Baaghi TV

Author: +9251

  • مسلمانوں کی حمایتی ہندو خاتون کو دبئی کے شیف کی ’ریپ‘ کی دھمکی ، کیا ابھی بھی عالمی ضمیر نہیں جاگے گا

    مسلمانوں کی حمایتی ہندو خاتون کو دبئی کے شیف کی ’ریپ‘ کی دھمکی ، کیا ابھی بھی عالمی ضمیر نہیں جاگے گا

    دوبئی :مسلمانوں کی حمایتی ہندو خاتون کو دبئی کے شیف کی ’ریپ‘ کی دھمکی ، کیا ابھی بھی عالمی ضمیر نہیں جاگے گا،اطلاعات کےمطابق مسلمانوں کی حمایتی ہندو خاتون کو دبئی کے شیف کی ’ریپ‘ کی دھمکی ، کیا ابھی بھی عالمی ضمیر نہیں جاگے گا7متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست دبئی میں درجنوں ہندو اور مسلمان بھارتی افراد نے فیس بک پر خاتون کو ’ریپ‘ کی دھمکی دینے والے ایک بھارتی شیف کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیے۔

    بھارتی شیف ترلوک سنگھ نے کچھ دن قبل فیس بک پر ایک ہندو سماجی رہنما خاتون کو دہلی میں آکر ’ریپ‘ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ہندو خاتون کو دھمکی دینے والے شیف کے خلاف متاثرہ خاتون نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ اگر وہ انتہاپسند نہیں ہیں تو وہ مذکورہ شخص کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے سمیت دبئی کے حکام کو شکایت کریں۔

    ذرائع کے مطابق ترلوک سنگھ نے فیس بک پر کچھ دن قبل ہندی زبان میں انتہائی فحش، دھمکی آمیز اور گالیوں پر مبنی ایک پوسٹ کی تھی جس میں انہوں نے ہندو سماجی رہنما خاتون سواتی کھنہ کو دھمکیاں دیں تھیں۔اخبار کے مطابق بھارتی شیف نے خاتون کو ’ریپ‘ کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں جسم فروش بھی لکھا تھا۔

    بھارتی شیف نے ہندو خاتون کو ’تیزاب‘ کے حملے ’لاٹھیوں‘ سے تشدد کا نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیتے ہوئے ان کے خلاف لکھا تھا کہ وہ رہتی بھارت میں ہیں مگر گیت پاکستان کی گاتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہندو شیف نے اپنی ہی ہم مذہب خاتون کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو متنازع شہریت پر تنقید کا نشانہ بنانے کی وجہ سے بھی دھمکیاں دیں۔

    بھارتی شیف کی جانب سے ’ریپ‘ اور تیزاب حملے کی دھمکی دیے جانے کے بعد خاتون سواتی کھنہ نے مذکورہ شیف کے خلاف ٹوئٹ کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ بھارت نہیں بلکہ مسلمانوں کے ملک دبئی میں رہتی ہیں۔ساتھ ہی خاتون نے دبئی میں رہنے والے بھارتی افراد سے درخواست کی تھی کہ وہ مذکورہ شیف کے خلاف حکام کو شکایات کریں، جس کے بعد درجنوں افراد نے شیف کے خلاف ٹوئٹس کیں۔

    درجنوں لوگوں کی جانب سے شکایتی ٹوئٹس کیے جانے کے بعد دہلی کے معروف ’دی للت ہوٹل‘ نے ایک وضاحتی ٹوئٹ کی جس میں ہوٹل انتظامیہ نے واضح کیا کہ مذکورہ شیف اب ان کے ہاں ملازمت نہیں کرتا۔ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے شیف کی دھمکیوں کی مذمت کی گئی اور ساتھ ہی کہا گیا کہ وہ شیف کے خلاف اب تک ’دی للت ہوٹل‘ میں ملازمت کرنے کا اسٹیٹس لگائے جانے کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

    ادھر درجنوں افراد کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے کے بعد دبئی پولیس نے لوگوں کو تجویز دی کہ وہ سب لوگ مذکورہ شیف کے خلاف آن لائن کرائم ایکٹ کے تحت شکایات درج کروائیں، متحدہ عرب امارات میں سائبر کرائم ایکٹ کے تحت سخت سزائیں دی جاتی ہیں اور کسی پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں جیل سمیت جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔یو اے ای سائبر قوانین کے تحت ملزم پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں ان پر 50 ہزار سے 30 لاکھ درہم تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

