Baaghi TV

Author: +9251

  • پڑھنا نہ بھولیئے : کورونا وائرس سمیت متعدد امراض سے بچنے کا آسان ترین نسخہ ماہرین طب نے بتا دیا

    پڑھنا نہ بھولیئے : کورونا وائرس سمیت متعدد امراض سے بچنے کا آسان ترین نسخہ ماہرین طب نے بتا دیا

    لندن :پڑھنا نہ بھولیئے : کورونا وائرس سمیت متعدد امراض سے بچنے کا آسان ترین نسخہ ماہرین طب نے بتا دیا ، رپورٹس کے مطابق ماہرین طب نے کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ نصیحتیں کی ہیں اورکچھ علاج بھی بتایا ہے ، ماہرین طب کا کہنا ہےکہ جب وائرل انفیکشن سے بچنے کی بات ہو، خصوصاً ایسے امراض جو کھانسی اور چھینک سے خارج ہونے والے ذرات سے پھیلتے ہوں تو ہاتھوں کی صفائی پہلی دفاعی دیوار ہوتی ہے۔

    چین سے مختلف ممالک میں پھیلنے والے نئے کورونا وائرس کی وبا سے بچنے کا بھی سب سے آسان طریقہ ہاتھوں کی درست طریقے سے صفائی ہے۔عالمی ادارہ صحت نے نوول کورونا وائرس کی روک تھام سے بچاﺅ کے لیے جو ہدایات جاری کی ہیں، ان میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو اپنے ہاتھ اکثر صابن اور پانی سے دھونے چاہیئیں۔

    اور میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کی ایک تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ ہاتھوں کی صفائی امراض کے پھیلاﺅ کی روک تھام سست کرنے کے لیے کتنی ضروری ہے۔جریدے رسک اینالائسز میں شائع تحقیق میں دیکھا گیا کہ ذاتی صفائی امراض کے پھیلاﺅ کی شرح کے حوالے سے کس حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔

    محققین نے اس حوالے سے دعویٰ کیا کہ ٹوائلٹ جانے کے بعد 30 فیصد افراد اپنے ہاتھ نہیں دھوتے جبکہ باقی 50 فیصد درست طریقے سے ہاتھ دھوتے ہیں اور 20 فیصد کا طریقہ غلط ہوتا ہے۔ماہرین کے مطابق ہاتھوں کو دھونے سے قبل کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن سے رگڑنا چاہیے اور دھونے کے بعد ہاتھوں کو صاف تولیے سے خشک کرنا چاہیے۔

    عالمی ادارہ صحت نے ہاتھوں کی صفائی کے لیے چند نکات بیان کیے ہیں اور اسے بہتر طریقہ کار قرار دیا ہے۔اس طریقہ کار کے تحت سب سے پہلے اپنے ہاتھ گیلے کریں اور پھر صابن لگائیں، اپنی ہتھیلی کو اس وقت تک رگڑیں جب تک صابن کے بلبلے نہ بن جائیں۔

    اس کے بعد ایک ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی پشت پر رگڑیں اور پھر یہی کام دوسری ہتھیلی سے کریں۔دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان اچھی طرح رگڑیں۔اپنی انگلیوں کی پشت کو رگڑیں اور اس سے پہلے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملالیں۔

    5ویں نکتے پر اپنے بائیں انگوٹھے سے دائیں ہتھیلی کو گھڑی کی سوئیوں جیسی حرکت کے ذریعے رگڑیں، اس کے بعد یہی کام بائیں ہتھیلی پر دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے کریں۔اب یہی کام ہتھیلیوں کی پشت پر کریں یعنی انگوٹھے سے گھڑی کی سوئیوں جیسی حرکت کے ذریعے رگڑیں۔

  • محبت کی شادی پر یقین نہیں رکھتی،ایسی محبتیں دشمنیوں اورنفرتوں میں‌تبدیل ہوجاتی ہیں‌،والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے ،  سارہ خان

    محبت کی شادی پر یقین نہیں رکھتی،ایسی محبتیں دشمنیوں اورنفرتوں میں‌تبدیل ہوجاتی ہیں‌،والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے ، سارہ خان

    اسلام آباد:محبت کی شادی پر یقین نہیں رکھتی،ایسی محبتیں دشمنیوں اورنفرتوں میں‌تبدیل ہوجاتی ہیں‌،والدین کی رضا میں اللہ کی رضا ہے ، اطلاعات کےمطابق اداکارہ سارہ خان نے کہا کہ وہ محبت کی شادی پر یقین نہیں رکھتیں۔ وہ محبت کی شادی کرنے کے بجائے اپنے والدین کی پسند کو زیادہ ترجیح دیں گی ۔

    ذرائع کےمطابق سارہ خان نے ایک اداکارہ سارہ خان نے کہا کہ میں نے دنیا میں ایسی محبتوں کی شادیوں کوناکام ہوتے دیکھا ہے،پہلے محبت ہوتی ہے پھر،نفرت ہوتی ہے اوربالآخرایسی شادیاں دشمنی کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں ،

    سارہ خان نے کہا کہ وہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا سمجھتے ہیں ، والدین سے زیادہ عزت کسی کی نہیں جووالدین کی عزت کا خیال نہیں رکھتیں دنیا میں ان کی عزت نہیں رہتی ، میں اپنے والدین کے فیصلے پرشاکررہوں گی

    ذرائع کے مطابق اداکارہ نے کہا کہ وہ ہمیشہ سے مانتی ہیں خواتین مردوں کی نسبت زیادہ طاقتور ہیں اس لئے حقوق کی برابری کیلئے لڑنے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔سارہ خان نے کہا کہ ایک دوسرے کے حق کا خیال رکھا جائے تو پھراپنے حق کی تلافی نہیں ہوتی

    اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں آنے والی مشکلات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ واضح رہے کہ سارہ خان نے مختلف ڈراموں میں اپنی شاندار پرفارمنس سے اداکاری کا لوہا منوایا ہے۔ ‘بڑی آپا’، ‘مرآت العروس’، ‘الوداع ’ اور ‘تم میرے ہو’ جیسے متعدد ڈرامے ان کے کیرئیر کے شاہکار ہیں۔

  • کورونا وائرس نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں‌ ،وائرس کے حملے کے ڈرسے ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا

    کورونا وائرس نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں‌ ،وائرس کے حملے کے ڈرسے ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا

    ٹوکیو:کورونا وائرس نے دنیا کی خوشیاں چھین لیں‌ ،وائرس کے حملے کے ڈرسے ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا،اطلاعات کےمطابق چین سے شروع ہونے والے کورونا وائرس کے سبب رواں سال جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں شیڈول اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے اور عالمی اولمپکس ایسوسی ایشن اس معاملے پر آئندہ 2ماہ میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

