Baaghi TV

Author: +9251

  • ٹرین پٹری سے اتر گئی

    رحیم یارخان ولہار ریلوئےاسٹیشن کے قریب مال بردار ٹرین کی بوگی پٹڑیوں سے اتر گئی اپ ریلوئے ٹریک معطل ہوگیا مختلف مسافر ٹرینوں کو مختلف اسٹیشنز پر روک لیا گیا امدادی ٹرین روھڑی سے روانہ کردی گئی ٹریک کو جلدی ٹرینوں کے لئے بحال کردیا جائے گا ڈی ایس ریلوئے سکھر

  • دنیا بھر میں ایئر لائنز شدید مالی بحران کا شکار

    دنیا بھر میں ایئر لائنز شدید مالی بحران کا شکار

    دنیا بھر میں ایئر لائنز شدید مالی بحران کا شکار
    باغی ٹی وی :کورونا وائرس کے باعث دنیا کی ایئر لائنز کو رواں سال اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا کرناپرا ہے اور یہ خسارہ دن بدن بڑھ رہا ہے ۔ سنگا پور ایئر لائن نے اپنے ملازمین پر بھاری پے کٹ لگا دیا ہے . اسی طرح فلائی بے کے ہزاروں سٹاف ممبرز نئی ملازمتوں کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں. ہانگ کانگ ایئر لائن نے کھانا دینے کی سہولت ختم کردی .اسی طرح بہت سے ممالک کی جانب سے پروازوں میں کمی یا پابندیاں عائد کی گئی ہیں جس کی وجہ سے ایوی ایشن انڈسٹری کو نقصان کا سامنا ہے۔

    دنیا بھر میں خوف کی فضا پھیلانے والے مہلک ترین کرونا وائرس سے ایئرلائنز انڈسٹری پر بھی نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، صرف ایشیا پیسفک کی ایئرلائنز کے بزنس میں رواں سال 27 ارب 80 کروڑ ڈالر کی کمی کا سامنا ہوگا۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ مجموعی طور پر عالمی ایوی ایشن انڈسٹری کو 30 ارب ڈالر کا نقصان متوقع ہے، انڈسٹری کو نقصان چین کو جانے والی پروازوں کی منسوخی اور سامان کی ترسیل بند ہونے سے ہوا

    کورونا وائرس نے جہان دنیا بھر میں انسانوں کو متاثر کیا وہاں فلائٹ اور ہوائی سفر کو بھی بری طرح متاثر کیا . واضح رہےکہ چین سے شروع ہونے والے وائرس سے اب شائد ہی کوئی ملک بچا ہو .پاکستان بھی اس سے متاثر ہوا ہے. خیال کیا جا رہا ہے کہ ایران میں قُم شہر اس وائرس کے ملک بھر میں پھیلنے کا مرکز ہے۔ یہ شہر ایک اہم تجارتی مرکز شمار کیا جاتا ہے جو چین سمیت دنیا بھر کے کاروباری افراد کے لیے کشش رکھتا ہے۔اکستان اور عراق نے ایرانیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔ تاہم خود ان ممالک کے ہزاروں شہریوں کے علاوہ افغانوں کی بڑی تعداد مزارات کی زیارت یا کاروباری سرگرمیوں کے سلسلے میں ایران کا دورہ کر رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان اور عراق اپنے شہریوں کے ایران سفر پر روک لگانے کے لیے کوشاں ہیں۔

    واضح‌رہے کہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں.کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وفاق نے حکمت عملی تیار کرلی، ایران سے آنیوالے 13 ہزار افراد کی فہرست صوبائی حکومتوں کو ارسال کر دی گئی ہے۔ فہرست میں شامل افراد کے شناختی کارڈ، رابطہ نمبرز اور دیگر معلومات بھی دی گئی ہیں۔ کرونا وائرس کے پیش نظر سندھ بھر میں تمام تعلیمی ادارے 13 مارچ تک بند ہیں، سکول کھولنے والوں کیخلاف حکام کا ایکشن بھی جاری ہے، کئی سکولوں کی رجسٹریشن بھی معطل کی گئی ہے.

