Baaghi TV

Author: +9251

  • کراچی سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد تعداد 26 ہو گئی،30 شدید زخمی

    کراچی سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد تعداد 26 ہو گئی،30 شدید زخمی

    کراچی:کراچی: گولیمار سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد تعداد 26 ہو گئی،30 شدید زخمی ،اطلاعات کےمطابق گولیمار میں منہدم ہونے والی رہائشی عمارتوں کے ملبے سے ماں اور بچے سمیت مزید 6 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہو گئی ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ملبے سے مزید 4 لاشیں نکال لی گئی ہیں جس میں ایک ماں اور بچے کی لاش بھی شامل ہے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق گرنے والی عمارت 6 منزلہ تھی، پانی کا ٹینک بہت بڑا تھا جسے بہت احتیاط سے توڑا گیا۔ تاہم ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے خدشے کے پیش نظر ریسکیو آپریشن جاری ہے اور آج رات تک دبے افراد کو نکالنے کا آپریشن مکمل کر لیا جائے گا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران ملنے والا کیش اور قیمتی سامان واپس کردیا گیا ہے جس میں پرائز بانڈ بھی شامل ہیں۔وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ کہتے ہیں عمارت گرنے کی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ واقعے کے ذمے دار ایس بی سی اے کے افسران کو معطل کیا گیا ہے، تحقیقات کے بعد مزید ذمہ داروں کے خلاف بھی کارروائی بھی ہو گی۔

    رپورٹ کے مطابق 40 گز کے پلاٹ پر بنی پانچ منزلہ عمارت پر اس کا مالک چھٹی منزل بھی بنا رہا تھا کہ پوری عمارت گر گئی جس کی زد میں دیگر دو عمارتیں بھی آگئیں۔قریب موجود چوتھی عمارت کو بھی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔ پاک فوج کے جوان اور دیگر ادارے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں جب کہ تنگ گلیوں کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    یاد رہے کہ 5 مارچ کو رضویہ سوسائٹی کے قریب گولیمار نمبر 2 میں تین رہائشی عمارتیں گر گئی تھیں ,ملبے تلے اب بھی کئی افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر ملبہ ہٹانے کا کام احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔

  • اب ہوگی چیکنگ روزانہ کی بنیاد پر

    ایس ایس پی ٹریفک نزیراحمدکرد صاحب کے ہدایات پرایس پی ٹریفک ملک محمدجاویدصاحب کی فینسی نمبرپلیٹ کالے شیشے والے گاڑیاں اورمنسٹر نمبرپلیٹس کے خلاف حالی چوک پہ چیکنگ جاری اوریہ چیکنگ روزانہ کی بنیادپرجاری رہے گی
    تمام گاڑی مالکان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں پہ قانون کے مطابق نمبرپلیٹس لگاٸیں اوراپنی گاڑیوں کے کالے پیپربھی اتاردیں اپنی گاڑیوں کے اصل دستاویزات اورڈراٸیونگ لاٸسنس ساتھ رکھیں تاکہ تکلیف سے بچ سکے۔

  • حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی عزت و حقوق کا ہمیں بہترین نمونہ پیش کیا، شہباز شریف

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی عزت و حقوق کا ہمیں بہترین نمونہ پیش کیا، شہباز شریف

    حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی عزت و حقوق کا ہمیں بہترین نمونہ پیش کیا، شہباز شریف

    باغی ٹی وی :پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے خواتین کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہاہے کہ خواتین کے بغیر زندگی نامکمل اور تصویر کائنات بے رنگ ہے .ماں، بہن، بیٹی، بیوی کی صورت میں خواتین کی موجودگی سے ہی انسانی رشتے ناطے وجود میں آتے ہیں.اللہ تعالی نے عورت کو ماں کی صورت اپنے تعارف کا ذریعہ بنایا ہے جس سے بڑا مقام، احترام، تعارف اور عزت اور نہیں ہوسکتی

    اسلام نے عورت کو بے پناہ عزت اور حقوق عطا کئے ہیں، ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ کر اللہ تعالی نے عورت کے مقام اور احترام کو واضح کردیا ہے۔ آقائے محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی عزت و احترام کا ہمیں بہترین نمونہ اور رہنمائی عطا فرمائی ہے

    امہات المومنین، حضرت فاطمہ الزہرا اور اہل بیت اطہار ہمارے لئے رہنمائی کی بہترین مثالیں ہیں ،خواتین نے تحریک پاکستان میں نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا.مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ خواتین کا کردار تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہے

    الحمداللہ آج ہماری خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں .دفاع سے تجارت، تعلیم وطب سے لے کر سائنس و ٹیکنالوجی اور صحافت تک ہر شعبے میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہی ہیں

    ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری نصف زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے.عورت کی تعلیم، اچھی صحت اور معاشی طور پر بااختیار ہونا کسی بھی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے

    عورت معاشرے کے رویوں، برتاؤ اور ہمارے اس سے سلوک کا آئینہ ہے، کوئی خامیاں نظر آتی ہیں تو ہمیں اپنی انفرادی واجتماعی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی.انتشاراور الزام تراشی سے بچا جائے، مہذب انداز میں مکالمہ، رائے کے اظہار اور علم و آگہی کے پرچار کی آزادی لازم ہے

    مقبوضہ کشمیر : دوہزارسے زائد خواتین شہید، 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    آج خواتین کا عالمی دن بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی

    نواز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے موثر اقدامات کئے.یقین دلاتے ہیں کہ اللہ تعالی نے دوبارہ موقع دیا تو خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی بہتری کے لیے تاریخی اقدامات کریں گے

  • بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کردی

    بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کردی

    بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے حکومت پر تنقید کردی

    باغی ٹی وی :پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواتین کے عالمی دن پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستانی خواتین اب عورتوں سے نفرت کرنے والوں کی دہونس دہمکیوں سے پیچھے ہٹنے والی نہیں: شہید محترمہ بینظیر بھٹو خواتین کے لیئے روشنی کا مینار ہے:شہید بی بی نے خواتین کے لئے راستے روشن کیئے تاکہ ان کی محنت اور جان پر فقط ان کا اختیار ہو،

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر خواتین اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہیں تو ہر پاکستانی خاتون بینظیر ہوگی:شدید مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی نے خواتین کے حقوق کے لئے جدوجہد کی.خواتین اور پسماندہ طبقات ہی پیپلز پارٹی کی اصل طاقت ہیں:

    خواتین و پسماندہ طبقات کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کی سازشیں کرنے والوں کے خلاف لڑیں گے: پاکستان کی عوام نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے حق میں ووٹ دیا: اسی وزیراعظم نے مردوں کے زیرتسلط نظامِ حکومت میں خواتین کے لئے راستے ہموار کیے.

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    مقبوضہ کشمیر : دوہزارسے زائد خواتین شہید، 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    آج خواتین کا عالمی دن بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی

    ان کا کہنا تھا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اس امر کو یقینی بنایا کہ وہ اپنے ساتھ دیگر تمام خواتین کی بھی آگے لائیں: پی پی پی حکومت نے خواتین کسانوں کو زمینیں دیں اور خواتین محنت کشوں کے لیئے یکساں اجرت کا قانون بنایا،آج، لیڈی ہیلتھ ورکرز ملک کے کونے کونے میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور قابل احترام زندگی گزار رہی ہیں

    سابق صدر آصف علی زرداری نے بی آئی ایس پی کا آغاز کرکے شہید محترمہ کے وژن کی تکمیل کی زرداری بی آئی ایس پی ایک بین الاقوامی سطح پر سراہا جانے والا پروگرام ہے.

    عمران خان کی حکومت نے بی آئی ایس پی کارڈز سے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصویر اور نام ہٹا دیابڑے منصب پر بیٹھے چھوٹے لوگ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو ختم نہیں کرسکیں گے.وہ اقدام جن کے نتیجے میں صنفی امتیاز پر قائم پدرانہ نظام اقتدار کی دیواروں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہر عورت اب جانتی ہے کہ وہ بھی بینظیر بن سکتی ہے. یونین کونسل کی سطح پر شروع کیے گئے پیپلز پاورٹی ریڈکشن پروگرام کے تحت 15 لاکھ خواتین مستفید ہوئیں: مذکورہ خواتین کو بلا سود قرضے فراہم کیئے گئے، جن سے انہوں نے اپنے چھوٹے موٹے کاروبار شروع کیئے.
    اپنے ملک کی ماؤں اور بیٹیوں کو یقین دلاتا ہوں، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند کی حیثیت سے ہمیشہ آپ کے حقوق کے لئے کھڑا رہوں گا:پیپلز پارٹی خواتین کو بااختیار بنانے اور مساوات کے لئے اٹھنے والے ہر قدم کی حمایت کرے گی.