    چین کے صوبے ہوبے کے دارالحکومت ووہان سے شروع ہونے والے اس مہلک وائرس سے دنیا کے سب سے بڑے آبادی کے حامل ملک میں مزید 71ہلاکتیں ہو گئی ہیں جس سے صرف چین میں اس وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2ہزار 633 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 77 ہزار سے زائد افراد اب تک اس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    چین کے بعد سب سے زیادہ 977 کیسز جنوبی کوریا سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں 10افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔اب مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ساتھ ساتھ امریکا میں بھی اس وائرس کے پھیلنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جس کے بعد رواں سال شیڈول ٹوکیو اولمپکس کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    انٹرنیشنل اولمپکس ایسوسی ایشن میں سب سے طویل مدت تک رکن رہنے کا اعزاز رکھنے والے ڈک پاؤنڈ نے کہا کہ ہمارے پاس 24جولائی سے شروع ہونے والے اولمپکس کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے مزید 2ماہ کا وقت ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس وقت تک وائرس پر قابو پا لیا جائے گا۔

    ڈک پاؤنڈ آئی او سی کے موجودہ صدر باک سے بھی طویل عرصے سے اولمپکس ایسوسی ایشن کے رکن ہیں جہاں وہ 1978 میں انٹرنیشنل اولمپکس ایسوسی ایشن کے رکن بنے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں مئی تک فیصلہ کرنا ہو گا کہ اولمپکس کا انعقاد کرانا ہے یا نہیں کیونکہ ہمیں کھانے، سیکیورٹی، کھلاڑیوں کی رہائش، اولمپک ولیج، ہوٹلز اور میڈیا کے لیے انتظامات سمیت متعدد معاملات دیکھنے ہوں گے۔اولمپکس میں تقریباً 11ہزار ایتھلیٹس کی شرکت متوقع ہے اور 25اگست سے شروع ہونے والے پیرالمپکس میں 4ہزار 400ایتھلیٹس کی شرکت کا امکان ہے۔

    یاد رہے کہ 1896 میں شروع ہونے والے جدید اولمپکس کو صرف جنگ کے دنوں میں منسوخ کیا گیا اور چند مواقع پر مختلف ملکوں کے بائیکاٹ کے باوجود اولمپکس منعقد ہوئے۔اس سے قبل آخری مرتبہ جنگ عظیم دوم کے باعث 1940 میں اولمپکس منسوخ کیے گئے تھے اور اس وقت بھی اولمپکس کا انعقاد ٹوکیو میں ہی ہونا تھا۔

    اولمپکس کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کے سوال پر ڈک پاؤنڈ نے کہا کہ اس کا انحصار جاپان پر ہے کہ کیا وہ مزید ایک سال التوا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں یا نہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان اب تک اولمپکس کے انعقاد کے سلسلے میں کم از کم 12.6ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے لیکن سرکاری آڈٹ رپورٹ کا کہنا تھا کہ اولمپکس کی تیاری پر اس سے بھی دگنی رقم خرچ کی گئی ہے۔

  • آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ  سے مصری وزیردفاع جنرل محمد احمد کی اہم ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے مصری وزیردفاع جنرل محمد احمد کی اہم ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے مصری وزیردفاع جنرل محمد احمد کی اہم ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مصر کے وزیردفاع جنرل محمد احمد ذکی نے ملاقات کی، اس دوران اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جنرل قمرجاوید باجوہ اور جنرل محمد احمد ذکی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی اور دفاعی تعاون پر بھی بات چیت ہوئی۔پاک فوج نے بتایا کہ ملاقات میں سیکیورٹی کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا جبکہ مصری وزیردفاع نے پاک فوج کی کامیابیوں کی تعریف بھی کی۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یورپی یونین کے وفد نے ملاقات کی تھی، اس دوران کشمیر صورت حال سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 17 فروری کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی تھی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

  • کرونا وائرس کیا ہے ، ابتداکیسے ہوئی اوردنیا پرکس طرح اپنا خوف قائم کررکھا ہے، خصوصی رپورٹ

    کرونا وائرس کیا ہے ، ابتداکیسے ہوئی اوردنیا پرکس طرح اپنا خوف قائم کررکھا ہے، خصوصی رپورٹ

    لندن :چین کے شہر ووہان میں پہلی بار نمودار ہونے والے وائرس سے اب تک 27 سو سے زائد ہلاکتیں اور 81 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    دوسری طرف پاکستان کے لیے بھی خطرے کی گھنٹیاں بج چکی ہیں اوردوپاکستانیوں کے اندر کرونا وائرس پائے جانے کی تصدیق ہوگئی ہے

    کراچی کا رہائشی یحییٰ جعفری نامی نوجوان ایران سے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا تھا۔ طبی معائنے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی دو پاکستانیوں میں اس وائرس کی تصدیق کی ہے۔

    یہ وائرس جسےپہلے عارضی طور پر 2019 نوول کورونا یا این کوو اور اب کووڈ19 کا آفیشل نام دیا گیا ہے، کے بارے میں سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت نے 31 دسمبر کو بتایا تھا اور جب سے اس کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے، تاکہ اس کی روک تھام کے حل کو جلدازجلد سامنے لایا جاسکے۔

     

    چین کے سائنسدانوں نے اسے وائرس کے ایک خاندان کورونا وائرسز سے جوڑا ہے جس میں 2000 کی دہائی کا خطرناک سارس وائرس بھی شامل ہے۔

    سائنسدان اب تک پوری طرح اس نئے وائرس کی تباہ کن صلاحیت کو سمجھ نہیں سکے ہیں جبکہ محققین نے اب اس کی ابتدا، اس کی منتقلی اور پھیلاﺅ کے بارے میں تعین کرنا شروع کیا ہے۔

    چین کی جانب سے اس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت کی خصوصی کمیٹی نے جنوری کے آخری ہفتے میں اسے عالمی سطح پر عوامی ایمرجنسی قرار دیا۔

    اس وائرس کے بارے میں صورتحال بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اب اس پراسرار وائرس کے بارے میں آپ وہ سب کچھ جان سکیں گے جو اب تک سامنے آچکا ہے اور ایسے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن سے آپ اس میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔

    کورونا وائرس کیا ہے؟

    شٹر اسٹاک فوٹو

    کورونا وائرس کو جراثیموں کی ایک نسل Coronaviridae کا حصہ قرار دیا جاتا ہے اور مائیکرو اسکوپ میں یہ نوکدار رنگز جیسا نظر آتا ہے، اور نوکدار ہونے کی وجہ سے ہی اسے کورونا کا نام دیا گیا ہے جو اس کے وائرل انویلپ کے ارگرد ایک ہالہ سے بنادیتے ہیں۔

    کورونا وائرسز میں آر این اے کی ایک لڑی ہوتی ہے اور وہ اس وقت تک اپنی تعداد نہیں بڑھاسکتے جب تک زندہ خلیات میں داخل ہوکر اس کے افعال پر کنٹرول حاصل نہیں کرلیتے، اس کے نوکدار حصہ ہی خلیات میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے بالکل ایسے جیسے کسی دھماکا خیز مواد سے دروازے کو اڑا کر اندر جانے کا راستہ بنایا جائے۔

    ایک بار داخل ہونے کے بعد یہ خلیے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کردیتا ہے اور مالیکیولر زنجیر کو مزید وائرس بنانے کے لیے استعمال کرنے لگتا ہے اور پھر انہیں دیگر جگہوں پر بھیجنے لگتا ہے، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔

    عموماً اس طرح کا وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے جن میں مویشی، پالتو جانور، جنگلی حیات جیسے چمگادڑ میں دریافت ہوتا ہے اور جب یہ انسانوں میں منتقل ہوتا ہے تو بخار، سانس کے نظام کے امراض اور پھیپھڑوں میں ورم کا باعث بنتا ہے۔

    ایسے افراد جن کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے یعنی بزرگ یا ایچ آئی وی۔ ایڈز کے مریض وغیرہ، ان میں یہ وائرس نظام تنفس کے سنگین امراض کا باعث بنتے ہیں۔

    سارس یا مرس جیسے کورونا وائرس آسانی سے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوجاتے ہیں، سارس وائرس 2000 کی دہائی کی ابتدا میں سامنے آیا تھا اور 8 ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا تھا جس کے نتیجے میں 800 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں۔

    مرس 2010 کی دہائی کے ابتدا میں نمودار ہوا اور ڈھائی ہزار کے قریب افراد کو متاثر کیا جس سے 850 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

    یہ نیا وائرس کہاں سے سامنے آیا؟

    شٹر اسٹاک فوٹو

    2019 نوول کورونا وائرس بظاہر چین کے شہر ووہان کی ہوانان سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے پھیلنا شروع ہوا۔

    ووہان ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے اور اس مارکیٹ میں مچھلیوں کے ساتھ ساتھ دیگر جانوروں جیسے چمگادڑ اور سانپ کا گوشت بھی فروخت کیا جاتا ہے اور وائرس سامنے آنے کے بعد اس مارکیٹ کو یکم جنوری کو بند کردیا گیا۔

    ماضی میں پھیلنے والے وبائی امراض میں بھی مارکیٹیں ان کے آغاز اور پھیلاﺅ کا باعث ثابت ہوئی ہیں اور اب تک جن افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، ان میں سے بیشتر حالیہ ہفتوں میں ووہان سی فوڈ مارکیٹ میں جاچکے تھے، یعنی یہ مارکیٹ وائرس کی ابتدا کے معمے کا اہم حصہ ہے، مگر سائنسدانوں کو فی الحال مختلف تجربات اور ٹیسٹوں کے بعد اس کی تصدیق کرنا ہوگی۔

    طبی جریدے جنرل آف میڈیکل وائرولوجی میں شائع ایک رپورٹ میں چین کے محققین نے عندیہ دیا تھا کہ سانپوں میں 2019 کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کا باعث بننے والا ممکنہ جاندار ہے، اس مقصد کے لیے انہوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا تجزیہ کرنے کے بعد اس کا موازنہ 2 اقسام کے سانپوں میں چینی کوبرا اور کرایت سے کیا گیا۔ محققین کے مطابق سانپوں کا جینیاتی کوڈ اور اس وائرس میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔

    مگر اس تحقیق کے فوری بعد 2 دیگر تحقیقی رپورٹس میں اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس وائرس کو پھیلانے والا جاندار چمگادڑ ہے۔

    چین کے ہی سائنسدانوں کے ایک گروپ نے ایک آن لائن مقالے میں کہا کہ انہوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا موازنہ پہلے کے سارس کورونا وائرس اور چمگادڑ کے دیگر کورونا وائرسز سے کیا اور انہوں گہرائی میں جینیاتی مماثلت کو دریافت کیا۔

    یہ وائرس اپنے جینز کے 80 فیصد حصے کو ماضی کے سارس وائرس اور چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرز کے 96 فیصد حصے سے شیئر کرتا ہے، سب سے اہم بات یہ تھی کہ تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ یہ وائرس خلیات پر بالکل اسی طرح داخل اور کنٹرول کرسکتا ہے جیسا سارس کرتا ہے۔

    مگر سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چمگادڑ سے براہ راست یہ وائرس انسانوں تک نہیں پہنچا بلکہ درمیان میں کوئی اور جانور بھی موجود ہے، جس کی شناخت تو ابھی نہیں ہوسکی، مگر پینگولین کا نام لیا جارہا ہے۔

    ماضی کی دریافتوں سے قطع نظر اب بھی اس نئے وائرس کی بنیادی حیاتیاتی معلومات کے بارے میں جاننے کے لیے بہت کچھ باقی ہے اور پھر مستند طور پر بتایا جاسکے گا کہ کونسا جانور انسانوں میں اس کی منتقلی کا باعث بنا، فی الحال سانپ اور چمگادڑوں کو ہی اس کا سبب سمجھا جارہا ہے۔

