Baaghi TV

Author: +9251

  • مہلک وائرس 6 ماہ میں 3 کروڑ زندگیاں نگل جائے گا‘‘بل گیٹس کی پشین گوئی کے حقیقت میں بدلنے کاڈر

    مہلک وائرس 6 ماہ میں 3 کروڑ زندگیاں نگل جائے گا‘‘بل گیٹس کی پشین گوئی کے حقیقت میں بدلنے کاڈر

    بیجنگ: مہلک وائرس 6 ماہ میں 3 کروڑ زندگیاں نگل جائے گا‘‘بل گیٹس کی پشین گوئی کے حقیقت میں بدلنے کاڈر،اطلاعات کےمطابق مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے دو سال قبل مہلک کرونا وائرس پھیلنے کی پیشگوئی کی تھی، انہوں نے خبردار کیا تھا کہ خطرناک مرض 6 ماہ میں 3 کروڑ افراد کو موت کی نیند سلا دے گا۔

    رپورٹ کے مطابق اپریل 2018 کو لندن کی میساچوسٹس سوسائٹی اور نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیکل سوسائٹی کے زیر اہتمام ملیریا کے حوالے سے ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں بل گیٹس نے خصوصی شرکت کی تھی۔

    اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے سنجیدگی سے تیاری کرنے کی ضرورت ہے جیسے وہ جنگ کے لیے کرتے ہیں، دنیا کو وبائی امراض سے متعلق سنجیدگی سے سوچنا شروع کردینا چاہیے، خطرناک مرض 6 ماہ میں 3 کروڑ افراد کو موت کے نیند سلا دے گا۔

    واضح رہے عالمی سطح پر یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ چین سے شروع ہونے والا اور دنیا میں تیزی سے پھیلتا یہ وہی وائرس ہے جس کا تذکرہ بل گیٹس نے 2018 میں ہی کردیا تھا۔ تاہم مائیکروسافٹ کے بانی نے مذکورہ مرض یا وائرس کا نام نہیں بتایا تھا۔

    خیال رہے کہ کرونا وائرس نے اب تک چین میں 80 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا ہے، وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اب تک ڈھائی ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، چینی صدر نے اعتراف کیا ہے کہ چین کو انتہائی خطرناک صورت حال کا سامنا ہے۔

  • کرونا وائرس بارے امریکی صدر بھی میدان میں آگئے

    کرونا وائرس بارے امریکی صدر بھی میدان میں آگئے

    کرونا وائرس بارے امریکی صدر بھی میدان میں آگئے

    باغی ٹی وی : کرونا وائرس نے امریکہ میں بھی دہشت پھیلا رکھی ہے ، اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمارے ماہرین غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں کرونا وائرس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرونا وائرس سے متعلق لکھا ہے کہ کرونا وائرس کے معاملے پر چین کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور چینی ہم منصب کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی ہے۔


    امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ میں بہت کم کیسز رپورٹ ہوئے ہیں لیکن ہم کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ہمارے ماہرین غیر معمولی صلاحتیوں کے مالک ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ میں مؤاخذے سے متعلق لکھا کہ سینیٹ میں میرے مؤاخذے پر آج بحث شروع ہو گی۔

  • پیسہ بنانے کیلئے مہنگائی کرنے والے مافیا کو نہیں چھوڑوں گا،مشکل وقت میں گھبراتا نہیں سیکھتا ہوں : وزیراعظم عمران خان

    پیسہ بنانے کیلئے مہنگائی کرنے والے مافیا کو نہیں چھوڑوں گا،مشکل وقت میں گھبراتا نہیں سیکھتا ہوں : وزیراعظم عمران خان

    کراچی:پیسہ بنانے کیلئے مہنگائی کرنے والے مافیا کو نہیں چھوڑوں گا،مشکل وقت میں گھبراتا نہیں سیکھتا ہوں،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مافیا ملک میں پیسہ بنانے کے لیے مہنگائی کرتے ہیں، ایک ایک کو پکڑیں گے، نہیں چھوڑیں گے۔

