Baaghi TV

Author: +9251

  • کورونا وائرس ، پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑی ہوئے محتاط

    کورونا وائرس ، پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑی ہوئے محتاط

    کورونا وائرس ، پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑی ہوئے محتاط
    باغی ٹی وی :کورونا وئرس کے خوف نے لوگوں کو محتاط رہنے پر مجبور کر دیا اس سلسے میں‌ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں شریک غیر ملکی کھلاڑی کورونا وائرس کے خوف کے باعث محتاط ہو گئے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر چہروں پر ماسک کا استعمال شروع کر دیا۔

    اس دفعہ پی ایس ایل کے میچز پہلی مرتبہ پاکستان کے چار شہروں میں ہو رہے ہیں ملتان نے تین میچوں کی میزبانی کا اپنا کوٹہ مکمل کر لیا ہے، اب کھلاڑی لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے درمیان سفر جاری رکھیں گے۔ پی ایس ایل کا فائنل 22 مارچ کو لاہور میں شیڈول ہے .پی ایس ایل کے میچز کے دوران ہی کراچی اور اسلام آباد میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں، ایسے میں جہاں ہر کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے وہاں پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
    کورونا وئرس سے احتیاط بہت ضروری ہے مگر یہ اتنا ڈرنے والا معاملہ نہیں ہے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام کا کہنا ہے کورونا وائرس سے اموات کی شرح دو فیصد سے بھی کم ہے۔اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں میجر جنرل ڈاکٹر عامر اکرام نے کہا کہ اس قسم کی وبائی صورت حال میں ہمیں خوف کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے

  • دوحہ امن معاہدے پر امریکا پاکستان کا ہوا شکر گزار

    دوحہ امن معاہدے پر امریکا پاکستان کا ہوا شکر گزار

    دوحہ امن معاہدے پر امریکا پاکستان کا ہوا شکر گزار
    باغی ٹی وی : امریکا نے دوحہ امن معاہدے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے ، امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کے مزید کردار کے لیے پرامید ہیں۔ نمائندہ افغان طالبان ملا عبدالغنی برادر نے فریقین کو مبارکباد دیتے ہوئے تعاون پر اسلام آباد سے اظہار تشکر کیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے پاکستانی معاونت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور دیگر برادر ممالک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے تاریخی مذاکرات کی میزبانی پر قطر کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ افغان عوام امن معاہدہ ہونے پر خوش ہیں، بالاخر امن کی فتح ہوئی، قیام امن کے بعد افغان عوام نے اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے، افغان اورامریکی فورسز نے امن کیلئے مل کر کام کیا۔ افغان عوام امن اورخوشحالی سے رہنے کا حق رکھتے ہیں۔

    امریکا طالبان امن معاہدہ، امریکہ کی طرف سے کون کرے گا دستخط؟ ٹرمپ نے بتا دیا

    امریکا طالبان معاہدہ کس کی جیت ہے؟ گورنر پنجاب نے کیا دعویٰ کر دیا

    امریکا طالبان معاہدہ، آج کونسی اہم شخصیت کرے گی افغانستان کا دورہ؟

    نمائندہ افغان طالبان ملاعبدالغنی برادر نے کہا کہ افغان امن عمل کیلئے پاکستان کا کردار قابل ستائش ہے، کامیاب امن معاہدے پر فریقین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور دیگر برادر ممالک کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، افغانستان کےعوام نے امن کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ تمام فریقین امن معاہدے کی پاسداری کریں گے۔
    واضح رہےکہ امریکا افغانستان کی طرف سے امن معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں. افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

  • کورونا وائرس ، حکومت پاکستان کا چمن بارڈر بھی  بند کرنے کا فیصلہ

    کورونا وائرس ، حکومت پاکستان کا چمن بارڈر بھی بند کرنے کا فیصلہ

    کورونا وائرس ، حکومت پاکستان کا پاک افغان سرحد چمن کو کل سے بند کرنے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی : حکومت پاکستان کورونا وائرس کے خلا مزید سخت اقدام کرنے جارہی ہے. کورونا وائرس کے باعث سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے پاک افغان سرحد چمن کو کل سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق چمن بارڈر افغانستان میں کورونا وائرس کے باعث بند کیا جا رہا ہے، جو 2 مارچ سے ایک ہفتے کے لیے بند رہے گا۔