    اب تک کتنے مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    اب تک چین سمیت 43 ممالک میں 81 ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    چین میں اب تک 78064، ہانگ کانگ میں 89، مکاﺅ میں 10 (ہانگ کانگ اور مکاﺅ چین کے زیرتحت خودمختار ریاستیں ہیں تو انہیں ایک ہی سمجھ لیں)، جنوبی کوریا میں 1261، جاپان کے قریب بحری جہازوں میں 705، اٹلی میں 374، جاپان میں 178، ایران میں 139، سنگاپور میں 91، امریکا میں 57، تھائی لینڈ میں 40، تائیوان 32، بحرین میں 23، آسٹریلیا میں 22، ملائیشیا میں 22، جرمنی میں 18، ویت نام میں 16، فرانس میں 14، متحدہ عرب امارات میں 13، برطانیہ میں 13، کینیڈا میں 11، کویت میں10، اسپین میں 9، عراق میں 5، اومان میں 4، بھارت میں 3، اٹلی میں3، فلپائن میں 3، اسرائیل میں 2، روس میں 2، پاکستان میں 2، آسٹریا میں 2، افغانستان میں ایک، کمبوڈیا میں ایک، الجزائر میں ایک، بیلجیئم میں ایک، فن لینڈ میں ایک، سوئیڈن میں ایک، لبنان میں ایک، نیپال میں ایک ، کروشیا میں ایک، سوئٹزر لینڈ میں ایک، برازیل میں ایک، یونان میں ایک، مصر میں ایک اور سری لنکا میں ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    اس وائرس کے پھیلاﺅ کے لیے ایک آن لائن میپ کو سینٹر فار سسٹمز سائنس اینڈ انجنیئرنگ کے زیرتحت تشکیل دیا گیا جس میں عالمی ادارہ صحت، امریکا، چین اور یورپی ڈیزیز کنٹرولز سینٹرز کے ڈیٹا کے ذریعے ہر وقت اپ ڈیٹ کرتے ہوئے مصدقہ، مشتبہ اور صحت یاب مریضوں کے ساتھ اموات کی تعداد دیکھی جاسکتی ہیں۔

    کتنی اموات رپورٹ ہوئیں؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    اب تک 2770 اموات اس وائرس کے نتیجے میں ہوچکی ہیں جن میں سے زیادہ تر چین میں ہوئیں جبکہ جنوبی کوریا، ایران، اٹلی، فرانس، فلپائن، جاپان، تائیوان اور ڈائمنڈ پرنسز جہاز میں بھی ہلاکتیں ریکارڈ ہوئیں۔

    اس نئے کورونا وائرس کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    چائنیز سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینٹیشن نے ووہان میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم بھیج کر اس نئے وائرس کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کی اور مریضوں کے ٹیسٹ کیے تاکہ اس کنٹرول کرنے کے اقدامات پر غور کیا جاسکے۔

    نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں اس ٹیم کے نتائج کو شائع کیا گیا جن کے مطابق 3 مریضوں کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا، الیکٹرون مائیکرو اسکوپ کو استعمال کرکے جینیاتی کوڈ پر تحقیق کی گئی اور اس کے بعد ٹیم پہلی بار ناول کورونا وائرس کو دیکھنے اور جینیاتی طور پر شناخت کرنے میں کامیاب ہوئی۔

    جینیاتی کوڈ کو سمجھنے سے سائنسدانوں کو 2 پہلوﺅں کے بارے میں سمجنے میں مدد مل سکے گی، یعنی انہیں ایسے ٹیسٹ بنانے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جو مریضوں کے نمونوں میں اس وائرس کی شناخت کرسکے اور ویکسین یا طریقہ علاج کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی۔

    یہ وائرس کس طرح پھیل رہا ہے؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    یہ ایسا ہم سوال ہے جس کے جواب کے لیے سائنسدانوں سخت محنت کررہے ہیں، ایسا مانا جارہا ہے کہ پہلی بار یہ انفیکشن جانور سے انسان میں منتقل ہوا، مگر اس کے بعدیہ ایک سے دوسرے انسان میں یہ منتقل ہورہا ہے۔

    مینیسوٹا یونیورسٹی کے Infectious ڈیزیز ریسرچ اینڈ پالیسی کے مطابق چین میں ہیلتھ ورکرز اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، سارس کی وبا پھیلنے کے دوران یہ نمایاں نقطہ ثابت ہوا تھا کیونکہ ہیلتھ ورکرز ایک سے دوسرے ملک جاتے ہوئے اس بیماری کو پھیلاتے رہے۔

    چینی انتظامیہ نے طبی عملے میں وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ یہ ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوا ہے اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا خدشہ ہسپتالوں میں وبا کا پھیلنا ہوسکتا ہے جو سارس اور مرس کورونا وائرسز میں بھی دیکھا گیا تھا، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے۔

    ووہان میں حکام نے مریضوں کے علاج کے لیے ایک ہزار بستروں کا ہسپتال صرف 10 دنوں میں تعمیر کردیا ہے کیونکہ اس وقت ہسپتالوں میں گنجائش کی کمی کا سامنا ہے۔

    چین نے وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے ووہان شہر کو ہی مکمل طور پر بند کردیا اور سفری پابندیاں عائد کی گئیں جن کا اطلاق بعد میں 4 اور پھر 8 مزید شہروں تک کیا گیا۔

    یہ پابندیاں اس وقت عائد کی گئیں جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوا، اس موقع پر چینی شہروں میں لوگوں کی نقل و حمل میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا ہے، بیجنگ میں اہم تقریبات کو منسوخ کیا گیا اور یہ تمام پابندیاں اور بندشیں غیرمعینہ مدت تک برقرار رہیں گی۔

    چینی حکومت نے یہ عندیہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ وائرس علامات کے نمودار ہونے سے قبل ہی ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے، کیونکہ مرض ظاہر ہونے سے پہلے کی علامات ایک سے 14 دن تک ظاہر نہیں ہوتیں اور اس وقت تک مریض خود کو صحت مند سمجھتا ہے، اس حوالے سے سائنسدانوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایسا ممکن ہے اور چین میں ایک خاتون نے اسی طرح اپنے 5 رشتے داروں کو بھی وائرس کا شکار کیا، حالانکہ اس خاتون میں وائرس کی علامات کبھی ظاہر نہیں ہوئیں۔

    یہ کورونا وائرس کس حد تک متعدی ہے؟
    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    عام طور پر کسی وبائی مرض کے بنیادی ری پروڈکشن نمبر کے لیے ایک اعشاری نظام آر او ویلیو کی مدد لی جاتی ہے ، یعنی اس ویلیو سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مرض کا شکار فرد مزید کتنے لوگوں کو بیمار کرسکتا ہے۔

    خسرے کا آر او نمبر 12 سے 18 ہے جبکہ 2002 اور 2003 میں سارس کی وبا کو آر او 3 نمبر دیا گیا، مختلف تحقیقی رپورٹس میں 2019 نوول کورونا وائرس کے لیے 1.4 سے 3.8 ویلیو دی گئی ہے اور یہ فی الحال ابتدائی تخمینہ ہے۔

    ہارورڈ یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہری ایرک فیگی ڈینگ نے ایک ٹوئٹ میں اسے 3.8 ویلیو دی تھی۔

    سائنسدان ابھی اس مرض اور اس کے پھیلاﺅ کو سمجھنے کے ابتدائی مراحل سے گزر رہے ہیں اور تحقیقی رپورٹس فی الحال معلوماتی ہیں اور انہیں حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پھیل ضرور زیادہ رہا ہے مگر اس سے شرح اموات سارز کی وبا کے مقابلے میں بہت کم ہے جبکہ 80 فیصد مریضوں میں اس کی متعدل علامات نمودار ہوئیں اور سنگین کیسز ایسے لوگوں کے رہے جن کی عمر زیادہ تھی یا وہ پہلے ہی کسی مرض کا شکار تھے.

