Baaghi TV

Author: +9251

  • پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں  سرچ آپریشن 

    پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں سرچ آپریشن 

    مقبوضہ کشمیر:پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج کے سخت سردی کی تاریک راتوں میں سرچ آپریشن ،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیرکے اضلاع پلوامہ اور بانڈی پورہ کے علاقے باغ میں فوج نے محاصرے اور سرچ آپریشن شروع کئے ہیں۔

    سری نگر سے آمدہ اطلاعات کےمطابق ہفتے کی شام جنوبی ضلع پلوامہ کے چندگام تہب علاقے میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوج کے 55 آر آر اور ایس او جی کی مشترکہ ٹیم نے چندگام تہب علاقے کی جانب جانے والے تمام راستوں کو سیل کر دیا اور تلاشی مہم شروع کر دی۔

    اس سے قبل مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں جمعے کو فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر جنرل بس اسٹینڈ اور باغ بانڈی پورہ میں سرچ آپریشن شروع کیا۔بانڈی پورہ کے جنرل بس اسٹینڈ اور باغ بانڈی پورہ کو فوج نے اس وقت محاصرے میں لیا جب فوج کو علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خبر ملی جس کے بعد بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی گئی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق جمعے کی رات تک عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔کشمیر کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر نگروٹہ کے مقام پر پر جمعہ کی صبح سیکورٹی فورسز نے فائرنگ میں تین نوجوانوں کو شہید کردیا جبکہ جموں وکشمیر پولیس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا- 

    اس سے قبل جمعرات کو شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے بمہامہ میں سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران ایک نوجوان فیاض احمد میر ولد ثنا ء اللہ میر کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق فیاض حزب المجاہدین کا ایک سرگرم کارکن ہے۔ 

    مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ ، کپواڑہ اور بڈگام میں بدھ سے جاری ایک آپریشن کے دوران بھارتی فوجیوں نے شہریوں کو تشدد اور مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔
    بدھ کی شام پلوامہ کے علاقے اَرِیہال،کریم آباداورچنڈھارہ اور شمالی ضلع کپواڑہ کے علاقے کرہامہ، لال پورہ،مُقم لولاب میں سکیورٹی فورسز نے تلاشی مہم شروع کی۔جو کہ جمعرات کے روز رات کو ختم ہوئی۔

    ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ذرائع نے کہا کہ راشٹریہ رائفلز، جموں و کشمیر کے اسپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کے جوانوں نے خفیہ اطلاع کے بعد بڈگام کے آراپورا، چاڈُورا میں مشترکہ مہم شروع کی۔

  • قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں—از– انشال راؤ

    تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو نظر آتا ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی روئے زمین پہ بسنے والی قومیں کسی نہ کسی صورت تفاخر کے مرض میں مبتلا رہی ہیں، کوئی نسل یا قومیت کے فخر تو کوئی رنگ یا زبان کی وجہ سے خود کو دوسروں سے الگ سمجھتے، دین اسلام قومیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن شناخت کے لیے جس کا ذکر رب کریم نے سورہ حجرات میں کیا کہ ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو”

    لیکن افسوس کہ ہم نے قومیت کا غلط استعمال کیا اور اس نظریہ فاسد نے قوموں کو تقسیم کرکے نفرتوں میں مبتلا کردیا، پیر اکرم شاہ الازہری لکھتے ہیں کہ "اس شر انگیز نظریہ نے جنگ و جدل کا لامتناہی سلسلہ جاری رکھا، یہ صرف زمانہ قدیم تک محدود نہیں بلکہ آج بھی اس کے ہاتھوں انسانیت کی قبا تار تار ہے قوم پرستی، رنگ، نسل اور زبان کے بتوں کی پوجا آج بھی اسی زور سے جاری ہے”

    اگرچہ آج دنیا ایک گلوبل ولیج کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس بت نے سماج کو دو حصوں میں بانٹ رکھا ہے، سب سے پہلے اس بت کو رسول خدا حضرت محمدؐ نے توڑا اور انسانیت کا درس دیا، حضور اقدسؐ نے تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اور مسلمانوں کو ایک ملت بنایا اور اسی نظریہ کی بنیاد پہ ریاست پاکستان کا وجود روئے ارضی پہ قائم ہوا لیکن افسوس کہ جلد ہی ہم نے اپنی اصلیت اپنی اساس کو بھلا کر رنگ، نسل، زبان کے بتوں کی پوجا شروع کردی جس کی وجہ سے ملک و ملّت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا،

