Baaghi TV

Author: +9251

  • سوال "گندم”جواب "چنا”پنجاب حکومت نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ مانگ رہی ہے،نوازشریف کی طرف سے خط جمع کروادیاگیا

    سوال "گندم”جواب "چنا”پنجاب حکومت نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ مانگ رہی ہے،نوازشریف کی طرف سے خط جمع کروادیاگیا

    لاہور: سوال "گندم”جواب "چنا”پنجاب حکومت نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ مانگ رہی ہے،نوازشریف کی طرف سے خط جمع کروادیاگیا،اطلاعات کےمطابق نوازشریف کےذاتی معالج نے پنجاب حکومت کےخط کے جواب دے دیا لیکن کوئی میڈیکل رپورٹ نہیں بھیجی

    تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نوازشریف کےمعالج ڈاکٹرعدنان نےپنجاب حکومت کےخط کاجواب دےدیا، ڈاکٹر عدنان کے خط میں نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس شامل نہیں،نوازشریف کوجلداسپتال میں داخل کرایا جائےگا،ان کےدل کاپروسیجرہوگاجو پیچیدہ ہے۔

    خط کا جواب کسی برطانوی اسپتال یا لا فرم کے بجائے شریف میڈیکل سٹی کے لیٹر ہیڈ پر تحریر کیا گیا، جو لاہور میں ہے لندن میں نہیں۔ڈاکٹر عدنان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محکمہ داخلہ پنجاب کولکھاگیا ٹوئٹ کیا ، جس میں کہاگیا ہے کہ نوازشریف کی صحت جانچنے کے لئے پہلےجمع کرائی گئی رپورٹس کافی ہیں۔

     

    ڈاکٹرعدنان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی رائل برومٹن اسپتال کی رپورٹس جمع کرائی جاچکی ہیں،ان کے پلیٹ لیٹس کاؤنٹ، گائزاینڈ سینٹ تھامس اسپتال کے ہیماٹولوجسٹس دیکھ رہے ہیں، ان کو جلد اسپتال میں داخل کرایا جائے گا۔ڈاکٹر عدنان کہتے ہیں‌ کہ نوازشریف کا اسپتال میں داخلے کا انحصار ہیماٹولوجسٹ اور نیفرولوجسٹ کی کلئیرنس پر ہے، امراض قلب کے باعث نواز شریف کے دل کا پروسیجر ہوگا، جو پیچیدہ اور ہائی رسک ہے۔

    خیال رہے پنجاب حکومت نےنوازشریف کی خون کی رپورٹ،پلیٹ لیٹس سےآگاہی کا کہا تھا تاکہ مریض کی تازہ ترین صورتحال سے آگہی ہوسکے تاہم ڈاکٹر عدنان نے خون کی رپورٹ،پلیٹ لیٹس سےمتعلق میڈیکل رپورٹ نہیں بھیجی۔

    گذشتہ روز نواز شریف ڈینٹل اپائنمنٹ کے بعد اپنی رہائش گاہ پہنچ تھے ، اس موقع پر ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سےگریز کیا تاہم انہوں نے مختصر گفتگو میں کہا تھا کہ نوازشریف کی صحت پراپ ڈیٹ ہوگی توخودبتادوں گا۔

    ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی بیماری پیچیدہ اورخطرناک ہے، ان مختصر اور طویل مدتی علاج کی ضرورت ہے، حکومت پنجاب کےخط کےجواب میں تفصیلی خط بھیج دیا ہے جس میں نوازشریف کی بیماری اور تشخیص کی مکمل تفصیلات ہیں۔

  • گوگل، فیس بُک اورٹوئٹرکوروناوائرس پرغلط اطلاعات کی روک تھام کےلئےسرگرم،خاص الرٹ بنادیا

    گوگل، فیس بُک اورٹوئٹرکوروناوائرس پرغلط اطلاعات کی روک تھام کےلئےسرگرم،خاص الرٹ بنادیا