    علامات کیا ہیں؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    اس نئے کورونا وائرس کی علامات ماضی میں امراض پھیلانے والے کورونا وائرسز سے ہی ملتی جلتی ہیں اور اس وقت جن افراد میں اس کی تصدیق ہوئی ہے ان میں سے بیشتر کو نمونیا جیسی علامات کا سامنا ہوا جبکہ کچھ میں زیادہ سنگین ردعمل بھی دیکھا گیا۔

    24 جنوری کو معتبر طبی جریدے دی لانسیٹ میں اس مرض کے کلینیکل فیچرز پر تفصیلی تجزیہ شائع کیا گیا تھا اور اس رپورٹ کے مطابق مریضوں میں درج ذیل علامات سامنے آسکتی ہیں:

    بخار، جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا

    خشک کھانس

    تھکاوٹ یا مسلز میں تکلیف

    سانس لینے میں مشکل

    اس کی کم نمایاں علامات درج ذیل ہیں :

    کھانسی میں بلغم یا خون آنا

    سردرد

    ہیضہ

    جب یہ مرض بڑھتا ہے تو مریضوں میں نمونیا کی تشخیص ہوتی ہے جس میں پھیپھڑے ورم کے شکار اور پانی بھرنے لگتا ہے، اس کو ایک ایکسرے میں دیکھا گیا اور تحقیق میں شامل 41 مریضوں میں اسے دیکھا گیا۔

    کیا اس کا کوئی علاج موجود ہے؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    کورونا وائرس کو بہت سخت جراثیم قرار دیا جاتا ہے جو انسانی مدافعتی نظام میں موثر طریقے سے چھپ جاتے ہیں اور اب تک ان کے لیے کوئی قابل بھروسا طریقہ علاج یا ویکسین تیار نہیں ہوسکی ہے جو ان کا خاتمہ کرسکے، بیشتر کیسز میں طبی عملہ اس کی علامات پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسیز پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک ریان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی طریقہ علاج موجود نہیں، کورونا وائرس سے متعلق وبا کے حوالے سے مریضوں کو مناسب نگہداشت خصوصاً نظام تنفس سپورٹ اور اعضا کی سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔

    ایسا نہیں کہ ویکسین کی تیار ناممکن ہے، چینی سائنسدانوں نے وائرس کے جینیاتی کوڈ کا سیکونس بنانے میں انتہائی تیزی سے کام کیا، جس سے سائنسدانوں کو اس حوالے سے تحقیق اور اس پر قابو پانے کے ذرائع پر غور کرنے کا موقع ملے گا۔

    سی این این کے مطابق یوایس نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ نے پہلے ہی ایک ویکسین پر کام شروع کردیا ہے، مگر اسے متعارف کرانے میں ایک سال یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

    قابل ذکر بات یہ ہے کہ 8 ہزار افراد کو متاثر کرنے والے سارس وائرس کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ یہ ایک مخصوص راستے پر چلتا ہے اور پھر لگ بھگ غائب ہوجاتا ہے، ایسی ویکسین نہیں جو اس وائرس کا ختمہ کرے بلکہ ممالک کے درمیان موثر رابطے اور احتیاطی تدابیر اس کے پھیلاﺅ کو روکنے میں مدد دیتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ہم یہ جان چکے ہیں کہ وبائی امراض کو ادویات یا ویکسین کے بغیر کنٹرول کیا جاسکتا ہے، جس کے لیے نگرانی کے عمل کو بڑھانے، مریضوں کو صحت مند افراد سے الگ کرنے، ان کے رابطوں کی ٹریکنگ، خطرے کے حوالے سے ذاتی احتیاط اور انفیکشن کنٹرول اقدامات سے مدد لی جاسکتی ہے۔

    شرح اموات کس حد تک ہوسکتی ہے؟

    اس وائرس سے دنیا بھر میں لوگوں کو ذہنی پریشانی کا سامنا ہوا ہے مگر بظاہر یہ وائرس سارس جتنا جان لیوا نہیں، جس کے نتیجے میں 2002 سے 2003 میں 774 ہلاک ہوئے تھے اور اموات کی شرح 9.6 فیصد تھی جبکہ اس نئے کورونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد سارس کے 8 ماہ کی مجموعی تعداد سے ایک ماہ کے اندر ہی زیادہ ہوگئی مگر شرح اموات 2 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

    درحقیقت چینی حکام نے بتایا ہے کہ اس وائرس کے شکار متعدد افراد صحت مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اور جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں وہ یا تو بزرگ تھے یا دیگر بیماریوں کے شکار تھے جن کے باعث ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوچکا تھا۔

    طبی ماہرین کے مطابق اس حوالے سے لوگوں میں خدشات اور خوف پایا جاتا ہے مگر کچھ عناصر ہیں جو اس میں کمی لاسکتے ہیں، پہلا تو یہی ہے کہ اس کی تشخیص اور تعین بہت تیزی سے ہوا، درحقیقت اس کی دریافت کے ایک ہفتے بعد ہی چینی حکام نے وائرس کا سیکونس حاصل کرلیا تھا اور دنیا بھر کی لیبارٹریز سے شیئر کیا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

    دوسری چیز طبی ٹیکنالوجی میں 1960 کی دہائی میں کورونا وائرس کی دریافت کے بعد سے ہونے والی پیشرفت ہے جو لیبارٹریز اور وائرس کے ماہرین کو زیادہ گہرائی میں جاکر کام کرنے میں مدد دیتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صرف امریکا میں سیزنل فلو اس نئے کورونا وائرس سے زیادہ بڑا خطرہ جس سے گزشتہ 4 ماہ میں کم از کم ڈیڑھ کروڑ امریکی شہری متاثر ہوئے جبکہ 20 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔

    آپ اس کے خطرے کو کیسے کم کریں؟

    شٹر اسٹاک فوٹو
     

    چین کے بعد متعدد ممالک میں اس کے کیسز سامنے آچکے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ 2019 نوول کورونا وائرس مزید ممالک تک پھیل جائے۔ عالمی ادارہ صحت نے لوگوں کو اپنے تحفظ کے حوالے سے متعدد اقدامات کا مشورہ دیا ہے تاکہ اس سے بچ سکیں۔