  • اٹلی میں جنازے اور شادی کی تقریبات بھی موخر ، کرونا وائرس نے کربناک دہشت پھیلادی

    اٹلی میں جنازے اور شادی کی تقریبات بھی موخر ، کرونا وائرس نے کربناک دہشت پھیلادی

    اٹلی میں جنازے اور شادی کی تقریبات بھی موخر ، کرونا وائرس نے دہشت پھیلادی
    باغی ٹی وی :اٹلی میں کورونا وائرس نے زبردست دھشت پھیلا دی اٹلی کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اپریل کے آغاز تک کم سے کم 16 ملین افراد لمبرڈی اور 14 صوبوں میں لاک ڈاون کیے گئے ہیں.۔نئے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے ملک کی کوششوں کے تحت اٹلی جم ، تالاب ، میوزیم اور سکی ریزورٹس کو بند کردے گا۔نئے اقدامات کے تحت شادیوں اور جنازوں کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت میں بھی کرونا وائرس کا مشتبہ کیس سامنے آ گیا

    کرونا وائرس، چین سے طالب علم پاکستان پہنچا تو اسکے ساتھ کیا ہوا؟

    کرونا وائرس، مائیں رو رہی ہیں ،حکومت سو رہی ہے، مشاہد اللہ خان کی سینیٹ میں کڑی تنقید

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    اٹلی یورپ کا بدترین متاثر ملک ہے اور اس نے ہفتے کے روز وائرس کے انفیکشن میں زبردست اضافہ دیکھا ہے۔نئے اقدامات ، جو مالیاتی مرکز میلان اور سیاحوں کے ہاٹ سپاٹ وینس پر بھی لاگو ہوتے ہیں وہ 3 اپریل تک برقرار رہیں گے۔

    اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 230 ہوچکی ہے ، اہلکاروں نے 24 گھنٹوں میں 50 سے زیادہ ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔ ہفتے کے روز تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 1،200 سے زیادہ اضافے کے ساتھ 5،883 ہوگئی۔

    اتوار کے روز وزیر اعظم جوسیپی کونٹے نے کہا ، "ہم اپنے شہریوں کی صحت کی ضمانت دینا چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے کبھی کبھی چھوٹی اور کبھی بڑی بڑی قربانیوں کا اطلاق ہوگا۔لوگ لمبرڈی کے پورے شمالی علاقے میں داخل ہونے یا جانے سے قاصر ہیں ، ہنگامی رسائی کے سوا ، 10 ملین افراد کا گھر ہے۔ میلان اس خطے کا مرکزی شہر ہے۔

    اسی اقدامات کا اطلاق وینس ، پیرما اور موڈینا سمیت 14 صوبوں پر ہوتا ہے جس سے مجموعی طور پر 16 ملین افراد متاثر ہوتے ہیں۔وزیر اعظم کونٹے نے کہا کہ متاثرہ صوبوں میں مودینا ، پیرما ، پیینزا ، ریجیو ایمیلیا ، رمینی ، پیسارو اور اربینو ، ایلیسنڈریہ ، ایستی ، نوارا ، وربانوو کیسیو آسولا ، ورسییلی ، پڈو ، ٹریوسو اور وینس شامل ہیں۔اب تک صرف شمالی اٹلی میں 50،000 کے قریب افراد قرنطینہ اقدامات سے متاثر ہوئے تھے۔
    واضح رہے کہ سعودی عرب میں بھی کرونا وائرس کے 7 کیسز سامنے آ چکے ہیں،سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں ، وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے سات خلیجی ممالک کے باشندوں کی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں داخلے پر عارضی طور پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں ایران ، چین، اٹلی، کوریا، جاپان، سنگاپور اور قازقستان شامل ہیں

  • راؤ فرحان ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک

    راؤ فرحان ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک

    راؤ فرحان ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک

    باغی ٹی وی : راؤ فرحان کو ہزاروں سوگوران کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا .راؤ فرحان مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ بوریوالہ کے نائب صدر تھے۔ایک ماہ پہلے ایک پرتشدد طلبہ تنظیم کے غنڈوں نے فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیاتھا۔بوریوالہ مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے نائب صدر راؤ فرحان کو بوریوالہ شاہ زکریا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