    اس کے علاوہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں کورونا وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور ڈی ایچ کیو اسپتال پاراچنار میں آئسولیشن وارڈز قائم کردیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ افغانستان کے وزیرِ صحت فیروزالدین فیروز نے رواں ہفتے صوبے ہرات میں 3 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی تھی جس کے بعد پاکستان نے حفاظتی انتظامات کے لیے مزید کمر کس لی تھی۔پاک افغان سرحد باب دوستی پر میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم ریڈ کریسنٹ اور پی پی ایچ آئی کے تعاون سے لوگوں کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔ادھر طورخم بارڈر پر بھی میڈیکل چیک پوائنٹ قائم کردیا گیا ہے اور افغانستان سے آنے جانے والوں کی اسکریننگ کا سلسلہ جاری ہے۔

    پاک افغان دوستی اسپتال طورخم میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے جب کہ لنڈی کوتل اور جمرود اسپتالوں میں بھی آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں، طورخم میں عملے کو ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے۔محکمہ صحت اور نیشنل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا عملہ تھرمل اسکینرز کے ذریعے بخار کے مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے

    واضح رہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت نے تفتان میں پاک ایران سرحد کو بند کر رکھا ہے جب کہ بلوچستان حکومت نے اندرون ملک سے بذریعہ تفتان ایران جانے والے زائرین کے صوبے میں داخلہ بھی بند کردیا ہے.

  • بھارت میں مسلم کش فسادات نے 1947 کی بھیانک یادیں تازہ کردیں

    بھارت میں مسلم کش فسادات نے 1947 کی بھیانک یادیں تازہ کردیں

    بھارت میں مسلم کش فسادات نے 1947 کی بھیانک یادیں تازہ کردیں.
    باغ ٹی وی : بھارت میں‌مسلم کش فسادات کی وجہ سے تقسیم ہند کے مناظر سامنے آنے لگے جب مسلمانوں کو ہندو بنیے نے چن چن کر مارا تھا اور اور ان کے جان مال اور عزت و آبرو کو تار تار کیا تھا.73سال بعد 1947 پھر واپس آگیا، وہی فسادات، وہی مسلمانوں کا قتل عام، پاکستان میں تو کبھی 1947کے بعد ایسے فسادات نہیں ہوئے جس میں اس طرح ہندوؤں کا قتل عام کیا ہو۔ مسلمانوں نے مسلمانوں کو تو مارا ہے، بم دھماکے کیے ہیں، لیکن اس طرح مندروں پر سبز پرچم نہیں لہرائے۔
    ایک مسلم عورت نے اپنے اوپر ظلم کی داستان بتانے ہوئےکہا کہ بلوائیوں نے میرے اور بیٹیوں کے کپڑے پھاڑ دیے’: دہلی فسادات میں زندہ بچنے والے مسلمانوں کی دردناک آپ بیتیاں ، جس سے دل دہل جائیں ،اطلاعات کےمطابق نئی دہلی میں پچھلے چند دنوں سے ہندوانتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں پرہونے والے مظالم کی دردناک کہانیاں سامنےآرہی ہیں،ذرائع کےمطابق اس حوالے سے مسلمان خواتین نے جس طرح اپنے دکھ درد بیان کیئے ہیں وہ سنے نہیں جاتے ،

    ایک سالہ خاتوں اپنا واقعہ بیان کرتی ہیں اورروتی جارہی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ "ہم نے دوپٹے اپنے جسم کے گرد لپیٹے اور جان بچانے کے لیے پہلی منزل سے نیچے چھلانگ لگائی”۔ دہلی کے شمال مشرق میں واقع الہند اسپتال میں ایک 45 سالہ خاتون بدھ کی رات پیش آنے والے اس ڈراؤنے واقعے کو یاد کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کیسے انہوں نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ اس وقت جان پچائی جب بلوائی ان کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔

    خاتون بتاتی ہیں کہ ان کی جان اس وقت بچی جب وہ ایک مسلم اکثریتی علاقے کی گلی میں داخل ہوئیں۔پُرنم آنکھوں کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ ‘میں اپنے گھر میں تھی جب مشتعل لوگ میں گھر میں گھسے۔ مجھے اور میری بیٹیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا اور ہمارے کپڑے پھاڑ دیے گئے۔’وہ بتاتی ہیں کہ ہجوم نے ان کا مسلسل پیچھا کیا مگر جب انہیں ایک جاننے والے دکاندار ایوب احمد کے گھرمیں پناہ مل گئی تو وہ بھارتی درندے مایوس ہو کر وہاں سے چلا گئے۔’جب ہم احمد کے گھر میں پہنچے تو انہوں نے ہمیں کھانا فراہم کیا اور دیگر ضرورت کی چیزیں دیں اور پھر بعد میں الہند اسپتال پہنچایا۔۔۔وہ لوگ ہماری کی گلی کے تھے، میں انہیں پہنچاتی ہوں

