Baaghi TV

Author: +9251

  • شہبازشریف سیاسی بقا کےلیے پریس کانفرنس کررہے ہیں‌،جھوٹا آدمی ہے ، برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے خاموشی توڑ دی

    شہبازشریف سیاسی بقا کےلیے پریس کانفرنس کررہے ہیں‌،جھوٹا آدمی ہے ، برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے خاموشی توڑ دی

    لندن: شہبازشریف میرے خلاف سیاسی بقا کےلیے پریس کانفرنس کررہے ہیں‌،شہبازشریف جھوٹا آدمی ہے ، برطانوی صحافی ڈیوڈ روز نے خاموشی توڑ دی ،اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی مبینہ کرپشن کی خبر منظرعام پر لانے والے طانوی صحافی نے کہا ہے کہ پاکستان یا مسلم مخالف ہونے کا الزام بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

     

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں ڈیوڈ روز کا کہنا تھا کہ شہبازشریف یا کسی اور قانونی معاملے پر بات نہیں کرسکتا، پاکستان یامسلم مخالف ہونےکا الزام بدنام کرنےکی کوشش ہے۔ڈیوڈ روز نے کہا کہ مجھے حیرانی ہوتی ہےکہ پاکستانیوں کوشہبازشریف جییسا جھوٹا سیاستدان نصیب ہوا ہے

     

    ڈیلی میل کے صحافی ڈیوڈ روزکا کہنا تھا کہ ’میراریکارڈہےہمیشہ نسل پرستی کےخلاف جدوجہدکی، ناانصافی،دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تحقیقات کیں، اسی طرح گوانتاناموبے جیل اور ڈرون حملوں کےخلاف تحقیقاتی رپورٹنگ بھی کی‘۔

    ڈیوڈ روز کا کہنا تھا کہ ’میں نے 20سال تک جھوٹےالزام میں سزائےموت پانےوالےشخص کا ساتھ دیا اور سچ سامنے لے کر آیا، مجھےنسل پرست کہاہےتو ثابت بھی کرنا پڑےگا‘۔

    یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 30 جنوری کو برطانوی اخبار ڈیلی میل آن لائن اور صحافی کے خلاف ہتھک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ شہباز شریف اور ان کے وکیل نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ہائی کورٹ کو بتا دیا کہ ڈیلی میل آن لائن نے بے بنیاد الزامات لگائے، آرٹیکل سیاسی مقاصد کے لیے لکھا گیا۔

    شہباز شریف کے وکیل الاسڈیئر پیپر کا کہنا تھا کہ رائل کورٹ میں مقدمہ شروع ہونے میں 9 ماہ لگ سکتے ہیں، اخبار اور صحافی ڈیوروز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شہباز شریف کے خلاف بے بنیاد پروپیدگنڈا کیا اور ڈیوڈ روز نے اپنے آرٹیکل کے ذریعے بغیر تصدیق کے الزام تراشی کی۔

    برطانوی صحافی ڈیوڈ روزنے شہباز شریف کی شعبدہ بازی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ہمیشہ حقائق کی بنیاد پررپورٹنگ کی ہے میں ثابت کروں گا کہ شہبازشریف واقعی ایک کرپٹ شخص ہے جوپاکستانیوں کوگمراہ کررہا ہے

  • حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت—-از–خنیس الرحمان

    بیٹھا سوچ رہا تھا کتنی دلیری سے خاتون کہہ رہی ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ منصف نہیں تھے. ابو بکر صدیق رضی اللہ منصف کیسے نہیں ہوسکتے. یارو ان سے بڑا کوئی منصف اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والا ہے کوئی .نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں ذوالحجہ کے بقیہ ایام اور محرم و صفرگزارے.

    لشکرِ اسامہ کو تیار کیا اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا اور انہیں بلقا اور فلسطین کی طرف کوچ کرنے کا حکم فرمایا. لوگوں نے تیاری کی اور ان میں مہاجرین اور انصار بھی تھے اس وقت حضرت اسامہ بن زید کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی مہاجرین اور انصار میں سے کچھ لوگوں کو ان کی امارت پر اعتراض بھی تھا لیکن رسول اللہ نے اس اعتراض کو رد کردیا.