    نماز جنازہ میں مرکزی صدر ایم ایس ایم چوہدری عرفان یوسف،مرکزی سیکرٹری جنرل ایم ایس ایم چوہدری ضلج انقلابی سیکرٹری،سوشل میڈیا ہیڈ ایم ایس ایم سیدفراز ہاشمی، عمران بھٹی صدر ایم ایس ایم جنوبی پنجاب، میر احسن منیر صدر ایم ایس ایم کشمیر و ناردرن زون،سابق مرکزی سیکرٹری جنرل رانا تجمل حسین سمیت ہزاروں کارکنان ایم ایس ایم اور اہل علاقہ نے شرکت کی۔نماز جنازہ کے موقع پر انتہائی رقت انگیز مناظر دیکھنے کو آئے،اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔شہید راؤ فرحان کو ان کی وصیت کے مطابق ایم ایس ایم کے پرچم میں دفن کر دیا گیا۔مرکزی صدر ایم ایس ایم چوہدری عرفان یوسف اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ راؤ فرحان کا خلا کبھی پورا نہیں ہوپائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ انشاء اللہ راؤ فرحان کا انصاف لے کر دم لیں گے۔

  • بھارت خواتین کیلئے غیر محفوظ، ہر 15 منٹ میں ایک ریپ

    بھارت خواتین کیلئے غیر محفوظ، ہر 15 منٹ میں ایک ریپ

    بھارت خواتین کیلئے غیر محفوظ، ہر 15 منٹ میں ایک زیادتی

    باغی ٹی وی رپورٹ: بھارت میں جرائم کے تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں یومیہ بنیادوں پر قتل کے اوسطا 80، جنسی زیادتی کے 91 اور اغوا کے 289واقعات پیش آتے ہیں۔جرائم کے اعدادو شمار یکجا کرنے والے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی)کی جنوری میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018میں اوسطا ہر روز 91 خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی گئی۔
    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں ہر 15منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔ بھارت بھر میں خواتین کے خلاف تشدد، زیادتی، تیزاب سے حملے اور ہراساں کرنے سمیت دیگر صنفی تفریق کے واقعات میں اضافہ ہو جبکہ 2017 میں 2016 سے زیادہ جرائم ریکارڈ کیے گئے تھے۔
    دو سال بعد جاری کی گئی رپورٹ کے یہ اعداد وشمار بھارت میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے تشویش ناک صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2012میں ایک بس میں پیرا میڈیکل طالبہ نربھیاکے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد ہزارہا افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے اورمجرموں کے لیے سخت قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیکن قانون سازی کے باوجود خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کا سلسلہ کم نہیں ہو رہا ہے۔
    این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق2018میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے33356 معاملات درج کرائے گئے۔ 2017 میں یہ تعداد32559تھی۔ جب کہ’خواتین کے خلاف جرائم’ کے مجموعی طور پر تین لاکھ 78ہزار 277معاملات درج کیے گئے۔ 2017 میں یہ تعداد تین لاکھ 59 ہزار 894 تھی۔

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    مقبوضہ کشمیر : دوہزارسے زائد خواتین شہید، 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    آج خواتین کا عالمی دن بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی

    افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ 2018میں قصورواروں کو سزا دینے کی شرح محض ستائیس فیصد رہی،2017میں یہ شرح بتیس فیصد سے زیادہ تھی۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس رپورٹ کے حوالے سے مغربی بنگال خواتین کمیشن کی سربراہ لینا گانگولی نے کہا، ”خواتین میں پہلے سے زیادہ بیداری آئی ہے۔ وہ اب پولیس کے پاس جاکر شکایات درج کرا رہی ہیں۔ لیکن پچھلے چند برسوں کے دوران سفاکیت کے واقعات کافی بڑھ گئے ہیں۔ اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ القمرآن لائن کے مطابق قتل کے بعدمقتول کو جلا دینے کے جو واقعات آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہو لیکن اب اس طرح کے واقعات جتنے عام ہوگئے ہیں، وہ تشویش ناک ہے۔ اب خواتین کے خلاف ہونے والی زیادتی کی نوعیت اور سفاکیت دونوں ہی بدل گئی ہے۔”
    نیشنل کرائم ریکارڈز بیوروکی رپورٹ کے مطابق قتل کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق 2018کے اعدادو شمار کے مطابق ملک میں ہر روز اوسطا تقریبا80 لوگوں کا قتل کیا گیا۔ سال 2017 میں قتل کے 28653واقعات جب کہ 2018میں 29017واقعات ریکارڈکیے گئے۔ یعنی قتل کے واقعات میں ایک اعشاریہ تین فیصد کا اضافہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق قتل کی سب سے بڑی وجہ ‘تنازعات’ رہی جب کہ ‘ذاتی دشمنی’ اور’مفادات’ بھی قتل کی دیگر دو اہم وجوہات رہیں۔ ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اغوا کے واقعات میں 2017کے مقابلے 2018میں 10.3فیصد کا اضافہ ہوا۔ 2017میں اغوا کے پچانوے ہزار 893واقعات جب کہ 2018میں ایک لاکھ پانچ ہزار 734 کیسزدرج کیے گئے۔2016میں اغوا کے اٹھاسی ہزار آٹھ واقعات درج کرائے گئے تھے۔ 2019میں بانوے ہزار137اغوا شدہ افراد کا پتہ لگالیا گیا لیکن ان میں سے 428مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔
    رپورٹ کے مطابق بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر 5 منٹ کسی نہ کسی خاتون کو اپنا شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح ہر ڈھائی دن بعد کسی نہ کسی خاتون پر تیزاب سے حملہ کردیا جاتا ہے جب کہ ہر 2 گھنٹے بعد کسی نہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی یا اجتماعی زیادتی کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ القمرآن لائن کے مطابق تشدد، بدسلوکی، ہراسانی اور زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین میں 6 سال کی بچیوں سمیت 60 سال تک کی خواتین شامل ہیں۔
    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریپ کا نشانہ بنائی گئی خواتین زیادہ تر جان پہچان والے افراد، رشتہ داروں، دوستوں اور مدد کرنے والے افراد کی جانب سے نشانہ بنتی ہیں، تشدد، بدسلوکی، ہراسانی اور ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین میں 6 سال کی بچیوں سمیت 60 سال تک کی خواتین شامل ہیں جب کہ زیادہ تر ریپ اورگینگ ریپ کا نشانہ بننے والی خواتین میں نوجوان 24 سے 29 سال کی لڑکیاں ہیں۔
    رپورٹ کے مطابق صرف سال 2017 میں ہی بھارت بھر میں 6 سال کی عمر کی 298 بچیوں کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا جبکہ گزشتہ سال 30 ہزار سے زائد خواتین کا ان افراد نے ریپ کیا جنہیں وہ جانتی تھیں اور ان پر اعتبار کرتی تھیں۔
    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور ہر طرح کے جنسی ہراسانی کے واقعات میں 97 فیصد ان کے رشتہ دار، دوست، محبت کرنے والے اور جان پہچان والے لوگ ملوث ہوتے ہیں۔

  • کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی

    کشمیری خواتین کے جنسی استحصال کو بھارتی فوج بطور ہتھیار استعمال کرنے لگی
    باغی ٹی وی رپورٹ : کشمیر میں خواتین کے جنسی استحصال کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ ان واقعات کو فوجی مقاصد یعنی سیاسی دہشت گردی ، آزادی کی آواز دبانے اور سٹیٹس کو کے خلاف مزاحمت کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے- گزشتہ سات دہائیوں سے کشمیری خواتین اپنے وطن میں امن اور بنیادی حقوق کے حصول کیلئے قربانیاں دے رہی ہیں –
    کشمیرکی مائیں اب بھی 1991 میں کشمیری خواتین سے ہونے والے اجتماعی زیادتی کے واقعات کا سوچتی ہیں تو خوف سے کانپ جاتی ہیں۔ کشمیر کی نوجوان لڑکیوں کو بھی ان دیکھی آفت کا سوچ کر ہول اٹھتے ہیں جو یہ سنتے سنتے بڑی ہوئی ہیں کہ آزادی کشمیر کی اگر جنگ ہوئی تو جانیں جائیں گی اور اموات کی گنتی ہو جائے گی مگر کتنی کشمیری عورتوں کی عزتیں پامال ہوں گی، قابض فوج کے ہاتھوں کتنوں کے جسم نوچے جائیں گے، ان دردوں کا شمار ممکن نہ ہوگا۔
    5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد یو پی سے بی جے پی کے رہنما وکرام سنگھ سائنی نے پارٹی کارکنوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ان کے وزیراعظم مودی نے کشمیر کے راستے کھول دیے، بھارتی جنتا اور خاص طور پر مسلمان لڑکوں کو خوش ہونا چاہیے کہ اب وہ گورے رنگ کی کشمیری لڑکیوں سے شادی رچا سکیں گے۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق ایسے ہی بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھتر نے ایک جلسے میں کہا کہ ہریانہ کی آبادی میں جنس کے تناسب کو برابر کرنے کے لیے کشمیر سے گوری لڑکیاں لے آئیں گے۔ ان کی اس بات پر جلسے کے شرکا نے ایک ٹھٹھا لگایا اور تالیاں بجائیں جیسے کشمیر کی لڑکیاں نہ ہوئیں ریوڑیاں ہیں جو جب میٹھا کھانے کا جی چاہا اٹھا لائیں گے۔
    شاید کسی کو بھارتی حکمران جماعت سمیت مذہبی شدت پسندوں کی اس سوچ پر حیرت ہو رہی ہو، شاید کسی کو یہ گمان ہو کہ یہ محض سیاسی بیانات ہیں، مگر کشمیر کی 70 سالہ سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کشمیری خواتین کے ساتھ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ کشمیری خواتین ہمیشہ سے نشانے پر رہی ہیں۔
    القمرآن لائن کے مطابق نوے کی دہائی میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے کہ پوری بارات کے سامنے نوبیاہتا دلہن کی عصمت دری کی گئی۔ یہ سب صدیوں پرانی تاریخ نہیں ابھی کوئی 30 سال پرانی باتیں ہیں جن کے متاثرہ خاندان اب بھی اس ناسور کو دل میں لیے بیٹھے ہیں۔
    بھارتی فوج کی جانب یہ عذر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ گھروں پر سرچ آپریشن اور گھریلو خواتین سے تفتیش اس لیے کی جاتی ہے کیونکہ وادی کے رہائشی کشمیری عسکریت پسندوں کو پناہ دیتے ہیں۔ تاہم گھروں پر ہونے والے یہ سرچ آپریشن صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کریک ڈاون نہیں، کشمیریوں کو نفسیاتی شکست دینے کا ایک حربہ رہا ہے۔
    متنا زعہ علاقوں میں خواتین پر سب سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں وہ مظالم کا شکار بنتی ہیں یہی صورتِ حال مقبوضہ کشمیر میں بھی ہے- ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر انسانی ظلم وجبر کی بدترین مثال ہے اوربالخصوص وہاں عورتوں کے حقوق کی صورتِ حال انتہائی دگرگوں ہے- کشمیر میں خواتین بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں جو یونیورسل ڈیکلیریشن آف ہیومن رائٹس (UDHR) اور خواتین کے حقوق کے عالمی بل یعنی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاس کئے گئے Convention on the elimination of all form of discrimnation against women (CEDAW)کے تحت دیئے گئے ہیں یہ بل عورتوں کو سیاسی ،معاشرتی ، ثقا فتی اور زندگی کے کسی بھی شعبہ میں بنیادی حقوق اور آزادی فراہم کرتا ہے- القمرآن لائن کے مطابق بد قسمتی سے عالمی قوانین کا کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر کوئی اثرنہیں ہے اور بھارتی حکومت کشمیر میں عوام بالخصوص خواتین کو اِن کے بنیادی حقوق فراہم نہیں کر رہی- یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومتیں عالمی مبصرین اور غیر ملکی صحافیوں کو جموں و کشمیر میں داخلہ کی اجازت نہیں دیتیں –
    کشمیر میں عورتوں کی عصمت دری بنا خوف و خطر کی جاتی ہے- بھارتی حکومت کے جبر، انتقامی کاروائی اور معاشرے میں بدنامی کے خوف کی وجہ سے بہت سے کیسز رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے- مزید برآں بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کردہ سیاہ قوانین قابض افواج کے جرائم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور اس سے کشمیریوں کے دکھ درد میں مزید اضافہ ہوا ہے –
    بیوہ خواتین اپنے مقتول شوہروں کا بوجھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں کیونکہ آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں ان کیلئے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے روزگار کمانا ناممکن بن گیا ہے – ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق یتیموں کو صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ کشمیر میں یہ حالات حادثاتی نہیں بلکہ انہیں فوجی مقاصد یعنی سیاسی دہشت گردی ، آزادی کی آواز دبانے اور سٹیٹس کو کے خلاف مزاحمت کچلنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ہاتھوں دوہزارسے زائد خواتین شہید،9فیصد جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے ہاتھوں دوہزارسے زائد خواتین شہید،9فیصد جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    مقبوضہ کشمیر : دوہزارسے زائد خواتین شہید، 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ، لرزہ خیز رپورٹ

