Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک فضائیہ کا ایک اور تربیتی طیارہ گر کر تباہ،4 ہفتوں میں تین طیارے تباہ

    پاک فضائیہ کا ایک اور تربیتی طیارہ گر کر تباہ،4 ہفتوں میں تین طیارے تباہ

    پشاور :پاک فضائیہ کا ایک اور تربیتی طیارہ گر کر تباہ،کیسے گرا، پائیلٹ کے ساتھ کیا ہوا اہم خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق پاک فضائیہ کا تربیتی گر کر تباہ ہوگیا، تاہم واقعے کی وجوہات جاننے کے لئے اعلیٰ سطحی بورڈ تشکیل دے دیا ۔

    تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کا طیارہ مردان کے علاقے تخت بھائی کے قریب گرکرتباہ ہوگیا ،واقعے کے فوری بعد ریسکیو اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے وقوع پر پہنچ گیا اور ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے تاہم واقعے کے حقائق جاننے کیلئے تحقیقاتی بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

    یاد رہے 7 فروری کو پاک فضائیہ کا طیارہ شورکوٹ کے قریب گرکرتباہ ہوگیا تھا ، حادثے کے نتیجے میں پائلٹ جہاز سے بحفاظت اترنے میں کامیاب رہا اور زمین پرجانی ومالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔

    اس سے قبل 7 جنوری کو پاک فضائیہ کا طیارہ تربیتی پرواز کے دوران میانوالی کے قریب گر کر تباہ ہوگیا تھا اور حادثے کے نتیجے میں طیارے ایف ٹی سیون میں سوار دونوں پائلٹ شہید ہوگئے تھے، جن کے نام اسکواڈرن لیڈر حارث بن خالد اور فلائنگ آفیسر عبادالرحمان تھے۔

  • دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان کے تعلقات پر ایک نظر

    دوجسم یک جان ترکی اورپاکستان،تحریک خلافت سے لے کرقیام پاکستان تک،ترکی اورپاکستان کے تعلقات پر ایک نظر

    لاہور:تحریک خلافت خلفائے راشدین رضی اللہ تعالٰی عنھم کے بعد بنو امیہ اور بنو عباس سے ہوتی ہوئی ترکی کے عثمانی خاندان کو منتقل ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت اسلامی سلطنت کا مرکز ترکی تھا اور اس کے سربراہ خلیفہ عبد الحمید تھے۔

    خلفائے راشدین نے دار الحکومت کا درجہ مدینہ منورہ کو دیا جبکہ حضرت علی نے انتظامی مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے دار الحکومت کو کوفہ منتقل کیا۔ بنوامیہ کے دور میں دار الحکومت کوفہ سے دمشق لے جایا گیا. بنی عباس کے دور میں دار الحکومت کی سرگرمیوں کا مرکز بغداد بنا۔ بغدادکی تباہی (1258ء ) کے بعد دار الحکومت کو قاہرہ میں لے جایا گیا۔ 1518ء میں ترک عثمانی بادشاہ سلطان سلیم نے خلافت کے اختیارات سنبھال کر دارالحکومت قسطنطنیہ (استنبول) کا اعلان کیا ۔

    پہلی جنگ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی جنگ میں شمولیت سے ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوئے کہ اگر انگریز کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے، اس وعدے پر، وزیر اعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے رضامندی ظاہر کی کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رکھا جائے گا.

    جنگ میں جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کر دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے "تحریک خلافت” کا نام دیا گیا۔


    1919ء کے آس پاس یہاں کے مسلمانوں نے اس کا آغاز کیا جس میں سب سے پیش پیش تھے مولانا محمد علی جوہر اور ان کے بھائی مولانا شوکت علی۔ اسے انڈین کانگریس اور اس کے ہندو لیڈروں نے بھی حمایت دی اور دونوں کے جلسے اکثر ایک ہی پنڈال میں ہوا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی اور پنڈت موتی لال نہرو اس کے سرگرم حامیوں میں شامل تھے۔

    خلافت تحریک ایک خالص مذہبی تحریک تھی اور اس کا مقصد تھا خلافت عثمانیہ کا تحفظ۔ خلافت کا مطلب تھا اسلامی طرز حکومت اور مسلمانوں کی اجتماعی لیڈر شپ۔ عام مسلمان تو بکھراؤ کا شکار تھے اور ان کی حقیقتاً کوئی لیڈر شپ نہیں تھی مگر ایک علامتی خلیفہ ترکی میں موجود تھا جو اس بات کی علامت تھا کہ مسلمان متحد ہیں یا ان کا ایک مرکز ہے۔

    انگریزوں کویہ بھی گوارا نہ تھا کہ مسلمانوں کی کوئی علامتی لیڈر شپ رہے اور وہ ترکی کی خلافت کو ختم کرکے اس کے علاقوں کو تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ عرب اور عراق تک اس کی حکومت قائم تھی جس کے خلاف پہلے عرب قوم پرستی کی تحریک شروع کی گئی جس کے پس پشت مسلم قوم پرستی کو ختم کرنے کا پلان تھا اور اس میں برطانیہ و اس کے حواری کامیاب بھی ہوئے۔