    کراچی میں کامیاب جوان پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بد دیانتی اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہمیشہ پروگرام ناکام ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا پروگرام نوجوانوں کیلئے ہے۔

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرٹ کا عمل ٹیلنٹ کو اوپر لاتا ہے۔ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سفارشی کلچر کی وجہ سے پاکستان پیچھے رہ گیا۔جتنا میرٹ ہوگا، اتنا ہی یہ پروگرام کامیاب ہوگا۔ جو معاشرہ میرٹ سے ہٹتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر ادارے کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا سسٹم میرٹ کو پروموٹ نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بیرون ملک پاکستانی بہت آگے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ میں نے زندگی میں جو خواب دیکھا وہ پورا ہوا۔ پاکستان کیلئے کرکٹ کھیلنا، دنیا کا سب سے اچھا آل راؤنڈر بننا، ورلڈ کپ جیتنا اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام اور نمل یونیورسٹی بنانا میرے خواب تھے۔ میرا اب ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان کوعظیم ملک بناؤں۔

    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل اور قوم کی آزمائش کا وقت ہے۔ میرا خواب ہے کہ پاکستان کو وہ عظیم ملک بناؤں جس کا قائداعظم اور علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ زندگی میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں لیکن کامیاب لوگ برے وقت سے سیکھتے ہیں۔ میں کابینہ میٹنگ میں اپنے وزرا کو گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں۔ میں انھیں بھی کہتا ہوں کہ برے وقت سے گھبرایا نہیں کرتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے عظیم اور کامیاب شخص ہمارے نبی ﷺ تھے۔ ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن انھیں اقتدار نہیں دے دیا تھا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے بڑا مشکل وقت گزارا لیکن مدینہ کی ریاست نے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔

  • چین میں مقیم پاکستانی طلبہ کس حال میں ، بتایا چینی سفیر نے

    چین میں مقیم پاکستانی طلبہ کس حال میں ، بتایا چینی سفیر نے

    چین میں مقیم پاکستانی کس حال میں ، بتایا چینی سفیر نے

    باغی ٹی وی :چین کے پاکستان میں متعین سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ ووہان میں مقیم 500 سے زائد پاکستانی طلبہ اور دیگر شہری مکمل طور پر محفوظ اور صحتمند ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ چین کی حکومت پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کررہی ہے۔کرونا وائرس، وزیر اعظم عمران خان نے خصوصی ہدایات جاری کر دیں

    چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری کردہ اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ووہان شہر کی مقامی حکومت شہریوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ اور چینی حکومت پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ چین کی حکومت ووہان میں مقیم پاکستانی طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں کے لیے ہرممکن تعان کررہی ہے۔

  • جو چینل تنخواہ نہ دیں ان کے اشتہار بند کردیے جائیں، سینٹ میں بحث

    جو چینل تنخواہ نہ دیں ان کے اشتہار بند کردیے جائیں، سینٹ میں بحث

    جو چینل تنخواہ نہ دیں ان کے اشتہار بند کردیے جائیں، سینٹ میں بحث

    باغی ٹی وی : سینیٹر مشاہد اللہ‏ نے کہا کہ باتیں نہ کریں یہ بتائیں تنخواہوں کا مسئلہ کیسے حل کراؤ گے ؟چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی وزیر مملکت علی محمد خان کوہدایت
    چینلز روایتی طریقے سے بات نہیں مانتے اور صحافیوں کو تنخواہیں بر وقت ادا نہیں کرتے تو غیر روایتی طریقہ اختیار کیا جائے اور اشتہارات کو مشروط کریں ، میڈیا میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر تمام صحافیوں نے سینٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا

    سینیٹر فیصل جاوید کا سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ‏پیمرا چینلز کے لائسنس کو تنخواہوں کی ادائیگی سے مشروط کر دے جو چینلز اپنے میڈیا ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کرتے ان کے لائسنس معطل کردئیے جائیں ۔

  • لودہراں : حادثے میں حاضر سروس پولیس انسپکٹر جاں بحق

    لودہراں (نمائندہ باغی ٹی وی) اسسٹنٹ سب انسپکٹر شیر محمد موٹر سائیکل پر پولیس لائن سے گھر جاتے ہوئے ملت ہسپتال کے سامنے حادثے کا شکار ہوئے جنکو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لودہراں منتقل کیا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.

    جاں بحق انسپکٹر کا تعلق دنیاپور کے نواحی علاقے 33 ایم سے تھا

  • وزیر اعظم کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کر دیں

    وزیر اعظم کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کر دیں

    وزیر اعظم کرونا وائرس پھیلنے کے خدشے سے متعلق خصوصی ہدایات جاری کر دیں۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم آفس سے متعلقہ وزارتوں کو جاری کردہ مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ وائرس کے خطرے کے پیش نظر پیشگی حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور وائرس کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

    کرونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے اعلیٰ سطح کا بین الوزارتی اجلاس بلانے کی ہدایت کر دی گئی جو معاون خصوصی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کی زیرصدارت منعقد ہو گا۔اجلاس میں سیکرٹری خارجہ، نیشنل ہیلتھ سروسز، وزارت داخلہ ،وزارت ہوابازی اور صوبائ

    ی سیکرٹریز صحت شریک ہوں گے۔ چئیرمین نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سمیت پاکستان آرمی اور دیگر سینئرافسران بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    کرونا وائرس کے بعد نئی بیماری نے آن گھیرا…

    وزیر اعظم آفس سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق کرونا وائرس کے اب تک 2 ہزار تصدیق شدہ کیسز دنیا بھر میں سامنے آ چکے ہیں اور کرونا وائرس کے پھیلانے کے خدشے کو خارج الزامکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔

  • شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    آرزوئے سحر
    : شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی،تحریر: انشال راؤ

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے "اک ماتا یجنا” کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم "رتھ یاترا” کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، لیکن 1999 میں اقتدار میں آکر ایک بار پھر بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے عمل کو تیز کردیا، مرلی منوہر نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی ٹیکسٹ بک بورڈ، تحقیقی و دیگر اہم پوزیشنوں پر شدت پسند ہندو بٹھا دئیے جس نے بھارت کے تعلیمی ڈھانچہ کو ہندوتوا نظریہ کے مطابق قائم کردیا جس سے اس نسل کو تو کوئی فرق نہ پڑا جنہوں نے یا تو براہ راست آزادی کے لیے قربانیاں دیں یا دیکھیں یا وہ جنہوں نے اپنے بزرگوں سے یہ باتیں سنیں لیکن نسل نو اس زہر کا شکار ہوگئی اور آج بھارت جل رہا ہے، 2002 میں مودی کی حکومت میں گجرات میں ہزارہا مسلمان شہید کردئیے گئے اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑنے پہ مجبور کردیا گیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی مودی سے سنگین بدانتظامی، نااہلی و کوتاہی پہ سوال کرتی لیکن الٹا نریندر مودی کو ہیرو کے طور پر جانا جانے لگا جسے انعام کے طور پر 2014 میں بھارت کا وزیراعظم بنادیا گیا، جس نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پہ تیزی سے عمل شروع کردیا۔ مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول کی تکون نے بھارت کے جلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پہلے گائے ماتا اور جے شری رام نعرے کی آڑ میں مسلمانوں و عیسائیوں پہ خوب ظلم کے پہاڑ توڑے اور اب CAA اور NRC جیسے کالے قوانین کے زریعے سیکیولر بھارت کو دنیا میں شدت پسند ہندو دیش کے طور پر مشہور کردیا ہے، کانگریس دور میں دنیا کا سب سے تیز معاشی ترقی کرتے بھارت کی معیشت کے پہیے کو مودی سرکار کے طلوع ہوتے ہی بریک لگنا شروع ہوئی کیونکہ کوئی بھی ملک نفرت کے اصولوں پہ رہ کر ترقی تو دور زیادہ عرصے تک اپنا وجود بھی قائم نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ آج کے بھارت میں بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکی ہے، کاروبار ٹھپ ہیں، لوگ غریب سے غریب تر ہونے کا سفر تیزی سے طے کررہے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، NCRB کے مطابق جرائم کی شرح سات دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کیوں نہ ہو جب BJP کی پارٹی پالیسی مجرمان کو تحفظ دینے کی ہو تو جرائم تو بڑھیں گے، حکمران جماعت کرمنلز کو جینے کا موقع دینے کے نام پر کرمنلز کو جماعت کا حصہ بناکر اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے، CAA اور NRC کے بعد پورا بھارت جل رہا ہے جسے جمہوری تقاضوں کے برخلاف بزور طاقت دبانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے لیکن اب یہ قافلہ رکنے والا نہیں اور جیسا کہ بھارتی رہنما سوماشکرا ریڈی، دلیپ گھوش، رگھو راج، سی ٹی راوی اور امیت شاہ وغیرہ اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں اور اگر یہ چنگاری بھڑک اٹھی تو یہ نقصان بھارت سمیت تمام بھارتیوں کا ہی ہوگا، مودی اپنے جارحانہ عزائم پر بدستور قائم ہیں جہاں لوگ غربت سے مر رہے ہوں وہاں ملکی خزانے کا بڑا حصہ ہتھیاروں میں جھونکا جارہا ہے 2013 تک بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری پر 2 ارب ڈالر خرچ کرچکی تھی جو مودی سرکار میں چھ ماہ کے اندر اندر 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اپنے پہلے دور میں مودی نے 41 ہتھیاروں کی خریداری کی اسکیمیں منظور کیں، رافیل طیاروں کی اربوں ڈالر کی ڈیل کے علاوہ غیرمعمولی رقم کی روس کے ساتھ ڈیل نے بھارت کے عوام پر بوجھ کو کئی سو گنا بڑھادیا ہے آج بھارت ہتھیار خریدنے والا دنیا کا ٹاپ ملک ہے جبکہ روایتی حریف پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے عوامی فلاح و بہبود پہ توجہ دے رکھی ہے، مودی سرکار کی شدت پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی بدولت ایک طرف تو بھارت اندرون خانہ آتش فشاں کے دہانے پہ پہنچ گیا تو دوسری طرف خطے کے کسی بھی ملک سے اس کے تعلقات اچھے نہیں خواہ چین ہو یا پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا و نیپال تک بھارتی سلوک سے خوش نہیں، اس کے علاوہ مودی سرکار کی منافقانہ پالیسیوں کی بدولت بھارت عالمی سطح پر نہ صرف بدنام ہوا بلکہ اسے ایک شدت پسند ریاست کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور یورپ امریکہ و عرب ممالک بھارت سے دور ہوتے جارہے ہیں یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں بھارت اپنے اندر کے آتش فشاں کے لاوے کا شکار ہوجائیگا اور بی جے پی کی شدت پسندی بھارت کو لے ڈوبے گی۔

  • سٹیج ڈرامہ "پاکستان کا بیٹا اور صدائے کشمیر” سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

    سٹیج ڈرامہ "پاکستان کا بیٹا اور صدائے کشمیر” سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

    سٹیج ڈرامہ. پاکستان کا بیٹا اور صدائے کشمیر سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

    اسلام آباد (باغی ٹی وی ) پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے زیر اہتمام یوم ِ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ پروگراموں کے سلسلے میں پی این سی اے آڈیٹوریم میں سٹیج ڈارمہ پاکستان کا بیٹا اور صدائے کشمیر پیش کیا گیا۔ سٹیج ڈرامہ میں کشمیر ی فنکاروں نے اسلام اور پاکستان سے اپنے بے پنا ہ محبت کا اظہار کرتے اپنی آزادی کے لئے اُٹھانے والی تمام مشکلات اور تکالیف کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ڈرامہ میں دشمن ملک بھارت کے پاکستان اور کشمیر میں را کی خفیہ کاروائیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس میں بھارتی ایجنٹ پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اشتیاق آتش کا لکھا یہ ڈرامہ پہلی بار 1988 میں لیاقت ہال میں پیس کیا گیا تھا۔ ڈرامہ اور صدائے کشمیر کے ذریعے کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا اور اقوام عالم سے انصاف دلانے کی اپیل کی گئی۔ یوم یکجہتی کشمیر کے پروگراموں کی اگلی گڑی ثقافتی شو میں کشمیر ی فنکارں اور گلوکاروں نے کشمیر ی لوک گیت/ موسیقی، سوہنیا کشمیر ماڑے سوہنے کشمیر،منے دی موج وچ ہسناں میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اِک دن، دیکھ تو یہ وادی ِ کشمیر، ہر زبان پر نعرہ تکبیر ہے اور لہو مانگتی ہے چناروں کی دھرتی پیش کی۔ اسی سلسلے میں آج مورخہ 28 جنوری کو نیشنل آرٹ گیلری میں تصویری نمائش ہو گی جبکہ 29 جنوری کو دن 11 بجے پتلی تماشہ پیش کیا جائے گا۔

  • پی این سی اے میں تقریبات یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز,سٹیج ڈرامہ اور ثقافتی شو پیش کیا گیا۔

    پی این سی اے میں تقریبات یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز,سٹیج ڈرامہ اور ثقافتی شو پیش کیا گیا۔

    اسلام آباد:پی این سی اے میں تقریبات یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز,سٹیج ڈرامہ اور ثقافتی شو پیش کیا گیا۔،اطلاعات کےمطابق پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے زیر اہتمام یوم ِ یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ پروگراموں کے سلسلے میں پی این سی اے آڈیٹوریم میں سٹیج ڈارمہ پاکستان کا بیٹا اور صدائے کشمیر پیش کیا گیا۔

    ذرائع کےمطابق سٹیج ڈرامہ میں کشمیر ی فنکاروں نے اسلام اور پاکستان سے اپنے بے پنا ہ محبت کا اظہار کرتے اپنی آزادی کے لئے اُٹھانے والی تمام مشکلات اور تکالیف کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ڈرامہ میں دشمن ملک بھارت کے پاکستان اور کشمیر میں را کی خفیہ کاروائیوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    جس میں بھارتی ایجنٹ پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اشتیاق آتش کا لکھا یہ ڈرامہ پہلی بار 1988 میں لیاقت ہال میں پیس کیا گیا تھا۔ ڈرامہ اور صدائے کشمیر کے ذریعے کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا اور اقوام عالم سے انصاف دلانے کی اپیل کی گئی۔

    یوم یکجہتی کشمیر کے پروگراموں کی اگلی گڑی ثقافتی شو میں کشمیر ی فنکارں اور گلوکاروں نے کشمیر ی لوک گیت، سوہنیا کشمیر ماڑے سوہنے کشمیر،منے دی موج وچ ہسناں میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اِک دن، دیکھ تو یہ وادی ِ کشمیر، ہر زبان پر نعرہ تکبیر ہے اور لہو مانگتی ہے چناروں کی دھرتی پیش کی۔ اسی سلسلے میں آج مورخہ 28 جنوری کو نیشنل آرٹ گیلری میں تصویری نمائش ہو گی جبکہ 29 جنوری کو دن 11 بجے پتلی تماشہ پیش کیا جائے گا۔