Baaghi TV

Author: +9251

  • محبت کرنے والوں کو سلام ، محبت کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے اپنی دعاوں میں یادرکھنے پرشکریہ،مبشرلقمان

    محبت کرنے والوں کو سلام ، محبت کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے اپنی دعاوں میں یادرکھنے پرشکریہ،مبشرلقمان

    لاہور:محبت کرنے والوں کو سلام ، محبت کے رشتے مزید مضبوط ہوں گے اپنی دعاوں میں یادرکھنے پرشکریہ ، پاکستان کے معروف صحافی ممتازاینکر،کھرے سچ پروگرام کے میزبان اورمبشرلقمان یوٹیوب چینل سے دنیا بھرسے چاہنے والوں سے ہروقت منسلک رہنے والی معروف شخصیت مبشرلقمان نے اپنے چاہنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے اوران کی خدمت میں سلام بھی عرض کیا ہے

     

    باغی ٹی وی کے مطابق مبشرلقمان نے یوٹیوب چینل کے 10 لاکھ سے زائد سبسکرائبرزہونے کے موقع پریہ تہنیتی پہغام پیش خدمت کیا ہے، معروف صحافی مبشرلقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرکے ذریعے یہ پیغام اپنے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کیا ہے ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارا تعلق کسی طمع اورلالچ کے بغیرہے اورمجھے امید ہے کہ یہ تعلق ہمیشہ قائم رہے گا

     

    ایف آئی اے نے بیک وقت 5 زبانیں بولنے والا فراڈیا گرفتارکرلیا

    مبشرلقمان نے اپن پیغام میں مزید کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ 10 لاکھ توبراہ راست میرے ساتھ وابستہ ہیں مگرجوبالواسطہ میرے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں‌ان کی تعداد تواس کے بھی دگنی ہے ، جولوگ میرے تبصروں ، تجزیوں اورمیرے خیالات سے واقف ہوتے ہیں اورپھراپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں میں ان سب کی آرا کا احترام کرتا ہوں‌

    کشمیریوں کی قید تنہائی اورآزادی کیسی،جبران ناصرنے منظرکشی کرکے منفرد اندازمیں…

    مبشرلقمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ میں بھی اپنے چاہنے والوں کے تمام خیالات سے مستفید ہوتا رہتا ہوں ،انہوں نے آخرمیں پھردعاوں کے ساتھ محبت کے رشتے کو مضبوط سے مضبوط کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ،ہمارے چاہنے والے ہمارے قریب اورہم اپنے چاہنے والوں کے قریب ترہوتے جائیں گے اوریہ لشکربڑھتا ہی جائے گا

  • نہرونے لیاقت علی خان سے معاہدہ کرکے ہندوستان کوتقسیم کے بعد پھردوحصوں میں تقسیم کردیا ، مودی کا نہروپرالزام

    نہرونے لیاقت علی خان سے معاہدہ کرکے ہندوستان کوتقسیم کے بعد پھردوحصوں میں تقسیم کردیا ، مودی کا نہروپرالزام

    نئی دہلی :نہرونے لیاقت علی خان سے معاہدہ کرکے ہندوستان کوتقسیم کے بعد پھردوحصوں میں تقسیم کردیا ، مودی کا نہروپرالزام ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں اقلیتوں پرہونے والے مظالم کے ردعمل میں بھارت میں جوبغاوت پیدا ہوگئی ہے اس پروزیراعظم نریندرامودی نے سابق بھارتی وزیراعظم جواہرلعل نہروپرطرح طرح کے الزامات لگانے شروع کردیئے ہیں‌

    باغی ٹی وی کے مطابق نریندرا مودی نے جواہرلعل نہروکوکوستے ہوئے کہا ہےکہ اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان سے جوبھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں اوردیگراقلیتوں کے بارے میں معاہدہ کیا تھا وہی معاہد آج بھارت کے لیے درد سربن ہوا ہے،نریندرا مودی نےکہا کہ اس وقت کے وزیراعظم نے بھارت میں اقلیتوں کوبھارتی ہندووں کے برابرلاکھڑا کرنے کی غلطی کی جس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں‌

    نریندرامودی نے کہا کہ 1950 میں نہرونے جومعاہدہ لیاقت علی خاں سے کیا تھا ،اس نے بھارت کوتقسیم کرکے رکھ دیا ہے ،اپنی گفتگومیں مودی نے نہروکے سیکولرہونے کو بھی نشانہ بنایا اورکہا کہ نہروکے سیکولرنے آج ہمیں مروا دیا ہے

