(تحصیل بھیرہ)
بھیرہ ملکوال روڈ پر حضور پور اڈا بھٹی ہوٹل کے سامنے مسافر وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی
الحمداللہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔۔تمام مسافر محفوظ رہے آگ پٹرول پائپ لیک ہونے کی وجہ سے لگی۔ پنجاب ہائی وے پٹرولنگ پولیس چکسیدا کے اہلکاروں اور
موقع پر موجود لوگوں نے اپنی مدد اپکے تحت آگ بھجانے میں کامیاب رہے
پرانی اور سی این جی مسافر گاڑیوں کو چلانے پر پابندی عائد ہونی چاہیے عوام ۔۔۔۔۔
Author: +9251
-

(تحصیل بھیرہ) ملکوال روڈ پر حضور پور اڈا بھٹی ہوٹل کے سامنے مسافر وین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی
-

کیا کرونا وائرس پنجاب میں داخل ہوگیا ؟ صوبہ پنجاب میں 25 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ نیگٹو،لوگوں کی جان میں جان آگئی
لاہور: کیا کرونا وائرس پنجاب میں داخل ہوگیا ؟ صوبہ پنجاب میں 25 مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ نیگٹو،لوگوں کی جان میں جان آگئی ،اطلاعات کےمطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرونا وائرس کے 25 مشتبہ مریض سامنے آئے، جو سارے کے سارے نیگٹو ہیں۔
جناح ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیاء کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے آتے ہی کرونا وائرس کے خطرات کم ہو جائیں گے۔ ماسک صرف نزلہ اور زکام کے مریضوں کیلئے ضروری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قوت مدافعت کا نظام بہتر بنا کر کرونا وائرس سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
دوسری جناب ڈائریکٹر کمیونی کیبل ڈیزیزز ڈاکٹر شہناز نسیم کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے ڈرنے کی نہیں احتیاط کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں 25 مشتبہ مریض سامنے آئے، جو سارے کے سارے نیگٹو ہیں۔ احتیاطی تدابیر سے عمل کر کے کرونا وائرس سے بچا جاسکتا ہے۔
کرونا وائرس کی روک تھام اور علاج معالجہ کے حوالے سے لاہور کے تین ہسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ میو ہسپتال کی ایمرجنسی اور نارتھ میڈیکل وارڈ کرونا وائرس کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ میو ہسپتال میں 35 بیڈز اور پی کے ایل آئی میں 75 بیڈز پر مشتمل آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں۔ ڈریپ نے ادویہ ساز کمپنیوں کو فیس ماسک درآمد کرنے اور بنانے کے حوالے سے لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ادھر پنجاب کے دوسرے بڑے شہر فیصل آباد میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کی رپورٹ آ گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق شاہان نامی فیصل آباد کا یہ شہری چین سے آیا تھا۔ اس لیے شک کا اظہار کرتے ہوئے اسے الائیڈ ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
-

تفتان بارڈر کھل گیا، مسافروں کی سخت اسکریننگ،ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی شروع کردی گئی
کوئٹہ :تفتان بارڈر کھل گیا، مسافروں کی سخت اسکریننگ،ایران میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی شروع کردی گئی ،تفصیلات کے مطابق تفتان بارڈر کھولنے سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ٹیلیفونک رابطے میں بتایا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ تفتان کا بارڈر کھول دیا ہے، جو مسافر ایران سے واپس آ رہے ہیں ان کو قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے۔چاغی میں سرحدی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے آنے والوں کو پاکستان ہاؤس منتقل کردیا گیا اور جو افراد بھی پاکستان میں داخل ہوئے ہیں ان کی مکمل اسکریننگ کی جارہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے ایران سے آنے والے مسافروں سے متعلق بات چیت کی۔وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ 7 سے 8 ہزار افراد تفتان بارڈر سےپاکستان آ رہےہیں جنہیں قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے۔
دونوں وزرائےاعلیٰ نے مسافروں کا ڈیٹا ایک دوسرے سے شیئر کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر تفتان نجیب اللہ قمبرانی نے تصدیق کی ہے کہ پاک ایران سرحد پر یکطرفہ امیگریشن عارضی طور پر کھول دی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ فیصلے کے تحت ایران میں پھنسے 250 سے 300 سو پاکستانی ملک میں واپس آسکیں گے۔

