Baaghi TV

Author: +9251

  • غم ناک خبرسے سب غمگین : مدرسے کی دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی

    غم ناک خبرسے سب غمگین : مدرسے کی دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی

    لاہور: غم ناک خبرسے سب غمگین : مدرسے کی دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق، 5 زخمی ،اطلاعات کے مطابق صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں مدرسے کی دیوار گرنے کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے چونگی امرسدھو میں مدرسے کی دیوار گرگئی، دیوار گرنے سے 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔حادثے میں جاں بحق افراد کی شناخت 50 سالہ کریم، 50 سالہ ارشاد اور 23 سالہ ندیم کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    حادثے میں جاں بحق اور زخمی افراد کوجنرل اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی جاری ہے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ مدرسہ میں کھدائی کے باعث پیش آیا۔

  • ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    ملتان سلطانز کا پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    باغی ٹی وی : پی ایس ایل میں آج اہم میچ کےسلسلے میں بارہ سال بعد ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں رونقیں بحال ہونے والی ہیں، شہریوں کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچ کا بے صبری سے انتظار ہے۔

    ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کیخلاف ٹاس جیت کرفیلڈنگ کافیصلہ کیا ہے۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم پہلی بار پی ایس ایل میچ کی میزبانی کررہا ہے۔ میچ کیلئے دونوں کیمپس میں بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ایس ایل فائیو میں پشاور زلمی کو ایک میچ میں شکست ہوئی ہے تو ایک میں کامیابی بھی ملی ہے جبکہ ملتان سلطانز پہلے میچ میں ضرور کامیاب ہوئے لیکن دوسرے میچ میں انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ہوم گراؤنڈ پر سلطانز اچھی کارکردگی کے لیے پر عزم ہیں۔ اپریل 2008 کے بعد یہ ملتان میں پہلا ہائی پروفائل میچ ہونے جا رہا ہے. جہاں جنوبی پنجاب کے شائقین بہت خوش اور پر اعتماد ہیں کہ عرصہ بعد ان کے علاقے میں کرکٹ کا میدان سجا ہے .

  • جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از   محمد وسیم

    جامعہ میں CAA اور NRC کے خلاف احتجاج کا76واں دن–تحریر–از محمد وسیم

    بھارتی جنتا پارٹی جس کے یہاں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں سے تعصّب اور نفرت ہے اُس کے ذریعے بنایا گیا کالا قانون CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے جامعہ کے طلباء دنوں رات احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں، طلباء کا ساتھ دینے کے لئے جامعہ کے آس پاس کے علاقے کی عوام ہر روز بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہے، CAA کے خلاف گزشتہ 76 دنوں سے پُرامن احتجاج جاری ہے،

    کالا قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو حکومتی مظالم کے ذریعے ختم کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن حکومت ناکام رہی، بِہار کی حکومت نے وِدھان سبھا میں بیان جاری کیا ہے کہ NPR پُرانے طریقے سے ہوگا اور NRC کا نفاذ ممکن نہیں ہے، تلنگانہ میں بھی NPR پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی ہے، اگر عام آدمی پارٹی عوام کی خیرخواہ ہے تو دہلی حکومت بھی اعلان کرے کہ دہلی میں NPR اور NRC نہیں ہوگا

    دہلی میں CAA کے خلاف احتجاجی مظاہرے پُرامن طریقے سے جاری تھے اُس سے حکومت بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا شکار تھی، دہلی کے جعفرآباد، موج پور میں بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، دہلی میں بی جے پی کے کپل مشرا نے میڈیا میں بیان دیا کہ اگر جعفرآباد اور موج پور میں احتجاجی مظاہرے ختم نہیں کئے گئے تو تین دنوں کے اندر ہمیں جو کرنا ہوگا وہ ہم کریں گے،

    اُس کے دوسرے دن ہی دہشت گردی شروع ہوگئی، موج پور، کراول نگر، گوکُل پوری میں ہندو دہشت گرد گزشتہ دو دنوں سے گھروں اور دوکانوں کو جلا رہے ہیں، لوگوں سے اُن کی شناخت معلوم کر کے مارا جا رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ دہلی حکومت اور بی جے پی کی حکومت کوئی بھی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے، دہلی کو جلایا جا رہا ہے اور نشانہ صرف مسلمان ہیں،

    اِس وقت دہلی میں مسلمانوں کی جو حالت ہے اُس سے دِل بہت بے چین ہے، لیکن ہمّت اور جذبہ میں کمی نہیں آئی، ضرورت ہے کہ ہم کالا قانون کے خلاف احتجاج مظاہرے جاری رکھیں لیکن ہم متّحد اور منظّم ہو کر اپنی حفاظت کے لئے لائحۂ عمل بھی تیار کریں..