    نیویارک:گوگل، فیس بُک اورٹوئٹرکوروناوائرس پرغلط اطلاعات کی روک تھام کےلئےسرگرم،خاص الرٹ بنادیا،اطلاعات کےمطابق گوگل سمیت دیگرسوشل پلیٹ فارمزنےکوروناوائرس کےحوالےسےغلط اطلاعات کی روک تھام کےلئےاقدامات شروع کردئیےہیں۔

     

    غیرملکی خبررساں ادارےکےمطابق فیس بک کی جانب سےاعلان کیاگیاہےکہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سےغلط معلومات کو فلیگ اورسائٹ سےہٹانے کےمنصوبے پر کام کررہی ہے، گوگل کی جانب سے کورونا وائرس سرچزکےلیےایک ایس اوایس الرٹ بنایا گیا۔

    جبکہ ٹوئٹرنےکہاکہ وہ اس حوالےسےسرچ کرنے والےافراد کو بیماری کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے آفیشل چینیلز کی جانے لے کر جائے گی۔فیس بک اس کے لیے تھرڈ پارٹی چیکرز کی مدد سے وائرس سے متعلق مواد کو ریویو کرے گی اور اگر اس مواد میں کچھ غلط ہوا تو فیس بک کی جانب سے صارفین تک اس کی رسائی کو محدود کردیا جائے گا۔

     

    https://twitter.com/TwitterSG/status/1222450553566793728?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1222450553566793728&ref_url=http%3A%2F%2Fwww.bolnews.com%2Furdu%2Ftechnology%2F2020%2F02%2F968492%2F

    فیس بک کی جانب سے ایسے مواد کو ڈیلیٹ کیا جائے گا جن کو عالمی طبی اداروں کی جانب سے سازشی خیالات یا غلط بیانات جیسے جعلی علاج وغیرہ کے باعث فلیگ کیا جائے گا۔اسی طرح فیس بک کی جانب سے ان افراد کو ایک نوٹیفکیشن بھیجا جائے گا جنہوں نے اسے شیئر کیا ہوگا یا شیئر کرنے کی کوشش کریں گے۔

    جبکہ انسٹاگرام میں بھی اس طرح کے مواد کو محدود کیا جائے گا اور ایسے ہیش ٹیگز کو بلاک کیا جائے گا جو غلط معلومات پھیلانے کا باعث بن سکیں۔گوگل کی زیرملکیت ویڈیو شیئرنگ سائٹ یوٹیوب نے بھی کہا کہ وہ اس وائرس پر سرچ کرنے والے افراد کے سامنے قابل اعتبار ذرائع کی ویڈیوز کو پروموٹ کرے گی۔

    گوگل کی جانب سے ایس ایس الرٹ میں سرچ رزلٹس کو دوبارہ مرتب کرتے ہوئے اہم نیوز اسٹوریز، متعلقہ مقامی نتائج، قابل اعتماد اداروں کی جانب سے مددگار معلومات اورمصدقہ حفاظتی نکات سے آگاہ کیا جائے گا۔

    ایس اوایس الرٹ کےذریعےگوگل صارفین کوغلط یا جعلی خبروں کی بجائےقابل اعتماد تفصیلات تک رسائی میں مدد دینے کا خواہشمند ہے۔

    ٹوئٹر کی جانب سے 15 ممالک میں مہم شروع کی جارہی ہے جن میں امریکا، برطانیہ، ہانگ کانگ، سنگاپوراورآسٹریلیا دیگر ممالک شامل ہیں اور اس میں مزید ممالک کو بھی جلد شامل کیا جائے گا۔

  • لاہور:  پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحانی مرکز،کوڑے کرکٹ کا مرکز

    لاہور: پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحانی مرکز،کوڑے کرکٹ کا مرکز

    لاہور: پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحانی مرکز،کوڑے کرکٹ کا مرکز،اطلاعات کےمطابق لاہورجیسے بڑے شہرکے بڑے ادارے کے بڑے امتحانی مرکز کے گرد کوڑے کرکٹ کے ڈھیر نے سب کی آنیوں جانیوں کے پرے بے نقاب کردیئے

