Baaghi TV

Author: +9251

  • اسرائیلی ریاست کا کالا قانون، فلسطینی بچے کوعمر قید کی سزا

    اسرائیلی ریاست کا کالا قانون، فلسطینی بچے کوعمر قید کی سزا

    طولکرم: اسرائیلی ریاست کا کالا قانون، فلسطینی بچے کوعمر قید کی سزا،اطلاعات کےمطابق اسرائیل کی ایک فوج داری عدالت نے کم عمر فلسطینی بچے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ کم عمر ہونے کے باوجود صہیونی عدالت کی طرف سے فلسطینی بچے کو عمر قید کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی ریاست کسی بین الاقوامی انسانی حقوق اورعالمی قانون کی پاسداری نہیں کرتی۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت کی طرف کم عمر ہونے کے باوجود فلسطینی بچے ایھم الصباح کو عمر قید کی سزا کی توثیق کی ہے۔خیال رہے کہ ایھم الصباح کو اسرائیلی فوج نے 2016ء کو ایک اسرائیلی فوجی کو ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل 11 کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوجی عدالت کی طرف سےایھم الصباح کو 35 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے اپیل عدالت میں چیلنج کیا گیا جہاں ایھم کی سزا مزید بڑھا کرعمرقید کردی گئی ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل میں عمر قید کی سزا کم سے کم 40 سال پر مشتمل ہے۔

    فلسطینی ذرائع کا کہنا ہےکہ ایھم الصباح نے سنہ دو ہزار سولہ میں رام اللہ کے قریب ‘رامی لیوی’ تجارتی مرکز میں ایک اسرائیلی فوج کو چاقو کا حملہ کرکے ہلاک کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ایھم الصباح کو گولیاں مار کر زخمی کردیا اور اس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔

  • 25 سال ملک کی خدمت کی، اب شہریت ثابت کرنا مشکل لگ رہا ہے، یہ کیسا ہے ہندوستان ؟ دلت رہنما چیخ اٹھے

    25 سال ملک کی خدمت کی، اب شہریت ثابت کرنا مشکل لگ رہا ہے، یہ کیسا ہے ہندوستان ؟ دلت رہنما چیخ اٹھے

    نئی دہلی:25 سال ملک کی خدمت کی، اب شہریت ثابت کرنا مشکل لگ رہا ہے، یہ کیسا ہے ہندوستان ؟ دلت رہنما چیخ اٹھے،اطلاعات کےمطابق سابق آئی پی ایس آفیسر ایس آر داراپوری کا کہناہے کہ میں نے پچیس سالوں تک آئی پی ایس کے طور پر بھارت کی خدمت انجام دی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اگر این آر سی اور این پی آر کی کاروائی ہوگی تو میں بھی اپنی شہریت ثابت نہیں کرپاﺅں گا ۔

    پریس کلب آف انڈیا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران دارا پوری نے کہاکہ میں پنجاب کا رہنے والاہوں ۔ اترپردیش میں رہائش اختیار کرچکاہوں ۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگر این آرسی اور این پی آر کی کاروائی ہوگی تو میں اپنی شہریت ثابت نہیں کرپاﺅں گا کیوں کہ میرے پاس ایسا کوئی ثبوت اور کا غذ نہیں ہے ۔جب ایک آئی پی ایس سطح کا آدمی اتنا خوف محسوس کررہاہے تو اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ دلت اور آدی واسیوں کا کیا ہوگا جن کے پاس زمین نہیں ہے ۔ کاغذ نہیں ہے ۔

    یاد رہےکہ اس وقت ہندوستان میں اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد وہاں کی اقلیتوں کےلیے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں حتی کہ کہ بھی سنا جارہا ہےکہ بھارتی حکومت اور انتہا پسند ہندومسلمانوں سے کہہ رہےہیں کہ وہ پاکتان چلے جائیں ان کا ہندوستان میں کچھ نہیں ہے

  • ظالم بیوی نے آنکھوں کے قطروں سے شوہر کی جان لے لی

    ظالم بیوی نے آنکھوں کے قطروں سے شوہر کی جان لے لی

    واشنگٹن: امریکا میں سفاک بیوی نے شوہر کو آنکھوں کے قطرے(آئی ڈراپ) کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا۔،اطلاعات کےمطابق امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کیرولینا کی 53 سالہ خاتون کلیٹن کو عدالت نے شوہر کا قاتل قرار دیتے ہوئے 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    امریکی میڈیا کا کہنا ہےکہ اس خاتون نے رضاکارانہ طور پر جرم کا اعتراف کیا اور دوران تفتیش پراسیکیوٹر کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے شوہر کو رقم کے لیے قتل کیا ہے، خاتون کا کہنا ہے کہ وہ شوہر کو مارنا نہیں چاہتی تھی بس سے اس سے چھٹکارا چاہتی تھی اور اکیلے زندگی گزارنا چاہتی تھی۔

    قتل کا واقعہ 2018 میں پیش آیا تھا، ابتدائی طور پر 64 سالہ اسٹیون کی موت فطری قرار دی گئی تاہم پوسٹ مارٹم ٹاکسولوجی رپورٹ میں ٹیٹراہا ئیڈروزولین کی زہریلی سطح ظاہر ہوئی، جو آنکھوں کے قطروں میں پایا جاتا ہے۔پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کی تو اہلیہ کو شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جس نے دوران تفتیش سب سچ اگل دیا، خاتون نے بتایا کہ اس نے یہ منصوبہ فلموں سے لیا تھا، کیونکہ آنکھوں کے قطرے بے رنگ، بے زائقہ اور بغیر بو کے ہوتے ہیں۔

    خاتون نے بتایا کہ وہ سابقہ نرس تھی اس لیے وہ جانتی تھی کہ آئی ڈراپ سے موت واقع نہیں ہوگی لیکن شوہر کو پیٹ درد ہوگا اور وہ تڑپے گا، چنانچے پانی میں کچھ قطرے ملا کر شوہر کو پلا دیے جس سے اس کی طبعیت اس قدر خراب ہوئی کہ وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

  • العراقیب گاوں صہیونیوں کے ہاتھوں 172 ویں بار مسمار

    العراقیب گاوں صہیونیوں کے ہاتھوں 172 ویں بار مسمار

    مقبوضہ بیت المقدس: العراقیب گاوں صہیونیوں کے ہاتھوں 172 ویں بار مسمار،اطلاعات کےمطابق گذشتہ سات سال سے اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا تواتر کے ساتھ نشانہ بننے والا العراقیب گاؤں ایک بار پھر مرتبہ مسمار کردیا گیا۔ فلسطینی قصبے العراقیب کی مسماری کا سلسلہ جولائی 2010ء کے بعد سے جاری ہے اور اب تک اسے 172 بار مسمار کیا جا چکا ہے۔ گذشتہ روز کی انہدامی کارروائی میں صہیونی فوجیوں نے العراقیب گائوں کے باشندوں کے عارضی خیمے بھی اکھاڑ پھینکے اوران کی کرسیاں اور خیموں میں موجود دیگر سامان بھی لوٹ لیا۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق العراقیب گاؤں کی تازہ مسماری کی کارروائی گذشتہ روز کی گئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج، پولیس اور اسپیشل فورسز کے سیکڑوں اہلکاروں نے بھاری میشنری اور بلڈوزروں کی مدد سے شہریوں کے مکانات کی مسماری شروع کی ور سیکڑوں فلسطینیوں کو ایک مرتبہ پھر سخت موسم کے باوجود ان کی کچی جھونپڑیوں سے بھی محروم کردیا گیا۔شہریوں نے بتایا کہ انہدامی کارروائی سے قبل اسرائیلی فو کی کئی گاڑیاں وہاں آ کر رکیں جس کے بعد بلڈوزر اور دیگر بھاری مشینری وہاں لائی گئی اور چند منٹ کے اندر اندر فلسطینیوں کے عارضی شیلٹرز گرا دیے گئے۔

    خیال رہے کہ اسرائیل جنوبی فلسطین کے ان عرب دیہاتوں کے باشندوں کو صدیوں سے وہاں قیام پذیر ہونے کے باوجود غیرریاستی باشندے قرار دے کروہاں سے نکالنا اوران کی املاک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ سلسلہ سنہ 1948ء کے بعد سے مسلسل جاری ہے مگر حالیہ چند برسوں سے جزیرہ نما النقب کے علاقوں میں صہیونی جارحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔

    جولائی دو ہزار دس کے بعد سے اب تک العراقیب گاؤں میں فلسطینی عرب باشندوں کے سیکڑوں مکانات کو کئی بار گرایا گیا ہے۔ فلسطینیوں کے پاس اس کا کوئی متبادل نہیں ہے اور نہ ہی صہیونی ریاست انہیں کوئی اس کا متبادل مقام دینا چاہتی ہے۔ اس لیے مظلوم شہری دوبارہ وہیں اپنی مسمار شدہ جھونپڑیوں کے ملبے پر تنکے چن کرپھر آشیاں بندی کر لیتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد انہیں پھر مسمار کردیا جاتا ہے۔

    العراقیب جزیرہ نما النقب کی ان 51 بستیوں میں سے ایک ہے جنہیں صہیونی حکومت نے غیرقانونی قرار دے رکھا ہے اور وہاں پر رہنے والوں کے کچے مکانات اور جھونپڑیاں آئے روز مسمار کی جاتی ہیں۔ مجموعی طورپر جزیرہ النقب میں اڑھائی لاکھ فلسطینی عرب بدو آباد ہیں۔ اسرائیل ان فلسطینیوں کو غیرقانونی باشندے قرار دیتا ہے۔

    العراقیب گاؤں جزیرہ نما النقب میں واقع ہے۔ یہ جزیرہ کل فلسطینی رقبے کا 40 فی صد ہے جس کا کل رقبہ 12 ہزار 577 مربع کلو میٹر ہے اور اس میں دو لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ اسرائیل اس جزیرے کی فلسطینی آبادی کو آٹھ دیہاتوں تک محدود کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

  • ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا

    ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا

    واشنگٹن :ماہرین نے اندھیرے میں راستہ بتانے والے کانٹیکٹ لینس تیار کرکے انقلاب برپا کردیا،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اب بہت جلد یہ ممکن ہونے والا ہے کہ اندھیرے میں بھی کانٹیکٹ لینز کے استعمال سے بلکل صاف دیکھا جائے گا جس کے لیے کسی عینک کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    ماہرین طب کےمطابق اس جدید ٹیکنالوجی سے بنے کانٹیکٹ لینز کی مدد سے سڑک سے آگے کا راستہ معلوم بھی کرسکیں گے یہاں تک کہ کسی بھی جگہ کا احوال بھی پتا کرسکیں گے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہےکہ اس کے علاوہ موسم کا حال، کھیل کا احوال، اسٹاک کا بیان، سرکاری فرمان اور بین الاقوامی معاملات اور خبریں اپنی آنکھ میں ہی پڑھ سکیں گے۔

    دلچسپ یہ کہ اگر آپ کسی انجانی راہ پر چل رہے ہوں تو لینس کی مدد سے آگے کا راستہ اور رکاوٹوں سےبھی باخبر رہے گے۔خیال رہے کہ اگر لینز کو آنکھ کے قریب لاکر دیکھا جائے تو اس میں ننھے روشن الفاظ دیکھے جاسکتے ہیں جو لینز پہننے کے بعد دکھائی دیتے ہیں۔

    ماہرین طب کے مطابق اس جدید اورمنفرد ٹیکنالوجی سے بنے لینس کی خاص بات یہ ہے کہ اس لینس کے استعمال سے دل کی دھڑکن اور جسمانی کیفیات بھی معلوم ہوتی ہے۔واضح رہے اس جدید ٹیکنالوجی کے لینس کی تیاری میں بہت ساری کمپنیاں ایک ساتھ کام کررہی ہیں جن میں گوگل، ایمیزون، زیئس اور فلپس وغیرہ شامل ہیں۔

  • غزہ میں مختلف اہداف پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری،بڑے پیمانے پرجانی نقصان کا اندیشہ

    غزہ میں مختلف اہداف پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری،بڑے پیمانے پرجانی نقصان کا اندیشہ

    غزہ : غزہ میں مختلف اہداف پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری جاری،بڑے پیمانے پرجانی نقصان کا اندیشہ ،اطلاعات کے مطابق فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی طرف سے متعدد اہداف پر بم باری کی گئی جس کےنتیجے میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم بمباری کے نتیجے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔

    مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کےمطابق صہیونی فوج کے جنگی طیاروں نے بدھ اور جمعرات شمال مغربی غزہ میں السفینہ کےمقام پر متعدد میزائل داغے۔ ان میزائل حملوں کے نتیجے میں غیرمعمولی دھماکے ہوئے۔ادھرشمالی غزہ میں شہری دفاع کے مرکز پراسرائیلی فوج کی بمباری میں عمارت کونقصان پہنچا۔

    غزہ سے آمدہ اطلاعات کےمطابق ایک فیلڈ آبزر ور نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کی طرف سے اسرائیلی طیاروں پر شدید فائرنگ کی گئی۔جمعےکی شام اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی سے داغے گئے تین میزائل قریبی یہودی کالونیوں میں گرے ہیں۔قابض فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے چار میزائل داغے گئے۔

  • خراب آب و ہوا بھی زندگی کی سہولتیں اورمزے چھین لیتی ہے، اقوام متحدہ کے ماہرین کی دلچسپ رپورٹ

    خراب آب و ہوا بھی زندگی کی سہولتیں اورمزے چھین لیتی ہے، اقوام متحدہ کے ماہرین کی دلچسپ رپورٹ

    نیویارک:خراب آب و ہوا بھی زندگی کی سہولتیں اورمزے چھین لیتی ہے، ماہرین کی دلچسپ رپورٹ ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق آب و ہوا کے بحران کے ساتھ مستقل طور پر اعلی عدم مساوات ، اور غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کی بڑھتی ہوئی سطح کا اثر بہت سارے معاشروں میں معیار زندگی کو متاثر کررہا ہے اور عدم اطمینان کا باعث بن رہا ہے۔

    2020 کی عالمی اقتصادی صورتحال رپورٹ (ڈبلیو ای ایس پی) کو جاری کرتے ہوئے ، اقوام متحدہ کے اقتصادی ماہرین نے اس رپورٹ کے پیچھے توانائی کے شعبے میں “بڑے پیمانے پر ایڈجسٹمنٹ” کرنے کا مطالبہ کیا ، جو اس وقت گرین ہاؤس گیس کے تقریبن چوتھائی عالمی اخراج کا ذمہ دار ہے۔

    اگر اگلے چند سالوں کے دوران دنیا فوسیل ایندھنوں پر انحصار کرتی رہی ، اور ترقی پذیر ممالک میں اخراج امیر ممالک میں ان کی سطح تک بڑھ جاتا ہے تو اس کے تباہ کن نتائج کے حامل عالمی کاربن کے اخراج میں 250 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا۔رپورٹ کے مصنفین کا اصرار ہے کہ دنیا کی توانائی کی ضروریات کو قابل تجدید یا کم کاربن توانائی کے ذرائع سے پورا کرنا چاہئے ، جس سے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق فوائد حاصل ہوں گے ، جیسے کم فضائی آلودگی ، اور بہت سے ممالک کے لئے نئے معاشی مواقع۔

    فوسیل ایندھن پر اس انحصار کو “مختصر نظریہ” کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے سرمایہ کاروں اور حکومتوں کو اچانک نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ تیل اور گیس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ ، اور ساتھ ہی ماحولیاتی حالات جیسے عالمی حرارت میں اضافے میں بھی مدد ملتی ہے۔مشرقی ایشیاء کا خطہ دنیا کا تیز ترین ترقی پذیر خطہ ہے ، حالانکہ 2019 میں چین کی معیشت 6.1 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ اگرچہ اس کی شرح نمو متوقع ہے، چین اب بھی 2021 تک عالمی سطح پر شکست خوردہ نمو دیکھے گا۔

    دنیا کے زیادہ ترقی یافتہ حصوں میں بہت سست ترقی دیکھنے میں آرہی ہے ، جس کی توقع ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ نے 2019 میں 2.2 فیصد سے 2020 میں 1.7 فیصد تک سست روی کی توقع کی ہے۔یوروپی یونین میں صرف 1.6 فیصد اضافے کی توقع ہے ، اگرچہ 2019 میں یہ بہتری ہے ، جب بلاک میں صرف 1.4 فیصد اضافہ ہوا۔ دونوں خطوں میں سست ترقی کا الزام عالمی غیر یقینی صورتحال پر لگایا جاتا ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق ، پاکستان دوہری خسارے سے دوچار ہے اور اس کی مالی پالیسی سخت کرنے پر مجبور ہوگئی ہے ، جس کی شرح نمو 2019 میں 3.3 فیصد رہی ہے۔”اس رپورٹ کے اختتام پر واضح کیا گیا کہ “آب و ہوا کے بحران سے وابستہ خطرات اب بھی ایک بہت بڑا چیلنج بن رہے ہیں” اور “آب و ہوا کے عمل کو کسی بھی پالیسی مرکب کا لازمی جزو ہونا چاہئے”۔

  • اسرائیلی فوج قیادت میں تبدیلیاں ، کسی بڑے پیش خیمے کا اشارہ

    اسرائیلی فوج قیادت میں تبدیلیاں ، کسی بڑے پیش خیمے کا اشارہ

    مقبوضہ بیت المقدس:اسرائیلی فوج قیادت میں تبدیلیاں ، کسی بڑے پیش خیمے کا اشارہ ،اطلاعات کےمطابق اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج کی اعلیٰ کمان میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کیا گیا ہے۔فوج میں تبادلوں پرعمل درآمد سے قبل یہ فیصلہ منظوری کے لیے وزیر دفاع کو بھیجا گیا تھا۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق فوج کی اعلیٰ کمان کی صفوں میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کیا گیا ہے۔ فوجی عہدیداروں کے تقرر اور تبادلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل آویف کوحافی کی طرف سے دی گئی ہے۔جنرل گال ابراہام کو فوج کے داخلی محاذ پر ہیومن ریسور منٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ میجر آونر لونٹی کو بری فوج میں تعینات کرنے سے قبل کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔

    اسرائیلی وزارت دفاع کےمطابق میجر یوفات یگر کو سینٹرل کمانڈ میں ترقی دینے سے قبل کرنل کے عہدے پرتعینات کیا گیا۔ اسی طرح لئیل شار عیدان کو کرنل کےعہدے پرتعینات کرتے ہوئے انہیں ناردرن کمان میں ہیومن ریسورمنٹ کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔

  • اسرائیلی فضائیہ کو تاریخ کا بدترین نقصان، 8 ایف سولہ طیارے تباہ

    اسرائیلی فضائیہ کو تاریخ کا بدترین نقصان، 8 ایف سولہ طیارے تباہ

    مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فضائیہ کو تاریخ کا بدترین نقصان، 8 ایف سولہ طیارے تباہ،اطلاعات کےمطابق اسرائیلی فضائی دفاع کے محکمے کوتاریخ کا بدترین نقصان پہنچا ہے۔ صہیونی ریاست نے اعتراف کیا ہےکہ حالیہ طوفانی بارشوں کے باعث ‘8 ایف 16′ جنگی طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔

    اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو اسرائیل میں شدید بارشوں اور اس کے نتیجے میں سیلابی ریلے سے تل ابیب کے جنوب میں واقع ایک فوجی اڈے اور اس پرموجود طیاروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی ریاست کی تاریخ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہے۔عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق تل ابیب کے جنوب میں واقع ایئربیس پر کھڑے طیاروں کو نقصان پہنچنے کے بعد انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    عبرانی نیوز ویب سائٹ’ وائی نیٹ’ کے مطابق سیلابی ریلہ ایئربیس کے دونوں اطراف سے بہہ نکلا جس کے نتیجے میں پانی ہوائی اڈے کے اندر داخل ہوا جس کے باعث جنگی طیاروں اور فوجی اڈے کو کروڑوں ڈالر کانقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے مطابق پانی کا ریلا ہوائی اڈے کے گودم میں داخل ہوگیا جس کے نتیجے میں گودام ملبے سے بھرگیا۔ اس کے علاوہ کئی جنگی طیاروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ویب سائٹ کے مطابق فوجی اڈے پربعض مقامات پر پانی ایک سے ڈیڑھ میٹر پانی کھڑا ہوگیا اور کئی سیلابی پانی کئی طیاروں کے اندر گھس گیا۔

  • شامی فوج اور مخالف فورسز کے درمیان شدید لڑائی 50 اسد مخالف عسکریت پسند مارے گئے

    شامی فوج اور مخالف فورسز کے درمیان شدید لڑائی 50 اسد مخالف عسکریت پسند مارے گئے

    دمشق:شامی فوج اور مخالف فورسز کے درمیان شدید لڑائی 50 اسد مخالف عسکریت پسند مارے گئے ،اطلاعات کےمطابق آج شام کے صوبہ ادلب میں فوج نے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا جس میں 50 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شام کی فوج نے ادلب میں دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنا دیا۔روسی خبر رساں ایجنسی آرٹی کے مطابق روس کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، شامی فوج نے یہ حملہ ناکام بنا دیا جس میں کم از کم 50 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران 24 شامی فوج لاذقیہ، حلب، ادلب اور حماۃ میں دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جنگ میں جاں بحق اور 24 دیگر زخمی ہوئے۔ ادلب میں ترکی اور روس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے پانچ دن گزرنے کے باوجود، دہشت گردوں کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