  • جمعیت علماء اسلام کے مرکز ی سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی میڈیا سے گفتگو

    جمعیت علماء اسلام کے مرکز ی سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری کی میڈیا سے گفتگو

    رحیم یارخان (نمائندہ باغی ٹی وی ) جمعیت علماء اسلام کے مرکز ی سیکرٹری جنرل وسابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ امریکہ طالبان معاہدہ پر عملدرآمد کے لیے امریکہ اور ان کے حواریوں پر یقین نہیں جب تک امریکہ افغانستان میں موجود رہے گا بے چینی بڑھے گی ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے مفتی نعمان حسن لدھیانوی،مولانا فتیح اللہ عباد،شاہد الیاس جالندھری،حافظ عثمان لدھیانوی کے ہمراہ ملک سراج احمد کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں پر مظالم پر تشویش ہے مسلمان کشمیر میں ہوں یا بھارت میں کمزور نہیں ٹرمپ نے افغان صدر کوسمجھایا نہیں کہ فتح ان کی ہوگی مودی بھی عمران خان کی طرح اپنے لیے گڑھے کھود رہا ہے عمران خان اس معاہدے کی کامیابی اپنے کھاتے میں ڈال کر جھوٹ بولنے کے تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالغفور حیدری نے بتایا کہ آزادی مارچ کا تسلسل جاری ہے،19مارچ کو لاہور سے سلیکٹڈحکومت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا جائے گا،ہماری تحریک ختم نہیں ہوئی مسلسل جاری ہے اورہماری دیگر بڑی جماعتوں سے بھی رابطے ہیں،مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ہماری احتجاجی تحریک رواں دواں ہے،ن لیگ آزادی مارچ میں پرخلوص نہیں خلوص کے پیچھے ہے اس نے خلوص کو بچانا ہے،نواز شریف کو کون سی بیماری ہے ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہم سے شیر کیوں نہیں کرتے ہمارے ان سے ملنے کی حد تک رابطے ہیں مصلحتوں کا شکار لوگ مسائل اجاگر نہیں کر رہے ترکی کے صدر کے دورے کے دوران اہم قومی معاملات کی بجاے میڈیا مولانا فضل الرحمان پر آرٹیکل6پر تجزیے پیش کرتا رہا مہنگائی کی وجہ سے ہر کوئی پریشان ہے۔

  • امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان معاہدے کونقصان پہنچانے کے لیے تیسری قوت نےخوست میں بم دھماکے کروا دیئے 5 افراد ہلاک

    امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان معاہدے کونقصان پہنچانے کے لیے تیسری قوت نےخوست میں بم دھماکے کروا دیئے 5 افراد ہلاک

    کابل:امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان امن معاہدے کونقصان پہنچانے کے لیے تیسری قوت نےخوست میں بم دھماکے کروا دیئے ،اطلاعات کےمطابق افغان صوبے خوست کے فٹبال گراؤنڈ میں بم دھماکے سے 5 شہری ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔

    صوبائی گورنر طالب خان منگل کے مطابق خوست کے ضلعے نادر شاہ کوٹ میں فٹ بال گراؤنڈ کے دھماکا ہوا جس میں 5 اموات ہوچکی ہیں، جب کہ 9 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ترجمان کے مطابق دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں رکھا گیا تھا جسے فٹ بال میدان کے نزدیک روکا گیا۔ ابھی تک کسی گروپ نے دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

    یہ واقعہ دوحہ میں طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے امن معاہدے کے دو دن بعد ہوا ہے۔ اس سے قبل فریقین کی جانب سے ایک ہفتے تھے پُرتشدد کارروائیوں میں کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

  • اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اب عورت ہو گی آزاد—از–ثنا صدیق