    اس مقصد کے لیے ہاتھوں اور نظام تنفس کی اچھی صفائی قابل ذکر ہے، آسان الفاظ سے ہر وہ کام جو آپ فلو یا نزلہ زکام کا خطرہ کم کرنے کے لیے کرتے ہیں، وہ اس کورونا وائرس سے بھی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

    یعنی اپنے ہاتھوں کو کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے دھوئیں۔

    گندے ہاتھوں سے منہ، آنکھوں اور ناک کو چھونے سے گریز کریں۔

    کھانسی اور چھینک کے دوران اپنے منہ اور ناک کو ٹشو سے ڈھک لیں اور پھر اس ٹشو کو کچرے میں پھینک دیں۔

    ایسے افراد سے ذرا دور رہیں جن میں سانس کے امراض جیسے کھانسی اور چھینکوں کی علامات نظر آئیں۔

    جن چیزوں کو اکثر چھوتے ہیں، ان کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔

    کچی یا ناقص طریقے سے پکی غذا سے گریز کریں۔

    اگر نزلہ زکام یا فلو جیسی علامات کے شکار ہیں تو بغیر کسی تاخیر کے ماسک کو پہن لیں اور ڈاکٹر سے مزید احتیاطی تدابیر کے بارے میں پوچھیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے اس بارے میں ایک ٹوئٹ میں تفصیلی معلومات بھی فراہم کی ہے۔

  • ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 6 وکٹوں سے شکست دے کرملتان والوں کی عزت رکھ لی

    ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 6 وکٹوں سے شکست دے کرملتان والوں کی عزت رکھ لی

    ملتان :ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 6 وکٹوں سے شکست دے کرملتان والوں کی عزت رکھ لی ،اطلاعات کےمطابق پاکستان سپر لیگ کے دوسرے مرحلے کے پہلے میچ میں ملتان سلطانز نے باؤلنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سابق چمپیئن پشاور زلمی کی ٹیم کو 6 وکٹوں سے شکست دے دی۔

    ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پشاور زلمی نے ملتان سلطانز کے کپتان کی دعوت پر بیٹنگ کا آغاز کیا تو پہلے ہی اوور میں شاہد آفریدی کے عمدہ کیچ نے ٹام بینٹن کی اننگز کا خاتمہ کردیا۔

    کامران اکمل نے اپنی عمدہ فارم کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے چند اچھے شاٹس کھیل کر حیدر علی کے ہمراہ اسکور کو 35تک پہنچایا لیکن اس مرحلے پر وہ 15رنز بنانے کے بعد سہیل تنویر کا نشانہ بن گئے۔

    تاہم چھٹے اوور کا آغاز پشاور زلمی کے لیے تباہ کن ثابت ہوا اور محمد الیاس نے پہلی گیند پر شعیب ملک کو وکٹوں کے عقب میں کیچ کرانے کے ایک گیند بعد ہی لیام لیونگسٹن کو بھی وکٹ کیپر ذیشان اشرف کی مدد سے قابو کر لیا۔

    دوسرے اینڈ پر موجود نوجوان حیدر علی نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور لیام ڈاسن کے ہمراہ پانچویں وکٹ کے لیے 44رنز کی شراکت قائم کی۔اس موقع پر سہیل کی گیند کو باؤنڈری سے باہر پھینکنے کی کوشش میں حیدر کی 47رنز کی اننگز اختتام کو پہنچی۔

    لیام ڈاسن اور وہاب ریاض نے ٹیم کی نصف سنچری مکمل کرائی جس کے بعد دونوں کھلاڑی 102 کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئے، ڈاسن نے 22رنز بنائے۔کپتان ڈیرن سیمی مستقل جدوجہد کرتے نظر آئے اور 13 گیندوں پر صرف دو رنز بنانے والے پشاور زلمی کے کپتان محمد عرفان کی دوسری وکٹ بن گئے۔اس کے بعد سلطانز کو زلمی کی بساط لپیٹنے میں زیادہ دیر نہ لگی اور پوری ٹیم 9گیندوں قبل ہی 123رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

    سلطانز کی طرف سے سہیل تنویر 4وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ محمد عرفان اور محمد الیاس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ہدف کے تعاقب میں حسن علی نے پشاور زلمی کے لیے 6 رنز پر ہی جیمز وینس کی وکٹ حاصل کی جس کے بعد راحت علی نے 10 کے مجموعے پر معین علی کو پویلین بھیج کر میچ کو دلچسپ بنانے کی زبردست کوشش کی۔

    اس سے قبل ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں ملتان سلطانز کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے باؤلنگ کا فیصلہ کیا ہے۔شان مسعود نے کہا کہ یہ ایک نئی پچ ہے اور اس پر ایک عرصے سے کوئی میچ نہیں کھیلا گیا اس لیے ہم ٹاس جیت کر پہے باؤلنگ کر رہے ہیں۔

    پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی نے کہا کہ ٹاس جیتنے کی صورت میں ہم بھی پہلے بیٹنگ کرتے لیکن اصل چیز اسکور بورڈ پر اچھا اسکور سجانا ہے اور ہم اسکی پوری کوشش کریں گے۔ملتان سلطانز اور پشاور زلمی دونوں نے ہی گزشتہ میچ کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔

    پاکستان سپر لیگ کے دوسرے مرحلے کا آغاز آج سے ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں ہو رہا ہے جس کے ساتھ ہی ملتان میں 12سال کے طویل عرصے کے بعد کسی انٹرنیشنل طرز کے مقابلے کا انعقاد ہو گا۔پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز اور پشاور زلمی دونوں نے دو، دو میچز کھیلے ہیں اور دونوں ٹیموں نے ایک، ایک میچ میں فتح حاصل کی اور دوسرے میں شکست ہوئی۔

    میچ کے لیے دونوں ٹیمیں ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔

    پشاور زلمی: ڈیرن سیمی(کپتان)، کامران اکمل، ٹام بینٹن، حیدر علی، شعیب ملک، لیام لیونگسٹن، وہاب ریاض، لیام ڈاسن، حسن علی، راحت علی اور عامر خان

    ملتان سلطانز: شان مسعود (کپتان)، جیمز ونس، رلی روسو، خوشدل شاہ، معین علی، ذیشان اشرف، شاہد آفریدی، سہیل تنویر، محمد الیاس، عمران طاہر اور محمد عرفان

  • پاکستان میں کرونا وائرس آ گیا، دو پاکستانی متاثر، وزیرصحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی تصدیق، کل اہم پریس کانفرنس کرنے کا اعلان

    پاکستان میں کرونا وائرس آ گیا، دو پاکستانی متاثر، وزیرصحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی تصدیق، کل اہم پریس کانفرنس کرنے کا اعلان

