Baaghi TV

Author: +9251

  • صبح صبح غمناک خبرنے سب کورلادیا،گھر کی چھت گرنے سے 3 بہن بھائی جاں بحق

    صبح صبح غمناک خبرنے سب کورلادیا،گھر کی چھت گرنے سے 3 بہن بھائی جاں بحق

    گوجرانوالہ: صبح صبح غمناک خبرنے سب کورلادیا،گھر کی چھت گرنے سے 3 بہن بھائی جاں بحق،اطلاعات کےمطابق علی پور چٹھہ کے علاقہ چراغ آباد میں گھر کی بوسیدہ چھت گرنے سے 3 بہن بھائی جاں بحق جب کہ میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔

    ریسکیوذرائع کےمطابق علی پور چٹھہ کے علاقہ چراغ آباد میں گھر کی بوسیدہ چھت گرگئی جہاں ملبے تلے دب کر 3 کمسن بہن بھائی جاں بحق جب کہ میاں بیوی شدید زخمی ہوگئے۔ ریسکیو ذرائع جاں بحق ہونے والوں میں 8 سالہ کرن، 5 سالہ علی، 2 سالہ ساحل شامل ہیں، زخمی ارم اور عرفان کو تشویشناک حالت میں ڈی ایچ کیو اسپتال گوجرانوالہ منتقل کردیا گیا۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونے والے تینوں بچوں کی لاشوں کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جب کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔

  • چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی

    چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی

    چین: چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی،مُردوں کوجلایا جارہا ہے ، جوبیمارہیں ان کوزندہ جلانے کے لیے عدالت سے اجازت مانگ لی،اطلاعات کےمطابق مہلک کرونا وائرس سے چین میں مزید 242 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد مہلک وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1350 ہو گئی۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس (COVID-19) کی ہلاکت خیزی جاری ہے، وائرس سے چین کے اندر مجموعی ہلاکتوں کی تعداد تیرہ سو سے بھی بڑھ گئی، جب کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 60 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    دوسری طرف مہلک وائرس سے لڑنے کے لیے کوششیں بھی جاری ہیں، برطانوی سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وائرس کی ویکسین تیار کر لی گئی ہے، اور چوہوں پر اس کی آزمایش کی جا رہی ہے، عالمی ادارہ صحت نے بھی وائرس کے سلسلے میں پیش رفت کی ہے، ادارے نے وائرس کو ‘کووِڈ 19’ کا نام دے دیا ہے اور کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین 18 ماہ میں دستیاب ہوگی۔

    جاپانی بندرگاہ پر کھڑے کروز شپ میں وائرس متاثرین کی تعداد 174 ہو گئی ہے، یہ کروز شپ ایک ہفتے سے قرنطینہ میں ہے، جس میں تین ہزار افراد موجود ہیں۔ دوسری جانب دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، 27 ممالک میں 250 سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جاپان میں 90، سنگاپور میں 40، جنوبی کوریا میں 25، بھارت میں 3 اور فرانس میں 4 شہری کرونا وائرس سے متاثر ہوئے۔

    خیال رہے کہ ہلاکت خیز کرونا وائرس چین کے انڈسٹریل شہر ووہان سے پھیلا ہے جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، یہ وائرس سانس کے نظام میں شدید انفیکشن کا باعث بنتا ہے، اس کی علامات میں بخار اور خشک کھانسی شامل ہیں۔

  • صہیونی جیل میں کم سنوں کو برہنہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف

    صہیونی جیل میں کم سنوں کو برہنہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف

    رام اللہ :صہیونی جیل میں کم سنوں کو برہنہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا انکشاف،اطلاعات کے مطابق فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی عقوبت خانوں میں فلسطینی بچوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیے جانے کے لرزہ خیز واقعات کا انکشاف کیا ہے۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ صہیونی زندانوں میں قید کیے گئے کم سن فلسطینی بچوں کوبرہنہ کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں صہیونی وحشی جلادوں نے ‘عوفر’ قید خانے میں ڈالے گئے خلیل جبارین کو برہنہ کرکے بری طرح مارا پیٹا گیا۔

