Baaghi TV

Author: +9251

  • حج فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالے جانے کا انکشاف

    حج فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالے جانے کا انکشاف

    حج فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالے جانے کا انکشاف ،اطلاعات کےمطابق حج فارم 2020 میں سے ختم نبوت کوحلف نامے سے نکالنے کے انکشاف کے بعد تھرتھلی مچ گئی ہے، دھرذرائع کے مطابق اس سلسلےمیں آج قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور کا اجلاس اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حج فارم میں سے ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کا معاملہ اٹھایا گیا

    ذرائع کے مطابق حج فارم مین ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کا معاملہ چیئرمین کمیٹی مولانا اسعد محمود نے اٹھایا۔ جس کے جواب میں سیکرٹری مذہبی امورنے جواب دیا کہ ہم ختم نبوت کا حلف نامہ نکالنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
    چودہ صفحات کے فارم کو دو صفحات پر کرتے ہوئے ایک صفحے پر ختم نبوت کا حلف نامہ رکھا گیا

    سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ردعمل پر ڈیٹا فارم اور دوسرے فارم میں بھی ختم نبوت فارم ڈال دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ چالیس ہزار حج فارم جمع ہوچکے ہیں سب میں ختم نبوت کا حلف نامہ موجود ہے،جس ایک صفحے پر سے ختم نبوت حلف نامہ ہٹایا گیا تھا وہ بھی بحال کردیا گیا ہے

    وفاقی وزیرمذہبی امورنورالحق قادری نے کہا کہ میں قائمہ کمیٹی میں واضح کرنا چاہتا ہوں پہلے صفحے پر سے بھی ختم نبوت کا حلف نامہ نکالتے ہوئے مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا ،میں نے ساری زندگی ختم نبوت کی وکالت کی میری ہی وزارت نے میرے علم میں لائے بغیر ختم نبوت کا حلف نامہ نکال دیا۔

    نورالحق قادری نے کہا کہ ایشو کھڑا ہونے پر مجھے حج فارم کے اختصار کی تکنیکی وجوہات کا بتایا گیا ، انہوں نے کہا کہ اب ختم نبوت کا حلف نامہ دونوں فارموں پر موجود ہے

  • پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا

    پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا

    لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا سکینڈل سامنے آگیا۔ سکولز اور این جی اوز کی سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے س زائد کا ٹیکہ لگایا گیا۔

    ذرائع کےمطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد بچے سکولوں سے غائب ہیں۔ جبکہ سرکاری ریکارڈ جعلی بچوں کو ظاہر کر نے کے بعدسالانہ ایک ارب دس کروڑ روپے سےزائد کے فنڈز ہڑپ کیے گیے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق 2لاکھ چار ہزار بچہ سات روز سے ہی غائب پایا گیا جبکہ 83 ہزار 454 بچے ایک دن بھی سکول نہیں آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دو لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جن کا جعلی ریکارڈ تیار کر کے سرکاری خزانے سے ماہانہ فی بچہ کے حساب سے 550 روپے تقریبا دو سال سے ہی دئیے جا رہے ہیں اور یہ بھی تحقیقات میں بات سامنے آئی ہے کہ ماہانہ 15کروڑ 80لاکھ جبکہ سالانہ تقریبا ایک ارب 89کروڑ روپے کا سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگ رہا ہے۔

    اس حوالے سے سرکاری رپورٹ پر ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے سابق ایم ڈی کرنل (ر)عمران یعقوب جو کہ اس وقت ڈپٹی ایم ڈی کے طورپر کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈاطہر رئوف اور ڈپٹی ایم ڈی فنانس زبیدالسلام کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب بھی مانگ لیا ہے۔

    دوسری جانب یہی افسران سمیت چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن واسق قیوم عباسی، سیکرٹری سکولز پنجاب مراد راس کے علم میں ہونے کے باوجود معاملات پر خاموشی اختیار کئے رکھے ہیں اور اس معاملے کو دبانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن شمیم آصف کا کہنا ہے کہ معاملہ ان کے علم میں ہے، تحقیقات کی جارہی ہیں،، متعلقہ افسران سے جوابات مانگ لئے ہیں۔

