Baaghi TV

Author: +9251

  • پاکستان کی قومی زبان  سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان سے ایسا سلوک کیوں ،تحریر: محبوب چشتی

    پاکستان کی قومی زبان اُردو ہے جسے ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے 25 فروری 1948ء کو اردو قومی زبان کا درجہ حاصل کر گئی ،مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اردو قومی زبان ہونے کے باوجود لسانی زبانوں کے سامنے بے یارو مددگار ہے۔ دیگر زبانوں کے حوالے سے پاکستان میں مختلف دن منائے جاتے ہیں مگر اردو کے قومی زبان کا دن منانے سے پرہیز کیا جاتا ہے ۔

    اس طرز عمل کی وجہ سے پاکستان کے بچوں میں اُردو کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہوتی ہے اور بچے اور نوجوان اردو کے بارے میں محض اتنا جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کی قومی زبان ہے ،اس کی ابتداء اس کی اہمیت اردو ادب، اردو ادب کیلئے رات دن ایک کرنے والے مفاکر، نثرنگار، شعراء، دانشور و دیگر کے حوالے سے انہیں بہت کم معلومات ہوتی ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اردو نصاب بھی دن بہ دن سکڑتا جا رہا ہے جس سے یہ تشویش ہو چلی ہے کہ کہیں کسی روز اردو کو نصاب سے باہر ہی نہ کر دیا جائے۔

    اردو کے قومی زبان ہونے کے بارے میں تو سب جانتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ اردو کے قومی زبان ہونے کے باوجود اور آئین پاکستان کا حصہ بننے کے باوجود اب تک اس کا سرکاری سطح پر نفاذ کیوں نہیں ہوسکا جبکہ اب اس بات کو کئی سال گزر چکے ہیں۔

    آئین پاکستان کی شق(251 )کی ذیلی شق 1 میں واضح طور پر تحریر ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور آئین کی رو سے 15 برس کے اندر اندر اس کا سرکاری و دیگر اغراض کیلئے استعمال کے انتظامات کرنا حکومتوں کی ذمہ داری تھی جبکہ اسی شق کی ذیلی شق 2 میں یہ بھی درج ہے کہ انگریزی زبان اس وقت تک سرکاری اغراض کے لیے استعمال کی جائے گی جب تک اس کو اردو سے تبدیل کرنے کے انتظامات نہیں ہو جاتے اسی طرح مذکورہ شق کی ذیلی شق 3 میں یہ درج کیا گیا ہے کہ اردو کی حیثیت کو متاثر کئے بغیر کوئی صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے قومی زبان کے علاوہ کسی صوبائی زبان کی تعلیم، ترقی اور اس کے استعمال کے لیے اقدامات تجویز کرسکے گی۔

    آئین پاکستان کے تحت اسے 1988ء تک پاکستان میں دفتری زبان کے طور پر اردو کو نافذ ہو جانا چاہیئے تھا مگر 31 سال کا زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود اس جانب کوشش نہیں کی گئی ماسوائے سابق وزیر اعظم نے سپریم کورٹ کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے 2015ء میں سرکاری حکم نامے کے تحت وفاقی اداروں کو اُردو کے دفتری زبان کی حیثیت سے نافذ کرنے کا کہا گیا جو ہوائی قلعے سے زیادہ نہ ثابت ہوسکا اور نہ ہی اس حکم نامے کے اطلاق کیلئے یادداشتی حکمنامےجاری نہیں کئے گئے اور نہ ہی آخری حکم نامے کے طور پر سرکاری اداروں کو وارننگ دی گئی کہ اگر انہوں نے وزیراعظم پاکستان کے حکم نامے پر عمل درآمد نہیں کیا تو ان کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائیگا، ورنہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اردو سرکاری زبان کے طور پر نافذ نہ ہو پاتی۔

    اسی طرح سندھ اسمبلی میں 2016ء میں ایک قرار داد کے ذریعے سندھ میں سندھی زبان کے نفاذ کا ”غیر قانونی“ اعلان کیا ،دلچسپ امر ہے پیپلز پارٹی کی حکومت میں سندھ اسمبلی نے اسے منظور بھی کیا جبکہ اسی پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور کا آئین چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اردو زبان کی حیثیت متاثر کئے بغیر کسی صوبائی زبان کا نفاذ نہیں کیا جا سکتا۔

    المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اردو زبان بولتے ضرور ہیں مگر اس کو قومی زبان تسلیم کرنے اور نافذ کرنے میں لسانی رنگ نمایاں ہو جاتا ہے جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے ۔بین الاقوامی زبان کے طور پر بھی اردو بولی اور تسلیم کی جاتی ہے دنیا کی 25 سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو بھی شامل ہے۔ اب وقت ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان، اردو کو آئینی لحاظ سےسرکاری طور پر نافذ فرمانے کے ساتھ 25 فروری کو نفاذ اردو کا دن منانے کا حکم بھی دیں جبکہ اردو ادب کی ترویج کیلئے اقدامات ہونے چاہیئں تاکہ ہماری آنے والی نسل کو اردو کی اہمیت کے بارے میں بتانے کیلئے ہمارے پاس مواد موجود ہو ۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کے نفاذ اور ترویج کیلئے پاکستان بھر میں یہ تاثر عام کرنا ہوگا کہ یہ کسی مخصوص لسانی اکائی کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ اس کی پہچان بین الاقوامی طور پر کی جاتی ہے اس لئے یہ پاکستان کی قومی زبان ہے اور جہاں اربابِ اختیار سے ہمیں یہ شکایتیں ہیں ، وہیں اردو کو اپنی زبان کہنے والوں سے بھی یہ گلہ اپنی جگہ موجودہےکہ اس زبان کواپنی زبان کہنےوالےبھی نفاذ اردوکےلیےکوئی خاص کام نہیں کررہےہیں

  • نئی دہلی: ہندوبلوائیوں کے مسلمانوں پر حملے، لوٹ مار، مساجد نذرآتش، 21 مسلمان شہید”ہمیں بچالوپاکستان” کی آوازیں بلند ہورہی ہیں

    نئی دہلی: ہندوبلوائیوں کے مسلمانوں پر حملے، لوٹ مار، مساجد نذرآتش، 21 مسلمان شہید”ہمیں بچالوپاکستان” کی آوازیں بلند ہورہی ہیں

    نئی دہلی:نئی دہلی: ہندوبلوائیوں کے مسلمانوں پر حملے، لوٹ مار، مساجد نذرآتش، 21 مسلمان شہید 500 سے زائد زخمی ،اطلاعات کےمطابق بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا، انتہاپسندوں اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑ نے دلی کے مسلمانوں پر قیامت ڈھا دی، بلوائیوں کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 21 ہو گئی، 500 سے زالئد افراد زخمی ہیں۔ مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    مسلمانوں کو چن چن کرمارا جارہا ہے، مساجد کےاندرہندوداخل ہوچکے ہیں اورمسلمانوں کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ قرآن مجید بھی شہید کردیئے گئے ، ادھر دلی کے مسلمانوں پر قیامت برپا ہے ، بلوائیوں اور سرکاری اہلکاروں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی، بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلم علاقوں میں تباہی مچا دی، انتہاپسندوں نے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا۔

    مسلمانوں کی املاک کو جلانے اور لوٹنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مساجد اور درگاہوں کی بھی بے حرمتی کی جا رہی ہے، بھجن پورہ میں مزار کو نذر آتش کیا گیا، اشوک نگر میں مسجد کو آگ لگائی گئی اور مینار پر ہنومان کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا۔

    جعفر آباد میں مسلم کش قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی خواتین کے گرد نوجوانوں نے ہاتھوں کی زنجیر بنائی، مظاہرین کا کہنا ہے کہ کئی نوجوانوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے گولی ماری گئی۔

    شمال مشرقی دلی کے علاقے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔


    نئی دلی سے ذرائع کےمطابق ہرطرف چیخ وپکارجاری ہے اورمسلمانوں پرہندودہشت گردوں کی طرف سے قیامت طاری ہے، دلی کے مظلوم اورپریشان حال مسلمان ہندووں کے مظالم سے بہت تنگ آچکے ہیں‌،ذرائع کےمطابق زخمی مسلمان "ہمیں بچالوپاکستان” کی آوازیں بلند کررہے ہیں‌

  • کرونا وائرس کا خوف اسٹاک مارکیٹ پر بھی طاری

    کرونا وائرس کا خوف اسٹاک مارکیٹ پر بھی طاری

    کرونا وائرس کا خوف اسٹاک مارکیٹ پر بھی طاری
    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی کاروبار کے آغاز پر ملا جُلا رجحان موجود ہے۔ اسٹاک مارکیٹ پر بھی کورونا وائرس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بدھ کو اسٹاک مارکیٹ کا آغاز مثبت زون میں ہوا تاہم جلد ہی مارکیٹ میں منفی رجحان نظر آیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس میں کاروبار کا آغاز 38 ہزار 858 پوائنٹس پر ہوا اور ابتدا میں ہی انڈیکس مثبت زون میں ٹریڈ کرتے نظر آیا.

  • ایرانی سرحد بند ہونے  کی وجہ ایل پی جی کی قمیت بڑھ گئی

    ایرانی سرحد بند ہونے کی وجہ ایل پی جی کی قمیت بڑھ گئی

    ایرانی سرحد بند ہونے کی وجہ ایل پی جی کی قمیت بڑھ گئی

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کے باعث ایرانی سرحد بند ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمت میں 50 روپے فی کلو تک اضافہ ہوگیا ہے۔
    ملک میں ایل پی جی کی قیمت 200 روپے فی کلو سے تجاوز کر گئی۔گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 500 جبکہ کمرشل سلنڈر دو ہزار روپے تک مہنگا ہوگیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے یومیہ ایک ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی درآمد کی جا رہی تھی، فراہمی بند ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔سرحد کی بندش سے درجنوں ایل پی جی کنٹینرز پاک ایران سرحد پر پھنس گئے ہیں اور ملک میں یل پی جی بحران شدت اختیار کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں گیس کی مہنگائی ہوئی ہے . دنیا بھر میں‌ یہ معاشی معاملات متاثر ہو رہے ہیں.

  • جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!—عزیراحمد

    میں نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا بے بس نہیں محسوس کیا تھا، جتنا اب کر رہا ہوں، تصویریں، ویڈیوز جو سامنے آ رہی ہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ میں ہندوستان ہار رہا ہوں، وہ ہندوستان جس کا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھے تھے، اس کی تعبیر بہت بھیانک مل رہی ہے،

    1947 میں بھی ہندو-مسلمان تھا، 2020 میں بھی ہندو-مسلمان ہے، کچھ بھی نہیں بدلا، بس ہندسے بدل گئے ہیں، وہی نفرت، وہی دشمنی جس نے کبھی دلی کو سڑکوں سے خون نہلدیا ، وہی پھر دیکھ رہا ہوں میں، چاروں طرف خون بہتے ہوئے، سڑکوں پر لاشوں کی طرح پڑے لوگ، اور ان کے ساتھ وردی میں ملبوس غنڈوں کی غنڈہ گردی، مزار کو پھونکتے ہوئے، مسجدوں کے گنبدوں کو توڑتے ہوئے، بیک گراؤنڈ میں عورتوں کی چیختی ہوئی آوازیں،

    یہ تصویریں اور ویڈیوز مجھے زندگی بھر ڈراتی رہیں گی، میں کبھی انہیں بھول نہیں پاؤں گا، کیونکہ میں اس میں ہارتے ہوئے "آئیڈیا آف انڈیا” دیکھ رہا ہوں، میں اس میں "دلت مسلم یونیٹی” کا خواب چکنا چور ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، مجھے سنگھی غنڈوں کی صف میں وہی لوگ آگے نظر آ رہے ہیں، جو پچھڑی ذات کے ہیں، ان کے کپڑے، ان کے پہناوے اور ان کا لائیو ویڈیو بتا رہا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ نہیں، یہ اونچی ذات کے لوگ نہیں ہیں، یہ مہرہ ہیں، وہ مہرہ جنہیں ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

    میں نے گجرات فساد کے بارے میں صرف پڑھا تھا، اسے کبھی محسوس نہیں کیا تھا، مگر میں نے دہلی میں ہو رہے فساد کے ذریعہ اسے جی لیا ہے، جو کچھ گجرات میں ہوا تھا، ہو بہو وہی دہلی میں ہوا ہے، احسان جعفری پولیس اور گورنمنٹ کو فون کرتے رہ گئے تھے، اور انہیں جلا دیا گیا تھا، کل رات بھی لوگ اپیلیں کرتے رہ گئے، دہلی پولیس سے، لیفٹننٹ گورنر سے، ہوم منسٹر سے، پرائم منسٹر سے، کوئی سننے کے لئے تیار نہیں تھا، سب نے آنکھیں موند لی تھیں، نہ کسی کو کچھ دکھائی دے رہا تھا، نہ مظلوموں کا چیخ و پکار سنائی دے رہا تھا، ایسے لگ رہا تھا کہ اجازت دے دی گئی ہو کہ تم بربریت کا جتنا ننگا ناچ ناچ سکتے ہو، ناچ لو، پولیس تمہارے ساتھ ہے ہی، اور ہماری مہان پولیس نہ صرف دنگائیوں کا ساتھ دے رہی تھی بلکہ انہیں ٹریننگ بھی دے رہی تھی کہ کیسے پتھر پھینکا جائے۔

    رات میں جس طرح سے ٹائر مارکیٹ جلایا گیا، اس کی اٹھتی ہوئی لپٹیں سیریا کی یاد دلا رہی تھیں کہ جیسے بم مار دیا گیا ہو، لوگ رحم کی بھیانک مانگ رہے تھے، عورتیں بچے چلا رہے تھے، مگر رام راجیہ کے سپاہیوں کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی، جانوروں سے بھی بدتر لوگ، نفرت ہونے لگی ہے ان کی شکلوں سے، بے اتھاہ غصہ اندر بھر رہا ہے، کوئی ایک فساد ذہنوں سے محو نہیں ہوتا ہے کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے، کیا ہندوستان میں ہندو مسلم فساد کا لا متناہی سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا، ہندوؤں کا پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا طبقہ تو معاملات سمجھ رہا ہے، لیکن عام ذہن نفرت سے کرپٹ ہو چکا ہے، اس کو ان سب چیزوں سے خوشی مل رہی ہے، اس کے دل کی تسلی کے لئے یہی کافی ہے کہ مسلمان مودی ایرا میں ستائے جارہے ہیں، مارے جا رہے ہیں، ذلیل کئے جا رہے ہیں، ورنہ کیا وجہ کہ یہ سب تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھی ان کے دل و دماغ میں ہلچل نہیں ہوتی ہے، وہ کھل کر مسلمانوں کے سپورٹ میں نہیں آتے ہیں کہ ہم دنگائیوں کے ساتھ نہیں ہیں، چند مخصوص افراد کی بات الگ ہے، لیکن اکثریت ہے کہاں؟

    دلی پولیس کا کردار ہمیشہ مسلمانوں اور اسٹوڈنٹس کے تئیں گھناؤنا رہا ہے، یہی دہلی پولیس ہے جس نے مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیں ہے، کئی بے گناہ نوجوانوں کو انکاؤنٹر میں مار دیا ہے، اور کئیوں کو گمنامی کے کنوئیں میں پھینک دیا ہے، 1984 میں اس نے کانگریسی حکومت کے چھترچھایہ میں سکھوں کا نرسنہار کرنے میں پورا سپورٹ کیا تھا، 2020 میں کمل کا پھول تھامے لوٹ مار مچا رہی ہے، اس سے زیادہ ذلیل پولیس میں نے کبھی نہیں دیکھی، پتہ نہیں اس کے افراد رات میں جب گھر جاتے ہوں گے تو اتنا ظلم کرنے کے بعد چین کی نیند کیسے لے پاتے ہوں گے، دنگائیوں کو روکنے کے بجائے انہیں کے ساتھ مل کر پتھر بازی کرنا، لوٹ مار کرنا اور اقلیتی طبقے کو کسی اور ملک چلے جانے کے لئے کہنا دنیا کی کون سی پولیس کرتی ہے؟

    تڑی پار ایک فسادی تھا، فسادی ہے، اور فسادی رہے گا، خون اس کے منہ کو لگ چکا ہے، جب تک اسے خون پینے کو نہ ملے اسے سکون نہیں ملتا، 2002 میں گجرات جلایا تھا، ابھی پورا ملک جلا رہا ہے، اپنے زعم اور اپنے انا میں پورے ملک کو تباہ کرنے کے درپے ہے، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا اکثریتی طبقہ مایوس کر رہا ہے, وہ آئیڈیا آف انڈیا کو فیل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے مگر وہ کچھ بول نہیں رہا ہے، شاید وہ سوچ رہا ہے کہ ہمیں اس سے کیا لینا دینا، مگر وہ بھول رہا ہے کہ جب آگ لگتی ہے تو اس کے لپٹ کی زد میں ارد گرد کے سارے گھر بھی آ جاتے ہیں۔

    اپوزیشن کی حالت یہ ہے کہ اس کے ممبران ٹیوٹر پر بس سانتونائیں دے رہے ہیں، اگر اپوزیشن غلط کے خلاف کھڑی نہیں ہوسکتی تو ایسے اپوزیشن کا مر جانا بہتر ہے، اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بھی دہلی کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملہ، پتھراؤ اور فائرنگ جاری ہے، کچھ جگہوں پر حالات دوبارہ خراب ہونے کی سنبھاؤنا ہے، چاروں طرف سے شرپسند عناصر نے گھیر رکھا ہے، گھروں میں موجود لوگ کس سیچویشن سے گزر رہے ہوں گے اس کو بس وہی اندازہ لگا سکتا ہے جو کبھی ان حالات سے گزر چکا ہو، بھگوا دہشت گرد کتوں کی طرح گلیوں میں چلا رہے ہوں گے، دکانوں مکانوں پر حملہ کر رہے ہوں گے، اپوزیشن چاہتی تو فورا ایک آل آرگنائزیشن میٹنگ بلا کر گورنمنٹ پر پریشر ڈال سکتی تھی، مگر وہ کچھ بھی نہیں کر رہی ہے

    ہماری عدلیہ کو بھی فسادات سے مطلب نہیں، لوگ مر رہے ہیں، اس سے مطلب نہیں، پولیس ظلم کی حدوں کو پار کر رہی ہے، اس سے مطلب نہیں، بیجا NSA/PSA اور Sedition کے چارجز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے مطلب نہیں، اسے مطلب ہے تو بس ٹریفک سے، پروٹسٹ ختم کروانے سے، اور مودی جی کو ایک جینس آدمی قرار دینے سے، بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا پار ہو چکی ہے۔

    ابھی فی الحال حالت یہ ہے کہ دماغ کے دروازے بند ہوچکے ہیں، بس چاروں طرف مارو پکڑو کی آوازیں ہیں جو سنائی دے رہی ہیں، مجھے وہ چیختی ہوئی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر بے بسی اتنی ہے کہ کچھ کر نہیں سکتے، لیکن بے حسی بھی طاری نہیں ہورہی ہے کہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ جائیں، میں بہت حساس طبیعت کا مالک ہوں اور یہ حساسیت ہی ہے جو مجھے ایک پل کے لئے بھی جو کچھ ہو رہا ہے اس سے غافل نہیں ہونے دیتی، اسلام نے ایک امت اور جسد واحد کا جو کانسپٹ دل و دماغ میں اتارا ہے اس کی وجہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے میرا گھر جل رہا ہے, جیسے میرے گھر میں گھس کر میرے اہل خانہ کو مارا جارہا ہے,

    یہی وجہ ہے کہ یہ سب لکھتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو بھی ہیں اور میری سوچ میں الجھن بھی، میں یہ نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ میں ان سب کا ذمہ دار بھگوا ٹیرر کے ساتھ ساتھ اور کسے ٹھہراؤں، حکومت کو، یا مظاہرین کہ جن کو Provoke نہیں ہونا تھا وہ ہوگئے، جن کو ان کے خلاف لگائے گئے نعروں پر ری ایکٹ نہیں کرنا تھا، وہ کر بیٹھے، جب لڑائی لمبی تھی، تو اس میں Patience بھی بڑا چاہئے تھا، یا پھر اکثریتی طبقہ کو جن کی خاموشی رضامندی معلوم ہورہی ہے، کہ جن کو جب سڑکوں پر نکل کے لئے آنا تھا، وہ اپنے کمروں میں گھر مورے پردیسیا کے گیت گا رہے ہیں، ذمہ دار کوئی بھی ہو ہندوستان ہار رہا ہے، اور اسے ہارتے ہوئے ہم بس دیکھ رہے ہیں، اور کچھ بھی کر پانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

    جو دلی کا حال ہے وہی دل کا حال ہے!

    تحریر از…….عزیراحمد

  • کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ،  تحریر ذیشان وارث

    کتاب "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ ، تحریر ذیشان وارث

    عماد بزدار کا "اوفینسو ڈیفنس” "ملزم جناح حاضر ہو!” پر تبصرہ
    تحریر :ذیشان وارث

    کتاب ابھی ختم کی ہے. سوچا کتاب بارے کچھ خیالات شئیر کر لیے جائیں. یہ بھی ایک آئرنی ہے کہ جب یہ کتاب پڑھی ہے تو دلی سے دل دھلا دینے والی خبریں بھی ساتھ ہی آرہی ہیں. کشمیر کے انسانیت سوز کرفیو کو بھی دو سو روز گزر گئے ہیں.

    کشمیری تو خیر جیالے لوگ ہیں. یہ ہندوستان کے مسلمان ہی تھے جو سادہ لوحی اور آزاد کے شخصی سحر میں آکر ہمیشہ سے جناح کو برا بھلا کہتے رہے. خیر اب انکی غلط فہمیاں بھی رفع ہو گئی ہو نگی. اللہ انکے لیے آسانیاں پیدا کرے.

    جناح کی شخصیت اور سیاست پر بہت سارے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں. کچھ اعتراضات مگر ایسے ہیں کہ اگر انہیں مان لیا جائے تو پاکستان کا وجود ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے. مثلاً یہ کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہونا چاہئے تھا جہاں سب ملکر رہتے. جناح نے تقسیم کرواکے پتہ نہیں کتنا بڑا ظلم کیا. اس پہلو پہ عماد بزدار نے پورا باب باندھا ہے کہ کس طرح جناح کی تربیت اور سیاست ہی اتحاد اور سیکولرازم کی سیاست تھی. ہندوستان کا آخری شخص جو مزہبی سیاست کے خلاف تھا وہ جناح ہی تھا. مگر پتہ نہیں کیوں ہمارے ہاں لوگ تحریک خلافت میں سادہ لوح لوگوں کے مزہبی جذبات کو بھڑکانے والے اور 37 کی جیت کے نشے میں ہندو فاشزم لانچ کرنے والے گاندھی اور آزاد کو کلین چٹ دے دیتے ہیں.

    ایک اور الزام جناح پہ لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریز کے ایجنٹ تھے. جناح کی زندگی کا سرسری مطالعہ کرنے والا بھی اس بے سروپا الزام پر یقین نہیں کر سکتا. مگر ہندوستان اور پاکستان کے مزہبی لوگوں میں تعصب، عقیدت اور تقلید یوں کوٹ کوٹ کے بھری ہے کہ جو کچھ منبر سے بیان ہو جائے اسے وحی سمجھ لیتے ہیں. انکا دوسرا مسئلہ سازشی تھیوریوں سے عشق ہے. ایسے لوگ ایجنٹ والے جھانسے میں فوراً آجاتے ہیں. قوم پرست بھی اس مرض میں انکے ساتھ ہی مبتلا ہیں.