    مغربی ملکوں کے منشا کو تمام مسلمانوں نے بھانپ لیا تھا ااور اس کے خلاف انھوں نے تحریک خلافت شروع کردی تھی۔ یوں تو سنٹرل ایشیا میں بھی مسلمانوں کی طرف سے ترکی کے بندر بانٹ اور خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے خلاف آواز اٹھ رہی تھی مگر ہندوستان میں اس کے خلاف زبردست تحریک شروع ہوچکی تھی۔ ان دونوں علاقوں کے مسلمانوں سے خود آخری عثمانی تاجدار خلیفہ عبدالحمید دوئم کو بھی بہت امید تھی، جس کا اظہار انھوں نے اپنی ایک ڈائری میں کیا ہے:

    ’’وہ ایشیا میں پندرہ کروڑ مسلمانوں پر حکومت کرتے تھے، یہ لوگ خلافت عثمانیہ کے حامی تھے۔ مجھے اس صورتحال کی خبر تھی۔ میں نے وسط ایشیا اور دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے ساتھ رابطہ پیدا کرنے کے لئے بہت سے معزز اصحاب، شیوخ طریقت اور درویش بھیجے۔ ان لوگوں نے اسلامی اخوت کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے بڑا کام کیا۔ شیخ سلیمان آفندی بخاری ان مین سے ایک تھے۔

    ہندوستانی مسلمان بھی دولت عثمانیہ کے ساتھ گہرا جذباتی رشتہ رکھتے تھے۔ ہم پر جب بھی کوئی افتاد پڑتی ہے بے چین ہوجاتے ہیں۔ہمارے ساتھ انگریزوں کا جو طرز عمل تھا اس سے سخت نالاں تھے۔ انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انگریز ی حکومت ، دولت عثمانیہ کے ساتھ امن و مان سے رہے۔ مسلمانوں کی اس ہمدردی سے ہمیں آزمائش کی گھڑیوں میں تقویت ملتی تھی۔‘‘

    خلیفہ کی یہ یاد داشت 18مارچ 1917ء کی تحریر کردہ ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان خلافت کمیٹی کے قیام سے پہلے بھی خلافت عثمانیہ کے حامی تھے اور اسے قائم رکھنا چاہتے تھے۔ حالانکہ1919 ء اور1924ء کے دوران یہ تحریک زیادہ زوروں پر تھی۔

    خلافت تحریک میں کانگریس کے لوگوں کی شمولیت رہتی تھی اور دونوں کے لیڈران اتحاد کے ساتھ کندھے سے کندھ املا کر ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ دونوں ہی انگریزوں کے مخالف تھے اور دونوں کی لڑائی انگریزوں کے ساتھ تھی۔ عثمانی خلافت ہندوستان کی آزادی کی حامی تھی اور اس نے مولانا محمود حسن کی حمایت کی تھی جو آزادی کے لئے لڑ رہے تھے۔

    خلافت کمیٹی کا صدر دفتر لکھنو مین تھا اور اس تحریک میں اس وقت کے تمام بڑے مسلم لیڈران اور علماء شامل تھے۔ آکسفورڈکے تعلیم یافتہ صحافی مولانا محمد علی جوہر نے تو اس کے لئے چار سال جیل میں گزارے تھے۔ان کے ساتھ ان کے بھائی مولانا شوکت علی بھی تھے اور جب وہ جیل میں تھے تو ان کی غیر موجودگی میں اس تحریک کی قیادت کے لئے بیگم محمد علی جوہر سامنے آگئی تھیں۔

    خلافت تحریک کے قائدین میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری، مولانا حسرت موہانی، رئیس المہاجرین بیرسٹر جان محمد جونیجو، سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابوالکلام آزاد، حکیم اجمل خاں اور شوکت علی صدیقی سمیت پورے ملک سے ہزاروں افراد شامل تھے۔البتہ اس کمیٹی کے ممبران کی تعداد تیس تھی جن میں دہلی، ممبئی ، کلکتہ، علی گڑھ، لکھنو، گورکھپور، مظفر پور، پٹنہ سمیت ملک کے کئی خطوں کے علماء، دانشور، صحافی اور لیڈران شامل تھے۔

    خلافت کمیٹی کی تحریک اور جلسوں میں گاندھی جی بھی شامل رہتے تھے اور اسے ہندو۔مسلم اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کیا کرتے تھے مگر رفتہ رفتہ کئی حلقون سے اس کی مخالفت شروع ہوگئی۔ مسلمانوں میں مسلم لیگ تو ہندوون میں ہندو مہا سبھا نے اس کی مخالفت کی کہ ایک خالص اسلامی ایشو پر کانگریس کا ساتھ لینے کی کیا ضرورت ہے۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب مولانا محمد علی جوہرؔ نے مسلم لیگ جوائن کرلی۔

    حالانکہ تب تک مسلم لیگ کا مقصد مسلمانوں کے حقوق کی بات کرناتھا اور پاکستان کی قرار داد سامنے نہیں آئی تھی۔ خلافت اور ترک موالات کی تحریک ایک ساتھ چل رہی تھی اور اسی کے بطن سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ یہ تحریکیں اس قدر طاقتور تھیں کی انگریزوں کو پہلی بار احساس ہوا کہ ہندوستانی اس پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