    محمد وسیم ابن محمد امین، ریسرچ اسکالر
    شعبہء اردو، جامعہ ملّیہ اسلامیہ، نئی دہلی

  • سعودی عرب کی کابینہ میں کئی تبدیلیاں

    سعودی عرب کی کابینہ میں کئی تبدیلیاں

    سعودی عرب کی کابینہ میں کئی تبدیلیاں

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق :سعودی عرب کی کابینہ میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کابینہ میں نئے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز نے شاہی فرمان جاری کر کے متعدد فیصلے کیے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دارالحکومت ریاض سے جاری ہونے والے شاہی فرمان کے مطابق وزیر سول سروس سلیمان الحمدان اور سرمایہ کاری اتھارٹی کے سربراہ ابراہیم العمر کو سبکدوش کر دیا گیا ہے۔

    خادم حرمین شریفین نے وزارت سول سروس کو وزارت محنت وسماجی فروغ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں وزارتوں کو ضم کرنے کے بعد نئی وزارت کا نام وزارت ہیومن ریسورسز و سماجی فروغ رکھا جائے گا۔شاہی فرمان میں محکمہ سیاحت و قومی ورثے کو وزارت میں تبدیل کر دیا گیا ہے اورنئی وزارت کا نام وزارت سیاحت رکھا جائے گا۔شاہ سلمان نے اسپورٹس اتھارٹی کو وزارت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اورنئی وزارت کا نام وزارت اسپورٹس رکھا جائے گ

    عرب میڈیا نیوز کے مطابق شاہی فرمان کے تحت وزارت تجارت اور سرمایہ کاری کو وزارت تجارت میں تبدیل کردیا گیا ہے جب کہ سعودی عرب کی انویسٹ منٹ اتھارٹی کو وزارت سرمایہ کاری میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر ماجد القصبی مئی 2016ء وزیر تجارت اور سرمایہ کاری کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے سنہ2017ء سے جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ، پبلک انویسٹمنٹ فنڈ اور سعودی اقتصادی اور ترقیاتی کونسل میں بھی خدمات انجام دی ہیں۔شاہی فرمان کے تحت ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصبی کو وزارت تجارت کے ساتھ ساتھ اطلاعات ونشریات کی وزارت کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر ماجد اس سے قبل میونسپل اور دیہی امور کے وزیر مقرر کیے گئے تھے۔ سنہ 2015 اور 2016 کے درمیان انہیں وزیر برائے سماجی امور اور 2014ء اور 2015ء کے دوران وزیر کے عہدے کے مساوی ولی عہد کے مشیر کے عہدے پر کام کیا۔

    ڈاکٹر ماجد عبداللہ القصبی نے 1985 میں امریکا کی میسوری یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ انجینئرنگ مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 1983ء میں امریکا کی یونیورسٹی آف میسوری سے آنرز کے ساتھ انجینئرنگ مینجمنٹ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ 1982 میں امریکی یونیورسٹی برکلے سے آنرز کے ساتھ سول انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری اور انجینئرنگ میں بیچلر ڈگری حاصل کی۔ 2002 میں میسوری یونیورسٹی سے پروفیشنل ڈگری کے اعزاز کے ساتھ ‘وال اسٹریٹ جرنل’ ایوارڈ جیتا تھا۔

    القصبی جولائی 2014 سے سعودی عرب کے شاہی دیوان میں ولی عہد کے مشیر مقرر ہوئے۔اس سے قبل سنہ 2010ء اور 2011ء کے دوران انہوں نے سلطان بن عبد العزیز آل سعود چیریٹی فاؤنڈیشن کے جنرل منیجر اور1998ء سے 2002ء تک چیمبر آف کامرس کے سیکریٹری جنرل کے طور پر کام کیا۔ سنہ 1987ء سے 1998ء تک کنگ عبد العزیز یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کےطور پر خدمات انجام دیں۔

  • صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت: خطے میں مفادات کے نئے کھیل کا آغاز، امریکہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے لگا

    صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت: خطے میں مفادات کے نئے کھیل کا آغاز، امریکہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے لگا

    اسلام آباد:صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت: خطے میں مفادات کے نئے کھیل کا آغاز، امریکہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرنے لگا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا 2 روزہ دورہ ایسے وقت میں کیا جب مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر بین الاقوامی فورمز پر بھارت دباؤ کا شکار ہے، شہریت کے متنازع قانون، نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ (این آر سی) اور نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) پر جاری احتجاج ہے، جس کو دبانے کے لیے مودی حکومت نے ہر حربہ آزمایا اور ناکامی پر گجرات ماڈل اپنایا۔