نجیب اللہ قمبرانی نے بتایا کہ واپس آنے والوں میں زائرین سمیت دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ ایران میں پھنسے پاکستانیوں کے ویزا ختم ہونے والے تھے۔علاوہ ازیں انہوں نے مزید بتایا کہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے والوں کی اسکریننگ کی جارہی ہے اور واپس آنے والوں میں زائرین کو ہر صورت قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید واضح کیا کہ واپس آنے والے دیگر شہریوں کو تسلی بخش اسکریننگ کے بعد ہی انہیں جانے دیا جائے گا۔
دوسری جانب بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ٹوئٹ میں کہا کہ پاک ایران سرحد پر پھنسے تقریباً 350 پاکستانیوں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر ایران کی سرحد پر پانچوں داخلی مقامات تفتان ، گوادر ، تربت ، پنجگور اور واشوک کو عارضی طور پر بند کردیا تھا۔
-

رات گئے پاکستان میں نئے امریکی سفیر ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کی نامزدگی بہت اہم قراردی جانے لگی
اسلام آباد:رات گئے پاکستان میں نئے امریکی سفیر ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کی نامزدگی بہت اہم قراردی جانے لگی ،اطلاعات کےمطابق امریکا کے ڈپٹی انڈر سیکرٹری فار منیجمنٹ ولیم ایڈورڈ ٹوڈ کو پاکستان کے لیے امریکا کا نیا سفیر نامزد کردیا گیا۔
ولیم ای ٹوڈ نے حالیہ دنوں میں امریکا کے جنوب اور وسطی ایشائی امور کے قائم مقام اسسٹنٹ سیکرٹری کے طور پر کام کیا اور وہ فروری 2018 میں ڈپٹی انڈر سیکرٹری برائے منیجمنٹ مقرر کیے گئے۔دوسری طرف اہم حلقے قطرمیں افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے سے ایک دن قبل امریکی سفیر کی نامزدگی کواہم قراردے رہے ہیں
ولیم ای ٹوڈ جون 2017 سے مئی 2019 تک قائم مقام انڈر سیکرٹری فار منیجمنٹ رہے اور جون 2017 سے جنوری 2019 تک فارن سروس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی کام کیا۔ولیم ای ٹوڈ کمبوڈیا اور برونائی میں امریکا کے سفیر رہ چکے ہیں جبکہ ای ٹوڈ نے کابل میں امریکی سفارت خانے اور امریکی محکمہ خارجہ میں بھی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔
-

ایک طرف شام میں جنگ میں ترک فوجیوں کی ہلاکتیں تودوسری طرف اسرائیل نے ڈرون حملہ کردیا
دمشق: ایک طرف شام میں جنگ میں ترک فوجیوں کی ہلاکتیں تودوسری طرف اسرائیل نے ڈرون حملہ کردیا ،اطلاعات کےمطابق قابض اسرائیلی فوج نے گولان پہاڑی کے رہائشی علاقوں پر ڈرون حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی فوج نے ڈرون کے ذریعے حملہ کیا جس کے نتیجے میں اسرائیلی قبضے کیخلاف عسکری جدوجہد کرنے والی تنظیم کا اہلکار شہید ہوگیا۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون حملہ جنگجوؤں کے ٹھکانے پر کیا گیا ہے جو عسکری کارروائی کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے۔ حملے میں جنگجو زخمی بھی ہوئے جو موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
دوسری جانب شامی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ڈرون نے رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے جس میں جاں بحق ہونے والا ایک شہری ہے جب کہ شہریوں کی املاک کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے تاہم زخمیوں کی تعداد سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گولان پہاڑیوں پر اسرائیل نے بزور طاقت قبضہ کیا ہوا ہےاور شام میں 2011 میں خانہ جنگی کے بعد سے صورت حال مزید ابتری کا شکار ہے اور اسرائیلی حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
-