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا اگر آج یہ لوگ اسامہ کی امارت پر اعتراض کرتے ہیں تو اس سے قبل اس کے باپ کی امارت پر بھی اعتراض کر چکے ہیں اللہ کی قسم وہ امارت کا مستحق تھا اور وہ میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اور زید کا فرزند اسامہ اس کے بعد میرے نزدیک محبوب ترین لوگوں میں سے ہے. لوگ جہاد کی تیاری میں تھے اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا آغاز ہو گیا .آپ بیماری کی حالت میں ہیں ساتھ ساتھ اس لشکر میں شریک لوگوں کو نصیحتیں بھی کررہے ہیں.

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری دن بدن بڑھتی جا رہی تھی. نماز کا وقت ہو جاتا ہے حضرت بلال اذان دیتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمت نہیں کہ وہ صحابہ کو نماز پڑھائیں .آپ پیغام بھجواتے ہیں کہ ابوبکر سے کہو نماز پڑھائیں. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی نے نماز پڑھائی. اس دوران آپ صحابہ کو نصیحتیں بھی فرماتے ہیں. چند دنوں بعد آپ اس دنیا سے رخصت فرما گئے. آپ کی وفات کے بعد صحابہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا امیر مقرر فرما لیتے ہیں .

    منصب امارت سنبھالنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ترجیحات میں سب سے پہلے لشکر اسامہ کی روانگی شامل تھی. دوسری طرف وہی لوگ جنہوں نے سیدنا سامہ رضی اللہ عنہ کی امارت پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اعتراض کیا ایک بار پھر اٹھ کھڑے ہوئے اس کے ساتھ دیگر صحابہ کرام نے بھی مشورہ دیا. حالات سنگین ہیں ارتداد کا فتنہ بھی سر اٹھارہا ہے. مدینہ چاروں طرف سے غیر محفوظ ہے لشکر اسامہ کو فی الحال روک دیا جائے.

    لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ سیدنا اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قیادت میں لشکر ہر حال میں روانہ ہوگا. صحابہ کسی نہ کسی طریقے سے خلیفہ کو منانے میں لگےہوئے ہیں. لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ صحابہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس مہم میں عدم نفاذ کو بھول جائیں جس سے رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے خود تیار کیا اور انہیں آپ نے خبر دی کہ وہ عنقریب اس منصوبے کو نافذ کرکے رہیں گے اگرچہ اس تنفیذ کے نتیجے میں مرتدین مدینہ پر قابض ہو جائیں..؟..

    حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ صحابہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو کہ درندے مجھے نوچ کر کھائیں گے تب بھی لشکر اسامہ کو بھیج کر رہوں گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے اگر بستی میں میرے سوا کوئی بھی باقی نہ رہے تب بھی میں اس کو ضرور بھیج کر رہوں گا.

    دوسری طرف انصار نے یہ اعتراض اٹھایا کہ کے سیدنا اسامہ بن زید کم عمر ہیں. اس لیے اس لشکر کا امیر کسی بڑی عمر کے شخص کو مقرر کیا جائے. انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو خلیفۃ المسلمین کے پاس بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں ان سے بات کریں. لیکن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اس معاملے میں بات کرتے ہیں تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوتے ہیں اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت عمر کی داڑھی پکڑ کر فرماتے ہیں خطاب کے بیٹے ! اسامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر فرمایا ہے اور تم مجھے حکم دےرہے ہوکہ اسے معزول کر دوں.

    آپ لشکر اسامہ کو روانہ کرتے ہیں انہیں یہ کہتے ہیں کہ تم نے وہی کرنا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا اور وہ وقت بھی آیا لشکر اسامہ فتحیاب ہوکر مدینے واپس لوٹ رہا ہے. اس کے بعد مرتدین زکوۃ اور مدعیان ختم نبوت کا قلع قمع ہوتا ہے. میں سوچ رہا تھا ابو بکر رضی اللہ عنہ کس طرح منصف نہیں ہوسکتے رسول اللہ جاچکے ہیں. صحابہ آپ کی منت سماجت کررہے ہیں کہ لشکر اسامہ کو نا روانہ کریں لیکن محب رسول اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو نہیں نظر انداز کرنا چاہتے تھے اور لشکر اسامہ بھیج کررہے.