    نئی دہلی اور بھارت کے دیگر حصوں میں شہریتی قانون کے خلاف مظالرین پر بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی)، بجرنگ دل اور دیگر انتہا پسند تنظیموں نے ریاستی سرپرستی میں غنڈہ گردی کی انتہا کردی۔ مسلمان نوجوانوں کو سڑکوں پر گھیر کر لاٹھیوں اور پتھروں سے اس قدر مارا کہ کئی جان سے گئے، جبکہ 100 سے زیادہ ہسپتالوں میں لہولہان پڑے ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنا اور مارپیٹ کے واقعات الگ ہیں۔

    اب تو دنیا کا میڈیا چیخ چیخ کربھارتی مظالم کوبے نقاب کررہا ہے ، بی جے پی اور بجرنگ دل کے غنڈوں نے دلی میں مسلم آبادیوں کا گھیراؤ کیا، گھروں میں گھس کر لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کی، مسلمان عزت اور جان بچانے کے لیے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کردیے گئے ہیں اور حالات میں بہتری کے اب تک کوئی اشارے نہیں مل رہے اور امریکی صدر نے بھی اس پر کھل کر بات سے گریز کیا ہے۔

     

    ایک منصوبے کے تحت بی جے پی کے رہنماؤں نے نئی دہلی کے مسلمانوں کو بی جے پی کو ووٹ نہ دینے پر سبق سکھانے کا فیصلہ کیا، یاد رہے کہ وزیرِ داخلہ امت شا دلی پولیس کے انچارج ہیں اس لیے ان کو جوابدہ پولیس دباؤ یا انتقامی کارروائی کے خوف سے تماشائی بنی رہی۔

     

    امریکی صدر دورہ بھارت کے لیے روانہ ہونے لگے تو امریکی عہدیداروں نے حسبِ روایت صحافیوں کو فون پر بریفنگ دی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایجنڈا اور ممکنہ بات چیت پر اہم پوائنٹس بتائے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ مذہبی آزادیوں پر دنیا بھر میں خودساختہ امپائر امریکا کھل کر بات کرے گا اور امریکی عہدیداروں کی بریفنگ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا گیا تھا لیکن احمد آباد میں ‘نمستے ٹرمپ’ ایونٹ پر خوشی سے نڈھال امریکی صدر نے دورے کا پہلا دن مودی کی تعریفوں میں صرف کیا اور گاندھی کے گھر میں بنے آشرم کے دورے کے دوران بھی مہمانوں کی کتاب پر تاثرات میں گاندھی کو بھول کر مودی کا شکریہ ادا کرکے دستخط کردیے۔

     

    دورے کے دوسرے دن مودی سے ملاقات کے بعد میڈیا بریفنگ میں امریکی صدر نے شہریت قانون پر یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ انہوں نے مودی سے بات کی ہے۔ مودی اپنے ملک میں صحافیوں کے سوالات سے گریز کرتے ہیں اس لیے مشترکہ بریفنگ میں سوالات نہیں لیے گئے۔ صدر ٹرمپ نے بعد میں اکیلے پریس کانفرنس کی اور مہمان ملک کے میڈیا کے سوالات کا سامنا کیا۔

    کشمیر اور پاکستان کے بارے میں امریکی صدر نے جو مؤقف اپنایا اس پر پاکستان کا میڈیا بہت پُرجوش نظر آیا جبکہ بھارتی میڈیا نے احمد آباد اسٹیڈیم میں پاکستان کا ذکر کیے جانے پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ دونوں ملکوں کے میڈیا میں جذبات کا اظہار عوامی خواہشات کا عکاس تو ہوسکتا ہے لیکن اس پر شادیانے بجانے اور جل بھن جانے والے دونوں ہی بلاوجہ جذباتی ہو رہے ہیں۔

    امریکی صدر کے دورے کے کئی مقاصد تھے اور اس دورے کے دوران انہوں نے بھارت کے وزیرِاعظم اور بھارتی عوام کو خوش کرنے کے لیے بہت کچھ کہا۔ پاکستان کو بھارتی حکومت اور عوام کے جذبات کے لیے نظر انداز کرنا امریکی مفاد میں نہیں تھا لیکن پاکستانی میڈیا کا اس پر خوش ہونا بھی نہیں بنتا کیونکہ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر بات ضرور کی لیکن ان کے بیانات میں تضاد آیا۔

    احمد آباد میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے بارڈر پر دہشت گردی کے خلاف امریکا اور پاکستان دونوں مل کر مثبت انداز میں کام کررہے ہیں لیکن مودی کے ساتھ پریس بریفنگ میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کے الفاظ استعمال کرکے ٹرمپ نے مودی کے مؤقف کے قریب ہونے کی کوشش بھی کی۔

    کشمیر پر امریکی صدر نے ایک بار پھر ثالثی کی بات کی لیکن اس بار ثالثی پر زور دینے کے بجائے کہا کہ پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر کام کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کی طرف سے یہ بیان ایک انکشاف ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ اب تک نہیں ملا۔