نئی دہلی فسادات:بنگالی مسلمان جاگ اٹھے : ہزاروں بنگلا دیشی مسلمان سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج، مظاہرے
ڈھاکا: نئی دہلی فسادات:بنگالی مسلمان جاگ اٹھے : ہزاروں بنگلا دیشی مسلمان سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج، مظاہرے،اطلاعات کےمطابق بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کی مرکزی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور مودی مخالف نعرے لگائے گئے جبکہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے دورہ بھارت منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پانچ روز سے احتجاج جاری ہے، اس احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے، ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے، مسلمانوں کی درگاہ اور مساجد پر حملے کے ساتھ ساتھ ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیشی دارالحکومت کی مرکزی مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمان باہر نکل آئے اور نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے خلاف احتجاج کیا۔ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے بیت المکرم کی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے پیچھے بھارتی حکومت کا ہاتھ ہے جو مسلمانوں اور ہندوؤں کو آپس میں لڑوا رہی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلا دیشی دارالحکومت میں مظاہرین کی طرف سے احتجاج کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کے پتلے بھی نذر آتش کیے گئے جبکہ مودی مخالف نعرے بھی لگائے گئے۔مظاہرین نے بنگلا دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کی نسل کشی رکوائی جائے اور مسلمانوں کو بچانے کے ساتھ ساتھ وہ اپنا آئندہ ماہ دورہ بھارت منسوخ کر دیں۔
مظاہرین کے دوران ایک شہری نور حسین کا کہنا تھا کہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر بھارت کا دورہ منسوخ کریں، اگر بنگلا دیشی وزیراعظم اپنا دورہ منسوخ نہیں کرتی تو ہم بزور طاقت یہ دورہ منسوخ کروائیں گے اور ایئر پورٹ کا گھیراؤ کریں گے۔

مظاہرین نے احتجاج کے دوران بنگلا دیشی مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ رواداری کا مظاہرہ کریں اور ہندو اقلیتیوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ کیونکہ ہم تشدد نہیں بلکہ امن اور ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے، آج مزید دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں ، ایوب شبیر نامی شخص کو ڈنڈوں سے تشدد کر کے مار دیا گیا، بیٹے کا کہنا تھا کہ والد کباڑیے کا کام کرتے تھے، صبح باہر نکلے تو مار دیے گئے۔

دوسری طرف مشتعل ہجوم نے ایک مسلمان کے گھر کو آگ لگا دی جس کے باعث 85 سالہ خاتون جان بحق ہو گئی، اکبری نامی خاتون دم گھٹنے سے جان کی بازی ہار گئی۔بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 42 ہے، 38 کا انتقال جی ٹی بی ہسپتال میں ہوا، تین کا انتقال ایل این پی جی ہسپتال میں ہوا جبکہ ایک کی ہلاکت جگ پرویش چندرا ہسپتال میں ہوئی۔اُدھر بھارتی میڈیا نے 42 میں سے 28 ہلاک شدگان کی فہرست جاری کر دی ہے، مرنے والوں میں 20 مسلمان اور 8 ہندو ہیں۔ فسادات میں دو سو سے زائد زخمی اب بھی ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالات تشویشناک بتائی گئی ہے۔
حالات قابو سے باہر ہونے کے بعد بھارتی فوجیوں نے گشت شروع کر دیا ہے، نئی دہلی میں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہو کا عالم ہے اور مقبوضہ کشمیر والا منظر سامنے آ رہا ہے۔ دہلی کے شمال مشرقی محلے میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران شہید ہونیوالی مساجد میں مسلمانوں نے پہلی بار ہفتہ وار نماز جمعہ ادا کی ہے۔
جمعے کو دہلی کے مضافات میں مسجد کی چھت پر تقریباً 180 مسلمانوں نے نماز جمعہ ادا کی۔ نمازیوں میں سے ایک محمد سلیمان کا کہنا تھا کہ اگر وہ ہماری مسجدوں کو جلائیں گے تو ہم انہیں دوبارہ تعمیر کر لیں گے اور دعا کریں گے۔ یہ ہمارا مذہبی حق ہے اور کوئی بھی ہمیں اس حق سے روک نہیں سکتا۔
واضح رہے کہ دہلی میں گزشتہ اتوار کو شہریت ترمیمی قانون کے مخالفین اور حامیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئی تھیں اور پھر بعد میں یہ تشدد مسلم کش فسادات کی شکل اختیار کرگیا۔ بھارتی پارلیمان سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہونے والے مسلم کش فسادات تین روز تک جاری رہے جس میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گيا۔
دریں اثناء نئی دہلی میں ہونے والے فسادات کے بعد امتحانات کے التواء کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، نئی دہلی ہائیکورٹ نے حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس ہر حال میں کچھ کر کے دکھائے اور سکیورٹی میں اپنا کردار ادا کرے۔دریں اثناء عالمی میڈیا بھی نئی دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو سامنے لے آیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی میڈیا پر بھی بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات پر آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں ہونے والے فسادات گجرات قتل عام کے بعد بد ترین فسادات ہیں، فسادات کی وجہ مودی سرکار کا شہریت سے متعلق قانون ہے۔امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ دلی فسادات کے پیچھے صرف ایک شخص کپل مشرا کا ہاتھ ہے، بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے گلی کوچے کسی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
ایک اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ 42 افراد کی ہلاکت کے بعد دہلی پولیس کی اہلیت پر انگلیاں اٹھنے لگی ہیں، پولیس فسادیوں کو روکنا نہیں چاہتی یا روک نہیں سکتی۔
ا۔
-

