Baaghi TV

Author: +9251

  • ڈولفن پولیس فیصل آباد بھی کسی سے کم نہیں ! 2019 کا اعمال نامہ جاری کردیا گیا

    ڈولفن پولیس فیصل آباد بھی کسی سے کم نہیں ! 2019 کا اعمال نامہ جاری کردیا گیا

    فیصل آباد:ڈولفن پولیس فیصل آباد بھی کسی سے کم نہیں ! 2019 کا اعمال نامہ جاری کردیا گیا ،اطلاعات کےمطابق لاہورکی طرح فیصل آباد نے بھی ڈولفن پولیس فیصل آباد کی گزشتہ ایک سال کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کردی ، اس رپورٹ میں ڈولفن پولیس کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق ترجمان ڈولفن پولیس فیصل آباد کی طرف سے رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہےکہ ڈولفن پولیس نے گزشتہ ایک سال میں 365 اشتہاری گرفتار کیے، ڈولفن پولیس نے سال 2019 میں 7808 افراد کو کمیونٹی پالیسنگ کے تحت مدد فراہم کی گئی
    76 گمشدہ بچوں اور اشخاص کو اپنے پیاروں سے ملواکردعائیں لیں اور محکمے سے شاباش بھی ملی

    ذرائع کےمطابق سال 2019 میں ڈولفن پولیس نے ون ویلنگ کرنے والے 302 منچلوں کو تھانہ کے حوالے کیا گیا،یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ڈولفن پولیس نے پچھلے سال 36 چوری کی گاڑیاں برآمد کرکے مالکان کے حوالے کی گئیں جبکہ ایکسیڈنٹ میں مضروب 716 افراد کو فرسٹ ایڈ مہیا کی گئی

    ذرائع کےمطابق ڈولفن پولیس نے پچھلے سال ناجائز اسلحہ رکھنے والے 317 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی، اس دوران 195 ڈاکووں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کروایا گیا، فیصل آباد ڈولفن پولیس نے 244 ملزمان سے منشیات برآمد کرکے مقدمات کا اندراج کروایا
    شہریوں کے تحفظ کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا

  • اسلام آباد کے بعد راولپنڈی پولیس حرکت میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں

    اسلام آباد کے بعد راولپنڈی پولیس حرکت میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں

    راولپنڈی: اسلام آباد کے بعد راولپنڈی کی پولیس حرکت میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیاں ،اطلاعات کےمطابق گوجر خان پولیس کا ایس ڈی پی او گوجر خانASPمحمد وقاص خان کی نگرانی میں منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں بڑے پیمانے پرکامیابی ملی ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق راولپندی پولیس نے بدنام زمانہ منشیات سپلائر منصور احمد اور محمد جمیل کوگرفتارکرکے ان پرمقدمہ درج کردیا ہے،اطلاعات کےمطابق ایس ایچ او گوجرخان عمران عباس نے ٹیم کے ہمراہ منشیات فروشوں کےخلاف کاروائی کی،دوران چیکنگ کار سے کروڑوں روپے مالیت کی 14 کلو افیون اور 7 کلو چرس برآمدکرلی ہے

    ذرائع کےمطابق ایس ایچ اوگوجرخان عمران عباس کہتے ہیں کہ ملزمان نے منشیات مختلف علاقوں میں فروخت کرنا تھی، ادھر مجرموں کے خلاف کامیاب کارروائی پرسی پی او محمد احسن یونس کی ایس ایچ او گوجر خان اور ٹیم کو شاباش دی ہے اورکریک ڈاؤن جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے

  • اسلام آباد پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

    اسلام آباد پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری

    اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پیش نظر مجرموں کےخلاف آپریشن میں پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری,جس میں پولیس کو بہت بڑی کامیابی ملی ہے، ذرائع کےمطابق یہ آپریشن آئی جی اسلام آباد کی زیرصدارت اہم اجلاس کے بعد شروع کیئے گئے ہیں‌

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی اس کارروائی میں چار ملزمان گرفتار منشیات برآمد, پولیس حکام کے مطابق یہ کاروائیاں تھانہ بھارہ کہو, ترنول اور گولڑہ کے علاقے میں کی گئی ہیں, ملزمان سے 1700 گرام چرس برآمد, ملزمان میں ولی خان, محمد حسین,مروت خان اور طارق محسن شامل ہیں ،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی,