    خلافت تحریک کے زور کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں میں ایک اور تنظیم قائم ہوئی جس کا نام تھا مجلس احرار اسلام۔ اسے سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے قائم کیا تھا جن کی پشت پر چودھری افضل الحق تھے مگر اسی کے ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد اور حکیم اجمل خان جیسے کانگریسی لیڈروں کی بھی حمایت حاصل تھی جو گاندھی جی کے سخت حامیوں میں تھے۔

    مسلمانوں کی زوردار تحریک کے باوجود انگریزوں پر کوئی اثر نہیں ہوا اورخلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا،اوربرصغیرکے مسلمانوں کواس بات کا دلی دکھ ہوا اوروہ اس وقت سے لیکرآج تک اسی تحریک خلاف کے نام پرمخلف تحریکیں قائم کرکے،تنظیموں کی بنیاد رکھ کراس سے اپنا پرانا تعلق جوڑے ہوئے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ترکی بھی اسی وجہ سے برصغیراورخصوصا پاکستان سے اورپاکستان کے لوگوں سے محبت کرتا ہے ، ترک قوم عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اورپاکستان کے لیے اپنا من دھن قربان کرنے کےلیے تیارہے

    جہاں تک تعلق ہے قیام پاکستان کے بعد سے لیکراب تک تویہ بات یاد رہنی چاہیے کہ پاکستان کو تسلیم کرنے والے ممالک میں ترکی صف اول میں شامل تھا جب دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کا قیام عمل میں آیا تو ترک سفیر کی اسناد وصول کرتے ہوئے قائداعظم نے دونوں ممالک کے مابین موجود روحانی، جذباتی اور تہذیبی رشتوں کا بالخصوص ذکر کیا۔ ترکی دنیائے اسلام کا واحد ملک ہے جس سے ہمارے انتہائی گہرے مراسم گزشتہ 70 سال سے تسلسل سے قائم ہیں۔

    ترکی اور پاکستان میں دوستی کا باضابطہ معاہدہ 1951ء اور باہمی تعاون کا معاہدہ 1954ء میں وجود میں آیا جس کے الفاظ کچھ یوں تھے ’’ترکی اور پاکستان کے درمیان دوستی کے جذبے کے ساتھ طے پایا ہے کہ سیاسی، ثقافتی اور معاشی دائروں کے اندر اور اس کے ساتھ امن اور تحفظ کی خاطر ہم زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعاون حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہیں گے‘‘۔

    ترکی میں دائیں بازو یا بائیں بازو یا فوجی آمریت ہی کیوں نہ ہو، ہمارے ساتھ ترکی کے تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں جہاں ترکی ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی غیر مشروط حمایت کرتا رہا ہے وہیں 1954ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے قبرص کے مسئلے پر ترکی کا بھرپور ساتھ دیا اور قبرص پر ترکی کے حق کو فائق گردانا۔ 1962ء میں ترک اور یونانی قبرصیوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔

    ترکی نے مسلم قبرصیوں کے تحفظ کے لئے افواج روانہ کر دیں۔ جس سے یونانی اور ترکی میں بہت بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ تاہم اقوام متحدہ اور مغربی ممالک کی مداخلت کے سبب جنگ ٹل گئی۔ پاکستان نے اِس سارے دور میں ترکی کا ہر طرح سے ساتھ دیا۔ سیاسی اور سفارتی سطح پر ترک مؤقف کی حمایت کی اور ترکی کو مکمل فوجی تعاون کا یقین دلایا۔

    ترک حکومت پاکستان کی حمایت سے بے حد متاثر ہوئی کہ انہوں نے وزیر خارجہ فریدوں کمال کو خصوصی دورہ پر کراچی بھیجا گیا تاکہ حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا جا سکے۔ اگرچہ کشمیر کی طرح قبرص کا مسئلہ بھی ابھی تک حل طلب ہے تاہم ترک قبرصیوں کی حمایت میں پاکستان کا مؤقف ہمیشہ ترکی کی حمایت میں اٹل رہا۔ 1984ء میں قبرص کا مسئلہ نئے سرے سے اقوام متحدہ کے سامنے آیا تو پاکستانی مندوب شاہ نواز نے ترک قبرصیوں کے مسلمہ حقوق کی بازیابی کے حق میں زوردار تقریر کی۔

    پاکستان دفاعی معاہدہ بغداد میں ترکی اور عراق کے ساتھ شریک رہا ہے۔ 1965ء کی جنگ میں ترکی نے پاکستان کو فوجی سازوسامان، اسلحہ گولہ بارود اور توپیں فراہم کیں۔ پاکستانی زخمی فوجیوں کے لئے ڈاکٹرز اور نرسوں کے وفود 1965ء اور 1971ء میں ترکی سے پاکستان آئے۔ 1964ء میں معاہدہ استنبول کے تحت ترکی، ایران اور پاکستان کے درمیان علاقائی تعاون برائے ترقی (آر۔سی۔ڈی) کے نام سے موسوم تنظیم وجود میں آئی۔