    باغی ٹی وی کےمطابق جوہرٹاون کے معروف علاقے 68-اے ٹریڈ سینٹربلاک میں واقع پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحانی سینٹرکے اردگرد کوڑے کرکٹ کےڈھیرسے افسران بننے کی خاطرامتحان دینےوالے امیدواروں کوسب سے پہلے اس کوڑے کرکٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، دوسری طرف علاقے کے مکینوں نے بھی شکوہ کیا ہےکہ کہ اس کوڑے کرکٹ کا ذمہ دارادارہ پنجاب پبلک سروس کمیشن ہے کہ جس نے کبھی اس کویہاں سے ہٹانےاوراٹھانے کی زحمت کی نہیں‌کی

    یاد رہےکہ اس سے پہلے کراچی جیسے بڑے شہر میں کوڑےکرکٹ کے ہرطرف ڈھیرتھے اورپھروہاں پرپاکستان تحریک انصاف اورایم کیو ایم کی مشترکہ کوششوں سے کوڑے کرکٹ کے بڑے بڑے ڈھیروں کوہٹایا گیا اوراٹھایا گیا اوریہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہےلیکن دوسری طرف یہ گندگی لاہورمیں بھی پائی جارہی ہے

  • بنگلادیش کےخلاف ٹیسٹ سیریزکےلئےقومی ٹیم کااعلان،اظہرعلی پھرکپتان بن گئے

    بنگلادیش کےخلاف ٹیسٹ سیریزکےلئےقومی ٹیم کااعلان،اظہرعلی پھرکپتان بن گئے

    پاکستان نےبنگلا دیش کےخلاف ٹیسٹ سیریزکےلیے 16 رکنی اسکواڈ کااعلان کردیا۔اطلاعات کےمطابق بنگلادیش کےخلاف ٹیسٹ سیریزکےلئےقومی ٹیم کااعلان کردیا گیا ہے اوراس مرتبہ اظہرعلی پھرکپتان بن گئے

    لاہورکے قذافی اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ہیڈکوچ وچیف سلیکٹر مصباح الحق نے بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا ۔بنگلادیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے 16 رکنی اسکواڈ میں کپتان اظہرعلی، عابد علی، اسد شفیق، بابراعظم، بلال آصف، فہیم اشرف ، حارث سہیل، امام الحق، عمران خان ، محمد عباس، محمد رضوان، نسیم شاہ، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

    چیف سلیکٹر قومی ٹیم نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کیا جاتا ہے اور بنگلا دیش کے خلاف سیریز کے لیے کنڈیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیم میں دو تبدیلیاں کی ہیں۔ واضح رہےکہ پاکستان اوربنگلہ دیش کےدرمیان پہلا ٹیسٹ میچ 7فروری سے11 فروری تک راولپنڈی اسٹیڈیم میں کھیلا جائےگا۔

  • پنجاب میں‌ پولیس وردی پہننے پرپابندی عائد کردی گئی

    پنجاب میں‌ پولیس وردی پہننے پرپابندی عائد کردی گئی

    لاہور:پنجاب میں‌ پولیس وردی پہننے پرپابندی عائد کردی گئی ،اطلاعات کےمطابق لاہورمیں پابندی عائد کی گئی ہے گے۔تفصیلات کے مطابق یہ پابندی پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک مراسلے میں عائد کی گئی ہے۔

    ذرائع کےمطابق پنجاب پولیس کے اے آئی جی آپریشنزنے صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز کوایک مراسلہ بھیجا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ اگر فنکاروں نے اسٹیج پہ اداکاری کے دوران پولیس کی وردی کا استعمال کیا تو ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

    پنجاب پولیس نے موقف اختیار کیا کہ فحش اسٹیج ڈراموں میں پولیس کی وردی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے یہ اقدام سٹیزن پورٹل پر درج کرائی جانے والی شکایت پر اٹھایا گیا ہے۔

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس کی جانب سے بھیجے جانے والے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فحش اسٹیج ڈراموں میں پولیس کی وردی کا استعمال کیا جارہا ہے جب کہ قانوناً فحش اسٹیج ڈراموں کے پیش کیے جانے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ گزشتہ روز ہی اے سی شالیمار نے ایک بیہودہ رقص کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے محفل تھیٹر کو سیل کیا ہے۔