    ادھر ذرائع کےمطابق اعلیٰ‌حکام کی صدارت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد اورگردونواح میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے, ذرائع کےمطابق مجرموں کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جارہی ہے بلکہ پولیس ریکارڈ کوچیک کرکے گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے ،

  • وفاقی دارالحکومت کوجرائم سے پاک کرنےکےلیے آئی جی کی زیرصدارت کرائم میٹنگ

    وفاقی دارالحکومت کوجرائم سے پاک کرنےکےلیے آئی جی کی زیرصدارت کرائم میٹنگ

    اسلام آباد:آئی جی اسلام آبادمحمد عامر ذوالفقار خان کی زیرصدارت کرائم میٹنگ،اطلاعات کےمطابق کرائم میٹنگ میں ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی جی سیف سٹی،اے آئی جی سپشل برانچ، تمام ایس ایس پیز، زونل ایس پیز،ایس ڈی پی اوز اور ماڈل سب ڈویژن پولیس آفیسرز نے شرکت کی،

    باغی ٹی وی کے مطابق اس اہم میٹنگ میں اہم فیصلے کیئے گئے جس کے مطابق تمام ایس ایچ اوز کو کارکردگی کی بنیاد پر تعینات کیا جائے گا،ایس ایچ اوز کی کارکردگی باقاعدہ جانچ پڑتال کی جائے،ناقص کارکردگی پر محکمانہ سزا دے کر تبدیل کیا جائے گا،

    باغی ٹی وی کےمطابق اس میٹنگ میں‌اہم فیصلے کیئے گئے ، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تمام اے ایس پیز، ایس ڈی پی اوز تھانوں میں موجود پولیس رجسٹرز 1تا24 کی چیک پڑتال اور مکمل کریں گے،زونل ایس پیز،ایس ڈی پی اوز کو کارکردگی پرفارما دیا گیا ہے جس کی مانیٹنرنگ کی جائے گی،

    اس اہم اجلاس میں یہ بھی فیصلے کیئے گئےکہ تمام جی اوز وقتا فوقتا ڈیوٹی کی ازخود مانیٹرنگ کریں گے،تمام زونل ایس پیز موقع واردات پر خود پہنچیں گے، اشتہاری اور عدالتی مفروروں کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے،موٹر سائیکل اور کار چوروں کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے، بھکاریوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے

    ڈیوٹی میں کوتاہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی،شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہمارا اولین فرض ہے،عام آدمی تک انصاف فراہم کرنے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں،تھانہ کی سطح پر تمام شہریوں کے مسائل حل کیے جائیں، تمام آفیسرز دلجمعی کے ساتھ کرائم کے خلاف جہاد کریں،ہم سب نے ملکر 2019 سے 2020 کو زیادہ بہتر بنانا اور کرائم میں نمایاں کمی لانا ہے،

    ذرائع کےمطابق تمام پولیس ڈویژنز کو مل کر وفاقی دارالحکومت کو کرائم سے پاک کرنا ہے،تمام سینئر افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ بہترین رویہ رکھیں،ان کے مسئلے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے،تمام سینئر افسران کو تنبیہ کرتا ہوں کہ اگر اسلام آباد میں رہنا ہے تو دل لگا کر کام کرنا پڑے گا

  • بنگلہ دیش سیریز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

    بنگلہ دیش سیریز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

    ‏ لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے لیے ٹکٹوں کی فروخت اور ان کی مالیت کے حوالے سے تفصیلات کا اعلان کردیا ہے۔ سیریز میں شامل تین ٹی ٹونٹی میچز 24، 25 اور 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوں گے جبکہ پہلا ٹیسٹ میچ 7 سے11 فروری تک راولپنڈی میں جاری رہے گا۔

    باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سیریز کے تین ٹی ٹونٹی اور ایک ٹیسٹ میچ کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عوام خاص طورپر فیملیز کی سہولت اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ سیریز کے لیےٹکٹوں کے نرخ کم کردئیے ہیں۔