    ۱۵ ؍ اگست ۱۹۴۷ ء سے ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات خراب ہی نہیں بڑے خطرناک تھے ۔تقسیم ہند کے پس منظر میں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے تھے ۔
    تقسیم کے بعد لاکھوںافراد مارے گئے ، ؛ لاکھوں تباہ و برباد ہوگئے ، اپنا وطن چھوڑ کر مہاجر بننے پر مجبور ہوئے ۔

    دسمبر۱۹۴۹ ء میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور صنعت کا رابطہ بھی منقطع ہوگیا ۔آبادی کی متقلی کا سلسلہ جاری رہا ، اس کے ساتھقتل عام ، لوٹ مار، اغوا ء ، عصمت دری کی مجرمانہ حرکتوں کا بھی سلسلہ جاری تھا ۔اقلیتیں محفوظ نہیں تھیں ، سرحد کے اس پار بھی ، سرحد کے اس پار بھی ۔

    اقلیتوں کو سرحدوں کی دونوں جانب شک و شبہ کی نظروں سے دیکھا جانے لگا ۔ ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ۔اس ماحول میںدونوں ممالک میں خوف و دہشت کا عالم تھا ۔

    اس بات کا بھی خطرہ لاحق تھا کہ دونوں ممالک میں کہیں جنگ نہ چھڑ جائے ۔

    دی ہندو ( مورخہ ۷ اپریل ۲۰۱۶ ء ) میں شایع محقق ارچنا سبرامنیم کے مضمون کے مطابق ایسے میں پاکستانی وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پیش قدمی کی۔انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان معاملات کو حل کرنا بہت ضروری ہے ، انہوں نےایک باری جاری کیا جس میں ان سنگین حالات و معاملات کو حل کرنےکی ضرورت پر زور دیا گیا تھا ۔انہوں نے ساتھ ہی وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو ملاقات کی پیش کش بھی کی تاکہ دونوں وزراء اعظم مل کر یہ مسائل حل کرنے کی کوشش کریں ۔ وزیر اعظم نہرو نے بھی مثبت جواب دیا جس کے نتیجہ میں پنڈت نہرو اور لیاقت علی خان کےدرمیان ۲ ؍ اپریل ۱۹۵۰ ء کو دہلی میں ملاقات ہوئی ۔

    چھ دن بعد دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔

    اسے معاہدۂ دہلی یا نہرو ۔ لیاقت علی خان معاہدہ بھی کہا جاتا ہے ۔

    دونوں ہند و پاک وزراء اعظم کی یہ کوشش تھی کہ دونوں ممالک میں ا قلیتوں کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے ۔دونوں ممالک میں فرقہ وارانہ صورتحال جو بگڑتی جا رہی تھی ، اس کو سنبھالاجائے ، فرقہ وارانہ فسادات پر قابو پایا جائے اور امن کا ماحول قائم کیا جائے ۔

    اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ جب دہلی میں یہ تاریخی معاہدہ ہوا ، تب ملک کے نائب وزیر اعظم کے عہدے پر سردار ولبھ بھائی پٹیل ہی فائز تھے ، اور ان کے اختیار میں وزارت داخلہ کی ذمہ داری تھی ۔ اس معاہدہ کے آٹھ مہینے بعد دسمبر ۱۹۵۰ ء میں سردار پٹیل کا د یہانت ہوا ۔

    نہرو ۔ لیاقت معاہدہ پر نہرو کابینہ میں شامل ہندو مہا سبھا کے ہمدرد اور نمائیندے سمجھے جانے والے وزرا ء داکٹر شیاما پرساد مکھرجی جو اس وقت وزیر صنعت تھے اور کے سی نیوگی نے بطور احتجاج استعفی دے دیا تھا ، لیکن سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ہی ان دونوں کو سمجھایا بجھایا اور استعفی دینے سے روکا ۔ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی نےاکھنڈ بھارت کی بات کہی اور اس معاہدے کی شدیدمخالفت کی ۔انہوں نے کہا کہ صرف جنگ کے ذریعہ ہی پاکستان کو خت کرکے اکھنڈ بھارت بنایا جا سکتا ہے ۔

    البتہ ششی تھرور ( دی ہندو مورخہ ۲۵ ؍ اپریل ۲۰۰۴ ء ) سمیت مورخین نے لکھا ہے کہ سردار پٹیل کا آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے تئیں رویہ مشکوک تھا ، اور وہ مسلمانوں کی حب الوطنی پر شک و شبہ بھی کیا کرتے تھے ۔ ششی تھرور کا کہنا ہے کہ پنڈت جواہر لال اور سردار پٹیل کے درمیان جو نظریاتی فرق تھا وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بطور اقلیتی فرقہ سے برتاؤ کے متعلق تھا ۔دونوں ہی اپنے قائد مہاتما گاندھی کی طرح ملک کو متحد رکھنے کے قائل تھے لیکن تقسیم کے بعد سردار پٹیل بھارت کو ایسے ملک کے طور پر دیکھناچاہتے تھے جو ہندو اکثریت کے مفادات کی نگہبانی کرے۔