    خلیل جبارین نے بتایا کہ اسے عوفر جیل سے ‘دامون’ جیل میں لے جایا گیا جہاں اسیران کی حالت ناقابل بیان حد تک خراب ہے۔ جیلوں کی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں۔ کم سن فلسطینی قیدیوں کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور ان سے اعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد کے خوناک ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    خلیل جبارین کا کہنا ہے کہ صہیونی جلادوں نے عوفر جیل سے فلسطینی قیدیوں کو 4 دوسرے عقوبت خانوں کیشون، سلمون ، دامون اور مجد میں منتقل کیا گیا۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید ایک دوسرے فلسطینی بچے ریاض العمور کو بھی برہنہ کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید سات ہزار فلسطینیوں میں ساڑھے تین سو کے قریب بچے ہیں۔

  • حافظ سعید کی سزا پر امریکہ کا خیر مقدم،پاکستان درست فیصلے کررہاہے ، ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کوقبول کرتے ہیں‌،امریکہ

    حافظ سعید کی سزا پر امریکہ کا خیر مقدم،پاکستان درست فیصلے کررہاہے ، ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کوقبول کرتے ہیں‌،امریکہ

    واشنگٹن:حافظ سعید کی سزا پر امریکہ کا خیر مقدم،پاکستان درست فیصلے کررہاہے ، ہم پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کوقبول کرتے ہیں‌،اطلاعات کےمطابق کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی سزا پر امریکہ نے خیر مقدم کیا ہے۔امریکہ نے پاکستانی عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا ہے

    ذرائع کےمطابق پاکستان کی عدالت کے فیصلے پر امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ حافظ سعید کو سزا ملنا اہم پیش رفت ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر انھوں نے ٹویٹ کیا کہ دہشت گردوں کے مالی معاملات پر پاکستان اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے، عمران خان کہہ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔

    ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کے سلسلے میں پاکستان کی جدوجہد بین الاقوامی وعدوں کے مطابق ہے، وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا کہ یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حافظ سعید کو 2 مقدمات میں سزا سنا دی ہے، اے ٹی سی نے لاہور اور گوجرانوالہ میں درج 2 مقدمات میں ساڑھے 5،5 سال قید کی سزا سنائی، بعد ازاں عدالت نے حافظ سعید اور ان کے ساتھی کو سنائی گئی سزا کا 27 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ پراسیکوشن نےعدالت کے سامنے اپنے الزامات کو ثابت کیا۔

  • فلسطینیوں کی مساجد سے محبت نے چارچاند لگادیئے،غرب اردن میں ‘فجر عظیم’ کی مہم سے مساجد آباد!

    فلسطینیوں کی مساجد سے محبت نے چارچاند لگادیئے،غرب اردن میں ‘فجر عظیم’ کی مہم سے مساجد آباد!

    غرب اردن:فلسطینیوں کی مساجد سے محبت نے چارچاند لگادیئے،غرب اردن میں ‘فجر عظیم’ کی مہم سے مساجد آباد!اطلاعات کےمطابق حال ہی میں فلسطین میں مساجد کو نمازیوں سے آباد کرنے کے لیے ‘فجر عظیم’ کے عنوان سے ایک ایمان افروز مہم کا آغاز ہوا تو اس کی بانگ اذان چار دانگ عالم میں سنی گئی۔ یہ مہم اپنی پوری شان وشوکت اور ایمانی بانکپن کے ساتھ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں روزانہ کی بنیاد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غرب اردن کا علاقہ ان دنوں اسرائیلی فوجی چھائونی کا منظر پیش کرتا ہے مگر اس کے باوجود غرب اردن کی مساجد پانچوں نمازوں میں فرزندان توحید سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔ کیا شہر اور کیا دیہات موسمی سختی نرمی سے قطع نظر مسلمانان فلسطین نماز فجر میں مساجد کا رخ کرتے اور اپنے گرم بستر چھوڑ کر اللہ سے لو لگاتے ہیں۔

    جُمعہ کی نماز فجرمیں غرب اردن میں مساجد میں اتنے زیادہ نمازی امڈ آئے کہ مساجد میں تل دھرنے کو جگہ نہیں بچی۔ کچھھ ایسی ہی کیفیت غرب اردن کےعلاوہ غزہ اور القدس کی مساجد میں بھی تھی اور وہاں کے مسلمان بھی اللہ کے سامنے فجرکے وقت سر بہ سجود ہونے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان

    مساجد میں نماز فجرکے وقت نمازیوں کی غیرمعمولی اور غیرمسبوق حاضری کے ایمان افروز اور سبق آموز مناظر سوشل میڈیا پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ نماز فجر کے وقت مساجد میں نمازیوں کی حاضری کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پرپوسٹ اور شیئر کرنے کا مقصد اہل ایمان کو ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ قابض صہیونی دشمن کو بھی یہ پیغام دینا ہے کہ فلسطینی قوم اپنے مقدسات کے ساتھ دل وجان سے تعلق مربوط ہیں اور اپنی جانیں نچھاور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

  • اسرائیلی فوج نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں، کس کے ساتھ جنگ کریں‌ گے یہ خفیہ رکھا جارہا ہے

    اسرائیلی فوج نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں، کس کے ساتھ جنگ کریں‌ گے یہ خفیہ رکھا جارہا ہے

    مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی فوج نے جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں، کس کے ساتھ جنگ کریں‌ گے یہ خفیہ رکھا جارہا ہے،اطلاعات کےمطابق اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر فوج کی تینوں مسلح افواج پر مشتمل جنگی مشقیں شروع کی ہیں۔

    یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے جسے فلسطینیوں کی طرف سے مسترد کردیا گیا ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے امریکی منصوبے کو تسلیم کرنے سے انکار اور عرب ممالک اور عالم کی طرف سے مخالفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج نے ایک سے زاید محاذوں پر جنگ کے تناظر میں فوج کو تیار رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے بری فوج، نیوی اور فضائیہ پرمشتمل یونٹوں کی جنگی مشقیں شروع کی گئی ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان مشقوں کا مقصد فوج کو لبنان سے متصل شمالی محاذ اور جنوب میں غزہ کے محاذ پر کسی بھی جنگ کے لیے تیار کرنا ہے۔

  • اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچے اور فوج کی قید میں گزرے بچپن کی دردناک کہانی

    اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی بچے اور فوج کی قید میں گزرے بچپن کی دردناک کہانی

    مقبوضہ بیت االمقدس: مقبوضہ فلسطین پرجب سے اسرائیلیوں نےقبضہ کررکھا ہے اس دن سےفلسطینیوں کی گرفتاریوں اورنظربندیوں کا سلسلہ شروع ہے، کئی پیدا ہوئے توآنکھ اسرائیلی جیل میں کھولی ، ایسے بھی فلسطینی ملیں گے جو جیلوں میں پیدا ہوئے ، کوئی فلسطینی بچہ اپنے باپ کی انگلی پکڑکرگھرسے نکلا تو اس کوسیدھا جیل بھیج دیا گیا ، باپ نے احتجاج کیا تو بیٹے کے سامنے گولی ماردی گئی ،

    یہ سلسلہ شروع دن ہے مگران بے گناہ مظلوم فلسطینیوں کی خبرگیری تو دورکی بات ان کا تذکرہ کرنا بھی گوارا نہ کیا ، یہی وجہ ہےکہ اسرائیل کو اس پر شہہ ملی اوراس نے امت مسلمہ کی گہری نیند کا فائدہ اٹھایا اورپھرمسلمانوں پروہ مظالم کیئے کہ مورخ بھی ان واقعات کو قلم کی نوک پرنہیں لاسکتا ، ایسے ہے کئی فلسطینیوں کی جیلوں میں زندگی سے متعلق رہا ہونے والے یا پھرلمبے عرصے اندھیر کوٹھڑیوں‌میں بند رہنے کے بعد جب دنیا کے سورج کی روشنی دیکھی توپھر نہ صرف حیران رہ گئے بلکہ وہ واقعات بیان کیئے کہ جن کو سن کر ہر آنگھ اشک بار ہوجاتی ہے ،

    اس قسم کے واقعات پر بہت زیادہ رپورٹس منظرعام پرآچکی ہیں‌مگرایک معروف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کچھ اس واقعات کو بیان کیا ہے ، بی بی سی کارپورٹر بیان کرتا ہے ہے ، ایک فلسطینی اپنی مظلومیت کی کہانی کچھ اس طرح بیان کرتا ہے ،گرفتاری کے بعد مجھے وہ یروشلم میں ایک ملٹری کیمپ میں لے گئے اور مجھ سے تفتیش کی۔ وہ مجھ پر چیخ رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ میں ایک ایسے صفحے پر دستخط کروں جس پر عبرانی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ وہ مجھ سے بہت عجیب سوالات پوچھ رہے تھے اور میں نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ گرفتاری کے دن مجھے بھوکا اور پیاسا رکھا گیا۔ اس کے بعد مجھے اسرائیلی فوج ہاشرون جیل میں لے گئی۔‘