  • امریکا اورافغان طالبان کے درمیان طئے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے

    امریکا اورافغان طالبان کے درمیان طئے پانے والے معاہدے کے اہم نکات سامنے آگئے

    لاہور: خطے میں امن کے لیے پاکستانی کوششیں رنگ لے آئیں، دوحہ میں افغان طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو گئے، امریکا اور اتحادی 14 ماہ میں افغانستان چھوڑ جائیں گے، فریقین کے درمیان 10 روز میں جنگی قیدی رہا کرنے پر بھی اتفاق ہو گیا، طالبان نے اپنی سر زمین امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔

    ذرائع کے مطابق 19 سالہ طویل جنگ کاخاتمہ ہو گیا، امریکا اور طالبان کے درمیا ن قطر میں امن معاہدے پر ہو گیا، طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادراور امریکا کی طرف سے زلمے خلیل زاد نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔دوحہ کے مقامی ہوٹل میں ہونے والی تقریب میں پاکستان کے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت 50 ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔

    معاہدے کے تحت طالبان افغان سرزمین کو امریکا اور اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دیں گے، عالمی مبصرین امن معاہدے کی پاسداری کے ضامن ہوں گے۔ طالبان 10 مارچ کو افغانستان کے اندر مختلف گروہوں کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں گے جہاں فریقین کے درمیان جنگ بندی کی تاریخ طے پائے گی

    امریکا اور اتحادی 14 ماہ میں تمام افواج، غیر سفارتی سویلینز، پرائیویٹ سیکورٹی کنٹریکٹرز اور ایڈوائزرز کا انخلایقینی بنایا جائے گا، معاہدہ کے 135 دن کے اندر 5 فوجی اڈوں سے فوجیوں کی تعداد 8600 تک کم کرے گا۔معاہدے کے تحت امریکا فریقین کے ساتھ مل کر سیاسی اور جنگی قیدیوں کی رہائی کے لئے منصوبہ بنائے گا، 10 مارچ تک طالبان کے 5 ہزار جبکہ طالبان کی جانب سے 1 ہزار قیدی رہا کئے جائیں گے۔

    امریکا27 اگست تک طالبان کے تمام ممبران سے پابندی ہٹائے گا جبکہ سلامتی کونسل کے ساتھ سفارتی کوششوں کے ذریعہ 29 مئی تک طالبان کے نمائندوں کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکالے جائیں گے۔
    معاہدے کی رو سے طالبان امریکا اور اتحادیوں کے لئے خطرہ بننے والے افراد کو واضح پیغام پہنچانے کے پابند ہوں گے، طالبان امریکا اور اتحادیوں کی حفاظت کی خاطر افراد اور گروہوں کو بھرتیاں کرنے، تربیت کرنے اور فنڈ ریزنگ سے روکیں گے۔

    طالبان تمام پناہ گزینوں کے ساتھ بین الاقوامی ہجرت کے قانون اور اس معاہدے کے مطابق سلوک کریں گے تا کہ کوئی فرد امریکا کے لئے خطرہ نہ بنے۔طالبان افغانستا ن میں داخلے کے لئے ان لوگوں کو ویزہ، پاسپورٹ اوردیگر قانونی دستاویز جاری نہیں کریں گے جو امریکا اورا تحادیوں کے لئے خطرہ ہوں۔

    معاہدے میں طے پایا کہ امریکا معاہدہ کی توثیق کے لئے سلامتی کونسل سے درخواست کرے گا، بین الافغان مذاکرات کے بعد قا ئم ہونے والی اسلامی حکومت کے ساتھ امریکا کے مثبت تعلقات ہونگے۔امریکا مذاکرات کے بعد قائم ہونے والی افغان حکومت کے ساتھ تعمیر وترقی کے لئے معاشی تعاون کرے گا، معاہدے کے تحت امریکا افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔

  • بورے والا : منشیات فروش گرفتار چرس برآمد

    بورے والا (نمائندہ باغی ٹی وی) علاقہ تھانہ صدر ایس ایچ او تھانہ صدر چوہدری طفیل گجر اور ان کی ٹیم