    پنجاب پولیس کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اگر اسٹیج ڈرامے میں کوئی فحش عنصر نہ ہو تو کیا فنکاروں کو پولیس کی وردی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل شہریوں کی جانب سے سٹیزن پورٹل پر سب سے زیادہ شکایات کے انبار پنجاب پولیس کے خلاف لگائے گئے تھے۔

  • "ویب ٹی وی ، یوٹیوب چینل بھی پیمرا کی تحویل میں ہونے چائیں "ایسا نہیں کہا ، مشاورت کے لیے رائے طلب کی ہے ، پیمرا کے متضاد بیانات

    "ویب ٹی وی ، یوٹیوب چینل بھی پیمرا کی تحویل میں ہونے چائیں "ایسا نہیں کہا ، مشاورت کے لیے رائے طلب کی ہے ، پیمرا کے متضاد بیانات

    لاہور:پاکستان میں آزاد میڈیا اورسوشل میڈیا کا گلا دبانے کی پیمرا کی کوششوں کا انکشاف،اطلاعات کےمطابق پیمرا ویب ٹی وی اور انٹرنیٹ پر بھی قابو پانے کی تیاریوں میں ہیں‌، ادھرپیمرا کی طرف سے متضاد بیانات کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    پیمرا نے 24 گھنٹوں میں متضاد بیانات دے کرصارفین کے شکوک وشبہات کویقین میں بدلنا شروع کردیا ہے، باغی ٹی وی کےمطابق پہلے پیمرا کی طرف سے بیان جاری ہوا کہ "ویب ٹی وی ، یوٹیوب چینل بھی پیمرا کی تحویل میں ہونے چائیں”پھر کہا گیا کہ نہیں ایسا نہیں کہا ، مشاورت کے لیے رائے طلب کی ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق سوشل میڈیا کے دومعروف چینلوں ویب ٹی وی اوریوٹیوب چینل کوپیمرا کی تحویل میں لینے کی منصوبہ بندی فواد چوہدری کے دور میں کی گئی .یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اب بھی اس سارے معاملے کے پیچھے فواد چوہدری کی شرارتیں اورسازشیں ہیں ،

     

    ادھراطلاعات کےمطابق سوشل میڈیا کوپیمرا کی تحویل کی خبروں کے بعد اکثر ملکی و غیر ملکی ادارے اور تنظیمیں پیمرا کی ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی کی سروسز کو ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کر رہی ہیں اور اسے آزادی رائے اور میڈیا کی آزادی پر مزید قدغن لگانے کے مترادف قرار دیتی ہیں۔

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے ملک میں انٹرنیٹ پر موجود ویب ٹی وی اور اوور دا ٹاپ (او ٹی ٹی) سروسز، مثلاً نیٹ فلکس، ہُولُو اور ایمازون پرائم، کو اپنے دائرہ کار میں لانے کے غرض سے عوامی مشاورتی مہم کا آغاز کیا ہے۔

    اس سلسلے میں پیمرا نے ایک کنسلٹیشن پیپر تیار کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان کے شہریوں، حکومتی و غیر حکومتی سمیت نجی اداروں، سیاسی پارٹیوں، سیاست دانوں اور اراکین پارلیمان سے مشورہ لیا جا رہا ہے۔

    پیمرا کے اس اقدام کے بعد ملک بھر میں یہ موضوع زیر بحث ہے۔ اکثر ملکی و غیر ملکی ادارے اور تنظیمیں پیمرا کی ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی سروسز کو ریگولیٹ کرنے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کر رہی ہیں اور اسے آزادی رائے اور میڈیا کی آزادی پر مزید قدغن لگانے کے مترادف قرار دیتی ہیں۔