    پاکستان کی تاریخ لسانی قوم پرستی سے بھری پڑی ہے کبھی پشتون کے نام سے تو کبھی بلوچ، کبھی سندھی تو کبھی مہاجر اور بنگالی کے نام پہ تحریکوں نے جنم لیا اور تاریخ شاہد ہے کہ جتنا نقصان ملک و ملّت کو نسلی و لسانی نعروں کی وجہ سے پہنچا شاید ہی کسی اور چیز نے پہنچایا ہو، یہ نسلی و لسانی تفریق ہی تھی جس کی وجہ سے سانحہ مشرقی پاکستان جیسا عظیم حادثہ پیش آیا لیکن اس کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا، ہم لسانیت کی لعنت میں اس قدر غرق ہوچکے ہیں تمام تر اخلاقی اقدار بھی کھوچکے ہیں

    یہ حقیقت ہمارے روز مرہ مشاہدے میں ہے کہ ہم قاتلوں اور بدعنوانوں کی حمایت میں بھی اس بنیاد پہ کھڑے ہوجاتے ہیں کہ وہ ہماری زبان یا علاقے یا قبیلے کے ہیں، اس سے بڑھ کر پستی کیا ہوگی کہ لسانی بنیاد پہ ہم مظلوم کے مقابلے میں ظالم اور حق کے مقابلے میں باطل کا ساتھ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے، مشرقی پاکستان میں لسانی نعروں کے بعد ایسی نفرت نے جنم لیا کہ بھائی نے بھائی کا گلا کاٹا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کی صورت ہم سے الگ ہوگیا جس پر اندرا گاندھی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوے کہا جس کا مفہوم یہ ہے کہ "مسلمان ایک قوم ہیں اس نظریہ کو آج ہم نے سمندر میں غرق کردیا ہے”

    اس کے باوجود ہم نے سبق نہ لیا اور اس کے بعد سندھ میں ایک طرف تو سندھو دیش تحریک اٹھ کھڑی ہوئی تو ساتھ ہی اس کے مقابل مہاجر قومی موومنٹ کے نام پر مہاجر تحریک نے شہری سندھ میں پنجے گاڑ لیے جس کے بعد سندھ ایک عرصے تک جلتا رہا، بات حقوق کی کی جاتی رہی لیکن پس پردہ مقاصد کچھ اور ہی نکلے، MQM تیس سال اقتدار میں رہی لیکن آج بھی ان کا رونا وہی ہے کہ مہاجروں کے حقوق جبکہ جئے سندھ کی آڑ میں سندھیوں کے حقوق کی بات کرنے والوں کے خود کے تو محلات بن گئے

    بچے یورپ و امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں بہت سے وہیں سیٹل ہیں لیکن عام سندھی و عام مہاجر کی حالت "ہنوز روز اول است” کے مصداق ویسی ہی ہے جیسی ان تحریکوں کے قیام کے پہلے روز تھی اور اگر کچھ حاصل رہا تو وہ بےمعنی و بےمقصد کی نفرت کے سوا کچھ نہیں، اس کے علاوہ بلوچستان میں پانچ بار بلوچ نیشنلزم کے نام پر شورش نے جنم لیا بہت سے گھر اجڑ گئے، اول تو بلوچستان تقریباً ہی نظرانداز رہا لیکن اگر حکومت یا افواج پاکستان نے ڈویلپمنٹ کرنی شروع کی تو بلوچ حقوق و ڈویلپمنٹ کے علمبرداروں کو برداشت نہ ہوا اور ہر ممکن کوشش کی گئی کہ کوئی منصوبہ بلوچستان میں کامیاب نہ ہو لیکن افواج پاکستان نے قربانیاں دیکر بہت سی مشکلات جھیل کر بلوچستان میں نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بہت سے منصوبے بھی کامیابی سے جاری ہیں،