    اے ایس آئ عامر حسین ہمراہ ملازمین نے ڈبنگ کاروائی کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروش
    امجد قوم غفاری سکنہ 435 ای بی کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے 1640 گرام چرس اور وٹک رقم 340 روپے برآمد کر کے مقدمہ درج کرلیا

  • بورے والا : لڑائی کے دوران فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی

    بورے والا (نمائندہ باغی ٹی وی) دو گروپوں کے دوران لڑائی میں سیدھی فائرنگ

    تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کی حدود مل موڑ نزد فوارہ چوک میں دو گروپوں میں لڑائی جھگڑا کے دوران فائرنگ سے ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔
    زخمی ہونے والے شخص کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال بورےوالا منتقل کر دیا گیا۔
    زخمی ہونے والے کی شناخت عدنان جٹ ولد محمد اشرف سکنہ امجد ٹاون کے نام سے ہوئی ہے۔

  • امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان

    امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان

    اسلام آباد :امریکا طالبان معاہدہ دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے: میں شروع دن سے اس جنگ کے خلاف تھا ، وزیر اعظم عمران خان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاہدے کی کامیابی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ فریقین اس بات کو یقینی بنائیں کہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کےخواہاں عناصر کو کوئی موقع نہ مل سکے۔

     

    قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ امن اور مفاہمت کے ذریعے دہائیوں پر محیط جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف ہےکہ کتنی ہی پیچیدہ صورتحال کیوں نہ ہو، امن کا قیام سیاسی حل ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی دعائیں افغان عوام کے ساتھ ہیں جو 4 دہائیوں تک قتل و غارت گری کی آگ میں جلتے رہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اس معاہدے کی بقاء و کامیابی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے مکمل پرعزم اور تیار ہے۔

    معاہدے پر افغان طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکاکی جانب سے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے دستخط کیے۔دوحہ معاہدے کے تحت افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا آئندہ 14 ماہ کے دوران ہوگا جب کہ اس کے جواب میں طالبان کو ضمانت دینی ہے کہ افغان سرزمین القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کے زیر استعمال نہیں آنے دیں گے۔

  • ایف بی آر کا سسٹم بیٹھ گیا، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے مشکلات کا شکار

    ایف بی آر کا سسٹم بیٹھ گیا، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے مشکلات کا شکار

    اسلام آباد :ایف بی آر کا سسٹم بیٹھ گیا، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے مشکلات کا شکار،اطلاعات کےمطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے بنایا گیا آن لائن سسٹم بیٹھ گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    ایف بی آر کے آئرس (Iris) سسٹم کے ذریعے آن لائن ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جا سکتے ہیں لیکن آج آخری تاریخ ہونے کی وجہ سے آئرس پر بہت زیادہ رش ہے جس کی وجہ سے اس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ آئرس مسلسل کام نہیں کر رہا ہے اور وہ اس پر لاگ ان کرنے میں ناکام ہیں۔

    یاد رہے کہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے کی تاریخ میں 29 فروری کا توسیع کی تھی اور آج اس کا آخری روز ہے مگر سسٹم کے کام چھوڑنے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کے ٹیکس گوشوارے جمع نہ ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایف بی آر کے ترجمان نے گزشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی اور 29فروری کی رات12 بجے ایکٹو ٹیکس پیئرلسٹ 2018 سے2019 پرتبدیل کردی جائے گی۔ترجمان کے مطابق 2019کےگوشوارے نہ جمع کرانے والےافراد اس لسٹ سےخارج کردیے جائیں گے۔

  • عوام کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی

    عوام کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی

    اسلام آباد :عوام کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ، پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی،باغی ٹی وی کےمطابق حکومت کی طرف سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی،نئی قیمتوں کا اطلاق یکم مارچ یعنی کل سے ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے مارچ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے فی لیٹر تک کمی کردی۔وزرات خزانہ کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 111 روپے 60 پیسے فی لیٹر ہوگی۔