  • جیو،جنگ پرنوازشریف کی نوازشات،لاہورکی قیمتی54 کنال اراضی کا تحفہ، نوازشریف سے رشتہ کیا ؟نیب نے میرشکیل کوطلب کرلیا

    جیو،جنگ پرنوازشریف کی نوازشات،لاہورکی قیمتی54 کنال اراضی کا تحفہ، نوازشریف سے رشتہ کیا ؟نیب نے میرشکیل کوطلب کرلیا

    لاہور: جیو،جنگ پرنوازشریف کی نوازشات،لاہورکی قیمتی ترین 54 کنال اراضی کا تحفہ،نیب نے میرشکیل کوپھرطلب کرلیا ،اطلاعات کےمطابق قومی احتساب بیور(نیب) نے جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کو 54 کنال غیر قانونی اراضی کیس میں 12 مارچ کو طلب کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق اس سے قبل میر شکیل 5 مارچ کو پہلی مرتبہ اس کیس میں پیش ہوئے تھے، اس پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ میر شکیل نے پہلی پیشی میں تین ملازم اور دو بچے نیب دفتر ساتھ لے جانے کی درخواست کی تھی تاہم ملازم ساتھ لانے کی درخواست مسترد کردی گئی تھی اور بچوں کو نیب دفتر میں داخلے کی اجازت دی گئی۔

    میر شکیل سے استقبالیہ پر شناختی کارڈ لیا گیا اور اندراج رجسٹر پر دستخط کروائے گئے جس کے بعد انھیں کمرہ نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں اس سے قبل نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی تفتیش ہو چکی ہے۔تفصیلات کے مطابق جنگ گروپ کے مالک سے متعدد مرتبہ سوال کیا گیا کہ آپ کے میاں نواز شریف سے کیا مراسم ہیں، اس وقت کے وزیر اعلی میاں نواز شریف نے آپ کو غیر قانونی اراضی کیوں الاٹ کی؟

    دوران تفتیش میر شکیل سے اراضی کے معاہدے کے دستاویزات طلب کی گئیں جو وہ پیش نہ کرسکے۔ اس وقت کے وزیر اعلی نےدرخواست کے بغیر الاٹمنٹ کی سمری ایل ڈی اے کو بھجوائی۔ میر شکیل نے اپنا محل مکمل کرنے کیلے جوہر ٹاون کی دو گلیاں بھی گھرمیں شامل کیں۔

  • ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا

    ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا

    ملک بھر میں موسم کیسا رہے گا

    باغی ٹی وی :کئ دنوں جاری بارش اور سرد موسم آج اتوار کو بھی جاری ہے . وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے جبکہ گلگت بلتستان اور کشمیر کے پہاڑوں پر برفباری ہوئی۔

    دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں میں رات بھر وقفے وقفے سے گرچ چمک کے ساتھ بارش کا سلسلہ جاری رہا جو آج بھی دن بھر جاری رہنے کا امکان ہے۔

    کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرچ چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ اطراف کے پہاڑوں پر برفباری کا سلسلہ جاری رہا۔

    میر پور آزاد کشمیر اور گردونواح میں چوتھے روز بھی بارش کا سلسلہ جاری رہا جبکہ وادی لیپہ شدید برفباری کی لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ وادی لیپہ کی رابطہ سڑکیں بھی گزشتہ پانچ روز سے بند ہیں۔
    وادی نیلم اور شانگلہ میں بھی وقفے وقفے سے برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے آمدورفت کا سلسلہ بھی بند ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوں ہی برفباری کا سلسلہ تھمے گا مشینری کے ذریعے برف ہٹانے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق بارش اور برفباری کا سلسلہ آج اتوار کو بھی جاری رہے گا۔حالیہ بارش سے موسم سردہوگیا ہے .