    اس دنیا میں اللہ پاک نے انسان کی بقا اور تحفظ کے لیے مرد اور عورت کے نام سے دو جنسیں پیدا کیں اور ہر جنس کو دوسری جنس کی طلب کا تقاضا رکھا گیا حقیقت میں تو دونوں کی ذندگی ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہے اسی وجہ سے مرد کامل مرد ہوتے ہوئے بھی عورت سے بے نیاز نہیں ہے اور عورت بھی عورت کے لباس میں رہتے ہوئے مرد کے بغیر مطئمن ذندگی بسر نہیں کر سکتی مگر مغربی تہذیب نے جہاں اسلام کے ماننے والوں میں لا دینیت حرص اور مادہ پرستی پیدا کی ہیں وہی مغربی تہذیب نے مسلمان عورت کو اپنے جال میں ایسے پھسنایا کہ عورت کی آزادی کے نام پر اس کی عفت و عصمت بھی داو پر لگا دی

    تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغرب کی عورت کیوں آزادی مارچ کے لیے اٹھی اس کی کیا وجوہات تھیں پہلی دفعہ 1909 میں عورت کے آزادی مارچ کی ابتداء ہوئی 8 مارچ کو آزادی مارچ منانے کا فیصلہ 1913 کو ہوا1908 کو چند مخصوص عورتیں اپنے حق کے لیے آزادی مارچ کے لیے نکلی ان عورتوں پر کاوائی کرتے ہوئے ان کو گرفتار کیا گیا 1909 کو امریکن سوشلسٹ پارٹی نے آزادی مارچ کی قرار داد منظور کی 1910 کو پہلی بار عورت کی آزادی کا عالمی دن منایا گیا آزادی مارچ میں مغربی عورت اپنے معاشی معاشرتی اور سیاسی حقوق کے لیے اٹھی کیونکہ غیر مسلم عورت ہمشہ اپنے مرد کا شکار رہی ہے مرد نے اس صنف نازک کو جنگلی درندہ ہی سمجھا ہے گھر کے سامان اور جانوروں کے برابر عورتیں بیچی اور خریدی جانے لگی اسلام سے پہلے حالات میں عورت کو صرف نسل انسانی کی ترقی کا زریعہ سمجھا جاتا تھا اس کے علاوہ عورت ان کے لیے شرمندگی کا باعث تھی عرب کے علاوہ دوسرے مذاہب میں عورتوں کے ساتھ سلوک ڈاکٹر گستاولی بان کے زریعے پتہ چلتا ہے

    "یونانی عورتوں کو ہمشہ کم درجے کی مخلوق سمجھتے تھے اگر کسی عورت کا بچہ خلاف فطرت پیدا ہوتا تھا تو اسے مار ڈالتے تھے”
    "اسپارٹا میں اس بد نصیب عورت کو جس سے قومی سپاہی کے پیدا ہونے کی امید نہ ہوتی مارڈالتے تھے جس وقت کسی عورت کے بچہ پیدا ہوتا تو اسے فوائد کی غرض سے کسی دوسرے مرد کی نسل لینے کے لیے اس کے شوہر سے ادھار لے لیتے تھے”
    عہد قدیم میں واضح لکھا گیا کہ
    "جو کوئی خدا کا پیارا ہے وہ اپنے آپ کو عورت سے بچائے ہزار آدمیوں میں سے ایک پیارا پایا ہے لیکن تمام عالمی عورتوں میں ایک عورت بھی ایسی نہیں جو خدا کی پیاری ہو”

    روم میں
    مرد کی اپنی عورت پر جابرانہ حکومت تھی جس کا معاشرے میں کوئی حصہ نہیں تھا اور شوہر کو اس کی جان پر پورا حق حاصل تھا

    یہودیت میں عورت کامقام یہ ہے اگر دو بھائی ہوں ان میں سے ایک بے اولاد مر جائے تو اس کی بیوہ عورت کا نکاح کسی اور سے نہ کیا جائے اس کے شوہر کا بھائی اسے اپنی بیوی بنائے اسے بھاوج کا حق ادا کرے جب پہلوٹھا جو اس سے پیدا ہو تو اس کے بھائی کا نام شمار ہو گا تاکہ اس کا نام اسرائیل سے مٹ نہ جائے اگر وہ اس کا شوہر بننے سے انکار کر دے تو وہ عورت ججوں کے سامنے اپنے پاوں کی جوتی نکالے اور اس کے منہ پر تھوک دے اور کہے جو اپنے بھائی کا گھر نہیں بنائے گا یہی کیا جائے گا اور اسرائیل میں اس کا نام یہ رکھا جائے اس شخص کا گھر جس کا جوتا نکالا گیا