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان
    دہلی میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کیا گیا، مسلمانوں کے گھر جلائے گئے، مساجد کی بے حرمتی کی گئی اور ایک مسجد کو شہید کیا گیا.بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

  • کرونا وائرس کی تباہیاں امریکہ تک پھیل گئیں : امریکا میں کروناوائرس سے پہلا مریض ہلاک ہوگیا

    کرونا وائرس کی تباہیاں امریکہ تک پھیل گئیں : امریکا میں کروناوائرس سے پہلا مریض ہلاک ہوگیا

    واشنگٹن:کرونا وائرس کی تباہیاں امریکہ تک پھیل گئیں : امریکا میں کروناوائرس سے پہلا مریض ہلاک ہوگیا،اطلاعات کےمطابق امریکا میں مہلک کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت سامنے آگئی، حکومت نے تصدیق کردی۔

    کرونا وائرس کے حوالے سے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ کروناوائرس سے ہلاک ہونے والا شہری کنگ کائونٹی کا رہائشی ہے۔ جبکہ کیلیفورنیا، اوریگن اور واشنگٹن میں 4 مزید افراد میں کررونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔چاروں افراد نےگزشتہ کئی ماہ میں کسی بھی ملک کا سفر نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی یونیورسٹیوں نے اٹلی سے 88 طالب علموں کو واپس بلا لیا۔ کروناوائرس سے اب تک دنیا بھر میں 3ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

    خیال رہے کہ جان لیوا کروناوائرس خلیجی ملک قطر پہنچ گیا، محکمہ صحت نے مہلک وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کردی۔ قطری محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ 36 سالہ شہری میں کروناوائرس کی تصدیق ہوئی جو حال ہی میں خصوصی پرواز کے ذریعے ایران سے قطر پہنچا ہے۔

    مذکورہ شہری سمیت متعدد افراد کو خصوصی پرواز کے ذریعے قطر لایا گیا ہے جہاں انہیں اسکریننگ کے مراحل سے گزارنے کے بعد خصوصی میڈیکل سینٹر میں رکھا گیا ہے، کروناوائرس کا شکار شہری کی شناخت سامنے نہیں آئی۔محکمہ صحت نے بتایا کہ کروناوائرس کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اندازہ تھا کہ یہ وائرس قطر تک بھی پہنچ سکتا ہے، تاہم دیگر پروازوں سے قطر پہچنے والے شہریوں کا خصوصی معائنہ کیا جارہا ہے۔

  • آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد،عوام کوہرصورت ریلیف دوں گا،وزیراعظم ڈٹ گئے

    آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد،عوام کوہرصورت ریلیف دوں گا،وزیراعظم ڈٹ گئے

    اسلام آباد: آئی ایم ایف کا دباؤ مسترد کردیا،عوام کوہرصورت ریلیف دوں گا،وزیراعظم ڈٹ گئے،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کا دباؤ مسترد کر دیا۔

    پٹرولیم مصنوعات کم ہونے سے متعلق اندروانی کہانی سامنے آ گئی، اے آر وائی نیوز کو موصول اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کیلئے ڈٹ گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ چاہتاتھا کہ پٹرول،بجلی اور گیس قیمتیں بڑھیں تاہم وزیراعظم نےقیمتیں کم نہ کرنےکی ایڈوائس ماننے سے انکار کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہ کرنے کے حوالے سے آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ کا دباؤ مسترد کر دیا اور پٹرولیم قیمتوں میں کمی کیلئے براہ راست ہدایات دیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ نہیں ہونا چاہیے، گزشتہ حکومت پہلے ہی غریبوں کو لوٹ چکی ہے اب مزید غریب طبقےکا مزیداستحصال نہیں ہونےدیا جائے گا۔

  • افغانستان سے امریکی فوجیوں کی جانیں بچاکرگھرلے آوں گا، ٹرمپ کا افغان طالبان سے معاہدے کے بعد اعلان

    افغانستان سے امریکی فوجیوں کی جانیں بچاکرگھرلے آوں گا، ٹرمپ کا افغان طالبان سے معاہدے کے بعد اعلان