  • آج خواتین کا عالمی دن، بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق بری طرح پامال

    آج خواتین کا عالمی دن، بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق بری طرح پامال

    آج خواتین کا عالمی دن بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بنت حوا کے حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی

    باغی ٹی وی ؛ آج دنیا بھرمیں خواتین کا دن منایا جارہا ہے .جب کہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج مسلم خواتین کے حقوق کی دھجیاں بکھیر رہی ہے.صنفی امتیاز کے خاتمے، حقوق نسواں اور خواتین کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے آج اس دن کی مناسبت سے تقریبات ہوں گی ۔ رواں سال اس دن کا موضوع ”بہتری کے لئے توازن” رکھا گیا۔

    عالمی یوم خواتین، ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت و توقیر کا دن، اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی جدوجہد کو سلام پیش کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پہلی بار 1975 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا۔ 2 برس بعد 1977 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کی باقائدہ منظوری دیدی۔
    بھارت میں جرائم کے تازہ ترین سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں یومیہ بنیادوں پر قتل کے اوسطا 80، جنسی زیادتی کے 91 اور اغوا کے 289واقعات پیش آتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھارت میں جرائم کے اعدادو شمار یکجا کرنے والے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(این سی آر بی)کی جنوری میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018میں اوسطاً ہر روز 91 خواتین کے خلاف جنسی زیادتی کی شکایت درج کرائی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں ہر 15منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے۔

    پاکستان کی باہمت خواتین نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کو منوایا۔ سیاست، معیشت، صحافت، طب سمیت ہر شعبے میں پاکستانی خواتین کی الگ پہچان ہے۔ذہانت، صبر اور ناقابل یقین حوصلوں کی داعی خواتین گھر اور معاشرے کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یوں پاکستانی عورتوں کا کردار قوم کی تعمیر میں انتہائی قابل ستائش ہے۔

    مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی کامیاب خواتین نے اس دن کی مناسبت سے خصوصی نشست رکھی۔ دُہرے فرائض نبھاتی ورکنگ ویمن کا کہنا ہے کہ اپنی قدر و منزلت کی پہچان سے ہی کامیابی کے سفر کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    خواتین نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے کا نصف حصہ عورتوں پر مشتمل ہے۔ شعور و آگاہی کو فروغ دے کر یہاں موجود سماجی ناہمواریوں کو مکمل ختم کیا جا سکتا ہے۔

  • سرگودھا: بھوال کے نواحی علاقہ کے سرکاری سکول میں چوری کی واردات

    سرگودھا: بھوال کے نواحی علاقہ کے سرکاری سکول میں چوری کی واردات

    سرگودھا: بھوال کے نواحی علاقہ کے سرکاری سکول میں چوری کی واردات ، تالے توڑ دیئے گئے نامعلوم چور سکول سے کمپیوٹر ایل ای ڈی، اہم دستاویزات ، ریکارڈ اور قیمتی سامان لے اڑے
    : چوری کی اطلاع ملنے پر تھانہ بھلوال صدر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور کارروائی شروع کردی

  • بھلوال سالم روڈ یاسین سنز مارکی کے پاس سکائی وے  بس اور مالٹے والے مزدے کے درمیان تصادم

    بھلوال سالم روڈ یاسین سنز مارکی کے پاس سکائی وے بس اور مالٹے والے مزدے کے درمیان تصادم

    بھلوال سالم روڈ یاسین سنز مارکی کے پاس سکائی وے بس اور مالٹے والے مزدے کے درمیان تصادم مزدہ ڈرائیور سمیت 3 افراد موقع پر جان بحق اور سکائی وے کا ڈرائیور شدید زخمی روڈ بلاک…

  • یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی—از—صابرابومریم

    انبیاء علیہم السلام کی سرزمین مقدس فلسطین کی تاریخ میں پندرہ مئی یوم نکبہ یعنی فلسطینی سرزمین کے صہیونیوں کے ناپاک ہاتھوں میں غصب ہونے کا دن ہے اسی طرح تیس مارچ کو فلسطینی عرب سرزمین مقدس فلسطین کا دن مناتے ہیں یعنی ’’یوم ارض فلسطین‘‘ منایا جاتا ہے ۔ جہان پندرہ مئی کو یون نکبہ یعنی تباہی و بربادی کا بد ترین دن کے عنوان سے دنیا بھر میں فلسطینی و غیر فلسطینی قو میں مناتی ہیں وہاں فلسطینی مظلوم ملت سے یکجہتی کے لئے تیس مارچ کو یوم ارض فلسطین نہ صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں منایا جاتا ہے بلکہ فلسطین سے باہر پوری دنیا میں اس دن کو فلسطینی ارض مقدس کے دن کے عنوان سے یاد رکھا جاتا ہے ۔