    ہندو کے نزدیک تقدیر طوفان موت جہنم زہر زہریلے سانپ کوئی ان میں سے اتنے خراب نہیں جتنی عورت ہے

    عیسائیوں کے نزدیک وہ شیطان کے آنے کا دروازہ ہے وہ شجر ممنوع کی طرف لے جانے والی خدا کے قانون کو توڑنے والی اور خدا کے تصور اور مرد کو غارت کرنے والی ہے

    کرائی سوسٹم کے نزدیک
    "ایک ناگزیر برائی ایک پیدائشی وسوسہ ایک مرغوب آفت ایک خانگی خطرہ ایک غارت گر دلربائی ایک آراستہ مصبیت ہے

    روسی مثل مشہور ہے
    "دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے ”

    اسپینی مثل ہے
    "بری عورت سے بچنا چاہے اچھی عورت پر کبھی بھروسہ نہیں کرنا چاہے

    اطالیون کا قول ہے
    گھوڑا اچھا ہو یا برا اسے مار کی ضرورت ہوتی ہے عورت اچھی ہو یا بری اسے بھی مار کی ضرورت ہوتی ہے

    یہ تھے ھقوق عورت مغربی اور دوسرے مذاہب کے معاشروں میں مگر اسلام اسلام میں تو عورت کی شان و شوکت ہی بہت ہے اس کا ہر دن ہی آزادی کا دن ہے مسلمان عورت کی اہمت تو اس کے مذہب نے بہت پہلے بتا دی تھی
    ارشاد ربانی ہے
    یایھا الناس اتقو ربکم الذی خلقکم من نفس وحدة و خلق منھا زوجھا وبث منھما رجالا کثیرا ونساء
    اے لوگو اپنے رب سے ڑرو جس نے تم سب کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پیھلائیں

    اس کا مطلب مرد اور عورت ایک ہی سرچسمہ ہیں انسانیت کی حد تک دونوں میں کمی بیشی نہیں ہے عورت کوئی الگ کم تر یا کوئی اور مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی انسان ہی ہے جیسا کہ مرد انسان ہیں پھر مرد کو اللہ پاک نے کوئی حق نہیں دیا کہ وہ عورت کو زلیل اور کم تر سمجھے اسلام نے جب عورت کے حقوق اور اس کی قدو منزلت کا تعین کر دیا ہے کہ یہ صرف مرد کی خدمت گزار نہیں بلکہ دنیا میں عروج اور قدرو منزلت بھی رکھتی ہیں تو پھر مسلمان عورت کو چاہے کہ وہ اسلامی حدود کی پابندی کریں اپنی عفت کی حفاظت کریں آزادی مارچ میں اپنی عظمت کا جنازہ مت نکالے

    اب عورت ہو گی آزاد
    ثناء صدیق

  • عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ—از–ندا خان

    لبرلزم کی دلدادہ اور مغربی نظام سے مغلوب خواتین 8 مارچ کو پاکستان میں عورت مارچ کرنے جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے حق کی آزادی ہے جس کے لیے وہ سڑکوںپر نکل کر اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گی اور مردوں کو زلیل کیا جائے گا کیونکہان خواتین کے مطابق مردوں نے ہی ان کے حق سلب کیے ہوئے ہیں یہ خواتین کبھی

    لال لال کے نام پر اور کبھی سڑکوں پر پلے کارڈ اٹھائے نکلتی ہیں جن پر ” میرا جسم میری مرضی” کے نعرے درج ہوتے ہیں ان خواتین کو اس بات کا علم نہیں کہ جن حقوق کے لیے وہ سڑکوں پر نکلنے کی تیاری کر رہی ہیں وہ حقوق تو اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال پہلے نبی آخری الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچا دیے ہیں اگر یہ عورتیں قرآن پاک کا مطالعہ کر لیتی تو ان کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر بنا چادر کے بھٹکنا نہ پڑتا قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے پوری ایک سورت عورتوں کے حقوق کے لیے نازل فرمائی "سورت النساء ” قرآن پاک کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی مسلمان عورت اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے

    قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    اور اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرو ” ( الاحزاب ٣٣)اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت کی عزت اور وقار گھروں میں ہی ہے ناکہ سر بازاربےحجاب ہوکر اپنے حقوق کی بات کریں اسلام سے قبل تو عورت کو وارثت میںحصہ دینے کا تصور بھی نہ تھا اسلام کے آنے کے بعد عورت کو وارثت میں سے حصے دینے کا حق بھی حاصل ہوا

    جب عورت کی عزت اور اس کی حفاظت چادر اور چاردیواری میں ہے تو عورت مارچ کرنے والی خواتین کونسی عزت اور تحفظ کے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلنا چاہتی ہے ،آج یہود و ہندو مختلف ذرائع سے اسلامی شعائر کو مسلنے اور بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ایک طرف ڈش اور انٹرنیٹ جیسے آلات کے ذریعے فحاشی اور بےحیائی کے پروگرام نشر کرکے نوجوانوں کے علاوہ مسلمان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے قلوب واذہان میں بےحجابی اور ذہنی آورگی پیوست کرکے اسلامی معاشرے کو تباہ کر رہے ہیں

    دوسری طرف روشن خیال، پڑھے لکھے مغربی تہذیب و تمدن سے مرعوب و متاثرہوکر یہود وہنود کی ذبان بول کر مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی بجائے جدید فیشن اور بےحیائی کا ماحول نظر آتا ہےبالخصوص عورت کے حقوق کے نام پر قائم یہودی تنظیمیں، انجمنیں، وغیرہ مسلم بیٹی کی حیا کو اتارنے میں سرفہرست ہیں

    اسلام سے قبل بھی عورت کو بری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجانی تو وہ لوگوں سے منہ چھپاتا پھرتا تھا عورت کی ادنی درجے کی حیثیت تھی، اگر کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تو اس عورت کو ایک سال تک گندے بدبو دار جھونپڑے،میں پڑا رہنے دیتے آج کے دور میں بھی ہندوستان میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں،عورت کو پاؤں کی جوتی تصور کیا جاتا ہے اگر ہندو مذہب میں کوئی آدمی فوت ہوجاتا،تو اس کی بیوی کو بھی ستی کرکے جلا دیتے ہیں اسلام واحد مذہب ہے جس میں عورت کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ہم سب کو مل کر عورت مارچ کے نام پر بے حیائی کو روکنا ہوگا، علماء کرام اس کے خلاف آواز اٹھائے اور حکمران وقت اور قاضی وقت تک اپنی آواز پہنچائےکہ وہ عورت مارچ کو روکنے پر اپنا کردار ادا کریں

    پاکستان جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں آئے روز لبرل خواتین اسلام کا مذاق اڑاتی نظر آتیں ہیں حکومتی عہدیدران پر جوں تک نہیں رینگتی جو حکومت مدینے کی ریاست جیسا نظام رائج کرنے کا نعرہ لگا کر آئی تھی وہ اب تک خاموش تماشائی کیوں بنی ہوئی ہے؟ حکومتی عہدیدران خدارا اس بے حیائی کو روکے اور ملک کو بے حیائی سے بچائے اللہ تعالیٰ مسلمان عورتوں کو باحیا اور باپردہ بنائے آمین یا ارحم الراحمين

    عورت مارچ یا بے حیائی کو فروغ
    بقلم :: ندا خان

  • اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی

    اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی

    نئی دہلی :اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی،سوشل میڈیا پرفرفر انگریزی بولنے والی دادی نے سب کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مہاتما گاندھی کا انگریزی میں تعارف کروانے والی بھارتی دادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔اس ویڈیوکوسوشل میڈیا پراس وقت بہت زیادہ لائیک کیا جارہا ہے، ادھرسوشل میڈیا پرصارفین کہ کہہ رہے ہیں کہ جس کو انگریزی بولنا نہیں آتی وہ فر فرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے سیکھ لے

    ویڈیو بنانے والی خاتون بو ڑھی اماں سے کہتی ہیں کہ مہاتما گاندھی کے بارے میں بتائیے تو دادی تیز روانی سے انگریزی میں گاندھی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں بتاتی ہیں اور پھر آخر میں اپنا تعارف بھی کرواتی ہیں۔