    پاکستان جب قائم ہوا تو ہندوتوا دہشتگردوں اور صہیونیت کے پیروکاروں کو دلی صدمہ ہو لیکن افسوس کہ ان کے علاوہ افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف پاکستان کو تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی ممبرشپ کے خلاف درخواست بھی جمع کروائی، اس کے علاوہ اوائل میں ہی پشتونستان کے نام پر علیحدگی کی تحریک کو ابھارا اور پاکستان میں خوب دراندازی کی، داود خان کی قیادت میں افغانستان نے نہ صرف کراس بارڈر ٹیررزم کو پروموٹ کیا بلکہ بلوچ و پشتون علیحدگی پسندوں کی کھل کر سرپرستی بھی کی جس کے جواب میں ذوالفقار بھٹو نے افغانستان کے خلاف سخت رویہ رکھتے ہوے جلد ہی اسے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور کردیا

    جسکے بعد سے ایک لمبے عرصے تک اس جانب سے پاکستان میں سکون رہا لیکن طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد ایک بار پھر افغانستان پاکستان مخالف سازشوں کا گڑھ بن کر سامنے آیا اور جب تمام تر سازشوں کو افواج پاکستان نے ناکام بنادیا تو PTM کے نام سے پشتونستان تحریک کے گڑھے مردے میں جان ڈال دی، جس طرح نقیب اللہ محسود کی شہادت کی آڑ میں ڈرامائی انداز میں PTM کو وجود حاصل ہوا اور جس پیمانے پر منظور پشتین کی عالمی و ملک کے مخصوص میڈیا نے تشہیر کی وہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پولیس مقابلے تو پاکستان میں ہزاروں ہوے لیکن کبھی ان میڈیا پرسنز کو کسی پشتون یا غیرپشتون سے اتنی ہمدردی نہیں ہوئی جبکہ شہید نقیب اللہ ہوا لیکن مخصوص میڈیا تشہیر منظور پشتین اور PTM کی کرتا رہا، PTM کا نعرہ ہے

    پشتون حقوق کا لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ آخر پشتونوں کے ساتھ ملک میں کونسی ناانصافی ہے شروع سے ہی ملکی اقتدار کے بڑے حصے پر پشتون قابض رہے آج بھی ہیں، بنگلہ دیش سے آنے والے بنگالیوں کو چالیس سے پچاس سال بعد بھی تارکین وطن کہا گیا لیکن بہت سے افغان پاکستان کے شہری بھی بن گئے اور یہاں بڑی بڑی جائیدادوں کے مالک بھی ہوگئے، خیبرپختونخواہ میں پنجابی بلوچ یا سندھی سیٹل نہیں ہوسکتے لیکن اس کے باوجود تینوں صوبوں کی مارکیٹوں پر پشتون تاجران غالب ہیں اور کسی نے ان سے نفرت کا اظہار نہیں کیا،

    سرکاری ملازمتیں ہوں یا کوئی بھی اسکیم اس میں بڑا حصہ پشتونوں پر مشتمل ہے لیکن اس کے باوجود جھوٹا نعرہ لگایا جارہا ہے کہ پشتونوں کو حقوق حاصل نہیں جوکہ پشتونوں کے ساتھ ہی دھوکہ فریب کیا جارہا ہے کیونکہ ایک بار اگر اس سازش کو زرا بھی کامیابی مل گئی تو اس میں نقصان جتنا محب وطن پشتونوں کا ہوگا اتنا کسی اور کا نہیں ہوگا، افغانستان نہ کل پشتونوں کا ہمدرد تھا نہ آج ہے، کل بھی لر او بر افغان کا نعرہ لگانے والوں نے افغانستان کی سرزمین پر غریب پشتونوں کے ساتھ ظلم کیا آج بھی جاری ہے،

    زرا سوچئے اگر افغانستان میں پشتونوں کو حقوق حاصل ہوتے تو وہ ترک وطن کرکے پاکستان آنے پہ مجبور کیوں ہوتے اور پاکستان و پاکستانیوں کا جگر بھی دیکھیں کہ سالوں سے افغان تارکین وطن کو بھائی سمجھ کر بوجھ برداشت کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود افغان نیشنلز پاکستان میں مختلف جرائم پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ہزاروں افغان پشتون بن کر پاکستانی شہریت حاصل کرکے پاکستانی پشتونوں کے حق پہ ڈاکہ ڈالے ہوے ہیں بہت سے افغان چند سیاسی مافیاوں کی سرپرستی حاصل کرکے سرکاری ملازمتوں پر براجمان ہیں،