    رواں عشرے کے دوران انٹرنیٹ پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے ویب ٹی وی چینلز اور او ٹی ٹی کی بھر مار دیکھنے میں آئی ہے۔یادرہےکہ پاکستان میں‌اکثر کھلاڑی، فنکار، صحافی اور دوسرے پروفیشنلز اپنے چینلز چلا رہے ہیں۔صرف یہ طبقہ ہی نہیں بلکہ ہرکوئی بغیر کسی قید کے عام لوگ بھی انٹرنیٹ کی مدد سے مختلف موضوعات پر ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کےمطابق ویب ٹی وی اوریوٹیوب چینل نہ صرف صحافتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ تعلیمی اورتربیتی مقاصد کےلیے بھی استعمال میں آتے ہیں ، اس کے علاوہ پاکستان میں زیادہ دیکھے جانے والے ویب ٹیلی ویژنز پر کھانا پکانے، طنز و مزاح، سیاسی تبصرے اور سیاحت جیسے موضوعات پر ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں۔ملک کے تقریباً تمام نجی ٹی وی چینلز بھی اپنی نشریات انٹرنیٹ پر اپنے ویب ٹی وی کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔

    پیمرا کی طرف سے جودھیرے دھیرے کنسلٹنسی کے نام پرکچھ پیپرز سوشل میڈیا اوردیگرذرائع کے ذریعے پیش کیئے جارہے ہیں‌، اس کا محتاط خلاصہ کلام کچھ اس طرح ہے ،

     

     

    file:///C:/Users/Talha%20Amin%20Tahir/Downloads/Regulating_the_Web_TV_OTT_CP.pdf

    پیمرہ پلان آف کنٹرول ویب ٹی وی اینڈ یوٹیوب چینل ؟

    کنسلٹیشن پیپر میں ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی کی پاکستان میں شروعات اور موجودہ وقت میں نوعیت، کوریج اور اہمیت پر بحث کے علاوہ انہیں کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔پیمرا کی طرف سے اس مشاورتی پھندے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کنسلٹیشن پیپر میں تسلیم کیا گیا ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی ریاستی کنٹرول سے آزاد ہیں۔

    تاہم اس سلسلے میں چند ایک ملکوں میں ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی پر جزوی پابندیوں کا ذکر کر کے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب ان دو خدمات کا ریاستی کنٹرول میں ہونا کیوں اور کتنا ضروری ہے۔دوسری طرف یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہےکہ اس سے بہتری آئے گی

    پیمرا کی طرف سے جاری کیئے گئے 25 صفحات پرمشتمل کنسلٹیشن پیپرز میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی پیمرا کے کنٹرول میں نہ ہونے کے باعث ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد ہیں اور اکثر میڈیا کے لیے موجود ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتے ہیں۔

    انٹرنیٹ پر موجود ان دو ذرائع ابلاغ پر ریاستی کنٹرول کی ضرورت کے حق میں مزید دلائل دیتے ہوئے کنسلٹیشن پیپر میں بیان کیا گیا ہے کہ ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی اشتہارات بھی حاصل کرتے ہیں جو پیمرا کے کنٹرول میں چلنے والے ٹیلی ویژن چینلز کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔

    پیمرا نے ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی پر بھاری فیسیں عائد کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے اور اس سلسلے میں او ٹی ٹی سروسز اور نان نیوز ویب ٹی وی کے لیے پچاس پچاس لاکھ اور نیوز و کرنٹ افئیرز ویب ٹی وی کے لیے ایک کروڑ روپے لائسنس فیس تجویز کی گئی ہے جب کہ سالانہ فیس اس کے علاوہ ہوگی۔کنسلٹیشن پیپر میں ایک سوال نامہ بھی شامل کیا گیا ہے جس کے جوابات پاکستانی شہریوں اور اداروں سے 14 فروری تک طلب کیے گیے ہیں۔