    ایک ایسے امریکی صدر جو سفارتی معاملات کو بھی ذاتی کاروبار کی طرح چلانے کی شہرت رکھتے ہیں اس دورے کے دوران وزیرِاعظم عمران خان اور مودی دونوں سے دوستی کے دعویدار نظر آئے، لیکن ساتھ ساتھ مودی کو سخت گیر مؤقف رکھنے والا بھی کہا۔

    امریکی صدر اس دورے میں بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے کی توقع رکھتے تھے لیکن صدر ٹرمپ اور مودی کا ایجنڈا کسی بھی سمجھوتے میں رکاوٹ ہے۔ صدر ٹرمپ امریکا میں کاروبار کی واپسی چاہنے کے ساتھ ساتھ امریکی مصنوعات پر دنیا میں لاگو ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں کمی چاہتے ہیں جبکہ مودی میک ان انڈیا کا نعرہ لگاتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکا اور دنیا بھر سے کمپنیاں بھارت میں کاروبار کریں اور رعایت لیں۔

    امریکی صدر نومبر سے پہلے بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں تاکہ دوسری مدت کے لیے الیکشن میں وہ اس کارنامے پر ووٹ سمیٹ سکیں۔ امریکی صدر کے دورے سے پہلے شہریت قانون اور مذہبی آزادیوں پر امریکی عہدیداروں کے بیانات بھارت کو دباؤ میں لانے کے لیے تھے۔

    امریکی صدر پاکستان پر مہربان اس لیے نظر آئے کہ 29 فروری کو دوحہ میں افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہونے جا رہے ہیں اور پاکستان نے اس کے لیے سب سے اہم کردار نبھایا۔

     

    امریکی صدر کے اس دورے کا ایک اور مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا تھا اور اس مقصد میں انہیں جزوی کامیابی ملی ہے۔ بھارت نے امریکا سے اپاچی ہیلی کاپٹروں سمیت 3 ارب ڈالر کا دفاعی سمجھوتہ کیا ہے اور یہ ہیلی کاپٹر بحیرہ ہند میں چین کی طاقت کا مقابلہ کرنے میں مدد دیں گے۔

    بھارت روایتی طور پر روس کے ہتھیاروں کا خریدار رہا ہے لیکن اب امریکا روس سے مسابقت کر رہا ہے اور 2008ء سے اب تک بھارت امریکا سے 17 ارب ڈالر کا دفاعی سامان خرید چکا ہے۔

    امریکی صدر نے 5جی نیٹ ورک پر بھی مودی سے بات کی۔ 5جی کے معاملے پر دنیا تقسیم ہو رہی ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کو چین سے 5جی ٹیکنالوجی لینے سے منع کر رہا ہے۔

    چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کا ایک اور اعلان 4 فریقی ڈائیلاگ کی بحالی اور بلیو ڈاٹ نیٹ ورک پر کام کے آغاز کے بیانات سے ہوتا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے 4 فریقی یعنی بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا ڈائیلاگ کی بحالی پر بھی بات کی۔ اس 4 فریقی فورم کا پہلا وزارتی اجلاس ہوچکا ہے۔

    ’ہم انسدادِ دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، انڈو پیسفک میں آزادانہ نقل و حرکت کے لیے میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں‘، امریکی صدر کا دورہ بھارت کے دوران یہ بیان درحقیقت بحر ہند میں چین کے اثر و رسوخ کے توڑ کا کھلا اعلان ہے۔

    چین نے بحر ہند میں اپنی طاقت بڑھا لی ہے اور بھارت کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ میری ٹائم سیکیورٹی میں تعاون بڑھایا ہے جو نا صرف بھارت کے لیے خطرناک ہے بلکہ امریکا بھی خطے میں چین کی برتری قبول کرنے کو تیار نہیں۔

    امریکی صدر نے کہا کہ بلیو ڈاٹ نیٹ ورک پر امریکا کئی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کا مقصد اس بات کی ضمانت دینا ہے کہ مستقبل کے انفرااسٹرکچر منصوبے محفوظ، شفاف اور قابلِ احتساب انداز میں تعمیر کیے جائیں اور خطے کے ملکوں کو اعلیٰ معیار کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبہ میں مستحکم اور قابلِ اعتماد آپشن دستیاب ہوں۔

    بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کا اعلان نومبر 2019ء میں کیا گیا تھا اور اس وقت بھی اس منصوبے کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا متبادل قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کا طریقہ بیلٹ اینڈ روڈ سے بالکل مختلف ہے، جیسے بیلٹ اینڈ روڈ میں چین کے سرکاری بینک منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کرتے ہیں