    بہت سی مراعات لے رہے ہیں، بہت سی اسکیموں سے مستفید ہورہے ہیں جس سے متاثر ہونے والے ہمارے پاکستانی پشتون ہیں لیکن اس کے باوجود کبھی کسی طرف سے افغان بھائیوں سے نفرت کا اظہار نہیں کیا گیا مگر افسوس ہے کہ اس کے باوجود نعرہ لگایا جارہا ہے "لر او بر افغان” جس کی آڑ میں ایک بار پھر پشتونوں کو ایک نئی جنگ میں جھونکنا ہے،

    برطانیہ امریکہ و دیگر یورپی ممالک میں بیٹھے افغان حضرات آج پشتونوں کے زبردستی کے ہمدرد بنے ہوے ہیں کیا کبھی انہوں نے کسی پشتون کی خیر خبر بھی لی ہے اور آج خوامخواہ کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں، اس صورتحال میں ہمیں من حیث القوم ایسی نفرت انگیز سیاست و سازش کا گلا گھونٹ دینا چاہئے تاکہ ملک و ملّت یک جائی، اخوّت و محبت سے ترقی کی شاہراہ پہ قدم مستحکم کرنے میں کامیاب ہوسکے۔

    آرزوئے سحر
    تحریر: انشال راؤ
    عنوان: قوم پرستی کا بت ایک بار پھر PTM کی شکل میں

  • سرگودھا: پولیس سول سوسائٹی ودیگر اداروں کے ساتھ ملکرکینسر سے آگاہی اوراس کے شکار مریضوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش ہے۔

    سرگودھا: پولیس سول سوسائٹی ودیگر اداروں کے ساتھ ملکرکینسر سے آگاہی اوراس کے شکار مریضوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش ہے۔

    سرگودھا: پولیس سول سوسائٹی ودیگر اداروں کے ساتھ ملکرکینسر سے آگاہی اوراس کے شکار مریضوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش ہے۔ڈی پی او عمارہ اطہر
    سرگودھا: پولیس سول سوسائٹی ودیگر اداروں کے ساتھ ملکرکینسر سے آگاہی اوراس کے شکار مریضوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں پیش پیش ہے۔ سرگودھا پولیس کینسر کے عالمی دن کے موقع پر کینسر کے مریضوں کیلئے خون کے عطیات دینے جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں 4فروری 2020بروز منگل ذکاء اللہ شہید پولیس لائنز سرگودھا میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ جس میں سرگودھا پولیس کے افسران وجوان کینسر کے مریضوں کے لئے خون کا عطیہ دیں گے۔ اس کیمپ کا مقصد کینسر کے مرض سے آگاہی جبکہ اس کے شکار مریضوں کیلئے خون کا بندوبست کرنا ہے۔

  • سرگودھا خوشاب روڈ پر تھانہ جھال چکیاں کے سامنے تیز رفتار مسافر بس نے موٹر سائیکل سوار چھبیس سالہ نوجوان کو بری طرح کچل دیا

    سرگودھا خوشاب روڈ پر تھانہ جھال چکیاں کے سامنے تیز رفتار مسافر بس نے موٹر سائیکل سوار چھبیس سالہ نوجوان کو بری طرح کچل دیا

    سرگودھا خوشاب روڈ پر تھانہ جھال چکیاں کے سامنے تیز رفتار مسافر بس نے موٹر سائیکل سوار چھبیس سالہ نوجوان کو بری طرح کچل دیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا متوفی میڈیکل کمپنی کا میڈیکل ریپ تھا جو سرگودھا سے جوہرآباد جا رہا تھا کے عقب سے آنے والی تیز رفتار مسافر بس نے اسے بری طرح رونددیا

  • بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا

    بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا

    سری نگر:بھارتی مظالم کا سلسلہ رک نہ سکا : بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا،اطلاعات کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے نئے سال کے پہلے مہینے میں 21 کشمیریوں کو شہید کیا ہے اورہزاروں کی تعداد میں کشمیریوں کوزخمی بھی کیا گیا ہے

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سال 2020 کے پہلے مہینے میں ہی بھارتی اہلکاوں کی مختلف کارروائیوں میں 21 کشمیری شہید ہوگئے جبکہ بھارتی اہلکاروں کے مختلف اقدام جیسے پیلٹ گن سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں 14 کشمیری بُری طرح زخمی ہوئے۔