    وزرات خزانہ نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں بھی 5 روپے فی لیٹر کمی کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 122 روپے 26 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے فی لیٹر کمی کے بعد 92 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 7 روپے کمی کے بعد 77 روپے 51 پیسےفی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے یکم مارچ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو بھجوائی تھی جس میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ساڑھے 7 روپے تک کمی کی تجویز دی گئی تھی۔

  • پی آئی اے کے پائیلٹوں کی نااہلی ، یورپ میں آوارہ پھرتے رہے،یورپ کی فضائیہ حرکت میں رہی،اہلیت پرسوال اٹھ گئے

    پی آئی اے کے پائیلٹوں کی نااہلی ، یورپ میں آوارہ پھرتے رہے،یورپ کی فضائیہ حرکت میں رہی،اہلیت پرسوال اٹھ گئے

    اسلام آباد: باکمال لوگوں کی لاجواب سروس کے بے کمال امورنے رہی سہی کسربھی نکال دی ، باغی ٹی وی کےمطابق پی آئی اے کے پائیلٹس کی نااہلیت کے یورپ میں بھی چرچے ہونے لگے ، اطلاعات کےمطابق لندن سے اسلام آباد پہنچنے والی پروازپی کے 786 کا پائیلٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے رابطہ ہی نہ پایا ،اس بات کا انکشاف مشرقی یورپ سے ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق پی آئی اے کی پروازپی کے 786 جب مشرقی یورپ سے گزررہی تھی تواس وقت پی آئی اے کا پائیلٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے رابطہ نہ کرسکا ، ذرائع کے مطابق عین اسی وقت ایک اورپرواز جوکہ لندن ہیتھرو سے اسلام آباد کی طرف آرہی تھی وہ بھی 50 منٹ ایئرٹریفک کنٹرول سے گم رہی اوررابطہ نہ کرسکی

    باغی ٹی وی کےمطابق پی کے 786 کی پرواز کا اس وقت رابطہ منقطع ہوا جب وہ جرمنی کی فضاوں پرسے گزررہی تھی ،ہیرالڈ ایوی ایشن کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ Czech کی فضاوں میں جب پاکستانی مسافرطیارہ پی کے 777 پہنچا تواس وقت ایئرٹریفک کنٹرول کی طرف سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی پائیلٹ کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہ ہوا

    جرمن ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہےکہ اسی اثنا میں ایک اورپاکستانی طیارہ جوکہ انہیں فضائی حدود سے گزرنے والا تھا جرمن حکام نے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے اس کوجرمنی کی فضائی حدود میں آنے سے روکنا چاہا ،جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ہی پاکستانی طیارہ ہنگری کی حدود میں داخل ہوگیا اوراس وقت بھی پاکستانی پائیلٹ کسی سے رابطہ نہ کرپایا

    ادھر ذرائع کےمطابق ہنگری کی ایئرفورس کے جنگی طیارے اس کا گھیرا کرنے کرنے لگے ، مزے کی بات یہ ہے کہ اس قدر خطرے کے باوجود پاکستانی پائیلٹ نے کسی سے رابطہ نہ کیا اورآگے گزرگیا ،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جب پاکستانی طیارہ رومانیہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو پھر جاکراس کے ایئرٹریف کنٹرولر سے رابطہ ہوسکا ، ہیرالڈ ایوایشن ذرائع نے انکشاف کیا ہےکہ یوں پاکستانی طیارہ Czech.Slovakia اورہنگری کی فضاوں میں 50 منٹ تک خطرات میں گھرا مگربے پروارہا کسی سے رابطہ تک نہ کیا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے ہی پی آئی اے کی پروازپی کے 786 کا حال رہا جس سے ایئرٹریفک کنٹرول نے کئی باررابطہ کیا مگرکوئی جواب تک موصول نہ ہوا