    واشنگٹن:افغانستان سے امریکی فوجیوں کی جانیں بچاکرگھرلے آوں گا، ٹرمپ کا افغان طالبان سے معاہدے کے بعد اعلان ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہونے جارہا ہے، اپنے فوجیوں کو واپس گھر لائیں گے۔

    ترجمان وائٹ ہاوس کے مطابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برسوں جاری رہنے والی جنگ کو ختم کرنے جارہے ہیں۔ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن کے لیے ٹرمپ وعدے پورے کر رہے ہیں، طالبان کے ساتھ معاہدہ افغان تنازعے کا خاتمہ کرے گا، معاہدے پر عمل در آمد کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق افغانستان میں فوج کی تعداد میں کمی لارہے ہیں، افغانستان میں فوج کی کمی طالبان وعدوں کی پاسداری سے مشروط ہے، امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر کام کررہے ہیں۔امریکا نے کہا ہے کہ افغانوں کو پائیدار امن کئے اکھٹا ہونا ہوگا۔ طالبان نے افغان حکومت، سول سوسائٹی اور خواتین سے مذاکرات کا وعدہ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ امریکا افغان طالبان تاریخی امن معاہدے سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، امن معاہدہ 4نکات پر مشتمل ہے، معاہدے کے مطابق امریکا14ماہ میں افغانستان سے تمام فوجی واپس بلالے گا، افغان سرزمین امریکا اور اتحادیوں پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔مشترکہ اعلامیے کے مطابق امریکا افغانستان کی علاقائی سالمیت کیخلاف طاقت کے استعمال سے بھی باز رہے گا، امریکا معاہدے کے 135دن کے اندر فوجیوں کی تعداد 8600 تک لائے گا۔

  • سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس—از—محمد عبداللہ اکبر

    وہ شام کا وقت تھا ایک بوڑھی ماں دو کہساروں کا فاصلہ طے کر کے ایک چھپڑ سے بنی مسجد کے چبوترے پہ پہنچتی ہے دو باریش داڑھیوں والے سفید پگڑیاں پہنے ہوئے آدمی اس مسجد میں اس چھپڑ کے نیچے بچھے ٹاٹ پہ بیٹھے ہیں لوگ ان کے پاس بجھے چہرے لیے حاضر ہوتے ہیں اٹھتے وقت مسرت بھری ہشاشیت کے ساتھ واپسی کی راہ پکڑ رہے ہیں

    یہ بڑھیا جب اس چبوترے پہ چڑھتی ہے تو ان دو آدمیوں کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے کہ اماں جی کو سہارا دے کے ہمارے پاس لایا جائے اماں کو قریب لایا جاتا ہے تو وہ بوڑھی اماں اپنے آنسو گرا کے اپنی روداد بیان کرتی ہے کہ میرے بیٹوں نے میری زمین پہ قبضہ جما لیا ہے اور اب وہ اس کو اپنی حق ملکیت گردانتے ہوئے مجھے نکل جانے کا کہتے ہیں

    اماں کی بات سن کے وہاں ان دو لوگوں کے پیچھے بیٹھا کاتب ایک رقعہ لکھ کے اس ماں جی کو دے دیتا ہے کے اماں یہ رقعہ اپنے بیٹوں کو تھما دینا اماں جب وہ رقعہ دیکھتی ہے تو وہاں اس اماں کے دونوں بیٹوں کو قاضیان کی طرف سے طلبی کا نوٹس لکھا ہوتا ہے کے فلاں تاریخ کو وہ مسجد حاضری دیں

    دن گزرے اور مقررہ تاریخ پہ وہ اماں دوبارا وہیں پہنچتی ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنا درد لیے حاضر ہوئی تھی وہاں آج منظر یہ ہے کہ ماں جی کے دونوں بیٹے بھی وہیں اسی چبوترے پہ چھپڑ کے نیچے ٹاٹ پہ بیٹھے ہوئے قاضیان کے سامنے پیش ہیں

    قاضی دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ ماں جی کا فلاں حصہ انکو لوٹایا جائے ورنہ سختی والا معاملہ پیش آئے گا۔

    جو حکم ہوا ویسے ہی ہوا اور انصاف کی ایک تاریخ رقم ہوئی یہ تو وہ واقعہ ہے جو ہمارے سامنے غیرملکی جریدے کی ایک رپورٹر نے پیش کیا ایسے ہزاروں واقعات ہمیں ان لوگوں کی تاریخ میں بھرے ہوئے ملیں گے.