  • پی ایس ایل: کراچی کنگزکی پشاورزلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت،لیکن کپتان ڈیرن سیمی میچ نہیں کھیل سکیں گے،کرکٹ شائقین پریشان

    پی ایس ایل: کراچی کنگزکی پشاورزلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت،لیکن کپتان ڈیرن سیمی میچ نہیں کھیل سکیں گے،کرکٹ شائقین پریشان

    راولپنڈی :پی ایس ایل: کراچی کنگز کی پشاور زلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت،لیکن کپتان ڈیرن سیمی میچ نہیں کھیل سکیں گے ، اہم وجہ سے کرکٹ شائقین پریشان،اطلاعات کےمطابق پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2020 کے اہم میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر پشاور زلمی کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔

    راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے پی ایس ایل کے 15 ویں میچ میں کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیتا اور ڈیرن سیمی کی جگہ قیادت کرنے والے وہاب ریاض کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔وہاب ریاض نے کہا کہ پشاور زلمی کے مستقل کپتان ڈیرن سیمی اس میچ میں آرام کررہے ہیں ان کی جگہ شعیب ملک کو شامل کیا گیا ہے۔

    پشاور زلمی میں پاکستان ٹیم کے تجربہ کار اسپنر یاسر شاہ کو بھی پہلی مرتبہ موقع دیا گیا ہے اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز سے تعلق رکھنے والے جارح مزاج بلے باز کارلوس بریتھویٹ بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔قبل ازیں ڈیرن سیمی نے کوئی حوالہ دیے بغیر ٹوئٹر پر کہا تھا کہ ‘میں سیکھ چکا ہوں کہ کہ آپ اپنا کام مکمل کرنے تک اہم ہیں’۔

    پشاور زلمی کو ڈیرن سیمی کی قیادت میں رواں سیزن میں اب تک 5 میچوں میں 2 میں کامیابی اور 2 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا، کپتان ڈیرن سیمی بھی اب تک کھیلے گئے 5 میچوں میں بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔

    پی ایس ایل 2020 میں اب تک دو سنچریاں بنائی گئیں ہیں جن میں سے پہلی سنچری زلمی کے کامران اکمل نے بنائی تھی جس کے بعد ملتان سلطانز کے رلی روسو نے تیز ترین سنچری بنائی تھی۔کراچی کنگز کے کپتان نے کہا کہ ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، عمید آصف کی جگہ عامر یامین کو شامل کیا گیا ہے۔خیال رہے راولپندی کرکٹ اسٹیڈیم میں گزشتہ روز کھیلے گئے میچ میں کراچی کنگز نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرکے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 5 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پشاور زلمی:وہاب ریاض (کپتان)، کامران اکمل، ٹام بینٹن، حیدرعلی، لیام لیونگسٹن، شعیب ملک، لیوس گریگری، کارلوس بریتھویٹ، حسن علی، راحت علی، یاسر شاہ

    کراچی کنگز: عماد وسیم(کپتان)، بابر اعظم، ایلکس ہیلز، شرجیل خان، کیمرون ڈیلپورٹ، چیڈوک والٹن، افتخار احمد، عماد وسیم، عامر یامین، کرس جورڈن، محمد عامر اور عمر خان

  • سعودی نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں سعودی جرنیلوں کی  آرمی چیف جنرل قمرجاوید سے اہم ملاقات

    سعودی نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں سعودی جرنیلوں کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید سے اہم ملاقات

    راولپنڈی:سعودی نائب وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی آرمی چیف جنرل قمرجاوید سے اہم ملاقات ،زیربحث آئے اہم معاملات،باغی ٹی وی کےمطابق آج سعودی نائب وزیردفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے راولپنڈی میں پاک فوج کےسربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ سے اہم ملاقات کی اوراس دوران اہم معاملات زیربحث آئے

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس اہم ملاقات میں دونوں رہنماوں نے باہمی معاملات پرکھل کربات کی، ملاقات میں خطے میں امن وامان اورسیکورٹی کی تازہ صورت حال پربھی بات چیت ہوئی ،ذرائع کےمطابق سعودی نائب وزیردفاع اورآرمی چیف کے درمیان ہونے والی اس اہم ملاقات میں سعودی فوجیوں کی تربیت کے معاملات بھی زیرغورآئے