    جبکہ نہرو دو قومی نظریہ کو قطعی مسترد کرتے تھے ۔سردار پٹیل کی نظرمیںہندوستانی مسلمانوں کی کیا حیثیت تھی ؟ اس سلسلے میں ششی تھرور نے اپنے مضمون میں مورخ سرو پلی گوپال کے الفاظ دہرائے جنہوں نے کہا کہ سردار پٹیل ہندوستانی مسلمانوں کو یرغمال (HOSTAGES ) سمجھتے تھے ، جن کو پاکستانی ہندوؤں کے ساتھ اچھے برتاؤ کیلئے سیکوریٹی میں لیا جاسکتا ہے ۔

    نہرو ۔ لیاقت معاہدہ کو سردار پٹیل کی حمایت حاصل تھی ، یہ بات ششی تھرور نےکہی اور بتایا کہ سردار پٹیل نے گاندھیائی انداز میں اس معاہدہ کی حمایت کی ۔ سردار پٹیل کا کہنا تھا کہ حالانکہ مسئلہ مشرقی پاکستان میںہندوؤں کے ساتھ غلط برتاؤسے شروع ہوا تھا لیکن مغربی بنگال ( ہندوستان) میںاس کا بدلہ مسلمانوں سے لیکر ہنددؤں نے بھی اس معاملہ میں اخلاقی جواز ، چاہے وہ فوجی کارروائی ہو یا پاکستا ن کے ساتھ کوئی عمل ، کھو دیا ۔

    جو لوگ سردار پٹیل کو آر ایس ایس کا ہمدرد اور کٹر وادی سمجھتے تھے انہیں اس موقف سے سخت حیرت ہوئی لیکن جو لوگ جانتے تھے کہ سردار پٹیل زندگی بھر گاندھی وادی رہے ، انہیںکوئی تعجب نہیں ہوا ۔

    بہر کیف ، تقسیم ہند کے کربناک حالات کے پس منظر میںدونوں ممالک کے درمیان ۸ ؍ اپریل ۱۹۵۰ ء کو دہلی میں جو معاہدہ ہوا ، جسے نہرو۔ لیاقت معاہدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، ایک ایسی دستاویز ہے ، جس پر تب سے آج تک دونوں ممالک میںایمانداری سے نافذکیا جاتا تو نفرت کی سیاست کرنے والے سیاسی سوداگروں کی سرحد کے دونوں جانب دکانیںبند ہو سکتی تھیں ۔

    کیا ہے نہرو۔ لیاقت معاہدہ ؟
    اقلیتوں کی حفاظت اور حقوق کے متعلق حکومت ہند ا ور حکومت پاکستان کے درمیان نئی دہلی میں مورخہ ۸ ؍ اپریل ۱۹۵۰ ء کو جو معاہدہ عمل میں آیا ، اسے ( وزارت خارجہ کی دستاویز کے مطابق) نہرو ۔ لیاقت ایگریمنٹ کہا جاتا ہے ۔ اس معاہدہ کی تفصیلات حسب ذیل ہیں ؛