    کشمیری میڈیا سروس کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مختلف کارروائیاں کرکے کشمیری شہریوں اور حریت رہنما سمیت 104 افراد کو گرفتار بھی کیا۔ گرفتار ہونے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد کشمیری نوجوانوں کی ہے۔علاوہ ازیں بھارتی اہلکاروں نے ایک مہینے کے دوران پانچ گھروں پر چھاپے مارے، سامان کو نقصان پہنچایا اور تین خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر کو جیل بنے 181 روز گزر گئے ہیں اور وادی میں قابض بھارتی حکومت کی پابندیاں برقرار ہیں۔سخت سردی میں کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ دواؤں کی قلت بھی ہوگئی ہے۔

    بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 ختم کر کے جموں و کشمیر اور لداخ کو زبردستی بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا تھا۔یکم نومبر 2019 سے بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور وہاں رہنے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔

    ادھر آج پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے اور آج بھی بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول(ایل اوسی) کے ستوال سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی جس کی زد میں آ کر امداد پور گاؤں کا 45سالہ رہائشی شدید زخمی ہو گیا۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی فوج نے جان بوجھ کر ایل او سی پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی 45 سالہ شخص کوقریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے بھرپور جواب سے بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں۔

    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سےلائن آف کنٹرول( ایل او سی) پر فائرنگ معمول بن چکا ہے جس کا مقصد مسئلہ کشمیر اور شہریت بل سے توجہ ہٹانا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کئی بار بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی باتیں بھی کر چکے ہیں۔

  • بھیرہ،شیر شاہی جامع مسجد بگویہ میں آج ایک روح پرور "تقریب آمین” کا زیر اہتمام مفتی

    بھیرہ،شیر شاہی جامع مسجد بگویہ میں آج ایک روح پرور "تقریب آمین” کا زیر اہتمام مفتی

    بھیرہ،شیر شاہی جامع مسجد بگویہ میں آج ایک روح پرور "تقریب آمین” کا زیر اہتمام مفتی شہرصاحبزادہ ابرار احمد بگوی انعقاد کیا گیا جس میں اقرار سکول اور جامع مسجد سے ملحق مدرسہ کے طلباء و طالبات انکے والدین اور اہلیان شہر کی کثیر تعداد نے شرکت کی ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ نے طلباء اور طالبات کو تکمیل حفظ قرآن مجید پراسناد دیں اور مستحق خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کیں

  • بھارتی فوج  کی ایل او سی ستوال سیکٹر پر فائرنگ،45سالہ رہائشی شدید زخمی ، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی توپیں خاموش

    بھارتی فوج کی ایل او سی ستوال سیکٹر پر فائرنگ،45سالہ رہائشی شدید زخمی ، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی توپیں خاموش

    راولپنڈی :بھارت کی ایل او سی ستوال سیکٹر پر فائرنگ،45سالہ رہائشی شدید زخمی،اطلاعات کےمطابق بھارتی فورسزکی لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کاسلسلہ بدستور جاری ہے، ستوال سیکٹر پر بھارتی فائرنگ سے ایک شہری شدید زخمی ہوگیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل اوسی پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں کیں اور ایل او سی پر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ستوال سیکٹر پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فورسز کی فائرنگ سے 45 سالہ مقامی شہری شدید زخمی ہوگیا، آئی ایس پی آر کے مطابق زخمی کو طبی امداد کے لئے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    گزشتہ ہفتے بھی بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول چڑی کوٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ سے ایک خاتون شدید زخمی ہو گئی تھی۔یاد رہے کہ گزشتہ سال 26 دسمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی کے سبب پاک فوج کے 2 جوان شہید جب کہ جوابی کارروائی میں پاک فوج نے 3 بھارتی فوجی مارے تھے۔

    خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت سے توجہ ہٹھانے کے لیے بھی بھارتی فوج ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کرتے ہیں۔ جبکہ عالمی دباؤ کے باوجود بھارت اپنے ناپاک عزائم سے باز نہ آیا۔انڈیا کی جانب سے رواں سال پانچ اگست کو اس کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم کر دی گئی تھی اور وہاں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ بھارت کی جانب سےلائن آف کنٹرول( ایل او سی) پر فائرنگ معمول بن چکا ہے جس کا مقصد مسئلہ کشمیر اور شہریت بل سے توجہ ہٹانا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کئی بار بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی باتیں بھی کر چکے ہیں۔