    ہیرالڈ ایوی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ یہ پرواز بھی جب سلوواکیہ کی طرف پرواز کررہی تھی تواس کے رابطے بھی منقطع ہوگئے ، جس کی وجہ سے ان ممالک کی فضائی حدود میں اس وقت سخت ریسپانس کا ڈر تھا ،اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہےکہ ایئرٹریفک کنٹرول نے فروکینسی بدل کررابطہ کرنے کی کوشش کی توپھرجاکرپاکستانی پائیلٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت پاکستانی مسافر طیارہ خطرناک کئی مراحل طئے کرچکا تھا ،

    ہیرالڈ ایوی ایشن نے اس سارے خطرناک سفرکا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایئرٹریفک کنٹرول کی طرف سے مختلف ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستانی پائیلٹ اس پیغام کو نہ سمجھ سکے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی پائیلٹوں کو ایئرٹریفک سگنلز کے بارے میں کوئی خاص علم نہیں ہے

    پاکستانی طیاروں کی اس قدربے علمی اورنااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ ان حالات میں جب ان ممالک کے ایئرٹریفک کنٹرول سسٹم بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اورپاکستانی پائیلٹس کویہ سگنلز موصول ہورہے تھے لیکن ان کا جواب نہ دے کربہت بڑی غلطی کی ، ان تمام ممالک کی فضائیہ الرٹ ہوگئی اورکسی بھی وقت وہ ان پاکستانی طیاروں کو مارکرگراسکتے تھے ،

    ادھر یورپ میں پی آئی اے کے پائیلٹوں کے نااہلی کی تردید تو نہیں ، لیکن البتہ یورپ کی فضائیہ کے گھیرے میں‌آنے کی تردید ضرور کی ہے ، اس حوالے سے پی آئی اے کے ترجمان نے پھیلائی جانے والی رپورٹس کہ پی آئی اے کے طیارے کو چیک ائیرفورس کی حفاظتی تحویل والے واقعات کی تردید کی ہے۔

    پی کے 786 لندن تا سلام آباد 27 فروری کو کسی فائیٹر جہاز نے گھیرے میں نہیں لیاپی کے 786 ہنگری ائیر ٹریفک کنٹرولر کے ساتھ سلوکیا کی فضائی حدود تک مسلسل رابطے میں رہا ہنگری ائیرٹریفک کنٹرولر نے فضائی ٹریفک کے پیش نظر ڈائریکٹ روٹ دیا تھا جس کی تصدیق رومانیہ اور چیک حکام نے طیارہ سے کی

    پائلٹ کی طرف سے اجازت بتانے پر انہوں نے ڈاریکٹ راستہ برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ایسے واقعات یا خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر مطعلقہ ملک کو کی جاتی ہے۔ پی آئی اے کو کسی طرف سے بھی کوئی رپورٹ نہیں موصول ہوئی پائلٹ کی رپوٹ نے بھی کوئی غیرمعمولی واقع کی نشاندہی نہیں کی۔

  • کورونا وائرس ، جراثیمی جنگ کا کامیاب حملہ—-از— غلام زادہ نعمان

    کورونا وائرس ، جراثیمی جنگ کا کامیاب حملہ—-از— غلام زادہ نعمان

    کورونا وائرس کی تشخیص سب سے پہلے چین میں کی گئی جہاں انسانی ہلاکتوں کا شمار ممکن نہیں اس کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے چین کی معیشت کو بھی جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جس کی وجہ سے مجبوراً چین کو کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اتارنا پڑا۔

    کورونا وائرس بلاشبہ دجالی طاقتوں کا پھیلایا ہوا جال ہے جو اپنے سوا کسی کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتیں۔انہوں نے سب سے پہلے چین میں اس وائرس کو پھیلایا تاکہ اس کی بڑھتی ہوئی معیشت کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا جائے،اس چال میں وہ کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اس کے لئے ہمیں کچھ انتظار کرنا پڑے گا مگر فی الحال چین کے ساتھ عالمی تجارت مکمل طور پر بند ہے۔

    چین نے اپنی معیشت کو تباہ ہونے سے بچانے کے لئے کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو موت کی گھاٹ اتار دیا تاکہ چین کومزید نقصان سے بچایا جا سکے۔اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے بعد کورونا وائرس ایران پہنچ گیا ہےاور وہاں سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوگیاہے۔