    ذرائع کےمطابق اس سیریز میں تین ٹی ٹونٹی میچز کے لیے ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ 18 جنوری کو صبح 10 بجے سے شروع ہوگی۔ شائقین کرکٹ www.yayvo.com سے ٹکٹ آن لائن بک کرسکتے ہیں تاہم ٹی سی ایس کے مقررہ کردہ سینٹرز سے ٹکٹوں کی فروخت 21 جنوری کو صبح 9 بجے سے شروع ہوگی۔

    تفصیلات کے مطابق تین ٹی ٹونٹی میچز کے لیے انضمام الحق، نذر، قائد، امتیاز احمد، ظہیر عباس، حنیف محمد، ماجد خان، عبدالقادر، سعید احمد اور سرفراز نواز انکلوژرز کے ٹکٹ 500 روپے میں دستیاب ہوں گے۔ان میچزمیں اے ایچ کاردار، راجاز، جاوید میانداد اور سعید انور انکلوژرز کے ٹکٹ کی قیمت 1000 روپے مقرر کردی گئی ہے جو سری لنکا کے خلاف سیریز میں 1500 روپے تھی۔

    آئندہ سیریز میں عمران خان اور فضل محمود انکلوژرز کے ٹکٹ 2000 روپے میں فروخت ہوں گے۔ گذشتہ سیریز میں ان انکلوژرز کے ٹکٹ 3000 روپے میں دستیاب تھے۔سری لنکا سیریز میں وسیم اکرم اور وقار یونس انکلوژرز کا 5000 روپے میں فروخت ہونے والا ٹکٹ بنگلہ دیش سیریز میں 4000 روپے میں دستیاب ہوگا۔

    7 تا 11 فروری تک راولپنڈی میں شیڈول ٹیسٹ میچ کے لیے اظہر محمود، عمران خان، جاوید اختر اور جاوید میانداد انکلوژرز کے ٹکٹ کی قیمت 100 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس میچ کے لیے میران بخش، شعیب اختر، سہیل تنویر اور یاسر عرفات انکلوژرز کے ٹکٹ 50 روپے میں دستیاب ہوں گے۔ٹی ٹونٹی سیریز میں شامل تمام میچز دوپہر اڑھائی بجے شروع ہوں گے۔

    سیریز میں شامل پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا جبکہ واحد ایک روزہ اور دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے ٹکٹوں کی مکمل تفصیلات بھی بعد میں جاری کی جائیں گی۔ ‏شائقین کرکٹ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ٹی سی ایس سنٹرز سے ٹکٹ خریدتے وقت قومی شناختی کارڈ اپنے ہمراہ رکھیں۔

    ادھر ‏ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد کا کہنا ہےکہ سری لنکا کے خلاف سیریز کے دوران شائقین کرکٹ کا زبردست رجحان دیکھا گیا لہٰذا پی سی بی نے ان کی دلچسپی کے پیش نظربنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے لیے ٹکٹوں کے نرخ کم رکھے ہیں۔ڈائریکٹر کمرشل پی سی بی بابر حامد نے کہا کہ آئندہ چند ہفتے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں بھرپور کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے بعد ایچ بی ایل پی ایس ایل 2020 کے 14 میچز بھی لاہور میں ہی ہوں گے۔

    ‏بابر حامد نے کہا کہ پی سی بی فینز اورفیملیز کو میچز دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم آنے کی دعوت دیتا ہے، یقین ہےکہ شائقین کرکٹ بنگلہ دیش سیریز میں بھرپورجوش وخروش کے ساتھ اسٹیڈیم کا رخ کریں گے۔

    شیڈول:

    24جنوری بروز جمعہ: پہلا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور

    25 جنوری بروز ہفتہ: دوسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور

    27 جنوری بروزپیر: تیسرا ٹی ٹونٹی میچ بمقام لاہور

    7تا 11 فروری: پہلا ٹیسٹ میچ بمقام راولپنڈی

    3اپریل بروز جمعہ: واحد ایک روزہ میچ بمقام کراچی

    5تا 9اپریل: دوسرا ٹیسٹ میچ بمقام کراچی

  • 56 کمپنیاں کس نے اورکن کوفائدہ پہنچانے کے لیے بنائیں؟ہم جانتے ہیں،کوئی خوف خدا ہی نہیں،اداروں کوتباہ کرگئے: سپریم کورٹ