  • امریکہ کی یہود دوستی فلسطینیوں سے دشمنی ہے :فلسطین کا امریکہ سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان

    امریکہ کی یہود دوستی فلسطینیوں سے دشمنی ہے :فلسطین کا امریکہ سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان

    عزہ: امریکہ کی یہود دوستی فلسطینیوں سے دشمنی ہے،اطلاعات کےمطابق فلسطینی حکام نے ٹرمپ کے امن منصوبے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکہ سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمودعباس امریکہ کے امن منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارے امریکہ سے کوئی تعلقات نہیں ہیں۔فلسطینی صدرمحمود عباس کا کہنا تھا کہ امریکہ اب فلسطین کا ہمدرد یا دوست ملک نہیں رہا، اس لیے واشنگٹن سے تعلقات بالکل ختم کررہےہیں۔

    یاد رہے کہ 29 جنوری کوٹرمپ نے 80 صفحات پر مبنی مشرق وسطیٰ کا امن منصوبہ پیش کیا تھا، امریکی صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں دارالحکومت بھی فراہم کیا جائے گا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے سے فلسطین میں پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی، اگر سارے معاملات آسانی کے ساتھ طے ہوگئے تو 10 لاکھ فلسطینیوں کو ملازمت کے مواقع بھی مل سکیں گے۔

    ٹرمپ کی جانب سے منصوبے کا اعلان ہونے کے بعد سے اب تک ہزاروں فلسطینیوں نے سڑکوں پر ہیں اور انہوں نے اس پلان کو یکسر مسترد کر دیا۔ تین روز سے احتجاج کرنے والے مظاہرین مسلسل امریکہ اسرائیل دوست اور اسرائیل نا منظور کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ مظاہرین نے امریکہ کو باور کروایا کہ اُن کی سرزمین پر کوئی بھی ملک اپنی مرضی کی پالیسی مسلط نہیں کرسکتا۔

  • پھلروان : سرگودھا گجرات روڈ پر  سالم  انٹرچینج کے قریب کیڑی ڈبہ اور ڈمپر میں تصادم ، ریسکیو ذرائع

    پھلروان : سرگودھا گجرات روڈ پر سالم انٹرچینج کے قریب کیڑی ڈبہ اور ڈمپر میں تصادم ، ریسکیو ذرائع

    پھلروان : سرگودھا گجرات روڈ پر سالم انٹرچینج کے قریب کیڑی ڈبہ اور ڈمپر میں تصادم ، ریسکیو ذرائع

    پھلروان : حادثہ میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد زخمی ، ریسکیو ذرائع

    پھلروان : زخمی ابتدائی طبی امداد کیلئے رورل ہیلتھ سنٹر پھلروان منتقل ، ہسپتال ذرائع ۔

    پھلروان : زخمیوں میں 5 خواتین 4 بچے اور بزگ شامل ہیں

  • بھیرہ میونسپل کمیٹی بھیرہ میں قومی خوشحالی سروے سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    بھیرہ میونسپل کمیٹی بھیرہ میں قومی خوشحالی سروے سیمینار کا انعقاد کیا گیا

    بھیرہ میونسپل کمیٹی بھیرہ میں قومی خوشحالی سروے سیمینار کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات سنوارنے میں قومی خوشحالی سروے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ، اس مقصد کے لیے وزیر اعظم نے 216ارب روپیہ مختص کیا ہے ،اس سروے پر ملکی ترقی کا دار و مدار ہے ، ، ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم کے معاو ن خصوصی چودھری ندیم افضل چن ، پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج سید علی باقر نقوی و دیگر نے کیا،ندیم افضل چن نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک سے غربت ختم کر کے مستحق افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے ،یہ سروے تمام عمر چلے گا اور یہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جگہ لے گا،اس سے مستحق افراد کو خدمت کارڈ ، انصاف کارڈ ، صحت کارڈ اور دیگر سہولیات دی جائیں گی ، سید علی باقر نقوی و دیگر نے کہا کہ سروے ٹیموں کو درست معلومات فراہم کرنا ہمارا فرض ہے ،سروے غلط ہو گیا تو ا س سے بیرونی دنیا میں ملک کے وقار ہر حرف آئے گا ،سروے میں شامل ہونے کے لیے قومی شناختی کارڈ اور ب فارم ہونا لازمی ہے ۔