    اگرچہ اِس تنظیم نے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاحتی اور ذرائع آمدورفت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کل یہ تنظیم علاقائی معاشی کونسل کہلاتی ہے۔ آج کل پاکستان خصوصاً پنجاب کے بڑے بڑے شہروں لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد میں ویسٹ مینجمنٹ اور کئی بجلی گھر سڑکوں کی تعمیر جیسے منصوبے ترکی کے تعاون سے چل رہے ہیں۔ میاں نواز شریف ترک صدر رجب اردوان سے بے حد متاثر ہیں مگر انہیں اپنے عوام پر اس قدر دسترس حاصل نہیں ہے کہ ان کے ایک اشارے پر عوام ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں گے۔ یہ خوش نصیبی صرف اردوان کے لئے ہی خدا نے مخصوص کی۔ یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا۔

    پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے ہیں۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ ترک میڈیا میں چھپنے والا اطلاعات کے مطابق گذشتہ سال پاکستان اور ترکی کے درمیان تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالیت کا فوجی معادہ ہوا تھا۔ اسی طرح ترک فوجی پاکستان میں آ کر تربیت لیتے ہیں اور پاکستانی فوجی ترکی جا کر۔ بلکہ پاکستان کے سابق فوجی آمر اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے تو اپنی ترکی میں ایک لمبے عرصے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ترک جمہوریہ کے بانی کمال اتا ترک تو ان کے آئیڈیل تھے۔ اسی طری موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی کمال اتا ترک کے ترکی ماڈل کا ذکر کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔

    پاکستان میں کئی شاہراہیں کمال اتا ترک کے نام پر ہیں جبکہ ترکی کی اہم مصروف شاہراہ جناح جادیسی پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے نام پر ہے۔

    لیکن کیا ہمیشہ ہی تعلقات بہتر رہےویسے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ ان میں دراڑ افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران اس وقت آئی جب پاکستان طالبان کی جبکہ ترکی شمالی اتحاد کی حمایت کر رہا تھا۔ شمالی اتحاد میں زیادہ تر ازبک اور ترک نژاد افغان تھے جبکہ طالبان میں اکثریت پختون کی تھی جن کی پاکستان حمایت اور مدد کر رہا تھا۔ اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے۔

    اس کے علاوہ ترکی چین میں مسلم اویغوروں کی ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کی حمایت کرتا ہے جبکہ پاکستان اپنے ہمسائے اور درینہ دوست چین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور ای ٹی آئی ایم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحد کے اندر ایسے کئی اویغروں کو ہلاک کیا ہے جن پر شبہ تھا کہ وہ چین میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے۔

  • مہنگائی پر نوید قمر بھی بول پڑے ، حکومت کو کھری کھری سنا دیں

    مہنگائی پر نوید قمر بھی بول پڑے ، حکومت کو کھری کھری سنا دیں

    مہنگائی پر نوید قمر بھی بول پڑے ، حکومت کو کھری کھری سنا دیں

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنمانوید قمر نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی، اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ چکی ہیں، آج ہر شخص مہنگائی سے متاثر ہو رہا ہے، یوٹیلیٹی سٹورز اور راشن کارڈ کوئی حل نہیں، اگر آپ پیداوار نہیں بڑھائیں گے تو خسارہ ہو گا۔

    نوید قمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا آج ہر گھر میں معاشی پالیسی زیر بحث ہے، ہر شخص مہنگائی سے متاثر ہو رہا ہے، اپنے لوگوں پر اعتماد نہیں کریں گے تو بحران پیدا ہوگا، 2008 میں بھی اس سے بدتر حالات تھے، نمبرز کا گورکھ دھندا ہوتا تو ان کے اور اپنے نمبرز بتا کر گھر چلے جاتے، کون سا ایسا شخص ہے جو ان کی پالیسیوں سے متاثر نہیں ہو رہا۔

    نوید قمر کا کہنا تھا جہاں آپ نے پروڈکشن، سپلائی کو دیکھنا تھا وہاں صرف ڈیمانڈ کو دیکھا، عام آدمی کو جو تکلیف مل رہی ہے اس کا اندازہ وہی لگا سکتاہے، جو سب سے غریب ہے ان پر مہنگائی کا زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا، ہم ان چیزوں کی قیمتیں بڑھاتے جا رہے ہیں جو ہماری اپنی پروڈکشن ہے، ہارورڈ کی پالیسی یہ نہیں کہتی کہ راشن کارڈ سے مہنگائی کم ہو گی.
    واضح‌رہے کہ مہنگائی کے خلاف اپوزیشن سراپا حتجاج ہے . عوام بھی مہنگئی کی وجہ سے بے حال ہے ، اس مہنگائی کو حکومتی ذمہ داران بھی تسلیم کرتے ہیں.