    56 کمپنیاں کس نے اورکن کوفائدہ پہنچانے کے لیے بنائیں؟ہم جانتے ہیں،کوئی خوف خدا ہی نہیں،اداروں کوتباہ کرگئے: سپریم کورٹ

    اسلام آباد :56 کمپنیاں کس نے اورکن کوفائدہ پہنچانے کے لیے بنائیں؟ہم جانتے ہیں،کوئی خوف خدا ہی نہیں،اداروں کوتباہ کرگئے ،اطلاعات کےمطابق سپریم کورٹ نے لاہورٹرانسپورٹ کمپنی کے ڈپٹی جنرل منیجرکی نوکری پربحالی کی درخواست مسترد کردی، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے پنجاب کی 56کمپنیوں میں سےایک کمپنی بھی نہیں بچے گی، یہ ساری ختم ہوجائیں گی۔کیوںکہ یہ کمپنیاں صوبے کی ترقی کےلیے نہیں خاندانوں کی ترقی کے لیےبنائیں گئیں‌

    تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ڈپٹی جنرل منیجرلاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی نوکری پر بحالی کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزار نے کہا بطور ڈپٹی منیجر کام کر رہا تھا، مجھے رول کے برخلاف نکال دیا، جس پر جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا جس عہدے پر کام کر رہے تھے ، وہ عہدہ ہی ختم ہوگیا، درخواست گزار صرف مالی نقصانات کا تقاضا کرسکتا ہے۔

    درخواست گزار کا کہنا تھا کہ نوکری کاصرف ایک سال رہ گیا ہے، لاہورٹرانسپورٹ کمپنی پنجاب حکومت کی 56کمپنیوں میں سے ایک ہے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پنجاب کی ان 56کمپنیوں میں سےاب ایک کمپنی بھی نہیں بچےگی، یہ ساری کمپنیاں ختم ہو جائیں گی، ان کمپنیوں کے سب لوگ گھرجائیں گے۔سابقہ حکمرانوں نے اپنے لوگوں کوفائدہ پہنچانے کے لیے یہ کمپنیاں بنائیں پھران کے ذریعے جوکچھ ہوا کیا قوم کونہیں پتا،سپریم کورٹ نے درخواست گزار کومخاطب کرتے ہوئے کہا خداراملک کوپٹڑی پرچڑھنے دیں‌

    درخواست گزارمحمد حنیف سپریم کورٹ میں جذباتی ہوگئے اور کہا کوئی کرپشن نہیں کی کوئی چوری نہیں کی، آپ کو اللہ کاواسطہ ہےمیری بیٹیاں ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا عدالت میں جذباتی باتوں کافائدہ نہیں،کوئی اورکام ڈھونڈلیں۔سپریم کورٹ نے ڈپٹی جنرل منیجرلاہورٹرانسپورٹ کمپنی کی نوکری پربحالی کی درخواست خارج کرتے ہوئے لاہورٹرانسپورٹ کمپنی کی ذیلی کمیٹی کوکیس دوبارہ دیکھنے کی ہدایت کردی۔

  • اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا۔۔۔از—اسدعباس خان

    ٹھیک 21 برس پہلے کی بات ہے، فروری 1999ء میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کا ٹیسٹ میچ فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ دہلی میں کھیلا جا رہا تھا۔ جہاں کرکٹ کی تاریخ کا منفرد واقعہ پیش آیا جب ہندوستانی لیگ اسپنر باؤلر انیل کمبلے تن تنہا ایک ہی اننگز میں دس وکٹ لے اڑے اور اکیلے ہی ساری پاکستانی اننگز کی بساط لپیٹ دی۔ دراصل اس میچ میں ‘جے پرکاش’ نامی ہندوستانی ایمپائر نہ جانے کیا ٹھان کر آیا تھا کہ بس کب ‘گیند’ کسی بیٹسمین کے ‘پیڈ’ پر لگے اور ‘انیل کمبلے’ آؤٹ کی درخواست کرے۔ آوٹ دینے کو وہ ایمپائر پہلے سے ہی تیار کھڑا ہوتا۔ محض پاکستان دشمنی اور ایمپائر کے بغض بھرے فیصلوں سے یہ ٹیسٹ میچ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ایک مثال کے طور پر محفوظ ہو گیا۔