    ( الف) : حکومت ہند اور حکومت پاکستان سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر اتفاق کرتی ہیںکہ وہ اس بات کو یقینی بنائیںگی کہ ؛
    (۱) ان کی مملکت میں اقلیتوں کو ان کے مذاہب سے قطع نظر شہری کے یکساں حقوق حاصل رہیںگے ۔
    (۲)ان اقلیتوں کی جان ، مال ، جائیداد ، ثقافت ، ذاتی وقار ، کی حفاظت و سلامتی ، کے ساتھ پورے ملک میں نقل و حرکت کی آزادی ، پیشہ و روزگار کی آزادی ، تحریر و تقریر کی آزادی ، عبادت کی آزادی کی گیارنٹی دی جائے گی بشرط ان سے اخلاق و قانون کی خلاف ورزی نہ ہو ۔
    (۳)اقلیتی فرقوں کے ممبران کو بھی ملک کے دیگر اکثریتی طبقات کے ساتھ امورمملکت میں شمولیت کے مساوی مواقع فراہم ہونگے ، وہ سیاسی عہدہ سنبھال سکیں گے ، سول اور آرمڈ فورسز میں بھرتی ہوکر ملک کی خدمت کر سکیںگے ۔
    (۴)دونوں ہی حکومتیں یہ اعلان کرتی ہیں کہ اقلیتوں کے یہ حقوق بنیادی حقوق میں شامل ہیں اور ان کے موثر نفاذ کا عہد کرتی ہیں۔
    وزیر اعظم ہند نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ دستور ہند میں یہ اقلیتی تحفظات کی دفعات پہلے ہی سے شامل ہیں، اور اقلیتوں کے حقوق کی دستور ہند میں گیارنٹی دی گئی ہے ۔وزیر اعظم پاکستان نے بتایا کہ اسی طرح کی تجاویز پاکستانی دستور ساز اسمبلی کیلئے آبجیکٹیوز ریزولوشن میںبھی منظور کی گئی ہیں۔
    دونوں حکومتوں کی یہ پالیسی ہے کہ ان جمہوری حقوق سےمستفیض ہونے کا موقعہ بلا کسی امتیاز تمام شہریوں کو یقینی طورپر ملنا چاہئے ۔
    (۵) دونوں حکومتوں کی خواہش ہے کہ وہ اس بات پر زور دیں کہ اقلیتی طبقات کی وفاداریاں ان ممالک کے ساتھ ہی ہوں گی جن کے وہ شہری ہیں ، اور انہیں اپنی شکایات کے حل کیلئے اپنے ہی ممالک کی حکومتوں کی طرف دیکھنا ہوگا ۔
    (ب ): مشرقی بنگال ، مغربی بنگال ، آسام ، تریپورہ کے مہاجرین کے بارے میں جہاں حال ہی میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے ،دونوں ممالک کی حکومتیں اس بات پر اتفاق کرتی ہیں کہ :
    (۱) ٹرانزٹ ، گذرنے کے دوران مکمل سیکوریٹی اور نقل و حرکت کی آزادی فراہم کی جانی چاہئے ۔
    (۲) مہاجرین کو یہ آزادی ملنی چاہئے کہ جس قدر اپنا مال و اسباب نکال سکیں، نکال لیں ۔منقولہ جائیداد میں ذاتی زیورات بھی شامل ہوں گے۔زیادہ سے زیادہ نقد رقم فی بالغ مہاجر دیڑھ سو روپئے اور فی نابالغ مہاجر پچھتر روپئے رکھنے کی اجازت ہوگی ۔
    (۳) اگرکوئی مہاجر یہ نقدی اور زیورات خود نہیں لے جانا چاہتا ہے تو اسے بنک میں جمع کرسکتا ہے ۔
    (۴)کسٹم حکام انہیں پریشان نہیںکریں گے ۔اس کی گیارنٹی کیلئے کسٹم چوکیوں پر دوسرے ملک کے افسر بطور رابطہ کار تعینات رہیںگے ۔
    (۵)مہاجرین کی غیر منقولہ جائیداد میںمالکانہ حقوق اور کرایہ دارانہ حقوق کی بھی حفاظت ہوگی ۔اگر اس کی غیر حاضری میںکوئی اس کی جائیداد پر قبضہ کرلے تو یہ جائیداد واپس دلائی جائے گی بشرطیکہ مہاجر۳۱ ؍ دسمبر ۱۹۵۰ ء سے پہلے واپس آجائے ۔اگر مہاجر زرعی زمین کا مالک یا کرایہ دار ہے تو اس کی بھی جائیداد اس تاریخ تک واپس آجانے پر اسے دلوائی جائے گی ۔

    کسی غیر معمالی کیس میں اگر حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کسی مہاجر کو اس کی جائیداد واپس نہیںکی جائے گی تو پھر یہ معاملہ مشورہ کیلئے متعلقہ اقلیتی کمیشن کے سپرد کیا جانا چاہئے ۔اگر مقرر تاریخ تک لوٹ آنے والے کسی مہاجر کی جائیداد لوٹانا ممکن نہ ہو تو پھر حکومت اس کی آبادکاری کرے گی ۔

    اس معاہدے کے باب سوم میں دونوں ممالک کے وزرا ء اعظم نےاس بات پر اتفاق کیا کہ مشرقی بنگال ، مغربی بنگال ، آسام ، تریپورہ کے حالات سدھارنے اور معمول پر لانے کیلئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے ۔مجرمانہ جرائم میں شامل افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی ۔جہاں جہاں ضروری ہو وہاںخصوصی عدالتیں بھی قائم کی جائیں۔لوٹی ہوئی املاک و جائیداد ہر ممکن واپس لی جائیں ۔مغویہ عورتوں کو برآمد کرنے کیلئے فوری طور پر ایسی ایجنسی قائم کی جائیں جن میں اقلیتی نمائیندے بھی ہوں ۔جبری تبدیلیٔ مذہب کو قبول نہیں کیا جائے ۔اور ایسی حرکتوں میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے ۔