    یوں تو فلسطینی عوام پر برطانوی سامراج کی سرپرستی میں ڈھائے جانے والے صہیونیوں کے مظالم کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو ان مظالم کی تاریخ ایک سو سال سے زیادہ پر محیط ہے البتہ فلسطین کی سرزمین مقدس پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کے قیام کو اب سنہ2020ء میں 72وال سال مکمل ہو جائے گا اور ان بہتر سالوں میں گزرنے والا ایک ایک دن فلسطین کی مظلوم ملت پر قیامت سے کم نہیں گزرا ہے ۔ چاہے صہیونیوں کی جانب سے فلسطین پر قبضہ کے ایام ہوں یا پھر قبضہ کے بعد کے ایام ہوں ۔ تاریخ کے اوراق صہیونی ظالموں کے ظلم سے بھرے پڑے ہیں ۔

    جہاں ایک طرف صہیونیوں نے فلسطین پر اپنے ناجائز قبضہ کو مکمل کرنے کے لئے کسی قسم کے ظلم اور زیادتی سے گریز نہیں کیا ہے وہاں فلسطینی ملت مظلوم کی شجاعت اور استقامت میں بھی ان مظالم کے سامنے کسی قسم کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔ فلسطینی عربوں کی جد وجہد کی تاریخ بھی صہیونیوں کے مقابلے میں اسی وقت سے جاری ہے کہ جب سے عالمی استعماری قوتوں کی ایماء پر فلسطین پر قبضہ کی ناپاک منصوبہ بندی کی گئی تھی اور فلسطینیوں کی یہ جد وجہد آ ج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے ۔

    پندرہ مئی سنہ 1948ء میں فلسطین پر صہیونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے وقت سے صہیونیوں نے فلسطینی عربوں کو ان کے وطن یعنی فلسطین سے نکال باہر کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ کئی سالوں تک جاری رہا اور نتیجہ میں دسیوں ہزار فلسطینی اور ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو فلسطین سے نکال باہر کیا گیا جو پڑوسی ممالک میں زمینی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے مہاجرین کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئی اور آج فلسطینیوں کی تیسری نسل شام، لبنان، اردن اور مصر میں مہاجرین یعنی فلسطینی پناہ گزین کے نام سے پہچانی جاتی ہے ۔

    فلسطین کے اندر باقی رہ جانے والے فلسطینیوں نے امید کا دامن ہاتھ سے کبھی جانے نہیں دیا ہے ۔ فلسطین کے عرب باشندوں نے ہمیشہ سے فلسطین پر صہیونی ریاست کے تصور کو جعلی قرار دیا ہے اور اس کے خلاف سینہ سپر رہے ہیں ۔ یعنی خلاصہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں نے جد وجہد آزاد ی جاری رکھی ہے اور اس آزادی کا بنیادی ہدف جہاں فلسطین کی صہیونیوں کے شکنجہ سے آزادی ہے وہاں غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی نابودی ہے ۔ جد وجہد آزادی فلسطین کے لئے فلسطین کے عرب باشندوں نے باقاعدہ صہیونیوں کا مقابلہ کیا ہے اور اس کی مثال فلسطین میں موجود اسلامی مزاحمت کی تحریکیں حماس، جہاد اسلامی، پاپولر فرنٹ اور دیگر شامل ہیں جو مسلسل اسرائیل کے ناپاک وجود کے خلاف سینہ سپر ہیں ۔