    لیکن اس وقت کے کھیل میں تھرڈ ایمپائر اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں تھا لہذا گراؤنڈ کے بیچ کھڑا فرد واحد ہی تمام اختیارات کا مالک ہوتا تھا خواہ وہ کسی بھی کھلاڑی یا ٹیم کو اپنی پسند یا نا پسند کی بھینٹ چڑھا دے۔ اب دو دہائیوں بعد سب کچھ بدل چکا ہے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام اور کھلاڑی کو اپیل کا حق حاصل ہے۔

    اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھتے ہیں، 1999ء میں ہی نواز حکومت نے حاضر سروس چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف کا طیارہ سری لنکا کے آفیش ٹور سے واپسی پر پاکستان میں نہ اتارنے کے احکامات جاری کیے طیارہ تو پاکستان لینڈ کر گیا البتہ اس سازش میں ملوث موصوف وزیراعظم کو نہ صرف حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ طیارہ اغواء کیس میں سزائے موت کی تلوار سر پر لٹک رہی تھی جو بعد از کچھ دوست ممالک کی مداخلت کے ایک معاہدے کے تحت جدہ پدھار گئے اور جنرل مشرف اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ہوئے۔

    2007ء میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کے نتیجہ میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تو اسی فیصلہ سے وکلاء تحریک کی چنگاری سلگی جس نے بالآخر مشرف عہد کا خاتمہ کر دیا۔ اور انتخابات سے قبل بینظیر کے قتل سے پیپلزپارٹی کو ہمدردی کا ووٹ پڑا۔ نواز زرداری کی نورا کشتی میں ہی زرداری حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر باری کے انتظار میں نواز شریف تیار بیٹھے تھے۔ ملکی تاریخ میں تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کے بعد انتقام کی آگ میں لپٹے نواز شریف نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر آئین معطل کرنے کی پاداش میں سنگین غداری کا مقدمہ قائم کر دیا۔ محبان وطن اس وقت سکتے میں آۓ جب عدلیہ میں پہلے سے تیار بیٹھے ایمپائر نما جج صرف درخواست کے منتظر پاۓ گئے،

    وہی بغض و عناد بھرا رویہ۔ بیرون ملک بستر مرگ پر پڑے مشرف کو پاکستان میں آ کر عدالت کے روبرو بیان ریکارڈ کروانے پر اصرار رہا۔ بیماری میں مبتلا مشرف بار بار جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ویڈیو بیان ریکارڈ کروانے کی اپیل کرتے رہے لیکن عدلیہ میں بیٹھے ‘جے پرکاش’ اس حق کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے گریزاں رہے۔ چند ہفتے پہلے عدالتی دنیا کی تاریخ کا سیاہ کارنامہ اس وقت انجام دیا جب ملکی دفاع کے لیے تین جنگیں لڑنے والے کمانڈو کو غدار قرار دیتے ہوئے پھانسی کا حکم صادر فرمایا۔ عداوت کی انتہا کہ حکم نامے میں لکھا گیا اگر سزا سے قبل مجرم کی موت واقع ہو جائے تو لاش کو تین روز تک ڈی چوک میں پھانسی پر لٹکا کر رکھا جائے۔ اس جنرل نے اپنی زندگی کے چالیس سال اس ملک کی خدمت میں گزارے دوران جنگ بطور چیف آف آرمی اسٹاف دشمن کی سرزمین پر اپنے جوانوں کے ساتھ رات گزارنے پر دشمن بھی ان کی بہادری پر داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔

    جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کیس میں جس خصوصی عدالت نے 1999ء پاک بھارت کرکٹ ٹیسٹ میچ کی تاریخ دہرائی آج لاہور ہائی کورٹ نے اس عدالت کو ہی غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔ دیر آید درست آید کے مترادف انصاف کی امید تو پیدا ہوئی البتہ بدقسمتی سے وطن عزیز میں ‘جے پرکاش’ ہر جگہ موجود ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے اب وقت بدل چکا ہے۔ سوشل میڈیا سے ملکی اسکرین پر عوام کی گہری نگاہ ہے، اپیل کا حق اور جدید ٹیکنالوجی کے سہارے، اب کے ‘جے پرکاش’ کا فیصلہ حتمی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تھرڈ ایمپائر ضرور دیکھے گا اگر باؤلر کا پاؤں کریز سے باہر ہوا تو قانونی طور پر نو بال قرار دی جائے گی جس کے ساتھ ناٹ آؤٹ کی اسکرین روشن ہو گی اور ہاں جدید کرکٹ میں فری ہٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔۔۔!!!!!!