    فسادات کی انکوئری کیلئے ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں کمیشن آف انکوائری قائم کیا جائے ۔اور اقلیت کے بھی ایسے افراد اس میں شامل ہوں جن سے انہیںحوصلہ ملے ۔ یہ کمیشن آئیندہ ہنگاموں کو کیسے روکا جائے اس کی بھی سفارشات پیش کرے ۔

    افواہیں اور غلط خبر پھیلانے والے افراد اور اداروں پر سخت نگرانی کی جائے اور ان پر ایکشن لیا جائے ۔اپنے ملک میں پڑوسی ملک کے خلاف جارحانہ پروپگنڈہ کی اجازت نہیں دی جائے ، یا دونوں کے در میان جنگ بھڑکانےیا ان کی جغرافیائی سلامتی کے خلاف پروپگنڈہ پر ایکشن لیاجائے ۔

    اس معاہدے کے ذریعہ ایسے بھی اقدا مات پر غور ہوا کہ دونوں ممالک کا ماحول نارمل بنایا جائے تاکہ مہاجرین کی اپنے اپنے وطن واپسی ممکن ہوسکے ۔اس کیلئے دونوں ممالک کے ایک ایک وزیر کو متاثرہ حلقوں میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔مشرقی بنگال اور مغربی بنگال کی کابینہ میں فوراًً اقلیتی طبقہ کے ایک ایک وزیر کو شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیاگیا ۔

    اس معاہدے کی تجاویزات پر عمل کیلئے مشرقی بنگال ، مغربی بنگال اور آسام میں ایک ایک اقلیتی کمیشن قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔جس کا چئیرمین ایک صوبائی وزیر اور اراکین میںاقلیتی فرقہ کے افراد شامل ہوں ۔پاکستان اور بھارت کے دو وزیر کمیشن کی کارروائیوں میں شریک رہیںگے ۔اقلیتی کمیشن ضلع سطح کے اقلیتی بورڈس سے رابطہ میں رہے گا اور اس معاہدہ پر عمل در آمد کا اقلیتی کمیشن جائزہ لے گا ۔

    اس طرح پنڈت جواہر لال نہرو اور لیاقت علی خان نے اقلیتی طبقات کو مین اسٹریم میں شامل کرنے اورحالات کو نارمل کرنے کی کوشش کی ، وہ تاریخ کا اہم حصہ ہے ۔

  • نہرو نے  تقسیم کی لکیر وزیراعظم  بننے کے لیے کھینچی تھی، مودی کی پارلمینٹ میں دھواں دھار تقریر

    نہرو نے تقسیم کی لکیر وزیراعظم بننے کے لیے کھینچی تھی، مودی کی پارلمینٹ میں دھواں دھار تقریر

    نہرو نے تقسیم کی لکیر وزیراعظم بننے کے لیے کھینچی تھی، مودی کی پارلمینٹ میں دھواں دھار تقریر

    باغی ٹی وی رپورٹ :مودی نے سابق وزیر اعظم بھارت جواہر لعل نہرو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگرس کو جواب دیاہے .متنازعہ شہریت قانون کے سلسلے میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ، وزیر اعظم نریندر مودی نے جواہر لال نہرو ، تقسیم ، 1975 کے ہنگامی حالات اور 1984 کے سکھ فسادات کے حوالہ دیتے ہوئے کانگریس پر تابڑ توڑ حملے کیے ہیں.
    بھارتی وزیر اعظم مودی نے جواب دیتے ہوئے کہا ، "کسی کے ہندوستان کے وزیر اعظم بننے کی خواہش کے لئے ، نقشے پر ایک لکیر کھینچی گئی تھی اور ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ تقسیم کے بعد ، جس طرح سے ہندوؤں ، سکھوں اور دیگر اقلیتوں پر ظلم کیا گیا تھا وہ ناقابل تصور ہے۔

    کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

    کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

    وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

    کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

    مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

    مودی نے کہا کہ 1950 میں نہرو لیاقت علی معاہدہ پر دستخط ہوئے ، اس میں کہا گیا ہے کہ پاک میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ نہرو جیسا ایک بڑا سیکولر شخص ، ایک بڑا وژن۔ اور آپ کے لئے سب کچھ ، اس نے اقلیتوں کو نہیں تمام شہریوں کو کیوں استعمال نہیں کیا؟ کوئی وجہ ضرور رہی ہوگی۔تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے مابین اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی. نہرو نے اقلیتوں کو کیوں استعمال کیا؟ انہوں نے بھی اس کا جواب دیا ، اور میں جانتا ہوں کہ جب بھی ضرورت پیش آتی ہے تو آپ بھی ان کو ترک کردیں گے۔ نہرو نے آسام کے وزیر اعلی کو خط لکھا تھا اور میں نے حوالہ دیا تھا – ‘آپ کو ہندو میں فرق کرنا پڑے گا مہاجرین اور مسلمان تارکین وطن ‘ یہ بات نہرو نے آسام کے وزیر اعلی کو لکھی تھی۔ اس پارلیمنٹ میں نہرو نے 1950 میں کہا تھا کہ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ متاثرہ لوگ جو ہندوستان میں آباد ہونے کے لئے آئے ہیں وہ شہریت کے مستحق ہیں اور اگر وہ قانون نہیں رکھتے ہیں ‘۔ پھر مناسب ہے کہ اس میں ترمیم کی جانی چاہئے ‘۔ 1953 میں ، لوک سبھا میں ، نہرو نے کہا ،’ مشرقی پاکستان میں ، حکام ہندوؤں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ یہاں دستاویزات اور رپورٹیں موجود ہیں ، ایسے قانون کی بات کرتےہوئے اگر نہر و فرقہ واریت کے حامی نہیں‌ہیں‌تو مجھے تنقید کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے، کیا نہرو فرقہ وارانہ تھے؟ میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ سب کیوں‌کیا جا رہا ہے؟

  • پنجاب حکومت کاچھوٹی صنعتوں اور دستکاری کے فروغ کے لئے آسان شرائط پرقرضہ اسکیم کا آغاز

    پنجاب حکومت کاچھوٹی صنعتوں اور دستکاری کے فروغ کے لئے آسان شرائط پرقرضہ اسکیم کا آغاز

    پنجاب حکومت کاچھوٹی صنعتوں اور دستکاری کے فروغ کے لئے آسان شرائط پرقرضہ اسکیم کا آغاز

    باغی ٹی وی :ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے قرضہ اسکیم کے لئے 30 کروڑ روپے مختص کئے ہیں، چھوٹے صنعت کاروں کو 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے تک قرضہ دیا جائے گا.بتایا گیا ہے کہ قرضہ اسکیم ابتدائی طور پر پنجاب کے 12 اضلاع میں شروع کی جارہی ہے جس کا افتتاح وزیر صنعت وتجارت اسلم اقبال کریں گے۔

    قرضہ اسکیم کے لئے ووڈن کرافٹ، قالین بانی، کھلونے، فرنیچر، کھسہ سازی و جفت سازی، کشیدہ کاری، بلوچی کرافٹ، ہینڈ لوم اور بلیو پاٹری صنعت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ قرضہ اسکیم میں ووڈکلرونگ، سالٹ کرافٹ، بلیک سٹون اور آرٹ کے شعبے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ قرضے کی گھر بیٹھے معلومات اور درخواست کے عمل کے لئے موبائل اپلیکیشن دستکار بھی لانچ کی جائے گی، قرضہ کی فراہمی اور واپسی بھی موبائل ایپ کے ذریعے کی جاسکے گی۔

    واضح‌رہے کہ پاکستانی کی بہترمعاشی صورت حال پرجائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں پر رپورٹ جاری کردی، موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم ہے اور یہ آؤٹ لک آئندہ 18 ماہ تک مستحکم رہے گا۔ ڈپازٹس اور حکومتی قرض گیری مستحکم آؤٹ لک کا سبب ہے۔

  • شک مارگیا،اجاڑگیا :خانہ بدوش شوہر نے بیوی کا سر مونڈ دیا، ملزم گرفتار

    شک مارگیا،اجاڑگیا :خانہ بدوش شوہر نے بیوی کا سر مونڈ دیا، ملزم گرفتار

    کبیروالا: شک مارگیا،اجاڑگیا :خانہ بدوش شوہر نے بیوی کا سر مونڈ دیا، ملزم گرفتار،اطلاعات کےمطابق پنجاب کے ضلع خانیوال کے شہر کبیروالا میں افسوس ناک واقعہ پیش آیا، خانہ بدوش شوہر نے بیوی کے سر کے بال کاٹ کر اسے گنجی کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق کبیر والا میں خانہ بدوش گل شیر نے بیوی پر تشدد کر کے اس کے سر کے بال کاٹ دیے، گل شیر نے اپنی بیوی زبیدہ کو شک کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، شوہر کے تشدد سے خاتون کے چہرے، بازو اور کمر پر زخم آئے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ شوہر نے اسے مارا پیٹا اور قینچی سے سر کے بال کاٹ دیے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ خانہ بدوش گل شیر نے دوسری شادی کی ہے، گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اس نے بیوی پر تشدد کیا اور اس کا سر مونڈ دیا۔ ملزم کو موقع ہی پر گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ نیو سبزی منڈی میں واقع جھگیوں میں اپنے گھر میں موجود تھی کہ شوہر نے آکر تشدد کیا، اس نے دوسری شادی کر رکھی ہے اور اب مجھ پر شک کرتا ہے کہ دیور کے ساتھ میرے ناجائز تعلقات ہیں، تشدد کے دوران میرے شور مچانے پر مجھے شوہر کے چنگل سے رشتے دار نے آکر بچایا۔

