Baaghi TV

Author: +9251

  • وہاڑی (نمائندہ باغی ٹی وی) تجاوزات کی بھرمار شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی کے سبزہ زار میں منعقدہ ڈی سی وہاڑی کی کھلی کچہری ختم ہونے کے ساتھ ہی قبضہ مافیا نے گول چوک اور ملحقہ سڑکوں پر ایک بار پھر ناجائیز تجاوزات قائم کر لیں ہیں شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تجاوزات کو مستقبل بنیادوں پر حل کیا جائے

  • چاروں صوبوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ہسپتال جلد تعمیر کیئے جائیں،لوگوں کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی،وزیراعظم

    چاروں صوبوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ہسپتال جلد تعمیر کیئے جائیں،لوگوں کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی،وزیراعظم

    اہور:چاروں صوبوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ ہسپتال جلد تعمیر کیئے جائیں،لوگوں کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی. اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تمام صوبوں میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے اسپتال بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں پنجاب میں مذکورہ اسپتال کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر بون میرو ٹرانسپلانٹ کے لیے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز (این آئی بی ڈی) اسپتال بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں میں 500 بستروں کے بون میرو اسپتال بنائے جائیں گے۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے این آئی بی ڈی کے سربراہ طاہر شمسی سے مشاورت مکمل کرلی۔

    ذرائع کے مطابق سندھ، پنجاب، پختونخواہ اور بلوچستان میں اسپتال قائم ہوں گے، ایک یونٹ کی تعمیر پر 6 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔ پہلے مرحلے میں پنجاب میں یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔مشاورتی عمل کے دوران ڈاکٹر طاہر شمسی نے پنجاب میں 2 سو بستروں سے اسپتال شروع کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ کے لیے ماہرین اور انفرا اسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے اسپتال نجی شعبے میں قائم ہیں، ملک میں سالانہ 10 ہزار بون میرو ٹرانسپلانٹ کے مریض ہوتے ہیں۔ این آئی بی ڈی اب تک 800 بون میرو ٹرانسپلانٹ مکمل کر چکا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہےکہ اس مرحلے کے بعد گلگت بلتستان اورپھرآزاد کشمیرمیں بھی بون میروہسپتال قائم کیئے جائیں گے

  • وہاڑی : پوی عوام کی حفاظت کیلئے 24 گھنٹے الرٹ ہے

    وہاڑی( نمائندہ باغی ٹی وی) عوام کی حفاظت کے لیے پولیس 24 گھنٹے الرٹ ہے عوام کے تعاون سے ہی جرائم پر قابو پایا جا سکتا ہے عوام کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اولین ترجیح ہےوہ دن دور نہیں جب تھانہ دانیوال سے جرائم پیشہ عناصر کا صفایا ہوجائے گا عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر مہیا کرنامشن ہے

    ان خیالات کا اظہار ایس ایچ او ماڈل پولیس اسٹیشن تھانہ دانیوال مرزا رحمت علی نے جامح مسجد ابوبکر شان چوک میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں کے مسائل سنتے ہوئے کیا اس موقع پر ماڈل پولیس اسٹیشن کے تفشیشی افسران بھی موجود تھے ایس ایچ او مرزا رحمت علی نے کہا کہ عوام پولیس کے ساتھ مل کر مسائل کرنے کیلئے بھرپور کردار اداکریں جبکہ اس موقع پر شہروں نے کہا کہ پولیس افسران کا مساجد کی سطح پر کھلی کچہریوں کے دوران عوام کے مسائل حل کرنا ایک مثالی قدم ہے جس پر ہم وہاڑی پولیس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

  • بلے باز محمد حفیظ نے اپنے کیرئیر کا بڑا اعلان کر دیا

    بلے باز محمد حفیظ نے اپنے کیرئیر کا بڑا اعلان کر دیا

    بلے باز محمد حفیظ اپنے نے کیرئیر کا بڑا اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی :بلے باز محمد حفیظ نے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ کے بعد کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کرديا ۔ کہتے ہیں قومي ٹيم ميں سلیکشن پر حیرانی نہیں ہے سترہ سال بطور بیٹسمین کھیلا ہوں اب با عزت طریقے سے جانا چاہتا ہوں ۔ لاہور ميں قومي کرکٹ ٹيم کے تربيتي کيمپ کے آغاز کے موقع پر ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے
    سابق کپتان محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ قومي ٹیم میں واپسی میرے لئے سر پرائز نہیں ہے ۔ میں ٹیم کو مس کررہاتھا واپسی پر خوشی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ
    بنگلہ ديش کے خلاف سيريز ميں باولنگ کو مس کروں گا کيونکہ اس کا فائيدہ ٹيم کو ہوتا ہے ۔ ليکن ايک بار پھر باولنگ ایکشن کے ٹیسٹ کے لئے تیار ہوں ۔
    میں پاکستان کے لئے بطور بلے باز کھیلا ہوں ۔ میرا پلان ہے کہ فٹنس اور فارم کے ساتھ ورلڈ ٹی ٹونٹی کھیلوں اور بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرڈ ہوجاوں ۔ میں کبھی اپنے آپ سے مایوس نہیں ہوا بلکہ ہمیشہ پر امید رہتا ہوں اور مثبت انداز ميں سوچتا ہوں ۔ اور اسي مثبت سوچ کے ساتھ ٹیم میں آیا ہوں ۔ میری کوشش ہوگی کہ ميرے اوپرجو اعتماد کیا گیا ہے اس پرپورا اتروں ۔ اور
    قومی ٹیم کو فتوحات کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کروں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کواپنے تجربے سے بتاوں گا کہ کس طرح حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ کپتان بابر اعظم کو بھي ميرا بھرپور تعاون حاصل ہوگا اور ان کو ميرے مشورے کي ضرورت ہوي تو مشورہ بھي دونگا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اپنے لوگوں کے سامنے کھیلنےکو بے تاب ہوں ۔ اب زیادہ سے زيادہ شائقین کرکٹ کو میدان میں آکر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئیے ۔

  • لودہراں : آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) بہاولپور روڈ 100 چک کے قریب آئل ٹینکر کے ٹائروں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

    لودھراں ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ھی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی۔ایریا کوارڈن آف کرکے آگ پر فوراً قابو پا لیا گیا۔

    آئل ٹینکر میں 60 ہزار لٹر پٹرول موجود ھے۔آئل ٹینکر ملتان سے بہاولپور جارھا تھا۔ ضلعی انتظامیہ سمیت پولیس اور موٹروے پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔

    روڈ کلیئر کر کے ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا

  •  بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

     بزدار حکومت کی صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی سے کتنی ہوئی بچت ، رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی ؛ بزدار حکومت کے صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات، وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت پر 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے
    بزدار حکومت میں 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت پر2 کروڑ 93 لاکھ روپے اور 2019-20 (دسمبر تک) صرف 71 لاکھ روپے خرچ
    سابقہ دور حکومت میں 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے
    موجودہ حکومت کے دور میں 2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ
    مالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک)وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے
    سابق حکومت نے 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کئے
    2018-19 میں کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پرصرف 19 لاکھ روپے اور رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں 8 لاکھ روپے خرچ
     شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے،ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا:عثمان بزدار
    سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں،غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کیا ہے،قومی وسائل بچا کر فلاح عامہ پر صرف کررہے ہیں
    لاہور 17 جنوری:  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات کیے گئے ہیں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایت پر وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کی گئی ہے۔سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت کی مد میں 2 کروڑ 93 لاکھ روپے خرچ کئے گئے جبکہ مالی سال 2019-20 (دسمبر تک) گاڑیوں کی مرمت کی مد میں صرف71 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2016-17 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار حکومت کے دور میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی۔مالی سال 2018-19 میں محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہمالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک) محکمہ تعمیرات و مواصلات کی جانب سے وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔سابق حکومت نے مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کرڈالے۔وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔

    مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہرواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہم نے شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے۔ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا۔سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں۔غیر ضروری اخراجات کوبہت حد تک کنٹرول کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول اورسکیورٹی کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔ قومی وسائل بچا کر عوام کی فلاح وبہبود پر صرف کررہے ہیں۔

    ب

  • بزدار حکومت کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی ، اخراجات میں کمی ایک مثال قائم کردی

    بزدار حکومت کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی ، اخراجات میں کمی ایک مثال قائم کردی

    لاہور:بزدار حکومت کی کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی ، اخراجات میں کمی ایک مثال قائم کردی ،اطلاعات کےمطابق  بزدار حکومت کے صوبے میں کفایت شعاری اوربچت کی پالیسی کیلئے عملی اقدامات، وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں کئی گناکمی کا گراف سامنے آگیا ہے ، ذرائع کے مطابق سابقہ دور حکو مت میں مالی سال 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی گاڑیوں کی مرمت پر 6 کروڑ 29 لاکھ روپے خرچ کئے گئے،

    ذرائع کےمطابق سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں گاڑیوں کی مرمت پر 4 کروڑ 24 لاکھ روپے کے اخراجات ہوئے،بزدار حکومت میں 2018-19 میں گاڑیوں کی مرمت پر2 کروڑ 93 لاکھ روپے اور 2019-20 (دسمبر تک) صرف 71 لاکھ روپے خرچ
    سابقہ دور حکومت میں 2016-17 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 36 لاکھ روپے خرچ کئے گئے،

    سابقہ دور حکومت میں مالی سال 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس تعمیر و مرمت کی مد میں 2 کروڑ 85 لاکھ روپے خرچ کئے گئے،موجودہ حکومت کے دور میں 2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں 2 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ
    مالی سال 2019-20 میں (جنوری2020تک)وزیراعلیٰ آفس کی مینٹی ننس اورمرمت کی مد میں صرف 54 لاکھ روپے خرچ کیے گئے،

    سابق حکومت نے 2017-18 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کئے،2018-19 میں کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی پرصرف 19 لاکھ روپے اور رواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں 8 لاکھ روپے خرچ
     شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے،ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا،

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور میں مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں کروڑ وں روپے کی بچت کی گئی۔مالی سال2018-19 میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں صرف 19 لاکھ روپے اداکیے گئے جبکہرواں مالی سال کے پہلے 6ماہ میں وزیراعلیٰ آفس کے کنٹریکٹ سٹاف کو تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 8 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔

    وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ7کلب روڈ پر پردوں کی تبدیلی میں بھی کفایت شعاری سے کام لیاگیا۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ ہم نے شوبازوں کی شاہ خرچی کا کلچرختم کردیا ہے۔ماضی کی حکومت نے سرکاری خزانے کو مال مفت کی طرح خرچ کیا۔سرکاری خزانے کو امانت سمجھتے ہیں۔غیر ضروری اخراجات کوبہت حد تک کنٹرول کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول اورسکیورٹی کی مد میں بھی کروڑوں روپے بچائے گئے ہیں۔ قومی وسائل بچا کر عوام کی فلاح وبہبود پر صرف کررہے ہیں۔

  • نیا حکم آگیا:ایس ایچ او تھانوں کے مالی معاملات بھی دیکھیں گے اور ذمہ دار بھی ہوں گے

    نیا حکم آگیا:ایس ایچ او تھانوں کے مالی معاملات بھی دیکھیں گے اور ذمہ دار بھی ہوں گے

    پنجاب:نیا حکم آگیا:ایس ایچ او تھانوں کے مالی معاملات بھی دیکھیں گے اور ذمہ دار بھی ہوں گے ، ذرائع کےمطابق پنجاب پولیس میں اصلاحات کی باتیں تو کافی عرصے سے چل رہی ہیں اور اس سلسلے میں محکمہ پولیس نے پہلا قدم خود ہی بڑھا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق  نئے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے حکومت سے تھانوں کو مالی طور پر آزاد کرنے کی سفارش کر دی ہے۔آئی جی آفس کے مطابق ’حکومت کو تحریری طور پر ان اصلاحات کے لیے آگاہ کر دیا گیا ہے کیونکہ قانون سازی کی صورت میں محض رولز میں ترامیم سے تھانے اقتصادی طور پر خود مختار ہو جائیں گے۔ ‘

    واضح رہے کہ کسی بھی تھانے کا خزانہ ضلعی افسر کے پاس ہوتا ہے اور وہ تھانوں کے بجٹ ان کی ضرورت کے مطابق تقسیم کرتا ہے۔ اب کہا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ تھانے کا بجٹ ڈی ڈی آر کے بجائے براہ راست تھانے کے اکاؤنٹ میں بھیجے۔

    حکومت پنجاب کو لکھے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ’ڈی ڈی آر (خزانے کا ضلعی افسر) کا اختیار براہ راست ہر تھانے کے ایس ایچ او کو تفویض کیا جائے۔‘ اس کے ساتھ ہی یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ ’ہر تھانے میں ایک عدد اکاؤنٹنٹ بھی بھرتی کیا جائے۔‘ اس طرح سے ہر تھانہ براہ راست آڈٹ میں آ جائے گا اور اس تھانے کی مالی طور پر آزادی سے پولیس کو آزادی سے کام کرنے کا موقع ملے گا۔پنجاب کے 36 اضلاع میں اس وقت کل تھانوں کی تعداد 712 ہے

  • حکومت ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام، مالی خسارہ کہاں تک پہنچ گیا

    حکومت ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام، مالی خسارہ کہاں تک پہنچ گیا

    مالی سال 2019-20 کی پہلی ششماہی میں حکومت ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل نہیں کر سکی اور مالی خسارہ کہاں تک پہنچ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے بتایا کہ مالی خسارہ جی ڈی پی کا پانچ فیصد ہے۔حماد اظہر نے بتایا کہ گزشتہ نو ماہ کے دوران حکومت نے 35 ارب روپے سے زائد مالیت کے قرضے لیے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے غیر ملکی اداروں سے لیے گے قرضوں کی تفصیلات بھی ایوان میں پیش کی گئیں جن کے مطابق 31جولائی 2015سے 31جولائی 2019 تک 25ارب 59کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا.بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے 11ارب 79کروڑ اور بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے 13ارب 80کروڑ ڈالر کا قرض لیا گیا۔ سینیٹ کو بتایا گیا کہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر 18ارب 8کروڑ ڈالر سے زائد ہیں۔

    وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر نے بتایا کہ ملک میں قرضے کا کل حجم جی ڈی پی کا 78 فیصد ہے جس کی وجہ روپے کی قدرمیں کمی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سال 2013 میں قرض کے مقابلے میں جی ڈی پی کا حجم 63.8 فیصد تھا جو 2018 میں 72 فیصد تھا۔ حماد اظہر نے یقین دہائی کرائی کہ آنے والے دنوں میں قرضے کا کل حجم جی ڈی پی کے مقابلے میں بہتر ہوگا۔

  • فرعونیت ماند پڑ گئی ، بچوں کوندی نالوں،ویرانوں اورکوڑے  کرکٹ کے ڈھیرپرپھینکا جانے لگا

    فرعونیت ماند پڑ گئی ، بچوں کوندی نالوں،ویرانوں اورکوڑے کرکٹ کے ڈھیرپرپھینکا جانے لگا

    فیصل آباد:فرعونیت ماند پڑ گئی ، بچوں کوندی نالوں،ویرانوں اورکوڑے کرکٹ کے ڈھیرپرپھینکا جانے لگا،اطلاعات کےمطابق سمندری روڈ ڈی ٹائپ ایریا علامہ اقبال کالونی کے سامنے نہر سے نومولود بچے کی لاش برامد کرکے اسے لاوارث کرکے دفنا دیا گیا ہے،

    باغی ٹی وی کےمطابق یہ واقعہ سمندری کے قریب پیش آیا جہاں ڈی ٹائپ ایریا علامہ اقبال کالونی کے سامنے نہرمیں کسی مچھلی پکڑنے والے نے نہر میں مچھلیوں کا جال لگایا ہوا تھا جس کی وجہ سے لاش جال میں پھنس گئی.. ریسکیو 1122 کی ٹیم نے لاش نہر سے نکال کر متعلقہ پولیس کے حوالے کر دی.

    یاد رہےکہ روزانہ درجنوں واقعات سامنے آرہے ہیں جن میں‌ یہ بتایا جاتا ہےکہ کسی ندی نالے میں نومولود بچے یا بچی کی لاش ملی ہے ، یہ بھی خبریں آرہی ہیں‌کہ پولیس نے کوڑے کرکٹ کے ڈھیرسے کسی نومولود کی لاش پکڑی ہے ، یہ پھر یہ خبر سنی جاتی ہے کہ ویرانے میں کوئی شاپر،بیگ یا بوری میں کسی نومولود بچے کی لاش پھینک کرچلا گیا ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ فرعون پرتو الزام تھا کہ وہ زندہ بچوں کومارتا تھا لیکن ہمارے معاشرے میں بچوں کو نہیں بلکہ بچیوں کوبھی مارا جاتا ہے ، گناہ چھپانے کےلیے ایک طرف فرعون سے بڑھ کرمظالم کیئے جاتے ہیں تو دوسری طرف عرب کے جاہلی دور میں زندہ درگورکرنے کے جرم کو بھی ہمارا معاشرہ پیچھے چھوڑگیا ہے اورروزانہ ایک دو چارنہیں بلکہ درجنوں کی تعداد میں نومولود بچوں کوزندہ درگورکیا جاتا ہے