    دوسری طرف پیمرہ کے اس طرزعمل کے خلاف دنیا بھر میں آواز بلند ہونا شروع ہوگئی ہے، اطلاعات کےمطابق پاکستان سمیت دنیا بھرمیں جوصارف سوشل میڈیا سے وابستہ ہیں انہوں نے پیمرا کے اس کھیل کی کھل کر مخالفت کی ہے یہی وجہ ہےکہ ابھی چند دن ہوئے ہیں پیمرا کی دھیرے دھیرے کنسلٹنسی کے ذریعے ویب ٹی ٹی اور یو ٹیوب چینل کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کو لیکن اس کے باوجود جس کسی کو اس کی خبر ملی ہے اس نے سخت ردعمل دکھا یا ہے، پیمرا کے کنسلٹیشن پیپر کے خلاف ملک اور بیرون ملک سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔

    صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی، میڈیا کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ملکی و بین الاقوامی تنظیموں نے پیمرا کی اس تجویز کو رد کرتے ہوئے ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی پر ریاستی کنٹرول کو ہر طرح سے غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔

    پیمرا کی اس تجویز کی مخالفت کرنے والوں میں صحافی، وکلا، میڈیا کارکنان، انسانی حقوق کارکنان، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت، ڈیجیٹل رائٹس اور انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والے غیر حکومتی ادارے شامل ہیں۔

    پاکستانی سول سوسائٹی کی جن تنظیموں نے پیمرا کی اس تجویز کی مخالفت کی ہے ان میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے)، میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والا فرانسیسی ادارہ رپورٹرز سانز فرنٹیئرز (آر ایس ایف)، ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن، فریڈم نیٹ ورک، انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ، ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سمیت ہزاروں ادارے بھی شامل ہیں۔

    ان تنظیموں اور اداروں نے پیمرا کی ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی پر کنٹرول حاصل کرنے کی تجویز کے خلاف عوامی مشاورت شروع کی ہے جس میں پاکستانی عوام میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انٹرنیٹ پر موجود ان دو خدمات کا ریاستی کنٹرول سے آزاد ہونا کیوں کر ضروری ہے۔

    پیمرہ کی طرف سے اس جال میں پھنسانے کی مشاورتی اورسازشی کوششوں پرسخت ردعمل پہلے سے زیادہ آنا شروع ہو گیا ہے، ادھر اطلاعات کےمطابق ایک بیان میں ان تنظیموں اور اداروں نے پیمرا کی اس تجویز پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزاد میڈیا پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیا ہے۔صارفین کی طرف سے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ کہ اس اقدام کا واضح مقصد نظر آتا ہے کہ حکومت ہمارے ڈیجیٹل حقوق اور سائبر سپیس کو ہائی جیک کرنے کے ساتھ ساتھ میڈیا مارکیٹ کو مسخ اور محدود کرنے کی مذموم کوششیں کر رہی ہے۔

    بیان میں پاکستان کی عوام سے استدعا کی گئی کہ پیمرا کے سوال نامے کا بالکل بھی جواب جمع نہ کروایا جائے کیوں کہ ایسا کرنے سے پیمرا کے اس مشاورتی عمل کو قانونی حیثیت حاصل ہو گی اور انہیں ویب ٹی وی اور او ٹی ٹی کو ریگولیٹ کرنے کے لیے جواز ہاتھ آجائے گا۔

    ذرائع کےمطابق یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پیمرا نے عوام کے لیے تو ایک قسم کا کنسلٹیشن پیپر جاری کیا ہے جب کہ اراکین پارلیمان اور پارلیمانی کمیٹیوں کو الگ تجاویز پیش کی ہیں جو زیادہ سخت اور بے رحمانہ ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت حکومتی اوراپوزیشن اراکین کی طرف سے خاموشی دکھائی جارہی ہے ،اوراگرایک آدھا بیان آتا بھی ہےتوصرف سیاست کرنے کے سوا کچھ نہیں ہوگا

  • میرے نوجوانوں کواسلامی بینکنگ کے ذریعے کاروباری قرضے فراہم کیئے جائیں ،عمران خان کی ہدایت

    میرے نوجوانوں کواسلامی بینکنگ کے ذریعے کاروباری قرضے فراہم کیئے جائیں ،عمران خان کی ہدایت