سکھر: مسافر کوچ ٹرین کی زد میں آگئی20 افراد جاں بحق ،درجنوں شدید زخمی
سکھر: سکھر: مسافر کوچ ٹرین کی زد میں آگئی20 افراد جاں بحق ،درجنوں شدید زخمی ،اطلاعات کےمطابق صوبہ سندھ میں روہڑی ریلوے پھاٹک پر مسافر کوچ ٹرین کی زد میں آگئی جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق روہڑی ریلوے پھاٹک پر افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے، مسافر کوچ ٹرین کی زد میں آگئی، حادثے میں 20 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔پولیس حکام نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جائے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 26 جنوری کو سندھ کے شہر خیرپور میں واری گوٹھ کے مقام پر برنس ایکسپریس کی 6 بوگیاں ٹریک سے اترگئی تھیں۔ ٹرین کے پٹری سے اترنے کے حادثے کے باعث 500 میٹر تک ٹریک کو نقصان پہنچا تھا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں صوبہ پنجاب کے شہر لیاقت پور کے قریب تیز گام ٹرین کی 3 بوگیوں میں آگ لگ گئی تھی جس کے نتیجے میں 74 افراد جاں بحق ہوگئے تھے
-

بالآخرپیپلزپارٹی کی سنی گئی :امام کلیم کا جانا ٹھہرگیا : وفاقی حکومت نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ مقرر کردیا
اسلام آباد :بالآخرپیپلزپارٹی کی سنی گئی : وفاقی حکومت نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ مقرر کردیا،اطلاعات کےمطابق ذرائع کے مطابق وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان آئی جی کی تبدیلی کا معاملہ حل ہوگیا اور وفاقی کابینہ نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد حکومت نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ تعینات کرنے کا نوٹیفیکشن جاری کردیا۔سندھ حکومت نے گریڈ 22 کے ایک اور 21 کے 4 نئے ناموں کی سمری بھجوائی تھی جن میں گریڈ 22 کے مشتاق مہر اورگریڈ 21 کے غلام قادر تھیبو شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق گریڈ 21 کے کامران فضل، ثناء اللہ عباسی اور انعام غنی کے نام بھی سمری میں شامل تھے تاہم وفاقی کابینہ نے مشتاق مہر کے نام کی منظوری دی۔یاد رہے کہ پچھلے چند ہفتوں سے سندھ حکومت موجودہ آئی جی سندھ امام کلیم کوہٹانے کا مطالبہ کررہی تھی ، جس کے بعد ایک نیا تنازع پیدا ہوگیا
-