    ملاک الغلیظ کی کہانی کوئی انوکھی نہیں۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بچوں کے لیے خصوصی فوجی عدالتوں کا نظام ہے۔ مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فوجی قبضے کی بدولت فلسطینی بچوں پر اسرائیلی فوج کا فوجداری نظام لاگو کیا جاتا ہے۔

    اسرائیلی فوج ہر سال 500 سے زائد فلسطینی بچوں کو گرفتار کر لیتی ہے جن میں سے کچھ کی عمریں 12 برس کے لگ بھگ ہے۔

    اسرائیل کا مؤقف ہے کہ گرفتار کیے جانے والے بچے قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔

    200 سے زائد 18 سال سے کم عمر بچے اس وقت اسرائیلی قید میں ہیں۔

    اپنے بیٹے کے مقدمے سے متعلق کاغذات ٹٹولتے ہوئے نبیل کہتے ہیں ‘یہ عبرانی میں ہے اور میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جب میں عدالت گیا تو الزامات کی فہرست مجھے وہیں سے ملی ہے۔ اس فہرست میں ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات موجود تھیں۔ لیکن مجھے کچھ بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ الزامات کس بارے میں ہیں۔ میں بالکل اس سے بے خبر تھا۔ کیا اس میں کچھ انگریزی کے الفاظ بھی تھے، ہو سکتا ہے کہ آپ اسے پڑھ سکیں۔ یہ سب عبرانی میں ہی لکھا ہوا ہے۔‘

    محمود کو جس جیل میں رکھا گیا ہے وہ ان کے گھر سے ایک گھنٹے سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ مگر ان سے ملنے کے لیے ہمیں صبح 5:45 پر گھر سے نکلنا پڑا کیونکہ محمود کی فیملی کو اسرائیلی چیک پوائنٹس سے گزرتے ہوئے چھ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

    ‘چیک پوائنٹ، یہ سب معاملہ ہی چیک پوسٹ کا ہے۔ اس میں سرچ کے علاوہ کبھی کہتے ہیں آگے جاؤ پیچھے جاؤ یا اِدھر اُدھر جانا شامل ہوتا ہے۔ اور پھر جب کسی وجہ سے سکین کرنے والی مشین کا وِسل بجتا ہے تو پھر یہ ایک اور تھکا دینے والا مرحلہ ہوتا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم سب ہی قیدی ہوں۔‘

    وہ تھپڑ جو دنیا بھر میں گونجا

    16 سالہ عھد تمیمی نے مبینہ طور پر ایک اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارا تھا۔ اس کے بعد انھیں جیل میں آٹھ مہینے گزارنے پڑے۔

    عھد نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ اس کی گرفتاری کے بعد اس کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔

    ‘ہم اس پولیس سٹیشن چلے گئے جہاں انھوں نے مجھ سے پوچھ گچھ کی تھی۔ سب سے زیادہ کڑا وقت وہی تھا جب انھوں نے 16 دن تک مجھ سے تفتیش کی۔‘

    عھد بتاتی ہیں کہ 16 دن میں ان سے چار مرتبہ تفتیش کی گئی اور کبھی بھی کوئی وکیل وہاں موجود نہیں تھا۔

    دباؤ کا انداز

    فلسطینی علاقوں اور اسرائیل سے متعلق بحث تقسیم در تقسیم اور جذبات پر ہوتی ہے۔ خاص طور پر بچوں کی نظر بندی کے معاملے سے۔

    وکیل سحر فرانسیس ادامیر آرگنائزیشن کے لیے کام کرتی ہیں جو مغربی کنارے سے گرفتار ہونے والوں کی وکالت کرتی ہے۔

    وہ کہتی ہیں ‘یہ ایک تسلسل سے جاری ایسا عمل ہے جس میں بچوں کو گرفتار بھی کرلیا جاتا ہے۔ جب کسی 14 سال کے بچے کی گرفتاری کے لیے رات گئے کسی گھر پر چھاپہ مارا جاتا ہے تو اس کا مقصد صرف لڑکے کے خلاف ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کے خلاف ایکشن لینا ہوتا ہے۔‘