    اور تھرڈ ایمپائر نے نو بال کہ کر ناٹ آؤٹ قرار دے دیا
    #صدائے_اسد
    #اسدعباس خان

  • امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

    لڑکپن میں ایک دور دیکھا تھا کہ جب ہر روز،ہفتے یا مہینہ میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا۔
    بے کلی اور بے سکونی کی ایک کیفیت ہمہ وقت اعصاب پر طاری رہتی تھی۔۔۔

    بہت دل دوز مناظر اخبارات و ٹی وی سکرین دکھاتے اور دل غم میں ڈوب کر اس چمن کی سلامتی اور مضبوطی کے لیئے دعا گو ہو جاتا تھا۔
    وہی سانحات جو میرے چمن کے ستر ہزار سے زائد نفوس کو نگل گئے__جوان،بچے،بوڑھے،عورتیں اس آگ و خون کی کھیل کی نذر ہو گئے۔۔۔

    وہ جاں گزا لمحات ان کے لیئے یقیناً نہ ختم ہونے والا درد بن گئے،جن کے پیارے ایسی وارداتوں کا نشانہ بنے گئے اور اس حالت میں وطنِ عزیز کے ہر طبقہ نے قربانیاں دی ہیں۔
    لیکن وقت نے ثابت کیا کہملک کے سیکیورٹی اداروں نے تندہی و جانفشانی سے اس عفریت پر قابو پا کر چمن کے شرق و غرب اور شمال و جنوب میں امن کا پھریرا لہرا کر قوم کو امن کی بہار کا تحفہ دیا۔

    وہ خوف و دہشت کا ماحول جو در آیا تھا۔۔۔اس کے بعد قوم نے سکون اور اطمینان کی سانس لی۔
    تجارتی سرگرمیاں بڑھنے لگیں اور پاکستان کو سیاحت کے لیئے بہت موزوں ملک گردانا جا رہا ہے۔۔۔

    گوادر پورٹ اس خطے میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا پیام بننے جا رہی ہے تو ایسے میں بہت سے ملک دشمن عناصر یہ بات ہضم نہیں کر پا رہے اور بلوچستان جو شروع سے اس تخریبی ذہنیت کا نشانہ رہا ہے۔۔۔
    وہاں دو روز قبل ایک مسجد میں معصوم شہریوں کا قتل ایک انتہائی گھناؤنا کھیل ہے۔
    مسجد ہو یا مندر__گرجہ ہو یا معبد۔۔۔تمام پر امن انسانوں کی جان بہت قیمتی ہے۔
    اور پھر ایسے عناصر ایسی جگہوں کو نشانہ بنا کر متنازعہ بحث کو بھی جنم دیتے ہیں۔

    اس واقعہ میں بھی انتہائی قیمتی جانوں کا زیاں قومی المیہ ہے۔
    ایک بار پھر اس طرح کے واقعات کا سر اٹھانا یقیناً ایسے عناصر کی طرف سے تخریبی انتباہ ہے۔
    وادئ مہران سے بلوچستان۔۔۔اور پنجاب سے کے پی کے تک امن و بہار کا عَلم سدا بلند رہے آمین۔

    ان عزائم کو ملک کے باوقار اداروں نے مل کر پیوندِ خاک کرنا ہے اور شہریوں کو بھی چاہیئے کہ اپنے ارد گرد ایسے مشکوک افراد پر نظر رکھیں۔
    تاکہ اس چمن میں ہزاروں لوگوں کے خون کی بدولت جو بہار آئی ہے وہ ماند نہ پڑنے پائے اور ملک دشمن عناصر کو کھیلنے کا موقع نہ مل سکے۔
    اور یہ چمن تا قیامت روشنیوں سے منور رہے۔۔۔