    یہ بلاشبہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ واقعہ تاریخ کے ان غیر معمولی واقعات میں سے ہے جنہوں نے دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی.تاریخ کے اس غیر معمولی واقعہ کی طرح خود سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی تاریخ انسانی کی ایک غیر معمولی اور عظیم و جلیل شخصیت بن کر ابھرتے ہیں اور ثابت قدمی اور بے خوفی کے ساتھ ان کا اٹھایا جانے والا یہ قدم بھی ایسے ان گنت نتائج، عبرتوں اور حکمتوں کا حامل ہے جن پر ابھی تک کسی مورخ نے نظر ہی نہیں ڈالی،

    ان پر قلم اٹھانا اور انہیں آج کی اسلامی دنیا کے تناظر میں دیکھنا تو بہت دور کی بات ہے.میں برملا یہ کہہ سکتا ہوں وہ شخص جو ہر معاملہ میں سبقت لے جانے والا تھا یہاں تک آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کے پراجیکٹس کو آگے بڑھانے والا تھا اس شخص سے بڑا کو منصف اور عادل نہیں ہوسکتا…

    حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی شخصیت
    …..خنیس الرحمان…..

  • (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    (بیداری ) کشمیر اور ہم…از…محمد قاسم انصاری

    آج کی صدی میں ایک بات کا پرچار عام ہے کہ ہم ایک آذاد ریاست کے رہنے والے ہیں
    لیکن کیا ایسا ہے؟

    آپ کا جواب ہاں میں ہوگا لیکن یہی الفاظ کسی کشمیری بھاٸی یا بہن سے پوچھیں تو اسکا جواب ہاں میں نہیں بلکہ ناں میں ہوگا پاکستان کو آذاد ہوۓ 70 سال سے ذیادہ عرصہ بیت چکا ہے ہر پاکستانی خود کو پاکستانی کہتے ہوۓ فخر محسوس کرتا ہے لیکن کشمیری آج بھی کسی محمد بن قاسمؒ کے انتظار میں ہیں کہ محمد بن قاسم آۓ اور بھارتی درندوں سے ہماری عورتوں ہمارے بچوں بزرگوں کو اذاد کرواۓ۔

    لیکن افسوس کہ 70 سالوں سے کشمیر پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف اگر کوٸی محمد بن قاسم کا روحانی فرذند اٹھتا ہے تو اس پر تخریب کار، شدت پسند اور دہشتگرد کا لیبل لگا کر گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا جاتا ہے

    اور یہ ستم بھارت نہیں کرتا بلکہ کشمیر کو اپنا کہنے کا دعویٰ کرنے والا کشمیر کو چھوٹا بھاٸی اور خود کو بڑا بھاٸی ظاہر کرنے والا پاکستان کرتا ہے ہم نے غیروں کے کہنے پر برہان وانی شہید کو قومی سطح پر شہید کہنے سے گریز کیا

    ہم نے جیش محمد، لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ جیسی کشمیری تنظیموں پر پابندی لگا کر غیروں کو خوش کرنے میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔۔

    قاٸد اعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن ستم بالاۓ ستم ہے کہ ہم قاٸد کے فرمان سے روگردانی کرچکے ہیں 170 دن ہونے والے ہیں شہ رگ کو شکاری کے پنجے میں جکڑے ہوۓ مگر ہم کتنے خوش قسمت ہیں کہ شہ رگ کے بغیر ذندہ رہ رہے ہیں

    کشمیر کی آذادی کے لیے آدھا گھنٹہ کھڑے ہونا تقاریر کرنا امریکہ سے مدد مانگنا کیا یہ مسلمانوں کا وطیرہ ہوسکتا ہے نہیں ہرگز نہیں۔
    اسلام تو کہتا ہے کہ مظلوم مسلمان عورتوں بزرگوں بچوں کی مدد کے لیے نکلو جبکہ وہ مدد کے لیے پکار رہے ہوں لیکن افسوس ہم صرف کھڑے رہ سکے نکل نہیں سکے.

    1947۶ کے وقت جب قاٸد اعظمؒ نے پاکستان حاصل کیا تو معاہدے کے مطابق کشمیر پاکستان کی سرحد میں طے پایا۔ لیکن یہ بات بھارت اور اس کی عوام کو ہضم نہ ہوٸی اور کشمیر پر 1948 کو قبضہ کرلیا مجاھدین نے اپنی طاقت کے بل پر لڑ کر آدھا کشمیر اذاد کرا لیا لیکن آدھا حصہ آذاد نہ کرواسکے

    اس طرح آذاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر دو حصوں میں منقسم ہوگیا اور بھارتی درندوں کے ہاتھوں مقبوضہ علاقوں میں نا رکنے والا ظلم کا ایک سلسلہ چل پڑا۔۔
    کشمیر پر ظلم صرف ہندو ہی نہیں بلکہ مسلمان بھی کررہے ہیں جب سے مودی سرکار نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہے کسی بھی مذہبی جماعت کی طرف سے اس کرفیو کے ہٹانے اور 370A قانون ختم کرنے کی طرف زور نہیں دیا گیا

    بھارت کے مسلمانوں کی حالات زار پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھاٸیوں کی مدد کے لیے اواز کیوں نہیں اٹھاتے۔

    اقبالؒ نے انکے متعلق کیا خوب دعا کی ہے

    خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
    وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

    ترقی اور امن کے دور میں صرف کشمیر، فلسطین، برما کے مسلمانوں سمیت ساری دنیا میں صرف مسلمان ہی ذلت کی ذندگی گزارنے پر مجبور کیوں ہیں۔۔؟
    کشمیر پر ظلم و جبر کی داستانیں 170 دن سے رقم کی جارہی ہیں لیکن عالمی ضمیر اجلاس کی حد تک بیدار ہے
    ہر سال 5 فروری کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے

    اللّٰہ قاضی حسین احمدؒ (سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان) پر کروڑوں رحمتیں نازل فرماۓ جنہوں نے

     ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
     نِیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

    کے مصداق 5 فروری 1997۶ کو اپنی جماعت کے لوگوں سمیت ہم خیال لوگوں کو اکٹھا کیا اور بھارتی ظلم و جبر اور اسکے تسلط کے خاتمے کے لیے گلی گلی نگر نگر نکلے۔۔

    اس میں کوٸی دو راۓ نہیں ہیں کہ کشمیر کی آذادی کے لیے جنگیں ہوٸی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر پر کٸ معاہدے بھی طے پا چکے ہیں مگر بھارت ہٹ دھرمی اور چالاکی سے ان معاہدوں کو روندتا چلا جاتا ہے
    پاکستانی حکمران ہر دور میں امریکی غلامی کا پاس رکھتے رہے ہیں اور بھارت کے خلاف کسی بھی سخت اقدام کے لیے اپنی آواز اٹھانے سے محروم ہیں

    اُمید کیا ہے سیاست کے پیشواؤں سے
    یہ خاک باز ہیں، رکھتے ہیں خاک سے پیوند

    حکمرانوں کی بے حسی، لاچارگی، ستم ظریفی کے باوجود ہر سال مذہبی جماعتیں جن میں جماعت اسلامی، سنی تحریک، جمعیت علما۶ اسلام، مرکزی جمعیت اھلحدیث شامل ہیں
    اس امید سے

    نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
    اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

    کشمیر کی اذادی کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ریلیاں جلوس منعقد کرتی ہیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔۔

    کشمیر ان شاء اللہ ایک دن آذاد ہوگا اور حقیقی معنوں میں جنت کا نظارہ ضرور پیش کرے گا۔۔

    بیداری
    محمد قاسم انصاری

  • مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت

    مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت

    کراچی :مصطفیٰ‌کمال کی امیراہلسنت الیاس قادری سے ملاقات اوران کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت،اطلاعات کےمطابق پاک سر زمین پارٹی کے چئیرمین سیدمصطفئ کمال کی بانی دعوت اسلامی امیر اہلسنت مولانا الیاس قادری عطاری سے ملاقات اور انکی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کی

    باغی ٹی وی کےمطابق بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری کی چھوٹی ہمشیرہ چند دن قبل قضائے الٰہی سے وفات پاگئیں تھیں ۔ مرحومہ کی نمازِ جنازہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں امیر اہلسنت الیاس قادری نے پڑھائی اورمرحومہ کی تدفین صحرائے مدینہ میں کی گئی

    ذرائع کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے اس موقع پرامیر اہلسنت سے تعزیت کرتے ہوئے مرحومہ کی مغفرت اوردرجات کی بلندی کےلیے دعا کی اورلواحقین کوصبرکرنے کی نصیحت کی

  • گورنمنٹ آف پاکستان نے ہمیں مرنے کے لئے لاوارث چھوڑ دیا رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والی میڈیکل کی طالبہ کا ویڈیو بیان

    رحیم یار خان(نمائندہ باغی ٹی وی)
    ﭼﺎﺋﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻢ ﺑﯽ ﺑﯽ ﺍﯾﺲ ﺗﮭﺮﮈ ﺍﺋﯿﺮ ﮐﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻃﺎﻟﺒﮧ ﺣﻨﺎ ﺍﻧﺘﺜﺎﺭ ﻭﻃﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ۔طالبہ نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﮔﻮﺭﻧﻤﻨﭧ ﮨﻤﯿﮟ ﻭﻃﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ،

    ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻻﻭﺍﺭﺙ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ،ﮨﻤﯿﮟ ﭼﺎﺭﭨﺮﮈ ﻓﻼﺋﯿﭩﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﻓﻼﺋﯿﭧ ﺍﻓﻮﺭﮈ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، ﭼﺎﺋﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ 150 ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺮﻭﻧﺎ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ،

    ﮨﻢ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﺮﯼ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﺻﺮﻑ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻃﺎﻟﺒﮧ
    ﺍﻧﮉﯾﻦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﭩﻮﮈﻧﭩﺲ ﮐﮯ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﮯ ، ﮨﻢ ﺑﮯ ﯾﺎﺭﻭ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ ،
    ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺍﻡ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮟ ، ﻃﺎﻟﺒﮧ ﮐﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﭘﯿﻞ
    ویڈیو ملاحظہ کریں

  • ‘ بھارت میں محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ جیت رہا ہے’ ہندوستانی مسلمانوں کوجناح بہت یاد آرہا ہے،کانگریسی رہنما ششی تھروربول اٹھے

    ‘ بھارت میں محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ جیت رہا ہے’ ہندوستانی مسلمانوں کوجناح بہت یاد آرہا ہے،کانگریسی رہنما ششی تھروربول اٹھے

    نئی دہلی :’ بھارت میں محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ جیت رہا ہے،اطلاعات کےمطابق بھارت کے سینیئر سیاستدان اور کانگریس کے رہنما ششی تھرور نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت میں قائد اعظم محمد علی جناح کا دو قومی نظریہ جیت رہا ہے۔ششی کپور نے یہ گفتگو آج ایک اہم اجلاس میں اور کہاکہ بھارتی مسلمان اب جناح کے ادا کیئے ہوئے ہرجملے کو سچ اوراپنے فیصلے کوغلط مان رہے ہیں‌،ششی کپورکہتے ہیں کہ آج ہندوستانی مسلمانوں کوجناح بہت یاد آرہا ہے

    ششی تھرور کا کہنا تھا کہ اسی طرح شہریت کے قانون سمیت دیگر متنازع قوانین جیسے این سی آر (نیشنل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) اور این پی آر (نیشنل پاپولیشن رجسٹریشن) کا اطلاق کیا گیا تو سمجھیں کہ محمد علی جناح کی جیت مکمل ہوگئی۔لوک سبھا(ایوان زیریں) کے رکن ششی تھرور کا کہنا تھا کہ اگر متنازع شہریت کے بل کو نافذ کیا گیا تو یہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے نظریے کی جیت ہوگی۔ششی کپورنے کہا کہ بھارتی مسلمان کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ جناح نے سچ کہا تھا کہ مسلمان اورہندو کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے

     

    https://www.youtube.com/watch?v=OM9ihetQpkM

    ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کے غیرقانونی اور متنازع شہریت قانون سے خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس لیے آج اگر جناح ہوتے تو وہ یہ کہ سکتے کہ ان کا دو قومی نظریہ حق پر تھا اور مسلمان ایک علیحدہ وطن کے حقدار تھے کیونکہ ہندو اور مسلمان ایک نہیں ہوسکتے۔ششی کپورنے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھارتی مسلمانوں کے شدت سے جناح کے اس نظریے کا احساس ہورہا ہے،

    خیال رہے کہ بھارت میں دسمبر 2019 سے شہریت کے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے ۔اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان سے بھارت جانے والے غیر مسلموں کو شہریت دی جائے گی لیکن مسلمانوں کو نہیں۔متنازع شہریت کے قانون کو مختلف بھارتی ریاستیں نافذ کرنے سے انکار کرچکی ہیں جب کہ اس قانون کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

  • ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ،چودھری برادران اورایم کیوایم کہیں نہیں جارہے : شیخ رشید

    ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ،چودھری برادران اورایم کیوایم کہیں نہیں جارہے : شیخ رشید

    لاہور:ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ،چودھری برادران اورایم کیوایم کہیں نہیں جارہے،اطلاعات کےمطابق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ حکومت کے اتحاد کا حصہ رہیں گی۔مسئلہ کشمیر پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کشمیر کی جدوجہد آزادی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کو لال حویلی سے ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔

    ذرائع کےمطابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی چوہدری پرویز الٰہی اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کریں گے۔انہوں نےکہا کہ مجھے چوہدری برادران کا بیان سن کر حیرت ہوئی۔ ابھی میں کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے کو دیکھنے کے لئے کراچی جارہا ہوں۔ جب میں وہاں سے واپس آؤں گا تو میں چوہدری برادران سے ملاقات کروں گا .

    انہوں نے مزید کہا کہ” وہ کہیں نہیں جارہے ” ۔وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ اس وقت حکومت کی واحد مخالف مہنگائی ہے۔انہوں نے کہا، "میں نے یہ بات وزیر اعظم سے بھی کی ہے کہ اس وقت کوئی اورنہیں صرف مہنگائی ہماری اپوزیشن ہے اورہم عمران خان کی قیادت میں اس کا خاتمہ کریں گے۔

    ریلوے منصوبوں پر بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے اعلان کیا کہ گوجرانوالہ سے لاہور کے درمیان شٹل ٹرین سروس 15 فروری سے شروع ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سرکلر ریلوے کے لئے عدالت کے حکم پر عمل پیرا ہیں۔ ہم نے اس شعبہ کی ترقی کے لئے بہت محنت کی ہے۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ آڈٹ رپورٹ ہماری نہیں تھی، ہماری رپورٹ ختم ہونے کے بعد آپ ہم پر تنقید یا تعریف کر سکتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ، ” نواز شریف نہیں آئیں گے ، مریم نواز نہیں جائیں گی لیکن شہباز شریف آسکتے ہیں ۔”

  • بھارتی کرکٹ ٹیم کے برے دن آگئے ، جرمانے کی سزا بھی سنا دی گئی

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے برے دن آگئے ، جرمانے کی سزا بھی سنا دی گئی

    ویلنگٹن: بھارتی کرکٹ ٹیم کے برے دن آگئے ، جرمانے کی سزا بھی سنا دی گئی ،اطلاعات کےمطابق نیوزی لینڈ کے خلاف چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سلو اوور ریٹ پر بھارتی ٹیم کو جرمانہ کر دیا گیا۔

     

    پنجاب میں‌ پولیس وردی پہننے پرپابندی عائد کردی گئی

    نیوزی لینڈ کرکٹ حکام کےمطابق ویلنگٹن میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے میچ میں بھارتی ٹیم نے مقررہ وقت میں دو اوورز کم کیے، الاؤنس کے باوجود بھارتی ٹیم 20 اوورز مکمل نہ کر سکی جس پر اسے جرمانہ کیا گیا۔

    ادھر ذرائع کےمطابق میچ ریفری کرس بروڈ نے ویرات کوہلی کی ٹیم پر میچ فیس کا 40 فیصد جرمانہ عائد کیا،آئی سی سی ضابطہ کار کے تحت مقررہ وقت میں اوور مکمل نہ کرنے پر بولنگ سائیڈ کے کھلاڑیوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے۔

    بنگلادیش کےخلاف ٹیسٹ سیریزکےلئےقومی ٹیم کااعلان،اظہرعلی پھرکپتان بن گئے

    کوڈ آف کنڈٹ کے تحت بولنگ ٹیم کے کپتان سمیت ہر کھلاڑی کو مقررہ وقت میں ایک اوور کم کرنے پر میچ فیس کی 20 فیصد کٹوتی کی جاتی ہے جب کہ بھارتی ٹیم نے میچ میں دو اوورز کم کیے جس پر 40 فیصد جرمانہ کیا گیا۔بھارتی کپتان نے میچ ریفری کی جانب سے کیا گیا 40 فیصد میچ فیس کے جرمنے کو قبول کیا ہے۔

    گوگل، فیس بُک اورٹوئٹرکوروناوائرس پرغلط اطلاعات کی روک تھام کےلئےسرگرم،خاص الرٹ

    واضح رہے کہ سیریز میں مسلسل دوسرا میچ ٹائی ہوا تھا اور بھارت نے ایک بار پھر سپر اوور میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں 4-0 کی واضح برتری حاصل کر رکھی ہے۔

  • امریکی فوجی نالائق اورکند ذہن : نقل کرنے پر30 امریکی فوجی ملازمت سے برطرف

    امریکی فوجی نالائق اورکند ذہن : نقل کرنے پر30 امریکی فوجی ملازمت سے برطرف

    واشنگٹن : امریکی فوجی نالائق اورکند ذہن : نقل کرنے پر30 امریکی فوجی ملازمت سے برطرف،اطلاعات کےمطابق امریکہ میں فوجیوں کی پوری کلاس کو امتحانات میں نقل کرنے پر نوکریوں سے برطرف کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فوجیوں کی پوری کلاس کو ملازمت سے برطرف کرنے کا انوکھا واقعہ امریکی ریاست جارجیا میں پیش آیا جہاں محض فوجیوں کو امتحانات میں نقل کرنے کے الزام میں عائد کیا گیا تھا۔

    غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جیارجیا میں 106 ویں بیج کے 30 فوجیوں پر آن لائن امتحانات میں نقل کرنے کا الزام ثابت ہوا تھا، فوجیوں کی جگہ خاتون نے امتحان میں شرکت کی تھی۔مذکورہ خاتون نے کہا تھا کہ اس نے امتحانات میں فوجیوں کی جگہ شرکت کی تھی، کیونکہ 106 ویں بیج کے ایک فوجی سے اس کے تعلقات تھے۔

    جارجیا حکومت کا کہنا تھا کہا کہ مذکورہ بیج کے ایک فوجی نے اپنی محبوبہ کو اپنا آئی ڈی اور پاسورڈ دیا تھا تاکہ وہ امتحان میں اس کی جگہ شرکت کرسکے، فوجی نے اپنے پوری کلاس کو شامل کرلیا تھا۔حکام کا کہنا تھا کہ فوجی کی اس حرکت نے فوجی ادارے کی سیکیورٹی اور قانون کو مجروح کیا۔

    ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے نقل اپنے فیل ہونے کے ڈر سے کی تھی اگر ہم فیل ہوجاتے تو تربیت مکمل نہیں کرپاتے، کیونکہ ان سے قبل دو فوجیوں نے یہ امتحان دیا تھا جس میں وہ فیل ہوگئے تھے۔

    جارجیا فوج کے ترجمان کے مطابق ان فوجی اہلکاروں نے ادارے کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے ساتھ اپنی قابلیت پر بھی سوال اٹھایا ہے، اس عمل سے ہمارے ادارے کی ساخت مجروح ہوئی ہے، یہ ناقابل برداشت جرم ہے۔

  • یمن،امریکہ نےالقاعدہ کے سربراہ کوفضائی بمباری میں جان سے ماردیا

    یمن،امریکہ نےالقاعدہ کے سربراہ کوفضائی بمباری میں جان سے ماردیا

    واشنگٹن :یمن،امریکہ نےالقاعدہ کے سربراہ کوفضائی بمباری میں جان سے ماردیا ،اطلاعات کےمطابق یمن میں امریکی فضائی حملےمیں القاعدہ کے مقامی سربراہ قاسم الریمی کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں ۔

    عرب میڈیاکےمطابق امریکی فوج نےبغیرپائلٹ ڈرون طیارے کی مددسےیمن کے صوبہ مآرب کی وادعی عبیدہ کےمقام پرالقاعدہ جنگجؤوں کےایک ٹھکانےپربمباری کی جس کےنتیجےمیں قاسم الریمی سمیت متعددجنگجو ہلاک ہوگئے۔

    مآرب کےدیگرذرائع نے بتایا کہ حملے میں جس مکان کونشانہ بنایا گیااسےحال ہی میں “القاعدہ” کے ارکان نےکرائے پرلیا تھا،لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہوسکاکہ نشانے میں الریمی بھی شامل تھےیانہیں۔

    دوسری جانب برطانوی اخبارکےمطابق سی آئی اےکونومبرمیں ایک مخبرکی جانب سےیمن میں الریمی کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کےبعدسی آئی اے نے قاسم الریمی کی باقاعدہ ریکی شروع کی۔رپورٹ کے مطابق امریکی فضائی حملے میں قاسم الریمی ہلاک ہوگئےتھےتاہم پینٹاگون نےاب تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    امریکی فوجی حکام کاکہنا ہے ہمیں اس قسم کےحملے کی کوئی اطلاع نہیں ہے جب کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے حکام نے اس حوالے سے بات کرنے سے معذرت کی ہے۔خیال رہے کہ امریکا نے قاسم الریمی کے سرکی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر رکھی ہے۔

    امریکی فضائی حملے میں مارے جانے والے ایک کروڑ ڈالرکی قیمت والے قاسم الریمی کون تھا؟

    القاعدہ کے مقتول سربراہ کاپورا نام قاسم عبدہ محمد ابکرتھااورانہیں قاسم الرامی،قاسم الریمی، ابوھریرہ صنعانی کےناموں سےبھی جانا جاتا تھا۔الریمی عرب دنیامیں القاعدہ کے نمایاں چہروں میں سےایک تھےجسےعرب اورعالمی اداروں کی طرف سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اشہتاری قراردیاگیاتھا۔

    الریمی کو 16 جون 2015ء کو جزیرہ عرب کی القاعدہ سربراہ ناصر الوحشیی کی حضرموت کے مقام پرہلاکت کے بعد تنظیم کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔اٹھارہ اکتوبر 2018ء کو امریکی محکمہ خارجہ نے الریمی کو بین الاقوامی اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر انعام کی رقم پانچ ملین ڈالر سے بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی تھی۔

    واشنگٹن نےمئی 2010 ء کو قاسم الریمی کا نام دہشت گردی کی فہرست میں درج کیا اور امریکا میں اس کے بینک اثاثے منجمد کر دیئے تھے۔قاسم الریمی نے متعدد دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا جن میں “یو ایس ایس کول” پر حملہ، وادی دوعن گھات لگا کر حملہ، “شبام بم دھماکہ اور دیگر دہشت گردانہ کارروائیاں شامل تھیں۔