    دوسری طرف فلسطین سے جبری طور پر جلا وطن کئے جانے والے فلسطینی عربوں نے بھی اپنا جہاد فلسطین واپسی کے نعرے کے ساتھ شروع کر رکھا ہے اور یہ سب کے سب فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطین اپنے وطن فلسطین واپس جائیں تا کہ فلسطین میں آباد ہو ں نہ کہ ان کو دیگر ممالک میں در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں ۔ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ یا اعلان ایک ایسا مضبوط نعرہ ہے کہ جسے عالمی استعماری نظام بالخصوص امریکہ اور اس کے حواری کسی طرح بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ فلسطینی عوام کا حق واپسی ایک ایسا بنیادی انسانی حق ہے کہ جسے نہ تو دنیا کے عالمی ادارے مسترد کر سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کی کوئی حکومت ا سکے خلاف جا سکتی ہے ۔

    امریکہ نے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو دبانے کی خاطر نام نہاد امن فارمولہ جسے صدی کی ڈیل کہا جا رہا ہے کو متعارف کرایا ہے لیکن یہ صدی کی ڈیل سامنے آنے سے پہلے ہی فلسطینیوں کے واپسی کے حق کے نعرے کے سامنے ماند پڑ چکی ہے اور عنقریب نابود ہونے والی ہے ۔ یہ بات انتہائی قابل ذکر ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کا نعرہ سنہ 2011ء کے بعد سے شد ومد کے ساتھ بلند ہو اہے جس کی ماہرین کی نگاہ میں ایک بنیادی وجہ سنہ2011ء میں ایران کے دارلحکومت تہران میں ہونے والی بین الاقوامی حمایت فلسطین و انتفاضہ کانفرنس بعنوان ’’فلسطین ، فلسطینیوں کا وطن‘‘ ہے ۔

    فلسطین کے سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سنہ2011ء میں اس کانفرنس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے مسئلہ فلسطین کا ایک ایسا منصفانہ حل پیش کیاہے کہ جس کے بعد نہ صرف فلسطینی تحریکوں میں بلکہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جو امریکہ سمیت صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے لئے مصیبت سے کم نہیں ہے ۔ اس منصفانہ حل کے مطابق فلسطین فلسطینی عربوں کا وطن ہے کہ جو سنہ1948ء سے قبل اور اس وقت تک فلسطین کے باسی تھے اور ان فلسطینیوں میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ عیسائی فلسطینی اور ایسے یہودی فلسطینی شامل ہیں کہ جو فلسطین کی شناخت کے ساتھ اس سرزمین مقدس پر زندگی بسر کر رہے تھے

    صہیونیوں نے نہ صرفر فلسطین کے مسلمانوں کو جبری ہجرت پر بھیجا بلکہ مسیحی اور فلسطینی یہودیوں کو بھی فلسطین سے بے دخل کیا ۔ تاہم فلسطینی عربوں کا حق ہے کہ وہ فلسطین واپس آئیں اور فلسطینی عوام ایک ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے نظام حکومت کا فیصلہ کرے ۔ یعنی فلسطینی فلسطین واپس آئیں اور جو یہودی اور صہیونی دنیا کے دیگر ممالک سے لا لا کر فلسطین میں آباد کئے گئے تھے وہ اپنے اپنے وطن میں واپس جائیں یا یہ کہ اگر فلسطین کی حکومت یعنی فلسطینی کی شناخت کے ساتھ فلسطین میں زندگی بسر کرنا چاہیں تو یہ فیصلہ بھی فلسطینی عوام کو کرنا ہے اور ان کی اجازت سے ہونا ہے ۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے حق واپسی کی تحریک نے سنہ2011ء سے تیزی کے ساتھ سفر طے کرنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں سنہ2012ء میں دنیا بھر کے تمام بر اعظموں سے تعلق رکھنے والی قوموں نے تیس مارچ یوم ارض فلسطین کے موقع پر فلسطین کی چاروں زمینی سرحدوں پر مارچ کیا اور سب کا نعرہ ایک ہی تھا کہ ’’واپسی فلسطین ‘‘یعنی ;82;eturn to ;80;alestien ۔ گذشتہ دو برس سے فلسطینیوں نے حق واپسی مارچ کا نئے انداز سے آغاز کیا ہے اور فلسطینیوں کا ایک ہی نعرہ اور مقصد ہے کہ فلسطینیوں کی فلسطین واپسی ۔

