کھانے کےلئے کچھ میٹھا لیتا آؤں گا۔ میں نے سامان لیا اور جیسے ہی گھر کے قریب پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ مسلمانوں اورہندؤں کے درمیان فساد کا آغاز ہوچکا ہے ۔ میں اپنی راہ ہولیا ۔۔۔ لیکن اچا نک سے انتہا پسندوں کے اس ٹولے نے مجھے گھیر لیا اور مارنا شروع کردیا یہاں تک میں لہو لہان ہوگیا ، تشدد سے میں بے ہوش ہوگر زمین پر گرگیا ۔”

    محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ہجوم میں موجود افراد ‘ جے شری رام اور مسلمانوں کو مارو ‘ کے نعرے لگا رہے تھے ۔فساد کے ختم ہوجانے پر انہیں چند لوگوں نےہسپتال پہنچا دیا ۔

    ” میں ہسپتال میں تھا اور میری ماں 4 دن تک مجھ سے ملنے کےلئے تڑپتی رہی لیکن میری حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی ۔ سوشل میڈیا پر جس کسی نے بھی میری تصویر دیکھی اسے یقین تھا کہ میں زندہ نہیں بچا ہوں گا ! ”
    محمد زبیر کا کہنا ہے کہ جب ان پر تشدد کیا جارہا تھا تووہ بالکل بے خوف تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ تکلیف عارضی ہے ” وہ صرف اور صرف میرے جسم کو نقصان پہنچا رہے ہیں "۔

    زبیر کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کو کسی مذہب سے نہیں جوڑتے، کیونکہ ایسی درندگی کے مظاہرے کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا خواہ وہ اسلام ہو یا ہندوازم ۔۔۔ وہ ایسا کرنے والے کو انسان بھی نہیں سمجھتے ۔۔!