    آئی ایس پی آر کے مطابق شہزادہ خالد بن سلمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اوربھارت میں مسلمانوں‌پرہونے والے مظالم پردکھ کا اظہارکیا اورکشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حمایت کا اظہار بھی کیا ، اس اہم ملاقات میں دونوں ملکوں‌ نے اس بات پراتفاق کیا کہ علاقے کی سیکورٹی کی صورت حال ، برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کو ہرصورت قائم رکھا جائے گا

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس اہم ملاقات میں شہزادہ خالد بن سلمان نےپاک فوج کی صلاحیتوں کی تعریف کی اورالحرمین الشریفین کے لیے پاک فوج کی خدمات پرشکریہ بھی ادا کیا ،اس موقع پرخالد بن سلمان نے خطے میں‌ سیکورٹی اوردوسرے اہم معاملات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنے کا عہد بھی کیا

    پاک فوج کے سربراہ نے بھی سعودی نائب وزیردفاع خالد بن سلمان کی طرف سے دہشت گردی اورخطے میں امن کی بحالی میں پاکستان کے کردار کی تعریف پرشکریہ ادا کیا ،جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان خطے کی صورت حال پرمسلسل نظررکھے ہوئے اورکسی بھی صورت وہ امن وامان کو مخدوش کرنے کی اجازت نہیں دے گا

    سعودی نائب وزیردفاع کا یہ دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ، جس میں سعودی وزیردفاع خالد بن سلمان کے علاوہ جنرل فیاض بن حامد،چیف آف جنرل سٹاف سعودی عرب طلال عبداللہ الطیبی ، مشیروزیردفاع سمیت اہم شخصیات شامل تھیں

  • عراق میں امریکی سفارت خانے پرپھر راکٹ حملے ، واشنگٹن لرز اٹھا

    عراق میں امریکی سفارت خانے پرپھر راکٹ حملے ، واشنگٹن لرز اٹھا

    بغداد: عراق میں امریکی سفارت خانے پرپھر راکٹ حملے ، واشنگٹن لرز اٹھا،اطلاعات کےمطابق عراقی دارالحکومت کے نہایت حساس علاقے میں نامعلوم جانب سے 2 راکٹ داغے گئے ہیں جن میں سے ایک امریکی سفارت خانے کے نہایت نزدیک گرا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے کو دو راکٹ حملوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے تاہم صرف ایک راکٹ سفارت خانے کے نزدیک پہنچ سکا۔ راکٹ حملے میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

    تاحال کسی شدت پسند گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم امریکی سفارت خانے کے عملے نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حاشد الشابی کو ٹھہرایا ہے۔ یہ تنظیم عراق کی موجودہ حکومت کی حامی حماعت سمجھی جاتی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں برس کے اوائل میں بغداد ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے عراق میں امریکی تنصیبات اور سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنوری میں بھی امریکی سفارت خانے پر اسی طرح کا حملہ کیا گیا تھا۔

  • قیدیوں کی رہائی تک کابل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، افغان طالبان کی اشرف غنی کودھمکی

    قیدیوں کی رہائی تک کابل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، افغان طالبان کی اشرف غنی کودھمکی

    کابل: قیدیوں کی رہائی تک کابل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، افغان طالبان کی اشرف غنی کودھمکی ،اطلاعات کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان میں اسیر 5 ہزار سے زائد طالبان قيديوں کی رہائی تک کابل حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہيں ہوں گے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک دوحہ میں امریکا کیساتھ طے پانے والے امن معاہدے کی ایک شق کے تحت پانچ ہزار طالبان اسیروں کو رہائی نہیں مل جاتی تب تک کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات ميں شرکت نہيں کريں گے۔

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حوالے سے افغان صدر اشرف غنی کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مزید کہا کہ امن معاہدے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ 10 مارچ تک طالبان کے 5 ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔ اگر ایسا کردیا جاتا ہے تو ہی طالبان آئندہ مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ امن معاہدے کے تحت 5 ہزار زیر حراست طالبان قیدیوں کی رہائی کا استحقاق امریکا کا نہیں بلکہ کابل حکومت کا ہے اور یہ اگلے مرحلے میں ہونے والے انٹرا افغان مذاکرات میں طے پائے گا۔