    اسلام آباد: میرے نوجوانوں کواسلامی بینکنگ کے ذریعے کاروباری قرضے فراہم کیئے جائیں ،عمران خان کی ہدایت،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے عثمان ڈارکوہدایت دیتے ہوئے کہا ہےکہ میرے نوجوانوں کو اسلامی بینکنگ کے ذریعے کاروبارکرنے کی تربیت بھی دی جائے اورترغیب بھی دی جائے ، اوراسی مقصد کے تحت ان کو بلاسود قرضے فراہم کیئے جائیں‌،

    باغی ٹی وی کےمطابق وزیراعظم کے حکم کے مطابق حکومت نے تیزی دکھاتے ہوئے نوجوانوں کواسلامی بینکنگ کے ذریعے قرضوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے بینکوں کوہدایات جاری کرنے کے حوالے سے چند دنوں تک اہم احکامات وصول ہوجائیں‌گے

    نوجوانوں کے امورکے وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈارنے اس متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسلامی بینکنگ کے تحت قرض کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا، گورنراسٹیٹ بینک اوراسٹیک ہولڈرزسے مشاورت مکمل کرلی ہے، پہلے مرحلے میں کامیاب درخواست گزاروں کوقرض کی تقسیم شروع کردی گئی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں نوجوان اسلامی بینکنگ کے تحت قرض حاصل کرسکیں گے۔

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت کےمطابق گورنراسٹیٹ بینک رضا باقراوروزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈارکی ملاقات ہوئی جس میں نوجوانوں کواسلامی بینکنگ کے تحت اپریل سے قرضوں کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پروگرام کے لئے تمام نجی بینکس کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

  • ڈیرہ اسمٰعیل خان : مکان کی چھت گرگئی،2 افراد جاں‌بحق،6 زخمی

    ڈیرہ اسمٰعیل خان : مکان کی چھت گرگئی،2 افراد جاں‌بحق،6 زخمی

    ڈیرہ اسماعیل خان : سٹی کی حدود محلہ گلی ڈاٹ والی میں مکان کی چھت گرگئی،اس حادثے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں‌جبکہ6افراد زخمی ،اطلاعات کےمطابق سٹی کی حدود محلہ گلی ڈاٹ والی میں مکان کی چھت گرگئی، اس حادثے میں اطلاعات کےمطابق 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں‌ سے دو کی حالت نازک بتائی جارہی ہے

     

    سٹی کی حدود محلہ گلی ڈاٹ والی میں کونسلر زاھد کے مکان کی چھت گرنے سے 6 زخمی ہونے والےافراد کو ریسکیو 1122 نے ہسپتال منتقل کر دیا ہے ریسکیو 1122 نے ایمبولینسز اور ہیوی مشینری کے ساتھ سرچ آپریشن شروع کردیا،.

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق اس ملبے سے2 جانبحق اور 6 زخمیوں کو نکال لیا گیا،اطلاعات کےمطابق ریسکیوکی ٹیمیں‌ مسلسل ملبے کوہٹانے پرمصروف ہیں اوردوسری طرف اطلاعات کےمطابق زخمیوں کا علاج معالجہ جاری ہے

  • دنیا کا کپتان پربھرپوراعتماد،امریکی اوربرطانوی سرمایہ کاروں کی پاکستانی حکومتی بانڈزمیں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری

    دنیا کا کپتان پربھرپوراعتماد،امریکی اوربرطانوی سرمایہ کاروں کی پاکستانی حکومتی بانڈزمیں 3 ارب ڈالر سرمایہ کاری

    اسلام آباد :دنیا کا کپتان پربھرپوراعتماد،امریکی اوربرطانوی سرمایہ کاروں کی پاکستانی حکومتی بانڈز میں 3 ارب ڈالرز سرمایہ کاری،اطلاعات کےمطابق پاکستانی حکومتی بانڈز میں غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 3ارب ڈالرز تک جا پہنچا، غیرملکی سرمایہ کاروں میں بڑی تعداد امریکی اوربرطانوی مالیاتی اداروں کی ہے۔

     

    بھارت میں مودی مخالف ٹیبلو پر اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور طالبہ کی والدہ گرفتار

    تفصیلات کے مطابق پاکستانی کپیٹل مارکیٹس میں غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافےکارجحان ہے،ٹی بلزمیں رواں مالی سال 30 جنوری تک دوارب 77 کروڑ90 لاکھ ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ پاکستان انوسٹمنٹ بانڈزمیں سرمایہ کاری کاحجم 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا۔ جبکہ اس کے علاوہ بھی کئی کروڑ کی پاکستانی بانڈز میں سرمایہ کاری کی گئی

    ایف اے ٹی ایف اجلاس سے پہلے دوست ممالک سے رابطوں کومستحکم کیا جائے،خوشخبری ملے گی

    انڈسٹری تجزیہ کاروں کے مطابق شرح سودمیں اضافےاورروپے کی قدرمیں کمی کےباعث ٹی بلزغیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے انتہائی پرکشش ہوگئےہیں اور ماہرین کوامید ہےحکومتی بانڈزمیں مزیدسرمایہ کاری متوقع ہے۔اوراس سےڈیٹ مارکیٹ کومزید فروغ بھی ملےگا۔

    آج یکم فروری سے کروڑوں موبائل فونز پر واٹس ایپ بند ہوجائے گا

  • چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کرگئی،ہزاروں سخت متاثراورزیرعلاج

    چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کرگئی،ہزاروں سخت متاثراورزیرعلاج

    بیجنگ:چین میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کرگئی،ہزاروں سخت متاثراورزیرعلاج، اطلاعات کےمطابق چین میں کروناوائرس سےہلاکتوں کی تعداد 250 سےتجاوزکرگئی جبکہ12 ہزار افراد متاثر ہیں، امریکہ اور اٹلی نے ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے جبکہ سوئیڈن میں بھی کرونا وائرس کاکیس سامنے آگیا ہے۔

    25 طالبات کی اچانک طبعیت کیوں خراب ہوگئی اوروہ اب کس حالت میں ہیں اہم خبرآگئی

    تفصیلات کے مطابق چین میں کروناوائرس سے 259 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 12 ہزار افراد متاثر ہوئے، چین کے مختلف شہروں میں نظام زندگی مفلوج ہے ، چودہ صوبوں میں چھٹیاں اور لوگ گھروں میں محدود ہیں جبکہ چین کی معشیت کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔

    حکومت صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرے گی، گورنر سندھ

    کروناوائرس سے دنیا بھر میں خوف وہراس پھیلا ہوا ہے، اب تک 27 ممالک میں کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں ، امریکہ اور اٹلی نے کرونا وائرس کے بعد ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی اور ساتھ ہی چین کیساتھ فلائٹ آپریشن بھی معطل کردیا ہے جبکہ سوئیڈن میں کرونا وائرس کاکیس سامنےآگیا ہے۔

    آج یکم فروری سے کروڑوں موبائل فونز پر واٹس ایپ بند ہوجائے گا

    ٹرمپ انتظامیہ کاکہناہے ان تمام غیر ملکیوں کو بھی امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائےگی ، جوگزشتہ دو ہفتے کے دوران چین گئےتھے جبکہ سنگاپور اور منگولیا نے چینی باشندوں کی آمد پر پابندی لگادی ہے۔

    اب مجھے تنگ کرکے دکھاو:لڑکی نے پیچھا کرنے والے لڑکے پر تیزاب پھینک دیا

    عالمی ادارہ صحت نےبین الاقوامی ہیلتھ ایمرجنسی کااعلان کرتے ہوئے کہا تھا وائرس کومزیدپھیلنےسےروکنے کیلئےمل کر کام کرناہوگا، چین پرتجارتی یاسفری پابندیوں کی سفارش نہیں کر رہے۔

    بھارت میں مودی مخالف ٹیبلو پر اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور طالبہ کی والدہ گرفتار

    چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے وائرس نے مختلف صوبوں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے، ماہرین کو خدشہ ہے کرونا وائرس چمگادڑ کھانے سے پھیلا ، اس وائرس کا علاج تاحال دریافت نہیں ہوا جبکہ متعدد مُلک جان لیوا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