    باغی ٹی وی : آٹھ مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک کو ختم کرنا ہے۔
    آٹھ مارچ 1907 میں نیو یارک میں لباس سازی کی فیکٹری میں کام کرنے والی سینکڑوں خواتین نے مردوں کے مساوی حقوق اور اپنے حالات بہتر کرنے کے لیے مظاہرہ کیاتھا۔پولیس نے سینکڑوں خواتین کو نہ صرف لاٹھیاں مار کر لہو لہان کیا بلکہ بہت سی خواتین کو جیلوں میں بھی بند کر دیا گیا۔ 1910 میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 17 سے زائد ممالک کی تقریبا ایک سو خواتین نے شرکت کی۔ کانفرنس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
    سب سے پہلے 1909 میں سوشلسٹ پارٹی آف امریکا نے عورتوں کا دن منانے کی قرارداد منظورکی۔ 1913 تک ہر سال فروری کے آخری اتوارکو عورتوں کا دن منایا جاتا تھا۔ پھر 1913 میں پہلی دفعہ روس میں خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔
    اس دن کے موقع پر ساؤتھ ایشین وائر نے اپنی جاری کردہ ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میںجنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے دوہزارسے زائد خواتین کو شہید کیا ۔جنوری 2001سے اب تک کم سے کم670سے زائد خواتین شہید ہوئیں۔1989ء سے اب تک 20ہزار کے قریب خواتین بیوہ ہوئیں۔
    1989 میں حریت پسندجدوجہد شروع ہونے کے بعد سے کشمیر میں خواتین کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ، تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، معذور اور قتل کیا گیا۔ کشمیری خواتین دنیا میں بدترین جنسی تشدد کا شکار ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 9فیصد کشمیری خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوئی ہیں۔
    کشمیری مزاحمتی رہنماوں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے سانحہ کنن پوش پورہ، اجتماعی عصمت دری اور سانحہ شوپیاں سمیت خواتین کے خلاف عصمت دری ، قتل اور انسانی حقوق کی پامالی کے دیگر واقعات کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیاہے ۔ فروری 1991 میں کپواڑہ کے کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں نے 100 سے زائد خواتین کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی جبکہ دو خواتین آسیہ اور نیلوفر کو مئی 2009 میں شوپیاں میں وردی میں بھارتی اہلکاروں نے اغوا کیا ، زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کے بعد قتل کردیا جبکہ2018میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں 9 سالہ بچی آصفہ کی بھارتی پولیس اور ایک ہندو پجاری نے اجتماعی عصمت دری کی تھی۔
    گھناونے فعل میں پاٹ پوجا کرنے والا بھی شامل تھا تو کم عمر لڑکے بھی۔ اس پر ہی بس نہیں ہوئی زیادتی کرنے والوں نے تو جو کیا سو کیا، بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماوں نے ملزمان کے حق میں جلسے بھی کئے۔
    ساؤتھ ایشین وائر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج خواتین کی عصمت دری کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ پورٹ کے مطابق زیادتی کے بیشتر واقعات محاصرے اور تلاشی کے آپریشنز کے دوران پیش آئے ۔ ایچ آر ڈبلیو کی ایک اوررپورٹ کے مطابق ، کشمیر میں سکیورٹی اہلکاروں نے عصمت دری کو انسداد بغاوت کے حربے کے طور پر استعمال کیا ہے۔القمرآن لائن کی ایک رپورٹ میں ایک اسکالر انجر سکجلس بائیک کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کشمیر میں عصمت دری کا انداز یہ ہے کہ جب فوجی سویلین رہائش گاہوں میں داخل ہوتے ہیں تو وہ عورتوں سے زیادتی سے قبل مردوں کو مار ڈالتے ہیں یا بے دخل کردیتے ہیں۔ ایک اور اسکالر شبھ متھور نے عصمت دری کو "کشمیر میں بھارتی فوجی حکمت عملی کا ایک لازمی عنصر” قرار دیا ہے۔
    فوجیوں کے کچھ انٹرویو زکے دوران اس سوال پرکہ انہوں نے مقامی کشمیری خواتین سے زیادتی کیوں کی ، کچھ نے جواب دیا کہ کشمیری خواتین خوبصورت ہیں۔ دوسروں نے کہا کہ یہ غیر فیملی اسٹیشن ہے۔ ایک سپاہی نے جواب دیا کہ اس نے بدلے میںایک کشمیری خاتون کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ "ان کے مردوں نے اس کی برادری کی خواتین کے ساتھ بالکل ایسا ہی سلوک کیا۔
    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ 8جولائی 2016کو کشمیری نوجوان برہان وانی کے قتل کے بعد سے سینکڑوں کشمیری نوجوان اور طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے گولیوں اورپیلٹ گنزکے استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے انشاء مشتاق اورافراء شکور سمیت کم سے کم 70بچے اور بچیاں بینائی کھو چکے ہیں جبکہ 18ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار اور 32سالہ نصرت جان کی بینائی جزوی طورپر متاثر ہوئی ۔
    آزادی پسند رہنمائوں آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت متعدد خواتین پر نظربند ہیں۔ جبکہ 3مارچ کو بھارتی تفتیشی ایجنسی، این آئی اے نے ایک نوجوان خاتون انشا طارق (26) کو پلوامہ حملہ کیس میں گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ۔جس پر حریت تنظیموں اور رہنماوں نے شدید احتجاج کیا۔
    ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کشمیریوں میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ جن کے عزیز اور رشتہ دار لاپتہ ہیں۔