    افغانستان میں امن معاہدے کے بعد بھی امریکا کو افغانستان کی تعمیرِ نو اور دہشت گردی کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنے کے لیے تعاون درکار ہوگا۔ بھارت افغانستان میں کردار چاہتا ہے جو اسے فوری نہیں مل سکا لیکن بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کے ذریعے گلوبل انفرااسٹرکچر کے نام پر جو منصوبے بنیں گے

    بھارت کو بھی حصہ ملے گا اور افغانستان بلیو ڈاٹ نیٹ ورک کے لیے زیادہ اہم ہوگا کیونکہ جنگ سے تباہ حال ملک کو نئے سرے سے تعمیر کرنا بہت بڑا منصوبہ ہے اور تمام ملک اس منصوبے میں اپنا حصہ لینے کو تیار ہیں۔پھر یہ مسابقت امریکا اور چین کے درمیان بھی بڑھے گی جو ٹیکنالوجی سے انفرااسٹرکچر منصوبوں تک ہر شعبے میں ہوگی۔

  • شام میں بشار الاسد کی پیش قدمی جاری ، جنگ سے شامی عوام کی زندگی مزید مشکلات کا شکار

    شام میں بشار الاسد کی پیش قدمی جاری ، جنگ سے شامی عوام کی زندگی مزید مشکلات کا شکار

    شام میں بشار الاسد کی پیش قدمی جاری ، جنگ سے شامی عوام کی زندگی مزید مشکلات کا شکار

    باغی ٹی وی :شام میں جنگ پھر سے اپنی تباہی مچا رہی ہے .شام میں بشار الاسد کی فوج نے ادلب اور حلب کے دیہی علاقوں میں اپنی پیش قدمی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ بدھ کے روز تک 60 گھنٹوں سے بھی کم دورانیے میں اس نے 30 دیہات اور قصبوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

    انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے گروپ المرصد کے مطابق بشار کی فوج نے ادلب صوبے کے جنوبی دیہی علاقے میں شامی جنگجو گروپوں کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد حزارين، كورہ، سحاب، ديرسنبل اور ترملا کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

    اس طرح گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بشار کی فوج نے 24 دیہات پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ان میں جبالا، معرہ ماتر، سطوح الدير، بعربو، ارينبہ، الشيخ دامس، حنتوتين، الركايا، تل النار، كفرسجنہ، الشيخ مصطفى، النقير، معرزيتا، معرہ حرمہ، ام الصير، معرہ الصين، بسقلا، حاس اور كفرنبل شامل ہیں۔

    المرصد کے مطابق ادلب کے دیہی علاقے میں روسی طیاروں کی فضائی بم باری سے ترکی کے ہمنوا گروپوں کے 5 ارکان جاں بحق ہو گئے۔
    اس سے قبل منگل کے روز سراقب شہر کے مغرب میں بشار کی فوج اور مسلح شامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران بھرپور زمینی گولہ باری اور فضائی بم باری دیکھنے میں آئی۔

    ترکی کی فوج اور شامی اپوزیشن گروپوں کے ذمے داران نے منگل کے روز اعلان میں کہا تھا کہ ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں النیرب کے قصبے پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ صوبے میں پیش قدمی کرنے والی بشار کی فوج سے واپس لیا جانے والا پہلا علاقہ ہے۔
    واضح رہے کہ شام میں صدر بشار الاسد فوج نے ادلب میں جاری لڑائی میں پیش قدمی کرتے ہوئے اہم علاقے ادلب پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ دوسری طرف شمال مشرقی شام میں اسدی فوج اور اس کی اتحادی روسی فوج کی بمباری میں کئی افراد عام شہری جاں بحق ہوگئے تھے.
    شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے سیرین آبزر ویٹری کے مطابق جمعرات کے روز شمال مغربی شام میں متعدد مقامات پر روسی اور شامی فوج نے فضائی حملے کیے جن میں بچوں سمیت 17 شہری مارے گئے۔

  • نریندر مودی پر تنقید، بھارت نے امریکی مزاحیہ تنقیدی شو کی نشریات بند کرد یں

    نریندر مودی پر تنقید، بھارت نے امریکی مزاحیہ تنقیدی شو کی نشریات بند کرد یں

    نئی دہلی : نریندر مودی پر تنقید، بھارت نے امریکی مزاحیہ تنقیدی شو کی نشریات بند کرد یں ،اطلاعات کے مطابق بھارتی میڈیا تو وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریفوں میں مصروف ہے تاہم عالمی مزاحیہ تنقیدی شو ’لاسٹ ویک ٹو نائٹ ود جان اولیور‘ کے شو کو بھارت میں آن لائن نشر کرنے سے روک دیا گیا۔

     