  • دنیا کواتنا نقصان دہشت گردی نے نہیں‌پہنچایا جتنانقصان کرونا وائرس سے ہوگیا، دنیا خطرے میں پڑگئی ، عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا

    دنیا کواتنا نقصان دہشت گردی نے نہیں‌پہنچایا جتنانقصان کرونا وائرس سے ہوگیا، دنیا خطرے میں پڑگئی ، عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا

    جنیوا:دنیا کواتنا نقصان دہشت گردی نے نہیں‌پہنچایا جتنانقصان کرونا وائرس سے ہوگیا، دنیا خطرے میں پڑگئی ، عالمی ادارہ صحت نے خبردارکردیا ،اطلاعات کےمطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈمنوم گوٹھائیس کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے نتائج کسی بھی دہشت گردی کے واقع سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے اور اس سے نمٹنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کا اجلاس جنیوا میں ہورہا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈمنوم گوٹھائیس کورونا وائرس کو کسی بھی دہشتگردی کارروائی سے زیادہ خطرناک قرار دے دیا۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ کورونا وائرس چین کے بعد پوری دنیا میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جو ایک سنگین خطرہ بنتا جارہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس وائرس کی ویکسن کی تیاری میں 18 ماہ لگ سکتے ہیں لہذا ہمیں موجودہ صورتحال میں تمام دستیاب وسائل کے ذریعے سے اس کا حل نکالنا ہوگا۔

    عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈمنوم گوٹھائیس نے کہا کہ جو لوگ کبھی چین نہیں گئے، ان لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص میں اضافہ نادیدہ خطرے کی پہلی جھلک ہے لہذا ہمیں اس خطرے سے تیزی سے نمٹنا ہوگا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں  مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔

    بدھ کے روز اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 39 ہزار 296 کی سطح سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس میں 350 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • آصف زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

    آصف زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

    اسلام آباد:بلاول کے ابوجی آصف زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ،اطلاعات کےمطابق قومی اسمبلی اجلاس میں عمر ایوب کی جانب سے آصف زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہنے پر میں ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس ملتوی کردیا گیا۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا کہنا تھا کہ 60 سے 70 کی دہائی میں مہنگائی ہوئی، مسلم لیگ ن 30 ہزار ارب روپے تک قرضہ لے گئی جب کہ پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے 15000 ہزار ارب روپے تک قرضہ چھوڑا۔

    اسی دوران وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے سابق صدر اور شریک چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی آصف زرداری کو مسٹر 10 پرسنٹ کہا جس پر پیپلزپارٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور پارٹی ارکان نے عمر ایوب کی چیئر کا گھیراؤ کرکے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

    پیپلز پارٹی ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑدیں جب کہ رہنما پیپلزپارٹی آغا رفیع اللہ حکومتی ارکان سے گتھم گتھا ہوگئے اور سابق صدر ایوب خان کے خلاف نعرے لگائے۔ ہنگامہ آرائی کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی 10 منٹ کے لیے معطل کی تاہم بعد میں اجلاس کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

  • لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو  11 سال کی سزا سنا دی

    لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو 11 سال کی سزا سنا دی

    لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے حافظ محمد سعید کو 11 سال کی سزا سنا دی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق : لاھور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروفیسر حافظ محمد سعید کو دو کیسز میں ساڑھے پانچ سال قید اور 15 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی، اس سے پہلے انسداد دہشتگری عدالت لاہور نے امیر جماعۃ الدعوہ حافظ سعید سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی الزامات دائر کرنے کے بعد عدالت نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کیا تھا ۔

    فرد جرم عائد کرنے پر جماعۃ الدعوۃ کے رہنماؤں نے خود پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد کہا تھا اور ان سے انکار کیا اور ان مقدمات کو پاکستان حکومت پر بین الاقوامی دباؤکا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان پر کالعدم لشکر طیبہ کے رہنما کی حیثیت سے غلط طور پر منسوب کرتے ہوئے مقدمات میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔لشکر طیبہ سےان کا کوئی تعلق نہیں. ہے

    واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے حافظ محمد سعید کو لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کیا تھا. انہیں گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا. جس پر عدالت نے جوڈیشیل ریمانڈ پر حافظ محمد سعید کو جیل منتقل کر دیا تھا.
    واضح رہے کہ بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب پاکستان کو دی جانے والے فہرست میں ایک کام دہشت گردی میں ملوث تنظیموں اور اشخاص کے خلاف کاروائی کرنا بھی شامل تھا۔ حکومت پاکستان نے جولائی 2019 میں ایسے 23 مقدمات درج کیے جن میں 13 افراد کو نامزد کیا تھا۔ ان میں سے 11 مقدمات میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کو نامزد کیا گیا تھا۔
    خیال رہے کہ حافظ سعید 3 جولائی 2019 کو یہ مقدمات بنائے گئے اور انہیں 17 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔ جبکہ 11 دسمبر کو لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 1 نے ان پر فرد جرم عائد کی اور مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر کی جانے لگی۔ وکیل استغاثہ عبدالرووف وٹو کے مطابق حافظ سعید کی جانب سے ان کے وکیل کے عدالت میں پیش ہونے پر ان کو سرکاری طور پر وکیل دفاع دیا گیا جس کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیادوں پر ممکن ہوئی۔

  • پاکستان شاہینزکے اسکواڈمیں 5 تبدیلیاں

    پاکستان شاہینزکے اسکواڈمیں 5 تبدیلیاں

    پاکستان شاہینزکے اسکواڈمیں 5 تبدیلیاں

    باغی ٹی وی : پاکستان شاہینز اور مارلی بون کرکٹ کلب کے خلاف ایک روزہ میچ 16 فروری کوکھیلا جائے گا۔ اس حوالے سے پاکستان شاہینزکے اسکواڈمیں 5 تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شریک کھلاڑیوں کی متعلقہ فرنچائزز کے ساتھ مصروفیات کے سبب پاکستان شاہینز کے اسکواڈ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق عاکف جاوید، حیدر علی، محمد محسن، سیف بدراورعمر خان کی جگہ احسان عادل، محمد اصغر، عمران بٹ، محمد عرفان خان اور ساجد خان کواسکواڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔ مارلی بون کرکٹ کلب کے خلاف 12 رکنی اسکواڈ کی قیادت سعود شکیل کررہے ہیں۔