    کراچی:پاکستان میں کرونا وائرس آ گیا، دو پاکستانی متاثر، وزیرصحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی تصدیق، کل اہم پریس کانفرنس کرنے کا اعلان ،اطلاعات کےمطابق کراچی کا رہائشی یحییٰ جعفری نامی نوجوان ایران سے ہوائی جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا تھا۔ طبی معائنے میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی دو پاکستانیوں میں اس وائرس کی تصدیق کی ہے

    ذرائع کے مطابق کراچی کے ایک نوجوان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ 22 سالہ نوجوان یحییٰ جعفری ایران گیا تھا جہاں سے اس نے ہوائی جہاز کے ذریعے واپسی کی۔

    محکمہ سندھ کا کہنا ہے کہ یحییٰ جعفری نامی یہ نوجوان کو نجی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں اسے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

     

    دوسری طرف وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دو افراد کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا ہے کہ دونوں کیسوں کی بھرپور طبی نگرانی میں ہیں اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے۔ میں اس سلسلے میں تفتان سے واپسی پر اہم پریس کانفرنس کرونگا۔

    خیال رہے کہ پاکستان نے کرونا وائرس کو روکنے کیلئے ایران سے آنے اور جانے پر پابندی کے علاوہ سرحد بھی بند کر دی ہے۔ گزشتہ دنوں چیف سیکریٹری کے زیر صدارت اجلاس میں ایران میں موجود پاکستانی زائرین کو کلیئرنس ہونے تک واپس نہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جبکہ ملک سے بھی کوئی شخص پڑوسی ملک نہیں جا سکے گا۔

    ایران کیساتھ پانچوں انٹری پوائنٹس پر ڈاکٹرز کو عملے سمیت تعینات کر دیا گیا ہے۔ واپسی کی صورت میں زائرین کو چودہ روز تک تک نگرانی میں رکھے جانے کے بعد گھروں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق پاک ایران سرحد پر نقل وحرکت روک دی گئی ہے۔ سرحدی علاقے تفتان میں100 بستروں کا کیمپ ہسپتال قائم کردیا گیا ہے۔

    خیمہ ہسپتال میں ہیوی ڈیوٹی جنریٹرز، واٹر سپلائی سسٹم، 2 موبائل آفس یونٹس ، 4 موبائل کنٹینرز، ڈاکٹروں کی ٹیم، 10ایمبولینسز، 10ہزار ماسک بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔ پاکستان اورایران کے درمیان روزانہ 300سے 700 افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔

    ادھر چین میں کرونا وائرس سے مزید 52 افراد کی ہلاکت کے بعد اس مہلک مرض سے مرنے والوں کی تعداد 2 ہزار سات سو پندرہ ہو گئی ہے جبکہ دنیا بھر میں چالیس سے زائد افراد موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کرونا وائرس سے متعلق غریب ممالک کو موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

    جنوبی کوریا میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد گیارہ جبکہ متاثرین کی تعداد 11 سو 46 ہے۔ اٹلی میں دس افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تین سو افراد کرونا کا شکار ہیں۔ اٹلی میں گیارہ ٹاؤنز میں لاک ڈاؤن ہے۔

    ایران میں پندرہ افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک سو متاثر ہیں۔ ایران کے نائب وزیرصحت اریج ہریرچی بھی کرونا کا شکار ہو گئے۔ خبریں ہیں کہ جنوبی کوریا میں امریکی فوجی میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

  • آہ ! ظالم ہندودرندوں نے 85سالہ مسلمان بوڑھی خاتون کوتشدد کرکے شہید کردیا

    آہ ! ظالم ہندودرندوں نے 85سالہ مسلمان بوڑھی خاتون کوتشدد کرکے شہید کردیا

    نئی دہلی :آہ ! ظالم ہندودرندوں نے 85سالہ مسلمان بوڑھی خاتون کوتشدد کرکے شہید کردیا ،باغی ٹی وی کےمطابق دہلی میں اس وقت فسادات عروج پرہیں اورہندوانتہاپسند ،آر ایس ایس کے درندے مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوکران کی عزتیں لوٹ رہے ہیں، گھربارلوٹ رہے ہیں اورپھرمسلمانوں کوقتل کرکے جلادیتے ہیں‌

    باغی ٹی وی کوموصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی کے علاقہ گمری ایکسٹینشن کے علاقے میں 100 سے زائد بلوائی اس محلے میں داخل ہوئے اورمسلمان مردوخواتین کوبالوں سے گھسیٹ گھسیٹ کرگھروں سے باہرلاتے ہیں اورپھرسب کے سامنے گولی مارکرتیل چھڑک کراگلے گھروں کی طرف چلے جاتے ہیں

    اطلاعات کے مطابق ایسے ہی ایک واقعہ میں گمری کے علاقہ میں جوکہ نئی دہلی کے مشہورعلاقہ کھجوری خاص سے تھوڑے سے فاصلےپرواقع ہے ، یہ دہشت گرد ایک گھرمیں داخل ہوتے ہیں اورگھرکی سب سے بوڑھی خاتون 85 سالہ مسلمان اماں جی اکبری خاتون کومارمارلہولہان کردیتے ہیں اورشدید چوٹوں کی وجہ سے اکبرخاتون تڑپ تڑپ کرجان دے دیتی ہیں

    ادھر ذرائع کے مطابق قتل وغارت کا یہ بازارابھی تک گرم ہے اورمسلمان شہرچھوڑ چھوڑکردوسرے علاقوں میں ہجرت کررہے ہیں، دوسری طرف بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھارت میں انتہا پسند ہندووں کی طرف سے ان دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی جارہی ہے لیکن بھارتی حکومت اس کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہورہی

  • وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال –از..ملک جہانگیر اقبال

    اِس وقت "سیکولر” بھارت میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ، باقاعدہ ریاستی سرپرستی میں انتہاپسند ہندو ٹولیاں بنا کر مسلمانوں کی جان اور املاک پہ حملہ آور ہورہے ہیں جبکہ ریاستی ادارے بشمول پولیس ، فوج یہاں تک کہ الیکٹرونک میڈیا تک انتہاپسندی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلم دشمنی پہ اُتر آیا ہے .