    اب یوم ارض فلسطین کے موقع پر اس تحریک کو مکمل دو سال ہو نے کو ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل سمیت استعماری قوتیں فلسطینیوں کے عزم اور ارادوں کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور اس کی سب سے بڑی دلیل امریکی صدر کے فلسطین سے متعلق یکطرفہ فیصلوں اور اعلانات کی ناکامی ہے ۔ بہر حال اقوام عالم اس بات کو اچھی طرح سمجھ چکی ہیں کہ فلسطینیوں کی تقدیر کا منصفانہ حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کا وطن قرار پائی اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے قائم کرنے والے صہیونی اپنے اپنے وطن اور زمینوں پر لوٹ جائیں ۔ فلسطینیوں کی واپسی حق ہے اور اس امر سے دنیا کی کوئی طاقت بھی نظر چرانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

    یوم ارض فلسطین اور فلسطینیوں کی واپسی

    تحریر: صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاءونڈیشن پاکستان

    پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی

  • خلیل الرحمن قمر جیسا شخص ہمارے معاشرے کے لیے خطرہ ہے ، ماروی سرمد بول اٹھیں

    خلیل الرحمن قمر جیسا شخص ہمارے معاشرے کے لیے خطرہ ہے ، ماروی سرمد بول اٹھیں

    لاہور:خلیل الرحمن قمر جیسا شخص ہمارے معاشرے کے لیے خطرہ ہے ، ماروی سرمد بول اٹھیں ،باغی ٹی وی کے مطابق معروف سوشل ایکٹوسٹ ماروی سرمد نے مشہورزمانہ ڈرامہ نگارخلیل الرحمن قمر کے ایک صحافی کے ساتھ سخت گفتگوپرسخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایسا شخص ہمارے معاشرے کے لیے خطرہ ہے

    ماروی سرمد نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا ہےکہ اس شخص کے اس رویے کی وجہ سے صحافی بھی پریشان ہیں‌،ماروی سرمد نے خلیل الرحمن قمر کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس شخص کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایک طوفان بدتمیزی پیدا ہوگیا ہے

    یاد رہے کہ باغی ٹی وی نے سب سے پہلے خلیل الرحمن قمر کے اس ویڈیوبیان پرمحتاط انداز میں خبردی تھی جس کےبعد ماروی سرمد نے اسی قدر ردعمل سے خلیل الرحمن قمر کے خلاف اپنا غصہ نکالا ہے

  • اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے میں پولیس اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، ڈاکو سمیت3 افراد ہلاک

    اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے میں پولیس اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، ڈاکو سمیت3 افراد ہلاک

    اسلام آباد: اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے میں پولیس اور ڈاکوؤں میں فائرنگ کا تبادلہ، ڈاکو سمیت3 افراد ہلاک،اطلاعات کےمطابق اسلام آباد میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران زد میں آکر 2 راہگیر جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک ڈاکو بھی مارا گیا۔

    اسلام آباد سے پولیس نے بتایا کہ واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی 8 میں پیش آیا جہاں مقابلے کے دوران فائرنگ کی زد میں آکرجاں بحق شہریوں کی شناخت اسامہ محمود اور عامر کے نام سے ہوئی۔تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ شہریوں کی ہلاکت کس کی فائرنگ سے ہوئی۔

    فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تین ڈاکو ایک شہری کو لوٹ کر فرار ہونے لگے تو شہری نے شور مچایا جس پر گشت پر موجود پولیس نے ڈاکوؤں کا پیچھا کیا اور اسی دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ایس پی زبیر شیخ نے اس حوالے سے بتایا کہ ڈاکوؤں نے فرار ہونے کے لیے ایک گاڑی کو بھی روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ڈاکوؤں کا گھیراؤ کیا جس پر انہوں نے فائرنگ شروع کردی۔

    زبیر شیخ نے بتایا کہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ڈاکو زخمی ہوگیا جبکہ اس کے دیگر دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ زخمی ڈاکو کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا لیکن وہ زخموں کی وجہ دم توڑ گیا جبکہ فائرنگ کی زد میں آکر شہری بھی جاں بحق ہوگئے۔ایس پی زبیر شیخ نے بتایا فرار ہونے والے دونوں ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