    ’تصور کریں کہ ماں اور باپ کے سامنے جب ان کے نواجوان لڑکے کو رات کو اس کے بستر سے گھسیٹ کر لے جایا جاتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ایک سکیورٹی کے بارے میں ہے یہ صرف کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہے۔ اس سب کا مقصد پورے سماج کو ظلم اور بربریت کے ذریعے قابو میں رکھنا ہے۔ خاص طور پر بچوں کو، اس طرح کے اقدامات سے بالآخر پوری نسل ہی متاثر ہوتی ہے۔‘

    اسرائیلی قید کی ایک انتہائی متنازع شکل ایڈمنسٹریٹو نظر بندی کی ہے۔

    یہ اسرائیلی فوج کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ کسی کو بغیر کسی مقدمے یا ٹرائل کے ہی گرفتار کرلے۔ اس گرفتاری کی وجہ خفیہ شواہد ہوتے ہیں جو کسی قیدی یا اس کے وکیل کو نہیں دکھائے جاتے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ جن کو گرفتار کیا گیا ہے وہ قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب ہیں اور اس وجہ سے ان سے متعلق اطلاعات خفیہ ہی رکھی جائیں گی۔

    حسام 16 سال کی عمر میں اس سارے مرحلے سے 14 ماہ تک گزرے۔

    حسام کا دعویٰ ہے کہ انھیں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ کسی 18 سال سے کم عمر والے کو اس طرح کی قید میں رکھنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    اپنی کوٹھری کے بارے میں حسام بتاتے ہیں ‘کوئی بھی اس سیل میں زیادہ دیر تک نہیں رکتا کیونکہ وہ ناقابل یقین حد تک گندا تھا۔ وہ سیل اصل میں ایک باتھ روم تھا جس میں زمین پر ایک چادر تھی اور آپ اسی چادر پر سوتے تھے۔ بس آپ ایک باتھ روم میں سوتے ہیں۔‘

    جب حسام سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کبھی وکیل کی خدمات حاصل کرنے سے متعلق ان سے بات کی تو وہ کہتے ہیں ‘جب مجھے گرفتار کیا گیا تو میرے حواس اڑے ہوئے تھے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ کچھ دن کی بات ہے اور پھر میں واپس گھر چلا جاؤں گا۔ میں نے تو ان کے خلاف کچھ ایسا نہیں کیا جس سے یہ معاملہ آگے بڑھے۔‘

    آئی ڈی ایف نے بی بی سی کو بتایا کہ حسام کو خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے جن میں ان کے دہشت گردی کے حملے سے متعلق ارادے کو بھانپا گیا اور ان کی دہشت گرد تنظیم داعش کے لیے حمایت بھی اس کی وجہ بنی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حسام کو عدالت میں ایک وکیل کی خدمات پیش کی گئیں جیسا کے تمام بچوں کو یہ سہولت یقینی بنائی جاتی ہے۔

    14 ماہ قید میں رکھنے کے بعد حسام کو فردِ جرم عائد کیے بغیر رہا کر دیا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے چیف پراسیکیوٹر مورس ہرش نے ہزاروں فلسطینیوں کے خلاف فرد جرم تیار کی ہے جس میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔

    وہ کہتے ہیں ‘یہ فوجی نظام صرف فلسطینیوں کے لیے ہے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کی شرط ہے۔ میں نے اکثر یہ سنا ہے کہ فلسطینی بچوں سے عبرانی زبان میں لکھے ہُوئے اعترافی بیان پر زبردستی دسخط لے لیے جاتے ہیں۔ یہ ایک شاندار دعویٰ ہے۔ آپ ایک بچے کو ایک ایسی زبان میں اعترافی بیان پر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا اور پھر اس اعترافی بیان کو بنیاد بنا کر اس سزا دی جاتی ہے۔ لیکن یہ بالکل حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔‘

    وہ مزید کہتے ہیں ‘فلسطینیوں کے زیادہ تر بیانات عربی میں ہی لکھے ہوتے ہیں۔ جو بیانات عبرانی میں لکھے ہوتے ہیں ان کی بنیاد پر کسی بچے کا بھی ٹرائل نہیں کیا جاتا بلکہ جہاں تحریری بیان ہوتا ہے وہیں اس کی آڈیو یا ویڈیو بھی موجود ہوتی ہے۔‘