    ابتدائی اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے متبادل کی حیثیت سےڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔

    اسکواڈ میں طلب کیے گئے احسان عادل نےقائداعظم ٹرافی میں سنٹرل پنجاب کی نمائندگی کرتے ہوئے حالیہ سیزن کے 9 فرسٹ کلاس میچوں میں32.67کی اوسط سے18 وکٹیں حاصل کیں۔ اسی طرح عمران بٹ نے بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 9 فرسٹ کلاس میچوں میں 934 رنز بنائے۔

    آئی سی سی انڈر19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد عرفان خان کو بھی پاکستان شاہینز کے اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔17 سالہ نوجوان کرکٹر نے ستمبر 2019 میں اے سی سی انڈر19 ایشیا کپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ حالیہ ڈومیسٹک سیزن کے دوران محمد عرفان خان نے 10 نان فرسٹ کلاس میچوں میں 475 رنز بنائے تھے۔

    بائیں ہاتھ کے اسپنر محمد اصغرنے8 فرسٹ کلاس میچوں میں بلوچستان کی نمائندگی کرتے ہوئے27 وکٹیں حاصل کیں جبکہ خیبرپختونخوا کے ساجد خان نے 6 میچوں میں 25کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے دونوں اسپنرز کو پاکستان شاہینز کا حصہ بنالیا گیا ہے۔

    دوسری طرف مارلی بون کرکٹ کلب اور ناردرن کے درمیان میچ 17 فروری کو ایچیسن کالج میں کھیلا جائے گا۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل فرنچائز کے ساتھ مصروفیت کے باعث ناردرن کے اسکواڈ میں بھی ایک تبدیلی کی گئی ہے۔ موسیٰ خان کی جگہ منیر ریاض کو اسکواڈ کا حصہ بنالیا گیا ہے۔ نوجوان کرکٹر نے قومی انڈر 19 تین روزہ ٹورنامنٹ کے 6 میچوں میں 14 وکٹیں حاصل کی تھیں۔

    اسکواڈ:

    پاکستان شاہینز:

    سعود شکیل،کپتان(سندھ)، احسان عادل (سنٹرل پنجاب)، حسن محسن (سندھ)، عمران بٹ (بلوچستان)، عمران رفیق (سدرن پنجاب)، محمد عرفان خان (سنٹرل پنجاب سیکنڈ الیون)، محمد اصغر (بلوچستان)، عمیر بن یوسف (سندھ)، روحیل نذیر، وکٹ کیپر (ناردرن)، ساجد خان (خیبرپختونخوا)، ثمین گل (خیبرپختونخوا)اورذیشان ملک (ناردرن)۔

    ناردرن:

    روحیل نذیر، کپتان (وکٹ کیپر)،فیضان ریاض (نائب کپتان)، علی عمران، حیدر علی، مبشر خان (انڈر19)،منیر ریاض (انڈر19)، نعمان علی، سرمد بھٹی، شہزاد اعظم، شیراز خان (انڈر19)، زید عالم اور ذیشان ملک۔

    شیڈول:

    14 فروری : ایم سی سی بمقابلہ لاہور قلندرز بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور بوقت شام 5 تا رات8:10 بجے (بیس اوورز پر مشتمل میچ)
    16 فروری : ایم سی سی بمقابلہ پاکستان شاہینز بمقام ایچیسن کالج لاہور بوقت صبح 9:30 تا شام 5:15 بجے (پچاس اوورز پر مشتمل میچ)
    17 فروری : ایم سی سی بمقابلہ ناردرن بمقام ایچیسن کالج لاہور بوقت دوپہر 12:30 تا سہ پہر3:40 بجے (بیس اوورز پر مشتمل میچ)
    19 فروری : ایم سی سی بمقابلہ ملتان سلطانز بمقام ایچیسن کالج لاہور بوقت دوپہر 12:30 تا سہ پہر3:40 بجے (بیس اوورز پر مشتمل میچ)

  • مبشرلقمان کے قومی معاملات پراہم  سوالات،اسدعمر کے اہم جوابات، جاتی عمرہ سے نریندرمودی تک لاہورسے لندن تک،کیا ہواکون ذمہ دار؟

    مبشرلقمان کے قومی معاملات پراہم سوالات،اسدعمر کے اہم جوابات، جاتی عمرہ سے نریندرمودی تک لاہورسے لندن تک،کیا ہواکون ذمہ دار؟