  • سٹاک مارکیت میں مثبت رجحان

    سٹاک مارکیت میں مثبت رجحان

    سٹاک مارکیت میں مثبت رجحان

    باغی ٹی وی :پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کے آغاز پر مثبت رجحان دیکھا گیا ہے۔

    جمعرات کے روز اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز 40 ہزار 884 کی سطح سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران 100 انڈیکس میں 170 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
    خیال رہے کہ اسٹاک مارکیٹ مسلسل تیز ہو رہی تھی اسی لیے پاکستان کی معاشی صورت حال عالمی جریدے کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو بہت مثبت قراردیا،بین الاقوامی جریدے بلومبرگ نے تیزی کے زبردست رجحان کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو نمبرون قراردے دیا، ماہ فروری میں ملک میں غیرملکی سرمایہ آئے گا.

  • پتہ نہیں اپوزیشن حقیقت کوتسلیم کیوں نہیں کررہی ، دنیا مان چکی پاکستان معاشی ترقی کی طرف بڑھ رہا ، موڈیزکادبنگ اعلان

    پتہ نہیں اپوزیشن حقیقت کوتسلیم کیوں نہیں کررہی ، دنیا مان چکی پاکستان معاشی ترقی کی طرف بڑھ رہا ، موڈیزکادبنگ اعلان

    اسلام آباد: پتہ نہیں اپوزیشن حقیقت کوتسلیم کیوں نہیں کررہی ، دنیا مان چکی پاکستان معاشی ترقی کی طرف بڑھ رہا ، موڈیزکادبنگ اعلان ،اطلاعات کےمطابق عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم ہے اور یہ آؤٹ لک آئندہ 18 ماہ تک مستحکم رہے گا، پاکستانی بینکوں میں موجود سرمائے کی صورتحال بھی بہتر ہے۔

    پاکستانی کی بہترمعاشی صورت حال پرجائزہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستانی بینکوں پر رپورٹ جاری کردی، موڈیز کا کہنا ہے کہ پاکستانی بینکوں کا آؤٹ لک مستحکم ہے اور یہ آؤٹ لک آئندہ 18 ماہ تک مستحکم رہے گا۔ ڈپازٹس اور حکومتی قرض گیری مستحکم آؤٹ لک کا سبب ہے۔

    عالمی مالیاتی امورکا جائزہ لینے والاعالمی ادارے موڈیز کے مطابق پاکستانی بینکوں کی ڈپازٹس اور لکویڈٹی کی صورتحال بہتر ہے، بینکوں نے بڑی مقدار میں حکومتی بانڈز میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ بینکوں کا منافع بہتری کے باوجود تاریخی سطح سے کم رہے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی بینکوں میں آپریٹنگ کنڈیشنز بہتر ہو رہی ہیں، پاکستانی بینکوں میں موجود سرمائے کی صورتحال بھی بہتر ہے۔

    موڈیز کے مطابق ریاست کے قرض لینے کی صلاحیت بہتر ہونے کا فائدہ بینکوں کو ہوا ہے، معاشی نمو کم ہونے کے باوجود شرح سود کئی سالوں تک کم نہ ہونے کے مارکیٹ اندازے ہیں۔ معاشی سرگرمیاں ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور بجلی کے سبب بہتر رہیں گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے تجارتی ٹرمز بہتر ہوں گے، مشکلات ہیں البتہ بینکوں کا کاروبار بہتر ہو رہا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرتے ہوئے آؤٹ لک کو منفی سے مستحکم کیا تھا، موڈیزنے پاکستان کی ریٹنگ بی 3 پر برقرار رکھی ہے تاہم پہلے مستقبل یعنی آؤٹ لک منفی تھا۔

    موڈیز کا کہنا تھا کہ اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی کم ہیں اور انہیں بہتر ہونے میں وقت لگے گا مگر پالیسی ایڈجسٹمنٹ اور آزادانہ شرح مبادلہ سے ادائیگیوں کے توازن کی بہتری میں مدد ملے گی۔

  • روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے مستحکم

    روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے مستحکم

    روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے مستحکم

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے چوتھے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

    ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر آج 154.60 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جو کہ گزشتہ روز بھی اسی قیمت پر دستیاب تھا۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.40 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

    کچھ روز قبل ڈالر کی قیمت میں 30 روپے کمی ہوئی تھی جس کے بعد سے ڈالر کی قیمت برقرار ہے اور روپیہ مستحکم ہوا ہے۔اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر آج 154.60 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

    اسی طرح انٹر بینک میں ڈالر 154.55 روپے میں فروخت ہوا۔ جمعے کے روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 30 پیسے کی واضح کمی ہوئی تھی۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔

  • یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منایا گیا



    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی )پاکستان بھر کی طرح ضلع شیخوپورہ میں بھی کشمیر ڈے کے سلسلہ میں کشمیری بہن بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے حوالے سے سمینار اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔یوم کشمیر کے سلسلہ میں سب سے بڑی تقریب کا انعقاد تحصیل کونسل ہال کمپنی باغ میں کیا گیا جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیربرائےڈیزاسٹرمنجمنٹ میاں خالد محمود اور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محترمہ سدرہ یونس تھے۔اس موقع پر ممبر صوبائی اسمبلی میاں جلیل شرقپوری،راہنما پی ٹی آئی رانا وحید،کنور عمران سعید، ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو رانا شکیل اسلم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)واصف بشیر کھوکھر ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) مظہر اقبال،اسسٹنٹ کمشنر شیخوپورہ شبیر حسین بٹ،جاوید چوہان، سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر صدیق سی ای او ایجوکیشن مسعود اختر صدر شیخوپورہ بار کونسل زاہد سعید سمیت تمام اداروں کے افسران و ملازمین کے علاوہ طلباءاور عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔سمینار کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر میاں خالد محمود نے کہا کہ کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہےاور بھارت کا جنونی رویہ خطے کے امن کے لیےبڑاخطرہ ہے انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی بہترین سفارتکاری کی بدولت کشمیر ایک بین الاقوامی ایشو بن گیا ہے وزیر اعظم پاکستان نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز سے اٹھایا ہے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں رواں صدی کا بدترین المیہ رونما ہونے کا خدشہ ہے پچھلے 6ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک ادویات اور دیگرضروریات کی شدید کمی ہے انہوں نے کہا کہ مودی کو اپنا قبلہ درست کرکے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے نہیں تو پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑے گی اور وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ ہوگاانہوں نے مزید کہا کہ آج ہماری بیٹیاں بھی کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں اجتجاج کررہی ہیں اس موقع پر میاں جلیل احمد شرقپوری نے کہا کہ بھارت کشمیرپر زبردستی تسلط قائم نہیں رکھ سکتاپاکستان ہر فورم پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینا جائے بھارت کرفیو ختم کرکے بے گناہ قید شہریوں کو رہا کرے اور مواصلاتی پابندیوں کو فی الفور ختم کرے سمینار کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محترمہ سدرہ یونس نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر کسی بھی حد تک جائیں گے مودی نے ہندو ذہنیت کے ساتھ مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے عالمی برادری مودی کے اس اقدام پر نوٹس لے پاکستان کے 22کروڑعوام نے کشمیری بھائیوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے پیش کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ مشکل کی گھڑی میں پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے مودی کی ہٹ دھرمی خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستانی قوم ہر طرح سے کشمیریوں کے ساتھ ہے اور کسی بھی صورت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔آخر میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ریلی کا انعقاد کیا گیا جو کہ تحصیل کونسل ہال سے شروع ہوکر جناح پارک پر اختتام پزیر ہوئی ریلی کے شرکانےکشمیر میں بھارتی مظالم اور بربریت کے خلاف پلے کاڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مودی حکومت مردہ باد اور بھارتی فوج مردہ باد کے نعرے درج تھے ریلی کے شرکاُنے بھارت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ریلی کے اختتام پر ملک کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعا بھی کی گئی اور لاہور پولی ٹکنیکل انسٹیٹوٹ کے طلباُ نے علامتی زنجیر بھی بنائی۔

  • گوجرانوالہ روڈ پر حادثہ

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) تیز رفتار ٹیوٹا وین ٹرک کے ساتھ ٹکرا گئی-
    تفصیل کے مطابق سادہوکی گوجرانوالہ روڑ پر تیز رفتار وین ٹرک کے ساتھ ٹکرا گئی-
    اس حادثے میں 4 افراد زخمی ہو گئے-
    ریسکیو 1122 شیخوپورہ نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں کو طبی امداد دینے کے بعد تحصیل ہیڈ کورٹر ہسپتال مریدکے منتقل کر دیا-