    کورونا وائرس سےپاکستان میں دو شہری متاثر پائے گئے ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران سے زیارتیں کر کے آئے تھے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کا سن کرپورے ملک میں تھرتھلی مچ گئی۔ عام مجالس سے لے کرسوشل میڈیا تک سبھی نے اس مرض سے بچنےکےلئے قرآنی وظائف اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ ٹونے ٹوٹکے بھی بتانا شروع کر دیئے اور حفاظتی انتظامات کے بارے میں مختلف تجاویز بھی دینا شروع کر دیں اورمفت مشوروں کی بھرمار بھی کر دی کہ ہجوم میں نہ جائیں ، باہر کا کھانا نہ کھائیں ، لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں ، ہر تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ دھوئیں ،گلا خشک نہ ہونے دیں بار بار پانی پیتے رہیں وغیرہ وغیرہ۔

    https://login.baaghitv.com/wp-admin/post-new.php#

    یہاں آپ کی معلومات کے لئے ایک تحریرپیش کر رہا ہوں جسے سوشل میڈیا سے لیا گیاہے تاکہ آپ اندازہ لگا سکیں کہ دجالی قوتیں انسانوں کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کر رہی ہیں۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی موجودگی نے انسانوں سے انسانیت ہی چھین لی اور لوگوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے کیا کچھ نہ کیا گیا۔

    "کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے شہریوں نے ماسک خریدنے کےلئے میڈیکل اسٹوروں کا رخ کیا تو وہاں ماسک ختم ہوگئے ، بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں 15 مارچ تک چھٹیاں جبکہ کراچی کے تعلیمی ادارے یکم مارچ تک بندکردیئے گئے۔ سعودی عر ب نے بھی فوری طور پر پاکستان سے آنے والے زائرین پر پابندی عائد کردی ۔پاکستانی قوم کےلئے یہ ڈوب مرجانے کا مقام ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کی خبر پھیلنے کے ساتھ ہی دکانداروں نے سرجیکل ماسک کی قیمت 80 روپے سے 400 روپے اور میڈیکیٹڈ ماسک کی قیمت 1200سے3000 روپے تک بڑھا دی ہے۔ایسے دکاندار اور کاروبار کرنے والوں پراللہ کی لعنت ہو۔حالانکہ قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ وبا کے دوران ایسی چیزوں پر اپنا کاروبار چلانے والے منافع خور جہنم کی آگ میں جلیں گے۔

    بہر حال کورونا وائرس کے بارے میں مختصر طور پر عرض ہے کہ یہ وائرس انسان کے ہاتھوں لیبارٹری میں بنایا گیا جرثومہ ہے جسے خسرہ اور ممز کے دو جرثوموں سے ملا کر بنایا گیا ہے۔ اسے امریکا میں پیٹنٹ کیا گیا تھا جس کا پیٹنٹ نمبر 10,130,701 ہے۔ اس وائرس کا تعلق سارس اور انفلوئنزا کے خاندان سے ہے اور اس کی علامات اور تکلیفات بھی سارس اور فلو جیسی ہی ہیں۔ ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایسی بہت سی بیماریاں موجود ہیں جو کورونا وائرس کے مقابلے میں زیادہ جاں لیوا ہیں۔

    اس سلسلے میں فلو ہی کی مثال لے لیجئے کہ صرف امریکا میں ہی فلو سے اب تک 14 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ علاج معالجے کےلئے ڈھائی لاکھ افراد کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا2017 میں امریکا میں فلو سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 80 ہزار تھی۔ اسی طرح ہر سال دنیا بھر میں صرف ملیریا سے مرنے والے افراد کی تعداد کروڑوں سے تجاوز کرجاتی ہے مگر ان امراض کے بارے میں نہ تو کبھی ایسا ماحول بنایا گیا اور نہ ہی اس کے بچاؤ کے نام پر ملک کا محاصرہ کرنے جیسی کیفیت سامنے آئی جوکہ اب دیکھنے کو مل رہی ہے۔ حالانکہ اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد میں ہلاکت کی شرح دو تا تین فیصد ہے جو کہ قابل تشویش نہیں ہے۔