    یہاں کسی بے گناہ شخص کا ناحق لہو نہ بہے اور تعمیر و ترقی کا سفر باہم ملکر جاری و ساری رہے۔
    اس چمن میں آئی ہے بہار_
    جانے کتنی قربانیوں کے بعد—
    اس گلشن کو سینچا ہے__
    پیاروں نے اپنے لہو کے ساتھ__
    اس گلشن کی روشنیوں پر__
    آئے گی جو نظرِ سیاہ__
    اُس چشمِ پر فتن کو__
    پھوڑ دیں گے ہم سب
    یکجہتی کےتیر کے ساتھ__!!!
    ان شآ ء اللہ

    امن کی بہار پر خزاں کی پرچھائی—از—جویریہ چوہدری

  • برداشت —از— نساء بھٹی

    برداشت —از— نساء بھٹی

    یہ نئے زمانے کا دور ہے یہاں جذبات کا کیا کام؟
    روبوٹ کبھی نفرت و الفت نہیں کرتے۔
    سائنس کے اس ترقی یافتہ دور نے انسانوں کو جتنی جسمانی سہولتیں دیں اس سے کئی زیادہ خراج نت نئی ذہنی, جسمانی, روحانی اور اخلاقی بیماریوں کی صورت میّں ان سے لے رہہی ہے.

    عدم برداشت بھی ان میں سےایک اخلاقی بیماری ہے. افرا تفری اور مشینی انداز نے انسان کو سب آسائشیّں دے کر اس سے سکون اور اطمینان چھین لیا ہے. بچہ ہو یا بڑا. جوان ہو یا بوڑھا جسے دیکھو عجیب بے چینی میں مبتلا ہے. کسی کے پاس تحمل سے کسی کی بات سننے کا وقت نہیں. سن بھی لیں تو بیزاری اور اکتاہٹ سے جواب دینا کہ آئندہ اگلے بندے کی مخاطب کرنے کی جرأت ہی نہ ہو. سڑکوں پہ نکلو تو ہر ایک جلدی میں,کوئی ٹریفک سگنل توڑ رہا ہے کوئی اوور ٹیک کر کے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے,اور کوئی تو اتنا بے صبرا ہوتا ہے کہ بند پھاٹک کو دیکھ کر بھی اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل لے کر منہ اٹھائے ریلو لائن لراس کرنے کے چکر میں جان تک سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے.

    یہ سب لوگ اگر برداشت کا مادہ رکھتے ہوئے ٹریفک قوانین کا پاس رکھ کر سفر کریں تو حادثات سے بھی بچیں اور ذہنی اذیت سے بھی. سائنس کی ترقی نے ہر نسل اور ہر طبقے کے اندر عجیب بے چینی سی بھر دی ہے نفسا نفسی نے قوت برداشت اور تحمل کو ایسے غائب کیا جیسے گدھے کر سر سے سینگ. وقت کی کمی, کام کی زیادتی, اور ذہنی الجھنوں نے سب لوگوں کو ذہنی الجھنوں میں ڈال رکھا ہے. اور اسی وجہ سے مورثی بیماریوں کی طرح ہم اپنی آئندہ آنے والی نسل کو بے صبرا پن اور عدم برداشت جیسے اوصاف منتقل کر رہے ہیں..

    ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ روحانی اور اخلاقی اوصاف کا مرقع تھے. اور ان کی زندگی ہمارے لئے عملی نمونہ ہے. انہوں نے کفار کے مظالم. طعنے, اور ہر ہر برائی کے بدلے جس صبر, برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا,تب بھی جب کفار ان پر غالب تھے اور تب بھی جب فتح مکہ کے بعد اللہ نے ان کو کافروں پر غالب فرمایا, چاہتے تو ہر ظلم کا جواب دے سکتے تھے مگر ب کو معاف فرما کر رہتی دنیا تک یہ مثال قائم کی کہ برداشت تو یہ ہی ہے کہ طاقت کے باوجود بدلہ نہ لینا.

    اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اس برداشت کو اپنے مزاج کا حصہ بنائیں.آپ نے لوگوں سے اکثر سنا ہوگا. "ویسے تو ہم بہت متحمل مزاج ہیں,ہم میں بہت برداشت ہے مگر ہم سے فلاں بات برداشت نہیں ہوتی. کسی سے اونچی آواز. کسی سے جھوٹ اور کسی کا پیمانہ برداشت اونچی آواز سے چھلک پڑتا ہے…

    لیکن یہاں ہمیں یہ ہی تو سیکھنا ہے کہ جس چیز سے آپ کی برداشت کا خول چٹخ جائے وہ ہی جگہ ہے جہاں آپ کو برداشت کرنا ہے. غصہ نہیں کرنا.اور اگر آپ اس مقام پر برداشت کر رہے ہیں تو ہی آپ اہل برداشت ہیں ورنہ نہیں…
    قرآن پاک میں سورہ والعصر میں اللہ پاک نے واضح فرما دیا ہے "عصر کے وقت کی قسم انسان خسارےمیں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور صالح عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے {العصر}
    یقینا صبر کی تاکید وہی کرتے ہیں جو خود صبر کرنے والے ہوتے ہیں صبر ,جو برداشت سے بھی بہت آگے کا درجہ ہے. یقینا آج کل کے دور میں یہ وصف ناپید نہیں تو کم یاب ضرور ہے.

    صبر اور برداشت میں تھوڑا فرق ہے.برداشت کرنے میں ہم چپ کر جاتے ہیں کسی کو جواب نہیں دیتے سہ جاتے ہیں مگر دل کے اندر کہیں چبھن ضرور رکھتے ہیں. زیادتی کرنے والے کے بارے میں تلخی ضرور ہوتی ہے جو ہم کو بے چین رکھتی ہے,زیادتی کرنے والے سے نہ سہی اپنے حمایتیوں سے سہی ہم شکوہ کر جاتے ہیں……… مگر صبر میں ہمارا من شانت ہوجاتا ہے,جب صبر آجاتا ہے تو دل میں پھانس رہتی ہی نہیں,ایک بےنیازی سی وجود کا احاطہ کر لیتی ہے. ہم اللہ کے لئے معاملہ یکسر بھول جاتے ہیں یوں, گویا وہ ہوا ہی نہیں….پھر۔۔۔ پھر ہم شکوہ بھی نہیں کرتے.اور تقدیر کے آگے سر خم کر دیتے ہیں…فیصلہ کرنے والے کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہیں….

    اور…. ہمارے رب کو ہم سے صبر ہی درکار ہے.. اور اس نے واضح کر دیا ہے کہ ہر وہ شخص خسارے میں ہے جو صابر نہیں.
    اور ہم ایسے لوگ ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم برداشت اور بردباری سے دور ہوتے جا رہے ہیں تو صبر؟؟ اُس کا مقام تو بہت بلند ہے بہت آگے ہے. اور رب کائنات کو مقصود و مطلوب ہے اور شافع کونین کی پوری زندگی عفو درگزر, بردباری, تحمل,برداشت اور صبر کا عملی نمونہ بھی ہے…مگر افسوس ہم نے کچھ سبق نہیں لیا ان کی زندگی سے.

    بقول شاعر!
    تیرے حسن خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
    *میں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا۔

  • صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    صوبائی سینٹرل کنٹریکٹ پر کھلاڑیوں کے دستخطوں کا معاملہ ، کیسے التوا کا شکار

    باغی وی :ترجمان پی سی بی کے مطابق کنٹریکٹ میں شامل میڈیا پالیسی اور دیگرشرائط اہم کرکٹرز کی معاہدے پر دستخطوں کے معاملے پر ٹال مٹول کا سلسلہ جاری ہے . عمر اکمل، کامران اکمل ‘سلمان بٹ سمیت پانچ کرکٹرز نے ابھی تک معاہدوں پر دستخط نہیں کئے

    پی سی بی شعبہ ڈومیسٹک کرکٹ نے ستمبر کےآخری ہفتے دومیسٹک کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دئیے تھے.چارماہ سے زائد کا وقت گذرنے کے باوجود معاہدے پر دستخط نہیں کئے .بورڈنے کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی معاہدے پر دستخطوں سے مشروط کردی

    دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں قائد اعظم ٹرافی کی میچ فیس اور ڈیلی الاونس ادا کئے گئے ہیں .معاہدے پر دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں کے مختلف نجی چینلز کے ساتھ معاہدے ہیں ۔معاہدوں سے دستخط نہ کرنے والے کھلاڑیوں سے معاملے پر بات ہوئے ہے
    کھلاڑیوں نے اپنے مسائل سے آگاہ کیا ہے ۔ کھلاڑیوں نے جلد معاہدوں پر دستخط کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