    سیاسی مزاحیہ تنقید نگار و کامیڈین جان اولیور کا شو’ لاسٹ ویک ٹو نائٹ‘ کا شمار دنیا کے معروف ترین شوز میں ہوتا ہے۔مذکورہ شو ویب اسٹریمنگ امریکی چینل ’ایچ بی او‘ پر نشر کیا جاتا ہے تاہم مذکورہ شو کو ڈزنی اسٹوڈیو اپنے ویب اسٹریمنگ چینلز پر بھی ریلیز کرتا ہے۔

    ’لاسٹ ویک ٹو نائٹ ود جان اولیور‘ کے شوز کو ’ڈزنی‘ اسٹوڈیو ہر ملک میں اپنے مقامی ویب اسٹریمنگ چینلز پرریلیز کرتا ہےرہا ہے اور ماضی میں اس شو کو بھارت میں بھی جاری کیا جاتا رہا ہے۔تاہم اس شو کی حالیہ قسط کو ڈزنی اسٹوڈیو نے اپنے ویب اسٹریمنگ چینل ’ہاٹ اسٹار‘ پر ریلیز نہیں کیا، جس کی وجہ شاید شو میں نریندر مودی پر تنقید ہے۔

    جان اولیور نے 23 فروری کو کیے گئے شو میں امریکی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت سمیت بھارتی وزیر اعظم کی انتہاپسندی، ہندوستان میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور نریندر مودی کی جانب سے ماضی میں ریاست گجرات میں کیے گئے مسلمانوں کے قتل عام پر بات کی تھی۔

    جان اولیور کے مذکورہ شو کو اگرچہ محض 3 دن میں یوٹیوب پر 52 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے تاہم اس شو کو انڈیا میں ’ہاٹ اسٹار‘ پر ریلیز نہ کیے جانے پر کئی لوگوں نے حیرانی کا اظہار کیا۔

     

    بھارت کے کئی ٹوئٹر صارفین نے جان اولیور کے تازہ شو کی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے حیرانی کا اظہار کیا کہ جس شو کو 52 لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، اسے انڈیا میں ریلیز کیوں نہیں کیا جا رہا؟

    ساتھ ہی کئی افراد نے جان اولیور سے اتفاق کیا کہ بالآخر مغربی میڈیا کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی سیاسی جماعت ’بھارتی جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کا نظریہ سمجھ آگیا اور وہ جان گئے کہ دراصل ’بی جے پی‘ نیونازی ہی ہے۔

    تاہم چند افراد نے جان اولیور پر تنقید بھی کی اور دعویٰ کیا کہ پروگرام میں بھارت سے متعلق پیش کیے گئے کچھ حقائق غیر حقیقی ہیں اور میزبان نے ریسرچ کیے بغیر کچھ نشریاتی اداروں کی رپورٹس پر اکتفا کیا۔

    جان اولیور کے تقریبا 20 منٹ دورانیے کے مزاحیہ تنقیدی پروگرام میں انہیں نہ صرف نریندر مودی بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی تنقید کرتے ہوئےسنا جا سکتا ہے۔

     

    https://twitter.com/TheDeshBhakt/status/1231881881211281409?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1231881881211281409&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawnnews.tv%2Fnews%2F1121200

    جان اولیور کا مذکورہ پروگرام ڈونلڈ ٹرمپ کے 24 فروری کو بھارت پہنچنے سے ایک دن قبل نشر کیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی اہلیہ کے ہمراہ محبت کی نشانی تاج محل کا دورہ بھی کریں گے۔

    میزبان نے ہلکے پھلکے انداز میں تنقید کرتےہوئے کہا تھا کہ ’دیکھیں کیا ظلم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ محبت کی نشانی کا دورہ کریں گے‘ کامیڈین کا اشارہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے درمیان ماضی میں کشیدہ تعلقات کی خبروں کی جانب تھا۔

    اسی طرح انہوں نےپروگرام میں بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ’بھارتی قوم کے والد‘ قرار دے چکے ہیں جب کہ یہ اعزاز مہاتما گاندھی کو حاصل ہے۔

    جان اولیور کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نریندر مودی کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کرتے ہوئے انہیں عظیم شخص قرار دیا اور یہ بھول گئے کہ ان کی حکومت میں ہی ہے گزشتہ 2 ماہ سے اقلیتوں پر مظالم جاری ہیں۔

    جان اولیور نے اپنے پروگرام میں 2002 میں نریندر مودی کی جانب سے ریاست گجرات میں کرائے گئے مسلمانوں کے قتل عام کا ذکر بھی کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق جس سیاسی جماعت سے ہے وہ کتنی تنگ ںظر ہے اور اس کے نظریات کیا ہیں؟

    جان اولیور کے مذکورہ پروگرام کو جہاں بھارتیوں نے سراہا وہیں دیگر ممالک کے افراد نے بھی ان کی تعریف کی مگر ان کےپروگرام کو بھارت میں یوٹیوب پر ریلیز کرنے سے روک دیا گیا۔

  • ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا کا  استعفیٰ‌، آخر وجہ کیا بنی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا کا استعفیٰ‌، آخر وجہ کیا بنی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا کا اپنے عہدے سے استعفیٰ‌، آخر وجہ کیا بنی

    باغی ٹی وی :ایڈوکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا، یہ استعفیٰ انہوں نے گورنر پنجاب چوہدری سرور کوبھجوادیاہے ۔

    مقامی میڈیاکے مطابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد جمال سکھیرا نے استعفیٰ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ذاتی وجوہات کی بنا پراستعفی دے رہا ہوں، استعفیٰ گورنر پنجاب کو بھجوا دیا ہے۔احمد جمال سکھیرا کے استعفے کے متن کے مطابق جمال سکھیرا کا کہنا ہے کہ میں ایمانداری اور اپنے ضمیر کے مطابق کام کرتا رہا ہوں، میں نے بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اعلیٰ عدلیہ کی بھر پور معاونت کی ہے ۔

    سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمدجمال کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کے قانونی مفادات کاتحفظ کیا، اپنی معیاد عہدہ کے دوران جو اچھے کام کیے وہ اللّٰہ پاک کی مدد اور رحمت کی و جہ سے ہے۔

    واضح‌رہے کہ اپریل2019ءکو جس وقت سردار احمد جمال سکھیرا نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا عہدہ سنبھالا وہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ میں زیرسماعت متعدد مقدمات میں وکیل تھے،قانونی اور آئینی طور پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پرائیویٹ پریکٹس نہیں کرسکتے،انہوں نے نجی مقدمات چھوڑنے کی بجائے ان میں جنرل ایڈجرنمنٹ کی درخواست دے کر انہیں التواءمیں ڈال رکھاہے،جن میں پاکستان ٹوبیکو کمپنی،اٹک ریفائنری لمیٹڈ،پاکستان آئل فیلڈزلمیٹڈ، اٹک پٹرولیم، کسٹم اور ایف بی آر کے علاوہ ایک بڑی کھاد کمپنی اور ان کا ذاتی کیس سرداراحمد جمال سکھیرا بنام گورنمنٹ آف پاکستان بھی شامل تھا.رداراحمد جمال سکھیرا نے جنرل ایڈجرنمنٹ کے لئے لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کو جو درخواستیں دیں ان میں خود تسلیم کیا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل140(3) کے تحت پرائیویٹ مقدمات میں پیش نہیں ہوسکتے اس لئے ان کے مقدمات کی سماعت ملتوی کی جائے،اس حوالے سے لاہورہائی کورٹ کے متعلقہ ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل)سید شبیر حسین شاہ نے ان کی جنرل ایڈجرنمنٹ کی درخواست پریہ نوٹ بھی دے رکھاہے کہ ایڈووکیٹ جنرل کی عمومی التواءکی درخواست کے حوالے سے رولز خاموش ہیں تاہم ایڈووکیٹ جنرل نے اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے ان کی جنرل ایڈجرنمنٹ منظور کئے جانے کے اقدام کو بطور نظیر پیش کیاہے۔

  • بے روزگار پڑھی لکھی خواتین کے لیے خوشخبری :حکومت کا 35 ہزار خواتین کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ

    بے روزگار پڑھی لکھی خواتین کے لیے خوشخبری :حکومت کا 35 ہزار خواتین کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ

    ریاض : بے روزگار پڑھی لکھی خواتین کے لیے خوشخبری :حکومت کا 35 ہزار خواتین کو روزگار فراہم کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کےمطابق حکام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کے شعبوں میں ہزاروں خواتین کو برسر روزگار لانے کی تیاریاں مکمل کرلیں۔

    تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے تحت کچھ سال قبل ہی خواتین کو آزادی کی نعمت سے نوازا ہے جس کے بعد موسیقی اور کار ریس سمیت تمام شعبوں میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

    عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت نے اب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تمام شعبوں میں مکمل طور پر سعودی شہریوں کو ملازمت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد 35 ہزار سعودی خواتین برسر روزگار تو آجائیں گی لیکن ہزاروں غیر ملکی ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے۔

    رپورٹ کے مطابق تاحال انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سعودی شہریوں کی شرح 42.9 فیصد ہے جو تعداد کے اعتبار سے 1 لاکھ 12 ہزار سے 843 بنتی ہے۔

    سعودی وزارت مواصلات نے وژن 2030 کے تحت گزشتہ دو سالوں کے دوران 34 سے زائد خواتین کو ملازمت فراہم کی تھی اور اب مزید 35ہزار سعودی خواتین کو ملازمت دی جائے گی۔وزارت نے سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونکیشن کے شعبوں کی سعودائزیشن کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