    قابل تشویش بات یہ ہے کہ کورونا وائرس ہر لحاظ سے منفرد ہتھیار ہے ایک تو یہ جراثیمی ہتھیار ہے جس کا ٹیسٹ کامیابی سے کیا گیا اس کا دوسرا پہلو زیادہ خوفناک ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے بچاؤکے نام پر پورے ملک کا مقاطعہ کردیا گیاہے۔یعنی چین کے اندر پانچ کروڑ سے زائد افرادکو کورونا وائرس کے نام پر قید کردیا گیاہے اور پوری دنیا میں چینی باشندوں کو کورونا وائرس کا نعم البدل سمجھ لیا گیاہے۔ امریکا اور یورپ میں مقیم چینی باشندوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات عام ہوگئے ہیں حالانکہ یہ چینی باشندے کئی برسوں سے چین گئے بھی نہیں تھے۔

    یوکرین میں وہاں کے باشندوں نے ایک ایسی بس پر پتھراؤ کردیا جس میں چین سے واپس آنے والے یوکرین کے باشندوں کو احتیاط کے طور پر قرنطینہ لے جایا جارہا تھا۔ کروز شپ پر موجود تین ہزار افراد کو کوئی ملک اپنی بندرگاہ پرکورونا وائرس کے خوف سے اترنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کروز شپ پر موجود ہرفرد کے اترتے ہی کورونا وائرس تیزی سے پھیل جائے گا اور سارے مقامی باشندے اس کی لپیٹ میں آکر مرجائیں گے۔

    الغرض کورونا وائرس کے نام پربڑی عجیب وغریب تصاویر سامنے آتی ہیں۔ خصوصاً سفید لباس پہنے کئی افراد پراسرار انداز میں کہیں مصروف ہیں اس تصویر کے نیچے کیپشن لگا ہوتا ہے کہ کورونا کے خلاف حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے۔ کیا کوروناوائرس کوئی کتے بلی کی طرح کی مخلوق ہے جو اسے یوں ڈھونڈھاجا رہا ہے۔ کوروناوائرس کے نام کے ساتھ ہی ایک عجیب و غریب تصور یہ بھی پھیلا دیا گیا ہے کہ جیسے وہ ہر طرف فضا میں موجود ہے اور ہر شخص کے تعاقب میں ہے۔

    یاد رکھئے اس تاثر کو پھیلانے میں شعبہ طب سے وابستہ افراد اور ان کی ایسوسی ایشنیں پیش پیش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی وائرس ہو وہ ہوا میں زندہ رہ ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ فوری طور پر مرجاتا ہے۔ ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کےلئے جسمانی رابطہ ضروری ہے یا کم از کم کھانسی اور چھینکنے کے دوران رطوبت براہ راست دوسرے شخص کی سانس کے ذریعے اندر داخل ہونا ضروری ہے۔

    مگر یہاں ہر کچھ دن کے بعد کسی نہ کسی ملک میں کورونا دریافت کرلیا جاتا ہے اور بعدازاں یہ کھیل شروع کردیا جاتا ہے جوکہ اب پاکستان میں کھیلا جارہا ہے۔ جنوبی کوریا اور اٹلی چونکہ طاقتور ہیں اسلئے ان کا مقاطعہ نہیں کیا گیا مگر ایران کے ساتھ دوسری صورتحال ہے۔ اب یہی کچھ پاکستان کے ساتھ ہونے کے اندیشے ظاہر ہورہے ہیں۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا مریض ڈیکلیئر کرنے میں بڑی عجیب و غریب صورتحال سامنے آئی۔