    مگر ملاک الغلیظ کہتی ہیں ‘مجھے دی گئی دستاویز عبرانی میں تھی، مجھے اس کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا کہ یہ کس بارے میں ہے، لیکن عدالت میں مجھے معلوم ہوا کہ اس میں دو الزامات عائد کیے گئے ہیں قتل کی کوشش اور چاقو کی برآمدگی۔ انھوں نے میری حراست میں دوران تفتیش لی گئی ایک ویڈیو بھی عدالت کے سامنے پیش کی۔ میرے وکیل نے اس ویڈیو کی مدد سے یہ دلائل دیے کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی ہے جس کی وجہ سے مجھے آٹھ ماہ تک قید میں رکھا گیا۔‘

    آئی ڈی ایف نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر ملاک الغلیظ کے مقدمے پر کوئی بات نہیں کی۔

    بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن رکن ممالک کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ بچوں کو آخری آپشن کے طور پر ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

    اسرائیل نے بھی اس کنونشن پر دستخط کیے ہیں۔

    قانون کے مطابق بچوں کو جیل میں عام قیدیوں کے ساتھ نہیں رکھا جا سکتا ہے، ان کو وکیل اور مترجم تک فوری رسائی دینے کے ساتھ ان کے ساتھ عزت سے پیش آنا ضروری ہے۔

    فلسطینی خاندانوں کے لیے ان کے قید بچوں تک رسائی کا عمل طویل ہے اور ان کو چیک پوائنٹس سے رک کر جانا ہوتا ہے۔ نبیل کی فیملی کے ساتھ جب ہم محمود سے ملنے گئے تو ہمیں بھی چیک پوائنٹ پر ڈیڑھ گھنٹے تک روکا گیا۔

    میڈیا کوریج سے پریشان نبیل کی بس کے منتظمین کا کہنا ہے ہم جیل تک نہیں جائیں گے۔ ملاقات کے لیے آنے والے خاندان عموماً اپنے بچوں کے لیے ٹوائلٹس کی بنیادی اشیا کا بندوبست کرتی ہیں کیونکہ جیل میں انھیں یہ سہولت نہیں فراہم کی جاتی، خاص طور پر لڑکیوں کو۔

    عھد کہتی ہیں کہ لڑکیوں کو ماہواری کے دوران سینیٹری پیڈ تو دیے جاتے ہیں مگر انھیں تبدیل کرنے کے لیے بیت الخلا نہیں جانے دیا جاتا اور کئی کئی گھنٹوں تک انھیں گندی حالت میں بیٹھنا پڑتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ عھد تمیمی نے متعدد الزامات تسلیم کرلیے ہیں اور اب وہ متعدد الزامات کے لیے معافی کی درخواست کررہی ہیں۔

    حسام بتاتے ہیں ‘دوران قید مجھے کوئی خیال نہیں تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دوران قید آپ کو کچھ سجھ ہی نہیں آتا لہذا آپ خواب دیکھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ جب آپ کو رہائی نصیب ہوتی ہے تو پھر آپ کی سوچ میں وسعت آ جاتی ہے اور پھر آپ خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

    اسرائیل مغربی کنارے سے گرفتار کیے گئے فلسطینی بچوں کو کوئی قانونی تحفظات فراہم نہیں کرتا جو اسرائیلی بچوں کو حاصل ہوتی ہے۔

  • دنیا امریکہ کا نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبہ مسترد کر دے: فلسطینی صدرنے اپیل کردی

    دنیا امریکہ کا نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبہ مسترد کر دے: فلسطینی صدرنے اپیل کردی

    نیویارک :امریکہ فلسطینیوں کا کبھی بھی خیرخواہ نہیں ہوسکتا ، ہم نے اعتبار کیا لیکن امریکہ نے دغا دیا، اس لیے اب یہ ساری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے، اطالعات کےمطابق فلسطینی صدر محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا ہے کہ دنیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ مشرقِ وسطی امن منصوبہ کو مسترد کردے۔

    سن لو ! امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نہیں نکلیں گے، نیٹو سیکریٹری جنرل

    فلسطینی صدرمحمود عباس نے کہا کہ اس منصوبے سے فلسطینیوں کی خود مختاری محدود ہوکر رہ جائے گی۔انھوں نے گزشتہ روز سلامتی کونسل میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلی – امریکی منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔اس نے فلسطینیوں کے جائز حقوق پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔انھوں نے اجلاس میں امریکی منصوبہ میں وضع کردہ ایک بڑے فلسطینی نقشے کو لہرایا۔