    وزارت مواصلات کا کہنا تھا کہ بڑی کمپنیوں پر زیادہ زور دیا جائے گا، سعودائزیشن کی سکیم بتدریج نافذ ہوگی، اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ چھوٹے اور درمیانے سائز کی کمپنیوں کی ترقی سعودائزیشن کی شرح بڑھانے سے متاثر نہ ہو۔

  • بھارت میں مسلمانوں پرمظالم پرامریکی سیاستدان بھی خاموش نہ رہ سکے ، بھارت کولگام ڈالنے کامطالبہ کردیا

    بھارت میں مسلمانوں پرمظالم پرامریکی سیاستدان بھی خاموش نہ رہ سکے ، بھارت کولگام ڈالنے کامطالبہ کردیا

    واشنگٹن :بھارت میں مسلمانوں پرمظالم پرامریکی سیاستدان بھی خاموش نہ رہ سکے ، بھارت کولگام ڈالنے کامطالبہ کردیا ،اطلاعات کےمطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر جاری احتجاج میں 24 فروری سے اس وقت شدت آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے دورہ بھارت پر پہنچے اور پھر یہ احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے پرتشدد مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

    مذکورہ مظاہروں کے دوران 24 سے 26 فروری کی دوپہر تک ہونے والی کشیدگی میں کم سے کم 23 افراد ہلاک جب کہ 500 سے زائد زخمی ہوگئے۔مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے مذہبی فسادات کی صورت اختیار کرلی اور ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر جان لیوا حملوں سمیت عبادت گاہوں پر بھی حملے کیے گئے۔

    نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر جہاں پاکستانی سیاستدانوں نے مذمت کا اظہار کیا وہیں دیگر ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔

    نئی دہلی میں ہونے والے فسادات پر افسوس کا اظہار صرف پاکستانی اور مسلمان سیاستدانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا کے بھی کئی سیاستدانوں اور قانون سازوں نے بھارت میں ہونے والے مذہبی فسادات پر افسوس کرتے ہوئے بھارتی حکام سے جلد از جلد امن بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    امریکی خاتون سینیٹر اور آئندہ انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار 70 سالہ ایلزبتھ وارن نے نئی دہلی میں ہونے والے مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ٹوئٹ کی۔انہوں نے لکھا کہ اگرچہ بھارت جیسے جمہوری ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھانا امریکا کے لیے اہم ہے تاہم اتنی ہمت اور سچائی ضرور ہونی چاہیے کہ اگر بھارت میں کچھ بھی غلط ہو رہا ہے تو اس پر کھل کر بات کر سکیں۔

     

    صدارتی امیدوار کا کہنا تھا کہ ہمیں بھارت میں مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی اور پُرامن مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد پر کھل کر بات کرنا ہوگی۔انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کا لنک بھی شیئر کیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ پولیس نے متنازع قانون پر مظاہرہ کرنے والے افراد کو ہلاک کردیا۔

    ادھر رکن کانگریس پرملا جیاپل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر اظہار افسوس کیا اور اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’بھارت میں مذہب کے نام پر نہتے لوگوں کو مارنا خوفناک اور قابل مذمت ہے، جمہوری ممالک کو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی کے لیے کام کرنا چاہیے۔انہوں نے لکھا کہ ’دنیا دیکھ رہی ہے کہ بھارت میں کیا ہو رہا ہے‘۔

     

    مسلم رکن کانگریس راشدہ طلیب نے بھی نئی دہلی میں مذہب کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی۔راشدہ طلیب نے لکھا کہ اسی ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ دورے پر بھارت گئے مگر وہاں کی اصل کہانی نئی دہلی میں مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کا قتل عام ہے۔ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ دنیا بھارت بھر میں اس طرح مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتی۔

     

    علاوہ ازیں امریکی قانون ساز ایلن لوونتھل نے بھی نئی دہلی میں مذہبی فسادات پر دکھ کا اظہار کیا اور لکھا کہ ’یہ سب کمزور اور اخلاقیات سے خالی قیادت کا نتیجہ ہے کہ بھارت جیسے ملک میں انسانی حقوق کی سرعام خلاف ورزی ہو رہی ہے’۔

     

    امریکی سیاستدانوں اور قانون سازوں کے علاوہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر نظر رکھنے والے امریکی حکومت کے ادارے نے بھی نئی دہلی میں مسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔

     

    امریکی حکومتی ادارے ’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ (یو ایس سی آئی آر ایف) نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ ’نئی دہلی میں مسلمانوں کو ہجوم کے شکل میں مارنے کی خبریں آرہی ہیں‘۔ساتھ ہی ادارے نے لکھا کہ وہ مذکورہ معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے متعدد ٹوئٹس کرکے نریندر مودی حکومت سے کہا ہے کہ ‘وہ پرتشدد ہجوم کو ختم کرکے مذہبی و اقلیتی آزادی کو یقینی بنائیں‘۔