    7 اکتوبر 2001 کو ایسے پرامن درویش لوگوں پر دور حاضر کا فرعون اپنے لاؤ لشکر لے کے طاقت کے نشے میں دس دن کی گیم سمجھ کے ان پہ چڑھ دوڑا کیونکہ وہاں کی فضاؤں اور ہواؤں میں خلافت اور اسلام کی ایک پرمسرت اور پراثر فضاء اپنی بہاروں کے ساتھ جگمگانا شروع ہو گئی تھی لوگ آہستہ آہستہ ان چیزوں میں فٹ بیٹھنا شروع ہو گئے تھے اور دنیا کو یہ چیز ناقابل برداشت تھی.

    جب دنیا کا کفر یکجا ہو کے ان نہتے درویشوں پہ چڑھا تو ان درویشوں نے انہی مسجدوں کے چبوتروں کو معسکرات میں تبدیل کر لیا جہاں سے وہ اپنا اور اپنے لوگوں کا دفاع کرنے لگے کفر اس پلاننگ سے آیا ہے دس دنوں کا کھیل ہے مگر اسے کیا خبر تھی کہ جس کو ھم کھیل سمجھ رہے ھیں، ھمارے سامنے والے اس میدان کے سکندر ہوں گے. ہم نے ایسے ایسے اللہ کی نصرت کی نشانیاں اور واقعات سنے کہ سنتے سنتے سبحان اللہ کا کلمہ زبان سے جاری ہو جاتا تھا.

    ان لوگوں نے اپنے سیاسی سماجی معاشی ہر قسم کے معاملات چلائے انہوں نے بھی اس دنیا میں رہنا سیکھا۔ وہ بھی ان دھمکیوں کا شکار ہوئے کہ ہماری بات کو تسلیم کرلو نہیں تو ہم تمہیں بلیک لسٹڈ کر دیں گے یا ہم تمہیں گرے لسٹ سے نکال دیں گے یہ سب دھمکیاں انہوں نے بھی سنیں مگر ان دھمکیوں کو سننے کے باوجود اپنی غیرت نہیں بیچی اپنے آپ کو ان کے چرنوں میں لٹا نہیں دیا.

    دیکھو اٹھاو ان کے بیانات۔۔۔
    ملا محمد عمر علیه رحمه الله کی وہ تقاریر۔۔۔
    ایک.غیرت ایک حمیّت
    ایک جذبہ نظر آتا ہے
    اے امریکیو! اے افغانی امریکیو! اپنے آپ کو دھوکے میں مت ڈالو! تمہارے اعمال کا نتیجہ بہت سخت ہوگا، یہاں قابض ہونے کے خواب دیکھنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

    افغانیو! اگر تمہیں اسلامی قوانین کی پرواہ نہیں تو پھر اسلام بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ تم امریکیوں کا ساتھ دیتے ہوئے جان دو گے تو مردار کہلاؤ گے۔ اے امریکیو! تم آجاؤ، میں بھی دیکھتا ہوں تم کس طرح آتے ہو اور جب تم آ جاؤ گے تو اپنا انجام بھی دیکھو گے”. 
    بس یہ تھا کے وہ ثابت قدم ہونے کے وقت ثابت قدم ہوئے اللہ کے فرامین کو سمجھنے والے بنے کہ
    ”دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)
    اور آج اللہ ان لوگوں کو ان کے ڈٹ جانے کا صلہ دے رہا ہے.
    اللہ انکو تمغے دے رہا ہے

    جن درویشوں کی فتح سے سجی سفید پگڑیاں اربوں کی تعداد میں بسنے والی مسلم امہ کو ایک راہ دکھا رہی ہیں
    کہ زندگی شیروں کی طرح جیو گیدڑوں کی طرح جی کے بھی آخر مر ہی جاو گے جب مرنا ہی ہے تو یا فاتح بن جاو یا شھید ہو جاو.
    وہ لوگ تب ثابت قدم رہے
    آج چوڑے سینوں کے ساتھ
    سفید پگڑیاں سر پہ سجائے
    اور وائٹ ہاوس کو جھکائے

    وہ ایک امن معاہدوں پہ دستخط کروا کے
    تکبیر کے نعرے بلند کرتے ہوئے مسلمانوں کو حمیت کا درس دے رہے ہیں.
    آج جب امن معاہدوں پہ ہوتے دستخط دیکھ رہا تھا تو ایک دم یہ الفاظ نکلے مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو یہ اس موضوع کے ساتھ ایک باب کا آغاز کرے گا "جب سفید پگڑیوں کے سامنے وائٹ ہاوس جھکا”