    میری فتح ٹرمپ کے زوال کا آغاز: سینیٹر برنی سینڈرزنے ٹرمپ کےلیے خطرےکی گھنٹی بجادی

    فلسطینی ا نتظامیہ نے گزشتہ پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی صدر کے مجوزہ مشرقِ وسطی امن منصوبہ کی مخالفت کے لیے قرارداد واپس لے لی تھی۔سفارت کاروں کے مطابق فلسطینیوں کو اس قرارداد کی منظوری کے لیے درکار بین الاقوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔سلامتی کونسل میں یہ قرارداد انڈونیشیا اور تیُونس نے پیش کی تھی۔اس کی منظوری کے لیے کونسل کے15 میں سے9 ارکان کی حمایت درکار تھی۔اس بات کا قوی امکان تھا کہ امریکہ اس کو ویٹو کردے گا۔

  • شمالی البیرہ میں اسرائیلی فوج کے حملے میں 14 فلسطینی مظاہرین زخمی

    شمالی البیرہ میں اسرائیلی فوج کے حملے میں 14 فلسطینی مظاہرین زخمی

    رام اللہ :فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں فلسطینی مظاہرین پر کیے گئے حملے میں کم سے کم 14 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق فلسطینی شہری شمالی البیرہ میں ایک ریلی میں شریک تھے جب قابض فوج نے ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کردی جس کے نتیجے میں 14 فلسطینی زخمی ہوگئے۔

    میری فتح ٹرمپ کے زوال کا آغاز: سینیٹر برنی سینڈرزنے ٹرمپ کےلیے خطرےکی گھنٹی بجادی

    ہلال احمر فلسطین کے مطابق شمالی البیرہ میں اسرائیلی فوج نے فلسطینی مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم 14 فلسطینی زخمی ہوگئے۔ذرائع کےمطابق ان زخمی فلسطینیوں کوہسپتالوں تک منتقل بھی نہیں کرنے دیا جارہا جس کی وجہ سے ان کی جانوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں‌

    سن لو ! امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نہیں نکلیں گے، نیٹو سیکریٹری جنرل

    ہلال احمر کے مطابق صہیونی فوج نے فلسطینی مظاہرین پر’توتو’ بندوق سے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے۔ زیادہ تر فلسطینیوں کے جسم کے نچلے حصے پر گولیاں لگیں۔ گولیاں لگنے سے ایک فلسطینی کے ہاتھ کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئیں۔

  • ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد اسد قوتوں کے خلاف ترک افواج کی سخت جوابی کاروائی

    ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد اسد قوتوں کے خلاف ترک افواج کی سخت جوابی کاروائی

    انقرہ ترک وزارت ِ دفاع نے اطلاع دی ہے کہ شامی علاقے ادلیب میں ملکی انتظامیہ کے 51 عناصر کو بے بس کر دیا گیا ہے۔دفترِ دفاع نے گزشتہ روز 5 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد علاقے میں جاری فوجی کاروائیوں کے حوالے سے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔

    ترک وزارت دفاع کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ "ادلیب میں اسدقوتوں کے 51 عناصر کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ 2 ٹینک، ایک طیارہ شکن توپ اور فوجی سازو سامان کے حامل ایک گودام کو تباہ کر دیا گیا ہے تو ایک ٹینک پر قبضہ بھی کر لیا گیا ہے۔

    میری فتح ٹرمپ کے زوال کا آغاز: سینیٹر برنی سینڈرزنے ٹرمپ کےلیے خطرےکی گھنٹی بجادی

    یاد رہے کہ پیر کے روز ہونے والے حملے کا جواب دیتے ہوئے ایک 100 سے زائد شامی فوجیوں کو عدم فعال بنا دیا گیا تھا۔ ترک مسلح افواج کی طرف سے سرحدی یونٹوں کو بکتر بند گاڑیوں اور کمانڈوز کی کمک بھیجی گئی ہے۔

    سن لو ! امریکہ اور نیٹو افغانستان سے نہیں نکلیں گے، نیٹو سیکریٹری جنرل

    ترکی کی مختلف یونٹوں سے کمانڈوز اور بکتر بند گاڑیوں کا کانوائے ضلع حطائے کی تحصیل ریحانلی پہنچ گیا ہے۔حفاظتی تدابیر کے ساتھ ان کمانڈوز کو متعلقہ یونٹوں میں بھیج دیا گیا ہے۔