    لاہور:مبشرلقمان کے اہم قومی معاملات پراہم سوالات،اسدعمر کی زبانی اہم جوابات،جاتی عمرہ سے نریندرمودی تک لاہورسے لندن تک اہم رازافشاں کردیئے ،اطلاعات کےمطابق ملک میں مہنگائی بڑھنے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں ، ان خیالات کا اظہارپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اوروزیراعظم عمران خان کے قابل اعتماد ساتھی اسد عمر نے معروف صحافی ، اینکرمبشرلقمان سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ، باغی ٹی وی کے مطابق مبشرلقمان نے اس موقع پر پاکستان میں مہنگائی ، معاشی صورت حال اورحکومت کی ترجیحات کے بارے میں کھرے ،سچے اور چبتے چبتے سوالات کئے جن کے جوابات بھی کچھ اس طرح ہی تھے

     

    باغی ٹی وی کےمطابق مبشرلقمان یوٹیوب چینل کے میزبان مبشرلقمان نے اسد عمر سے پاکستان میں مہنگائی کی وجوہات اور اس کے تدارک پرحکومتی اقدامات اورترجیحات پوچھیں تواسد عمر نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی کی کوئی ایک خاص وجہ نہیں ہے بلکہ اس کے کئی پہلوہیں ، اسد عمرنے ان پہلووں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پہلی تو بات یہ ہے کہ مہنگائی کا تعلق عالمی مارکیٹ میں بڑھنے والی مہنگائی سے بھی ہے کوئی بھی ملک عالمی مارکیٹ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا،

    اسد عمر نے مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دوسری بڑی وجہ ڈالرکی قیمت میں اضافہ اورملکی کرنسی میں گراوٹ بھی ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ ااس مہنگائی میں آئی ایم ایف کا بھی حصہ ہے ، ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی کے طوفان میں خودساختہ مہنگائی کا بھی حصہ ہے جس میں کچھ لوگ اورکاروباری لوگ شامل ہیں‌

    مبشرلقمان نے اس عمر سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ان کے خلاف کارروائی ہوگی جو اس میں ملوث ہیں تو اسد عمرنے جواب دیتے ہوئے کہاکہ جی ہاں وزیراعظم نے ایف آئی اے کواس سارے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا ، جو بھی ملوث ہوا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی ،

    مبشر لقمان یوٹیوب چینل کے میزبان مبشرلقمان نے اسد عمر سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کہا جارہا تھا کہ آٹے کا بحران ختم کرنے کےلیے گندم منگوائی جائے گی لیکن گندم منگوانے کے بغیر ہی یہ بحران ختم ہوگیا اس کی کیا وجہ ہےاس پراسدعمر نے انکشاف کیا کہ کچھ تو حکومتی اقدامات کی وجہ سے اوردوسرا پاسکوکے پاس بہت بڑا ذخیرہ پڑا ہے اس کے ذریعے اس کو مربوط کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ بحران ٹل گیا ہے

    مبشرلقمان نے اسد عمر کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ سنا ہے کہ آپ پھروزیرخزانہ بن رہے ہیں اس پراسد عمرنے حقائق سے نظرچراتے ہوئے جواب دیا نہیں فی الحال تو ایسا نہیں ہے ، شبرزیدی کے متعلق ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ وہ واقعی بیمار ہیں اور اسی وجہ سے وہ علاج کی غرض سے چھٹی پرگئے ہیں

    مبشرلقمان نے جب اس عمر سے ایف بی آر کو پرائیویٹ کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا آپ کو بھی علم ہوگا کہ ایک دن وزیراعظم نے بھی کہا تھا کہ ایف بی آر کی جگہ کوئی اورمحکمہ لے آنا چاہیے ، اسد عمر نے اس پروضاحت پیش کرتے ہوئے کہاکہ بات یہ ہےکہ اس قسم کے ادارے میں اصطلاحات کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کےلیے بڑے صبر کا مظاہرہ کرنا پڑے گا

    اسدعمر نے مبشرلقمان کے اس سوال کے جواب میں کہ آپ میں کرنٹ اکاونٹ کے خسارے میں کمی اورمعیشت کے بہترہونے کی کہانیاں سناتے ہیں لیکن عوام آٹے،چینی اور پانی جیسے معاملات سے پریشان ہیں ایسے تو نہیں چلے گا ، اسدعمر نے بتایا کہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی قرض لے کرموجیں اڑا رہا ہواور ایک وقت آتا ہے جب قرض والے قرضہ واپس مانگتے ہیں توپھرجوگھروالے اور گھروالی پربیتتی ہے وہی ہمارا حال ہے

    اس کے جواب میں مبشرلقمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سپورٹرخواتین اوراورسمندرپارپاکستانی ہیں تواگران کو آٹآ ، گھی اورچینی نہیں ملے گی توپھر وہ تو سخت ناراض ہوں گے ، اسد عمر نے اس کے جواب میں بتایا کہ وزیراعظم انہیں پہلووں پرکام کررہے ہیں اورکل کی کابینہ کی میٹنگ میں اہم فیصلے ہوئے اور15 ارب روپے مختص ہوئے اگلی میٹنگ میں اوربھی بہترفیصلے ہوں گے ، عوام کو ناراض نہیں ہونے دیں گے

    مبشرلقمان نے جب اسد عمر سے پوچھا کہ آپ کا سارا دھیان اس وقت سوشل میڈیا پر ہے کوئی اورکام بھی کرلیں تو اسد عمر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہےکہ میڈیا میں اس وقت بہت سے لوگ جھوٹ چھاپ چھاپ کرحکومت کوناکام ظاہرکرنے کی کوشش کررہے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی متبادل پلیٹ فارم ہونا چاہیے