  • کورونا وائرس کی تباہ کاریاں دنیا کے 102 ملکوں تک پہنچ گئیں

    کورونا وائرس کی تباہ کاریاں دنیا کے 102 ملکوں تک پہنچ گئیں

    کورونا وائرس کی تباہ کاریاں دنیا کے 102 ملکوں تک پہنچ گئیں

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس تیزی سے اپنی تباہی مچا رہا ہے .کورونا وائرس دنیا کے 102 ملکوں تک پھیل گیا اور موذی وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہزار 600 ہو گئی ہے۔

    چین میں اموات کی تعداد میں کافی حد تک کمی آئی ہے جب کہ یورپ اور امریکا میں ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    اٹلی میں اموات کی تعداد 233 ہو گئی ہے، 6 ہزار افراد بیمار ہیں جس کے سبب 11 صوبوں میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔پوپ فرانسس سینٹ پیٹرز بیسلیکا میں عوام سے براہ راست خطاب نہیں کریں گے بلکہ ان کا خطاب لائیو اسٹریم کیا جائے گا۔

    فرانس میں بھی اموات بڑھی ہیں اور تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے جب کہ اسپین میں یہ تعداد 10 ہو گئی ہے۔امریکا کی مختلف ریاستوں میں بھی اموات تیزی سے بڑھ رہی ہیں، یہ تعداد 19 ہو گئی ہے جب کہ 442 افراد بیمار ہیں۔ بڑی تعداد میں مریضوں کی تعداد منظر عام پر نیویارک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

    برطانیہ میں مزید 45 مریضوں کی تصدیق کر دی گئی ہے جب کہ بیماروں کی مجموعی تعداد 209 ہو گئی ہےمختلف ممالک میں بھی بیماروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔چین میں مزید 27 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں جب کہ 45 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اس کے برعکس جنوبی کوریا میں 2 افراد وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں اور 93 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    دنیا بھر میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 6 ہزار 203 ہو چکی ہے جب کہ 60 ہزار 190 افراد صحتیاب ہوئے ہیں.ادھر کورونا وائرس کا ایک اور کیس، پاکستان میں مجموعی تعداد 6 ہوگئی،اطلاعات کےمطابق کراچی میں کورونا وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے جس کے بعد پاکستان میں متاثرین کی مجموعی تعداد 6 ہوگئی۔دوسری جانب محکمہ صحت سندھ نے بھی کراچی میں کورونا وائرس کے نئے مریض کی تصدیق کی تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے متاثرہ شہری سے رابطے میں رہنے والے تمام افراد کے بھی ٹیسٹ کرنے کی ہدایت کردی۔رپورٹ کے مطابق کراچی میں سامنے آنے والے کورونا وائرس کے 69 سالہ متاثرہ شہری کا تعلق ضلع شرقی سے ہے۔مگر چین میں متاثرہ افراد کی تعداد میں بہت کمی آگئی ہے، تاہم دیگر ممالک میں یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے دسمبر 2019 میں پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب کئی ممالک تک پہنچ چکا ہے، ج