ایشیا کرکٹ کپ کہاں ہوگا ، سوروگنگولی نے اجلاس سے پہلے ہی دعویٰ کردیا
ایشیا کرکٹ کپ کہاں ہوگا ، سوروگنگولی نے اجلاس سے پہلے ہی دعویٰ کردیا
باغی ٹی وی :بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی نے دعوی کیا ہے کہ ایشیا کپ کا آئندہ ایڈیشن رواں سال کے آخر میں متحدہ عرب امارات میں ہوگا۔
3 مارچ کو ہونے والے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے اجلاس کے لئے دبئی روانگی سے قبل ایڈن گارڈن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ، بی سی سی آئی کے صدر نے ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی شرکت کی تصدیق کی ہے .
واضح رہے کہ پہلے یہ خبر تھی کہ ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان میں ہوگا یا پھر کسی دوسرے مقام پر فیصلہ تین مارچ کو ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں ہوگا، اے سی سی کا اہم اجلاس تین مارچ سے دبئی میں ہوگا، اجلاس میں ایشیا کپ کے انعقادکے حوالے سے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ چیئرمین پی سی بی احسان مانی اور چیف ایگزیکٹو وسیم خان اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ ایشین کرکٹ کونسل نے ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کو سونپی ہے تاہم انڈین کرکٹ بورڈ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی بنا پر پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ایشین کرکٹ کونسل کادبئی میں ہونے والا اجلاس اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی سی بی نے ایشیا کپ کی میزبانی کے حوالے سے پلان بی تیار کرلیا ہے اور پاک بھارت کشیدگی کے باعث ایشیا کپ دبئی میں کروانے پر غور جاری ہے ۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کا نام بھی ایشیا کپ کی میزبانی کے لئے گردش کررہا ہے، اس سے قبل پاکستان کے بھارت میں کھیلنے سے انکارکے بعد انڈین بورڈ نے ایشیا کپ 2018 متحدہ عرب امارات میں کروایا تھا، ایشیا کپ دبئی یا کسی اور مقام پر منتقل ہونے کی صورت میں ایونٹ کا میزبان پاکستان ہی ہوگا
-

بنگلہ دیشی کرکٹر مشفق الرحیم پاکستان کے دورے بارے اپنی ضد پر قائم
بنگلہ دیشی کرکٹر مشفق الرحیم پاکستان کے دورے بارے اپنی ضد پر قائم
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : بنگلہ دیشی کرکٹر مشفق الرحیم نےدو ٹوک کہہ دیا کہ وہ اس معاملے پر بی سی بی کے صدر نجم الحسن کے سخت موقف کے باوجود ، دورہ پاکستان کو ترک کرنے سے متعلق اپنا ارادہ نہیں بدلیں گے جبکہ .بی سی بی کے صدر نے کہا تھا کہ مشفیق باقی ٹیم کے ساتھ دورہ کرنے کے لئے معاہدے کے پابند ہیں۔
بنگلہ دیش کا دورہ پاکستان تین حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا ، اور ان میں سے آخری اپریل کے اوائل میں کھڑا ہے ، دونوں ٹیموں نے پہلے جنوری میں لاہور میں تین ٹی ٹونٹی سیریز اور پھر پہلا ٹیسٹ رواں ماہ کے شروع میں راولپنڈی میں کھیلا تھا۔ بنگلہ دیش کی اننگز اور 106 رنز کی فتح میں اس ہفتے کے شروع میں ڈھاکہ میں زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میں تیسری ڈبل سنچری بنانے والے مشفیق نے اس سے قبل یہ کہتے ہوئے سفر کرنے سے انکار کردیا تھا کہ ان کے اہل خانہ ان کی حفاظت بارے خدشات کا شکار ہیں.وہ واحد بنگلہ دیشی کرکٹر تھے جنہوں نے پاکستان سفر سے انکار کیا تھا۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نجم الحسن کہ جنہوں نے جنوری میں ٹور کی تاریخوں کا اعلان کرنے سے پہلے کہا تھا کہ ہر کھلاڑی کو یہ کو حق ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ کرنا چاہتا ہے یا نہیں ، اس نے مشفق الرحیم کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے زمبابوے پر بنگلہ دیش کی فتح کے بعد یو ٹرن لے لیا تھا.
انہوں نے کہا تھا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ مشفق جائیں گے ۔ نہ صرف انہیں بلکہ ہر معاہدہ کرنے والے کھلاڑی کو بھی جانا چاہئے۔کھلاڑیوں کو ملک کے بارے میں سوچنا ہوگا ، اور نہ کہ صرف اپنی ذات برے . یہ مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوتا ہے۔ ملک ہر چیز سے مقدم ہے۔
بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر نے واضح کیا کہ ہر ایک کو اس کو دھیان میں رکھنا چاہئے۔ ہم انہیں یاد دلائیں گے کہ معاہدہ کرنے والے کھلاڑیوں کو ان معاہدے کے مطابق کھیلنا چاہئے .