    اس کے جواب میں مبشرلقمان نے اسد عمرسے پوچھا کہ آپ خود ہی فیصلہ کریں جب حکومتی ادارے کسی صحافی کو مطلوبہ حقائق اوراعدادوشمار نہیں دیں گے توپھروہ کیا کرے گا ، جس کو معلومات نہیں ملیں گی پھروہ یہی طریقہ اختیارکرے گا جو بقول آ پ کے ہورہا ہے،

    مبشرلقمان نے اسد عمرسے پوچھا کہ مریم نوازکوایئرپورٹ پرکون کون چھوڑنے جارہا ہے ، اس پراسد عمر نے کہاکہ ایسا نہیں ہے ، اس کی ضمانت کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے ، مبشرلقمان کے ایک اور سوال کے بارے میں اسد عمر نے کہاکہ میاں نوازشریف کے معاملے میں بہت ڈرامے بازی کی گئی ، جس پرمریم کے معاملے پرنظررکھی جارہی ہے

    مبشرلقمان نے اسد عمرسے پوچھاکہ پہلے توکام ہوجاتے تھے ، اب توآپ کے دورحکومت میں کوئی بات بھی سنتا ، دوسرا کرپشن کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوگئی ہے ، اس پراسد عمر نے جواب دیا کہ ہوسکتا ہے ، کیوں کہ اوپرکی سطح پرکرپشن کے خلاف دباوکی وجہ سے کسی کے بس میں کرپشن کرنا نہیں رہا اورنیچے والے لیول پرکوئی لو کررہے ہو، اس پربھی قابوپانے کی کوشش کررہے ہیں ، اسدعمرنے کہاکہ چند مہینوں تک نیا بلدیاتی نظام لے کرآرہے ہیں جس کے بعد مقامی سطح پررکے ہوئے کام بھی ہوا کریں گے اور معاملات بھی بہترانداز میں چلیں گے

    مبشرلقمان اسدعمرسے کیا آپ نے کبھی عوام سے اپنی کوتاہیوں پرمعافی کا بھی سوچا ہے توانہوں جواب دیا کہ کوتاہیاں توہوتی ہیں اس پرکوکوئی شک نہیں البتہ جس طرح ہمیں پیش کیا جارہاہے یہ غلط ہے معاملات بہترہوئے لیکن دکھانے والے جھوٹ بول بگاڑ کردکھا رہے ہیں

    مبشرلقمان کے سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہاکہ میڈیا ہاوسزاورذمہ داران اورمعیاری صحافت کرنے والوں پرقدغن غیرقانونی اورملکی مفاد میں نہیں ہے ، اوروہ جو جھوٹ بول کرمعاشرے کوگمراہ کررہے ہیں ان کو آزادی دینا بھی ملکی مفاد میں نہیں‌ہے

    آخرمبشرلقمان نے اسد عمر سے پوچھا کہ یہ توبتائیں کہ کیا کشمیرکا معاملہ دب تو نہیں گیا ، اس پراسد عمر نے بہت خوبصورت جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں ، 5 اگست کے بعد جس طرح عمران خان نے مسئلہ کشمیرکواجاگرکیا آج تک پاکستان کی تمام حکومتیں مل کربھی اتنا اجاگرنہ کرسکیں ، عمران خان کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخری حد جائیں گے اوریہی پاکستان تحریک انصاف کا مشن ہے،

  • عوام کے سر سے چھت گرانا سندھ حکومت کو قبول نہیں، وزیرا علیٰ سندھ کا سپریم کورٹ کے حکم پر جواب

    عوام کے سر سے چھت گرانا سندھ حکومت کو قبول نہیں، وزیرا علیٰ سندھ کا سپریم کورٹ کے حکم پر جواب

    عوام کے سر سے چھت گرانا سندھ حکومت کو قبول نہیں، وزیرا علیٰ سندھ کا سپریم کورٹ کے حکم پر جواب

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے عدالتی حکم پر شہر میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں گھروں کو مسمار کرنے سے معذرت کرلی۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ تجاوزات کسی صورت منظور نہیں مگر غریب کے گھر گرانے میں رضامند نہیں، عوام کے سر سے چھت گرانا سندھ حکومت کو قبول نہیں۔
    آئی جی سندھ سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھاکہ وفاق کو ہم نے آئی جی کے نام ان کی درخواست پر دیئے ہیں، امید کرتے ہیں کلیم امام کو تبدیل کیا جائے گا اور ان پانچ ناموں سے آئی جی مقرر ہوگا۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کل بلاول بھٹو زرداری نیب میں پیش ہوں گے، اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اور صدر زرداری کو بغیر الزام کے جیل میں رکھا گیا، عدالت نے فریال تالپور کو میرٹ پر ضمانت دی ہے۔
    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تجاوزات کو ختم کر نے کا حکم دیا ہے. سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو 3 ماہ میں آپریشنل کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت سے کچھ نہیں ہوگا، منصوبہ صوبائی حکومت کے حوالے کیا تو لوکل ٹرانسپورٹ جیسا حال ہوگا۔