    کراچی کا یحییٰ جعفری اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک گروپ میں بذریعہ ہوائی جہاز ایران کی زیارتوں کےلئے 6 فروری کو تہران پہنچا اور 20 فروری کو واپس کراچی آیا 25 فروری کو اسے نزلہ ، زکام اور بلغم والی کھانسی کی شکایات ہوئی اور 26 فروری کو آغا خان اسپتال میں اسے داخل کیاگیا 27 فروری کی شام کو ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز حکومت سندھ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ یحییٰ جعفری میں کورونا وائرس تشخیص ہوا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل ہیلتھ سروسز کی جاری کردہ رپورٹ میں لیبارٹری رپورٹ کے سامنے لکھا ہوا ہے کہ رپورٹ کا انتظار ہے۔اسی طرح اسلام آباد میں دوسرے مریض کا انکشاف ہوا مگر اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

     بین الاقوامی معیار کے مطابق مشتبہ مریض کے کم ازکم دو نمونے تشخیص کےلئے لئے جانے چاہئیں۔ یہ نمونہ جات تنفس کی نالی کے بالائی اور زیریں حصے کی رطوبت کے اور بلغم کے ہونے چاہئیں مگر آغا خان اسپتال کراچی میں داخل مریض کا تنفس کی نالی کے بالائی حصے کی رطوبت کا صرف ایک ہی نمونہ لیبارٹری کو بھجوایا گیا جس کی رپورٹ بھی نہیں آئی تھی کہ مریض کا اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح بین الاقوامی معیار کے مطابق اگر پہلا ٹیسٹ مثبت آئے تو ملتے جلتے گیارہ وائرسوں کی تشخیص کےلئے مزید ٹیسٹ کرنے چاہئیں کیونکہ فلو HN1اور دیگر بیماریوں کی علامات اور ٹیسٹ کی رپورٹ بھی ملتی جلتی ہوتی ہیں اس لئے اعلان کرنے سے قبل توقف کرنا چاہئے تھا مگر کراچی کے کیس میں انتہائی جلد بازی اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

    دراصل پاکستان میں ایک مافیا ہے جو ہر طریقے سے اور ہر قیمت پر مال بنانے پر یقین رکھتی ہے پاکستان میں کورونا وائرس کے نام پر تواربوں روپے ادھر سے ادھر ہوسکتے ہیں۔ ماسک ، قرنطینہ ، سرکاری اداروں میں ٹیسٹ وغیرہ تو اس مافیا کےلئے سونے کی کان ثابت ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کا مریض ڈیکلیئر کرنے میں انتہائی جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیاہے اس میں بیرونی ہاتھ بھی ہوسکتا ہے جو اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بھارت سے ہر برس پاکستان سے زیادہ زائرین ایران جاتے ہیں مگر وہاں پر ایسی کوئی ہڑبونگ ہے اور نہ ہی وہاں پرعمرہ زائرین پر پابندیاں لگنی شروع ہوئی ہیں۔لہٰذااس پر بحیثیت قوم ہمیں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

    دنیاپر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کے سازشوں سے ہمیں باخبر ہونا چاہئے اور ان کے ان اوچھے ہتھکنڈوں سے خود بھی ہوشیار رہئے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھئے۔”
    اس ساری صورتحال کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عالمی صیہونی طاقتیں خصوصی طور پر پاکستان کو گھیرنے میں لگی ہوئی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ جو ممالک پاکستان کے حمایتی ہیں ان کے بارے میں بھی ان کے نظریات مثبت نہیں۔

    اب چین ہی کو لے لیجئے جو پاکستان کے ساتھ مل کر سی پیک بنا رہا ہے اسے ان دجالی طاقتوں نے کیسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی کہ وہاں کرونا وائرس چھوڑ دیا اور اس کی عالمی منڈی میں تجارت بند کر دی تاکہ معاشی طور چین کو کمزور کیا جاسکے اور یہ پاکستان کی کسی بھی طرح مدد سے باز رہے لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ یہ جتنا بھی مکروفریب سے کام لیں گے اتنا ہی اللہ کی تدبیر ان پر غالب رہے گی۔

    پاکستانی قوم کو کورونا وائرس سے گھبرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں بس توبہ استغفار پڑھیں اور دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔

    کورونا وائرس ایک دجالی فتنہ ہے،مسلمانوں کو اس سے گھبرانا نہیں بلکہ مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔۔۔اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    کورونا وائرس…….. غلام زادہ نعمان