    میرا ہندوستانی مسلمانوں سے لگ بھگ دس سالہ پرانا تعلق ہے . کشمیر میں مسلمان مریں یا پاکستان میں ہندوستان شرارت کرے ، ہر جگہ ہندوستانی مسلمانوں نے بے حسی کا ثبوت دیا اور بعض اوقات ہندوؤں سے زیادہ بے حسی دکھائی کہ شاید اس طرح انتہا پسند ہندو اُنہیں اپنا سگا وفادار مان لیں پر "کسی” عظیم لیڈر نے تقسیم ہندوستان کے وقت کانگریس پرست مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کیا خوب کہا تھا کہ

    ” انکی آنے والی نسلیں اپنی ساری زندگی ہندوستان سے وفاداری ثابت کرنے میں گزار دیں گی ”

    اور پھر آپ نے دیکھا کہ نا صرف عام مسلمان بلکہ بڑے بڑے فلم سٹار بھی ہندو بیویاں لانے اور گھروں میں مندر تک بنوا لینے کے باوجود اب تک اچھوت ہی ہیں ، غلطی سے بھی اگر خود پہ یا اپنی قوم کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے بابت بات کرلیں تو انکی فلموں کا چلنا مشکل ہوجاتا ہے .

    قائد اعظم اس انتہا پسند ہندو ذہنیت سے بخوبی واقف تھے اسلئے جلد ہی کانگریس سے راستے جدا کرلیے ، جبکہ دوسری جانب گاندھی جی بیچارے خود اس انتہا پسند ہندو ذہنیت کا شکار بن گئے .

    اور اب یہاں پاکستان میں تقسیم ہندوستان کے مخالف اپنے لیڈران کی ناکامی اور قائد اعظم سے بغض دکھاتے ہوئے اپنی خجالت یہ کہ کر مٹاتے ہیں کہ اگر ہندوستان تقسیم نہ ہوا ہوتا تو مسلمان تعداد میں زیادہ ہوتے اور زیادہ مضبوط ہوتے .

    کاش اگر بغضِ قائد اعظم نہ ہوتا تو کبھی کچھ حساب کتاب کیا ہوتا اور تاریخ پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ تقسیم نہ ہوتی تو بھی کل ملا کر 65 کروڑ مسلمان ہوتے جن میں شیعہ سنی اور پھر ان میں وہابی بریلوی وغیرہ کی تقسیم بھی اتنی ہی شدید ہوتی ؟

    اسکے باوجود بنگلادیش پاکستان اور ہندوستان کے ہندو ملا کر ایک ارب پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہندوؤں کی آبادی بنتی؟

    انتہا پسند ہندو پھر بھی حکومت میں ہوتے؟

    اب اگر یہاں یہ منطق استعمال کریں کہ جی ہندوستان میں پہلے بھی ہندو مسلم ساتھ رہے ہیں تو جناب ایسا تب ممکن ہوا کہ مسلمان حکومت میں تھے ، مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان کو اپنا ملک اور ہندوؤں کو اپنی رعایا سمجھا ، ان میں اسلام اور خدا کا خوف موجود تھا لہٰذا انہوں نے ہندوؤں کی نسل کشی نہیں کی ، اسی لیے ہندو مسلم ایک ساتھ رہ سکے ۔

    پر اقتدار میں موجود انتہا پسند ہندوؤں کا تو نظریہ ہی اکھنڈ بھارت ہے ، یہ پورے برصغیر میں اپنا راج بنانا حق سمجھتے ہیں ، نہ صرف مسلمان بلکہ عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی سرکاری ہندو حکومت کے شر سے محفوظ نہیں ہیں ۔

    لہٰذا قائد اعظم کے بغض میں مبتلا حضرات بچوں والی لولی لنگڑی منطق استعمال کرنا چھوڑ دیں جسے برصغیر کے مسلمانو کی اکثریت ستر سال قبل ہی کچرا دان میں پھینک چکی ہے . اب اگر آپ یہ بہانہ بنا کے خجالت مٹائیں گے کہ دیکھو پاکستان بھی تو دو ٹکڑے ہوگیا ..

    تو نالائقو پاکستان ٹوٹنے کے باوجود بھی دوسرا اسلامی ملک بنگلہ دیش ہی بنا نا کہ بھارت میں ضم ہوا ، یعنی قائد اعظم کا نظریہ تو پھر بھی قائم رہا ، قائد کا نظریہ مسلمانو کا اپنا ملک تھا جو ہندوؤں سے الگ ہو ، یہ وہ نظریہ ہے جو رہتی قیامت تک زندہ اور تازہ رہے گا .

    شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان مانو کہہ ایک آزاد ملک کے باشندے ہو جسے اپنی مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ وگرنہ تمہارے بغضِ قائد میں مبتلا لیڈران کی بات برصغیر کے مسلمان مان لیتے تو آج ماسوائے قسمت کو رونے کے اور کوئی چارہ نہ ہوتا .

    سلام ہے اُن تمام مسلمانو پہ جنہوں نے قائد اعظم کو رہبر بناتے ہوئے بھارت سے ہجرت کی اور نئے وطن کے مطالبے کو طاقت بخشی ، سلام ہے قائد اعظم محمد علی جناح کی دوراندیشی کو جو انہوں نے ہندوستان میں رہنے والے ایک تہائی مسلمانو کو جداگانہ ، آزادانہ شناخت بخشی ۔

    باقی احسان فراموش ، چھوٹی ذہنیت والے لوگ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں جن کے چھوٹے دماغ اتنی حیثیت نہیں رکھتے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا احسان تسلیم کرسکیں .

    آخر میں بحیثیت مسلمان یہی دعا ہے کہ اللہ پاک بھارت اور کشمیر کے مسلمانو پہ رحم فرمائے اور انہیں ہندو انتہاپسند ذہنیت سے آزادی نصیب کرے۔ آمین

    وفا کام آئی نہ جفاکام آئی ،ہندوستانی مسلمانوں کے 72 سال

    تحریر:ملک جہانگیر اقبال

  • بلوچستان بار کی طرف سے ڈاکٹرفروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان

    بلوچستان بار کی طرف سے ڈاکٹرفروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان

    کوئٹہ :بلوچستان بار کی طرف سے ڈاکٹرفروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان ،اطلاعات کےمطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر آصف ریکی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان بار وفاقی وزیرقانون ڈاکٹرفروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکررہے ہیں‌

    کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کی کاروائ کے دوران سابق اٹارنی جنرل جناب انور منصور خان کی جانب سے سپریم کورٹ کے معزز ججوں پر عدم اعتماد اور انکی integrity پر سوال اٹھانے کے اعترافی بیان میں وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کے اعانت جرم کے کردار کو بے نقاب کیا ہے

    بلوچستان بار ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر آصف ریکی نے کہا ہےکہ قابل افسوس ہے جس پر ھماری بار نے بلوچستان کے تمام نمائندہ بار کی جانب سپریم کورٹ میں پاکستان بار کونسل کی طرز پر توھین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے