Baaghi TV

Author: +9251

  • افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ مل کرافغانستان میں حکومت کرنے کا عندیہ دے دیا ، بھارت، ایران سمیت کئی ممالک غم میں ڈوب گئے

    افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ مل کرافغانستان میں حکومت کرنے کا عندیہ دے دیا ، بھارت، ایران سمیت کئی ممالک غم میں ڈوب گئے

    نیویارک:افغان طالبان نے امریکہ کے ساتھ مل کرافغانستان میں حکومت کرنے کا عندیہ دے دیا ، بھارت، ایران سمیت کئی ممالک غم میں ڈوب گئے ،اگروہ امریکہ کے ساتھ مل کرافغانوں کومارسکتے ہیں توہم امریکہ کے ساتھ مل کرافغانستان میں حکومت کرسکتے ہیں ، افغان طالبان کے اعلان سے دنیا میں کھلبلی مچ گئی ،

    اطلاعات کےمطابق حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور افغان طالبان کے ڈپٹی کمانڈر سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ہم امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے جا رہے ہیں، اس کی کامیابی کا انحصار امریکہ کی طرف سے وعدوں کی تکمیل پر ہے، اگر امریکا نے وعدے پورے کیے تو تب ہی اس پر پورا اعتماد کر سکتے ہیں اور مستقبل میں امریکا کے ساتھ تعاون حتیٰ کہ شراکت داری کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں لکھے اپنے مضمون میں سراج حقانی نے کہا کہ اگرافغان کٹھ پتلی اورافغان دشمن عناصرامریکہ سے مل کرافغانوں کا قتل عام کرسکتے ہیں توہم امریکہ کے ساتھ مل کر حکومت کرکے افغانوں کو بچاسکتے ہیں ،امریکہ کے حوالے سے بداعتمادی کے باوجود ہم نے امن کے لئے ایک اور کوشش کرنے کا فیصلہ کیاکیونکہ افغانستان میں ہر کوئی جنگ سے تھک چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ قتل و غارت کوبند ہونا چاہئے۔

    انہوں نے کہا امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں اتفاق رائے سے حکومت قائم ہوگی۔ انٹرا افغان مذاکرات کے دوران کسی بھی فریق کی طرف سے پیشگی شرائط عائد نہیں ہونی چاہئیں۔ ہم دیگر افغان گروپوں سے مل کر کام کرنے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ ایسے سیاسی نظام پر اتفاق ہو سکے جس میں کوئی افغان خود کو باہر خیال نہ کرے۔

    یاد رہےکہ افغانستان میں اس وقت بھارت ، ایران اورکئی پاکستان مخالف ملک امریکہ سے ملکرافغان طالبان کوشکست دینے کے لیے کئی سالوں‌سے کھیل کھیل رہے ہیں ، تاہم اب افغان طالبان کےاعلان کے بعد بدلتی ہوئی صورت حال نے ان پاکستان مخالف قوتوں پرغموں کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں، یہ ممالک سمجھتے ہیں کہ ان کے اربوں ڈالرزسرمایہ اوربڑی تعداد میں جانیں بھی ضائع ہوگئیں‌ مگرالٹا فائدے کی بجائے نقصان ہوگیا

  • راولپنڈی پولیس کا پتنگ بازوں اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کےخلاف بھرپور آپریشن

    راولپنڈی پولیس کا پتنگ بازوں اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کےخلاف بھرپور آپریشن

    راولپنڈی پولیس کا پتنگ بازوں اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کےخلاف بھرپور آپریشن

    باغی ٹی وی :راولپنڈی پولیس کا پتنگ بازوں اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کےخلاف بھرپور آپریشن جاری ،پتنگ بازوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد ملزمان کو گرفتار کر کے ہزاروں پتنگیں اور سینکڑوں ڈوریں برآمد کر لی گئیں

    ملزمان سے اسلحہ ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا. آتشبازی کا سامان،ساؤنڈ سسٹم ،ڈیک اور سپیکر، شیشہ بھی برآمد کیے گئے، پولیس کا پتنگ بازی اور ہوائی فائرنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،سی پی او راولپنڈی کی ہدایات کے مطابق پتنگ بازوں اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے،

  • اپنی چونچ سے گھونسلہ سینے والا درزی پرندہ،جس کے سامنے ساری دنیا کی ٹیکنالوجی فیل،ویڈیودیکھنا نہ بھولیئے

    اپنی چونچ سے گھونسلہ سینے والا درزی پرندہ،جس کے سامنے ساری دنیا کی ٹیکنالوجی فیل،ویڈیودیکھنا نہ بھولیئے

    کراچی: اپنی چونچ سے گھونسلہ سینے والا درزی پرندہ،جس کےسامنے ساری دنیا کی ٹیکنالوجی فیل،اطلاعات کےمطابق ہم نے پرندوں کے کئی ذہانت بھرے مظاہرے دیکھے ہیں لیکن ایک پرندہ ایسا ہے جو اپنی چونچ سے سوئی کا کام لیتے ہوئے پتوں کو نفاست سے سی کر اپنا گھر بناتا ہے۔

    اس پرندے کو ٹیلر برڈ یا درزی پرندہ کہا جاتا ہے جس کا حیاتیاتی نام Orthotomus sutorius ہے۔

    یہ ایک چہکنے والا پرندہ ہے جس کے گھونسلہ بنانے کی صلاحیت غیرمعمولی ہے ۔ یہ ایک یا ایک سے زائد پتوں کو باہمی طور پر سی کر اسے کپ کی شکل دیتا ہے جہاں وہ رہتے ہوئے خود کو حملہ آوروں سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق یہ اپنی سوئی نما چونچ سے باقاعدہ سلائی کے ٹانکے لگاتا ہے۔

    مادہ درزی چڑیا سب سے پہلے اپنی تیز چونچ سے پتے میں سوراخ کرتی ہے اور اس کے بعد مکڑی کے جالے، خشک گھاس پھوس، یا دیگر اشیا کو دھاگے کی شکل دے کر اس سے پتوں کو سیتی ہے۔ یہ کام وہ بہت احتیاط سے کرتی ہے جسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

    https://youtu.be/Qx6rFEXB-fY

    ماہرین یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ یہ ہنر اس نے کہاں سے سیکھا ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ صلاحیت جینیاتی طور پر ایک سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ گھر بنانے کے لیے مادہ پرندہ مناسب پتے کا انتخاب کرتی ہے۔ وہ ایسا پتہ تلاش کرتی ہے جو اسے اور اس کے بچے کو سہارا دے سکیں اسی وجہ سے ایک خشک پتہ کسی کام کا نہیں رہتا۔ پتے کی جسامت اس کے انتخاب میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    مادہ درزی کی فہم کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے یہ خود کو ایک پتے میں لپیٹ کر دیکھتی ہیں تاکہ اسے گھونسلے میں ڈھالا جاسکے۔ پتوں کے انتخاب کے بعد یہ مزید اسی جسامت کے پتے جمع کرتی ہے اور اس کے بعد سلائی کاکام شروع کرتی ہے۔ اکثر اوقات یہ ایسے پتوں کا انتخاب کرتی ہے جو شاخوں کے اگلے کناروں پر واقع ہوتے ہیں تاکہ وہ خود کو اور اپنے بچوں کو جانوروں سے محفوظ رکھ سکے۔

    جگہ کے انتخاب کے بعد وہ اپنے پیروں سے پتے یا پتوں کو قریب لاتی ہے اور چونچ سے ان کے کنارے ملاتی ہے اور پھر اپنی چونچ سے سوراخ کرکے ان سے قدرتی دھاگوں کو گزارتی ہے جو کسی مکڑی کے جالے کے ریشے یا گھاس وغیرہ سے بنے ہوتے ہیں۔ یہ پرندہ ایک گھونسلے میں 100 سے 200 ٹانکیں لگاتا ہے۔نقصان یا ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں یہ اپنے گھر کی مرمت ازخود کرتی ہے اور بسا اوقات یہ مزید ٹانکے لگا کر اپنے گھر کو جوڑے رکھتا ہے۔

  • دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کاعمیر ثنا فاونڈیشن کا دورہ ، مریض بچوں سے ملاقات کی

    دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کاعمیر ثنا فاونڈیشن کا دورہ ، مریض بچوں سے ملاقات کی

    دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں کاعمیر ثنا فاونڈیشن کا دورہ ، مریض بچوں سے ملاقات کی

    باغی ٹی وی : دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑیوں نے عمیر ثنا فاونڈیشن کا دورہ کیا اورتھلیسمیا کے مرض میں مبتلا بچوں سے ملاقات کی
    اس موقع پر عظیم کھلاڑیوں نے بچوں میں تحائف بھی تقسیم کیے ان عظیم کھلاڑیوں میں سائمن ٹوفل (سابق آسٹریلوی فاسٹ بالر) کرٹلے امبروز(سابق ویسٹ انڈین ٹیسٹ کرکٹر)اوربیری ولکسن (کمنٹریٹر) شامل تھے جنہوں نے عمیر ثناء فائونڈیشن میں تھیلے سیمیا کے مرض سے متاثرہ بچوں سے ملاقات کر کے ان میں‌ گھل مل گئے واضح رہے اس موقع پر پاکستانی میڈیا کی شخصیات بھی شامل تھیِں .

  • کنگن پورکے نواحی قصبے تانگڑیاں سے برآمد ہونے والے بم کوچلانے کےلیے پاک فوج کی ٹیمیں پہنچ گئیں . 5 کلومیٹرعلاقے کے لوگوں کوگھرخالی کرنے کا حکم

    کنگن پورکے نواحی قصبے تانگڑیاں سے برآمد ہونے والے بم کوچلانے کےلیے پاک فوج کی ٹیمیں پہنچ گئیں . 5 کلومیٹرعلاقے کے لوگوں کوگھرخالی کرنے کا حکم

    تانگڑیاں‌:بریکنگ : کنگن پورکے نواحی قصبے تانگڑیاں سے برآمد ہونے والے بم کوچلانے کےلیے پاک فوج کی ٹیمیں پہنچ گئیں . 5 کلومیٹرعلاقے کے لوگوں کوگھرخالی کرنے کا حکم،اطلاعات کےمطابق ضلع قصور کے علاقے کنگن پور کے نواحی گاؤں تانگڑیاں میں پرانے گھارے میں بچے گراونڈ بنا رہے تھے کہ 6 فٹ لمبا میزائل برآمد جو 1971 کی جنگ میں گرا تھا-

    پاک فوج کے ٹیکنیشین کا کہنا ہےکہ امکان ہےکہ یہ بم 1971 میں‌پاک بھارت جنگ کے دوران گرایا گیا جو کہ چل نہ سکا ، یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سول ڈیفینس اور بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کر لیا گیا مقامی پولیس نے پہنچ کر ایریا کو سیل کر دیا گیا ہے،

    ادھر ذرائع کے مطابق گاوں تانگڑیاں سے برآمد ہونے والے اس بھارتی بم کوفیوز کرنے کے لیے بم ڈسپوزل اور پاک رینجر کے جوان موقع پر پہنچ رہے ہیں، دوسری طرف گاوں کے بزرگوں کا کہنا ہےکہ پاک بھارت کے درمیان 1971 میں ہونے والی جنگ کے دوران کئی گولے گاوں کے گردونواح میں گرے تھے لیکن اس وقت یہ پتہ نہ چل سکا کہ کہاں کہاں گرے ہیں

  • ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ

    لاہور: ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ، اطلاعات کےمطابق ای روزگار سنٹرز کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں سرکاری کالجوں تک پھیلانے کیلئے وزارت ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی‘وزارت امور نوجوانان و کھیل اورپنجاب آئی ٹی بورڈ کے مابین معاہدہ طے پا گیا۔

    تقریب میں صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی راجہ یاسر ہمایوں سرفراز‘وزیر امور نوجوانان و کھیل محمد تیمور خان‘چیئرمین پنجاب آئی ٹی بورڈ اظفر منظور‘سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘سیکرٹری یوتھ افیئرزاحسان اللہ بھٹہ‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ‘ڈی جی ای گورننس ساجد لطیف و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے کہا کہ پنجاب میں 33ای روزگار سنٹرز فعال ہیں جبکہ 40مزید ای روزگار سنٹرز کالجوں میں کھلنے سے ای روزگار سنٹرز کی تعداد 73ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا اس اقدام سے چھوٹے اضلاع میں نوجوانوں کو مواقع ملیں گے اور وہ ہنر سیکھ کر گھر بیٹھے آمدن کما سکیں گے۔ صوبائی وزیر محمدتیمور خان نے کہا کہ ایسے اضلاع جہاں یونیورسٹیاں موجود نہیں‘ کالج کی سطح پر ای روزگار سنٹر کھلنے سے وہاں کے مقامی نوجوان بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور نے کہا ای روزگار مراکز کالج کی سطح پر کھلنے سے سالانہ پچیس سے تیس ہزار نوجوان تربیت لے سکیں گے۔ معاہدے پر چیئرمین پی آئی ٹی بی اظفر منظور، سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ساجد ظفر‘ایڈیشنل سیکرٹری ہائر ایجوکیشن شاہدہ فرخ اورسیکرٹری یوتھ افیئرز احسان اللہ بھٹہ نے دستخط کئے۔

  • وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے ، تحریر فا طمہ قمر

    وزیراعظم صاحب ! یہاں کی زبان اردو ہے آپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    تحریر فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیراعظم! آپ اور پاکستان کی غلام اشرافیہ نے اپنی زمین پر اپنے ہی لوگوں سے ترکی کے صدر سے انگریزی میں مخاطب ہوکر کس قوم کے حکمران کی ترجمانی کی؟جب آپ کے سامنے آپ کے مخاطب نے اپ کی سرزمین پر بھی اپنی قومی زبان کونہ چھوڑا۔اور پاکستانی قوم سےاپنے بھرپور جذبات کے ساتھ ترکی میں خطاب کرکے پوری دنیا میں اپنا اور اپنی قوم کا وقار بلند کیا۔؟ترکوں کے لئے تو انگریزی بھی ایسی ہی ہے جیسے اردو’ تو پھر کیوں نہ ان کے سامنے اپنی قومی زبان میں خطاب کرکے اپنی زبان کا وقار بلند کیا جاتا! ترکی یورپ کا حصہ ہوتے ہوئے بھی عالمی اور قومی سطح پر انگریزی کی بالادستی کو تسلیم نہیں کرتا۔ کم اذکم اپنے مہمان کی عزت و تکریم کا خیال کرتے ہوئے ہی اسکے سامنے انگریزی میں خطاب سے گریز فرماتے! اگر آپ کو اردو ‘ ترکی ترجمے کا مترجم چاہئے تھا تو اس کے لئے ترک نژاد ‘ استنبول یونیورسٹی کے صدر’شعبہ اردو محترم حلیل طوقار کی خدمت حاصل کی جاسکتی تھی۔۔جو ترک ہوتے ہوئے بھی سوشل میڈیا پر اپنا تمام پیغام اردو میں رقم کرتے ہیں!
    پاکستانی غلاموں کی اپنی زبان سے تحقیر اور تذلیل کی مذید توہین دیکھئے کہ ترکی صدر جو کچھ بول رہاتھا۔پاکستانی حاضرین کے لئے اسکاترجمہ اردو میں کیا جارہا تھا۔ کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستان کی دستوری اور قومی زبان اردو ہے؟
    کیا انہیں علم نہیں کہ عدالت عظمیٰ نفاز اُردو کے احکامات جاری فرماچکی ہے؟ کیا انہوں نے ترک صدر کے سامنے انگریزی بول کر توہین عدالت نہیں کی؟
    ۔کیا انہیں علم نہیں کہ امریکی صدارت کا انتخابی امیدوار پاکستانیوں سے مخاطب ہونے کے لئے انگریزی کے گھر میں’ اپنی انتخابی مہم اردو میں چلاتا ہے؟
    کیا ان کو علم نہیں کہ آسٹریلیا’ برطانیہ’ امریکہ پاکستانیوں کے لئے پاکستان سے متعلقہ اشتہار اردو میں نشر کرتے ہیں؟
    تو جب انگریزی کے اہل زبان نے تمہاری قومی زبان کی اہمیت کو تسلیم کرلیا ہے تو تم انگریزی بول کر پاکستان کی آزادی و خودی سے سرشار عوام کے جذبات کو کیوں مجروح کرتے ہو؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد’ برطانوی پارلیمنٹ کے رکن نے انگریزی کے گھر میں برطانیہ میں ‘ پارلیمنٹ کا حلف اردو’ میں لے کر دنیا بھر میں النی قومی زبان کا وقار بلند کیا ہے؟
    کیا ان غلاموں کو علم نہیں کہ پاکستانی نژاد سکاٹ لینڈ کے رکن اسمبلی حمزہ یوسف نے انگریزی کے گھر میں اردو میں حلف لے کر پاکستانی غلاموں کو سبق سکھایا ہے کہ دنیا کے ہر فورم پر اپنی قومی زبان کا وقار بلند رکھیں!
    یاد رکھیں! وزیراعظم صاحب! آپ کو ووٹ تبدیلی کے نام پرملے ہیں۔لیکن اگر آپ نے انگریزی غلامی کی وہی فرسودہ’ گلی سڑی ‘ متعفن ذدہ برقرار رکھی تو بھول جائیں کہ آئندہ آپ اقتدار کو چھو بھی سکیں گے۔ اپ پاکستان کے وزیراعظم ہیں’ یہاں کی زبان اردو ہے۔’ اپ برطانیہ کے وزیراعظم نہیں ہیں۔
    فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • یہ بھارت ہے جہاں اانسانوں سے درندوں جیسا سلوک اعزازسمجھا جاتا ہے، دلت لڑکے پرتشدد کی دل دہلادینے والی ویڈونے سب کو ہلا کررکھ دیا

    یہ بھارت ہے جہاں اانسانوں سے درندوں جیسا سلوک اعزازسمجھا جاتا ہے، دلت لڑکے پرتشدد کی دل دہلادینے والی ویڈونے سب کو ہلا کررکھ دیا

    نئی دہلی : یہ بھارت ہے جہاں اانسانوں سے درندوں جیسا سلوک اعزازسمجھا جاتا ہے، دلت لڑکے پرتشدد کی دل دہلادینے والی ویڈونے سب کو ہلا کررکھ دیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں مبینہ چوری کے الزام میں مشتعل ہجوم نے دو دلت نوجوانوں کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بناکر ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

     

    غیر خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع ناگور میں بدترین تشدد کا یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ چوری کے الزام میں دو دلتوں کی بے رحمی سے پٹائی کی گئی ہے۔پولیس نے واقعے میں ملوث 7 افراد کو حراست میں لیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان چچا زاد بھائی ہیں۔

     

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد متاثرہ شہریوں نے واقعے کا مقدمہ درج کرایا جبکہ شوروم انتظامیہ کی جانب سے بھی دلتوں نوجوانوں کے خلاف پیسے چرانے کا مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔شکارت میں متاثرہ نوجوانوں نے کہا کہ ہم اپنی بائیک کی سروس کروانے گئے تھے لیکن ملازمین نے ہم پر چوری کا الزام لگا کر تشدد شروع کردیا۔

    مان ہنومان نے پولیس سے ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے واقعتے کو خوفناک اور گھناونا قرار دیتے ہوئے ریاست اشوک گہلوت حکومت سے کہا کہ وہ معاملے پر فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی عمل میں لائیں۔

  • عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر

    عالمی یوم مادری زبان ، تحریرفا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو ایک گلدستہ ھے پاکستان کی مادری و علاقائی زبانیں اس کے خوبصورت مہکتے ہوئے پھول ہیں.جس نے بہت عمدگی سے پھولوں کو باندھا ھوا ھے! پاکستان کے ہر صوبے کا شخص جس نے سکول کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔وہ بھی اردو’ سمجھ سکتا ہے اردو بول سکتا ہے۔ کیونکہ اردو ایک ہمہ گیر ‘ جامع زبان ہے جس میں پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے اردو کے تمام میڈیا چینل پاکستان کے تمام صوبوں کے عوام میں مقبول ہیں۔ مگر انگریزی پاکستان میں وہ بھی نہیں بول سکتے جنہوں نے اس کو سیکھنے کے لئے لاکھوں روپے خرچ کئے ہیں۔انگریزی پاکستانیوں کے لئے اج بھی اتنی اجنبی ہے جتنی آج سے سو سال پہلے تھی۔ اردو اور پاکستان کی مادری زبانوں میں ماں اور اولاد کا رشتہ ہے۔ انگریزی ان کے درمیان میں ” پھپھے کٹنی” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ جو خود تو راج کر رہی ہے۔ لیکن مختلف مادری زبانوں کے کچھ شرپسندوں کو آپس میں لڑاتی رہتی ہے ۔۔پاکستان کے مختلف مادری زبانیں بولنے آپس میں جس زبان میں رابطہ کرتے ہیں وہ اردو ہے ۔۔اس لئے اردو پاکستان کی تمام مادری زبان کی "ماں” ہوئی ۔ ماؤں کی ماں بنی تو اردو کا رتبہ "نانی”کا ہوا !
    ایک بات اور قابل توجہ ہے کہ کسی بھی خاندان’ نسل کی دوسری یا تیسری "پیڑی” میں جاکر مادری زبان تبدیل ہوسکتی ہے۔مگر قومی زبان ہرگز نہیں!
    اردو پاکستان کی مادری زبان ہے’ کیونکہ اردو کی ساخت میں پاکستان کے تمام مادری زبانوں کی آمیزش ہے۔اس لئے اردو ہماری قوم کے ڈی این اے میں شامل ہے

  • دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار،  تحریر: انشال راؤ

    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    دنیا خطرات کے نرغے میں اور پاکستان و بھارت کا کردار، تحریر: انشال راؤ

    جنگ عظیم دوم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے جس کی ہولناکی، تباہی و غیرمعمولی اثرات نے انسانیت کے وجود کے لیے ایک سنگین چیلنج کھڑا کردیا تھا، دنیا و انسانیت کو خطرات سے آگاہی کے پیش نظر 1947 میں اسٹیفن ہاکنگ سمیت پندرہ نوبل انعام یافتہ سائنسدانوں نے ایک علامتی گھڑی تشکیل دی جسے Doomsday Clock کا نام دیا گیا اور اس کی سوئیاں مڈنائٹ سے 17 منٹ کے فاصلے پر سیٹ کیں، ان سائنسدانوں کے مطابق جب اس کا ٹائم مڈنائٹ یعنی رات کے 12 بجے پر آجائیگا تو دنیا کسی بھی لمحے تباہ ہوسکتی ہے، دنیا و انسانیت کے لیے جن خطرات کو شمار کیا گیا جن میں نیوکلیئر ہتھیار، بائیو ٹیررزم، سائبر کرائم، عالمی لیڈروں کی اشتعال انگیزی و جارحیت پسندی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو سرفہرست ہیں، اب تک متعدد بار ڈومس ڈے کلاک کے وقت میں تبدیلیاں کی جاچکی ہیں لیکن جوں ہی سائنس بلیٹن کے سائنسدان سمجھتے ہیں کہ اب دنیا محفوظ ہے تو فوراً گھڑی کی سوئیاں اپنے اصل وقت 17 منٹ کی دوری پر سیٹ کردی جاتی ہیں، دنیا میں تیزی سے رونما ہونیوالی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ایٹمی جنگوں کے خطرات کو محسوس کرتے ہوے ایک بار پھر سائنس بلیٹن آف ایٹمک سائنس کے سائنسدانوں نے 23 جنوری کو گھڑی کے وقت میں تبدیلی کرتے ہوے جنوری 2018 میں دو منٹ کی دوری سے ہٹاکر اب اسے مڈنائٹ سے 100 سیکنڈ کی دوری پر سیٹ کردیا جو ابتک کی تاریخ میں مڈنائٹ سے کم ترین وقت ہے، ایٹمی سائنسدانوں نے بیان جاری کیا کہ "بین الاقوامی سلامتی کی صورتحال انتہائی سنگین ہے، جس کی وجہ جوہری جنگ کے بڑھتے ہوے خطرات، آب و ہوا کی تبدیلی، سائبر جنگ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عالمی طاقتوں نے بین الاقوامی سیاسی انفراسٹرکچر کو ان کے نظم و نسق میں خاتمے کی اجازت دیدی ہے” بلیٹن آف ایٹمک سائنسٹسٹ کی تشویش محض سراب نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے جس طرح ڈرامائی انداز میں دنیا میں آب و ہوا کی تبدیلی رونما ہورہی ہے وہ انتہائی سنگین ہے 2019 میں ایمیزون کے جنگلات کی تباہی دنیا نے دیکھی اور اس کے بعد آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ نے ماحولیاتی اداروں کو سر جوڑ کر بیٹھنے پہ مجبور کردیا، آئے روز کے زلزلے، پینے کے پانی کے ذخائر میں تیزی سے پیدا ہونے والی کمی، بے موسمی بارشیں، درجہ حرارت کی حیران کن تبدیلی نے دنیا میں زندگی کے وجود کے لیے شدید خطرات کو پیدا کردیا ہے، بہت سی عالمی تنظیمیں ان تبدیلیوں کا ذمہ دار انسانوں کی غیرفطری سرگرمیوں و معاشی ریس میں آگے بڑھنے کی حرص کو قرار دیا ہے، ایمیزون جنگلات میں لگنے والی آگ کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ برازیلین حکومت ان جنگلات کو ختم کرکے اس زمین کو زرعی و لائیو اسٹاک وغیرہ کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کو قرار دے رہی ہیں بالکل اسی طرح آسٹریلیا میں لگنے والی غیر یقینی آگ نے بھی بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے، اس کے علاوہ امریکہ چین کی طاقت کے حصول کی رسہ کشی اور اسی دوران چین میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی وبا اور جس طرح اس کی گونج عالمی میڈیا میں سنائی دی گئی جس کے بعد چین کی معیشت دھڑام سے نیچے گری ہے جو صرف چین تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر پڑینگے، چین دنیا کی معیشت کا 17 فیصد اور SARS Epidemic 2003 کے مطابق عالمی GDP کا 4.5 فیصد حصے دار ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی سپلائی چین کا مرکز ہوا کرتا تھا لیکن چند دنوں میں ہی چین کی معیشت ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے تقریباً دنیا نے چین سے لین دین میل جول کے حساب سے قطع تعلق کر رکھا ہے چین کی 80 فیصد سے زائد صنعتی پیداوار بند ہے، لوگ گھروں تک محصور ہیں ایک کروڑ کی آبادی کا شہر ووہان ہالی ووڈ مووی Resident Evil Apocalypse جیسا منظر پیش کر رہا ہے ہر طرف ویرانی اور سناٹا طاری ہے اور 90 فیصد سے زائد ایکسپورٹ ختم ہوکر رہ گئی ہے، اشیاء خورد و نوش کی شدید قلّت پیدا ہوگئی ہے جس سے ایک اور بڑے خطرے نے جنم لے لیا ہے کہ شاید کرونا وائرس تو اتنا مہلک ثابت نہ ہو جتنا لوگ بھوک سے مورجائیں گے، ماوزے تنگ کی چڑیوں کی نسل کشی کی پالیسی کے بعد پیدا ہونے والے قحط نے تقریباً ساڑھے چار کروڑ چینیوں کی زندگی چھینی تھی اور اب شاید ایک بار پھر چین کو ایک بڑے بلکہ بقا کا سوال ہے، چین کرونا وائرس کو بائیو ٹیررزم خیال کررہے ہیں جس کے باعث چینی انتظامیہ و ایک ایک فرد تڑپ کر رہ گیا ہے اور اب زخمی شیر کی طرح جوابی حملوں کے لیے بیتاب ہے، کچھ ایسی خبریں آرہی ہیں کہ چین نے کرونا وائرس کیرئیر بناکر اسے لانچ کردیا ہے اور بالخصوص ان ممالک جنہوں نے چین سے ایواکویٹ کیا ہے انہیں نشانہ بنارہا ہے، بائیوٹیررزم کی اس غیرمرعی جنگ کا نہ کوئی آغاز ہے نہ اختتام لیکن اتنا ضرور ہے کہ اس کے نتیجے میں آدھے سے زیادہ دنیا ختم ہوجائیگی جس پر 2017 سے بل گیٹس عالمی لیڈروں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے آرہے ہیں، اس کے علاوہ بھارت پاکستان چین تنازعہ بھی شدت پر ہے اور ساتھ ہی دوسری طرف امریکہ چین اور مڈل ایسٹ پلان اپنی جگہ عالمی تباہی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، بھارتی رہنماوں کی آئے روز کی اشتعال انگیز اور جارحانہ پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، ہندوتوا مائنڈسیٹ کی بھارتی سرکار کی شدت پسندی نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے خطرے پر کھڑا کر رکھا ہے جو کسی بھی وقت غیریقینی انداز میں شروع ہوسکتی ہے، چین کی معاشی و سفارتی تباہی سے اتنا فائدہ امریکہ کو نہیں جتنا کہ بھارت کو ہوا ہے اور یہ بہت دلچسپ ہے کہ بھارت نے چین کی جگہ لینے کے لیے بہت عرصہ پہلے سے اپنے پیر پھیلانا شروع کردئیے تھے، BIMSTEC کے زریعے جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ سے مشرق وسطیٰ اور یورپ و افریقہ تک اپنی مصنوعات کو پہنچانے کے لیے پر تول رہا تھا جو اب یقینی ہوتا نظر آرہا ہے کہ چین کی ایکسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے اس کی جگہ لے لے تو ساتھ ہی اپنی افرادی قوت سے فائدہ اٹھاتے ہوے چین کی پوزیشن پر آکر براجمان ہوجائے لیکن یہ آسان نہ ہوگا کیونکہ غیرمناسب و ناجائز طریقے سے ہتھیائی گئی پوزیشن بھارت ہضم نہیں کرپائیگا کیونکہ چین جس میں بھارت دلائی لامہ کو استعمال کرکے اور مختلف ہتھکنڈوں سے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا آرہا ہے اب براہ راست چین کے نشانے پہ ہوگا اور مرتا ہوا چین یہ سب کیونکر برداشت کرسکتا ہے نتیجتاً بھارت چین بھیانک جنگ ہوسکتی ہے، جس طرح چین کی معیشت کے ٹھپ ہونے سے عالمی سطح پر منفی و مثبت اثرات ہورہے ہیں اور مستقبل میں اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ساتھ ساتھ مثبت اثرات سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کی پالیسی انتہائی متاثر کن ہے جس طرح پاکستان نے چین نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اس کے ساتھ اس مشکل وقت میں کھڑے ہیں یقیناً جیسے ہی چین بحران سے نکلے گا تو وہ اس احسان کو کبھی نہیں بھولے گا لیکن اندرونی خلفشار و سیاسی شعبدے بازیوں سے ملک و قوم غیرمعمولی نقصان کا سامنا کرسکتی ہے لہٰذا یہ وقت ہے کہ اب شاید تمام تر ذاتی مفادات پر ہمارے سارے سیاستدانوں کو چاہئے کہ ایک پیج پر آکر عالمی صورتحال کے پیش نظر استحکام کی طرف بڑھیں۔