    سفید پگڑیاں اور وائٹ ہاوس
    تحریر: محمد عبداللہ اکبر

  • افغانستان کے 19خونیں سال،35سو اتحادی فوجی اور1 لاکھ افغان ہلاک ہوئے،لاکھوں ہی بے گھرہوگئے

    افغانستان کے 19خونیں سال،35سو اتحادی فوجی اور1 لاکھ افغان ہلاک ہوئے،لاکھوں ہی بے گھرہوگئے

    کابل :افغانستان کے 19خونیں سال،35سو اتحادی فوجی اور1 لاکھ افغان ہلاک ہوئے،تفصیلات کےمطابق افغانستان میں انیس سال تک جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایک لاکھ افغانوں اور 35سو اتحادی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو مجموعی طور پر 2ہزار ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

    ہفتے کے روز دوحہ میں امریکا اور طالبان کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد دو دہائیوں جاری جنگ اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم ان برسوں میں امریکا کو بھاری مالی و جانی نقصان اٹھانا پڑا۔دوسری جانب دہائیوں سے جنگی تباہ کارروائیوں کے شکار افغانستان میں مزید تباہ حالی کا شکار ہوا۔

    2001میں نوگیارہ کے واقعات کے بعد امریکا نے افغانستان میں اس واقعے کے ذمے داران کو کیفرکردار تک پہنچانے کا جواز بنا کر اپنے اتحادیوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔چند ماہ بعد ہی طالبان حکومت ختم ہوگئی اور اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کی دیگر قیادت پاک افغان سرحدی علاقوں میں روپوش ہوگئی۔ امریکا نے جنگ کو طول دیتے ہوئے افغانستان میں قیام کا فیصلہ کیا۔

    امریکا کا ساتھ دینے والے بین الاقوامی اتحاد نے 2014 میں اپنی افواج کو واپس بلانا شروع کردیا اوراپنی سرگرمیاں صرف افغان فوج کی تربیت تک محدود کردیں۔افغان طالبان 2001 میں پسپا ہونے کے بعد دوبارہ منظم ہونا شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ ان کی کارروائیوں میں تیزی آںے لگی۔ 2019 کے صرف آخر چار ماہ میں افغان طالبان نے 8204 حملے کیے جو ایک دہائی میں اس دورانیے میں ہونے والی سب سے زیادہ کارروائیاں تھیں۔

    کارروائیوں کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں امریکی ایئر فورس نے 7423 بم اور میزائل داغے جو 2006کے بعد سے سب سے زیادہ تعداد بنتی ہے۔گزشتہ برس برطانوی خبر رساں ادارے نے کی یہ رپورٹ سامنے آئی کہ افغانستان کے 70فی صد علاقوں میں طالبان اپنے قدم جما رہے ہیں۔

    گزشتہ پانچ برسوں میں افغان سیکیورٹی فورس کے 50ہزار سے زائد اہلکاروں کی ہلاکتیں ہوئیں اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ نیٹو افواج کے 3550 فوجی ہلاک ہوئے جن میں2400امریکی تھے۔

  • امریکا سے معاہدہ ، غیرملکی قبضے کا خاتمہ ہے ،حکومت پاکستان اوراہل پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہین ، ترجمان  سہیل شاہین

    امریکا سے معاہدہ ، غیرملکی قبضے کا خاتمہ ہے ،حکومت پاکستان اوراہل پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہین ، ترجمان سہیل شاہین

    دوحہ :امریکا سے معاہدہ ، افغانستان کی سرزمین غیرملکی قبضے کا خاتمہ ہے ،حکومت پاکستان اوراہل پاکستان کے تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہین ،افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکا سے امن معاہدے کے بعد ہمارے ملک سے غیرملکی قبضہ ختم ہوجائے گا۔

    افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا بات چیت کے ذریعے مان گیاکہ افغانستان سےنکل جائےگا، بین الافغان بات چیت کے ذریعے مستقبل کی حکومت پر بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ پرامن حل ہے، دونوں نے اس پر اتفاق کیا ہے اور ہماری کامیابی یہ ہےکہ ہمارے ملک سے غیرملکی قبضہ ختم ہوجائے گا۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ امریکا کے لیے بھی اطمینان ہےکہ مستقبل میں افغان سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، معاہدے میں کسی کا نام نہیں بلکہ یہ ہےکہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اور ہم اِس عزم پر قائم ہیں۔انہوں نے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پرامن حل کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ خلیجی ملک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک تقریب کے دوران افغان طالبان اور امریکا کے درمیان امن معاہد ہوا ہے۔افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے معاہدے پر دستخط کیے۔