    سب سے دلچسپ کیس تو ان ارسطو ؤں کا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ گاندھی مسلمانوں کے ساتھ بہت مخلص تھا. حقیقت تو یہ ہے کہ گاندھی صاحب کے ساتھ اگر بھرپور حسن ظن کا مظاہرہ بھی کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ہندوؤں کے لیڈر تھے اور انہوں نے اپنی قوم کیلئے محنت کی. یہ زیادتی ہے کہ انہیں مسلمانوں کا خیر خواہ قراردیا جائے. چلیں لبرلز کی تو گاندھی سے عقیدت سمجھ آتی ہے. مگر یہ جو خلافتی مولوی ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ ان کے گاندھی سے رومانس کی وجہ کیا ہے. کیا انہوں نے گاندھی سے مل کے دجال کے خلاف جہاد کرنا ہے؟

    بہرحال گاندھی اینڈ کمپنی کے نظریے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت آج ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار ہے. ان کے پاس بہترین موقع تھا جناح کو شکست دینے کا کہ مسلمانوں کو ایسا ماحول انڈیا میں دیتے کہ پاکستان کا جواز ختم ہو جاتا. مگر یہ انکی بد دیانتی اور ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لینے کی جلدی تھی جس نے آج جناح کو سرخرو کیا ہے. جناح کی ذات آج جس قدر سرخرو ہے آج سے پہلے کبھی نا تھی.

    اگرچہ کتاب میں مولانا آزاد اور ولی خان بارے بھی لکھا گیا ہے. مگر میں تبصرے میں ان پر الفاظ ضائع نہیں کرنا چاہتا. اس وضاحت کے ساتھ کہ میں مولانا آزاد کی نثر کا دل وجان سے قائل ہوں. ہندوستان کی سیاست میں وہ محض گاندھی کے آلہ کار تھے اور اب اپنی پیش گوئیوں سمیت غیر متعلق ہق چکے ہیں. تاریخ نے انکے ساتھ وہی کیا جس کے وہ مستحق تھے.

    آخر میں یہ کہ کتاب میں پروف ریڈنگ کی بہت غلطیاں ہیں. اس کے علاوہ انگلش سے اردو میں جو تراجم کیے گئے ان میں سے کچھ بے ربط معلوم ہوتے ہیں. پھر یہ کہ کتاب کا نداز تحقیقی ہونے کے باوجود لگتا ہے کہ بعض جگہوں پر مصنف جزباتی ہو گئے. گاندھی اور آزاد بارے تحقیر آمیز زبان بھی استعمال ہوئی. یہ کم از کم تحریر میں نہیں ہونا چاہئے. اس کے علاوہ ابواب کے اندر مواد کی ترتیب میں بھی بہتری کی واضح گنجائش موجود ہے جو کہ غالباً ایڈیٹر کی کمی کا پتہ دیتی ہے. امید ہے آئندہ ایڈیشن میں ممکنہ حد تک ان چیزوں میں بہتری کر لی جائے گی.

    اس کے علاوہ یہ کہ اگرچہ عماد نے قائد اعظم کو کوئی مزہبی مسیحا ثابت نہیں کیا جو کہ اچھی بات ہے مگر قائدِاعظم کی شراب نوشی وغیرہ کو ڈیفنڈ کرنے کو کوشش کی گئی ہے. میرے خیال سے جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کر لینا چاہئے. اللہ انکی لغزشوں کو معاف کرے کہ شراب نوشی وغیرہ بہرحال دھوکہ دھی، نفرت پرستی اور خدا فروشی جیسے گناہوں کے مقابلے میں چھوٹے گناہ ہیں.

    سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے مؤثر انداز میں جناح اور پاکستان کا مقدمہ لڑنے اور پہلا ایڈیشن اتنی سرعت سے نکلنے پر عماد بھائی کو مبارکباد.

  • یہ بھارت ہے جہاں 5 روپے کا چینج مانگنے پرموت دے دی گئی

    یہ بھارت ہے جہاں 5 روپے کا چینج مانگنے پرموت دے دی گئی

    ممبئی : بھارت جہاں انسانیت کا قتل عام کھیل بنتا جارہاہے، ممبئی میں فقط 5 روپے کا چینج لینے پربڑھنے والے تنازعے میں ایک 68 سالہ شخص کومارمارکرماردیا گیا ، اطلاعات کےمطابق یہ واقعہ دہلی کے ایک سی این جی اسٹیشن پررونما ہوا

    باغی ٹی وی کےمطابق میگاتھان سی این جی اسٹیشن پر68 سالہ رمندولرسنگھ نے اپنی گاڑی میں سی این جی ڈلوائی اورپھرجاتے جاتے سی این جی ڈالنے والے آدمی سے یہ بھی کہہ دیا کہ اگرہوسکے تومجھے پانچ روپے کا چینج دے دیں‌،مجھے ضرورت ہے

    اس پرسی این جی پرکام کرنے والے اس شخص نے نہ صرف انکارکیا بلکہ رمندولرسنگھ کی تذلیل کی جس پریہ تنازعہ شدت اختیارکرگیا ، ساتھ ہی کھڑے ہوئے سی این جی اسٹیشن پردیگرملازمین نے رمندولرکومارمارشدید زخمی کردیا جوزخموں کی تاب نہ لاکرہلاک ہوگیا

  • ڈالر کی قیمت میں کمی

    ڈالر کی قیمت میں کمی

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں پانچ پیسے کمی ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی :ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر آج 154.25 روپے میں فروخت ہورہا ہے جو کہ گزشتہ روز 154.30 روپے میں دستیاب تھا۔

    ادھر اوپن مارکیٹ میں آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت مستحکم رہی اور یہ 154.30 روپے میں دستیاب ہے۔جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ لیے

    جہانیاں (نمائندہ باغی ٹی وی) کے نواحی قصبہ ٹھٹھہ صادق آباد میں بااثر افراد نے سرکاری اراضی پر قدم جما لئے درجنوں ایکڑ اراضی مقبوضہ ہوگئی،تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ صادق آباد میں گورنمنٹ کی کئی ایکڑ زمین جو نہر لوئر باری دوآب کے ساتھ واقع تھی پر بااثر افراد نے غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے۔گورنمنٹ کی زمین جس پر متعلقہ ادارے اگر چاہیں تو مارکیٹ بنا کر سالانہ لاکھوں روپے کما سکتے ہیں لیکن سیاسی اور صحافتی اثرو رسوخ رکھنے والے بااثر افراد نے اس پر قابض ہوکر تعمیرات کی ہوئی ہیں۔ایک مکمل مارکیٹ اور اس کے علاوہ غیر قانونی ویگن اڈا بھی اسی سرکاری جگہ پر موجود ہے جس کی سرپرستی مبینہ طور پر سابق ایڈمنسٹریٹ مارکٹ کمیٹی جہانیاں کررہا ہے ۔ان لوگوں کے اثررو رسوخ کی وجہ سے ادارے ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں

  • وزیر ریلوے کا کوئٹہ سے تفتان کے درمیان ریل سروس معطل کرنے کا اعلان

    وزیر ریلوے شیخ رشید نے کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر کوئٹہ سے تفتان تک ٹرین سروس معطل کردی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہےکہ کوئٹہ اور تفتان کے درمیان چلنے والی چار ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے، یہ ٹرین سروس تاحکم ثانی معطل رہے گی۔دوسری جانب تفتان میں امیگریشن گیٹ چوتھے روز بھی بند ہیں جس سے لوگوں اورگاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے جب کہ سرحد کے دونوں اطراف زائرین بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ روز تفتان میں پھنسے ایرانی ٹرانسپورٹرزکو ایران جانے کی اجازت دے دی گئی تھی واضح رہے کہ ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکومت نے تفتان میں پاک ایران سرحد کو بند کر رکھا ہے جب کہ بلوچستان حکومت نے اندرون ملک سے بذریعہ تفتان ایران جانے والے زائرین کے صوبے میں داخلہ بھی بند کردیا ہے.